All posts by admin

‏وزارت داخلہ کی سفارش پر ، مفرور عادل فاروق راجہ کو کالعدم قرار دینے کی منظوری ‏ ‏۔ عادل فاروق راجہ کا نام فورتھ شیڈول میں بھی شامل۔۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دنیا کے ذہین ترین عسکری رہنماؤں میں شامل۔ پاکستان کی مضبوط قیادت عالمی مثال بن چکی ہے۔اھم ترین امریکی شخصیت کی آمد فیلڈ مارشل کا استقبال۔ وزیر اعلی پنجاب اور وزیر اطلاعات کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر۔خطرے کی گھنٹی بج گئی۔محکمہ موسمیات نے شدید سردی، بارشوں اور برفباری کا الرٹ جاری کر دیا۔موسم سرما میں گیس بحران اور بجلی کی لوڈ شیڈ نگ شہریوں کیلئے امتحان۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

‏وزارت داخلہ کی سفارش پر ، مفرور عادل فاروق راجہ کو کالعدم قرار دینے کی منظوری ‏ ‏۔ عادل فاروق راجہ کا نام فورتھ شیڈول میں بھی شامل۔۔ وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے سمری کی منظوری دے دی ۔ عادل راجہ پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد ۔ کابینہ کی متعلقہ ڈویژن اور اداروں کو فوری کاروائی کی ہدایت ۔ کابینہ ڈویژن کا وزارت داخلہ اور دیگر اداروں کو مراسلہ

پاک بھارت تعلقات ۔اظہر سید جنوبی ایشیا کا امن ،خوشحالی اور ترقی پاک بھارت دوستی میں چھپی ہے ۔دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات بھارت کو اندرونی مسائل سے نجات دلائیں گے پاکستان کی جان بھی بلوچ عسکریت پسندی،خارجیوں کی دہشت گردی ،پی ٹی آئی سائبر سیلوں سے چھوٹ جائے گی ۔افغان ملڑا اپنی اوقات میں اجائے گا۔دونوں ملک دفاعی اخراجات کا رخ عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولتوں میں اضافہ کی طرف منتقل کر دیں گے ۔کارگل وار سے پہلے تک یہ ممکن تھا اب ممکن نہیں رہا۔پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ دوستی کے راستے میں غداری کی دیواریں کھڑی کیں ۔مالکوں کو جب اپنی غلطی کا احساس ہوا انہوں نے نیک نیتی کے ساتھ بھارت کی طرف قدم بڑھائے تو “ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا”بھارت اور پاکستان میں اس وقت کوئی ایسی بڑی شخصیت موجود نہیں جو دونوں ملکوں کو قریب لا سکے ۔پاکستان میں اگر صدر زرداری اور میاں نواز شریف کو مالکوں کا مکمل مینڈیٹ مل جائے بھارتیوں نے پاکستان نفرت کا اتنا بڑا انفراسٹرکچر کھڑا کر لیا ہے گویا پاکستان کی ماضی کی اسٹیبلشمنٹ ہے جو پاک بھارت دوستی کی کسی بھی کوشش کو ناکام کرنے کیلئے کوئی کارگل برپا کر دے گی ۔بھارت ماضی کا پاکستان بن گیا ہے ۔مذہبی ہندو انتہا پسندی بندوق اور عدلیہ کو ساتھ ملا کر ایک گٹھ جوڑ بنا چکی ہے جہاں الیکشن میں کانگرس کا ووٹ اسی طرح چوری ہوتا ہے جس طرح ماضی میں پیپلز پارٹی کا ن لیگ کیلئے چوری کیا جاتا تھا۔یہاں ن لیگ کو جتایا جاتا تھا وہاں بی جے پی جتائی جاتی ہے ۔یہاں انتہا پسند مذہبی جماعتیں ن لیگ کی چھتری تلے لائی جاتی تھیں وہاں شیوسینا ایسی انتہا پسند جماعتیں بی جے پی کے پیچھے کھڑی ہوتی ہیں۔جو کام یہاں دلال ججوں سے لیا جاتا تھا وہی کام اب وہاں ججوں کو دلال بنا کر لیا جاتا ہے ۔ہم نے غلطیوں سے سیکھ لیا ہے۔ہم غلطیاں درست کرنے چل پڑے ہیں ۔مالک مذہبی اثاثے پسپائی سے پہلے تباہ کر رہے ہیں۔سیاسی اثاثوں سے لبیک اور تحریک انصاف کی طرح نجات حاصل کر رہے ہیں۔عدلیہ میں اصلاحات کے زریعے ججوں کو پالتو بنانے کا کام ترک کر رہے ہیں۔بھارت میں کام الٹا چل پڑا ہے ۔جس محنت سے ہم نے خود کو تباہ کیا اس سے زیادہ محنت بھارتی خود کو تباہ کرنے کیلئے کر رہے ہیں۔بھارتی مالکان کروڑوں مسلمانوں کے خلاف جو ہندو رائے عامہ بنا رہے ہیں اس کے اثرات بھارتی میڈیا،عدلیہ اور انتظامیہ میں جگہ جگہ نظر آنے لگے ہیں۔اب وہاں کوئی واجپائی نہیں اور یہاں آگے بڑھ کر ہاتھ تھامنے والا کوئی نواز شریف یا محترمہ بینظیر بھٹو موجود نہیں ۔

