All posts by admin

اسلام آباد احتجاج، کریک ڈاؤن، مزید احتجاج، مزید کریک ڈاؤن سے وقفہ نہیں لے سکتا۔ شاید یہ بھی ایک درست وجہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اب پی ٹی آئی کے احتجاج کے لیے ایک مخصوص جگہ مختص کرنے کا حکم جاری کیا ہے

اسلام آباد احتجاج، کریک ڈاؤن، مزید احتجاج، مزید کریک ڈاؤن سے وقفہ نہیں لے سکتا۔ شاید یہ بھی ایک درست وجہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اب پی ٹی آئی کے احتجاج کے لیے ایک مخصوص جگہ مختص کرنے کا حکم جاری کیا ہے جبکہ ایسے غیر قانونی مظاہروں پر پابندی لگا دی ہے جو دارالحکومت میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے احتجاج نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جس میں روزمرہ کی زندگی میں خلل پڑ رہا ہے اور صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان تصادم کا خطرہ ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کو اسلام آباد کے کے پی ہاؤس سے گرفتار یا حراست میں لیا جانا، جہاں یہ لکھنے کے وقت ان کا ٹھکانہ ابھی تک غیر یقینی ہے، اس نے سیاسی افراتفری کی کھلی کہانی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب اس طرح کے احتجاج نے اسلام آباد کو مفلوج کیا ہو۔ منصوبہ بند ڈی چوک دھرنا، جس نے اب دو دن سے دارالحکومت کو درہم برہم کر رکھا ہے، سیلولر بندش اور سڑکوں کی بندش کا باعث بنی ہے، جس سے ہزاروں شہریوں کو تکلیف ہوئی ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس پر اس کے اثرات کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں، جو کہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی تقریب ہے۔ . حکومت امن کو برقرار رکھنے کے لیے بظاہر بے چین ہے، خاص طور پر جب وہ بین الاقوامی شراکت داروں کو استحکام فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔احتجاج کا حق کسی بھی جمہوریت کی پہچان ہے، اور پی ٹی آئی اس حق کو استعمال کرنے میں کوئی رعایت نہیں رکھتی۔ تاہم، یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ پارٹی کے احتجاج کا مقصد حقیقی سیاسی گفتگو نہیں بلکہ افراتفری پھیلانا ہے۔ جیسا کہ سیاسی مبصرین نے نوٹ کیا ہے، خلل کا یہ رجحان پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کی ایک واضح خصوصیت بن گیا ہے۔ اپنے 2014 کے دھرنے کے بعد سے ہی، پی ٹی آئی نے حکمرانی کو روکنے کے فن میں مہارت حاصل کی ہے، سیاسی عدم استحکام کو ریاست پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، ان تازہ ترین مظاہروں کا وقت زیادہ خراب نہیں ہو سکتا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد پاکستان معاشی بحالی کے عروج پر ہے، اور ایس سی او کا سربراہی اجلاس ایک اہم سفارتی تقریب ہے جو پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت کو بڑھا سکتی ہے۔ بدامنی پیدا کرنے کی دھمکی دے کر جس طرح معیشت استحکام کے آثار دکھا رہی ہے، پی ٹی آئی ملک کی بحالی کی بنیاد کو کمزور کرنے کا خطرہ مول لے رہی ہے۔ یہ دیکھنا مشکل ہے کہ کس طرح دارالحکومت پر حملہ کرنے یا ضروری خدمات اور روزمرہ کی زندگی میں خلل ڈالنے کے خطرات کسی بامعنی سیاسی مقاصد کو آگے بڑھاتے ہیں۔سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ یہ تازہ ترین اقدامات ریاست پر دباؤ ڈالنے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہیں جبکہ پی ٹی آئی اب بھی کچھ فائدہ اٹھاتی ہے۔ معیشت کے استحکام اور سیاسی استحکام ممکنہ طور پر کونے کے آس پاس ہونے کے ساتھ، پارٹی محسوس کر سکتی ہے کہ یہ مراعات حاصل کرنے کا آخری موقع ہے، خاص طور پر اس کے بانی چیئرمین کی قانونی مشکلات کے حوالے سے۔ لیکن یہ افراتفری کا انداز دو دھاری تلوار ہے۔ اگرچہ یہ حکومت پر عارضی دباؤ ڈال سکتا ہے، لیکن اس سے اس تاثر کو بھی تقویت ملتی ہے کہ پی ٹی آئی عدم استحکام پر پروان چڑھ رہی ہے، یہ ساکھ اس کی طویل مدتی سیاسی عملداری کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ درحقیقت، پارٹی کی اپنی صفوں میں سے کچھ لوگوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ افراتفری کی حکمت عملی الٹا اثر کر سکتی ہے۔ ہر اس احتجاج کے ساتھ جو دارالحکومت کو میدان جنگ میں بدل دیتا ہے، پی ٹی آئی کو ممکنہ اتحادیوں سے الگ ہونے کا خطرہ ہے۔ پاکستان کی کمزور معیشت اور بین الاقوامی سفارت کاری کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس صرف ایک سفارتی اجتماع نہیں ہے۔ یہ پاکستان کے لیے اہم علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے اور ایک مستحکم اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا ایک موقع ہے۔ اس ایونٹ کی کامیابی کو خطرے میں ڈالنے والی کوئی بھی رکاوٹ نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بلکہ اس کی معاشی بحالی کو بھی نقصان پہنچائے گی۔ مختصر مدت کے سیاسی فائدے کے لیے پی ٹی آئی کا یہ سب کچھ خطرے میں ڈالنا دور اندیشی اور ذمہ داری کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ جمہوریت میں احتجاج کے حق کو ذمہ داری کے ساتھ متوازن ہونا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس طرح کے احتجاج سے عوامی مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔ کیا اب وقت نہیں آیا کہ تحریک انصاف اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے؟

