All posts by admin

پاکستان ترقی کی اڑان بھرنے والا ہے۔۔بھارتی طیارہ تیلاب میں گر کر تباہ 4 ھلاک۔مجھے قتل کرنے کی دھمکی دی گئی دھمکی دینے والوں کو تباہ کر دیا جائے گا ۔ایمان مزاری اور چٹھہ کی ضمانت منظور۔4 وزراء کے استعفے حکومت کے لئے مشکلات۔۔4 بڑے اور اھم ترین تبادلے اونٹ کی کروٹ۔سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا دورہ چین ھید اف اسٹیٹ کا پروٹوکول۔۔عرب امارات اپنے انجام کی طرف گامزن پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کی آخری اننگز۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

—وزیراعظم۔۔۔خطابپاکستان زراعت، صنعت ،کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تیزی سے اڑان بھرنے والا ہے، حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے،سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے،وزیراعظم محمد شہباز شریفڈیووس۔21جنوری (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے برآمدات پر مبنی ترقی حاصل کرنے اور سماجی اشاریوں کو مسلسل مشترکہ کاوشوں سے بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان زراعت، صنعت ،کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تیزی سے اڑان بھرنے والا ہے، حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے،سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے،ملکی نظام میں بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں،ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام کو مکمل ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے،مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 5.5 فیصد ہو گئی ہے،پالیسی ریٹ 22.5 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گیا ہے،جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح 10.5 فیصد ہو گئی ہے،چین کے ساتھ ہمارے مضبوط معاشی روابط ہیں،اب ہم نے امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں،کانکنی اور معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے امریکی اور چینی کمپنیوں سے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں،گزشتہ چند سالوں میں آئی ٹی برآمدات میں نمایاں بہتری ہوئی ہے،نوجوان نسل کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے بہت سے پروگرام شروع کیے ہیں،پی آئی اے کی شفاف نجکاری کے بعد دیگراداروں کی نجکاری کی طرف بڑھ رہے ہیں،بے لوث قربانیوں، ان تھک محنت اور فکر و عمل کی وحدت کے ساتھ ملک کی خدمت کے لیے پرعزم رہے تو بہت جلد اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو عالمی اقتصادی فورم کے 56 ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان پویلین میں پاکستان بریک فاسٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ یہاں موجودگی واقعی بہت اعزاز اور خوشی کی بات ہے،پاکستان اب کامیابی کے احساس اور ایک مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے،ہمارے بڑے معاشی اشاریے بہت تسلی بخش ہیں،مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 5.5 فیصد ہو گئی ہے،ہمارا پالیسی ریٹ انتہائی بلند سطح 22.5 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گیا ہے،ہماری آئی ٹی برامدات تسلی بخش رفتار سے بڑھ رہی ہیں، اگرچہ ہماری مجموعی برآمدات مختلف قسم کا چیلنجز کا سامنا کرتی رہی ہیں اور یقیناً ہمارے سماجی اشاریوں کو مشترکہ کاوش سے بہتر بنانے کی ضرورت ہےتاہم آگے بڑھنے کا راستہ بالکل واضح ہے، پاکستان کو برآمدات پر مبنی ترقی حاصل کرنا ہوگی،ہم نے اپنے نظام میں بنیادی ڈھانچے جاتی تبدیلیاں لائی ہیں، ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں اور اب اسے مکمل ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے،جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح 10.5 فیصد ہے جو کہ کچھ سال پہلے نو فیصد تھی، یہ ایک اہم کامیابی ہے،گزشتہ سال ہماری زرعی برآمدات بہت تسلی بخش رہی ہیں،اب ہم کانکنی اور معدنیات کے کاروبار میں بڑے پیمانے پر داخل ہو چکے ہیں، ہم نے امریکی کمپنیوں اور چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کر رکھے ہیں، پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے لا محدود قدرتی وسائل سے نوازا ہے،یہ قدرتی وسائل اب بھی پاکستان کے شمالی پہاڑوں گلگت بلتستان ازاد کشمیر، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دفن ہیں،اب ہم نے برق رفتاری سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم کرپٹو، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبے میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، گزشتہ چند سالوں میں آئی ٹی برامدات میں نمایاں بہتری ہوئی ہے،اس ضمن میں ہم بہت سے جدید آلات لائے ہیں جنہوں نے آئی ٹی برآمدات کو آسان بنایاہے اور ہماری آئی ٹی برآمدات با ضابطہ طور پر سالانہ تین ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کی بڑی تعداد ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے ایک بڑا موقع بھی ہے ، حکومت پاکستان نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر نوجوان نسل کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے بہت سے پروگرام شروع کیے ہیں، نیوٹیک وفاقی سطح کا ایک ادارہ ہے جو ہماری نوجوان نسل کو جدید تربیت فراہم کرتا ہے، یہ تربیتی پروگرام غیر جانبدار اداروں سے باقاعدہ تصدیق شدہ ہیں اور بین الاقوامی طور پر سند یافتہ بھی ہیں، اس کے نتیجے میں ہماری نوجوان نسل خلیجی ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں میں بہترین ملازمتیں حاصل کر رہی ہے کیونکہ وہ انتہائی قابلیت کے حامل اور بہترین تربیت یافتہ ہیں اور اپنے شعبے کی بین الاقوامی کمپنیوں سے سند یافتہ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے مضبوط معاشی روابط ہیں اور اب ہم نے امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں، کانکنی اور معدنیات کے شعبے میں بڑے پیمانے پر تعاون کی امید ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے نیز آئی ٹی اور اے آئی میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ بڑے پیمانے پر تعاون کریں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں ہم زراعت، صنعت، کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی میں تیزی سے اڑان بھرنے والے ہیں، ہمارا مستقبل بہت امید افزاء ہے، مجھے اس میں کوئی شک نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان لوگوں کے لیے جو پاکستان کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں،

انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، مثال کے طور پر ابھی ہم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری کی ہے جو ایک قومی اثاثہ ہے، بدقسمتی سے گزشتہ چند دہائیوں سے اسے مسلسل خسارےکا سامنا تھا اور اب اسے پاکستان کے نجی شعبے کے ذریعے آگے بڑھایا گیا ہے، یہ نجکاری مکمل طور پر شفاف تھی اور نجکاری کے ہر پہلو کو پوری دنیا میں براہ راست دکھایا گیا، اس طرح پوری قوم نے پہلی بار اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ یہ لین دین کس قدر شفاف تھا اور اس کی شفافیت پر ذرہ برابر بھی کوئی سوال یا اعتراض سامنے نہیں آیا، میرا خیال ہے یہی ہماری پہچان ہے، اب ہم نجکاری کے دیگر اداروں میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں جن میں ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ، بجلی کے شعبے کی نجکاری، تقسیم کار کمپنیاں ،ترسیلی لائنیں وغیرہ شامل ہیں تاہم یہ بات بھی درست ہے کہ نہایت سخت آئی ایم ایف پروگرام کے نتیجے میں جس پر ہم نے مکمل اور پوری دیانتداری سے عمل کیا ہے، آئی ایم ایف اب ان دنوں خاصی احتیاط کے ساتھ پاکستان کی کامیابی کی مثال کو دیگر ممالک کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب ہمیں ترقی کی جانب بڑھنا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یوٹیلٹی سٹورز سے عام آدمی کو غیر معیاری اشیاء فراہم کی جاتی تھیں، یہ ادارہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور اس سے ہونے والا مالی نقصان ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے کیونکہ پاکستان کے غریب عوام کے اربوں روپے ضائع ہو رہے تھے، اسی طرح پاسکو کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، یہاں بھی غریب عوام کے اربوں روپے ضائع ہو رہے تھے،اسی طرح پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ(پی ڈبلیو ڈی) کو بھی ختم کر دیا گیا، اس دوران مشکلات بھی پیش آئیں، مفاد پرست عناصر کی جانب سے احتجاج کی صورت میں دباؤ بھی آیا لیکن ہم اپنے عزم پر بالکل ثابت قدم رہے کیونکہ اگر ہم یہ اقدامات نہ کرتے تو نہ اپنے ساتھ انصاف ہوتا اور نہ ہی پاکستان کے عوام کے ساتھ۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ عمل انتہائی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے

