دوحہ : 30 اکتوبر 2024*وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دو روزہ دورہء قطر**وزیراعظم محمد شہباز شریف امیر قطر کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے پر قطر پہنچ گئے*دوحہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قطر کے وزیر مملکت برائے ثالثی عزت مآب محمد بن عبدالعزیز الخلیفی ، قطر میں تعینات پاکستانی سفیر اور دیگر سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا
اپنے دورے کے دوران وزیراعظم امیر قطر عزت مآب شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقات کریں گےوزیراعظم سے قطر انوسٹمینٹ اتھارٹی اور قطر بزنس مین ایسوسی ایشن کے وفود بھی ملاقات کریں گے
مزید برآں وزیراعظم قطر میوزیم میں “منظر آرٹ ایگزی بیشن ؛ 1940 سے اب تک پاکستان میں آرٹ اور آرکیٹیکچر” کا افتتاح کریں گےوفاقی وزراء خواجہ آصف ،جام کمال خان ، محمد اورنگزیب اور عطاء اللہ تارڑ بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔
امن و امان کے معاملے میں پاکستان دنیا کا تیسرا بدترین ملک قرار ، امن و امان کی عالمی رینکنگ میں پاکستان کو 142 میں سے 140 واں نمبر ملا، علاقائی رینکنگ میں بھی پاکستان کو 6 ممالک میں سب سے آخری نمبر ملا۔ تفصیلات کے مطابق دنیا بھر کے ممالک میں امن و امان کی صورتحال اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں قانون کی حکمرانی اور امن و امان کے حوالے سے دنیا بھر کے ممالک کی کارکردگی کی بنیاد پر درجہ بندی کی گئی ہے۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی رپورٹ میں امن و امان کے معاملے میں پاکستان کو دنیا کا تیسرا بدترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی جانب سے امن و امان کے حوالے سے کل 142 ممالک کی کارکردگی کا جائزہ لے کر درجہ بندی جاری کی گئی ہے، جس میں پاکستان کو 140 واں نمبر ملا۔ جبکہ علاقائی سطح پر بھی قانون کی حکمرانی کے معاملے میں پاکستان کی کارکردگی بدترین قرار دی گئی ہے۔ علاقائی سطح پر 6 ممالک میں پاکستان کو آخری یعنی چھٹا نمبر دیا گیا۔ علاقائی سطح پر امن و امان کے معاملے میں افغانستان کی کارکردگی پاکستان سے بھی بہتر قرار دی گئی ہے۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی رپورٹ میں قانون کی حکمرانی کے معاملے میں پاکستان کو 142 میں سے 129 واں نمبر ملا، جبکہ علاقائی سطح پر پاکستان کو 6 میں سے 5 واں نمبر ملا۔ قانون کی حکمرانی کے معاملے میں علاقائی سطح پر صرف افغانستان کی رینکنگ پاکستان سے کم رہی۔ رول آف لا انڈیکس کے مطابق جنوبی ایشیا میں نیپال کا نمبر 69 ،سری لنکا 75 ، بھارت 79 اور بنگلہ دیش 127ویں نمبر پر ہے۔ واضح رہے کہ عالمی ادارے نے درجہ بندی کیلئے 8 معیارات طے کیے تھے، جن میں بنیادی حقوق، امن عامہ، سماجی اور فوجداری انصاف اور کرپشن شامل تھے۔
ملک میں لاقانونیت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ امام غزالی بہت یاد آرہے ہیں‘ ان کا قول ہے کہ شہر کے لوگوں نے پتھر باندھ رکھے ہیں اور کتے کھلے چھوڑ دیے گئے ہیں‘ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ جس روز اخبارات میں گھروں‘ شہروں‘ بازاروں‘ بنکوں میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کی خبریں شائع نہ ہوتی ہوں‘
