All posts by admin

عدلیہ کی کچھ کالی بھیڑیں عمران خان کو ریلیف دینے پر تلی ھوی ھے وزیر اعطم کیا کابینہ میں نے چہرے لاے جا رھے ھے شھباز شریف کی کابینہ کو تبدیل کیا جا رہا ہے تفصیلات کے لئے کلک کرے

وزیر اعظم شہباز شریف کی ججز کو کالی بھیڑیں کہنا یقینا توہین عدالت نہیں ہے اور نہ ہی ایف آئی اے اس پہ نوٹس کرے گی اور نہ ہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس پہ کوئی ازخود نوٹس لیں گےکیا سٹیبلشمنٹ نے اپنے A ٹیم اب میدان میں اتار دی ہے فیصل واڈا ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، مصطفی کمال ، اعظم تارڑ اناکام رانا ثناءاللہ سردار یوسف خورشید شاہ نوید قمر شیری رحمان شازیہ مری مخدوم احمد ان۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے بشری بی بی اور نجم الثاقب کی آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل منظور اقبال دوگل کو مخاطب کر کے کہا آپ کے مطابق کسی کو فون ٹیپنگ کی اجازت نہیں دی گئی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے بشری بی بی اور نجم الثاقب کی آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل منظور اقبال دوگل کو مخاطب کر کے کہا آپ کے مطابق کسی کو فون ٹیپنگ کی اجازت نہیں دی گئی، اگر آپ اب اس موقف سے پیچھے ہٹیں گے تو اس کے نتائج ہوں گے۔ قانون کہتا ہےکہ وفاقی حکومت اجازت دے سکتی ہے مگر آپکے مطابق اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وقت طلب کیا تو جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ’آپ کو نہیں پتہ تھا کہ آج کیس لگا ہوا ہے؟ ایک سال سے یہ پٹیشنز زیر سماعت ہیں، اگر وفاقی حکومت عدالت میں جھوٹ بولے گی تو بات کیسے آگے بڑھے گی؟ وزیراعظم آفس سمیت دیگر اداروں کی جانب سے رپورٹس جمع کرائی جا چکی ہیں، رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کسی کو لیگل انٹرسیپشن کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواباً کہا کہ ’وہ جواب پٹیشنر کی آڈیو لیکس کی حد تک تھا۔ جسٹس بابر ستار نے کہا کہ جو بھی ہے آپ بتائیں شہریوں کی کالز کس قانون کے تحت آپ ریکارڈ کر رہے ہیں؟ زبانی کلامی نہ بتائیں باضابطہ طور پر بتائیں،آپ بتائیں آپ نےکس کو اجازت دے رکھی ہے؟ کس نے اتھارٹی دی ہوئی ہے کہ شہریوں کی کالز ریکارڈ کی جائیں؟ جسٹس بابر ستار نے مزید کہا کہ قانون کہتا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی اور دیگر گریڈ بیس کے افسر کو نوٹیفائی کریں گے جو سرویلینس کی اجازت کے لیے درخواست دیں گے۔ اگلا مرحلہ حکومتی وزیر کی جانب سے سپورٹنگ مٹیریل دیکھ کر سرویلنس کی اجازت دینا ہے جس کی حتمی منظوری عدالت دیتی ہے۔ اس قانون میں بھی پرائیویسی کو مدنظر رکھا گیا ہے، یہ بتائیں کہ اگر سرویلنس کی اجازت دی گئی تو وہ اجازت کہاں ہے؟ دوران سماعت عدالت نے سوالات اٹھائے کہ کیا کبھی کسی خفیہ ریکارڈنگ کے لیے اِس قانون کےتحت آج تک عدالت سے اجازت مانگی گئی؟ قانون کےتحت ہر چھ ماہ بعد کسی کی ایسی خفیہ ریکارڈنگ کےاجازت نامے پر نظر ثانی کی جائے گی، کیا کوئی ایسی نظر ثانی کمیٹی آج تک بنی؟ عدالتی اجازت کے بغیر فون ریکارڈنگ اور فون ریکارڈنگ کی فراہمی بھی قابلِ سزا ہے۔ کیا پی ٹی اے کے لائسنس کی شرائط میں یہ چیزیں شامل ہیں یاپی ٹی اے نے اس حوالے سےکوئی پالیسی دی ہے؟ اس قانون کو پچھلے ایک سال میں فالو کیا گیا ہے یا نہیں؟ بتائیں کہ غیر قانونی ٹیلی فون ریکارڈنگ پر کیا ایکشن لیا گیا؟ آپ نے کیا تحقیقات کیں کہ سوشل میڈیا پر آڈیو لیکس کیسے وائرل ہوئیں؟ جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیئے کہ سوشل میڈیا پر کوئی چیز اپلوڈ ہو تو آئی پی ایڈریس سے ٹریک ہو سکتی ہے، ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں کو کہا کہ ٹریک کر کے بتائیں تو انہوں نے کہا کہ ان کے پاس یہ صلاحیت نہیں، پھر تو یہ اداروں کی ناکامی ہوئی۔ ایف آئی اور اور پولیس کا کیا کام ہے؟ اس معاملے میں ابھی تک ایف آئی آرز درج کیوں نہیں کی گئیں؟ ایک ملک میں اگر کرائم ہوا ہے تو آپ انتظار کریں گے کہ کوئی آ کر شکائت کرے تو تحقیقات کریں؟ ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو خط لکھا ہے اور جواب کا انتظار ہے۔ اس پر جسٹس بابر ستار نے کہا کہ اگر جواب مزید دس سال نہیں آئے گا تو آپ کیا کریں گے؟ ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم نے جواب دیا کہ ’اس معاملے کی انکوائری چل رہی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو وفاقی حکومت سے ہدایات لینے اور عدالتی سوالوں کے جواب جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نےوفاق سے خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی گفتگو کے اعدادوشمار کا ریکارڈر بھی طلب کر لیے اورکہا کہ آپ اس متعلق بھی جواب دیں کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کس قانون کے تحت کیں؟

وفاقی حکومت نے کشمیری شاعر احمد فرہاد کی گرفتاری ظاہر کردی ہے۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کردیا ہے

وفاقی حکومت نے کشمیری شاعر احمد فرہاد کی گرفتاری ظاہر کردی ہے۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کردیا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کسی کی ایجنسیوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے، ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ قانون کے مطابق کام کریں۔ چند لوگوں کی غلط روش کانقصان پورے ادارے کو ہوتا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مغوی کشمیری شاعر احمد فرہاد کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے عدالت کو بتایا کہ احمد فرہاد گرفتار اور پولیس کسٹڈی میں ہے۔ تھانہ دھیر کوٹ کشمیر کی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی گئی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کوہالہ پل کے بعد گرفتار کرکے دائرہ اختیار وہاں کا بنایا گیا ہے۔ کسی کی ایجنسیوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے، ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ قانون کے مطابق کام کریں۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہمارے بچے، شہری اور سیکورٹی اہلکار شہید ہو رہے ہیں۔ چودہ چودہ سال کے بچے بم باندھ کر پھٹ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کو بھی اپنا رول ادا کرنا چاہیے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہم سمجھتےہیں کہ ادارے قانون کے تحت کام کرنے کی عادت ڈالیں گے۔ عدالت کو کسی انڈر کور ایجنٹ کا کور بریک کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہر آفس کا ایک ورکنگ اور پراسیس ہوتا ہے۔ اگر انٹیلیجنس ایجنسیاں کسی کو اٹھاتی ہیں تو اس کا کیا پراسیس ہوتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت پر وائٹ فلیگ لہرانے کی بات کی، میں سمجھتا ہوں کہ اداروں کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے۔ ہم نےکچھ سوالات اٹھائے تھےجن کے جواب آنا باقی ہیں، ہم نے بنیادی حقوق کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ وزیر قانون نے کہا ہم نے بھی حلف اٹھا رکھا ہے، ہماری نیت پر بھی شک نا کیا جائے۔ آئین مقدم ہے جس میں ہر ایک کے کام متعین ہیں کہ اس نے کیا کرناہے۔ آپ پٹیشن نمٹادیں عدالتی سوالات کے جواب کسی اور کیس میں آجائیں گے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کوئی بھی شخص پاکستان آرمی کیخلاف نہیں ہے۔ چند لوگوں کی غلط روش کانقصان پورے ادارے کو ہوتا ہے۔ یہ جو دوسری سائیڈ پرکھڑے ہیں یہ بھی آرمی کے خلاف نہیں ہیں۔ سب سےزیادہ صحافیوں، پولیٹیکل ایکٹوسٹ اورسیاستدانوں نے suffer کیا۔ ہم نے پوچھا تھا کہ کس حد تک ان کیسز کی رپورٹنگ ہونی ہے۔ سینئر صحافی حامد میر نے کہا میں نے بطور عدالتی معاون اپنی تحریری گزارشات جمع کرادی ہیں۔ میڈیا کے لوگ بھی اٹھائے گئے اور قتل بھی ہوئے۔ ہم مسنگ پرسنز کی miseries کو سمجھتے ہیں۔ پیمرا کا کوڈ آف کنڈکٹ موجود ہے، پیمرا ججز کے ریمارکس رپورٹ کرنے پر پابندی نہیں لگا سکتی۔ پارلیمنٹ نےاچھا کام کیا اور بل بنایا تھا جس پر عمل ہوتا تو بہتر نتائج نکلتے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا اس بل میں ایک ہاؤس سے ترمیم کی سفارش آئی تھی، اگر ایسی صورتحال ہو تو جوائنٹ سیشن بلایا جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا میڈیا کے کردار کی وجہ سے لوگوں میں شعور آیا ہے، سوشل میڈیا پر بدقسمتی سے بہت کچھ چل رہا ہے، میں توسوشل میڈیانہیں دیکھتا اس لیے پرواہ نہیں،جودیکھتا ہے اسے تکلیف ہوتی ہے۔ عدالت نے درخواست گزار وکیل ایمان مزاری کو ہدایت کی کہ وہ جمعہ تک مغوی کے اہل خانہ سے رائے لے کر آگاہ کریں جس کے بعد پٹیشن نمٹا دیں گے۔

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر فیصلہ نہ سنایا جاسکا۔ خاور مانیکا کے عدم اعتماد کرنے پر سیشنز جج شاہ رخ ارجمند نے اپیلیں کسی دوسری عدالت منتقل کرنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر فیصلہ نہ سنایا جاسکا۔ خاور مانیکا کے عدم اعتماد کرنے پر سیشنز جج شاہ رخ ارجمند نے اپیلیں کسی دوسری عدالت منتقل کرنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج شاہ رخ ارجمند نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت شکایت کنندہ خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے عدالت میں جمع کروائے۔ شکایت کنندہ خاور مانیکا عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ میں عدالت کے سامنے کچھ گذارشات رکھنا چاہتا ہوں۔ جو مجھ پر گزری ہے وہ میرے وکلا نہیں بتا سکتے، میں خود بولوں گا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے پہلے وکیل کو دلائل مکمل کرنے دیں پھر آپ کو موقع دیتے ہیں۔ بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گل نے کہا خاور مانیکا عدالت کی کارروائی کو متاثر کررہے ہیں، انھیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں۔ کمرہ عدالت میں پی ٹی آئی وکلا اور خاور مانیکا کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔ خاور مانیکا نے کہا بانی پی ٹی آئی سابق وزیر اعظم ہیں اس لیے ان سے نرمی برتی جاتی ہے، غریب آدمی کی بھی سن لیں۔ خاور مانیکا نے کہا بچوں کو یکم جنوری کے نکاح کا علم ہی نہیں ہے۔ میں نے بچوں کو کہا کہ 14 فروری کو عدت ختم ہورہی ہے اس کے بعد دیکھنا نکاح آجائے گا۔ اس کے بعد 18 فروری کو نکاح سامنے آگیا۔ پی ٹی آئی کی فوج آجاتی ہے اور مجھے گالیاں دیں جاتی رہیں، عثمان ریاض گل ایڈووکیٹ نے مجھے عدالت کے سامنے کہا کہ اٹھا کر باہر پھینک دوں گا۔ بانی پی ٹی آئی چھوٹی چھوٹی بات پر قرآن اٹھانے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ یہ میرے گھر میں کیا کرتا رہا۔ میرے پاس جہانگیر ترین کے پیغامات ہیں کہ اب سب ختم ہوچکاہے۔ میں سب پیغامات عدالت میں دکھا سکتاہوں۔ قسم کھاتاہوں بچوں کو پہلے نکاح کا معلوم نہیں تھا۔ خاور مانیکا نے کہا کہ مجھے کیا معلوم تھا بانی پی ٹی آئی نے میری اہلیہ کے ساتھ چھپ کر نکاح کیا ہوا تھا۔ مجھے دھوکا دیا گیا۔ مجھ سے غلطی ہوگئی کہ سمجھ لیا بانی پی ٹی آئی دین کے واسطے آتے ہیں۔ نکاح چھپ کر کیا تو معلوم ہوا بانی پی ٹی آئی نے اللہ کے نام پر دھوکا دیا۔ گزشتہ چار سال سے اسلامی سوسائٹی تباہ ہوگئی ہے، قدرت کی طرف سے بانی پی ٹی آئی کی پکڑ ہورہی۔ خاور مانیکا عدالت میں آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ جب بچوں کو بتایاکہ مجھے طلاق ہوگئی تو بچے بہت روئے۔ میری ماں دکھ سے وفات پا گئی۔ اللہ و رسول کے نام پر بانی پی ٹی آئی نے دھوکا دیا۔ بشریٰ بی بی کہتی میرے بچے مر گئے میرے لیے۔ خاور مانیکا نے کمرہ عدالت میں ہاتھ اٹھا کر بانی پی ٹی آئی کو بد دعائیں بھی دیں۔ خاور مانیکا نے عدالت نے استدعا کی کہ ہمارا کیس کسی اور عدالت میں ٹرانسفر کر دیں۔ جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیئے عدم اعتماد کی درخواست پہلے بھی خارج ہو چکی ہے۔ جو بتانا ہے اپنے وکیل کو بتا دیں۔ خاور مانیکا نے کہا میں آپ سے فیصلہ نہیں کروانا چاہتا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اس کی وجہ کیاہے؟ کچھ ٹھوس وجہ ہے تو بتائیں۔ خاور مانیکا نے کاہ بانی پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر لوگوں کے ذہنوں سے کھیل رہے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے ہر انسان تو سوشل میڈیا نہیں دیکھتا۔ کسی نہ کسی جج نے تو فیصلہ کرنا ہے نا۔ رضوان عباسی سے مشاورت کرکے بتا دیں آپ چاہتےکیا ہیں۔ وکیل عثمان گل نے کہا خاورمانیکا نے جزباتی بیانات دیے، قانونی دلائل نہیں دیے۔ خاور مانیکا نے عثمان گل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کرے تمہارے گھر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو۔ خاور مانیکا نے بیرسٹر گوہر علی کو کہا تم لوگ جانتے بھی نہیں بانی پی ٹی آئی کو، اللہ کا خوف کھاو۔ وکیل نعیم پنجوتھا نے موقف اپنایا خاورمانیکا کو پلانٹ کرکے لایاگیاہے، عدالت سمجھتی ہے خاورمانیکا کیا چاہتاہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے بار بار عدم اعتماد کیا جارہا ہے۔ وکیل گوہر علی خان نے کہا بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں، دلائل مکمل ہو چکے ہیں، عدالت فیصلہ سنائے۔ وکیل عثمان گل نے کہا عدالت پر مکمل اعتماد ہے، جو فیصلہ ہوگا منظور ہوگا۔ جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیئے اب جو فیصلہ ہوگا متنازع ہوگا۔ کمرہ عدالت میں پی ٹی آئی کارکنان کی طرف سے شیم شیم کے نعرے بھی لگائے گئے۔ جج شاہ رخ ارجمند اپنے چیمبر میں چلے گئے۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج شاہ رخ ارجمند نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلیں کسی دوسری عدالت کو منتقل کرنے کیلئے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا۔ خط میں کہا گیا کہ خاور مانیکا کی جانب سے کھلی عدالت میں عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا، پہلے بھی عدالت پر عدم اعتماد کی درخواست مسترد کی جا چکی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں اپیلیں کسی دوسری عدالت کو منتقل کردی جائیں۔ خط میں مزید کہا گیا کہ شکایت کنندہ اور ان کے وکیل کی جانب سے اپیلوں میں تاخیری حربے استعمال کیے جاتے رہے، لہذا اپیلوں پر فیصلے کیلئے عدالتی ٹائم فریم مقرر کیا جائے۔

ملک ریاض کے فرنٹ مین سوشل میڈیا اور جند اینکرز اور جند ٹی وی چینل کے مالکان کو ملا کر ایک مذموم مقاصد کے لیے اشتھاری مھمم چلانے والے اشتھاری ایجنسی کے مالک کو گرفتار کرنے کا فیصلہ 5 اھم بیوروکریسی کے افسران بھی شامل تفصیلات کے لئے بادبان ٹی وی

پی ایم ڈی سی اوز مافیا کا گٹھ جوڑ۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے بیرون ملک میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند افراد پر این او سی کی شرط نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 2024 سیشن کے لیے طلبہ کو پی ایم ڈی سی سے این او سی لینا ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہر سال پاکستان سے 3 ہزار طلبہ میڈیکل کی تعلیم کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں جن میں 30 فیصد خواتین ہیں۔ حکام کے مطابق ایسے طالب علموں کی پاکستان میں کوئی کھپت نہیں، سب سے زیادہ پاکستانی طلبہ میڈیکل کی تعلیم کے لیے چین جاتے ہیں، وسط ایشیائی ریاستیں اور افغانستان طلبہ کے لیے دوسرے اور تیسرے نمبر پر پسندیدہ ملک ہیں۔ حکام کے مطابق پاکستانی طلبہ کو غیر معیاری بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے بچانے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ملک ریاض کا 50 لاکھ ارب روپے کا فراڈ نیب نے تمام ریکارڈ قبضہ میں لے لیا 6 بڑے گرفتار بادبان ٹی وی الرٹ

نیب کا بحریہ ٹاون راولپنڈی کے دفتر پر چھاپہ۔ تفصیلات کے مطابق نیب کی جانب سے راولپنڈی میں واقعہ نجی ہاوسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاون کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا ہے۔ بحریہ ٹاون فیز 2 میں واقعہ دفتر پر چھاپے کے دوران پولیس نے بھی نیب کی معاونت کی۔ نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کا ریکارڈ حاصل کرنے کیلئے چھاپہ مارا گیا۔چھاپے کے دوران عملے سے پوچھ گچھ بھی کی گئی۔ نیب کی ٹیم نے ملک ریاض کے دفتر کی بھی تلاشی لی جس کے بعد بحریہ ٹاون راولپنڈی کا دفتر سیل کر دیا گیا۔