اور میرا خیال ہے کہ جب تک ہم ان مشکل مگر ناگزیر اقدامات کے ذریعے اپنی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کو نہ روکتے ہماری معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی نہیں ہو سکتی، میرا خیال ہے کہ یہ سب اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے ، یہ کامیابیاں مشترکہ محنت اور ٹیم ورک کے ذریعے حاصل ہوئی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس کا مطلب سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے، اگر ہم اپنے بڑھتے ہوئے قرضوں چاہے وہ بیرونی ہو یا اندرونی سے نکلنا ہے، اگر ہمیں بے غربت اور بے روزگاری میں کمی لانی ہے اور اگر ہمیں اپنے ملک کو ہر لمحہ خوشحال اور ترقی یافتہ بنانا ہے تو مختلف متعلقہ فریقین کے درمیان ہم آہنگی ،احساس ملکیت اور آگے بڑھنے کے واضح مقصد کا ہونا ناگزیر ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں وہ ترقی کے اعتبار سے اڑان بھرنے ہی والا ہے کیونکہ ہم 24 کروڑ آبادی والا ملک ہیں، ہمارے پاس نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے جو ایک بڑا چیلنج بھی ہے اور ایک سنہری موقع بھی ہے، ہم اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ نوجوانوں کو تمام وسائل اور مواقع مہیا کیے جائیں جو ہمارے ملک کو عظیم بنانے میں مددگار ثابت ہوں، راستے میں چیلنجز بھی آئیں گے، سفر ہموار نہیں ہوگا لیکن جب تک ہم بے لوث قربانیوں، انتھک محنت اور فکر و عمل کی وحدت کے ساتھ ملک کی خدمت کے لیے پرعزم رہیں گے، مجھے کوئی شک نہیں کہ ہم بہت جلد اپنی منزل تک

*ترکیہ نے عالمی “بورڈ آف پیس” میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی*ترک وزیر خارجہ حکان فدان ڈیووس میں *“بورڈ آف پیس”* اجلاس میں ترکیہ کی نمائندگی کریں گے عالمی امن کے لیے ترکیہ کا فعال سفارتی کردار، *حکان فدان*ڈیووس فورم میں امن و استحکام پر اہم مشاورت متوقع، ترک وزیر خارجہ

*بورڈ آف پیس – پاکستان کی تزویراتی اہمیت*پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی۔ پہلے بھی کئی ممالک نے اس پر اتفاق کیا ہے اور مزید ممالک کی شمولیت متوقع ہے۔ اس کے اہم مقاصد درجہ ذیل ہیں – 1. اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرادادوں کے مطابق غزہ کے مسئلے کا مستقل حل – 2. مستقل فائر بندی اور غزہ کی تعمیر نو- 3. غزہ میں پائیدار امن کے حصول کے بعد فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ ، ایک الگ ریاست کا قیام اور فلسطین کے مسلمانوں کی حق خودارادیت – 4. خطے میں پائیدار امن کی بحالی -*بورڈ آف پیس میں شمولیت کی تاریخی اہمیت اور ضرورت* 1. یہ قدم اہم اسلامی ممالک کی جانب سے غزہ میں رونما ہونے والے قتل عام کو روکنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے – 2. پاکستان کی شمولیت اس کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے- 3. دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور دھڑے بندیوں(Blocs) کی وجہ سے کثیر اُلجہتی Platforms میں پاکستان کی شمولیت دور حاضر کی اہم ضرورت بن کر سامنے آئی ہے – 4. پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو تمام طاقت ور Power Centres جیسے کہ امریکہ ، چین ، روس کے ساتھ مضبوط تزویراتی تعلقات رکھتا ہے – اس انفرادیت کے پیش نظر پاکستان کا کردار مختلف Blocs میں بٹی دنیا میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے -*پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی اہمیت* 1. پاکستان Bloc Politics کا حصہ نہ ہوتے ہوئے تمام بین الاقوامی stakeholders کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہوئے ہے جو اسے اپنی تزویراتی خودمختاری کے حصول میں مدد دیتا ہے – 2. پاکستان نے ہمیشہ غیر جانب دارانہ Foreign Policy کے ذریعے ایک توازن اور لچکدار خارجہ پالیسی کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے – 3. پاکستان نے بغیر کسی بیرونی دباؤ کے چین ، ہندوستان ، کشمیر اور فلسطین جیسے امور پر ہمیشہ اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کیے اور ان معاملات میں اپنے اصولی مؤقف کو ہمیشہ مد نظر رکھا – 4. ہندوستان کے معاملے میں پاکستان نے ماضی میں بیرونی دباؤ کے باوجود ایک با اصول اور غیر لچکدار پالیسی اختیار کی – 5. پاکستان نے غزہ اور کشمیر کے تنازعات پر بھی تسلسل سے ایک اصولی مؤقف اپنایا – اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا ، اس سے جڑے تنازعات کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل- بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحدوں کا احترام ، القدس الشریف کا ایک آزاد فلسطین ریاست کا بطور دارالحکومت کا قیام ، پاکستان کے وہ اصولی مؤقف ہیں جن پر پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ غیر متزلزل رہی ہے – 6. اِسی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حق خودارادیت اور اس کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں پائیدار حل بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا “جزو لا ینفک” رہا ہے – 7. دنیا کو درپیش تقسیم کے رجحان کے تناظر میں وجود میں آنے والے نئے Forums کو نظر انداز کرنا کسی بھی ریاست کی Relevance کی بقا کے لیے خطرناک ہے – 8. اسلامی دنیا کی اہم ترین عسکری طاقت کے حامل ملک کے لئے ایسے Forums سے صرف نظر کرنا تزویراتی اہمیت کو ختم کرنے کے مترادف ہے – 9. دور حاضر میں پاکستان نے اپنی ساکھ بین الاقوامی معاملات میں ایک مثبت شراکت سے برقرار رکھی ہے – اقوام متحدہ کی بحالی امن فوج میں شمولیت اس کی ایک اہم مثال ہے – 10. پاکستان لفاظی پر نہیں بلکہ مؤثر اقدامات کے ذریعے بین الاقوامی امن اور خوشحالی کے لئے متحرک رہا ہے – 11. پاکستان کو خاموش تماشائی دیکھنے کے متمنی ایک مفلوج ذہن کے تابع ہیں – ایک ایسی دنیا جہاں طاقت کے محور روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو رہے ہیں ، پاکستان کا متحرک کردار ایک تزویراتی ضرورت بن کر ابھرا ہے اور اس کردار کو نظر انداز کرنا ہمارے قومی مفادات سے تصادم ہے -*انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) اور بورڈ آف پیس کا تقابلی جائزہ* 1. حکومت پاکستان نے ISF میں شمولیت سے متعلق ایک واضح اور غیر مُبہم نقطہ نظر اپنایا ہے جس کی توثیق حکومت نے کئی دفعہ کی ہے – 2. آئی ایس ایف (ISF) میں شمولیت کا فیصلہ پاکستان کے قومی مفاد ، اقوام متحدہ کے mandate ، پاکستان اور فلسطین کی عوام کی اُمنگوں کے مطابق ہوگا – 3. بورڈ آف پیس اور ISF میں کسی طرح کی مماثلت قائم کرنا نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ پاکستان مخالف عناصر کی طرف سے ایک گمراہ کن کوشش کا تسلسل ہے –