جنرل محمد ضیاءالحق پاکستان کی تاریخ کی اُن شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے ملک کی سیاست، معاشرت اور ریاستی ڈھانچے پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے۔ وہ 1977ء سے 1988ء تک پاکستان کے صدر، چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور آرمی چیف رہے۔ ان کا دور ایک طرف اسلامائزیشن کے نام سے جانا جاتا ہے تو دوسری طرف جمہوری عمل کے تعطل اور سیاسی سختیوں کی علامت بھی ہے۔جنرل ضیاءالحق 12 اگست 1924ء کو جالندھر (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہوا۔ انہوں نے انڈین ملٹری اکیڈمی دہرہ دون سے کمیشن حاصل کیا اور بعد ازاں پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں حصہ لیا اور پیشہ ورانہ قابلیت کے باعث تیزی سے ترقی کرتے گئے۔اقتدار تک رسائی1976ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں سینئر افسران کو نظرانداز کرتے ہوئے آرمی چیف مقرر کیا۔ مگر یہ تقرری جلد ہی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ بن گئی۔5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاءالحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کر دیا اور آئین معطل کر دیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ 90 دن میں انتخابات کرائے جائیں گے، مگر یہ وعدہ پورا نہ ہو سکا۔بھٹو کی پھانسیجنرل ضیاءالحق کے دور کا سب سے متنازع اور دردناک واقعہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی تھا۔ 4 اپریل 1979ء کو بھٹو کو عدالتی فیصلے کے تحت پھانسی دی گئی، جسے آج بھی پاکستان کی تاریخ کا ایک متنازع عدالتی و سیاسی فیصلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس واقعے نے قوم کو گہرے زخم دیے۔اسلامائزیشن اور نظامِ حکومتجنرل ضیاءالحق نے ریاست کو اسلامی رنگ دینے کے لیے: • حدود آرڈیننس نافذ کیے • زکوٰۃ و عشر کا نظام متعارف کرایا • شرعی قوانین کو فروغ دیا • نصاب اور عدالتی نظام میں تبدیلیاں کیںان اقدامات کو کچھ حلقے اسلامی تشخص کی بحالی قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے مطابق ان سے معاشرتی تقسیم اور انتہاپسندی کو تقویت ملی۔افغان جہاد اور عالمی کردار1979ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان، جنرل ضیاءالحق کی قیادت میں، افغان جہاد کا مرکز بن گیا۔ امریکہ اور عرب دنیا کی مدد سے مجاہدین کی سرپرستی کی گئی۔اس دور میں: • پاکستان کو عالمی سطح پر اہمیت ملی • معیشت میں وقتی استحکام آیا • مگر اس کے نتیجے میں اسلحہ، منشیات اور شدت پسندی کے مسائل بھی پیدا ہوئےسیاسی عمل اور اختتام1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کرائے گئے اور محمد خان جونیجو وزیراعظم بنے، مگر اختیارات بدستور صدر کے پاس رہے۔1988ء میں جنرل ضیاءالحق نے اسمبلیاں توڑ دیں، جس سے ایک بار پھر سیاسی بحران پیدا ہوا۔پراسرار موت17 اگست 1988ء کو جنرل ضیاءالحق ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ یہ حادثہ آج تک ایک معمہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ کئی اعلیٰ فوجی افسران اور امریکی سفیر بھی ہلاک ہوئے۔تاریخ کا فیصلہجنرل ضیاءالحق کو کوئی • اسلامی نظام کا علمبردار سمجھتا ہے • کوئی انہیں جمہوریت کا قاتل قرار دیتا ہےحقیقت یہ ہے کہ ان کا دور پاکستان کی سمت کو ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔ان کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت سے نظام بدلا جا سکتا ہے، مگر قوم کی سوچ اور انجام نہیں

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو ان کی 18ویں برسی پر خراجِ عقیدتہماری دھرتی آج بھی آپ کا نام سرگوشیوں میں دہراتی ہے،جرأت اور وقار کی ایک لازوال دھن۔آپ وہاں ابھریں جہاں خاموشی مسلط تھی،جرأت آپ کی تقدیر میں کندہ تھی۔قربانی اور امید سے جنم لینے والی ایک عظیم رہنما۔اٹھارہ برس گزر چکے ہیں، مگر آپ کی جگہ آج تک کوئی نہ لے سکا۔آپ آج بھی قوم کی دھڑکن ہیں، ایک ایسی روشنی جو کبھی مدھم نہیں ہوتی۔ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی — بے نظیر بھٹو۔شہادت کی 18ویں برسی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو دلی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو ایک ایسا نام ہے جو جرأت، استقامت، جمہوریت اور پاکستان کے عوام کے ناقابلِ تسخیر حوصلے کی علامت ہے۔ وہ صرف اپنے عہد کی رہنما نہیں تھیں بلکہ مزاحمت، بصیرت اور امید کی ایک لازوال علامت تھیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک مسلم ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بن کر تاریخ رقم کی۔

یہ ایک ایسا سنگِ میل تھا جس نے عالمی تصورات کو بدل دیا اور اسلامی دنیا سمیت پوری دنیا کی لاکھوں خواتین کو حوصلہ اور تحریک دی۔ ان کی قیادت محض وراثت کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ برسوں کی جدوجہد، قید و بند، جلاوطنی اور بے مثال ذاتی قربانیوں سے حاصل ہوئی۔ جب جمہوریت آمریت کے شکنجے میں تھی تو انہوں نے سمجھوتے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا اور آمریت کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہیں۔بے نظیر بھٹو کو جو چیز واقعی منفرد بناتی تھی وہ عوام کے ساتھ ان کا گہرا اور زندہ تعلق تھا۔ وہ نہ تو اپنی جماعت یا حکومت بلند دیواروں کے پیچھے سے چلاتی تھیں اور نہ ہی خود کو عوام سے دور رکھتی تھیں۔ وہ عوام کے درمیان رہیں، ان کے دکھ درد سنے، اپنے کارکنوں کو گلے لگایا اور ہر حامی کو عزت اور احترام دیا۔ کارکنوں اور عام شہریوں کے ساتھ ان کا ذاتی رابطہ سیاست سے بڑھ کر اعتماد، محبت اور مشترکہ جدوجہد کا ایک مضبوط رشتہ تھا۔ عوام کے لیے وہ صرف وزیرِ اعظم نہیں تھیں بلکہ ان کی اپنی بی بی، ان کی بہن اور ان کی آواز تھیں۔ہارورڈ اور آکسفورڈ جیسی عظیم درسگاہوں سے تعلیم یافتہ محترمہ بے نظیر بھٹو اسلام اور مغرب کے درمیان ایک مضبوط پل بن کر ابھریں۔ انہوں نے دنیا کے سامنے اسلام کا ایک ترقی پسند، جمہوری اور روشن تصور پیش کیا اور یہ ثابت کیا کہ ایمان، جدیدیت اور جمہوریت عزت اور انصاف کے ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ عالمی فورمز پر ان کی آواز ذہانت، وقار اور اخلاقی قوت کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کرتی تھی اور انہوں نے عالمی سطح پر مسلم خواتین کے کردار کو ایک نئی شناخت دی۔محترمہ بے نظیر بھٹو قومی یکجہتی پر گہرا یقین رکھتی تھیں۔ انہوں نے پاکستان کے چاروں صوبوں—پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان—کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر اور شمالی علاقوں کے عوام کے ساتھ بھی مضبوط سیاسی اور جذباتی رشتہ قائم کیا۔ وہ مساوات، باہمی احترام اور مشترکہ مستقبل پر مبنی ایک مضبوط وفاق کی حامی تھیں اور نسلی، ثقافتی اور علاقائی تفریق سے بالاتر ہو کر قوم کو متحد کرنے کی جدوجہد کرتی رہیں۔ان کی زندگی بے شمار نمایاں کامیابیوں سے عبارت تھی۔ انہوں نے جمہوری عمل کو بحال کیا، شہری آزادیوں کو فروغ دیا، تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے آواز بلند کی، اور خواتین، اقلیتوں اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ، راولپنڈی میں ان کی شہادت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری جمہوری دنیا کے لیے ایک عظیم سانحہ تھی۔ اس سانحے نے ملک میں ایک گہرا سیاسی خلا پیدا کیا، مگر ان کی شہادت نے ان کے مشن کو خاموش نہیں کیا بلکہ مزید مضبوط کر دیا

