All posts by admin

یاسمین راشید تیری جرات کو سلام! ٹوٹ رہی تو یہ حالت کر دی، 1 سال سے یہ 74 سالہ پیشے سے ایسی ڈاکٹر جس نے زمانہ طالب علمی سے لیکر آج تک صرف پاکستانی عوام کی خدمت کی تھیلیسیمیا کے بچوں کی خدمت سے لیکر وبا میں پاکستانی قوم کی حفاظتی تدابیر

یاسمین راشید تیری جرات کو سلام!❤️❤️ٹوٹ رہی تو یہ حالت کر دی، 1 سال سے یہ 74 سالہ پیشے سے ایسی ڈاکٹر جس نے زمانہ طالب علمی سے لیکر آج تک صرف پاکستانی عوام کی خدمت کی تھیلیسیمیا کے بچوں کی خدمت سے لیکر وبا میں پاکستانی قوم کی حفاظتی تدابیر، کینسر جیسے مرض سے لڑی اور پھر ایک جھوٹے کیس میں جیل میں بند کیا گرمی حبس کی شدت سے سانس اکھڑنے لگا گندا پانی پینے سے معدہ متاثر ہوا وہ کہتی رہیں کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں طبعیت بگڑ رہی ہے مگر نہیں سنی اور آج صبح فجر کے وقت جب وہ بیہوش ہو گئیں تو چپکے سے ایمبولینس میں ڈال کر سروسز اسپتال لا کر ڈوکٹروں پر چھوڑ دیا کہ اسکو ہوش میں لاؤ تاکہ ظلم جاری رکھا جائے…. یہ ہے اس ملک کا گھٹیا نظام اور اسکا اصل مرض جسکی دوا یوں تو اس قوم کے پاس ہے مگر وہ گھاس پھوس سے ہی علاج کر رہے ہیں….

ہیلی کاپٹر کے حادثے کے نتیجے میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے ہمراہ اعلیٰ حکام کی ہلاکت کے باعث دارالحکومت تہران میں سوگ کی تقریب منعقد کی گئی۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی ،وزیر خارجہ حسین عبداللہیان اور دیگر جاں بحق افراد کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

یلی کاپٹر کے حادثے کے نتیجے میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے ہمراہ اعلیٰ حکام کی ہلاکت کے باعث دارالحکومت تہران میں سوگ کی تقریب منعقد کی گئی۔دارالحکومت کے ولی اثر چوک میں منعقدہ تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جنہوں نے پوسٹرز اٹھا ار کھے تھے نے صدر مملکت اور ان کے ساتھیوں کے لیے دعائیں کیں۔تقریب میں لوگوں نے ماتم کرنے کے علاوہ فاتحہ خوانی بھی کی۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی ،وزیر خارجہ حسین عبداللہیان اور دیگر جاں بحق افراد کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ، نماز جنازہ کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے والے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی نماز جنازہ دارالحکومت تہران میں ادا کی گئی۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور دیگر کی نماز جنازہ پڑھائی۔ مرحومین کے جسد خاکی کو طیارے کے ذریعے تبریز سے تہران پہنچایا گیا۔مرحوم صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین عبداللہیان اور حادثے میں جاں بحق ہونے والے دیگر افراد کی نماز جنازہ میں کئی ممالک سے آنے والی شخصیات، فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ سمیت ہزاروں افراد شریک تھے۔ابراہیم رئیسی کی تدفین آج ( جمعرات کو) آبائی شہر مشہد میں روضہ امام علی رضا علیہ اسلام کے احاطے میں کی جائیگی۔

مولانا فضل الرھمان پرانی بوتل نئی شراب نواز لیگ کا بیڑہ غرق کر کے تحریک انصاف کا بیڑہ غرق کرنے کے لیے تیار تفصیلات بادبان ٹی وی پر