کیا آپ جانتے ہیں 1) پرندے پیشاب نہیں کرتے۔2) گھوڑے اور گائے کھڑے ہوکر سوتے ہیں۔3) چمگادڑ واحد ممالیہ جانور ہے جو اڑ سکتا ہے۔ چمگادڑ کی ٹانگوں کی ہڈیاں اتنی پتلی ہوتی ہیں کہ کوئی چمگادڑ چل نہیں سکتا۔4) سانپ کی آنکھیں بند ہونے پر بھی وہ اپنی پلکوں سے دیکھ سکتا ہے۔5) قطبی ریچھ کی کھال کی سفید، تیز شکل کے باوجود، اس کی جلد کالی ہوتی ہے۔6) اوسط گھریلو مکھی صرف 2 یا 3 ہفتوں تک زندہ رہتی ہے۔7) دنیا میں ہر انسان کے لیے 10 لاکھ چیونٹیاں ہیں۔😎 بچھو پر تھوڑی مقدار میں شراب ڈالنے سے وہ پاگل ہو جائے گا اور خود کو ڈنک مار کر موت کے گھاٹ اتار دے گا!9) مگرمچھ اور شارک 100 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔10) شہد کی مکھی کے دو پیٹ ہوتے ہیں ایک شہد کے لیے، دوسرا کھانے کے لیے۔11) ہاتھیوں کا وزن نیلی وہیل کی زبان سے کم ہوتا ہے۔ نیلی وہیل کا دل ایک کار کے سائز کا ہوتا ہے۔12) نیلی وہیل زمین پر گھومنے والی سب سے بڑی مخلوق ہے۔13) کاکروچ بھوک سے مرنے سے پہلے اپنے سر کے بغیر تقریباً ایک ہفتہ تک زندہ رہ سکتا ہے۔14) جب ایک ڈولفن بیمار یا زخمی ہوتا ہے، تو اس کی کراہت دیگر ڈالفنوں سے فوری مدد طلب کرتی ہے، جو اسے سطح پر سہارا دینے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ وہ سانس لے سکے۔15) ایک گھونگا 3 سال تک سو سکتا ہے۔16) تیز ترین پرندہ، ریڑھ کی دم والا سوئفٹ، 106 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتا ہے۔ (پیریگرین فالکن دراصل 174 کلومیٹر فی گھنٹہ یا 108 میل فی گھنٹہ ہے)17) ایک گائے اپنی زندگی میں تقریباً 200,000 گلاس دودھ دیتی ہے۔18) جونک کے 32 دماغ ہوتے ہیں۔19) صرف بیرونی بلی کی اوسط عمر تقریباً تین سال ہوتی ہے۔ صرف انڈور بلیاں سولہ سال اور اس سے زیادہ زندہ رہ سکتی ہیں۔20) شارک واحد جانور ہیں جو کبھی بیمار نہیں ہوتے۔

وہ کینسر سمیت ہر قسم کی بیماری سے محفوظ ہیں۔21) مچھر کے پروبوسکس کی نوک پر 47 تیز دھار ہوتے ہیں جو اسے جلد اور حتیٰ کہ لباس کی حفاظتی تہوں کو کاٹنے میں مدد دیتے ہیں۔22) انسانی دماغ کی میموری کی جگہ 2.5 ملین پیٹا بائٹس سے زیادہ ہے جو کہ 2,500,500 گیگا بائٹس ہے۔*علم کلید ہے* *وہ کون سا حیاتیاتی رجحان ہے جو انسان کے بڑے ہونے پر پٹھوں کے بڑے پیمانے، طاقت اور افعال کے بتدریج نقصان میں ظاہر ہوتا ہے؟*یہ *Sarcopenia* کے نام سے جانا جاتا ہے!*سرکوپینیا* پٹھوں کے بڑے پیمانے، طاقت اور کام کا بتدریج نقصان ہے… عمر بڑھنے کے نتیجے میں ہڈیوں کے پٹھوں کے بڑے پیمانے اور طاقت کا نقصان… صورتحال خوفناک ہو سکتی ہے، فرد پر منحصر ہے۔آئیے *سرکوپینیا* سے بچاؤ کے متعدد طریقے تلاش کریں اور ان کا تجزیہ کریں:1. عادت ڈالیں، اگر آپ کھڑے ہونے کے قابل ہیں… صرف نہ بیٹھیں، اور اگر آپ بیٹھ سکتے ہیں تو لیٹ نہ جائیں!2. جب بھی کوئی بوڑھا شخص بیمار ہوتا ہے، اور ہسپتال میں داخل ہوتا ہے، تو اس سے مزید آرام کے لیے نہ پوچھیں، یا لیٹنے، آرام کرنے اور/یا بستر سے نہ اٹھنے کے لیے… یہ مددگار نہیں ہے۔ چہل قدمی کرنے میں ان کی مدد کریں… سوائے اس کے کہ وہ ایسا کرنے کی صلاحیت کھو دیں۔ایک ہفتے تک لیٹنے سے پٹھوں کی کم از کم 5% کمی ہوتی ہے! اور بدقسمتی سے، بزرگ نقصان کے پٹھوں کو بحال نہیں کر سکتے ہیں!عام طور پر، زیادہ تر بزرگ/بزرگ جو معاونین کی خدمات حاصل کرتے ہیں وہ فعال افراد کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پٹھوں کو کھو دیتے ہیں!3. *سرکوپینیا* آسٹیوپوروسس سے زیادہ خوفناک ہے!آسٹیوپوروسس کے ساتھ، کسی کو صرف محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ گر نہ جائیں، جبکہ سارکوپینیا نہ صرف زندگی کے معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ پٹھوں کی ناکافی مقدار کی وجہ سے ہائی بلڈ شوگر کا سبب بھی بنتا ہے!4. پٹھوں کا سب سے تیزی سے نقصان (ایٹروفی) ٹانگوں کے پٹھوں میں سستی سے ہوتا ہے…کیونکہ جب بیٹھنے یا لیٹنے کی حالت میں، ٹانگیں حرکت نہیں کرتی ہیں، اور ٹانگوں کے پٹھوں کی طاقت براہ راست متاثر ہوتی ہے… یہ خاص طور پر انتہائی توجہ دینا ضروری ہے!سیڑھیاں چڑھنا اور نیچے جانا… پیدل چلنا، دوڑنا اور سائیکل چلانا تمام بہترین ورزشیں ہیں، اور یہ پٹھوں کے بڑے پیمانے کو بڑھا سکتی ہیں!بڑھاپے میں زندگی کے بہتر معیار کے لیے… حرکت کریں… اور اپنے پٹھوں کو ضائع نہ کریں!!بڑھاپا پاؤں سے اوپر کی طرف شروع ہوتا ہے!اپنے پیروں کو متحرک اور مضبوط رکھیں!! ▪️ جیسے جیسے ہم روزانہ کی بنیاد پر بڑے ہوتے ہیں، ہمارے پیروں کو ہمیشہ متحرک اور مضبوط رہنا چاہیے۔اگر آپ صرف 2 ہفتوں تک اپنی ٹانگیں نہیں ہلاتے ہیں تو آپ کی ٹانگوں کی حقیقی طاقت 10 سال تک کم ہو جائے گی۔لہذا، *باقاعدہ ورزشیں جیسے پیدل چلنا، سائیکل چلانا وغیرہ بہت اہم ہیں*۔پاؤں ایک قسم کے کالم ہیں جو انسانی جسم کا سارا وزن اٹھاتے ہیں۔ *_روز چہل قدمی کریں!_*