۔بے نظیر بھٹو محض تاریخ میں زندہ نہیں رہیں بلکہ وہ خود تاریخ بن گئیں۔ ان کا خون ان کے چاہنے والوں اور ہم سب کے لیے ایک عہد بن گیا، ان کی قربانی ایک وعدہ اور ان کا ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آج بھی ان کا نام ان دلوں میں امید جگاتا ہے جو انصاف، جرأت اور عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔وہ عوام کے لیے جئیں۔وہ جمہوریت کے لیے ڈٹ گئیں۔انہوں نے جرأت کے ساتھ شہادت کو گلے لگایا۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹوایک ہی تھیں — اور ہمیشہ ایک ہی رہیں گی — بے نظیر۔سفدر علی عباسیصدر، پاکستان پیپلز پارٹی ورکرزناہید خانسیاسی معاون برائے شہید محترمہ بے نظیر بھٹوفیاض علی خانسینئر نائب صدر، پی پی پی ورکرزایڈووکیٹ امجد علی بلوچنائب صدرکنور زاہدسیکریٹری جنرل، پی پی پی ورکرزوحید افضل گولڑہ، رائے قیصر، جنید مسعود، طاہر عباسی، سید اقتدار علی شاہ (فنانس سیکریٹری)، امیر رضوی، ابراہیم خان، فرح اسلم، ساجدہ میر، ناہید و تانیا، حر بخاری، چوہدری اسلم، ملک مظہر، نوید صدیق، اختر خواجہ، ثقلین شیرازی، رانا عثمان، انجینئر عاشق رستمائی، انجینئر ذوالفقار سمّیجو، اویس علی عباسی، اختر عباسی، اے محمد احمد، ریاض میمن، زاہد محمود اور دیگر۔

توہین عدالت مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرلاہور ہائیکورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔درخواست ایک شہری منیر احمد نے معروف وکیل کی وساطت سے دائر کی ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مریم نواز اور عظمیٰ بخاری نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر عوامی سطح پر سخت تنقید کی، جو توہینِ عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔درخواست گزار کے مطابق، پراپرٹی قانون کی معطلی پر سرکاری سطح سے دیے گئے بیانات نے عدلیہ کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ عدالتی حکم کو “لینڈ مافیا” کے حق میں قرار دینا ایک سنگین الزام ہے جس سے عدالت کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز شخصیات کی جانب سے عدالتی فیصلوں کو سیاسی رنگ دینا غیر قانونی ہے اور یہ عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔ ملوث افراد کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں۔ان کے خلاف توہینِ عدالت کی باقاعدہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کے نئے پراپرٹی قانون (پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف غیر منقولہ جائیداد ایکٹ) کو معطل کیا، جس پر وزیر اعلیٰ مریم نواز نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوامی مفاد کے خلاف قرار دیا تھا۔

میں ماں ہوں، میرا بےگناہ بیٹا ڈھائی سال سے جیل میں ہے، ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ لوگوں کے پاس اپیل کا حق ہے نہ ہی ضمانت کا۔ میں یہی سوچتی ہوں کہ ہم جتنی مزاحمت کرسکیں، کریں، ورنہ یہ ظلم ختم نہیں ہوگا۔ ظالم ڈرپوک ہوتا ہے، ہمیں ان سے ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہم سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہے۔ وزیرِاعلیٰ میرے گھر آجاتے تو کیا ہو جانا تھا، کچھ بھی نہیں، لیکن یہ ہر چیز سے خوفزدہ ہیں۔نورین نیازی‎#خان_کا_حکم_سٹریٹ_موومنٹ

‏مولانا نےبھی ڈاکٹریٹ کر لیا آئندہ سے ڈاکٹر فضل الرحمٰن لکھا اور پکارا جائے ، انہوں نے جواب میں اعزازی ڈگری سے نوازنے والے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو اپنی تیزی سے کمزور ہوتی گورنری کو محفوظ اور دیرپا بنانے کے لیے انہیں چند مُہلک مشوروں سے بھی نوازا ہوگا

3 اھم شخصیات پی او ایف واہ کے افیسر سمیت ملوث کیا کے پی میں کسی وفاقی وزیر کو گرفتار کیا جاے گاآستین کے سانپوں کو پھچانئئے۔۔پاور ڈویژن کے 15 پلانٹ۔۔فراڈ کا ایک اور انداز پاور ڈویژن اور سینٹر فدا پی او ایف کا 100 ارب کا فراڈ 5 فیصد دے کر ۔ کیا کسی وفاقی وزیر کو کے پی میں گرفتار کیا جائے گا,. پاکستان ڈرین اکانومی کیسے بنا۔ملالہ یوسفزئی پر حملہ اور اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ھلاکت سچ یا جھوٹ بادبان کی زبانی سھیل رانا کی زبانی. تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*شکارپور: بارات کی بس پر فائرنگ، دلہا سمیت 3 افراد جاں بحق*شکارپور میں قومی شاہراہ بائی پاس پر بارات کی بس پر فائرنگ کے نتیجے میں دلہا سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں دلہا، اس کا بھائی اور ڈرائیور شامل ہیں جبکہ ایک خاتون زخمی ہوئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ پرانی دشمنی کے باعث پیش آیا، بارات شکارپور شہر سے جیکب آباد جارہی تھی۔

پنجاب حکومت کا اہم فیصلہسرکاری اساتذہ کو سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے نئی الیکٹرک بائیک سکیم متعارف کرانے کا فیصلہاساتذہ ابتدائی قسط ادا کر کے ای بائیک حاصل کر سکیں گے

ملک میں سیاست صحافت عدالتی نظام سب کچھ ختم قتل تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