ڈکیتی کی ہر واردات دل پر خنجر کی طرح لگتی ہے‘ لیکن صوبائی حکومت ہو یا وفاقی حکومت کے کان پر جون تک نہیں رینگتی ہے‘ پوری کی پوری پولیس وزراء اور افسر شاہی‘ سیاست دانوں اور ان کی اولادوں کی سیکورٹی پر لگی ہوئی ہے اور جو پولیس پروٹوکول ڈیوٹی سے بچ گئی ہے وہ وارداتیوں کی پشت پناہی میں لگی ہوئی ہے‘
چور ہوں یا ڈاکو‘ یہ سب پولیس سرپرستی میں کام کرتے ہیں‘ پولیس انہیں تحفظ دیتی ہے‘ پولیس اگر کام کر رہا تو مجال نہیں کہ شہر میں ڈکیتی ہوجائے‘ چونلک میں ملک میں شہر ہو یا گاؤں‘ سب جگہ پولیس نے ایک آنکھ کھولی ہوئی ہے اور ایک آنکھ بند کی ہوئی ہے‘ کھلی آنکھ سے وہ مجرموں کو فرار ہونے والے راستے کی نشانہ دیہی کرتی ہے اور راہنمائی دیتی ہے اور بند آنکھ سے وہ ڈکیتی سے متاثرہ شخص کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوتی‘ نہ اس کا مقدمہ درج ہوتا ہے اور نہ داد رسی‘ یہ اکتوبر کا مہینہ ہے اکتوبر کی پانچ تاریخ کو عالمی سطح پر یوم ٹیچر منایا جاتا ہے‘ ہمارے ہاں کیا ہوا‘ ابھی اکتوبر باقی ہے کہ ایک ایسے شخص کو ڈکیتی کا سامنا کرنا پڑا جو اس ملک کی نوجوان نسل کا معمار ہے‘ اور پولیس جس نے انہیں تحفظ دینا ہے وہ مجرموں کی نشان دیہی ہونے کے بعد انہیں گرفتار کرنے کی بجائے ان کی پشت پناہی کر رہی ہے
اور انہیں تحفظ دے رہی ہے‘ یہ پنجاب پولیس ہے‘ اور وزیر اعلی پنجاب نے صرف ان کی یونیفارم پہنہی تھی لگ رہا ہے کہ پولیس نے یونی فارم بھی اتار دی ہے اور شرم اور حیا بھی اتار دی ہے‘ اسی لیے تو مجرموں کی پشت پر جا کھڑی ہوئی ہے اور بے چارے استاد جنہیں‘ ڈاکوؤں نے لوٹ لیا ہے‘ ان کی داد رسی نہیں کی جارہی ہے‘ یہ سارے کام پنجاب میں ہی کیوں ہوتے ہیں؟ کیا پنجاب میں رہنے کے لییے صرف احد چیمہ کا ہی حق ہے کہ جنہیں ایچی سن کالج جیسے ادارے کے پرنسپل کے مقابلے میں اہمیت دی گئی اور ترجیح دی گئی‘ کیا س ملک کے اساتذہ صرف اس کام کے لیے رہ گئے ہیں کہ انہیں پولیس گردی کے حوالے کردیا جائے یا احمد چیموں کے حوالے کر دیا جائے‘ پنجاب حکومت کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ اس ملک میں معاشرے میں سب سے ذیادہ اہمیت کسی بھی استاد کی ہے اور اگر ان کے ساتھ پولیس بھی ظلم کرے دو نمبری کرے تو یہ لوگ کہاں جائیں گے؟
پنجاب میں ایک بیوروکریٹ کے بچوں کی تعلمی فیس میں رعائت اور معافی کے لیے ایک استاد کی بے حرمتی کی گئی‘ اور اب پنجاب پولیس ایک استاد کے گھر ہونے والی ڈکیتی پر ان کی داد رسی کی بجائے کھلم کھلا مجرموں کی پشت پناہ بن گئی ہے‘ یہ پنجاب پولیس بلاشبہ بہت کرپٹ ہے ان کی کرپشن کی وجہ سے راولپنڈی میں کرائم ریٹ بڑھ رہے ہیں‘ صرف راولپنڈی میں ہی 90 فی صد رکشہ اور بائیکیا کسی نمبر پلیٹ کے سڑکوں پر دوڑ رہے ہیں‘ یہ بغیر نمبر کے رکشہ اور موٹر سائکل لاقانونیت کی جڑ ہیں اور بنیادی وجہ ہیں یہ سب پنجاب پولیس کی سرپردتی میں ہو رہا ہے پنجاب میں پولیس نے قانون کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ پنجاب میں قبضہ مافیا پولیس کی وجہ سے زندہ ہے‘ لاقانونیت پولیس کی وجہ سے ہے‘ منشیات فروخت ہورہی ہے تو اس کی وجہ بھی پولیس ہے‘ شہر میں ڈکیتیاں