جمعیت علما اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حال ہی میں نہ صرف جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملہ ہوا بلکہ اس کا اعتراف کرتے ہوئے غلطی کو تسلیم بھی کیا گیا ہے کئی لوگ شہید ہوئے ،انگوراڈا ، غلام خان ،جمرود دیگر سرحدی علاقوں میں قبائل نکل آئے ہیں،پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ تعلقات بہتری کی طرف جارہے ہیں ملک میں پارلیمینٹ کی اہمیت ختم اور جمہورت اپنا مقدمہ ہارچکی ہے.ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کی شب اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کے بعد ان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر اسدقیصر نے واضح کیا کہ کسی حکومت کو گرانے یا کسی کو لانے کے لئے یہ تحریک نہی چلی بلکہ آئین کی حکمرانی کے لئے متحد ہورہے ہیں سینیٹ میں ججز کے خلاف ہونے والی بحث کی مذمت کرتا ہوں پارلیمان میں متحد ہوکراس قسم کی صورتحال کا مقابلہ کریں گے۔ اپوزیشن لیڈر عمرایوب خان نے کہا امریکی سفیر سے ملاقات میں واضح کردیا تھا کہ پاکستان میں کسی بھی ملک کی مداخلت قابل قبول نہیں ہے ۔ اپوزیشن کے مشاورتی اجلاس میں بی این پی مینگل پختونخواملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی ۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا وفد نے خیرسگالی کی ملاقات کی اپوزیشن رابطے میں ہے،ملکی مسائل پر مشترکہ موقف کے ساتھ آگے بڑھنے کے لئے آپس کے سیاسی ماحول کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔رابطے بڑھتے رہتے ہیں،تعلقات بہتری کی طرف جارہے ہیں تلخی کو کرنا وقت کی ضرورت ہے ، اپنی سابقہ ترجیحات کو مشترکات کے پیش نظر معطل اور موجودہ ترجیحات کو اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ملک کی تازہ صورتحال پر ات چیت ہوئی بدامنی ہے ،دس پندرہ سالوں سے اپریشن جاری ہیں دہشت گردی دگنی نہیں بلکہ دسویں گنا بڑھ چکی ہے عام آدمی کو امن فراہم نہیں کیا جاسکاہے ،حال ہی میں جنوبی وزیرستان ایجنسی میں ڈرون حملے میں کئی لوگ شہید ہوگئے اس کا اعتراف بھی کیا گیا اور غلطی کو تسلیم بھی کیا گیا ہے چمن میں نئی نئی پابندیاں لگائی جارہی ہیں ،انگوراڈا ، غلام خان، جمرود میں قبائل نکل آئے ہیں ، ظاہر اندھا دھند اپریشن خطرات کی طرف لے کر جاتا ہے، لوگ خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ رابطے جاری رہیں گے مزید بات چیت ہوگئی پارلیمان میں متحد ہوکر مسائل پر بات کرنی ہے۔مذکرات کی کسی پیش کش سے آگاہ نہیں ہو ں ۔کس پر اعتمادکریں ،کیا ان کی ایک زبان ہے صدر وزیراعظم آرمی چیف کون بات کرنا چاہتا ہے ابھی تو یہ بھی معلوم نہیں ہے اور کون بات کرے گا کس سے بات کرے گا پاسداری کون کرے گا 2018اور 2024کے انتخابات میں کوئی فرق نہیں دونوں دھاندلی زدہ ہیں،ملک میں آئین کی کوئی حثیت باقی نہیں رہ گئی پارلیمینٹ کی اہمیت ختم ہوچکی ہے جمہوریت اپنا مقدمہ ہار چکی ہے دہشت گردی آپریشنوں کا سامنا ہے ۔ رؤف حسن پر حملے کی مزمت کرتا ہوں پی ٹی آئی کی طرف سے ہمیں منانے کا سلسلہ جاری ہے اختلافی رویوں کا وقت نہیں ہے،وہ ترجیحات ہم نے معطل کردی ہیں

مشاہد حسین کو ڈکٹیشن لینا ھو گی 1993 میں غلام اسحاق کے خلاف ڈکٹیشن نہ لینے کی تقریر کروانے والا مشاہد ظاھری طور پر ایران کے لئے نرم رویہ رکھتا ہے پیسے ڈالروں کی صورت میں چین سے لیتا ہے ایجینٹی امریکہ کی کرتا ہے 1993 میں بھی نواز شریف سے ڈکٹیشن والی تقریر کروا کر امریکہ کے ایجنڈے کو تقویت دی اج کشمیر کو بیچنے والی بات کر کے فوج کے خلاف زھر اگلا اور امریکہ کی ایجینٹی کی تفصیلات کے لئے سھیل رانا لاءیو بادبان نیوز پر