2019 میں ساہیوال کے قریب انٹیلیجنس کی ناکامی اور غلطی کی وجہ سے ایک خاندان کو سی ٹی ڈی نے گولیوں کی بارش کرکے قتل کردیا، 4 لوگ جن میں ایک باپ، ماں، چچا اور بڑی بہن وہ قتل ہوئے، انکے 3 بچے خدا نے بچا لیے۔ جن کا کام انٹیلیجنس اور آپریشن، جن کی غلطی، انہوں نے کمال مہارت سے میڈیا اور اینکروں کی توپوں کا رخ عمران خان اور بزدار کی طرف موڑ دیا۔ بچوں کی یتیمی کی دہائیاں دے کر پروگرام کیے ٹویٹس کیں۔ روف کلاسرہ صاحب نے تو اتنے پروگرام اور سیگمنٹ کیے کہ الامان الحفیظ، آج بھی حوالے دیتے ہیں، کامران شاہد جیسا rabid مہرہ بھی انسانیت کے وہ جوہر دکھاتا رہا کہ شیطان بھی حیران تھا۔ کیا جنگ جیو دنیا سماء کے اینکرز، سب ہی اس پر بول رہے تھے۔جن کی ناکامی اور ظلم تھا انکو بچانے والوں نے کمال مہارت سے بچا لیا۔ لیکن مجال ہے کسی اینکر کی زبان سے کچھ نکلا ہو، نزلہ آج تک عمران خان پر گراتے رہے۔مریم نواز نے جس خاص کردار کے مشورے پر سی سی ڈی نامی ڈیتھ سکواڈ بنایا، جس کے مشورے اور ویژن پر ایک سال میں کم و بیش 1 ہزار سے زائد لوگ جعلی مقابلوں میں مروا دیے، جلسوں میں فخر سے سی سی ڈی کے کارنامے اور خوف کو بیان کرکے کریڈٹ لیتی ہیں۔ جس سفاک افسر کو اس ادارے کا سربراہ لگایا گیا ہے، کبھی اسکے خلاف ان اینکرز اور میڈیا سے ایک لفظ بھی آپ لوگوں نے سنا ہے؟ سربراہ کا نام آپکو معلوم ہے؟آئے دن ظلم کی نئی داستان رقم ہورہی ہے۔ اب ایک ہی گھر کے 5 افراد قتل کرکے 22 بچے یتیم کر دیے گئے۔ دیگر 1 ہزار ماروائے عدالت مقتولین کے سینکڑوں یتیم ہونے والے بچے اسکے علاؤہ ہیں۔۔ سانحہ ساہیوال پر یتیمی کے کارڈ پر پروگرامز کرنے والے اینکرز کہاں مر گئے ہیں؟

اسلام آباد بادبان ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ۔۔۔۔لکی مروت میں اھم دھشت گرد ھلاک۔۔نفرت کی سیاست ختم ھونی چاہیے مولانا فضل الرھمان۔۔نیو اءیر نایئٹ ھوٹل ریسٹ ھاوسئیز بک۔۔ھارٹ اٹیک اور ھارٹ فئیلر۔۔*متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورہِ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام ودیرینہ دوستی کا مظہر چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی جانب سے یو اے ای کے صدر کا ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال دونوں ملکوں کے بے مثال روابط کو ظاہر کرتا ہے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورہِ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام ودیرینہ دوستی کا مظہر چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی جانب سے یو اے ای کے صدر کا ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال دونوں ملکوں کے بے مثال روابط کو ظاہر کرتا ہےچیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کے سیلوٹ کے جواب میں متحدہ عرب امارات کے صدر کا گرم جوشی سے جوابی سیلوٹ اسی مضبوط برادرانہ رشتہ کا عکاس ہے

):متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر راولپنڈی پہنچ گئے،وزیراعظم محمد شہباز شریف ، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزرا نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔شیخ محمد بن زاید النہیان اپنے طیارے سے باہر آئےتو وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےان سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے یو اے ای کے صدر کو پھول پیش کئے۔اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ یو اے ای کے صدر کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی، جیسے ہی ان کا طیارہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے انہیں سلامی دی۔شیخ محمد بن زاید النہیان کے اعزاز میں نور خان ایئر بیس پر باضابطہ استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا،مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا جس کا انہوں نے معائنہ کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے ارکان کا متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے تعارف کرایا جبکہ متحدہ عرب امارات کے صدر نے اپنے وفد کے ارکان کو وزیراعظم محمد شہباز شریف سے متعارف کرایا۔دونوں ممالک کے پرچم تھامے بچوں نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا،متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے بچوں سے ہاتھ ملایا اور ان کے ساتھ شفقت کا اظہار کیا۔دورے کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کریں گے جس میں دو طرفہ تعلقات کے علاوہ عالمی و علاقائی امور

