All posts by admin

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 34 تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ پریکٹیس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی کثرت رائے منظور کرلیا گیا ہے، جس کی تفصیلات بھی منظر عام پر آگئی ہیں۔پریکٹیس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل 2024 کے مطابق آرٹیکل 191 اے کے تحت سپریم کورٹ کے بنچز کی تشکیل تین رکنی ججز کمیٹی کرے گی، یہ کمیٹی چیف جسٹس پاکستان اور سینیر موسٹ جج کے علاوہ آئینی بنچز کے سینیر موسٹ پر مشتمل ہو گی۔بل کے مطابق آئینی بنچ کے موسٹ سینیر جج کی نامزدگی تک کمیٹی چیف جسٹس اور موسٹ سینیر جج پر مشتمل ہوگی، اگر چیف جسٹس یا موسٹ سینیر جج آف سپریم کورٹ آئینی بنچز میں نامزد ہو جائیں تو آئینی بنچز کا اگلا سینیر موسٹ جج کمیٹی کا رکن ہو گا۔اگر کوئی ممبر کمیٹی میں بیٹھنے سے انکار کرے تو چیف جسٹس سپریم کورٹ یا آئینی بنچز کے ججز کو کمیٹی کا ممبر بنا سکتے ہیں۔اس ایکٹ کے پاس ہونے کے بعد کمیٹی اپنے پہلے اجلاس میں ہی طریقہ کار کا تعین کرے گی،جب تک طریقہ کار کا تعین نہیں ہوتا تب تک کمیٹی کی میٹنگ چیف جسٹس بلا سکیں گے۔بل کے مطابق ایکٹ کی شق 5 میں 2 اے کا بھی اضافہ کیا گیا ہے، کسی بھی کیس میں آئینی سوال اٹھنے پر فیصلہ اس شق کے مطابق کیا جائے گا، اسپیکنگ آرڈر کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ معاملہ آئینی بنچ نمٹائے گا یا پھر سپریم کورٹ۔آئینی بنچز کو سیکرٹریٹ اور انتظامی سپورٹ کی ذمہ داری رجسٹرار سپریم کورٹ کی ہوگی۔بل کے متن کے مطابق ججز کی دستیابی کی بنیاد پر آئینی بنچز میں ہر صوبے سے ججز کو شامل کیا جائے گا، کسی بھی آئینی بنچ کے فیصلے کے خلاف لارجر آئینی بنچ کے سامنے تیس دن میں اپیل کی جا سکے گی، آئین کے آرٹیکل 184 تھری کے خلاف اپیلیں آئینی بنچ کو منتقل ہوں گی۔شق 8 میں سیون اے اور سیون بی کا اضافہ کیا گیا ہے، جو بھی کیسز، معاملہ یا اپیلیں سپریم کورٹ میں آئیں گی انہیں فرسٹ ان فرسٹ آؤٹ کی بنیاد پر سنا جائے گا۔ہر کیس، معاملے یا اپیل کو سپریم کورٹ میں ریکارڈ کیا جائے گا،اس کا ٹرانسکرپٹ بھی تیار کیا جائے گا، کسی بھی عدالتی کاروائی کے لیے یہ مسودہ 50 روپے فی صفحہ کی ادائیگی کرکے حاصل کیا جا سکے گا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس مویشی منڈی کی صورت اختیار کر گیا ننگی گالیوں کا آزادانہ استعمال

