All posts by admin

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں صنعتی شعبے میں تعاون کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ ہونے والے معاہدےکی منظوری دی ہے۔سعودی کابینہ نے وزیر صنعت معدنی ذخائر یا ان کے نائب کو پاکستانی وزارت صنعت کے ساتھ ہونے والے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی ذمہ داری تفویض کی ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں صنعتی شعبے میں تعاون کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ ہونے والے معاہدےکی منظوری دی ہے۔سعودی کابینہ نے وزیر صنعت معدنی ذخائر یا ان کے نائب کو پاکستانی وزارت صنعت کے ساتھ ہونے والے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی ذمہ داری تفویض کی ہے۔سعودی کابینہ نے جازان میں ٹیکنیکل کالج کے قیام کی بھی منظوری دی ہے۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کابینہ کو ایرانی وزیر خارجہ اور فرانسیسی وزیر خارجہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے متعلق آگاہ کیا ہے۔کابینہ کو غزہ اور لبنان کی تازہ ترین صورتحال اور غزہ کے بحران کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کے علاوہ لبنان کی امداد کے لیے قائم کئے جانے والے فضائی پل کے حوالے سے آگاہی دی ہے۔کابینہ نے اقوام متحدہ کی تحت ہونے والی کانفرنس میں دہشت گردی کے انسداد اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے جاری ہونے والے اعلامیہ کو سراہا ہے۔

حکومت نے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کل شام چار بجے طلب کر لیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں کل شام 4 بجے آئینی ترمیم کو حتمی شکل دی جائے گی

حکومت نے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کل شام چار بجے طلب کر لیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں کل شام 4 بجے آئینی ترمیم کو حتمی شکل دی جائے گی ۔یاد رہے کہ اس سے قبل یہ خبرموصول ہو تھی کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے نئی سمری بھجوا دی گئی ہے اور ممکنہ طو پر قومی اسمبلی کا اجلاس 17 اکتوبر کی شام 4 بجے بلانے کی تجویز ہے ، وزارت پارلیمانی امور کی جانب سے سمری وزیراعظم کو بھجوائی گئی۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے لیکن ایک سیاسی بندوبست کے تحت صوبے کی گورنر شپ پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی۔اٹک سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رہنما سردار سلیم حیدر خان پنجاب کے گورنر بنائے گئے