وزیر اعلیٰ جو کہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان لڑکا ہے، آپ اس کو کبھی دہشتگرد اور کبھی اسمگلر بناتے ہیں، آپ کو شرم نہیں آتی؟ اُس کا ایم فل اکنامکس میں آخری سمسٹر ہے۔ پہلے کسی کے بارے میں معلومات تو حاصل کرو، اسد قیصر۔سعودی ترک پاکستان دفاعی معاہدہ بڑے فیصلے 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری۔۔پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری صفر سب کچھ ختم۔بھارتی کرکٹ بورڈ اپنے بچھائے جال میں پھنس گیا۔ ‏ہر روز دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے اور پاک افغانستان کی آواز میں آواز ملا کر پاکستان کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف۔۔۔دھشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھاڑ پھینکا ھے فیلڈ مارشل۔۔ دنیا کال کھول کر سن لے کسی نے ایڈوانچر کا سوچا بھی تو آخری حد تک جاے گءے فیلڈ مارشل عاصم منیر ان ایکشن۔ڈھائی ہزار روپے کے تنازع پر قتل، سپریم کورٹ نے 15 سال بعد ملزم کو بری کردیا، کیس تھا کیا۔۔ ۔بھارت اور یواے ای میں قربتیں بڑھنے لگیں ۔۔ بھارت یو اے ای کا سب سے بڑا ایل این جی صارف بن گیا، 3 ارب ڈالر کا معاہدہ کرلیا۔ابوظہبی کی سرکاری کمپنی بھارت کو 10 برس تک ہر سال 5 لاکھ میٹرک ٹن ایل این جی فراہم کرے گی۔۔مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ قانون و امن کا نفاذ پولیس کی مقدس امانت ہے۔ مسلح افواج ہمیشہ پاکستان پولیس کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں گی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر۔مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔۔پرچی زبان اور اسد قیصر طلال چوہدری امنے سامنے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر اس لیے کیسز بنے ہیں کیونکہ یہ مظلوموں کا ساتھ دیتے ہیں !!علامہ راجا ناصر عباس۔ ۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*یہ مان لینا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ اس لئے نہ کر سکے کہ یو اے ای، سعودی عرب یا قطر کو خطرہ تھا — یہ خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے!*یہ وہ عالمی طاقتیں ہیں جو صدیوں سے دوسروں کی لاشوں پر اپنے مفادات کی عمارت کھڑی کرتی آئی ہیں، یہ کسی عرب ریاست، کسی مسلمان ملک، کسی اتحادی کی خاطر اپنی جنگ نہیں روکتیں — یہ صرف اور صرف اپنے خوف پر رُکتی ہیں۔اور وہ خوف اس دن پیدا ہوا جب فیصلہ سازوں کو یہ احساس ہوا کہ اگر ایران پر پہلا میزائل چلا تو آگ صرف تہران میں نہیں جلے گی، آگ پورے خطے میں بھڑکے گی!اسی لئے عین اس لمحے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا طیارہ قبرص یا نامعلوم محفوظ مقام کی طرف اڑا، یہ کوئی سفارتی دورہ نہیں تھا، یہ جان بچانے کی دوڑ تھی۔یہ اس بات کا اعلان تھا کہ کھیل خطرناک حد تک آگے بڑھ چکا ہے۔مگر پردے کے پیچھے جو اصل کھیل کھیلا جا رہا تھا، وہ بھارت کھیل رہا تھا۔

ہاں، وہی بھارت جسے ایران برسوں تک دوست سمجھتا رہا!حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے ایران کے اندر جاسوسی، تخریب کاری اور سیاسی گھس پیٹھ کا منظم جال بچھا رکھا تھا، جو اسرائیل اور امریکہ کے لئے مسلسل راستے ہموار کرتا رہا!ایران کے اندر جو کچھ احتجاج کے نام پر دکھایا گیا، وہ محض عوامی غصہ نہیں تھا — اس میں اسلحہ، ڈیوائسز، تربیت یافتہ عناصر اور منظم گروہ شامل تھے جو افغانستان کے راستے داخل ہوئے۔اور یہ بھی تلخ سچ ہے کہ افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت نے یا تو اس راستے کو روکا نہیں، یا دانستہ آنکھ بند رکھی!یوں افغانستان ایک بار پھر بڑی طاقتوں کی جنگ کا لانچ پیڈ بنا دیا گیا!دہشت گرد احتجاج کے لبادے میں، اسلحہ لئے انسانی حقوق کے نعروں کے ساتھ، اور خون کو “عوامی تحریک” کے نام پر بہایا گیا!اور ایران ؟ایران برسوں تک بھارت کے ساتھ معاہدے کرتا رہا، تجارت کرتا رہا، اینٹی پاکستان سرگرمیوں میں سہولت کاری کرتا رہا، یہ سوچ کر کہ بھارت قابلِ اعتماد ہے!مگر جیسے ہی اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ٹکراؤ حقیقی جنگ کے دہانے پر پہنچا — بھارت کا اصل چہرہ، اس کا جاسوسی نیٹ ورک، اس کی ایران مخالف پالیسی سب ننگے ہو گئے!یہ بحران ایران کے لئے ایک تھپڑ تھا، ایک وارننگ تھی، ایک جاگنے کی گھنٹی تھی!اور جنگ کیوں رکی؟

اس لئے نہیں کہ عرب ممالک فریاد کر رہے تھے!جنگ اس لئے رکی کہ اگر ایران نے مکمل جواب دیا تو امریکی اڈے، اسرائیلی شہر، خلیجی بندرگاہیں اور عالمی تیل کی سپلائی ایک ہی آگ میں جل سکتی تھی!اس لئے رکی کہ روس اور چین جیسے کھلاڑی خاموش تماشائی بن کر بیٹھنے والے نہیں تھے!اس لئے رکی کہ امریکہ اور اسرائیل کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ یہ جنگ شروع کرنا تو ان کے اختیار میں ہے، مگر ختم کرنا ان کے اختیار میں نہیں رہے گا!اور اس پورے منظرنامے میں اگر کوئی ملک کھل کر، صاف، دوٹوک اور اصولی طور پر ایران کے ساتھ کھڑا نظر آیا تو وہ پاکستان تھا!پاکستان نے یہ پیغام دیا کہ ایران کو کمزور کرنا پورے خطے کو آگ میں جھونکنے کے مترادف ہوگا!پاکستان کی یہ اسٹریٹجک للکار ہی وہ دیوار بنی جس پر دشمن کے منصوبے ٹکرا کر رہ گئے!اسی لئے یہ کہنا حق ہے، سچ ہے، اور وقت کی آواز ہے کہ ایران کی بقا کے دفاعی حصار میں پاکستان ایک مضبوط ستون بن کر کھڑا ہے!یہ جنگ اس لئے نہیں رکی کہ دشمن امن کا خواہاں تھا، یہ جنگ اس لئے رکی کہ دشمن کو پہلی بار یہ ڈر لگا کہ اس بار آگ اس کے اپنے گھر تک پہنچ سکتی ہے!اور جب سامراج کو اپنے ہی گھر جلنے کا خوف آ جائے تو وہ سب سے پہلے قدم پیچھے ہٹاتا ہے — اور یہی اس لمحے ہوا!الحمدللہ اس وقت ایران میں شورش پر قابو پایا جا چکا ہے، صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔اگر امریکہ پھر بھی جنگ کرے گا۔ تو امریکہ کا عالمی اقتدار ختم ہوگا۔

انڈین کرکٹ بورڈ اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے. اس نے گزشتہ چیمپئنز ٹرافی میں جس تذلیلی دلدل میں پاکستان کو پھینکنا چاہا تھا، اب خود اس میں سر کے بالوں تک دھنسا ہوا ہے. جنگ میں مار کھانے کے بعد کرکٹ کے میدانوں میں سیاسی نفرتیں انڈیلنے کی کوشش کی، مگر اس کے ستارے کچھ اس بری طرح گردش میں ہیں اور نیّا کچھ اس طور گرداب میں پھنس چکی ہے کہ نکلنے کا راستہ سجھائی نہیں دے رہا. اگر کرکٹ کی بساط پہ دیکھا جائے تو انڈیا اس وقت سپر پاور ہے. اپنے ہاں مہنگی ترین لیگ کا انعقاد کرتا ہے. آئی سی سی کی سربراہی بھی اس کے پاس ہے. اس سب کے باوجود تنزل کی گھاٹی پہ گھاٹی اترتا چلا جارہا ہے. کچھ تو پاک بھارت جنگ کے نتائج نے پاکستان کو شیر بنا دیا، کچھ خطے کی بدلتی سیاسی صورتحال نے انڈیا کی مشکلات میں اضافہ کیا اور کچھ اسے اس کی حماقتیں لے ڈوبیں . اس سے بڑھ کر کیا ہزیمت ہوگی کہ ایشیا کپ جیتا تو انڈیا ہے مگر ٹرافی محسن نقوی کے پاس ہے.