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نشریات و اطلاعات عطا تارڑ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی۔ قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی ایکٹ کی شق وار منظوری کے دوران اپوزیشن ممبران نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا۔ترمیمی بل کی منظوری کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان آمنے سامنے آگئے، اپوزیشن اراکین کی جانب سے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑی گئی اور چور چور کے نعرے لگائے گئے۔وزیر اطلاعات عطاتارڑ کی جانب سے بھی نعرے بازی کی گئی، دونوں جانب سے ارکان نے ایک دوسرے کے گریبان پکڑلیے، حکومتی اراکین نے وزیراعظم کی نشست کو گھیرے میں لے لیا، اپوزیشن اراکین نے ایوان میں ’نونو‘ کے نعرے لگائے گئے۔—— قومی اسمبلی نے مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت 5 سال اور سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 کرنے کے حوالے سے ترمیمی بل منظور کرلیے، ایوان نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون میں ترمیم کا بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا۔قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت 5 سال اور سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد 9 سے بڑھا کر 12 کرنے کے حوالے سے ترمیمی بل منظور کرلیے، اس دوران اپوزیشن نے شور شرابا کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔پریذائیڈنگ افسر سینیٹر عرفان صدیقی کی زیرِ صدارت ایک گھنٹہ 30 منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا بل پیش کیا، اس دوران اپوزیشن نے شور شرابا کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کا بل بھی قومی اسمبلی سے منظور شدہ صورت میں ایوان بالا میں پیش کیا گیا۔سینیٹ میں پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک منظور کر لی گئی، بل وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا، سینیٹ نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور کرلیا۔بعد ازاں، سینیٹ نے پاکستان ایئر فورس ترمیمی بل منظور کرلیا، ایوان بالا نے نیوی ترمیمی بل منظور کرلیا، یہ بل بھی خواجہ آصف نے ایوان میں پیش کیا۔وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے ایوان میں پیش کردہ سروسز چیفس کی مدت ملازمت بڑھانے کے بل ایوان بالا سے منظور کر لیا گیا۔پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں مزید ترمیم، پاکستان نیول ایکٹ 1961 میں مزید ترمیم اور پاکستان ایئر فورس ایکٹ 1953 میں ترمیم کا بل بھی منظور کر لیا گیا، قانون سازی سے سروسز چیف کی مدت ملازمت 3 سے بڑھ کر 5 سال ہوگی۔ایوان میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کے بل کی تحریک پیش کی گئی، ایوان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد اضافہ کا بل منظور کر لیا۔سینیٹر انوشے رحمٰن نے سرکاری ملکیتی اداروں سے متعلق گورننس اینڈ آپریشنز ترمیمی بل 2024 پیش کیا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ بل آج ہی پیش ہو رہا ہے، اسے متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیں، جس پر پریذائیڈنگ افسر نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔سینیٹر سلیم مانڈی والا نے قومی ادارہ برائے صحت تنظیم نو ترمیمی بل پیش کردیا یہ بل آج ہی پیش ہو رہا ہے، جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا یہ بل آج ہی پیش ہو رہا ہے، اسے متعلقہ کمیٹی کو بھیجا جاسکتا ہے، پریذائیڈنگ افسر نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔بعد ازاں، سینیٹر انوشہ رحمن نے متروکہ املاک انتظام ترمیمی بل 2024 بھی پیش کیا، اسے بھی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کارخانہ جات ترمیمی بل ایوان میں پیش کردیا، جس پر اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ متعلقہ وزیر موجود نہیں ہیں، میں اس حالت میں نہیں کہ اس بل کو اسپورٹ کرسکوں۔بعد ازاں، سینیٹ نے کارخانہ جات ترمیمی بل منظور کر لیا۔اجلاس میں فوجداری قوانین ترمیمی بل 2023 مؤخر کر دیا، وزیر قانون کو کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے ایک اچھا بل آئے گا، اس بل کے ساتھ اس میں سے چیزیں بھی شامل ہوں گی، پریزائیڈنگ آفیسر نے بل مؤخر کرنے استدعا منظور کر لی۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے ایوان میں پیش کیا گیا بل گارجنز اور وارڈز ترمیمی بل 2024 ایوان سے منظور کر لیا گیا۔ تارکین وطن کی اسمگلنگ روک تھام ترمیمی بل 2024 مؤخر کر دیا۔سینیٹر کامران مرتضی کی جانب سے پیش کیا گیا پاکستان اینیمل کونسل بل 2023 ایوان سے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے موٹر سائیکل حادثات کی تعداد میں اضافے پر قرارداد پیش کی، سے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ملک میں بچوں کی ایک بڑی تعداد کی ولدیت جن کے شناختی کارڈ کے بغیر تصدیق نہیں سے متعلق قردار سینیٹ میں پیش کی گئی، جسے منظور کر لیا گیا۔بعد ازاں، سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔

جینا چاہتی ہو تو استعفیٰ دینا پڑے گا۔ انیقہ مہدی بھٹی۔اسموگ خطرہ نقصانات کی رپورٹ تیار۔کچے کے علاقے میں آپریشن پولیس رفو چکر۔پنجاب کے تمام سکولز کالجز ایک ھفتہ کے لیے بند۔ایشیائی ترقیاتی بنک نے پاکستان میں خطرے کی گھنٹی بجا دی۔کروڑوں امریکیوں نے ایک روز قبل ووٹ کاسٹ کر لیا۔50 ھزار افغان غیر قانونی شھریت کینسل۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

قومی اسمبلی میں ھنگامہ خیز اجلاس سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024ء پیش