سعودی عرب سے پاکستانی نرسوں کو ڈی پورٹ کرنے کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ایف آئی اے نے جعلسازی میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

سعودی عرب سے پاکستانی نرسوں کو ڈی پورٹ کرنے کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ایف آئی اے نے جعلسازی میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرلیا۔وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 8 کروڑ کے فراڈ میں ملوث 2 ملزمان کو راولپنڈی سے گرفتار کرلیا، گرفتار افراد میں نجی پروموٹر کمپنی کا مالک غلام فرید اور بروکر ذوالفقار علی شامل ہیں۔ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے مقدمہ درج کرکے دیگر ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔مقدمہ کے متن کے مطابق ملزمان نے سعودی عرب سے 108 نرسیں بھجوانے کا کنٹریکٹ حاصل کیا تھا جس کا خرچہ سعودی کمپنی نے ادا کیا لیکن ملزمان نے ہرنرس سے 4،4 لاکھ روپے بھی وصول کیے۔بعد ازاں، سعودی سسٹم میں اندراج کے دوران بھی ہیراپھیری کی گئی اور ایک ہی بار کوڈ پر 92 نرسیں بھجوائیں گئیں جس کے بعد سعودی حکومت نے جعل سازی پر تمام نرسوں کو بلیک لسٹ کرکے وطن واپس بھجوایا۔واضح رہے کہ حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران معاملہ وزیراعظم شہبازشریف کے بھی علم لایا گیا۔

حکومتی قرض ریکارڈ 87 ہزار ارب روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے، عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے نئے مالی سال کے دوران حکومتی قرضوں میں 10 ہزار 433 ارب روپے اضافےکا تخمینہ لگایا ہے

حکومتی قرض ریکارڈ 87 ہزار ارب روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے، عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے نئے مالی سال کے دوران حکومتی قرضوں میں 10 ہزار 433 ارب روپے اضافےکا تخمینہ لگایا ہے۔ آئی ایم ایف نے تخمینہ لگایا ہے کہ حکومتی قرض آئندہ مالی سال کے دوران بڑھ کر ریکارڈ 87 ہزار 346 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق آئندہ مالی سال حکومت کےمقامی قرض میں7 ہزار636 ارب روپے اضافے کا تخمینہ ہے، جبکہ غیر ملکی قرض میں 2 ہزار797 ارب روپے بڑھ سکتا ہے ۔آئی ایم ایف نے بتایا کہ آئندہ مالی سال پاکستان کامقامی قرضہ بڑھ کر 53 ہزار 878 ارب روپے ہوجائےگا، جبکہ غیر ملکی قرضہ بڑھ کر 33 ہزار 648 ارب روپے پرپہنچ جائے گا۔عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق رواں مالی سال حکومت کے قرضے 76 ہزار913 ارب روپے پرپہنچنے کا امکان ہے، مالی سال کے اختتام تک حکومت کا مقامی قرضہ 46 ہزار 242 ارب روپے رہنےکا تخمینہ ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق حکومت کاغیر ملکی قرضہ مالی سال کے اختتام تک 30 ہزار 671 ارب روپے رہنےکا امکان ہے۔

سینٹ مچھلی منڈی سپریم کورٹ اور ھای۔ کورٹ کے ججز واوڈا کے نشانے پر شیری رحمان مکمل طور پر ججز کی کردار کشی کرانے میں سھولت کار بن گئی

وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے عدلیہ کا معاملہ سینیٹ سیکریٹریٹ کو بھیجنے کی تجویز دے دی۔قائممقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان اور پزائیڈنگ افسر شیری رحمٰن کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا، اس دوران ؒخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب ایک قابل احترام ، متحمل مزاج جج ہیں، انہوں نے قانون کی بات کی، اس میں ان کی خدمات سب کے سامنے ہین، جو انہوں نے ماضی میں جھیلا وہ بھی ہمارے سامنے ہے ہمیں تاریخ نہیں بھولنی چاہیے، ایمل ولی نے صحیح کہا کہ جس کہانی کا آغاز 1947 میں ہوا وہ ابھی بھی جاری ہے، مجھے کوئی خوشی نہیں کہ سیاسی لوگ جیلوں میں رہیں، ہم 24 گھنٹے ایک سے دوسری عدالت میں جاتے تھے تو یہ سب باتیں چھوڑیں اور آگے کی سوچیں۔آئین کسی عدالت کو وزیر اعظم کی طلبی کا اختیار نہیں دیتا، وزیر قانوناعظم نذیر تارڑ نے کہنا تھا کہ سیاست میں خدمت بھی شامل ہے، ہمیں ایک دوسرے سے گفت و شنید ہونا چاہیے، کیا ہمیشہ سیاستدان ہی ہمیشہ سزائیں بھگتیں گے کہ کبھی کسی وزیر اعظم کو لٹکا دیں تو کسی کو گھر بھیج دیں۔انہوں نے بتایا کہ تنقید ہم پر بھی ہوتی ہے لیکن جو ادارے کام کر رہے ہیں وہ بھی دائرہ اختیار میں رہ کر کام کریں، کل مین نے پریس کانفرنس کی اور میں اپنی بات پر کھڑا ہوں، آئین پاکستان کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں دیات کہ وہ غصے میں جو دل میں آئے وہ کہہ دے، وہ کہے کہ ابھی یہ کام ایسے نا ہوا تو وزیر اعظم یا کابینہ کو یہاں بٹھا دوں، یہ منتخب نمائندے ہیں، آئین کسی عدالت کو وزیر اعظم کی طلبی کا اختیار نہیں دیتا، یہ کیا طریقہ ہے عدالت کرنے کا، آپ فیسلوں کے ذریعے جو کرنا چاہتے ہیں کریں یہ شرط تو نہیں کہ سامنے ساری کابینہ یا وزیر اعظم کو سب کام چھروا کے وہاں پہ بٹھا دیں، یہ ادارے عوام کی طاقت کے ذریعے بنتے ہیں، پارلیمان سپریم ادارہ ہے، عوام نے اسمبلی منتخب کی اور ایوان بنایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے حقوق کی حفاظت کرنی ہے، کسی شخص کے بارے میں کہنا کہ وہ فلاں کا ایجنٹ ہے تو وہ غلط ہے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے کہا کہ مجھے عدالت سے معافی نہیں ملی لیکن جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن مل گئی۔ان کا کہنا تھا کہ میں یہاں تقریر نہیں آپ بیتی سنانا چاہتا ہوں کہ کیسے پاکستان میں سلیکٹو توہین عدالت کے کیسز لگتے ہیں، مساوات کا کوئی قانون نہیں اور کیسے خاص لوگوں کو اس کا نشانہ بنایا جاتا ہے، پانامہ کے دوران میں کیس دیکھنے جاتا تھا اور باہر آکر میڈیا کو بتاتا تھا ، اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے، مجھے بھی توہین عدالت کا نشانہ بنایا یا کیونکہ میں اس وقت ایک نظریے پر کھڑا ہوا تھا، میرے خلاف نوٹس اس بات پر لیا گیا کہ میں نے جلسے میں کہا تھا کہ پی سی او کے ججز کو نکالو، اس نوٹس پر کوئی بھی میرا وکیل بننے کو تیار نہیں تھا کیونکہ وہ کہتے تھے کہ ہم عدالت کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتے۔ان کا کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر نے میرا کیس لیکن ان کا انتقال ہوگیا، پھر کامران مرتضی نے میرا کیس لیا، میرے جیسے کے لیے کوئی معافی نہیں تھی، پوری دنیا میں توہین عدالت کا قانون ختم ہوچکا لیکن آج بھی ہم انسیویں صدی کے ہتھکنڈے اس لیے استعمال کرستے ہین تاکہ کوئی بول نا سکے۔