All posts by admin

چینی آھلکاروں کی ھلاکتوں کے قاتلوں کا معلوم ھے،وزیراعظم خارجہ۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو)، جناح ہاؤس اور دیگر تنصیبات پر حملہ کرنے پر کوئی معافی نہیں دے سکتا اور سانحہ 9 مئی میں ملوث عناصر کیلئے کوئی رعایت مناسب نہیں۔پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ وزیراعظم 4 سے 8 جون تک چین کا دورہ کریں گے اور ان کے دورہ چین سے اچھی خبریں آئیں گی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک اور سکیورٹی سے متعلق ایشوز موجود ہیں، دورہ چین میں بھی ان معاملات پربات چیت ہوگی، چینی انجینیئرز پر حملے کے ملزمان تک پہنچے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ سیکرٹری داخلہ اور دفترخارجہ کے افسران کابل گئے ہیں، چینی شہریوں پر حملوں میں ملوث لوگوں پر افغان حکام کو اعتماد میں لیا جائے گا۔اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ سعودی ولی عہدبھی دورہ پاکستان پر آئیں گے، محمد بن سلمان کے والد کی طبیعت خراب ہے، انہوں نے صرف پاکستان ہی نہیں جاپان کا بھی دورہ ملتوی کیا ہے۔نائب وزیراعظم نے جسٹس اطہرمن اللہ کے ریمارکس پر تبصرےسے گریز کیا اور کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے وزیراعظم کو جو جواب دیا اس پر وزیراعظم سے پوچھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو ٹیک آف کرنے کے دوران کتنی بار گرانا ہے، پاکستان کو کئی بار ٹیک آف کرتے ہوئےگرا چکے، بس بہت ہوگیا جو ریاست کے خلاف کھڑا ہوگا اس سے مذاکرات نہیں ہوں گے، مذاکرات اور مفاہمت پر میرا پختہ یقین ہے، سیاست میں مفاہمت اور مذاکرات ہوتے ہیں اور ہونے چاہئیں۔ان کا کہناتھاکہ سانحہ 9 مئی ریاست کے خلاف اٹھنا تھا، جی ایچ کیو، جناح ہاؤس اور تنصیبات پر حملہ کرنے پر کوئی معافی نہیں دے سکتا، فارمیشن کمانڈرز میٹنگ میں جس مؤقف کا اظہار کیا وہ ہر پاکستانی کا موقف ہے، سانحہ 9 مئی میں ملوث عناصر کیلئے کوئی رعایت مناسب نہیں۔

جانی خیل سرہ بنگلہ کے قریب سیکورٹی فورسز کے گاڑی پر آئی آی ڈی بم دھماکہ دھماکہ میں 4 سیکیورٹی اہلکار شہید 3 زخمی ہوگئے

بنوں : جانی خیل سرہ بنگلہ کے قریب سیکورٹی فورسز کے گاڑی پر آئی آی ڈی بم دھماکہ دھماکہ میں 4 سیکیورٹی اہلکار شہید 3 زخمی ہوگئے جان بحق اور زخمیوں کو بنوں سی ایم ایچ منتقل کر دیا واقعہ کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقہ گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے ، سیکورٹی ذرائع

ایک بزنس ٹائیئکون کو دوبئی سے گرفتار کرنے کا حتمی فیصلہ 9 اھم سھولت کار بھی شامل 2 میڈیا گروپس اور ایک اشتھاری ایجنسی کے مالک اور اسکے بیٹے کو گرفتار کرنے کا فیصلہ جس نے چند روز سے 90 کڑوڑ کی میڈیا مھمم جاری رکھی ھوی ھے تفصیلات بادبان ٹی وی پر

راولپنڈی کے تھانہ چکری کے علاقے میں رینجرز کیڈٹ کالج کے تین طلبا کو لوٹ لیا گیا۔طلبا چکری اڈہ کے قریب ہوٹل سے کھانا کھا کر واپس کالج جا رہے تھے۔

راولپنڈی کے تھانہ چکری کے علاقے میں رینجرز کیڈٹ کالج کے تین طلبا کو لوٹ لیا گیا۔
طلبا چکری اڈہ کے قریب ہوٹل سے کھانا کھا کر واپس کالج جا رہے تھے۔