پاکستان، چین‘ روس اور ایران نے تصدیق کی ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان‘ مجید بریگیڈ اور بلوچستان لبریشن آرمی سمیت متعدد دہشت گرد گروپ افغانستان کے اندر سے کام کر رہے ہیں اور پڑوسی ممالک کیلئے خطرے کا باعث ہیں

پاکستان، چین‘ روس اور ایران نے تصدیق کی ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان‘ مجید بریگیڈ اور بلوچستان لبریشن آرمی سمیت متعدد دہشت گرد گروپ افغانستان کے اندر سے کام کر رہے ہیں اور پڑوسی ممالک کیلئے خطرے کا باعث ہیں۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سائیڈلائن پر پاکستان‘ چین‘ روس اور ایران کے وزراء خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ میں افغان طالبان کے ٹی ٹی پی سمیت کسی بھی دہشت گردگروپ کو پناہ نہ دینے کے دعوئوں کو مسترد کردیا گیا اور چاروں ممالک کے وزراء خارجہ نے افغانستان میں دہشت گردی سے متعلق سکیورٹی کی صورتحال پر اس حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا کہ داعش‘ القاعدہ‘ مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ‘ ٹی ٹی پی‘ جیش العدل‘ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے نیٹ ورک افغانستان میں موجود ہیں جو وہیں سے دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ انہوں نے طالبان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دینے کے اپنے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرے۔ اسی طرح سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا بھی یہی کہنا ہے کہ افغانستان کی صورتحال جنگجو ملیشیا اور دوسرے مختلف گروہوں کیلئے سازگار بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو دہشت گردوں کا نشانہ بننے کیلئے تنہاء نہیں چھوڑا جا سکتا۔ وزیراعظم شہبازشریف نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں امن و امان کے حوالے سے دنیا کو درپیش جن چیلنجوں سے عہدہ برا ہونے کا عالمی برادری سے تقاضا کیا‘ ان میں بالخصوص افغانستان کی سرزمین پر مختلف دہشت گرد گروپوں کے نیٹ ورک کے ماتحت دوسرے ممالک بالخصوص پاکستان میں جاری دہشت گردی کی کارروائیاں ہیں۔ یہ امر واقع ہے کہ طالبان کی عبوری حکومت کی جانب سے افغان سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دینے کی محض رسمی باتیں کی جاتی ہیں جبکہ فی الحقیقت پاکستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے کی جانیوالی دہشت گردی میں افغان سرزمین ہی استعمال ہوتی ہے اور طالبان انتظامیہ کی شہ پر ہی یہ کارروائیاں کی جاتی ہیں جس پر پاکستان متعدد بار طالبان حکومت سے باضابطہ احتجاج بھی کر چکا ہے مگر اسکے باوجود افغان سرزمین ہی دہشت گردی کا منبع بنی ہوئی ہے جس کے تدارک کیلئے پاکستان کی مسلح افواج اپریشنز بھی کر رہی ہیں اور اپنی جانوں کی قربانیاں بھی دے رہی ہیں۔ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت پاکستان کو ٹارگٹ کرکے کی جا رہی ہیں جن پر ٹھوس طریقے سے قابو نہ پایا گیا تو پورا خطہ امن و امان کو لاحق خطرات کی زد میں آسکتا ہے۔ اس لئے اس معاملہ کو آئندہ ماہ 15 اکتوبر سے اسلام آباد میں شروع ہونیوالی شنگھائی سربراہی کانفرنس میں مضبوطی کے ساتھ اٹھایااور اس کے سدباب کیلئے ٹھوس اقدامات کا فیصلہ کیا جانا چاہیے ورنہ دہشت گرد اس سرزمین پر انسانوں کیلئے موت ہی تقسیم کرتے رہیں گے۔