طلال چوہدری نے کہا کہ فیصل واڈا کے ساتھ میں بات نہیں کرتا کیونکہ میرا ان سے شدید اختلاف ہے لیکن میں سیاسی کارکن کے طور پر بزدل نہیں، پارلیمان مدر آف انسٹی ٹیوشن ہے لیکن ہمیشہ ہم نے تحمل سے کام لیا، ملک میں لگتا ہے کہ جیسے ادارے آمنے سامنے ہیں، درگزر کا اصول عدالت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، ایسے نوٹس سے عدالت کے وقار میں اضافہ نہیں ہوگا، میری گزارش ہے کہ اس صورتحال میں عدالت اپنے فیصلوں سے وقار بلند کرے، اگر سسلین مافیا، پراکسی جیسے الفاط کہیں تو اسے کون برداشت کرے گا؟ان کا کہنا تھا کہ جب نواز شریف کا کیس چل رہا تھا تو ثاقب نثار نے مجھے پیغام بھجوایا کہ نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف بیان دو گے تو پارلیمنٹ جاؤ گے ورنا جیل جاؤگے، ایک اور بات یہ ہوئی کہ میری رییو پٹیشن لگی تھی اسی دن جنرل باجوہ کے ایکسٹینشن کا کیس بھی لگا ہوا تھا تو میرے جیسے سیاسی کارکن کو معافی نہیں ملی مگر عدالت سے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن مل گئی، کیا عدالت کا وقار توہین عدالت دینے سے بلند ہوگا، ہم لڑنا نہیں چاہتے، ہم نے آپ کی عزت پر ھرف نہیں آنے دیا لیکن اس کام کو روکیں ابھی، بس۔انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا کہ:میں چپ رہا تو مار دے گا مجھے میرا ضمیر،گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گاقبل ازیں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ آئین صرف ججز کی نہیں بلکہ عوامی نمائندوں کی عزت کے حوالے سے بھی بات کرتا ہے، ہماری انفرادی اور مشترکہ عزتیں اچھالنے کا حق کسی کو نہیں ہونا چاہیے، پاکستان میں سلیکٹو (selective) انصاف تو دیکھا ہے مگر توہین میں بھی ججز صاحبان سلیکٹو رہتے ہیں، اگر آپ کسی مخصوص جماعت کہ ہیں تو آپ کو کھلی چھوٹ ہے کہ کچھ بھی کہہ دیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم قانون ساز اداروں میں بیٹھے ہیں ہمارا کام ہے قانون سازی کرنا کہ توہین کے بھی قواعد و ضوابط طے ہوں، یہ نا ہو کہ آج میرا موڈ اچھا نہیں تو فلاں جو بات تھی وہ توہین عدالت ہے۔سینیٹر نے فیصل واڈا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کو جج صاحبان نے کہا کہ یہ پراکسی ہیں، حامد خان صاحب نے اپنی کتاب میں ججز کی پراکسی کا ذکر کیا تو لکھنے والے اس بات کی دلیل پیش کرتے ہیں، ہاں فیصل واڈا پراکسی ہیں اس ایوان کے عوام کے اور تب بھی ان کو پراکسی کہا جائے کسی منفی معنی میں تو اس ایوان کے نمائندوں کی عزتوں پر بھی حرف اٹھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہاں تو توہین توہین کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، لوگوں کے لاکھوں ووٹ سے منتخب ہونے والے ممبر اسمبلی اور سینیٹرز کے علاوہ سب کی عزت ہے، آئین صرف ججز کی عزت کے حوالے سے بات نہیں کرتا وہ عوامی نمائندوں کی عزت کے حوالے سے بھی بات کرتا ہے، ٹی وی پر صبح سے شام تک ریمارکس کا کھیل چلتا ہے، ہماری پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک چیف جسٹس نے کہا کہ نسلا ٹاور کو گرا دو کہ وہاں امیر لوگ نہیں رہتے، تو یہ کونسا انصاف ہے اور میں اس پر بات کروں تو کہتے ہیں کہ توہین آمیز لہجہ ہو رہا ہے، میں لوگوں کے لیے بات نہ کروں ؟ آئین سازی اور آئین میں ترمیم کا اختیار پارلیمنٹ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں، سابق چیف جسٹس نے آئین کو خود ہی دوبارہ لکھ دیا تھا آرٹیکل 62، 63 کے معاملے پر، آپ کے فیصلے سے آئین میں آپ کی مداخلت ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کیا اس پارلیمان کے ارکان کو یہ آزادی ہے کہ جو سابق چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی جج غیر شعوری طور پر نیک نیتی سے فیصلہ کردے اور بعد میں احساس ہوجائے کہ فیصلہ غلط ہے تو اسے درست کرے تو ہمیں تو یہ اختیار نہیں ہے، ان کے فیصلے سے پاکستانی تاریخ پر دھبہ لگا تھا۔انہوں نے کہا کہ کچھ دوستوں کے لیے 2018 اور 9 مئی سے پہلے پاکستان وجود میں ہی نہیں تھا، ہم تو ہنستے ہیں، سندھ اسمبلی میں ایک ممبر اسمبلی ہیں جن کو گرفتار کر کے ڈال دیا گیا تھا جیل میں لیکن ہمیں یہ آزادی نہیں تھی کہ ہمیں 50 کیسز میں ضمانتیں ملیں، ہمارا بھی دل کرتا ہے کہ ہمارے کیس کے فیصلے پشاور ہائی کورٹ میں ہوں۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ لاپتا افراد کو بازیاب ہونا چاہیے، ایم کیو ایم کے 113 لاپتا افراد کے حوالے سے کوئی عدالت نوٹس لینے کو تیار نہیں، اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری شجاعت نے کہا تھا کہ ایم کیو ایم کے 30 کارکنان کو مار کر مارگلہ میں دفنا دیا، اب لے لیجئے نا نوٹس، ہمارا کام ہے نشاندہی کرنا ، پارلیمنٹ سپریم ہے تو ہم نشاندہی کریں گے ، آپ کی عزت ہماری عزت ہے لیکن آپ کی طرف سے پسند نا پسند کی بنیاد پر انصاف ہو گا تو لوگ آپ پر سوال اٹھائیں گے۔ججز کے کنڈکٹ پر بات نہیں ہو سکتی، ذیشان خانزادہسینیٹ میں عدلیہ پر تنقید پر تحریک انصاف نے ایوان میں احتجاج کردیا، سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ ججز کے کنڈکٹ پر بات نہیں ہو سکتی، اس پر شیری رحمن نے کہا کہ اگر رکن کا استحقاق مجروع ہو تا ہے تو بات ہو سکتی ہے۔قبل ازیں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ریلوے کا 68 فیصد بجٹ ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں لگ جاتا ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ریلوے کے باقی 20 فیصد بجٹ سے ریلوے کا آپریشن چلتا ہے، پنشن ریلوے کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، کرپشن پر کارروائی کی وجہ سے گزشتہ سال ریلوے آپریشنز سے کئی برسوں سے زیادہ آمدنی ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ ریلوے نے اپنی آمدن میں اضافہ کیا ہے، خواجہ سعد رفیق نے ریلوے میں بہت محنت کی، گزشتہ سالوں کی نصبت 2023- 2022 میں ریلوے آمدن میں 251 فیصد اضافہ کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں رائل پام سمیت ریلوے کی قیمتی اراضی کی غلط ڈیل کی گئی، ہم کہتے ہیں کہ حکومتیں کاروبار نہ کریں، برٹش ریلویز نے اپنا 90 فیصد کاروبار پرائیویٹائز کیا ہوا ہے، ریلوے کے اخراجات میں کمی پر کام ہورہا ہے، ریلوے قومی ادارہ ہے، ٹرین غریب کی سواری ہے ہم سب نے اسے بہتر بنانا ہے۔