ایس 400 کیسے تباہ کیا ؟۔ اظہر سیدآپریشن سیندور کے دوران بھارت کے ناقابل شکست سمجھے جانے والے ایس 400 کی تباہی کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں ۔یہ ناقابل یقین کارنامہ پاکستانی شاہینوں نے انجام دیا تھا ۔دفاعی نظام تین سو کلو میٹر دور سے دشمن کی نشاندہی کر سکتا ہے اور بیک وقت ایک سو سے زیادہ لڑاکا جیٹ طیاروں کو انگیج کر سکتا ہے ۔پاکستانی ائر فورس نے جس جرات،بہادری سائنس اور ٹیکنالوجی کے جس تال میل سے اس دفاعی نظام کو تباہ کیا روسی دفاعی مارکیٹ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ترکی اور برازیل نے روس سے ایس 400 دفاعی نظام کی خریداری کے معاہدوں پر بات چیت معطل کر دی جبکہ فلپائن،ایران سمیت متعدد ممالک جو یہ نظام خریدنا چاہتے تھے وہ بھی پیچھے ہٹ گئے ۔روسی دفاعی نظام کی ایک خصوصیت اسکا الیکٹرانک نظام جام ہونے کے بعد خودکار طریقے سے بحال ہونا ہے ۔جیمنگ کے بعد خودکار بحالی دس سے پندرہ منٹ میں ہوتی ہے۔پاکستانی شاہینوں نے انہی دس سے پندرہ منٹ میں خودکش مشن کیا جو کامیاب ہوا۔اس آپریشن کیلئے درجنوں پائلٹس نے رضاکارانہ پیشکش کی تھی اور فیصلہ قرعہ اندازی سے کیا گیا تھا۔پائلٹس کو پتہ تھا اس مشن کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں اور واپسی کے امکانات اس سے بھی کم ۔بہت احتیاط اور ایک ایک سیکنڈ کی کیلکولیشن سے تیار کردہ مشن میں روسی دفاعی نظام کو جام کیا گیا ۔ دفاعی نظام کے اندھا ہونے کے ساتھ ہی خودکش مشن پر شاہین روانہ ہو گیا اور اگلے گیارہ منٹ میں پاکستانی فائٹر ایس 400 پر پہنچ چکا تھا ۔پائلٹ نے دفاعی نظام کی بیٹریوں کو میزائل سے نشانہ بنایا اور اپنے سارے میزائل استعمال کر لئے۔دفاعی نظام اصل میں اسکی بیٹریاں ہی ہیں وہ تباہ ہو جائیں پیچھے صرف لوہے کے پائپ بچتے ہیں جو سو سالہ بوڑھے کی طرح کھڑے نہیں ہو سکتے اور اسی وجہ سے کچھ پھینک بھی نہیں سکتے۔ دفاعی نظام کی جیمنگ ختم کرنے کے خودکار نظام کی بحالی سے دو منٹ پہلے اسکی بیٹریاں تباہ کر دی گئیں اور پاکستانی پائلٹ بھارتی فضاؤں میں قلابازیاں لگاتا واپس اگیا۔پائلٹ کے استقبال کیلئے ائر چیف خود موجود تھے ۔ارمی چیف اور وزیراعظم کو بھی فوری اس شاندار کامیابی سے آگاہ کر دیا گیا۔اس ناممکن مشن کی کامیابی میں کچھ ہاتھ آپریشن سیندور کے اگلے ہی روز چار رافال ،ایک مگ اور ایک سخوئی جیت کی تباہی کا بھی تھا۔بھارتی فضائیہ نے اپنے قیمتی طیارے تباہ ہونے کے بعد اپنی طیارے گراؤنڈ کر دئے تھے اور دور دراز کے فضائی مستقر منتقل کر دیے تھے ۔پاکستانی جیٹ صرف نو منٹ تک بھارتی فضاؤں میں رہا۔جب تک بھارتی پاکستانی جیٹ کو چیلنج کرنے کیلئے جوابی اقدام کرتے وہ روسی دفاعی نظام تباہ کر کے واپس بھی آگیا تھا۔بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت بھی پاکستان کی سمندری حدود سے ابھی بہت دور ہی تھا لاک کر لیا گیا تھا ۔بھارتی فوجی منصوبہ سازوں نے عقلمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے وکرانت کو لاک ہونے کا سگنل ملتے ہی واپس بلا لیا تھا۔وکرانت کو واپس نہ بلایا جاتا جنگ پھیل جاتی اور لامحدود تباہی خطہ کا مقدر بن جاتی۔پاکستان کے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں تھا جبکہ بھارتیوں کے پاس کھونے کیلئے بہت کچھ تھا۔وکرانت کی ممکنہ تباہی کی کوکھ سے ایٹمی جنگ کے خدشات پیدا ہو سکتے تھے بھارتیوں نے اسی جنگ سے بچنے کیلئے وکرانت واپس بلا لیا۔بھارتیوں کی اس برتری کی سوچ اور غلط فہمی کہ پاکستان ان کے سامنے کچھ بھی نہیں تبدیل کرنے کا سارا کریڈٹ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور انکے کمانڈ سٹرکچر کا تھا۔فیصلہ یہی ہوا تھا بھارتیوں کو تمام تر موجود وسائل کے ساتھ پوری طاقت سے اس طرح جواب دیا جائے کہ بھارتی طویل مدتی جنگ کی شیطانی سوچ سے باہر نکل آئیں ۔جنگ کی طوالت پاکستان کیلئے ایک ڈراؤنا خواب تھی ۔جوابی حملہ میں بھارتیوں کے چار ہزار کلو میٹر کے فوجی اہداف کو گویا اس طرح میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جیسے لائیو نظر آرہے ہوں ۔سائبر وار فئیر سے پورے بھارت کے بجلی کی ترسیل کے نظام پر کنٹرول،ایس 400 کی تباہی ،اکتیس سے زیادہ فوجی تنصیبات پر کامیاب میزائل باری سے بھارتی سچ مچ بوکھلا گئے ،گھبرا گئے ۔”گھس کر ماریں گے”کا نعرہ لگا کر سرجیکل سٹرائیک کرنے والے بھارتی جنگ بندی کیلئے جلدی جلدی امریکی صدر کا دروازہ کھٹکھٹانے لگے ۔جنگ بندی تو ہو گئی لیکن بھارتیوں کے عزت خاک میں مل گئی ۔روایتی ہتھیاروں میں سبقت کا جو دعویٰ بھارتی گزشتہ پچاس سال سے کرتے آرہے ہیں وہ تین دن میں پاکستانیوں نے بلف ثابت کر دیا ۔بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عزت اور وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔یہ عزت اور وقار ایک نوسر باز اور ایک جنرل باجوہ نے بھارتی پائلٹ واپس کر کے خاک میں ملا دیا تھا۔