ہورہی ہیں تو وجہ پولیس ہے‘ پولیس کو ملنے والی سہولتیں‘ مراعات اربوں میں ہیں اور کام صفر ہے اس ملک اور وم کی بدقسمتی ہے کہ حکومت بدلے‘ چیف جسٹس بدلے یا کوئی اور شخصیت‘ سب آنے والے قانون کی بالدستی کی نوید سناتے ہیں جس طرح دانت کے درد کی گولی کھانے سے دو چار دن اچھے گذر جاتے ہیں،اسی طرح ملک میں ہونے والی تبدیلیوں سے چار دن تو خوب اطمینان سے گذرتے ہیں اور اُمید پیدا ہو جاتی ہے اب ہر طرف قانون کے ڈنکے بجیں گے اور خلقِ خدا کو انصاف ملے گا، جب ثاقب نثار نے چیف جسٹس کا منصب سنبھالا تھا،
میں نے اُس وقت بھی یہی کچھ ہوا تھا‘ پھر عمر عطاء بندیال، قاضی فائز عیسیٰ نے ایسا ہی کہا تھا تو جھولیاں اُٹھا کر انہیں دُعا دی گئی لیکن جب وہ گئے ہیں تو دعائیں دینے والے ہی کوس رہے ہیں‘
یہی حال وزراء اعلی کا ہے‘ یہی حال آنے والے آئی جی پولیس کا ہوتا ہے لیکن پولیس کا مجوعی رویہ تبدیل نہیں ہوتا‘
یہ ہمیشہ مجرموں کے ساتھ کڑی نظر آتی ہے اسی لیے لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا ہے اساتذہ سایہ دار درخت ہوتے ہیں‘ چھاؤں ہوتے ہیں‘
پیار محبت اور یگانگت کے اوصاف سے بہرہ مند ہوتے ہی علم و فن کے چراغ ہوتے ہیں تہذیبی و فکری اوصاف سے لیس ہوتے ہیں تدریسی بہت ہی معزز پیشہ ہے‘ سارے جرنیل‘ ڈاکٹرز‘ اور پولیس افسر انہی کی کوکھ سے نکلے ہیں لیکن ملک میں نظام ایسا بن گیا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کوئی حادثہ ہوجائے تو یہ پولیس کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں
حکومت پاکستان وزارت بحری امور۔۔۔۔۔۔اسلام آباد: 29 اکتوبر2024وفاقی وزیر برائے بحری امور قیصر احمد شیخ کا پاک چائنہ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام کانفرنس سے خطابیوم تاسیس پر چینی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، قیصر احمد شیخپاک چین سٹریٹیجک شراکت داری وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی جارہی ہے، قیصر احمد شیخچینی سرمایہ نے پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے نظام کو مضبوط کیا، قیصر احمد شیخچینی اقتصادی ماڈل اسوقت ہر ملک کے لئے آئیڈیل ہے، قیصر احمد شیخچین نےمغربی ماڈل نیو لبرلزم کے برعکس اپنا اقتصادی ماڈل دنیا کو منوایا، قیصر احمد شیخوزیراعظم شہباز شریف بھی سب سے زیادہ چینی اقتصادی ماڈل سے متاثر ہیں، قیصر احمد شیخسی پیک فیز ٹو سمیت تمام منصوبے چین کے تعاون سے جلد مکمل کریں گے، قیصر احمد شیخعالمی فورمز پر پاکستان اور چین کا ایک دوسرے کو سپورٹ کرنا مثالی ہے، قیصر احمد شیخجنوبی ایشیا میں چین نے پاکستان کو ہمیشہ سب سے زیادہ اہمیت دی، قیصراحمد شیخچینی سرمایہ کاروں کے تمام مسائل حل کرنے کے لئے کوشاں ہیں، قیصر احمد شیخمیری ٹائم سیکٹر میں چینی سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہتے ہیں، قیصر احمد شیخچین کی پورٹ اینڈ شپنگ انڈسٹری کی طرز پر پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر کو بہتر بنارہے ہیں، قیصر احمد شیخپاک چین دوستی کو نقصان پہنچانے والی دہشتگردوں کی تمام سازشیں ناکام ہوگئیں، قیصر احمد شیخبلوچستان سمیت پورے ملک کی ترقی سی پیک کے ساتھ جڑی ہے، قصر احمد شیخ