دو ڈاکو کیڈٹ کالج میں زیر تعلیم طلبا سے 3 قیمتی موبائل فون، 9 ہزار، شناختی کارڈ لوٹ کر فرار ہوئے۔

مسلح ڈاکو موقع سے پیدل فرار ہوئے، مقدمہ درج کر لیا گیا۔

نیب ترامیم کیس قید تنہائی میں ھوں عمران خان۔ اڈیالہ میں سب کچھ کرنل صاحب کنٹرول کرتے ہیں تفصیلات بادبان ٹی وی پر

جمعرات کو نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران عمران خان نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں قید تنہائی میں ہوں۔ اڈیالہ میں سب کچھ کرنل صاحب کنٹرول کرتے ہیں

خرم دستگیر کی حرامزدگیاں الیکشن ھارنے کے بعد تحریک انصاف کے جیتے ھوے ایم این اے کے خلاف کارروائی تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی مبین عارف کے گودام اور فیکٹری کی بجلی کاٹ دی گئی۔ گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کی ٹیم نےپولیس کے ہمراہ سیالکوٹ بائی پاس پر واقعہ گودام اور فیکٹری پر چھاپہ مارتے ہوئے کارروائی کی، گیپکو حکام کا کہنا ہے کہ کارپوریشن کی درخواست پر کارروائی عمل میں لائی گئی ہے ، ایم این اے مبین کے والد عارف جٹ 2 کروڑ 60 لاکھ کے نادہندہ ہیں، محکمہ کارپوریشن کی درخواست پر بجلی منقطع کی گئی ہے ،ترجمان مبین عارف کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ سے سٹے لے رکھا ہے پھر بھی سیاسی مداخلت پر ہمارے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

عمران خان سے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی بانی چیئرمین سے ملاقات۔ تمام عمران خان شاہ محمود کو جیل میں رکھنے پر یک زبان تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں کی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات ختم ہو گئی۔ملاقات کے بعد پی ٹی آئی رہنما میڈیا سے گفتگو کئے بغیر اڈیالہ جیل کے باہر سے واپس روانہ ہوگئے۔عمران خان سے شبلی فراز، شیخ وقاص اکرم، صاحبزادہ محبوب سلطان نے ملاقات کی. پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر، صاحبزاہ حامد رضا اور رؤف حسن بھی ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے۔بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ سے عبید ریاض، بیٹی مہرالنسا اور بہو نے ملاقات کی۔

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری) کی زیر صدارت83ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس*کانفرنس میں کور کمانڈرز، پرنسپل سٹاف آفیسرز اور پاک فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز کی بھی شرکت