ایک سوال کے جواب پر ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کے تمام اراکین تنخواہ نہیں لے رہے، وزرا بجلی اور گیس کے بلز بھی اپنی جیب سے دیتے ہیں، وفاقی وزرا نے رضاکارانہ طور پر تنخواہیں چھوڑی ہیں ، وزرا کے پاس ایک سرکاری رہائش گاہ، 300 لیٹر پیٹرول ، ایک 1800 سی سی گاڑی، ایک ڈرائیور اور ایک سیکیورٹی گارڈ ہے، زیادہ تر وزرا اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔قبل ازیں پیپلز پارٹی سینیٹر شہادت اعوان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتنے لوگ 1965 کی جنگ میں نہیں مرے جتنے ٹرین حادثات میں جاں بحق ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ سنی اتحاد کونسل کے سینیٹر ہمایوں مہمند کا کہنا تھا کہ یہاں مینڈیٹ چوری ہوجاتا ہے آپ ریلوے میں چوری کی بات کررہے ہیں، ریلوے میں خسارے کا ذمہ دار کون ہے؟جن کے لیے عیش و آرام ہے وہ کیوں ایوان میں نہیں آتے؟ زرقا سہروردیبعد ازاں سنی اتحاد کونسل کی سینیٹر زرقا سہروردی نے کہا کہ ایوان میں وزرا نہیں آتے، ایوان کو بند کر دیں، ہم وزیر داخلہ اور وزارت داخلہ کے خلاف کچھ نہیں کہتے کہ کہیں ڈالا نہ آ جائے، جن کے لیے عیش و آرام ہے وہ کیوں ایوان میں نہیں آتے؟انہوں نے دریافت کیا کہ ریلوے کی نجکاری کرنی ہے، کیا این ایل سی کی نجکاری کی گئی؟ ریلوے کا سارا بزنس این ایل سی نے لے لیا ہے۔بعد ازاں کامسیٹ یونیورسٹی میں عبوری تعیناتیوں پر سینٹر زرقا سہروردی نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کی 60 جامعات کے وائس چانسلر نہیں ہیں کامسیٹ میں قوائد کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔اس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ کہ کامسیٹ ملک کی چند اچھی یونیورسٹیز میں سے ایک ہے، کامسیٹ کے سابق ریکٹر ڈاکٹر ساجد قمر ایک ماہ کی چھٹی پر کینیڈا گئے اور وہاں سے استعفی بھیج دیا، بعد ازاں سابق صدر عارف علوی نے ان کا استعفی منظور کیا۔انہوں نے بتایا کہ ریکٹر کے عہدے کے لیے 80 لوگ شارٹ لسٹ ہوئے اور ان کے انٹرویو کا مرحلہ گزشتہ ہفتے مکمل ہو گیا، 3 افراد کا پینل اب صدر کو بھیجا جائے گا جو کامسیٹ کے ریکٹر کی تعیناتی کر دیں گے، قائم مقام ریکٹر کامسیٹ نے رولز میں کوئی تبدیلی نہیں کی، ادارے کی سینیٹ کو رولز میں تبدیلی کا اختیار ہے، کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی، وائس چانسلرز کا نہ ہونا تشویشناک ہے، پنجاب میں یونیورسٹیز کے وی سی کی تعیناتی کے لیے سرچ کمیٹیاں قائم کر دی ہیں ، اشتہار دے دیے گئے ہیں۔وزیر داخلہ ٹی وی پر نظر آتے ہیں ایوان میں نہیں، محسن عزیزبعد ازاں سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ہمارے وزیر داخلہ چلبل پانڈے کی طرح ہیں، وہ ٹی وی پر نظر آتے ہیں ایوان میں نہیں۔بعد ازاں پی آئی اے کی نجکاری اور فروخت کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس ایوان میں پیش کیا گیا، پیپلز پارٹی کی سینیٹر عینی مری نے کہا کہ پی آئی اے نے ماضی میں کئی ائیر لائنز کو کھڑا کیا، پی آئی اے میں ملازمین کی تعداد مسئلہ نہیں ہے، ملازمین کی تعداد دیگر ممالک کی ائیر لائنز سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں، پی آئی کو دانستہ طور پر تباہ کرنے کے لیے غلط انتظامی فیصلے کیے گیے۔انہوں نے دریافت کیا کہ اس وزیر پر آرٹیکل 6 کیوں نہیں لگا جنہوں نے کہہ دیا تھا کہ پی آئی اے کے پائلٹ جعلی ہیں، ہمیں نجکاری کی جلدی پڑی ہے، کوئی شفافیت نہیں ہے، حکومت پی آئی اے نجکاری کے بارے میں شفافیت کرے۔سینیٹ اجلاس کی صدارت کرنے والی سینیٹر شیری رحمٰن نے بتایا کہ پی آئی اے کے بزنس پلانز میں بتایا گیا تھا کہ ملازمین بوجھ نہیں تھے بلکہ فلیٹس اور روٹس کی کمی نقصان کا باعث بنا۔