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے لیکن ایک سیاسی بندوبست کے تحت صوبے کی گورنر شپ پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی۔اٹک سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رہنما سردار سلیم حیدر خان پنجاب کے گورنر بنائے گئے۔ بظاہر تو یہ بندوبست دونوں سیاسی جماعتوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی شراکت اقتدار کو متوازن رکھنے کے لیے بنایا گیا لیکن پچھلے کچھ وقت سے گورنر پنجاب ن لیگ کی حکومت سے خوش دکھائی نہیں دیتے۔ان کی طرف سے پہلا محاذ اس وقت کھولا گیا جب پنجاب حکومت نے صوبے کی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز لگانے کے لیے سمری بھیجی تو انہوں نے یہ کہہ کر دستخط کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ فہرستیں میرٹ پر تیار نہیں کی گئی ہیں صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے نئی آئینی ترمیم کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی جج کو ایکسٹینشن دینے سے عدلیہ متاثر ہو گی۔ن لیگ نے پہلے پہل اس تنقید کو وائس چانسلرز کی تعیناتی میں ’حصہ داری‘ سے تعبیر کیا۔ کہ گورنر اصل میں اپنی مرضی سے تقرریاں کرنا چاہتے ہیں۔ حال ہی میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے مریم نواز کی حکومت کو اس بات پر تنقید کا حصہ بنایا ہے کہ حکومت سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ کیوں کر رہی ہے، یہ تعلیم کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایک ہی ہفتے میں بلاول بھٹو نواز شریف سے دو ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں۔ تو ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے گورنر ن لیگ کی پنجاب کی حکومت سے نالاں کیوں ہیں؟اس سوال کی کھوج کے لیے جب اردو نیوز نے گورنر ہاؤس کے ہی ایک اعلیٰ افسر سے رابطہ کیا تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’بنیادی مسئلہ گورنر صاحب کے اپنے اضلاع میں افسران کی تقرری کا ہے۔ ایک تو افسران ان کی مرضی کے نہیں لگے اور کچھ افسران کو وہ تبدیل کروانا چاہتے ہیں تاہم انہیں حکومت سے انکار کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان بیانات کا کوئی سیاسی پس منظر ہو تو اس کا کچھ کہا نہیں جا سکتا۔اس صورت حال پر پیپلزپارٹی سے رابطہ کیا گیا تو پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر علی قاسم گیلانی نے بتایا کہ ’اگر آپ کہیں کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں حکومتی معاملات سے خوش ہے تو میں کہوں گا کہ نہیں ہے۔ جن چیزوں کا ہم سے تحریری وعدہ کیا گیا تھا وہ پوری نہیں ہوئی ہیں۔ ہماری ایک کمیٹی بھی بنی ہوئی ہے جس میں دونوں جماعتوں کے رہنما ہیں، میں بھی اس میں ہوں لیکن وہاں بھی بہت سست روی سے معاملات چل رہے ہیں۔ لیکن گورنر صاحب کے حالیہ بیانات اس کمیٹی کی سست روی کی وجہ سے نہیں ہیں۔ وہ جب بھی کرتے ہیں جائز تنقید ہی کرتے ہیں اور یہ ان کا حق ہے کیا گورنر صاحب اپنے ضلعے میں افسران کی تقرریوں کے باعث حکومت سے ناراض ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’بالکل، یہ وجہ درست اور یہ جائز بات ہے۔ ایک گورنر اگر اپنے ضلعے میں ایک ایس ایچ او تبدیل نہ کروا سکے توغصہ تو آئے گا۔ آپ ہمیں دیکھ لیں ملتان میں ہماری تین سیٹیں ہیں، پی ٹی آئی کی دو اور ن لیگ کی ایک ہے لیکن وہاں بھی افسر ہماری مرضی کے نہیں لگے ہوئے۔ لیکن کوئی بات نہیں، ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔ گورنر ایک سیاست دان بھی ہیں اور انہوں نے مستقبل میں بھی اپنے ضلعے کی سیاست کرنی ہے۔ ان کے جائز مطالبات مانے جانے چاہییں۔وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ ’ہمیں تو حیرانی ہے کہ گورنر صاحب کو ہمیں بتانا پڑتا ہے کہ ان کا کام کیا ہے۔ حکومت کیسے چلنی ہے، یہ کام آئین نے ان کے ذمے نہیں لگایا۔ انہیں کبھی ہمارے سکولوں سے مسئلہ ہو جاتا ہے، کبھی یونیورسٹیوں سے۔ سندھ میں جہاں ان کی جماعت کی 16 برس سے حکومت ہے، وہاں سکولوں میں گدھے باندھے جاتے ہیں۔ شرح تعلیم کئی جگہوں پر صفر ہے۔ تو ہمیں وہ نہ بتائیں کہ ہم نے صوبہ کیسے چلانا ہے۔‘انہوں نے تبادلوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسے بلیک میل کر کے کام نہیں لیے جاتے۔ مریم نواز کی حکومت میں صرف میرٹ چلتا ہے۔ یہ عثمان بزدار کی یا فرح گوگی کی حکومت نہیں کہ تبادلوں پر پیسہ بنایا جائے۔ اگر کسی کو میرٹ سے مسئلہ ہے تو ہم اس کا کچھ نہیں کر سکتے۔‘

تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے عمران خان، ان کی بہنوں عظمیٰ خان، علیمہ خان اور بھانجے حسان نیازی کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا

‘ تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے عمران خان، ان کی بہنوں عظمیٰ خان، علیمہ خان اور بھانجے حسان نیازی کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جمائما گولڈ سمتھ نے منگل کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا کہ ’میرے بچوں قاسم اور سلیمان کے والد عمران خان کے ساتھ جیل میں روا رکھے گئے سلوک پر ہمیں تشویش ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’حکام نے عمران خان سے ملاقاتوں اور بچوں کے ساتھ ان کی ہفتہ وار فون کال پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ ان کے مقدمات کی سماعت بھی ملتوی کر دی گئی ہے۔جمائما گولڈ سمتھ نے دعویٰ کیا کہ ’جیل میں عمران خان کے سیل کی بجلی کاٹ دی گئی ہے اور وہ اب مکمل اندھیرے میں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں۔ جیل کے باورچی کو بھی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔ وکلا کو عمران خان کو صحت سے متعلق بھی تحفظات ہیں۔‘جمائما گولڈ سمتھ نے عمران خان کی بہنوں عظمیٰ خان اور علیمہ خان کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ ان بھانجے حسان نیازی کے اگست 2023 سے حراست میں ہونے کا ذکر بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ ’یہ افراد پرامن احتجاج کر رہے تھے، ان کو قید میں رکھنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔‘جمائما سمتھ نے جبری حراست کے معاملات سے متعلق اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی جون میں جاری کی گئی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہیں انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ہم عمران خان، ان کی بہنوں اور بھانجے کی فوری رہائی اور اپنے بیٹوں سے رابطے کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں 24 گھنٹوں میں ڈکیتی چوری قتل کی 15 وارداتیں عوام 40 کروڑ روپے سے محروم

شہر اقتدار میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران صرف ڈکیتی چوری قتل کی ہی 15 وارداتوں میں شہری جان و مال کروڑوں روپے سے محروم کر دئیے گئے ہیں فراڈ دھوکہ دہی اقدام قتل و دیگر جرائم اس کے علاوہ ہیں جن کا ریکارڈ و تفصیلات کی رپورٹرز کو فراہمی موجودہ آئی جی نے آتے ہی روک رکھی ہے جبکہ اتنے ہی کیسز تھانوں میں زیر التواء رکھ کر مصنوعی کارکردگی بیلنس کی جارہی ہے اور ان میں سے کسی ایک وقوعہ کا بھی ملزم اب تک گرفتار نہیں ہو سکا صرف ڈکیتی چوری کی 14 وارداتیں اور ایک قتل کی واردات پولیس ریکارڈ میں درج کی گئی ہیں متعدد مقدمے زیر التواء ڈال دئیے دوسری جانب 7 ہزار سے زائد مفرور اشتہاریوں میں سے بھی کوئی ایک ملزم گرفتار نہیں ہو سکا اور منشیات کے خلاف جاری مہم “نشہ اب نہیں” بھی عملی طور پر دم توڑ چکی ہے اس دوران شہر سے کوئی بڑا منشیات ڈان نہیں گرفتار کیا جاسکا محض روایتی ایک سے دو کلو کی برآمدگی تک معاملہ محدود رکھ کر ان کو سپلائی دینے والے گینگز کو تحفظ دیا گیا ہے حتہ کہ حساس ترین علاقہ ریڈ زون اور ملحقہ آبادی نور پور شاہاں بری امام میں موجود منشیات آئس ہیروئن کوکین گردا چرس اور شرآب کے بین الصوبائی گینگز کو ہی نہ پکڑا جاسکا جو ان کی مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی آمدن کے ذرائع بتائے جا رہے ہیں پورے شہر سے منشیات کا خاتمہ خواب بن کر رہ گیا ہے جس سے سیف سٹی کیمروں ڈرائونز اور جدید ٹیکنالوجی و افرادی قوت سے لیس 29 تھانوں کی فوج ظفر موج کی کارکردگی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے.

تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں علی امین گنڈاپور اور حماد اظہر کے درمیان تلخ کلامی پر پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا موقف سامنے آگیا۔

تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں علی امین گنڈاپور اور حماد اظہر کے درمیان تلخ کلامی پر پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا موقف سامنے آگیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ میں اس معاملے پر کوئی رائے نہیں دینا چاہتا۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور پنجاب سے پارٹی کے سینئر رہنما حماد اظہر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ذرائع نے بتایا تھا کہ حماد اظہر نے علی امین گنڈاپور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ الزام مت لگائیں، احتجاج کریں میں پنجاب سے لیڈ کروں گا اس پر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ آپ تو روپوش ہو، کیسے لیڈ کریں گے؟ ورکرز کو بےیارو مددگار نہیں چھوڑ سکتے۔اس پر چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ میرے لیے یہ تشویشناک ہے کہ پارٹی کے اندرونی معاملات کیسے باہر آتے ہیں۔ پارٹی میں اختلاف رائے ہوتا ہے، ہر کسی کا اپنا اپنا موقف ہوتا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے نجی کلینک میں دانت نکالنے کے دوران بچی انتقال کر گئی

جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے نجی کلینک میں دانت نکالنے کے دوران بچی انتقال کر گئی۔ڈی ایچ کیو ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق حالت بگڑنے پر بچی کو سرکاری ہسپتال منقل کیا گیا، بچی ڈی ایچ کیو ہسپتال لانے سے پہلے ہی دم توڑ چکی تھی۔اسسٹنٹ کمشنر وانا فیصل اسماعیل کا کہنا ہے کہ علاج کے دوران خون زیادہ بہہ جانے سے 8 سالہ فاطمہ کی موت واقع ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وانا کے نجی کلینک پر چھاپا مار کر کلینک کو سیل کردیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹر اجمل خان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

شنگھائی تعاون تانظیم کی پاکستان میں سربراہی کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہورہی ہے کہ پاکستان کی اس خطہ میں اہمیت باقاعدہ تسلیم کی گئی ہے

شنگھائی تعاون تانظیم کی پاکستان میں سربراہی کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہورہی ہے کہ پاکستان کی اس خطہ میں اہمیت باقاعدہ تسلیم کی گئی ہے اور ہم اس تانظیم کے رکن ممالک کے ساتھ تاریخی معاہدے کررہے ہیں دوسری جانب بھارت کی پوزیشن یہ ہے کہ اسے اب بنگلہ دیش‘ قطر‘ سری لنکا‘ نیپال‘ مالدیپ‘ جیسے ملکوں میں اب کوئی اہمیت نہیں رہی‘ حتی کہ ایران بھی اب بھارت سے بہت دور ہوگیا ہے‘ کنیڈا میں بھارت کو تقریباً دیس نکالا مل چکا ہے‘ بھارت کی مودی سرکار اپنے ملک میں پارلیمنٹ میں اپنا سیاسی حجم کم کیے بیٹھی ہے اور اسے مقبوضہ کشمیر میں بھی اسے شکست ہوئی ہے یہ بہترین وقت تھا کہ اسلام آباد میں اس کے وفد کے ممبرز یا وفد کے سربراہ سے میڈیا انٹرایکشن ہوتا تو ہمارا میڈیا اسے سفارتی تنہائی یاد دلاتا اور زچ کرکے رکھ دیتا‘ مگر پاکستانی میڈیا کو ملنے والی رسائی کہ حد یہ ہے کہ اس کے لیے پاک چائنا سینٹر تک پہنچنا ہی محال ہے اس کے برعکس بھارت سے آنے والے میڈیا کے سینیئر ممبرز پاکستانی سیاست دانوں سے مل رہے ہیں جیسے کہ بھارتی صحافی برکھارت نواز شریف سے ملی ہیں‘ اگر پاکستان کے میڈیا کو بھی باقاعدہ بریفنگ دے کر خاص طور پر بھارت کے وفد کے ساتھ سوال جواب کا موقع دیا جاتا تو مقبوضہ کشمیر کی حد تک ہی سہی ہم اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہوتے مگر کیا کیجئے کہ ہمارا دفتر خارجہ ان دنوں بیگانہ دفتر خارجہ بنا ہوا ہے‘ وہ سب کے لیے رسائی اور سہولت کا ذریعہ ہے لیکن پاکستانی میڈیا کے لیے اجنبی ہے