**** راولپنڈی،30 مئی، 2024:**آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری) کی زیر صدارت83ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس*کانفرنس میں کور کمانڈرز، پرنسپل سٹاف آفیسرز اور پاک فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز کی بھی شرکت فورم کی شہداء کے ایصال وثواب کے لئے فاتحہ خوانیفورم کا ملک کی حفاظت، سلامتی اور خودمختاری کیلئے مسلح افواج کے افسران و جوانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی شہریوں سمیت شہداء کی عظیم قربانیوں کو زبردست خرا ج عقیدتفورم کو جیو اسٹریٹجک حالات، قومی سلامتی کے لیے اُبھرتے ہوئے چیلنجز اور ملٹی ڈومین خطرات سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا گیا شرکاء کو پاک فوج کو جدید بنانے اور فیلڈ فارمیشنز کے لیے لاجسٹک سپورٹ کو بہتر بنانے کے لیے نئی تکنیکی تخلیقات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئیفورم نے افغانستان کی سرحد پار سے مسلسل خلاف ورزیوں اور افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے دہشتگردی کی منصوبہ بندی پر سخت تحفظات کا اظہار کیافورم نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ؛ ”پاکستان کے دشمن پاکستان کے اندر سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کیلئے افغانستان کو استعمال کر رہے ہیں“فورم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نئے ضم شدہ اضلاع کے عوام کی بیش بہا قربانیوں کا اعتراف کیافورم نے دہشتگردی کو فیصلہ کن شکست دینے کیلئے نئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کی اہمیت پر بھی زور دیافورم نے بلوچستان میں سماجی و اقتصادی ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ بیرونی طور پر پروپیگنڈہ کرنے والوں کا مقابلہ کیا جا سکےپروپیگنڈہ کرنے والوں کی پشت پناہی غیر ملکی سپانسرڈ پراکسیوں کے ذریعے کی جاتی ہے تاکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو امن اور ترقی سے دور رکھا جا سکے، فورمفورم نے مشرقی سرحد پر موجودہ صورتحال اورمقبوضہ جموں و کشمیر میں معصوم کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کے تازہ ترین واقعات کا جائزہ لیا فورم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے لیے کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد میں مکمل یکجہتی کا اظہار کیافورم نے بھارت میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بڑھتے ہوئے فاشزم پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک پر تشویش کا اظہار کیا فورم نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی مذمت کیفورم کی غزہ پٹی کے اندر رفح آپریشن اور دیگر تمام آپریشنز کو روکنے کیلئے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی حمایت ”ریاستی اداروں بالخصوص افواج پاکستان کے خلاف جاری شدہ ڈیجیٹل دہشت گردی، مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے بیرونی سہولت کاروں کی مدد کے ساتھ کی جا رہی ہے”، شرکاء کانفرنساسکا مقصد جھوٹ اور پروپیگنڈا کے ذریعے پاکستانی قوم میں مایوسی پیدا کرنا اور قومی اداروں بالخصوص افواج پاکستان اور عوام کے درمیان خلیج ڈالنا ہے، فورمپاکستانی قوم جھوٹ اور پروپیگنڈا کرنے والوں کے مذموم اور مکروہ عزائم سے پوری طرح باخبر ہے اور اِن ناپاک قوتوں کے مذموم ارادوں کو مکمل اور یقینی شکست دی جائے گی انشاء اللّٰہ، شرکاء کانفرنسفورم نے اعادہ کیا کہ؛”ملک کے وسیع تر مفاد میں لازم ہے کہ 9 مئی کے منصوبہ سازوں، مجرموں، اس کی حوصلہ افزائی کرنے والوں اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے قانون کی عمل داری کو قائم کرنے اور9مئی کے مجرمان کے خلاف فوری اور شفاف عدالتی اور قانونی کارروائی کے بغیر ملک ایسے سازشی عناصر کے ہاتھوں ہمیشہ یرغمال رہے گا، فورمفورم کا پائیدار اقتصادی ترقی اور غیر قانونی سرگرمیوں بشمول سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، بجلی چوری کو روکنے، وَن ڈاکومنٹ رجیم، غیر قانونی غیر ملکی تارکین کی باعزت وطن واپسی سمیت قومی ڈیٹا بیس کی حفاظت کیلئے مختلف شعبوں میں حکومت کے اقدامات کی مکمل حمایت کرنے کا عزم آرمی چیف نے مختلف مشقوں کے دوران فارمیشنز کی اعلیٰ و معیار ی تربیت اور انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں میں افسران اور جوانوں کی شاندار کارکردگی کو سراہاآرمی چیف نے فارمیشنز کے بلند حوصلے اور ہمہ وقت آپریشنل تیاریوں کو بھی سراہا شرکاء کانفرنس نے حاضر سروس، ریٹائرڈ افسران اور جوانوں کی تربیت، انتظامیہ اور فلاح و بہبود کے لیے فوجی سطح پر کیے جانے والے اقدامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا فورم نے یوم تکبیر پر پاکستان کی طرف سے حاصل کیے گئے اہم سنگ میل اور خطے پر اس کے مستحکم اثرات کو سراہاکانفرنس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ؛”ملک کی سلامتی اور استحکام کو درپیش تمام خطرات کو قابل فخر قوم کی مکمل حمایت سے ناکام بنا دیا جائے گا“

وفاقی حکومت 7جون کو بجٹ پیش کرنے جارہی ہے جس معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم ایف کے مطالبے پر بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے حکومت کو کئی شعبوں میں ٹیکس چھوٹ مکمل طور پر ختم کرنا ہوگی