’’کارٹل کا ڈاکہ یا واردات‘‘؟محاسبہناصر جمالکن چراغوں کی بات کرتے ہوسب ! چراغوں تلے اندھیرا ہےاگر ریاست کے بیٹے ہی، وارداتیوں اور ڈاکوئوں کے ساتھی بن جائیں۔ چوکیدار چوروں ڈاکووں اور لٹیروں کے دوست بن جائیں۔ تو پھر سفید دن میں ہی قومیں لٹتی ہیں۔ یہ پی۔آئی۔اے کی نجکاری نہیں بدترین ڈاکہ ہے۔ ایک میمن سیٹھ نے قلم کار کو کہا کہ جب’’دھندہ‘‘ کرنا شروع کیا تو’’باپ نے بلا کر نصیحت کی‘‘ ملازم چوری کرے تو کاروبار چلتا رہتا ہے۔ مالک خود چور بن جائے تو کاروبار نہیں چلا کرتا۔ اسی میمن نے کہا تھا کہ استاد نے کہا کہ بلی وہ رکھو جو شکار کرنا جانتی ہو۔۔۔ کہیں یہ نہ ہو سالی دودھ پیے اور سوتی رہے۔ اس قوم نے جو بلے اور بلیاں رکھی ہیں۔ وہ تو دودھ پیتے ہیں اور خراٹے لے کے سوتے رہتے ہیں۔ ویسے اس کے بارے میں قوم کا کیا خیال ہے۔۔؟قلم کار !!! ہر کسی سے سوال کر رہا ہے کہ ایک پراپرٹی جو 135 ارب کی بکتی ہے۔ بیچنے والا مالک، خریدنے والے کو کہتا ہے کہ مجھے 135 ارب میں سے 10ارب گیارہ کروڑ دے دو۔ بلکہ اس میں سے بھی فلحال صرف 6 ارب 78 کروڑ دے دو۔ 3 ارب 33 کروڑ سہولت کے ساتھ بھلے ،سال بھر میں دے دینا۔۔چلو !!!تم بھی کیا یاد کرو گے۔باقی 124 ارب 89 کروڑ، کا ایساکرنا۔۔۔ کہ جس پراپرٹی کے عارف بھائی آپ مالک ہیں۔ اس پراپرٹی کی توسیع اور مرمت پر لگا لینا۔ وہ تمہارے ہوئے۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ کھربوں کے دیگر اثاثے بھی تمہارے ہوئے۔ جبکہ پراپرٹی پر 650 ارب کا قرض ہمارا ہوا۔ کیونکہ مجھے آپ کے کارٹل سے عشق ھوگیا ہے۔ محبوب پر سب کچھ قربان، اس سے حساب کتاب کیسا۔۔۔؟ ویسے بھی اپن کے کونسا باپ کا مال ہے۔حضور… ایسا دھندہ، دنیا کی تاریخ میں کہیں ہوا ہے۔۔ تو آپ مجھے بتا دیں۔؟ کوئی تو اس قوم کو بتائے اور سمجھائے۔؟؟؟جب پراپرٹی کے ذمہ کوئی قرض نہیں ہے۔ تو آپ اس میں مزید پیسے کیوں ڈالیں گے۔اس ضمن میں قوم کو کیوں گمراہ کیا جا رہا ہے کہ اب پی ائی اے میں مزید پیسے نہیں ڈالنے پڑیں گے۔۔جبکہ PIA نے رواں سال کے پہلے 5 ماہ میں گیارہ ارب منافع کمایا ہے. تو وہ خسارے میں کیسے ہوئی…پھر دوست کہہ رہے ہیں کہ “بِلو دی بیلٹ” لکھ رہے ہو….بھائی !!! یہ اثاثے میرے ہیں۔ جنہیں تم کوڑیوں کے بھائو، اپنے لاڈلوں میں اندھوں کی ریوڑیوں کی طرح تقسیم کر رہے ہو۔ اب میں، اس پر بولوں بھی نا…. زبان کو سی لوں….. سوگ بھی نہ مناوں۔۔۔بالوں میں خاک بھی نہ ڈالوں۔۔۔ دہائی بھی نہ دوں۔۔مرثیہ اور نوحہ خوانی تو کر لینے دو۔۔۔ اپنے بزرگوں کو تو رو لینے دو۔۔ اور نہیں تو 25 دسمبر کو جو ماتم واجب الادا ہے۔ اسے تو کر لینے دو۔۔۔ زنجیر زنی خود پر ہی تو کر رہے ہیں۔۔۔ ایک کالم کا نوحہ نہیں لکھنے اور تعزیہ بھی نہیں نکالنے دیتے۔۔۔؟ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری پرسارے رینٹیڈ صحافی، بابو، سیٹھ، زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ جیسے حکومت اور “بدکاری کمیشن” نے کوئی معجزہ برپا کر دیا ہو…آج ریاست اپنے بچوں سے پوچھ رہی ہے۔۔۔ بولتے کیوں نہیں میرے حق میں آبلے….. پڑ گئے، زبان پہ کیا ؟ اب تو کوئی مجھ کو پوچھتا بھی نہیںیہی !!! ہوتا ہے خاندان میں کیا؟جون ایلیا….آخر اس ڈاکے یا واردات میں اتنی بھی کیا عجلت تھی۔؟پی۔آئی۔اے کی جو دستاویزات “کارٹلز” کو دی گئیں ہیں۔ وہ عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھی گئیں۔۔۔۔۔ جب قرضہ حکومت نے اپنے پاس ”پارک“ کر لیا تھا۔ تو پھر ایئر لائن کو تو کسی سبسڈی کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ کیا 650 ارب کا قرض عارف حبیب کنسورشیم نے اپنے سر لے لیا ہے۔؟؟؟ اس کی ذمہ کونسی’’لائبیلٹی‘‘ ہے۔ذرا وہ بھی تو بتا دیں۔۔؟؟؟وہ 6 ارب، 78 کروڑ میں 18 جہاز، 50 ارب سے زائد کی بلڈنگز، 35 ارب کے رینو ویٹیڈ آفسز، 400 گاڑیاں، 64 روٹس، ملازمین کا 10 ارب روپے کا پراویڈنٹ فنڈ اور پی۔آئی۔اے کی ’’گڈول” فری میں لے اڑے۔ یہاں تو خالی نام اربوں میں فروخت ہوتا ہے۔ 64 روٹس کھربوں روپے کے تھے۔ سپیئر پارٹس، ہینگر، کس، کس اثاثے کی بات کریں۔ ایئر پورٹ ہینڈلنگ مشینری، مارکیٹنگ سسٹمز، کس کس کو روئیں۔۔۔۔حکومت نے اگر یہ کام اتنا ہی شفاف کیا ہے تو اثاثہ جات کی ابتدائی تخمینہ رپورٹ جو کنسلٹنٹ نے دی۔