آنے والے ورلڈ کپ میں شرکت کے لئے امریکا کی ٹیم میں شامل آٹھ پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو ویزے دینے میں لیت و لعل سے کام لیا ، مگر جب ساری دنیا نے دُھر دُھر کی تو راہِ راست پر آگیا. یہ سب رنگ ایک طرف، اس وقت اصل رنگ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے جمایا ہوا ہے. انڈیا بنگلہ دیش کے بیچ کچھ محسوس اور کچھ نامحسوس سا تناؤ تو تھا، مگر مستفیض الرحمن کا آئی پی ایل سے اخراج اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا اور جواب میں بنگلہ دیش نے سیکیورٹی کا بہانہ کرکے آئی سی سی سے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی. آئی سی سی نے جواب میں وقت کی کمی کی وجہ سے وینیوز کی تیاری نہ ہوسکنے کا بہانہ کیا تو پاکستان نے یہ کہتے ہوئے نہلے پہ دہلا مارا کہ ہمارے وینیوز بنگلہ دیش کی میزبانی کے لیے حاضر ہیں. اب منظر کچھ یوں تھا کہ سری لنکا شریک میزبان ہونے کی وجہ سے تمام میچز اپنے ملک میں کھیل رہا ہے. پاکستان بھی اپنے میچز سری لنکا میں کھیلے گا. بنگلہ دیش بھی ضد پکڑ رہا ہے. گویا خطے کے تین اہم ممالک ورلڈ کپ کھیلنے انڈیا نہیں جا رہے. آسٹریلین ٹیم سری لنکن گروپ کا حصہ ہے، لہذا وہ بھی پہلے مرحلے میں انڈیا نہیں جائے گی. انڈیا پاکستان سے کھیلنے سری لنکا جائے گا. بنگلہ دیش بھی سری لنکا جاتا ہے تو ایسے میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز بھی اپنے میچز انڈیا سے باہر کھیلیں گے. مزہ آیا کہ نہیں؟بنگلہ دیش سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پاکستان نے سردستِ دست ورلڈ کپ کے حوالے سے اپنی تمام مصروفیات ترک کر دی ہیں. بنگلہ دیش انڈیا نہ جانے کے فیصلے پر ابھی تک ڈٹا ہوا ہے. مطالبہ تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کا پتہ بھی ہاتھ میں رکھا ہوا ہے. پاکستان نے بھی ” ایسی صورت میں ہم بھی نہیں کھیلیں گے” کہہ کر تنازعات کے جلتے الاؤ میں اپنی طرف سے دو چار لکڑیاں ڈال دی ہیں. پرسوں بنگلہ حکومت نے انڈین آفیشل کو ویزا جاری نہ کرکے شعلوں کو مزید ہوا دی. زمبابوے میں جاری انڈر نائنٹین ورلڈ کپ میں انڈیا بنگلہ دیش میچ کے دوران بنگلہ جوانوں نے مصافحہ نہ کرکے جلتی پر مزید تیل ڈال دیا.

دو سال قبل کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انڈیا پہ زوال کی بارش یوں چھم چھم برسے گی. اس وقت اس بارش نے جنگ، کھیل اور سیاست کے تمام زاویوں سے انڈیا کو ہلکان، حیران اور پریشان کر کے رکھ دیا ہے. فی الحال بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی منت سماجت جاری ہے. ممکن ہے کہ پس پردہ پاکستان کے حضور بھی ہاتھ جوڑے جائیں کہ پائیں! ہنڑ مٹی پاؤ تے جانڑ دیو. تے نالے نکّے ویر نوں وی سمجھاؤ. صفدر حسین بھٹیکوآرڈینیٹر سوشل میڈیا ٹیم پاکستان مسلم لیگ ن چنیوٹ

فلوریس جان بویولینڈر، ہالینڈ کے فیلڈ ہاکی کھلاڑی، اپنی غیر معمولی مہارت اور کھیل میں خدمات کے لیے مشہور ہیں۔ 19 جنوری 1966 کو ہارلیم میں پیدا ہونے والے بویولینڈر نے 2 اکتوبر 1985 کو نیدرلینڈز کی قومی ٹیم کے لیے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 241 بین الاقوامی میچز کھیلے، جن میں 215 گول کیے۔ وہ اپنے تباہ کن پینلٹی کارنرز کے لیے مشہور تھے۔ بویولینڈر نیدرلینڈز کی قومی ٹیم کا حصہ تھے جس نے 1996 کے اٹلانٹا سمر اولمپکس میں سونے کا تمغہ اور 1988 کے سیؤل اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ انہوں نے 1990 کے ہاکی ورلڈ کپ میں لاہور، پاکستان میں عالمی ٹائٹل جیتنے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جہاں انہوں نے 9 گول کیے۔ بویولینڈر کو ان کے یادگار پینلٹی کارنرز اور نیدرلینڈز میں ہاکی کے لیے انکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا

فلوریس جان بویولینڈر، ہالینڈ کے فیلڈ ہاکی کھلاڑی، اپنی غیر معمولی مہارت اور کھیل میں خدمات کے لیے مشہور ہیں۔ 19 جنوری 1966 کو ہارلیم میں پیدا ہونے والے بویولینڈر نے 2 اکتوبر 1985 کو نیدرلینڈز کی قومی ٹیم کے لیے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 241 بین الاقوامی میچز کھیلے، جن میں 215 گول کیے۔ وہ اپنے تباہ کن پینلٹی کارنرز کے لیے مشہور تھے۔ بویولینڈر نیدرلینڈز کی قومی ٹیم کا حصہ تھے جس نے 1996 کے اٹلانٹا سمر اولمپکس میں سونے کا تمغہ اور 1988 کے سیؤل اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ انہوں نے 1990 کے ہاکی ورلڈ کپ میں لاہور، پاکستان میں عالمی ٹائٹل جیتنے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جہاں انہوں نے 9 گول کیے۔ بویولینڈر کو ان کے یادگار پینلٹی کارنرز اور نیدرلینڈز میں ہاکی کے لیے انکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا

بھارت اور یواے ای میں قربتیں بڑھنے لگیں بھارت یو اے ای کا سب سے بڑا ایل این جی صارف بن گیا، 3 ارب ڈالر کا معاہدہ کرلیا ابوظہبی کی سرکاری کمپنی بھارت کو 10 برس تک ہر سال 5 لاکھ میٹرک ٹن ایل این جی فراہم کرے گی

نیازی اور دہشت گرد ایک ساتھ پی ٹی آئی ہماری اپنی پارٹی ہےعمران اور سہیل آفریدی نے کبھی ہمارے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالیاس لیئے ہم بھی انکے کاموں میں رکاوٹ نہیں بنتےیہ فوج ہمارا مشترکہ ٹارگٹ ہے ،،فتنہ الخوارج TTP کمانڈر کا ویڈیو پیغامپی ٹی آئی والے اسی لئے TTP کا نام نہیں لیتے بلکہ ان کو فنڈنگ بھی کرتے ہیں آج تک نیازی نے TTP کا نام نہیں لیا بس دہشت گردی کا ڈرامہ کرتا ہے