وفاقی حکومت 7جون کو بجٹ پیش کرنے جارہی ہے جس معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم ایف کے مطالبے پر بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے حکومت کو کئی شعبوں میں ٹیکس چھوٹ مکمل طور پر ختم کرنا ہوگی کیونکہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (ائی ایم ایف) کے ایک اور پروگرام کے لیے مذاکرات کررہی ہے آئی ایم ایف پروگرام میں پیش رفت کو قانون سازی اور پارلیمنٹ سے کئی اقدامات کی منظوری سے بھی جوڑا جارہاہے جس میں توانائی، پینشن، سرکاری کاروباری اداروں میں اصلاحات ، بجلی گیس کے نرخ، پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن ٹیکس کے نفاذ اور ٹیکس سے متعلق اصلاحات شامل ہیں.وفاقی حکومت نے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کم کرنے کے اپنے منصوبے سے اور حکومت عملی سے عالمی مالیاتی ادارے کو آگاہ کیا ہے اس وقت صرف توانائی سیکٹر میں خسارہ 2400 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں اس میں 325 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو آئی ایم ایف کے مطالبے پر پاکستان کے بجٹ خسارے اور آمدن بڑھانے کے لیے ٹیکس میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات کرنا ہوں گے ان اقدامات کے نتیجے میں کئی ٹیکسز میں اضافہ اور بعض نئے ٹیکس لگنے کا بھی امکان ہے.بجٹ امور پر نظر رکھنے والے ماہر معیشت عبدالعظیم نے ”وائس آف امریکا“سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آٹو سیکٹر میں ایڈوانس ٹیکس کے نفاذ کی تجویز سامنے آئی ہے جس کے تحت گاڑی کی مالیت پر 10 فیصد نیا ٹیکس عائد کیا جارہا ہے اسی طرح 2 ہزار سی سی سے زائد کی گاڑیوں پر پہلے سے موجود سالانہ ایڈوانس ٹیکس فائلرز کے لیے پانچ لاکھ روپے کیا جارہا ہے جب کہ نان فائلرز کے لیے یہ ٹیکس 24 فیصد مقرر کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے.انہوں نے کہا کہ اس عمل سے حکومتی ریونیو میں تو اضافہ ہوگا مگر اس سے ملک میں گاڑیوں کی فروخت مزید کم ہو جائے گی ماہر معاشیات منور رضا کا کہنا ہے کہ کریڈٹ کارڈز پر بیرونی ادائیگیوں پر نان فائلرز کے لئے 20 فی صد ٹیکس عائد کیا جارہا ہے جو کہ اچھی تجویز ہے اور اس سے نان فائلرز کی بیرونی اخراجات کی حوصلہ شکنی ہو گی دوسری جانب کریڈٹ کارڈز سے بیرونی ادائیگیاں کرنے والے فائلرز کے لیے ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے منور رضا کے خیال میں ایسا کرنے سے زرمبادلہ کے آﺅٹ فلو میں اضافہ ہوسکتا ہے اس لیے ان کے خیال میں ملکی معیشت کو درپیش موجودہ حالات میں زیادہ مناسب نہیں ملک سے باہر بزنس کلاس میں سفر کرنے والوں کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے بجائے اب فکس ٹیکس دینا ہوگا جو روٹس کی مناسبت سے طے کیا جائے گا اس پر کم سے کم ٹیکس 75 ہزار روپے سے اڑھائی لاکھ روپے تک رکھنے کی تجویز ہے ماہرین اس ٹیکس کو مثبت قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کررہے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ بزنس کلاس میں سفر کرنے والوں کے لیے یہ ٹیکس دینا کوئی مشکل نہیں ہوگا اور اس کے نفاذ سے غیر ملکی زرِمبادلہ کی بچت ہوگی.بینکوں سے کیش نکالنے پر نان فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جارہا ہے اور اب اس کے لئے نئی شرح اعشاریہ نو فیصد مقرر کی جارہی ہے جو پہلے اعشاریہ چھ فی صد تھی ماہرین کے مطابق اس سے نہ صرف حکومت کے محصولات میں اضافہ ہو گا وہیں نان فائلرز کو فائلرز بننے کی ترغیب ملے گی اور کیش پر کاروبار کی حوصلہ شکنی ہوگی وفاقی حکومت نے زرعی آمدنی، نان کارپوریٹ کاروبار، سروس پروائڈرز بلڈرز اور کنسٹرکشن فرمزپر بھی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ماہرین معیشت اسے اچھا اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کرتے ہیں.