حیران کن، چیف جسٹس سرفراز ڈوگرکاایمان مزاری کو وکیل ماننے سےانکار۔۔!!خبر یہ ہے کہ سول کیس کی سماعت کے دوران وکلاء ہڑتال کا معاملہ سامنے آیا تو وکیل قیصر نے کہا آج وکلاء ہڑتال ہے بار نے ہڑتال کی کال دی رکھی ہےکس بات پر آج ہڑتال ہے ، میری عدالت میں تو سب پیش ہو رہے ہیں، چیف جسٹس سرفراز ڈوگربار کے وکلاء کی گرفتاری پر آج ہڑتال ہے ، وکیل قیصراس کیس میں سیکرٹری بار نے بھی پیش ہونا تھا لیکن ہڑتال کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے ، وکیل قیصرمیں کیس میں اپنی طرف سے حاضر ہوں لیکن سیکرٹری بار منظور ججہ پیش نہیں ہوئے ، وکیل قیصرکون سے وکلاء گرفتار ہوئے ہیں ، چیف جسٹس سرفراز ڈوگرایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ گرفتار ہوئے ہیں ، وکیلکیا آپ انھیں وکلاء سمجھتے ہیں ، چیف جسٹس سرفراز ڈوگرچیف جسٹس کے استفسار پر وکیل خاموش اگر اپ انھیں وکلاء سمجھتے ہیں تو چیمبر میں آکر اظہار رائے دے سکتے ہیں ، چیف جسٹس سرفراز
نومبر 2024 میں جب آئین قانون کی بالادستی جمہوریت کیلیے کھڑا ہونے کا وقت ہوا تو جعلی جمہوریت پسند مال آنا ڈیزل 27 ترمیم کے وقت فورا بنگلہ دیش بھاگ گیا جب معاملہ ٹھنڈا ہوا وہی رہا منا-فق شخصساری زندگی عمران خان کے خلاف جھوٹے جہودی ایجنٹ کے فتوی دیتا رہا جب اصل جہودی ایجنٹس نے گازا کا سودا کیا تو دین فروش ملا جہودی ایجنٹوں کے خلاف کھڑے ہونے کے بجاے پاریمنٹ میں محض ایک تقریر کر کہ ساؤتھ افریقہ کی پہلی دستیاب فلائٹ سے بھاگ جانا مناسب سمجھا پھر معاملہ ٹھنڈا ہونے تک وہیں رہے گایہ جعلی جمہوریت فروش اور دین فروش ڈھونگی ہر دفعہ خاص موقعوں پر ملک سے باہر اسلیے بھاگ جاتا ہے کیونکہ اسکے قول و فعل میں تضاد ہے یہ مفاد پرست نہ کبھی جمہوریت کا نہ کبھی امن کا نہ ائین قانون کی بالادست کا اور نہ کبھی دین کی بالادستی کیلیے کھڑا ہواہمیشہ کھڑا ہوا تو طاغوتی قوتوں کی صفوں میں
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا چکدرہ میں اسٹریٹ موومنٹ ریلی کے شرکاء سے اختتامی خطاب* وزیر اعلیٰ نے شاندار استقبال پر کارکنان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پختونوں کے جوش و خروش نے آج کئی لوگوں کی نیندیں حرام کر دی ہوں گی۔ یہ جذبہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قوم بیدار، متحد اور اپنے حق کے لیے کھڑی ہے۔ * تیراہ متاثرین سے متعلق وفاقی حکومت کے متضاد نوٹیفکیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے پختونوں پر مسلط کیے گئے۔آج وہی لوگ اپنے فیصلوں سے مکر رہے ہیں، جو اس ناانصافی کا کھلا اعتراف ہے۔* تیراہ متاثرین سخت ترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ سب فارم 47 کی جعلی حکومت کی وجہ سے ہے۔ ہم کوئی تجربہ گاہ یا کیڑے مکوڑے نہیں کہ ہم پر بار بار تجربے کیے جائیں۔*
وہ کسی بھی حربے سے ڈرنے والے نہیں کیونکہ زندگی، موت، عزت اور ذلت سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ مخالفین اگر پوری دنیا کی دولت بھی اکٹھی کر لیں تو بھی وہ ان کی قیمت نہیں لگا سکتے۔* عمران خان سے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ عمران خان کے سپاہی ہیں اور کسی خوف کا شکار نہیں۔* ملاکنڈ ریجن نے آج ثابت کر دیا کہ پورے پاکستان کا نوجوان عشقِ عمران میں ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
-وزیر اطلاعات ۔۔۔ میڈیا گفتگوحکومت نے وادی تیراہ سے لوگوں کے انخلاء سے متعلق جھوٹے پروپیگنڈے کا سختی سے نوٹس لیا ہے، خیبر پختونخوا حکومت احتجاج کی سیاست کی بجائے عوامی مسائل پر توجہ دے، عوام احتجاج کی کالیں سن سن کر تھک چکے ہیں، اب عوام سہولتیں چاہتے ہیں، عطاء اللہ تارڑکوٹ مومن ۔25جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے وادی تیراہ سے لوگوں کے انخلاء سے متعلق جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا سختی سے نوٹس لیا ہے، علاقے کو خالی کرانے سے متعلق من گھڑت اور حقائق کے منافی خبریں چلائی گئیں، خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے چار ارب روپے کے فنڈز رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کے لئے مختص کئے گئے اس حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کے ریلیف و بحالی ڈیپارٹمنٹ کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن موجود ہے، وادی تیراہ سے نقل مکانی کو پاک فوج سے جوڑنا سراسر بے بنیاد اور غلط ہے۔ اتوار کو یہاں سینئر صحافی عون شیرازی کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے عون شیرازی کی اہلیہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ تعزیت کے لئے خود حاضر ہوئے ہیں،
ہم اس دکھ میں سوگوار خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سید عون شیرازی اور ان کے خاندان کا صحافت سے گہرا تعلق ہے اور انہوں نے جس ذمہ داری اور وقار کے ساتھ صحافت کے شعبے میں خدمات انجام دی ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔ وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت نے وادی تیراہ سے لوگوں کے انخلاء سے متعلق پھیلائے گئے جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ وادی تیراہ میں نقل مکانی کو پاک فوج سے جوڑنا سراسر بے بنیاد اور غلط ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے ریلیف و بحالی ڈیپارٹمنٹ کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن موجود ہے جس میں صوبائی حکومت کی طرف سے چار ارب روپے کے فنڈز رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کے لئے مختص کئے گئے ہیں جس کا مقصد موسم کی شدت اوردیگر عوامل کے پیش نظر لوگوں کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر خیبر نے بھی اس حوالے سے وضاحت جاری کی ہے کہ جرگہ ہوا اور جو لوگ موسم کی شدت کے پیش نظر رضاکارانہ طور پر جانا چاہتے تھے یہ رقم ان کے لئے رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا ایک واضح اور منظم طریقہ کار ہوتا ہے جس میں عوام کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے برعکس یہ کہنا کہ فوج علاقے کو خالی کروا رہی ہے، غلط اور بے بنیاد ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت اطلاعات نے اس حوالے سے باقاعدہ پریس ریلیز اور سوشل میڈیا پر بیان جاری کر کے صورتحال کی وضاحت کی اور حکومت نے اس کا سختی سے نوٹس لیا۔