قومی اسمبلی کے کل شام چار 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس پیش کیا جائے گا۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے کل ہونے والے اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا۔اجلاس میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024 پیش کیا جائے گا، ایوان میں اجلاس کے دوران دو توجہ دلاؤ نوٹس بھی پیش کیے جائیں گے۔رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے طیاروں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران بھی ایک توجہ دلاؤ نوٹس پیش کریں گی۔اجلاس کل شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوگا۔واضح رہے کہ یکم نومبر کو قائم مقام چیئرمین سیدال خان کی زیرِ صدارت ملک کے ایوان بالا (سینیٹ) کا اجلاس ہوا تھا جس میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024 پیش کیا گیا تھا۔ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ترمیمی آرڈیننس وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے ایوان میں پیش کیے جانے کے بعد اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا۔ایوان میں پیش ہونے والے آرڈیننس میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 2 میں ایک ذیلی شق شامل کی گئی تھی جس کے تحت کمیٹی میں چیف جسٹس پاکستان کے علاوہ ایک سینئر ترین جج اور ایک چیف جسٹس پاکستان کا نامزد کردہ جج شامل ہوگا۔

آسٹریلیا کے خلاف پہلے ون ڈے کے لیے پاکستان نے پلیئنگ الیون کا اعلان کر دیا۔عبداللّٰہ شفیق، صائم ایوب، بابر اعظم، محمد رضوان اور کامران غلام کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا ہے۔سلمان علی آغا، محمد عرفان خان، شاہین آفریدی، نسیم شاہ، حارث رؤف اور محمد حسنین بھی ٹیم کا حصہ ہیں

آسٹریلیا کے خلاف پہلے ون ڈے کے لیے پاکستان نے پلیئنگ الیون کا اعلان کر دیا۔عبداللّٰہ شفیق، صائم ایوب، بابر اعظم، محمد رضوان اور کامران غلام کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا ہے۔سلمان علی آغا، محمد عرفان خان، شاہین آفریدی، نسیم شاہ، حارث رؤف اور محمد حسنین بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔قومی ٹیم کے کپتان محمد رضوان نے میلبرن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اسے بھول کر آگے بڑھنا ہے، سلیکشن کمیٹی کے ممبر کے یہاں ہونے سے میں خوش ہوں۔انہوں نے کہا کہ پلیئنگ الیون میں میری بھی مشاورت ہو گی لیکن باقی لوگوں کی ان پٹ ہونا اچھی چیز ہے، میں مشاورت کے ساتھ چلنے والوں میں سے ہوں، نوجوان کھلاڑیوں کے بھی مشورے لیتا ہوں۔محمد رضوان کا کہنا ہے کہ بابر اعظم، شاہین اور نسیم کی پاکستان کے لیے بہت پرفارمنس رہی ہیں، آج بابر اور شاہین کا نام اپنی پرفارمنس کی وجہ سے ہی ہے۔

پاکستان کے ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی عرفان خان نیازی نے اپنے ون ڈے ڈیبیو پر خوشی اور جوش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی نمائندگی کرے

پاکستان کے ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی عرفان خان نیازی نے اپنے ون ڈے ڈیبیو پر خوشی اور جوش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی نمائندگی کرے اور ایک ٹاپ ٹیم کے خلاف ڈیبیو کرنے کا موقع ملنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔عرفان کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیم کے خلاف ڈیبیو کا مطلب ہے کہ ٹیم آپ پر بھروسہ کر رہی ہے، جس سے مجھے خود اعتمادی ملی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کرکٹ کا آغاز اسکول سطح پر کیا اور ہمیشہ یہی عزم رکھا کہ پاکستان کے لیے کھیلنا ہے۔نوجوان کرکٹر نے یہ بھی کہا کہ انڈر 19 کرکٹ کے دنوں میں ان کے کوچ تنویر شوکت نے ایک دن انہیں ایک کاغذ دے کر اپنے خواب لکھنے کو کہا۔عرفان نے لکھا کہ وہ ریجنل انڈر 19، انڈر 19 ورلڈ کپ، پی ایس ایل، اور پھر پاکستان کی ٹیم میں کھیلنا چاہتے ہیں، آج، وہ اس خواب کو حقیقت میں بدلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ “کرکٹ کے لیے میں نے اپنا گھر چھوڑ کر فیصل آباد میں قیام کیا، چھ چھ ماہ گھر نہیں جا پاتا تھا لیکن میری فیملی نے ہمیشہ میرے خواب کی حمایت کی۔”عرفان کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیموں کے خلاف کھیل کر ہی ایک کھلاڑی بڑا بنتا ہے، ان کی خواہش ہے کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف میچ وننگ اننگز کھیلیں اور پاکستان کی فتح میں اہم کردار ادا کریں