وہ جاری کرے اور اس کے بعد بتائے کہ اس نے اس تخمینہ کی دوہری تصدیق کس سے کروائی ہے۔( ایک دوست کہہ رہے تھے اس ضمن میں جو کنسلٹنٹ ہائر کیا گیا ہے اس نے دنیا کی 17 بڑی ایئر لائنز کی ری اسٹرکچرنگ کی ہے۔۔ میں نے اسے کہا ہمارے والی کی ری اسٹرکچرنگ کرنے کی بجائے بیچی دی۔۔۔ وہ کہنے لگے کنسلٹنٹ سے جو کام لینے کے لیے کہا جاتا ہے۔ وہ کر دیتا ہے۔ اسے تو اپنی فیس سے غرض ہوتی ہے۔) حکومت کا یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے کہ اُسے اس سال بھی پی۔آئی۔اے میں اربوں ڈالنا تھے۔ 650 ارب کے قرضے، اپنے پاس پارک کر لینے کے بعد تو اس سال کم از کم 30 ارب منافع متوقع تھا۔ کیونکہ یورپ کے نئے روٹس کُھل گئے ہیں۔سیاستدان، بابو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ مل کر 78 سالوں سے بھرتیوں، مفادات اور وارداتوں کے رریعے ادارے برباد کرتے رہے۔ انہیں کس نے کوڑیوں کے بھائو قومی اثاثے بیچنے کا حق دیا ہے۔؟؟؟’’کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ہے‘‘۔ مگر اداروں کی بندر بانٹ بھی حکومتوں کا حق نہیں ہے۔کھربوں روپےجیب سے دیکر پونے سات ارب لے لینا، کہاں کی دانشمندی ہے۔یہ شریف، زرداری اور حافظ عاصم منیر، کیا اپنے کاروبار شوگر ملیں، فوجی فاؤنڈیشن،آرمی ویلفیئر ٹرسٹ، ڈی۔ایچ۔اے کو ایسے کسی سیٹھ کو فروخت کر سکتے ہیں۔؟؟؟کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ہے۔ تو اسٹیبلشمنٹ کا بھی نہیں ہے۔ پہلے ہم غریبوں کے اثاثے برباد کرتےہو، پھر خود ہی بروکرز کے ذریعے خریدار بن جاتے ہو۔۔۔۔”اتنا بُرا سلوک میری سادگی کے ساتھ… یہ تلخ حقیقت ہے کہ آج کے صحافی اپنا سب کچھ ہی گروی رکھ چکے ہیں۔ واچ ڈاگ صرف اپنی چھوٹی سی بوٹی سے خوش ہے۔ یہ اپنے اندر ضمیر، قلم، حب الوطنی، حتیٰ کہ انسانیت بھی دفن کرچکے…… منصفوں کی تو بات ہی نہ کریں۔ ظالم کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہیں۔ کوئی ان کے پاس نجکاری چیلنج کر بھی دے تو،،،،، فیصلہ کیا ھوگا۔ پہلے سے ہی سب کو معلوم ہے۔ جہاں ججوں کو انصاف نہیں مل رہا، وہ عوام کو کیا دیں گے۔پی۔آئی۔اے کی نجکاری قومی اثاثوں کی لوکل ’’اولیکس‘‘ ہے۔ اس کے بعد ہر طرف سے ایک جیسی آوازیں آئیں گی ’’سب بیچ دے‘‘ لے لے۔۔لےلے۔۔…ایسا لگتا ہے۔ملک میں انصاف سے لیکر ضمیر، مزاحمت سے لیکر خودداری، آئین سے لیکر قانون، سب کے سب رخصت ہو گئے ہیں۔ کہیں پر کوئی اصول نام کی شے نہیں بچی۔ بس ایک ہی نظریہ بچا ہے۔ جہاں ظالم کو دیکھو…. جی حجور، جی حجور، جی حجور کی گردان شروع کر دو۔ویسے ہی جناب عمر فاروقؓ یاد آئے۔ مولانا شبلی نے ”الفاروق“ میں لکھا ہے کہ امیر المومنین، مدینہ سے باہر پریشانی کے عالم میں جا رہے تھے۔ کسی نے پوچھا کہ اتنے پریشان کہاں جا رہے ہیں۔ جواب دیا۔۔۔۔ بیت المال کی وہ بکریاں گم ہو گئیں ہیں۔ جن سے یتیموں کی کفالت ہوتی تھی۔۔۔۔ ساتھ ہی کہا کہ عمر نے آگے تھوڑی چیزوں کا حساب دینا ہے۔۔۔۔ اب ان بکریوں کا حساب بھی عمر کو دینا پڑے گا۔؟آج کے فاتحین نے کیا اس زاویے سے کبھی سوچا ہے۔۔قارئین !!!آج والے جو چھڑیاں اور انگلیاں ہلاتے نہیں تھکتے۔ ان سے پوچھنا چاہتا ہوں…. کیا انہوں نے یہی نجکاری والی فتح، اترتی یکھی تھی۔؟آج عارف حبیب اور اس کے کنسورشیم کو ہیرو اور قوم کا مسیحا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ عارف حبیب کے حوالے سے تو صحافی زم زم، عنبر مشک کپور، چھڑک کر، عود میں نہائے باتیں کررہے ہیں۔ ان کی پاک بازی اور پاک دامنی کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔۔ (جاوداں سیمنٹ اور اسٹیل مل کے نجکاری کے پیچھے تو یقنناً ہم عوام تھے۔)ویسے ہی صحافیوں سے پوچھنا تھا کہ کیا وہ ملک ریاض سے بھی زیادہ سخی ہیں۔ یا ملک ریاض کی غیر موجودگی میں نان نفقہ مشکل ہو رہا تھا۔تو نیا در دیکھ لیا ہے۔؟ کہاں گئی پیپلز یونٹی، اے۔کے۔ڈی کی غلام ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، سب کو سانپ سونگھا ہوا ہے۔کہاں ہیں وہ خونخور اینکرز جو روزانہ “قیدی” کو چیر پھاڑ کر کھاتے ہیں۔ اُن کے گلوں سے ’اوں‘ تک کی آواز بھی کیوں نہیں نکل رہی۔؟ اگر عارف حبیب، اے۔کے۔ڈی، گوہر اعجاز اور سٹی سکول والے اتنے ہی بڑے “دماغ” ہیں۔ تو پونے سات ارب سے نئی ایئر لائن، جس کے پاس 64 روٹس اور کھربوں کے اثاثے ہوں۔ کھڑی کرکے دکھادیں۔یہ گدھ سیماب لوگ صرف قوم کا مردہ کھا سکتے ہیں۔۔۔سب دوست کہہ رہے ہیں۔ مت لکھو۔ بچوں کا سوچو۔۔۔۔۔ انقلابی بننے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جتنا لکھ دیا اتنا ہی کافی ہے۔کیا پاگل ہو گئے۔ ہو کن سے پنگا لینے چلے ہو۔کیا تمہیں نہیں پتہ کارٹل کے پیچھے کون ہے۔۔؟ میں انھیں صرف ایک بات کہتا ہوں۔ ابراہیم خلیل اللہ کو جب آگ میں ڈالا گیا تو ایک ننھی چڑیا چونچ کے ذریعے مسلسل پانی ڈال رہی تھی۔ کسی نے چڑیا کو کہا کہ… اس سے آگ نہیں بجھنے والی۔۔۔۔ چڑیا نے ہنس کے کہا کہ مجھے بھی معلوم ہے۔ مگر میں روز قیامت اللہ کے حضور… اتنا دعویٰ تو رکھوں گی۔ جو میری بساط تھی۔ میں نے تیرے دوست کو بچانے کے لیے اتنی کوشش تو کی تھی۔ میں تاریخ کے اس موڑ پر، نواز شریف، زرداری، انٹرنیشنل ہوٹل لاھور کی نجکاری والا عمران خان اور علامہ اشرفی نہیں، ننھی چڑیا بننا پسند کروں گا۔ میرے چند قطرے اور نحیف کوشش اللہ کے حضور حاضر ہے۔۔۔۔جیسے تخلیق میں خالق کا ہنر بولتا ہے گھر کے ماحول کا لہجے میں اثر بولتا ہے جسم کے ساتھ جڑا ہو یہ ضروری تو نہینسل اچھی ہو تو نیزے پہ بھی سر بولتا ہے

قصر شاہی کے ستوں کانپنے لگ جاتے ہیں مصلحت چھوڑ کہ اے دوست، ڈر بولتا ہے بزدلی خوف کے پردوں میں چھپی رہتی ہے جبر کو آنکھ دکھاتا ہے، نڈر بولتا ہے اِک آواز اٹھانے میں، یہ برکت دیکھی اب ! میرے ساتھ یہاں سارا نگر بولتا ہے خامشی توڑ کے بولوں گا میں ایسے شاہد جس طرح ! کسی دیوار میں ، در بولتا ہے(شاہد خیالوی)

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی ترجمان شازیہ مری نے گڑھی خدابخش میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مزار پر حاضری دی فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی، شازیہ مری سکھر سے گڑھی خدابخش پہنچی اور مزار پر حاضری دی انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر شہداء کے مزار پر بھی حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی اس وقت ملک بھر سے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء اور کارکنان گڑھی خدابخش پہنچ رہے ہیں جہاں شہید رانی محترمہ بے نظیر بھٹو کی 18ویں یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کریں گے۔