بھارت اور متحدہ عرب امارات نے دفاعی معاہدے کا اعلان کر دیا یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کے دورہ بھارت کے موقع پر دستخط کر دیے گئے۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ نے اعلان کیا۔بھارت اور متحدہ عرب امارات نے دفاعی معاہدے کا اعلان کر دیا۔۔محسن نقوی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے پاکستان ٹیم کی تمام تیاریاں رکوا دیں۔۔علی رضا نے سکاٹ لینڈ کے خلاف میچ میں تباہی مچا دی ، شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ،علی رضا نے سکاٹ لینڈ کے خلاف میچ میں تباہی مچا دی ،۔تنقید اور احتجاج کے بعد ورلڈ اکنامک فورم نے ایران کو اجلاس میں شریک ہونے سے روک دیا۔۔۔۔پاکستان ایئر فورس کا ایف 16 بلاک 52 لڑاکا طیاروں پر مشتمل دستہ فضائی اور زمینی عملے کے ساتھ ملٹی نیشنل فضائی جنگی مشقوں سپیئرز آف وکٹری 2026 میں شرکت کے لیے سعودی عرب کے کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گیا ہے۔پاکستان ایئر فورس کا ایف 16 بلاک 52 لڑاکا طیاروں پر مشتمل دستہ فضائی اور زمینی عملے کے ساتھعُثمان خان یہ وہ بلّے باز جِسے سرفراز نے مِیدان میں شیر بن کر کِھیلنا سِیکھایا ہے٬ مُشکل صُورتحال میں واقِعی مُخالِف ٹِیم کے بالروں کے آگے ڈٹ کر کھڑے ہ۔آسٹریلیا نے پاکستان کیخلاف ٹی20 سیریز کیلئےاسکواڈ کا اعلان کر دیا۔سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا دورہ چین اھم ترین ملاقاتیں۔پاکستان کی فوج بھیجنے پر کوئی فیصلہ نہیں۔نوازشریف کو میں نے کال کی اپوزیشن لیڈر بننے کیلئےنواز توخود بولنے کیلئے اجازت لیتا۔۔۔۔پاکستان میں غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے برقرار۔۔اھم ترین شخصیات کے درمیان رابطوں کا انکشاف سب کچھ درست سمت کی طرف گامزن۔5 اھم ترین شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ سب کچھ طے۔اج عمران سے ملاقات کے درمیان کچھ طے پایا جا سکتا ہے۔بیگم کلثوم اپنے خاوند کو بچانے میں کامیاب ھوی نصرت بھٹو کامیاب نہ ہو سکی۔۔کیا عمران خان کی بہنوں میں یہ قابلیت ھے وہ اپنے بھائی کو رھا کروانے میں کامیاب ہو جائیں گی 10 روز اھم تفصیلات سھیل رانا رپورٹ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں پارلیمانی وفد تین روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گیاپانچ رکنی پاکستانی پارلیمانی وفد 19 سے 21 جنوری 2026 تک چین کا سرکاری دورہ کر رہا ہے، ترجمان قومی اسمبلییہ دورہ چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی آف نیشنل پیپلز کانگریس چین ژاؤ لی جی کی خصوصی دعوت پر کیا جا رہا ہے، ترجمان قومی اسمبلیبیجنگ ایئرپورٹ پر اسپیکر قومی اسمبلی اور وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا، ترجمان قومی اسمبلیپاکستانی وفد کا بیجنگ آمد پر این پی سی کے رکن اویانگ چانگ چیونگ اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل بائی ڈینڈن نے وفد کا استقبال کیا،

ترجمان قومی اسمبلیاس موقع پر چین میں پاکستانی سفارتخانے کے ناظم الامور اعزاز خان بھی موجود تھے، ترجمان قومی اسمبلی سال 2026 میں پاکستانی پارلیمانی وفد کا چین کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے، ترجمان قومی اسمبلییہ دورہ پاکستان اور چین کی دیرینہ سدا بہار دوستی کا مظہر ہے، ترجمان قومی اسمبلیدورے کے دوران اسپیکر سردار ایاز صادق چین کی پارلیمانی اور سیاسی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے، ترجمان قومی اسمبلیاسپیکر قومی اسمبلی چیئرمین این پی سی ژاؤ لی جی اور سی پی پی سی سی کے چیئرمین وانگ ہوننگ سے بھی ملاقاتیں کریں گے،

ترجمان قومی اسمبلی ملاقاتوں میں پارلیمانی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، ترجمان قومی اسمبلیوفد چینی کمیونسٹ پارٹی کے پارٹی اسکول اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے میوزیم کا بھی دورہ کرے گا، ترجمان قومی اسمبلیامید ہے یہ دورہ پاکستان اور چین کے تعلقات کو فروغ دینے میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا، ترجمان قومی اسمبلیوفد میں رومینہ خورشید عالم، کنوینر پاک چین پارلیمانی فرینڈشپ گروپ، رکن قومی اسمبلی محمد نعمان، پارلیمانی سیکرٹری زیب جعفر اور رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری بھی شامل ہیں، ترجمان قومی اسمبلی

ایک دھماکہ خیز انکشاف ۔اور ایک صدمہ انگیز فیصلہ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیان نے مسلم دنیا کے دل چیر دیے۔ اُنہوں نے کہا:عراقی سیاستدانوں نے جن بھاری رقوم کو امریکی بینکوں میں جمع کر رکھا تھا، اب وہ رقوم امریکی عوام کی ملکیت ہوں گی۔ یہ قیمت ہے اُن جانوں کی، جو امریکی فوجیوں نے عراق میں قربان کیں۔”یہ جملے صرف ایک اعلان نہیں تھے۔

یہ ایک تاریخی فیصلے کا کربناک آغاز تھے۔امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مبینہ فہرست کے مطابق:نوری المالکی: 66 ارب ڈالرعدنان الاسدی: 25 ارب ڈالرصالح المطلق: 28 ارب ڈالرباقر الزبیدی: 30 ارب ڈالربہاء الاعرجی: 37 ارب ڈالرمحمد الدراجي: 19 ارب ڈالرہوشیار زیباری: 21 ارب ڈالرمسعود بارزانی: 59 ارب ڈالرسلیم الجبوری: 15 ارب ڈالرسعدون الدلیمی: 18 ارب ڈالرفاروق الاعرجی: 16 ارب ڈالرعادل عبدالمہدی: 31 ارب ڈالراسامہ النجیفی: 28 ارب ڈالرحیدر العبادی: 17 ارب ڈالرمحمد الکربولی: 20 ارب ڈالراحمد نوری المالکی: 14 ارب ڈالرطارق نجم: 7 ارب ڈالرعلی العلاق: 19 ارب ڈالرعلی الیاسری: 12 ارب ڈالرحسن العنبری: 7 ارب ڈالرایاد علاوی: 44 ارب ڈالرجلال طالبانی: 35 ارب ڈالررافع العیساوی: 29 ارب ڈالرکل رقم: 597 ارب ڈالریہ وہ رقم ہے جسے غریب عراقی بچوں کا دودھ، بیواؤں کے آنسو، اور لاشوں کے انبار ترس رہے تھے۔ اور آج انہی رقوم کو ایک اجنبی “حق” کے نام پر چھین لیا گیا۔یہ خبر صرف عراق تک محدود نہ رہی۔ سعودی عرب، امارات، کویت، بحرین کے حکمرانوں کے ایوان لرز گئے۔ اُن کی نیندیں اڑ گئیں۔ بینکنگ سسٹم سے رقوم نکالنے کی دوڑ شروع ہو چکی ہے — نقصان ہو یا نہ ہو، دولت کو بچانے کی آخری کوشش جاری ہے۔ ۔!!!!!.

*PMO Tickers*وزیر اعظم آفسمیڈیا ونگاسلام آباد: 20 جنوری 2026*وزیر اعظم محمد شہباز شریف ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کی سالانہ کانفرنس 2026 میں شرکت کے لیے ڈایووس، سوئٹزرلینڈ روانہ.* وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف 19 سے 23 جنوری 2026 تک ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کی سالانہ کانفرنس 2026 میں شرکت کے لیے ڈایووس، سوئٹزرلینڈ کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد ہے، جس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ اقتصادی امور احد چیمہ، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر سینئر حکام شامل ہیں.وزیرِ اعظم کی دورے کے دوران اہم سفارتی اور اقتصادی مصروفیات ہونگی. وہ مختلف سربراہانِ مملکت و حکومت اور بین الاقوامی تنظیموں کے قائدین سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ دورے کا ایک اہم حصہ بزنس راؤنڈ ٹیبل ہے، جس کا مشترکہ اہتمام پاکستان اور ورلڈ اکنامک فورم کر رہے ہیں۔ اس فورم میں عالمی سطح کی نمایاں کمپنیوں کے رہنما شریک ہوں گے جو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے یا اپنی موجودہ سرمایہ کاری کو وسعت دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ان ایکشن 3 بڑے فیصلے کونسے۔ایرانی سپریم لیڈر بیمار آدمی ہے۔۔ ایران میں نئی قیادت کا وقت آگیا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان۔ ملک بھر شدید ٹھنڈ 10 آفراد جان بحق۔یورپ اور امریکہ امنے سامنے دنیا تیسری عالمی جنگ کے دوراھے پر۔۔ایران میں احتجاج رک گیا ریجیم تبدیل نہ ھو سکی امریکہ کے صدر کو شکست۔۔خطرہ بدستور موجود 4 اطراف سے ایران کو گھیرا گیا۔۔ ۔۔فرانس نے گرین لینڈ میں فورسز بھجوا دی نیٹو عملی طور ٹوٹ گئ؟؟2 اھم ترین شخصیات کی پاکستان آمد سی ای اے چیف کی پاکستان آمد۔ ۔ایران کے لیے تاریخ ساز لمحہ۔۔افغانی جعلی طریقے سےکرنسی کو مستحکم رکھنے کے طریقے غیر مستحکم۔۔کراچی کے گُل پلازہ میں لگی آگ 36 گھنٹے بعد بجھا دی گئی: کم از کم 25 ہلاکتوں کی تصدیق 50 زخمی 45 سال سے حکومت کرنے والی جماعت بھٹو زندہ ہیں۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