اس معاملے کو فوج سے جوڑنا سراسر غلط اور بے بنیاد ہے، اگر ایسی بات ہوتی تو خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والوں کے لئے چار ارب روپے کیوں رکھے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جب موسم کی شدت ہوتی ہے تو ہر سال وہاں سے نکل مکانی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبر پختونخوا حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ احتجاج کی سیاست کرنے کی بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دے، احتجاج کی کالیں سن سن کر عوام تھک چکے ہیں اور لوگ اب سہولتیں، امن و امان اور بہتر معیار زندگی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سیف سٹیز منصوبوں، سی ٹی ڈی فورس، فارنزیک لیبز کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے اور صحت و سماجی شعبے میں بہتری کے لئے وسائل بروئے کار لائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے غیور عوام اس بات کے حق دار ہیں کہ انہیں بھی وہی معیار زندگی میسر ہو جو ملک کے دیگر صوبوں میں موجود ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں فیصلہ احتجاج کی بنیاد پر نہیں بلکہ عوامی خدمت کی بنیاد پر ہوگا اس لئے عوام کی خدمت کو ترجیح دی جائے۔
ضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، بی ایل اے کا اہم کمانڈر ثاقب مری عرف شیدا ہلاکضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے بی ایل اے کے سرگرم اور مطلوب کمانڈر ثاقب مری عرف شیدا کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا دہشت گرد دکی، ہرنائی، سبی اور ملحقہ علاقوں میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان میں براہِ راست ملوث تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ثاقب مری نہ صرف ایک فیلڈ کمانڈر تھا بلکہ مختلف دہشت گرد نیٹ ورکس کو منظم کرنے میں بھی مرکزی کردار ادا کرتا رہا۔ وہ زیارت ورچوم میں کرنل لائق پر ہونے والے حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی تھا اور سیکیورٹی اداروں کو طویل عرصے سے مطلوب تھا۔
بلوچستان کو صرف انسانوں کیلئے ہی نہیں جانوروں کیلئے بھی محفوظ بنائیں گے، میونسپل انتظامیہ کتوں بلیوں کو جعلی ویکسین دیں نہ ہی ماریں، سرفراز بگٹیبلوچستان اب صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں جانوروں کے لئے بھی محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔ کوئٹہ میونسپل انتظامیہ کو واضح ہدایات ہیں کہ کتوں اور بلیوں کو نہ مارنا ہے اور نہ ہی جعلی ویکسین دینی ہے بلکہ بین الاقوامی معیار کی TNVR دینی ہے۔ “پناہ کوئٹہ” کے تعاون سے کوئٹہ میں بلیوں اور کتوں کو سنبھالنے کا عمل جاری ہے
دنیا جس کے سامنے کبھی بچھ بچھ جاتی تھیاقتدار چھنتے ہی سب نے اس سے منہ موڑ لیا! محمد رضا شاہ پہلوی کی زندگی کے آخری ایام کسی افسانوی فلمی داستان سے کم نہیں ہیں۔ جاہ و جلال سے جلاوطنی، اور پھر بیماری کی حالت میں وفات ان کا مقدر بنیں۔وہ ایک وقت تھا جب”ملکہ برطانیہ ملکہ الزبھ” نے شہنشاہِ ایران کے بیٹے “رضا پہلوی” کو اپنا بیٹا بنایا تھا”پھر شہنشاہ ایران کا داستان عبرت و حسرت! شہنشاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کا اقتدار جب سوا نیزے پر تھا۔ اسکے ولی عہد بیٹے رضا پہلوی (اج کل امریکا میں مقیم) نے برطانیہ کے دورے پر بکنگھم پیلس میں ٹھہرنے کی خواہش کا اظہار بہ اصرارکیا۔ شاہی روایات، قانون اورپروٹوکول کے مطابق برطانوی شاہی خاندان کے سوا کسی کو شاہی محل میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں مگر اس دور میں ایران جیسی بادشاہت کو ناراض بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ملکہ برطانیہ نے ایران کے ولی عہد کو “اپنا منہ بولا بیٹا” بنایا جس سے اسے شاہی محل میں ٹھہرنے کی اجازت مل گئی۔گردش زمانہ اور بے رحمی افلاک ملاحظہ فرمائیے!جب شہنشاہ ایران تخت نشینی سے خاک نشین ہوا تو دنیا نے آنکھیں پھیر لیں۔جب شہنشاہ کے جہاز کا رخ برطانیہ کی طرف ہوا، اسی برطانیہ کی طرف جس شہنشاہ کے ولی عہد بیٹے کے نخرے اٹھانے کے لئے اسے اپنا بیٹا بنا لیا تھا اسی حکومت نے شہنشاہ کا جہاز اپنی سرزمین پر اترنے کی اجازت نہ دی۔
شاہ سب سے پہلے مراکش گئے، پھر بہاماس میں بھی مقیم رہے، اور پھر میکسیکو کا رخ کیا، میکسیکو نے اگر چہ پناہ دے دی لیکن اس میں پروٹوکول نہیں تھا بلکہ عام سیاسی پناہ تھی۔ امریکہ نے سیاسی مصلحتوں اور ایران میں یرغمال بنائے گئے امریکی سفارت کاروں کے خوف سے شاہ کو پناہ دینے سے انکار کر دیا۔اس موقع پر ملکہ فرح دیبا جو اوجِ ثریا سے زمین پر آکر پستیوں میں گر چکی تھی۔