ایک اور تجویز کے تحت بجلی کے دو لاکھ سے زائد والے بلز پر نان فائلرز صارفین کے لیے ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح 20 فیصد تک کی جارہی ہے عبدالعظیم کے خیال میں اس عمل سے بھی فائلر بننے کی حوصلہ افزائی ہوگی اور حکومت کے محصولات بھی بڑھیں گے دوسری جانب حکومت نے بجلی اور گیس کے ایسے نان فائلرز صارفین پر بھی ٹیکس کی شرح 30 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کمرشل اور انڈسٹریل کنکشنز رکھتے ہیں.ماہرین کے خیال میں ایسا کرنے سے حکومت کے محصولات میں اضافہ تو ممکن ہے لیکن صنعتوں کی پیداوارای لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کے منافع میں کمی ہوگی جس کے باعث ملک کی معاشی ترقی میں بھی رکاوٹیں آئیں گی بجٹ کے لیے سیلز ٹیکس کے ساتھ ایکسٹرا سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے شادی ہالز کا بل دو لاکھ روپے سے زائد ہونے کی صورت میں 25 فیصد میرج ہالز ٹیکس بھی لینے کی تجویز بھی زیرغور ہے ماہرین معیشت کے خیال میں اس عمل سے حکومتی ریونیوز میں تو خاطر خواہ اضافہ ہوگا لیکن اس سے مہنگائی بھی بڑے گی اور یوں معاشی ترقی کی رفتار جو پہلے ہی سست ہے مزید کم ہونے کا خدشہ پیدا ہوگا.ملک میں پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی کے ساتھ اب حکومت نے ایک بارپھر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لاگو کرنے پر غور کیا جارہا ہے ماہرین کے خیال میں اس عمل سے جہاں مہنگائی بڑھے گی وہیں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں بھی خاطر خواہ کمی ہوسکتی ہے حکومت نے اپنی آمدن بڑھانے کے لیے اس بار ادویات پر بھی 10 سے 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی تیاری کررہی ہے.ماہرین کے مطابق یقینا اس کے منفی اثرات کے تحت ملک میں دوائیں مزید مہنگی ہوجائیں گی تاہم کئی ماہرین اس امکان کا بھی اظہار کررہے ہیں کہ عوامی ردعمل کی بنا پر یہ تجویز واپس بھی لی جاسکتی ہے. رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے حکومت کئی تجاویز پر سوچ بچار کررہی ہے ایک تجوزیز کے مطابق زرعی زمین اور پراپرٹی پر اعشاریہ پانچ فی صد ود ہولڈنگ ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور شہری علاقوں میں 450 گز سے زائد کی پراپرٹی فروخت کرنے پر نان فائلرز کو ساڑھے 10 فی صد ٹیکس ادا کرنا ہوگا تاہم سریے کی فروخت پر عائد ٹیکس چار فیصد ٹیکس ختم کیا جارہا ہے ماہر معاشیات سلمان نقوی کا کہنا ہے کہ ٹیکس تجاویز سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئی ایم کی شرائط پوری کرنے کے لیے حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ اپنے محصولات بڑھائے اور قرضوں پر انحصار کم کرے لیکن اس کے لیے حکومت کا انحصار ایک بار پھر براہ راست ٹیکس کے بجائے بالواسطہ ٹیکس پر زیادہ نظر آتا ہے.ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے لوگ اپنا ٹیکس کسی مجبوری یا خوف کے بجائے خوشی سے دیں‘ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے لوگوں کو سہولتیں ملیں لیکن دوسری جانب امیروں پر ٹیکس کے لیے سخت اقدامات کرنا اب ناگزیر ہوچکا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے معاشی اہداف پورا کرنا چاہتی ہے تو زرعی آمدن، تجارت، کاروبار، رئیل اسٹیٹ، ڈیری فارمنگ، اور دیگر شعبوں سے وابستہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا اور ان شعبوں کی آمدن کے حساب سے ٹیکس اکٹھا کرنا ہوگا.