باکسنگ کا نیشنل چیمپئن سید فیضان گردیزی المشہور فیضان باکسر : صرف ایک مقدمے میں اشتہاری ہونے پر سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے میں پار ۔۔۔۔ میرا بیٹا مجرم نہیں ہیرو تھا ۔۔۔ اسے کس جرم کی سزا ملی ؟ اصل کہانی فیضان باکسر کے والد سید قدرت اللہ کی زبانی۔۔۔میرا بیٹا گرایجویٹ تھا ، 2003 میں باکسنگ کا نیشنل چیمپئن رہا اور پھر کئی سکولوں میں باکسنگ کی ٹریننگ بھی دیتا رہا ، اسکے دوستوں میں کچھ غلط قسم کے لوگ بھی شامل تھے اس صحبت کی وجہ سے اسے بھی مقدمات میں ملوث کیا گیا مگر وہ مقدمات لڑتا رہا حال ہی میں وہ چار مقدمات سے باعزت بری ہو چکا تھا مگر 302 کے ایک مقدمے مشورہ مٰیں شامل ہونے کے الزام میں وہ پولیس کو مطلوب تھا ، اسکے مخالفین بااثر تھے چناچنہ وہ اشتہاری ہو گیا ، اس دوران وہ مجھ سے پیسے منگواتا تھا ، اگر وہ ڈا۔کو یا جرائم ہوتا تو مجھے سے پیسے کیوں مانگتا ، کچھ ہفتے قبل گرفتاری سے پہلے وہ اسلام آباد میں مقیم تھا اس کے وہی جرائم پیشہ دوست اسے ملنے آئے رات اسکے پاس رہے اور صبح جاتے ہوئے نہ صرف اسکے قیمتی موبائل فون لے گئے بلکہ اس کی مخبری بھی پولیس کو کردی ، فیضان کو گرفتار کرکے پہلے لاہور لایا گیا اور پھر اسے قصور جیل بھجوا دیا گیا ، ایک ہفتے بعد اسے جیل سے نکالا گیا اور ننکانہ سی سی ڈی کے حوالے کردیا جنہوں نے مقابلے کا رنگ دے کر اسے پار کردیا ۔ ہمیں فون کرکے کہا آکر اپنے بیٹے کو وصول کر لو ، میں قصور ہسپتال پہنچا تو سی سی ڈی افسر نے مجھے کہا کہ آپ کا بیٹا بھاگ رہا تھا اور ہم سے گتھم گتھا ہو گیا اسی دوران اسے گو۔لی لگی ہے ۔ فیضان شادی شدہ تھا اسکی ایک 5 سال کی بیٹی ہے جسے ہم نے باپ کا آخری دیدار نہیں کروایا کیونکہ بچی کو باپ سے بہت محبت تھی اور اسے شدید صدمہ پہنچ سکتا تھا ، اس بچی کو اب بھی نہیں پتہ کہ اسکے والد کے ساتھ کیا ہوا ۔ ہم سے پوچھتی ہے تو ہم کہتے ہیں بابا اسلام آباد گئے تھے وہاں سے دبئی چلے گئے ہیں نوکری پر ۔۔فیضان باکسر کے والد سید قدرت اللہ کا کہنا ہے کہ میرا اللہ گواہ ہے فیضان مجرم نہیں تھا اسکی دوستی ہر قسم کے لوگوں سے تھی پولیس کے کئی انسپکٹر اور ڈی ایس پی بھی اسکے دوست تھے ، دوستوں نے ہی اسے مروا دیا ۔

۔ میں کمزور اور غریب ہوں اداروں سے نہیں لڑ سکتا لیکن اگر مجھے زندگی میں اس دنیا کی عدالتوں میں انصاف نہ ملا تو اللہ کی عدالت میں سب کے گریبان پکڑونگا ۔ اللہ کی عدالت میں تو کسی کی طاقت سفارش یا اثر نہیں چلے گا۔۔۔۔۔

*قومی اسمبلی کے فلور پر پاکستان، عدلیہ اور افواجِ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی گفتگو کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق*لاہور، 17 جنوری، 2026؛ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ہفتہ کے روز نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) کے دورہ کیا۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے فلور پر عدلیہ، افواج پاکستان اور ججز کے کردار پر منفی یا متنازع گفتگو کی اجازت نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی بات قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف اسی گفتگو کی اجازت دی جائے گی جو آئین اور قانون کے دائرے میں ہو۔ سردار ایاز صادق نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر کوئی شخص پاکستان کے خلاف بات کرے گا تو اسے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ نہ حکومت کا حصہ ہیں اور نہ ہی اپوزیشن کا، بلکہ بطور اسپیکر آئین اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم احتجاج پرامن ہونا چاہیے، اس میں آگ لگانے، جان و مال کے نقصان اور توڑ پھوڑ کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے ڈنڈوں اور اسلحے کے استعمال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر قانون کی بالادستی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ وزیرِ اعظم پاکستان سے باقاعدہ مشاورت کرتے ہیں

اور وزیرِ اعظم کی جانب سے انہیں اپنے آئینی اختیارات کے استعمال میں کبھی نہیں روکا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی رکن قومی اسمبلی پاکستان کے خلاف بات کرے گا تو اسے اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بتدریج مضبوط ہو رہی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو معیشت کے استحکام کا واضح ثبوت ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کے امریکا، چین، روس، ترکی اور سعودی عرب سمیت اہم دوست ممالک کے ساتھ مضبوط اور خوشگوار تعلقات قائم ہیں۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ ہر ملک میں مافیا اور غیر قانونی عناصر موجود ہوتے ہیں، اور ان کے خلاف جدوجہد کرنا عوام اور ریاست دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ نیشنل کالج آف آرٹس ایک اعلیٰ معیار کی تعلیمی درسگاہ ہے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی منفرد شناخت قائم کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این سی اے کے طلبہ تحقیق کے بعد تخلیقی کام کرتے ہیں جو قابلِ تحسین ہے، اور یہاں کے نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں جو مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے

🚨 *کراچی: مئیر مرتضیٰ وہاب 23 گھنٹے بعد گل پلازہ پہنچ گئے**مرتضی وہاب کے خلاف شہریوں کا احتجاج، شدید نعرے بازی*گل پلازہ آتشزدگی ریسکیو آپریشن اولین ترجیح ہے، سیاست بعد میں بھی ہوسکتی ہے، مرتضی وہاب صدیقیجسے میرا گریبان پکڑنا ہے پکڑ لے ۔ میری کوشش ہے کہ لاپتہ لوگ مل جائیں۔۔۔