اپ نے مصر کے “جیہان” سے رابطہ کرکے مدد کی درخواست کی۔ جیہان نے اپنے خاوند سے بات کی۔ اتفاقاً عین اس موقع پر شہنشاہ کا خط صدر انور سادات کو ملا جس میں اس نے کہا…. ”میں دنیا کا سب سے بڑا بدنصیب اور بھکاری ہوں۔ خدا کے واسطے مجھے مصر میں آنے دو اور میری پہلی بیوی شہزادی فوزیہ کے وطن میں دفن ہونے دو“اس خط کو پڑ ھ کر ”مصری صدر“ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے یہ درخواست قبول کر لی۔ جب دنیا کا کوئی ملک شاہ کو مستقل ٹھکانہ دینے کو تیار نہ تھا، تو مصر کے صدر انور سادات نے جرأت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے شاہ کو ایک عظیم لیڈر اور دوست کے طور پر نہ صرف مصر انے اجازت دی بلکہ پورے احترام کے ساتھ مہمان بنا کر رکھا۔پس مارچ 1980 میں شاہ پاناما سے ہوتے ہوئے شہنشاہ ایران قاہرہ پہنچے، جہاں ان کا شاہانہ استقبال کیا گیا۔یہ بھی کہا جاتاہے کہ قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے مصری صدر نے اپنی بیٹی کی شادی”رضا شاہ پہلوی“ کے بڑے بیٹے محمد رضا پہلوی سے کر دی پھر ”سمدھی “ہونے کے ناطے ان کو ”شہنشاہ ایران “کے مصر میں آنے کا جواز مل گیا۔ بعد میں شادی کا انجام علیحدگی پر ہوا۔شاہ کو طویل عرصے سے کینسر (Non-Hodgkin Lymphoma) تھا، جسے انہوں نے برسوں تک دنیا سے چھپائے رکھا۔ جلاوطنی کے دوران ان کی حالت بگڑنے لگی۔ جب انہیں علاج کے لیے مختصر وقت کے لیے امریکہ جانے کی اجازت ملی، تو ایران میں غصے کی لہر دوڑ گئی اور تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا گیا۔ قاہرہ میں شاہ کا آپریشن کیا گیا لیکن کینسر ان کے پورے جسم میں پھیل چکا تھا۔ 27 جولائی 1980 کو صرف 60 سال کی عمر میں شاہ کا قاہرہ کے ایک ہسپتال میں انتقال ہوا۔ مصری صدر نے ان کا سرکاری سطح پر جنازہ پڑھایا۔ انہیں قاہرہ کی مشہور مسجد الرفاعی میں سپردِ خاک کیا گیا (اسی مسجد میں مصر کے آخری بادشاہ اور ان کی بیوی فوزیہ کا باپ فاروق اول بھی دفن ہیں)۔شاہِ ایران نے بسترِ مرگ پر اپنی یادداشتوں میں لکھا تھا کہ انہیں اس بات کا سب سے زیادہ دکھ ہوا کہ جن دوستوں کے لیے وہ وفادار رہے، انہوں نے مشکل وقت میں انہیں تنہا چھوڑ دیا۔محمد رضا شاہ پہلوی کے دور میں ایران نے ترقی کی منزل پر منزل طے کی۔ شاہ ایران عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کچھ کر سکتے تھے کیا۔ ایران کو دنیا میں بلند مقام تک لے گئے۔ اس دور میں کرپشن نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ایرانی شاہی خاندان کی کہانیوں کے آخر میں اہم ناموں کی وضاحت یہ ہے۔▪️ایران کے آخری شاہ کا نام محمد رضا شاہ پہلوی تھا۔▪️ان کے والد کا نام رضا خان تھا۔▪️ولی عہد کا نام رضا پہلوی ہے جو فی الحال امریکہ میں مقیم ہیں۔انسان کی غرورشاہ کے والد رضا خان نے احمد شاہ قاچار کا تختہ الٹ کر پہلے وزیر اعظم اور بعد میں بادشاہ کی حیثیت اختیار کی۔ برطانیہ اور روس نے جرمنی کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر انہیں اقتدار سے ہٹا کر ان کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی کو تخت نشین کرایا۔محمد رضا شاہ پہلوی، جنہیں 6 سال کی عمر میں ولی عہد قرار دیا گیا تھا،
22
سال کی عمر میں ایران کے بادشاہ بنے اور تقریباً 38 سال تک ایران پر حکمرانی کی۔ وہ اپنی سلطنت کو تین ہزار سال پرانی ایرانی سلطنت کا تسلسل قرار دیتے تھے۔انہوں نے خود کو محض “بادشاہ” کہلانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ خود کو “شہنشاہ” یعنی بادشاہوں کے بادشاہ کا لقب دیا۔ بلکہ “آریہ مہر” کا خطاب اختیار کیا جس کا مطلب ہے آریائی قوم کا بادشاہ – یہ قوم ہندوستان، پاکستان، افغانستان، ایران، ترکی، یورپ، وسط ایشیا کے بیشتر علاقوں اور روس میں آباد ہے۔شہنشاہ اپنی ذہانت کو لاثانی اور خود کو عقلِ کل سمجھتے تھے۔ اقتدار کی مضبوطی کو وہ اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کا نتیجہ گردانتے تھے۔انہیں یقین تھا کہ ان کی سلطنت کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا،
مگر جب زوال آتا ہے تو تمام تر تدبیریں، منصوبے اور حکمت عملیاں ہوا کے رُخ پر رکھے چراغوں کی مانند بے نور ثابت ہوتی ہیں۔شہنشاہ کے پاس بے پناہ دولت تھی – ان کے اثاثوں کی مالیت ایک سو پچاس ارب ڈالر سے زیادہ تھی – مگر سکون میسر نہ تھا۔ انہوں نے وسیع و عریض مملکت پر تقریباً 40 سال حکومت کی، مگر اسی سلطنت میں انہیں قبر کے لیے دو گز زمین بھی میسر نہ آ سکی۔ایسی دربدری دنیا کے طاقتور افراد اور دولت کے انبار لگانے والوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔یہ ہے زندگی کا منظرنامہ…اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
امریکہ بھی کبھی ہماری ملکیت میں تھا۔۔برطانوی صحافی پیئرس مورگن کا چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آگیا ہے،انکا کہنا ہےکہ امریکہ نے برطانیہ سے آزادی تو حاصل کرلی۔۔۔۔۔۔۔لیکن کبھی برطانیہ کی ملکیت ضرور رہا ہے۔۔
مورگن کے مطابق اگر تاریخ کو کھولاجائےتو ٹرمپ کو یہ بات یادرکھنی چاہیےکہ امریکا خودبھی نوآبادیاتی ماضی رکھتا ہے۔۔اس لیے دنیا کو اخلاقیات کا درس دینے سے پہلے اپنے ماضی پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔۔ اور ایک نئی بحث کو جنم دےرہا ہےکہ کیا عالمی طاقتیں اپنی تاریخ بھول چکی ہیں۔۔
جنوبی ایشیا میں بڑی سیاسی تبدیلی: پاکستان نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر یو اے ای کا کردار ختم کر دیاپاکستان نے ایک اہم فیصلے کے تحت متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے انتظام سے متعلق معاہدہ باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے۔یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اب اپنے اہم اور حساس اداروں پر مکمل قومی کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس اقدام سے یہ سوال بھی پیدا ہو گیا ہے کہ آئندہ پاکستان میں خلیجی ممالک کی شراکت داری کس حد تک برقرار رہے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے کی سیاسی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔
پاکستان ذندہ باد ۔اظہر سیدن لیگ اور پیپلز پارٹی والے ناحق لڑتے ہیں ،مسٹر ٹن پرسنٹ،سرے محل، ایس جی ایس کوٹیکنا ، لندن فلیٹ اور مرحومہ تحریک لبیک سب ہتھیار تھے جو ریاست کی ملکیت برقرار رکھنے کیلئے استمال ہوتے تھے ۔ ثاقب نثار یا کھوسہ اکلوتے پالتو نہیں اس حمام میں جسٹس منیر،ارشاد حسن ،افتخار چوہدری، مولوی مشتاق ایسے بہت سارے منصف ننگے نہا رہے ہیں۔استمال کرنے والے تو ایسے ہنر مند ہیں جے سندھ کا نعرہ لگانے والے جی ایم سید کو مرشد بنا لیتے تھے ۔ہم کیو ایم بنانے کے پیچھے اردو سپیکنگ نوجوانوں کی بھلائی نہیں تھی پیپلز پارٹی کو چیلنج کرنا تھا۔جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغکے پیچھے پنجاب سے محبت نہیں تھی
پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک کو لوٹنا تھا ن لیگ کا ووٹ بینک بنانا تھا ۔جنرل باجوہ ،جنرل فیض کا پالتو ججوں اور ففتھ جنریشن پلاٹون کی مدد سے نواز شریف،اصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کو گالیاں دینا،چور ڈاکو مشہور کرنا اور سیکورٹی رسک بتانا ایک نوسر باز کو لیڈر بنانے کیلئے تھا ۔میثاق جمہوریت کے ہوتے ہوئے مالکوں سے ریاست کی ملکیت واپس لینے کا سنہری موقع نوسر باز کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر کے ضائع کر دیا گیا ۔اب مالکان بہت طاقتور ہیں۔بین الاقوامی حالات واقعات مالکان کو بہت زیادہ طاقت فراہم کر چکے ہیں ۔جمہوریت اب نہیں آئے گی ۔جمہوریت تو دنیا کے مہذب سمجھے جانے والے مغربی ممالک میں بھی نہیں ہے ۔خلق خدا نے کبھی راج کیا ہے نہ کرے گی ۔انسانی حقوق اور آئین قانون کی باتیں صرف کتابوں میں اچھی ہیں حقیقت یکسر مختلف ہے۔فوج پر تنقید کرنا بند کریں اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائیں ۔
‼️ *سوشیل میڈیا انفلوئنسرز اور وی لاگرز کے ساتھ ایک خصوصی نشست*‼️*سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی آج ایک اعلیٰ سیکورٹی عہدیدار سے نشست ہوئی جسمیں شرکاء کے ساتھ اہم سیکورٹی معاملات پر کھل کر بات چیت کی گئی ۔ حکام نے شرکاء کے تمام سوالات کے تفصیلی جوابات دیئے۔ بات چیت کے اختتام پر شرکاء نے سیکورٹی حکام کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ کو سراہا۔ بریفنگ کے اہم مندرجات درج ذیل ہیں:*📌 پاکستان ہر حال میں اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے گا، سیکورٹی ذرائع📌 پاکستان کا مفاد سب کیلئے مقدم ہے اور ہمارے تمام قومی فیصلوں کا محور پاکستان اور پاکستانی عوام کا مفاد ہے۔ سیکورٹی ذرائع 📌 فوج اور قوم کے درمیان کوئی دراڑ نہیں ڈال سکتا، نہ ہی کسی کو اس کی اجازت دی جائے گی۔ یہ رشتہ بہت گہرا ہے، سیکورٹی ذرائع📌 تمام سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادت قابلِ احترام ہیں تاہم کوئی بھی اپنی ذات کو پاکستان سے بالاتر نہ سمجھے
سیکورٹی ذرائع📌موجودہ سیاسی قیادت قابل احترام ہے جس نے وقت کے تقاضوں کے مطابق مشکل لیکن بروقت اور دلیر فیصلے کیے، سیکورٹی ذرائع📌 قیاس آرائیوں کے تدارک اور حقائق کی ترویج کیلئے روابط ضروری ہیں، ہمیں کسی کی حب الوطنی پر شک نہیں۔ سیکورٹی ذرائع📌 نوجوانوں کو مثبت سمت میں گامزن کرنے کیلئے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، سیکورٹی ذرائع 📌 پاکستان کبھی بھی فلسطینی عوام کی امنگوں کے خلاف نہیں جائے گا، سیکورٹی ذرائع 📌 اس وقت غزہ میں ہونے والی خونریزی کو روکنا ہماری اور دوست مسلمان ممالک کی اولین کوشش ہے۔سیکورٹی ذرائع 📌 کسی بھی فورس کی تشکیل، مینڈیٹ اور تعیناتی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، امن بورڈ کا قیام غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے ہے، سیکورٹی ذرائع📌 افواج کی بیرون ملک کسی بھی تعیناتی کا فیصلہ حکومت کا استحقاق ہے ، سیکورٹی ذرائع📌 پاکستان کی افواج حماس کو غیر مسلح کرنے میں حصہ دار نہیں ہونگی۔ حماس کو غیر مسلح کرنے میں شرکت ہماری ریڈ لائن ہے، سیکورٹی ذرائع📌پاکستان فلسطین کے مسئلے پر اپنے اصولی مؤقف پر آج بھی قائم ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا ۔ سیکورٹی ذرائع 📌 غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ 8 بڑےاسلامی ممالک سے مشاورت اور مکمل سوچ بچار کے بعد کیا، سیکیورٹی ذرائع📌 فلسطینیوں کی نسل کشی سے اسرائیل کو صرف امریکا ہی روکنے کی پوزیشن میں ہے۔ غزہ میں خون ریزی کو سیاسی عمل اور بات چیت سے ہی روکا جاسکتا ہے۔ سیکورٹی ذرائع📌 پاکستان ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی میں کثیر الجہتی طریقہ اپناتا رہا ہے، سیکورٹی ذرائع📌 پاکستان چین تعلقات مضبوط اور اسٹریٹجک ہیں اور باہمی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مزید مستحکم ہو رہے ہیں سیکورٹی ذرائع📌 بھارت اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ سیکورٹی ذرائع📌 پاکستان کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول اور مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کرانے کیلئے تمام کوششیں بروئے کار لاتا رہے گا- کشمیر بنے گا پاکستان، ہمارا قومی عزم ہے۔ سیکورٹی ذرائع
📌 قومی ایکشن پلان ایک متفقہ دستاویز ہے جس کی توثیق تمام سیاسی جماعتوں نے کی۔ دہشت گردی کے مکمل تدارک کیلئے اس پر سب کو عمل کرنا ہوگا۔ سیکورٹی ذرائع📌 انسدادِ دہشت گردی کیلئے افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے شب وروز قربانیاں دے رہے ہیں۔ مکمل کامیابی کا حصول تمام سٹیک ہولڈرز کی یکسوئی کے ساتھ کردار ادا کرنے سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ سیکورٹی ذرائع📌 ملک سے دہشت گردی ختم کرنے کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو خلوص نیت سے کام کرنا ہو گا،سیکورٹی ذرائع📌 بلوچستان سیاسی سرپرستی میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد، گورننس، روزگار کے مواقع کی فراہمی،
اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور اداروں کی استعداد کار میں اضافے سے سیکورٹی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔ سیکورٹی ذرائع📌 افغانستان کی طرف سے جارحیت کے مؤثر جواب کے بعد دہشتگردی کے سرحد پار سے دہشتگردی کے واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی۔ سیکورٹی ذرائع معرکۂ حق سے متعلق تمام فیصلے وزیراعظم کی سربراہی میں حکومت وقت نے کیے۔ افوج پاکستان نے معرکۂ حق میں اپنی پیشہ ورانہ رائے دی، سیکیورٹی ذرائع📌ہمارے سیاستدانوں اور سفارتکاروں نے معرکۂ حق کے بعد بہترین سفارتکاری کی۔ سیاستدانوں کی ملک کیلئے گراں قدر خدمات ہیں۔ سیکورٹی ذرائع 📌 پاکستان جمہوریت سے ہی آگے بڑھے گا اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جمہوری اقدار کے فروغ پر یقین رکھتے ہیں۔ سیکورٹی ذرائع📌 کسی صوبائی حکومت کو سیکورٹی بریفنگ کیلئے وفاق سے رجوع کرنا چائیے۔ سیکورٹی ذرائع📌 سیاست، مالی فائدے یا مذہب کا لبادہ اوڑھ کر دہشت گردی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،سیکورٹی ذرائع
یہ تو ہم کل پڑھ چکے ہیں کہ شہنشاہ ایران خود اپنا طیارہ اڑا کر مصر روانہ ہوگئے تھے….. لیکن بعد میں شہنشاہ کے طیارے کا کیا ہوا؟ شاہ ایران کا طیارہ “شاہین” (Boeing 707-386C) اپنی ایک الگ اور دلچسپ تاریخ رکھتا ہے۔ شاہ تہران سے اڑ کر پہلے مصر گئے اور پھر وہاں سے مراکش چلے گئے، جہاں “شاہین طیارہ” مراکش کے ایئرپورٹ پر ہی کھڑا رہا۔جب شاہ مراکش سے بہاماس اور دیگر ممالک کی طرف روانہ ہوئے تو وہ اس بڑے جہاز کے بجائے چھوٹے نجی طیاروں میں سفر کرنے لگے، کیونکہ اب وہ ایک بادشاہ کے بجائے ایک پناہ گزین کی حیثیت میں تھے اور اتنے بڑے عملے اور جہاز کو ہر جگہ ساتھ لے جانا ممکن نہیں رہا تھا۔”شاہین” اپنے دور کا جدید ترین اور پرتعیش ترین طیارہ تھا، جسے اس کی بے پناہ آسائشات کی وجہ سے “اڑتا ہوا محل” کہا جاتا تھا۔ اس وقت (1970 کی دہائی میں) اس کی تزئین و آرائش پر تقریباً 15 ملین ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔اس کے اندرونی حصے میں عیش و عشرت کا یہ عالم تھا کہطیارے میں سونے کا استعمال (Gold Plating) ہوچکا تھا۔ اس کے باتھ روم کے نل (Faucets)، سنک، تولیے رکھنے کے سٹینڈ اور یہاں تک کہ سیٹ بیلٹس کے بکلز (Buckles) پر بھی 24 قیراط سونے کی تہہ چڑھی ہوئی تھی۔اس میں ایک وسیع بیڈروم تھا جس میں شاہی سائز کا بستر (King-size bed) موجود تھا۔ بیڈروم کے ساتھ ایک پرتعیش باتھ روم تھا جس میں شاور کی سہولت بھی موجود تھی، جو اس دور کے طیاروں میں ایک انتہائی نایاب چیز تھی۔طیارے میں ایک بڑا ڈائننگ ٹیبل تھا، یہاں استعمال ہونے والے برتن اعلیٰ معیار کے چینی مٹی (Fine China) اور چاندی کے تھے۔ مخمل اور چمڑے کے آرام دہ صوفے لگے ہوئے تھے، اور فرش پر ہاتھ کے بنے ہوئے قیمتی ایرانی قالین بچھے ہوئے تھے۔اس دور میں یہ طیارہ دنیا کے جدید ترین مواصلاتی نظام سے لیس تھا۔ یہ ٹیلی فون سسٹم سے منسلک تھا، جس کے زریعے شاہ فضا سے دنیا کے کسی بھی کونے میں رابطہ کر سکتے تھے۔
اس وقت کا بہترین ٹیلی ویژن، ساؤنڈ سسٹم آڈیوز اور ویڈیو پلیئرز نصب تھے۔طیارے میں ایک مکمل جدید باورچی خانہ (Galley) تھا۔ اس کے علاوہ عملے کے آرام کرنے کے لیے الگ سے کیبن بنے ہوئے تھے۔ اندرونی سجاوٹ کے علاوہ، طیارہ اس وقت کے اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم سے بھی لیس تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے سے بچا جا سکے۔کیا یہ جہاز کی ایران واپس لایا گیا؟اسلامی انقلاب کے آنے کے بعد، فروری 1979 نئی حکومت نے مطالبہ کیا کہ شاہی اثاثے واپس کیے جائیں۔ شاہین طیارے کے پائلٹ اور عملے کے کچھ ارکان نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ جہاز ایران کی نئی حکومت کے حوالے کر دیں گے۔پائلٹ کرنل بہزاد معزی اس طیارے کو مراکش سے اڑا کر واپس تہران لے آئے۔تہران پہنچنے پر انقلابیوں نے اس کا نام بدل کر “1001” رکھ دیا اور اسے سرکاری بیڑے کا حصہ بنا لیا۔ انقلابیوں نے اس کی شاہانہ آسائشات دیکھ کر اسے “عوام کے خون سے بنی ہوئی عیاشی” قرار دیا تھا۔اس جہاز کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔۔۔جولائی 1981 میں، اسی طیارے کو استعمال کرتے ہوئے سابق صدر ابوالحسن بنی صدر اور مجاہدینِ خلق کے رہنما مسعود رجوی ایران سے فرار ہو کر پیرس گئے۔ اس پرواز کو وہی پائلٹ کرنل بہزاد معزی اڑا رہا تھا جو اسے مراکش سے واپس لایا تھا۔ فرانس پہنچنے کے بعد، فرانسیسی حکومت نے طیارہ دوبارہ ایران کے حوالے کر دیا۔موجودہ حیثیتایران کی فضائیہ نے اس طیارے کو دہائیوں تک استعمال کیا۔ اس کا شاہی نام “شاہین” ختم کر کے اسے “تہختِ جمشید” کا نام دیا گیا اور اسے وی آئی پی (VIP) شخصیات کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔اطلاعات کے مطابق، آج یہ طیارہ اپنی تمام پرانی سجاوٹ کے ساتھ تہران کے مہر آباد ایئرپورٹ پر کھڑا ہے۔ اس کی چمک دمک وقت کے ساتھ ماند پڑ چکی ہے۔ اب یہ اپنی عمر اور پرزوں کی کمی کی وجہ سے اب یہ پرواز کے قابل نہیں رہا اور اسے ایک تاریخی یادگار یا “اسٹیٹک ڈسپلے” کے طور پر رکھا گیا ہے۔
شیخ صاحب پکڑے گئے 😂 😜👇 لاہور کی گولڈ مارکیٹ سے ایک ارب سے زائد مالیت کا سونا لے کر بھاگنے والا تاجر شیخ وسیم اختر “ شیخ “ ہونے کی وجہ سے گرفتار ہو گیا۔شیخ صاحب نے اپنے دو پرانے موبائل اسلام آباد روپوش ہو کر مارکیٹ میں چند ہزار میں بیچے اور دو نئے موبائل خریدے۔ پرانے موبائل جب کسی گاہک نے خرید کر آن کیے تو IMEI سے گاہک ٹریس ہوا۔ گاہک سے دکاندار ٹریس ہوا۔ دکاندار کے ریکاڈ سے نئے موبائلز کے IMEI نمبرز ملے۔ اور یوں شیخ پکڑا گیا۔ 🙌
*پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کیوں اہم ہے؟**عالمی پس منظر اور مقصد*•پاکستان نے World Economic Forum 2026 (ڈیووس) میں بورڈ آف پیس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر شرکت کی، جس کا واضح مقصد فلسطین میں امن کے قیام کی حمایت ہے۔•یہ اقدام غزہ میں مستقل جنگ بندی کے حصول اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطین کی تعمیرِ نو پر مرکوز ہے۔•تعمیرِ نو کے منصوبے میں گھروں، اسپتالوں، اسکولوں، پانی و بجلی کے نظام کی بحالی، روزگار کی بحالی اور فلسطینی عوام کی عزتِ نفس کی واپسی شامل ہے۔*عالمی شراکت اور مسلم دنیا کی نمائندگی*•پاکستان کے ساتھ سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، بحرین، مراکش، ارجنٹائن، ہنگری اور امریکہ شامل ہیں۔•متعدد مسلم اکثریتی ممالک کی موجودگی اس امر کی ضمانت دیتی ہے کہ فلسطینی حقوق، ریاستی حیثیت اور حقِ خودارادیت مرکزی ایجنڈا رہے۔ *پاکستان کا اصولی مؤقف*•پاکستان کا مؤقف غیر متزلزل ہے: 1967 سے قبل کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست، القدس الشریف بطور دارالحکومت؛ قبضے اور غزہ کے عوام کی نسل کشی کی دوٹوک مخالفت۔•گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں فلسطینی وزیرِاعظم نے غزہ میں امن کی غیر متزلزل حمایت، جاری نسل کشی کے خلاف مضبوط موقف اور عالمی فورمز پر فلسطینی حقوق کی مستقل وکالت پر ذاتی طور پر وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ *پاکستان کی بحالی امن کیلئے خدمات کا اعتراف*•تقریب کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکی صدر کے درمیان خوشگوار تبادلۂ خیال ہوا۔•امریکی صدر نے COAS & CDF فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب تعریفی اشارہ کیا جو پاکستان کی قیادت، اداروں اور عالمی وقار کے اعتراف کی غمازی کرتا ہے۔ *پاکستان کا کردار اور مستقبل کا روڈ میپ*
•پاکستان محض تماشائی بننے کے بجائے ٹھوس نتائج کے حصول کیلئے اس فورم کا حصہ بنا۔ •پاکستان نے اسٹریٹجک خودمختاری کو برقرار رلھتے ہوئے بلاک سیاست کو مسترد کیا اور اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر تمام بڑی طاقتوں سے رابطہ رکھا۔ •بورڈ آف پیس میں شمولیت کسی فوجی کردار یا اسٹیبلائزیشن فورس میں شرکت سے منسلک نہیں۔•مستقبل میں کسی بھی سیکیورٹی کردار پر غور صرف اقوامِ متحدہ کے مینڈیٹ، قومی مفاد اور فلسطینی عوام کی خواہشات کے مطابق ہوگا۔•پاکستان نے خاموشی کے بجائے شرکت کو ترجیح دی تاکہ غزہ کے مستقبل کا حل مسلم دنیا کی نمائندگی اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے ساتھ ہو۔
9 لاکھ 94 ہزار نوکریاں – وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ایکس اکاونٹ پوسٹ الحمدُللہ — فروری 2024 سے اب تک پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 9 لاکھ 94 ہزار 36 روزگار کے مواقع پیدا کیے جاچکے ہیں۔ مریم نواز شریف3 لاکھ 15 ہزار 536 نوکریاں باقاعدہ سرکاری بھرتیوں ، ادارہ جاتی اصلاحات اور سروسز میں توسیع کے ذریعے پیدا کی گئیں۔ مریم نواز شریف مریم نواز ہیلتھ کلینکس ، سکولز ، ستھرا پنجاب سمیت دیگر منصوبوں سے نوکریاں دی گئیں۔ مریم نواز شریف 2 لاکھ 3 ہزار روزگار کے مواقع آسان کاروبار فنانس کے تحت ایس ایم ای فنانسنگ کے ذریعے فراہم کیے گئے۔ مریم نواز شریف4 لاکھ 75 ہزار 500 بالواسطہ اور بالواسطہ پیدا ہونے والی نوکریاں اپنی چھت اپنا گھر ، سڑکوں اور دیگر تعمیراتی منصوبوں سے وابستہ ہیں۔ مریم نواز شریف حکومتِ پنجاب غربت کے خاتمے ، جامع معاشی ترقی اور پائیدار روزگار کی فراہمی کے عزم پر ثابت قدم ہے۔ مریم نواز شریف
ڈبل وکٹ ورلڈ کپ 🏆 پاکستان نے انڈیا کو 5 رنز سے شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا 🔥💯 انڈیا ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا 🤧😂 ارفان پٹھان رافیل کے ذریعے وطن واپس آنے کے لیے تیار 😁شعیب ملک اور عمران نذیر کی شاندار پرفارمینس کو سلام ❤️🫡#PakVsIndia
مری میں شدید برفباری کی پیشگوئی کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے الرٹ جاری کر دیا ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر مری میں موجود سیاحوں میں کھانے پینے کی اشیا تقسیم کی جا رہی ہیں۔صوبائی وزیر ملک صہیب احمد بھرتھ کے مطابق شاہراہوں سے برف ہٹانے اور نمک کے چھڑکاؤ کے تمام انتظامات فعال کر دیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مری کی اہم شاہراہوں پر ہائی وے مشینری تعینات ہے، جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں سڑکوں کو فوری طور پر کلیئر کرنے کے لیے بھاری مشینری بھی موجود ہے۔ٹریفک پولیس کی جانب سے شاہراہوں پر پیٹرولنگ جاری ہے تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھی جا سکے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ڈی پی او مری ڈاکٹر رضا تنویر سپرا نے کہا کہ برفباری کے باعث موسم انتہائی سرد ہوگیا ہے اور برفباری کے دوران سیاحوں کی حفاظت کے لیے 10 نکاتی ٹریفک ایڈوائزری جاری کی ہے، مری پولیس، ریسکیو اوردیگر متعلقہ ادارے ہائی الرٹ ہیں تاکہ سیاحوں اورمقامی افراد کو محفوظ بنایا جا سکے۔ڈی پی او نے سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ شدید برفباری اوربرفانی طوفان کے خدشے کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے گریز کریں، تمام چیک پوسٹوں پرتعینات ٹریفک پولیس کے عملے کی ہدایات پرسختی سے عمل کرنا لازمی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے حادثے یا مشکلات سے بچا جا سکے۔ایڈوائزری میں سیاحوں کو بتایا گیا کہ گاڑیوں میں ضروری سامان، جیسے کمبل، گرم کپڑے اور کھانے پینے کا انتظام رکھیں، اور سڑکوں پر آنے والے ہنگامی حالات کیلئے ہر وقت تیار رہیں، برفباری کے دوران سیاحوں اورمقامی افراد کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور ہدایات پرعمل کرنے سے خطرات کم کئے جا سکتے ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے شمالی علاقوں میں متوقع بارشوں اور برفباری کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے،