جڑواں شہروں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کا آج تیسرا روز ہے، راولپنڈی اور اسلام آباد میں احتجاج کے حوالے سے درجنوں مقدمات درج کئے جاچکے ہیں اور سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا جاچکا ہے

جڑواں شہروں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کا آج تیسرا روز ہے، راولپنڈی اور اسلام آباد میں احتجاج کے حوالے سے درجنوں مقدمات درج کئے جاچکے ہیں اور سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی سمیت متعدد رہنما بھی نامزد کئے گئے ہیں اور دہشتگردی سمیت سخت ترین دفعات درج کی گئی ہیں۔راولپنڈی پولیس نے بانی پی ٹی آئی عمران خان، راجہ بشارت، شہریار ریاض، راجہ راشد حفیظ، اعجاز خان جازی، ناصر محفوظ سمیت متعدد رہنماؤں کو مقدمے میں شامل کرلیا ہے۔تھانہ ٹیکسلا میں 250 سے 300 کارکنان پر مقدمہ درج کیا ہے، جبکہ سو سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مقدمے میں دہشتگردی سمیت سخت ترین دفعات لگائی گئی ہیں۔متن مقدمہ میں بتایا گیا کہ مظاہرین آتشیں اسلحہ سمیت اسلام آباد جا رہے تھے اور دھمکی دے رہے تھے کہ بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر عہدیداروں نے حکم دیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ جتھوں میں اکٹھا ہوا جائے۔اگر انہیں رہا نہ کیا گیا تو اسلام آباد کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے خوف و ہراس پیدا کیا اور وہاں موجود لوگوں کو ڈرایا۔ مظاہرین پیٹرول بموں اور اسلحے سے لیس تھے، مظاہرین نے روڈ بلاک کیا اور پولیس ملازمین کو اغواء کر کے تشدد بھی کیا۔گزشتہ روز وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج سے 120 افغان باشندوں سمیت 564 افراد گرفتار کئے گئے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کے 11 پولیس اہلکاربھی پکڑے گئے ہیں۔اور آج آئی جی اسلام آباد ناصر علی رضوی نے بتایا کہ احتجاج کے دوران 120 افغان باشندوں سمیت 878 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔آج اسلام آباد پولیس نے ڈی چوک سے 15 پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا۔لاہور میں کارکنان رہاتحریک انصاف کے گزشتہ روز گرفتار ہونے والے 70 کارکنوں کو لاہور کی کینٹ کچہری عدالت نے رہا کر دیا ہے اور تمام کارکنان کو فوری رہا کرنے کا حکم بھی دے دیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے تمام کارکنوں کو ڈسچارج کردیا۔دوسری جانب لاہور میں تقریباً 300 اور مجموعی طور پر 3 ہزار سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے 1590 کارکنوں کی گرفتاری کےاحکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔پنجاب پولیس نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی ملک لیاقت علی کو بھی گرفتار کیا ہے، ملک لیاقت علی اپنے گارڈز کے ہمراہ گرفتار ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ حمید شاہ 26 نمبر چونگی پر مظاہرین کے پتھراؤ کے زد میں آیا، حمید شاہ پر تشدد بھی کیا گیا جس سے وہ شہید ہوگئے، شہید کے بچے سوال کر رہے ہیں کہ کیا ریاست انہیں انصاف دے گی؟آئی جی اسلام آباد نے اعلان کیا کہ اہلکار کی شہادت پر سخت سے سخت ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کے پروگرام کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا لیڈ کر رہے تھے، سب نے دیکھا ہے کہ دھاوا بولنے والوں کو لیڈ کون کر رہا تھا، دھاوا بولنے والوں کے خلاف 10 ایف آئی آر درج ہوچکی ہیں، ہم عبدالحمید کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ہم نے صبر سے کام لیا لیکن مظاہرین نے تشدد کا راستہ اپنایا، مظاہرین نے پولیس پر زہریلی گیس فائر کی، احتجاج کے دوران 120 افغان باشندوں سمیت 878 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ احتجاج کے دوران 154 ملین روپے کے سیف سٹی کیمروں کا نقصان کیا گیا، ہمارے جوانوں کی 31 موٹر سائیکلوں کا نقصان ہوا، مظاہرین نے تین نجی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا، مظاہرین نے کے پی پولیس کا سامان استعمال کیا۔علی ناصر رضوی کا مزید کہنا تھا کہ مظاہرین نے سرکاری شیل استعمال کیے، مظاہرین نے میٹرو بس کا جنگلہ توڑ دیا، ہمیں مظاہرین سےسرکاری اسلحہ بھی ملا ہے، مظاہرین میں کے پی پولیس کے حاضر سروس اہلکار بھی تھے۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان پر احتجاج کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔عمران خان کیخلاف مقدمہ اغواء، ڈکیتی، اقدام قتل، کار سرکار میں مداخلت اور اے ٹی سی ایکٹ سمیت 13 دفعات کے تحت سب انسپکٹر قیصر محمود کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے

بانی پی ٹی آئی عمران خان پر احتجاج کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔عمران خان کیخلاف مقدمہ اغواء، ڈکیتی، اقدام قتل، کار سرکار میں مداخلت اور اے ٹی سی ایکٹ سمیت 13 دفعات کے تحت سب انسپکٹر قیصر محمود کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، مقدمہ میں بانی پی ٹی آئی سمیت 14 مقامی رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔مقدمہ کے متن میں لکھا گیا ہے کہ عدالتی احکامات پر بانی پی ٹی آئی کو جیل مینوئل سے ہٹ کر غیر معمولی غیر قانونی سہولیات دی گئیں، جیل میں ملاقاتوں اور روابط میں عمران خان اپنے سیاسی کارکنوں کو ریاست اور اداروں کے خلاف تشدد پر اکساتے رہے۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ عمران خان نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو پرتشدد ہجوم کی قیادت پر مجبور کیا، مظاہرین نے فائرنگ اور پٹرول بموں کا استعمال کرتے ہوئے ایک کانسٹیبل کو اغوا کر لیا جبکہ پانچ شدید زخمی کیے۔مقدمہ کے متن میں مزید لکھا گیا ہے کہ پولیس نے 105 مظاہرین گرفتار کیے جن سے 20 غلیلیں، اڑھائی ہزار بنٹے، 40 ڈنڈے اور 9 گاڑیاں قبضہ میں لے لیں۔

“سانحہ کے پی ہاوس ریاست پہ حملہ تھا صوبے کے وزیر اعلی کا اغوا ریاست سے بغاوت ہے تمام مجرموں پہ آرٹیکل 6 لگانے کا مطالبہ آج کے پی اسمبلی سے آنا چاہئیے” ملک بھر کا پرائیویٹ اور سرکاری میڈیا حقیقت پر مبنی رپورٹنگ کرنے سے قاصر ہیں کوی پی ای اے خریدنا آور دوسرا این ایچ اے کا ٹھیکیدار اس لئے 25 کروڑ عوام اضطراب کا شکار ھے وہ سوشل میڈیا پر اعتماد کر رھی ھے وزیر اعلی کے پی کا اغوا ریاست کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ھے تفصیلات کے لئے بادبان نیوز کو فالو کرے