اس پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر سینیٹر پونجو نے کہا ہم اپنے قومی اداروں کو بیچتے جا رہے ہیں، باقی تمام نجی ائیرلائنز تو بالکل ٹھیک چل رہی ہیں، ائیر عربیہ کہہ رہی کہ پی آئی اے ہمیں دی جائے، کیا ہم یہ پیغام دینا چاہ رہے ہیں کہ پاکستانی نااہل ہیں؟بعد ازاں پیپلز پارٹی کے سینیٹر کاظم علی شاہ نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کو فرخت نہ کریں بلکہ اسے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ میں دے دیں، یہ تو چاہیں گے کہ پاکستان کو بیچ دیں۔استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما و وفاقی وزیر نجکاری علیم خان نے بتایا کہ بات درست ہے کہ نچلے طبقے کے ملازمین کا قصور نہیں، زیادہ بھرتیاں جس نے کی قصور تو اس کا ہے، انتظامیہ درست کام نہیں کر رہی تھی تو کس کا کام تھا کہ انہیں تبدیل کرتی؟ مختلف اداروں میں پی آئی اے کا خسارہ بڑھتا گیا، پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب ہے، ہم نے دہائیاں لگائی ہیں پی آئی اے کو تباہ کرنے میں، پی آئی اے تباہی میں سب نے اپنا حصہ ادا کیا۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کا کام بزنس کرنا نہیں ، سہولت دینا ہے، حکومت بزنس کرے تو یہی حال ہوتا ہے جو پی آئی اے کا ہے، آج ہمارے پاس جہاز نہ ہوں تو ملازمین زیادہ ہی لگتے ہیں، اس وقت صرف 18 جہاز چل رہے ہیں اور ان کے ساتھ دس ہزار ملازمین ہیں، یقین دلاتا ہوں جس دن نیلامی ہو گی یہ لائیو نشر ہو گی، نیلامی ساری قوم دیکھے گی، کسی کمپنی پر آپ کو لگتا ہے کہ قابل نہیں ہے تو آپ ہمیں کہیں، ابھی پری بڈنگ کا عمل چل رہا ہے ، اس کو شفاف رکھوں گا، ایک بھی چیز ایسی نہیں ہو گی جس پر شرمندہ ہوں۔بعد ازاں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان نے کہا کہ اس اجلاس کا کاغذات میں ایجنڈا تو کچھ اور ہے لیکن لگ یوں رہا ہے کہ اجلاس اس لیے بلایا گیا ہے کہ اس ایوان سے عدلیہ سے جوابی کلامی کریں، یہ معزز ایوان استعمال ہو رہا ہے، جو استعمال کر رہے ہیں ہر طرف ان کی بات تو نہیں ہوگی۔ایوان بالا میں رؤف حسن پر حملے کی رپورٹ بھی پیش کی گئی، رپورٹ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کی، انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ تہران گئے ہیں، وزیر داخلہ نے مجھے بریف کیا اور آئی جی کو ذمہ داری سونپی، رؤف حسن کے اپنے بیان کے مطابق ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور اسپیشل انویس ٹیگیشن ٹیم بنادی گئی ہے، رؤف حسن نے بتایا کہ انہیں اور ان سے ملتے جلتے لوگوں کا ایک پہلے بھی واقعہ ہوا لیکن معمولی سمجھ کر انہوں نے رپورٹ نہیں کیاان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج فرانزک اور نادرا بھیج دی ہیں، حملہ آوروں کی شناخت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، حکومت سنجیدگی سے اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، سنجیدگی سے اس مقدمے کو لیا جا رہا ہے، ایف آئی آر میں اقدام قتل کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں، عام طور پر ایسے مقدمات میں اقدام قتل کے دفعات شامل نہیں کیے جاتے، ہم اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر روف حسن پر حملہ کرنے والے خواجہ سرا ہی ہیں، کچھ چیزیں ایوان میں نہیں رکھ سکتا، حقائق سامنے رکھے تو لوگ بھاگ سکتے ہیں۔