آج سے 24 جنوری تک بالائی اور شمالی علاقہ جات میں بارش اور برفباری کا امکان ہے، جس کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔اتھارٹی کا کہنا ہے کہ شدید بارش اور برفباری کے نتیجے میں دریائے کابل اور اس سے ملحقہ ندی نالوں میں اچانک طغیانی آ سکتی ہے، جس سے نشیبی علاقوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔این ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ شہریوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، غیر ضروری سفر سے گریز اور ندی نالوں کے قریب جانے سے بچنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
🚨(1) ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا آغاز، 20 عالمی رہنماؤں نے امریکی صدر کے ساتھ چارٹر پر دستخط کر دیے🚨(2) اپوزیشن کی غ_ز_ہ امن بورڈ میں شمولیت کی مخالفت، معاہدے کی شرائط پبلک کرنے کا مطالبہ🚨(3) بورڈ آف پیس میں یورپ شامل نہ ہوا مگر شہباز شریف قـاتل نتین یاہو کے ساتھ مشاورت کریں گے، مولانا فضل الرحمان کی شدید تنقید🚨(4) بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی باڈی نہیں ہے، اس معاملے پر پہلے ایوان میں قرارداد لانا ضروری ہے، بیرسٹر گوہر🚨(5) سانحہ گل پلازہ، ملبے سے مزید باقیات برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی🚨(6) گل پلازہ میں 67 افراد جاں بحق، 77 لاپتا، مکمل تحقیقات ہوں گی: ڈی سی جنوبی🚨(7) سانحہ گل پلازہ: ’ســعد باہر آگیا تھا کسی نے مدد کے لیے پکارا تو دوبارہ گیا پھر نہ آیا‘🚨(8) اب جو باڈیز مل رہی ہیں وہ مکمل جلی ہوئی ہیں، سیمپل کے لیے جب باقیات کو ہاتھ لگاتے ہیں تو وہ پاؤڈر بن جاتی ہیں، انچارج شناخت پروجیکٹ سول اسپتال ڈی این اے لیب عامر حسن🚨(9) لاپتہ افراد کے 50 سے زائد خاندانوں نے ڈی این اے کے لیے سیمپل فراہم کیے🚨(10) گل پلازہ میں ملبے کے نیچے ممکنہ لاشوں کو نکالنے کیلئے آپریشن جاری ہے: ڈی سی🚨(11) گل پلازہ کی بجلی بند نہ کی جاتی تو جو لوگ باہر نکلے وہ بھی نہیں نکل سکتے تھے: تنویر پاستا🚨(12) گل پلازہ آتشزدگی المناک سانحہ محض غفلت نہیں بلکہ مجرمانہ لاپرواہی ہے ،ندیم افضل چن🚨(13) گل پلازہ میں آگ کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات کا دائرہ وسیع🚨(14) کراچی؛ سانحہ گل پلازہ میں فردوس کالونی کا رہائشی 29 سالہ نوجوان تاحال لاپتہ🚨(15) سانحہ گل پلازہ: لاپتا افراد کے اہل خانہ کا صبر کا پیمانہ لبریز، انتظامیہ کیخلاف احتجاج، نعرے بازی🚨(16) گل پلازہ سانحہ، ابتدائی رپورٹ میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہ لگنے کا انکشاف🚨(17) گل پلازہ میں آگ شاٹ سرکٹ سے نہیں بلکہ ماچس یا لائٹر سے لگائی گئی ، سانحہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی گئی🚨(18) سانحہ گل پلازہ، آتشزدگی کے دوران پھنسے افراد نے ایک دروازہ توڑ کر باہرنکلنے کی کوشش کی تھی🚨(19) سی سی ٹی وی فوٹیج سے گل پلازہ میں آگ لگنے کی ٹائم لائن تیار ہو گئی🚨(20) آگ سے متاثرہ گل پلازہ کی عمارت مخدوش قرار، ریسکیو آپریشن کے بعد عمارت گرانے کی سفارش🚨(21) سانحہ گل پلازہ، میونسپل کمشنرکے ایم سی افضل زیدی کو عہدے سے ہٹادیا گیا🚨(22) گل پلازہ متاثرین میرے پراجیکٹ میں مفت دکان لیں، صدر کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز کا بڑا اعلان🚨(23) سانحہ گُل پلازہ: ملبے سے نکالی گئیں 62 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا، پولیس سرجن🚨(24) ملک بھر کے میدانی علاقوں میں بارش، پہاڑوں پر برفباری، کراچی، لاہور، اسلام آباد میں بھی بادل برس پڑے🚨(25) کراچی میں آج سب سے زیادہ بارش سرجانی ٹاؤن میں ہوئی، اعداد و شمار جاری🚨(26) شدید برف باری کے باعث مری میں سیاحوں کا داخلہ بند کردیا گیا، ایکسپریس وے بند🚨(27) کراچی کے علاقے فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں بزرگ شہری گٹر میں گر کر جاں بحق🚨(28) مظاہروں کے دوران 3,117 افراد ہلاک ہوئے، ایر_ان نے حیران کن اعدادوشمار جاری کردیئے🚨(29) اسلام آباد میں گیس سلنڈرز کی دکان میں دھماکہ، 5 افراد جھلس کر زخمی🚨(30) لاہور میں پالتو شیرنی کے حملے سے 8 سالہ بچی زخمی ہوگئی🚨(31) مانسہرہ: گڑھی حبیب اللہ سکول جاتے بچے پر شیر کا حملہ، بری طرح زخمی کر دیا🚨(32) پنجاب حکومت نے 23 ماہ میں 10 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کردیا، وزیر اعلیٰ مریم نواز🚨(33) ڈیوس: وزیراعظم شہباز شریف سے گفتگو کے دوران ٹرمپ کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف اشارہ، ویڈیو وائرل🚨(34) ٹرمپ کی محنت رنگ لے آئیں؛ امریکا عالمی ادارۂ صحت سے علیحدہ🚨(35) خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر فوجی آپریشنز مسلط کیے جا رہے ہیں، وزیراعلیٰ🚨(36) ورلڈ اکنامک فورم؛ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے🚨(37) غ_ز_ہ میں امن : پاکستان نے بھی بورڈ آف پیس پر دستخط کردیے🚨(38) اگر پی ٹی آئی 8 فروری کو لوگ نہ نکال سکی تو 6 مہینے پیچھے چلی جائے گی، شیر افضل مروت🚨(39) حکومت نے اسلام آباد کےلیے پاک فوج کے اہلکاروں کی خدمات حاصل کرلیں🚨(40) قومی سول اعزازات اور مراعات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش🚨(41) ایم کیو ایم نے کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کا مطالبہ کردیا🚨(42) اب بہت ہوچکا، 18 ویں ترمیم سے ہماری نسل کشی ہورہی ہے، کراچی کو وفاق کا حصہ بنایا جائے: ایم کیو ایم کا مطالبہ🚨(43) کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات نہیں ہوں گے؟ شرجیل میمن🚨(44) اٹھارویں ترمیم میں مزید بہتری کا راستہ آئین میں موجود ہے، رانا ثنا اللہ🚨(45) حکومت اور اپوزیشن کے ارکان اسمبلی ملک بھر میں موبائل کمپنیوں کے خلاف پھٹ پڑے🚨(46) ڈیرہ غازی خان کے نجی اسپتال میں مرد ڈینٹسٹ نے گائنی کا آپریشن کرڈالا، مریضہ جاں بحق🚨(47) مسافروں کو انصاف مل گیا؛
بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن پر تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ🚨(48) معروف ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتــل کیس میں اہم پیشرفت؛ مقتولہ کی والدہ اور پھوپھی کا بیان قلمبند🚨(49) جنوبی کوریا؛ مارشل لا کیس میں صدر کے بعد سابق وزیرِاعظم کو بھی قید کی سزا🚨(50) کعبہ کی رونق، کعبہ کا منظر؛ اللہ اکبر! ماہِ رجب میں تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے🚨(51) ویوز کےلیے بیٹی کو استعمال کرنے پر فضا علی پر تنقید🚨(52) فٹبال ورلڈ کپ لیاری میں ہوسکتا ہے، ککری گراؤنڈ قطر کے اسٹیڈیم سے کم نہیں، ترجمان سندھ حکومت کا دعوی🚨(53) ایر_ان کیخلاف مزید کارروائی نہیں ہوگی لیکن جوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کریں گے: ٹرمپ کا انتباہ🚨(54) اگر ہم نے ایر_ان کے ایٹمی نظام کو نشانہ نہ بنایا ہوتا تو ایر_ان دو ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا، امریکی صدر🚨(55) مکہ مکرمہ، منشیات اسمگلنگ کے الزام میں پاکستانی شہری کو سزائے موت دےدی گئی🚨(56) کراچی: نالوں میں کچرا، ملبہ یا کسی بھی قسم کی چیز پھینکنے پر پابندی عائد🚨(57) کراچی میں کل سے سردی کی شدت میں اضافہ متوقع، پارہ سنگل ڈیجٹ میں جانے کا امکان🚨(58) کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے اپنے ہیڈکوارٹر میں بھی فائر سیفٹی میکنزم موجود نہیں، سوالات کھڑے ہوگئے🚨(59) کراچی کو Privatize کردیں، ہم سب مل کر خرید لیں گے اور بہت اچھا چلائیں گے: تابش ہاشمی🚨(60) بنگلادیش کے ورلڈکپ میں شرکت سے انکار کی صورت میں پاکستان کے بھی بائیکاٹ کا امکان🚨(61) حکومت ساڑھے 3 سال سے عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرانے کیلئے متحرک، رپورٹ پیش🚨(62) کوٹ ادو: بجلی کی تار ٹوٹ کر گھر میں آگری، باپ بیٹا اور بھتیجا جاں بحق🚨(63) پنجاب: ای ٹریفک چالان کے نام پر شہریوں کو لوٹنے والی 100 سے زائد جعلی ویب سائٹس بلاک🚨(64) بھلوال میں ٹرک الٹنے سے 4 افراد جاں بحق، 8 افراد زخمی🚨(65) کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری🚨(66) پشاور کے باچاخان میڈیکل کمپلیکس شاہ منصور صوابی میں ایک جوڑے کے ہاں بیک وقت پانچ بچوں کی ولادت🚨(67) خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر فوجی آپریشنز مسلط کیے جا رہے ہیں، وزیراعلیٰ🚨(68) حکومت نے اسلام آباد کےلیے پاک فوج کے اہلکاروں کی خدمات حاصل کرلیں🚨(69) کراچی، ایئرپورٹ پر اے این ایف کی کارروائی، سعودی عرب جانے والے مسافر سے منشیات برآمد🚨(70) کراچی یونیورسٹی کی اراضی پر شروع کیا گیا پیٹرول پمپ
*پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کیوں اہم ہے؟**عالمی پس منظر اور مقصد*•پاکستان نے World Economic Forum 2026 (ڈیووس) میں بورڈ آف پیس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر شرکت کی، جس کا واضح مقصد فلسطین میں امن کے قیام کی حمایت ہے۔•یہ اقدام غزہ میں مستقل جنگ بندی کے حصول اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطین کی تعمیرِ نو پر مرکوز ہے۔•تعمیرِ نو کے منصوبے میں گھروں، اسپتالوں، اسکولوں، پانی و بجلی کے نظام کی بحالی، روزگار کی بحالی اور فلسطینی عوام کی عزتِ نفس کی واپسی شامل ہے۔*عالمی شراکت اور مسلم دنیا کی نمائندگی*•پاکستان کے ساتھ سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، بحرین، مراکش، ارجنٹائن، ہنگری اور امریکہ شامل ہیں۔•متعدد مسلم اکثریتی ممالک کی موجودگی اس امر کی ضمانت دیتی ہے کہ فلسطینی حقوق، ریاستی حیثیت اور حقِ خودارادیت مرکزی ایجنڈا رہے۔ *پاکستان کا اصولی مؤقف*•پاکستان کا مؤقف غیر متزلزل ہے: 1967 سے قبل کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست، القدس الشریف بطور دارالحکومت؛ قبضے اور غزہ کے عوام کی نسل کشی کی دوٹوک مخالفت۔•گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں فلسطینی وزیرِاعظم نے غزہ میں امن کی غیر متزلزل حمایت، جاری نسل کشی کے خلاف مضبوط موقف اور عالمی فورمز پر فلسطینی حقوق کی مستقل وکالت پر ذاتی طور پر وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ *پاکستان کی بحالی امن کیلئے خدمات کا اعتراف*•تقریب کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکی صدر کے درمیان خوشگوار تبادلۂ خیال ہوا۔•امریکی صدر نے COAS & CDF فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب تعریفی اشارہ کیا جو پاکستان کی قیادت، اداروں اور عالمی وقار کے اعتراف کی غمازی کرتا ہے۔ *پاکستان کا کردار اور مستقبل کا روڈ میپ* •پاکستان محض تماشائی بننے کے بجائے ٹھوس نتائج کے حصول کیلئے اس فورم کا حصہ بنا۔ •پاکستان نے اسٹریٹجک خودمختاری کو برقرار رلھتے ہوئے بلاک سیاست کو مسترد کیا اور اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر تمام بڑی طاقتوں سے رابطہ رکھا۔ •بورڈ آف پیس میں شمولیت کسی فوجی کردار یا اسٹیبلائزیشن فورس میں شرکت سے منسلک نہیں۔•مستقبل میں کسی بھی سیکیورٹی کردار پر غور صرف اقوامِ متحدہ کے مینڈیٹ، قومی مفاد اور فلسطینی عوام کی خواہشات کے مطابق ہوگا۔•پاکستان نے خاموشی کے بجائے شرکت کو ترجیح دی تاکہ غزہ کے مستقبل کا حل مسلم دنیا کی نمائندگی اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے ساتھ ہو۔
اسلام اباد حکومت کا وفاقی پولیس کی استعداد کار بڑھانے کیلئے پاک فوج کی خدمات لینے کا فیصلہ پاک فوج کے دو میجر، 16 ایس ایس جی کمانڈوز کی خدمات حوالگی کی درخواست کر دی گئیپاک فوج کے افسران کو وفاقی پولیس کی خالی آسامیوں پر تعینات کیا جائے گا 10 ایس ایس جی کمانڈو نیشنل پولیس اکیڈمی میں تعینات کئے جائیں گےایس ایس