🚨 *🔴رحیم یارخان /مزید 11 ڈاکو سرنڈر**رحیم یارخان کچے کے علاقے میں پولیس کی ڈرون کاروائیاں جاری، ڈی پی او عرفان علی سموں* رحیم یارخان کچا کراچی اور کچہ رجوانی کے ڈاکوؤں کے دو گروہوں نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا ڈی پی او عرفان علی سموںرحیم یارخان : لٹھانی اور ککانی گینگ کے 11ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال کردئیے ہیں ڈی پی او عرفان علی سموں رحیم یارخان ڈاکوؤں نے پولیس چوکی خیر محمد جھک میں اپنے آپکو پولیس کے حوالے کیا ہے ڈی پی او رحیم یارخان ڈاکو اغوا برائے تاوان ڈکیٹی لوٹ مار درجنوں مقدمات میں اشتہاری مطلوب تھے ڈی پی او رحیم یارخان جرائم کی دنیا سے توبہ کرکے باعزت زندگی گزارنا چاہتے ہیں سابق ڈاکو رحیم یارخان : کچے کے نوگوایریا میں ڈرون آپریشن جاری ہے ڈی پی او رحیم یارخان ڈاکوؤں میں لٹھانی گینگ کے1۔ مراد عرف موڈی لٹھانی2۔ فاروق لٹھانی3۔ اکبر لٹھانی4۔ غفار لٹھانی5۔ ارشاد لٹھانی6۔ سائیں داد لٹھانیکوکانی گینگ7۔ اللہ ڈِتّا کوکانی8۔ شوکت کوکانی9۔ فرید کوکانی10۔ وحید کوکانی11۔ مورو کوکانی

کراچی گل پلازہ میں قیامت خیز آتشزدگی تاحال بے قابوگل پلازہ میں لگی خوفناک آگ پر 20 گھنٹے بعد بھی قابو نہ پایا جاسکااب تک حادثے میں 6 افراد جاں بحق، 30 سے زائد زخمیگل پلازہ آتشزدگی کے بعد 100 افراد لاپتہ ہونے کی اطلاعات1200 سے زائد دکانیں جل کر راکھ ہوگئیںفائر بریگیڈ، رینجرز اور بحریہ کی ٹیمیں آگ بجھانے میں مصروف ہیںعمارت مخدوش قرار، پلرز کمزور کسی بھی وقت گرنے خدشہآل کراچی تاجر برادری کا گل پلازہ میں آتشزدگی پر کل یومِ سوگ کا اعلان

🚨 *🔴رحیم یارخان /مزید 11 ڈاکو سرنڈر**رحیم یارخان کچے کے علاقے میں پولیس کی ڈرون کاروائیاں جاری، ڈی پی او عرفان علی سموں* رحیم یارخان کچا کراچی اور کچہ رجوانی کے ڈاکوؤں کے دو گروہوں نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا ڈی پی او عرفان علی سموںرحیم یارخان : لٹھانی اور ککانی گینگ کے 11ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال کردئیے ہیں ڈی پی او عرفان علی سموں رحیم یارخان ڈاکوؤں نے پولیس چوکی خیر محمد جھک میں اپنے آپکو پولیس کے حوالے کیا ہے ڈی پی او رحیم یارخان ڈاکو اغوا برائے تاوان ڈکیٹی لوٹ مار درجنوں مقدمات میں اشتہاری مطلوب تھے ڈی پی او رحیم یارخان جرائم کی دنیا سے توبہ کرکے باعزت زندگی گزارنا چاہتے ہیں سابق ڈاکو رحیم یارخان : کچے کے نوگوایریا میں ڈرون آپریشن جاری ہے ڈی پی او رحیم یارخان ڈاکوؤں میں لٹھانی گینگ کے1۔ مراد عرف موڈی لٹھانی2۔ فاروق لٹھانی3۔ اکبر لٹھانی4۔ غفار لٹھانی5۔ ارشاد لٹھانی6۔ سائیں داد لٹھانیکوکانی گینگ7۔ اللہ ڈِتّا کوکانی8۔ شوکت کوکانی9۔ فرید کوکانی10۔ وحید کوکانی11۔ مورو کوکانی

کراچی گل پلازہ میں قیامت خیز آتشزدگی تاحال بے قابوگل پلازہ میں لگی خوفناک آگ پر 20 گھنٹے بعد بھی قابو نہ پایا جاسکااب تک حادثے میں 6 افراد جاں بحق، 30 سے زائد زخمیگل پلازہ آتشزدگی کے بعد 100 افراد لاپتہ ہونے کی اطلاعات1200 سے زائد دکانیں جل کر راکھ ہوگئیںفائر بریگیڈ، رینجرز اور بحریہ کی ٹیمیں آگ بجھانے میں مصروف ہیںعمارت مخدوش قرار، پلرز کمزور کسی بھی وقت گرنے خدشہآل کراچی تاجر برادری کا گل پلازہ میں آتشزدگی پر کل یومِ سوگ کا اعلان

سعید مہدی جوکہ سینئر بیوروکریٹ رہے ہیں‘ اپنی حال ہی میں شائع ہونے والی خودنوشت میں لکھتے ہیں کہ ملتان میں انڈر ٹریننگ اے سی تھے تو کمشنر ملتان کے خلاف مارشل لاء انکوائری چلی۔ سابقہ ماتحتوں نے ان کے خلاف گواہیاں دیں۔ کمشنر گانے کی محفلوں کے شوقین تھے لہٰذا مشہور زمانہ اقبال بانو اور ثریا ملتانیکر کو بھی بلایا گیا۔ ان دونوں نے کمشنر کے خلاف ایک لفظ نہ کہا۔ پوچھا گیا کہ محفلوں کا کتنا پیسہ ملتا تھا تو انہوں نے کہا یہ ہمارے گُرو اور مہاراج ہیں‘ ان سے معاوضہ لینا گناہ سمجھتے ہیں۔ تاریخِ پاکستان کا مطالعہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ جنہیں اس معاشرے میں گانے والی کہا جاتا ہے اُن کا کردار بڑے بڑے لوگوں کے کردار سے کہیں اونچا ہے۔

سعید مہدی جوکہ سینئر بیوروکریٹ رہے ہیں‘ اپنی حال ہی میں شائع ہونے والی خودنوشت میں لکھتے ہیں کہ ملتان میں انڈر ٹریننگ اے سی تھے تو کمشنر ملتان کے خلاف مارشل لاء انکوائری چلی۔ سابقہ ماتحتوں نے ان کے خلاف گواہیاں دیں۔ کمشنر گانے کی محفلوں کے شوقین تھے لہٰذا مشہور زمانہ اقبال بانو اور ثریا ملتانیکر کو بھی بلایا گیا۔ ان دونوں نے کمشنر کے خلاف ایک لفظ نہ کہا۔ پوچھا گیا کہ محفلوں کا کتنا پیسہ ملتا تھا تو انہوں نے کہا یہ ہمارے گُرو اور مہاراج ہیں‘ ان سے معاوضہ لینا گناہ سمجھتے ہیں۔ تاریخِ پاکستان کا مطالعہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ جنہیں اس معاشرے میں گانے والی کہا جاتا ہے اُن کا کردار بڑے بڑے لوگوں کے کردار سے کہیں اونچا ہے۔

ارمی چیف کا بڑا فیصلہ گجرنوالہ کے کور کمانڈر میدی شاہ اور لاہور کے کور کمانڈر فیاض شاہ ھمراہ تفصیلات سھیل رانا لاءیو

ایک دورے کے دوران جب وہ ایک آپریشنل فارمیشن میں پہنچے تو معمول کے مطابق انہیں پروٹوکول اور بریفنگ کے لیے مخصوص جگہ پر لے جایا جانا تھا۔ مگر انہوں نے ہدایت دی کہ پہلے وہ اُن جوانوں سے ملیں گے جو کئی دنوں سے فیلڈ میں تعینات تھے۔انہوں نے جوانوں کے ساتھ سادہ ماحول میں وقت گزارا، ان کی ڈیوٹی کے اوقات، آرام، راشن اور طبی سہولتوں کے بارے میں براہِ راست سوال کیے۔ جب معلوم ہوا کہ کچھ مقامات پر لاجسٹک مسائل ہیں تو انہوں نے موقع پر ہی احکامات جاری کیے کہ جوان کی سہولت، آپریشن کی کامیابی جتنی ہی اہم ہے۔ان کا یہ جملہ وہاں موجود افسروں اور جوانوں کے لیے خاصا حوصلہ افزا تھا:”جو فوج اپنے جوان کا خیال رکھتی ہے، وہی قوم کا بھی مضبوطی سے دفاع کرتی ہے۔”یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ جرنل عاصم منیر کے نزدیک قیادت کا مطلب صرف فیصلے کرنا نہیں، بلکہ میدان میں موجود سپاہی کی فلاح کو ترجیح دینا بھی ہے۔