*🚨(1) پی ٹی آئی کا بریڈ فورڈ میں احتجاج، پاکستان کے ڈیمارش پر برطانیہ نے شواہد مانگ لیے🚨(2) بریڈ فورڈ احتجاج، اگر برطانیہ میں کوئی جرم ہوا تو پولیس کو شواہد فراہم کیے جائیں، برطانوی ہائی کمیشن🚨(3) پی ٹی آئی احتجاج میں عسکری قیادت کو قتل کی دھمکیاں، پاکستان کا برطانوی حکومت سے کارروائی کا مطالبہ🚨(4) بریڈ فورڈ مظاہرے پر قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر دفتر خارجہ طلب، ڈیمارش جاری🚨(5) پی ٹی آئی اکاؤنٹس سے آرمی چیف کے قتل کے مطالبے کی ویڈیوز زیر گردش ہیں، پاکستان نے برطانیہ کو خط لکھ دیا🚨(6) وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا قافلہ لاہور پہنچ گیا، پنجاب اسمبلی میں آمد🚨(7) وزیر اعلیٰ کے پی، سہیل آفریدی کے سکیورٹی گارڈز اور پنجاب اسمبلی کے گارڈز کے درمیان ہاتھا پائی🚨(8) سہیل آفریدی کو خوش آمدید، یہ پاکستان کا یورپ دیکھنے لاہور آئے ہیں، وزیراطلاعات پنجاب🚨(9) پنجاب حکومت کی مہمان نوازی سب نے دیکھ لی جہاں سہیل آفریدی کی آمد پر رکاوٹیں لگادی گئیں، کے پی حکومت🚨(10) 9 مئی مقدمات کا تفصیلی فیصلہ جاری؛ پی ٹی آئی رہنما محمود الرشید کو 33 سال قید کی سزا🚨(11) 9مئی مقدمات کا تحریری فیصلہ، یاسمین راشد اور عمر چیمہ کو 10، 10 سال قید کی سزا🚨(12) یو اے ای کے صدر کی وزیراعظم و فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں، تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق🚨(13) شہباز شریف اور شیخ بن زاید النہیان کی ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال🚨(14) یو اے ای کے صدر شیخ زاید النہیان کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ، پرتپاک استقبال، فضائی سلامی اور گارڈ آف آنر پیش🚨(15) ’’اہلاً و سہلاً، مرحبا‘‘، صدر یو اے ای کی پاکستان آمد پر خصوصی استقبالی نغمہ جاری🚨(16) فیلڈ مارشل سے اردن کی مسلح افواج کے سربراہ کی ملاقات، دفاعی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ🚨(17) پراپرٹی اونرشپ کیس: عدالتی حکم کے باوجود کسی نے زمینوں پر قبضے دلوائے تو نتائج کیلئے تیار رہے: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ🚨(18) کراچی: گیارہویں جماعت کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا🚨(19) بنگلادیش: عثمان ہادی کے قتل کیخلاف انقلاب منچہ کا دھرنا، انصاف کے حصول تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان🚨(20) بھارت: گاؤں میں مسجد کی تعمیر کیلئے سکھ خاتون نے 5 مرلے زمین عطیہ کردی🚨(21) پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے تحت کارروائیوں کیخلاف درخواست، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے سخت ریمارکس🚨(22) سکیورٹی فورسز کی کوہلو میں کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 5 دہشت گرد جہنم واصل🚨(23) نفرت کی سیاست ختم ہونی چاہیے، زبردستی کی حکومت ہم پر مسلط کی گئی: مولانا فضل الرحمان🚨(24) اپوزیشن اتحاد نے حکومت سے مذاکرات کیلئے کمیٹی کو حتمی شکل دے دی🚨(25) لاہور میں بسنت پر بسیں اور رکشے فری چلانے کا اعلان🚨(26) پی ٹی آئی نے کبھی بھی مذاکرات کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا: اختیار ولی خان🚨(27) نارکوٹکس سبسٹینسز ترمیمی بل 2025 پنجاب اسمبلی میں پیش ہوکر متعلقہ کمیٹی کو ارسال🚨(28) خیبرپختونخوا حکومت نے سرمائی تعطیلات کے دوران امتحانات لینے پر پابندی عائد کر دی🚨(29) بلوچستان پولیس کے شہدا پیکیج کے تحت ملنے والی مالی معاونت میں اضافہ🚨(30) پی ٹی آئی ایک طرف مذاکرات ، دوسری جانب مزاحمت کی بات کرتی ہے: فیصل کریم کنڈی🚨(31) مانسہرہ: جیپ کھائی میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق🚨(32) کراچی: 27 دسمبر کو صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری🚨(33) شہر قائد میں ای چالان سسٹم کا نفاذ، کے ایم سی افسر و ملازم جرمانہ خود ادا کریں گے🚨(34) آصفہ بھٹو زرداری کی گڑھی خدابخش آمد، ذوالفقار بھٹو، بینظیر بھٹو کے مزار پر حاضری🚨(35) کراچی میں 4 روزہ عالمی اردو کانفرنس کا آغاز ہوگیا🚨(36) ڈکی بھائی دس لاکھ روپے کا چیک گفٹ ملنے پر تنقید کی زد میں آگئے🚨(37) وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کے اعداد وشمار جاری🚨(38) لائیو پروگرام میں اچانک کیا ہوا تھا؟ احسن اقبال نے واقعے کی حقیقت بتادی🚨(39) سونے کی قیمت میں پھر اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 73 ہزار روپے سے زائد ہوگیا🚨(40) حملے کے بعد شہزاد اکبر کا بیان سامنے آ گیا، سوشل میڈیا پر وائرل تصویر جعلی قرار🚨(41) لکی مروت میں انتہائی مطلوب کمانڈر نصرت اللّٰہ مولوی ہلاک🚨(42) کراچی پورٹ پر تاریخی کارروائی، اسکریپ کے کنٹینر سے لاکھوں ڈالر مالیت کی 47 کلو گرام کوکین برآمد

نیو ائیر پارٹیز منانے والوں میں ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیلئر کیوں زیادہ ہوتا ہے ۔ موسم سرما کی تعطیلات شروع ہوگئی ہیں ۔ نئے سال کی آمد آمد ہے ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ہر سال ان دنوں میں خاص طور پر کرسمس کی شام ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیلئر کی شرح میں تیس فیصد تک اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اگر آپ دل کے مریض ییں ۔ آپ کی انجیوپلاسٹی ہوگئی ہے یا بائی پاس آپریشن ہوگیا یے یا آپ کو حال ہی میں ہارٹ اٹیک ہوا ہے یا آپ ہائی بلڈپریشر اور شوگر کے مریض ہیں یا آپ کا وزن بہت زیادہ ہے تو ان دنوں میں بہت احتیاط کریں ۔ نیو ائیر پارٹیز میں جانے سے احتراز کریں ۔ مرغن نمکین کھانے ۔ تمباکونوشی اور ڈرگز ۔ شراب نوشی ۔ رات تک جاگنا ۔ ذہنی دباؤ ۔ سرد موسم ۔ یہ سب ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیلئیر پیدا کر سکتے ہیں ۔ آپ کا دل بہت قیمتی یے ۔ ان عارضی جذباتی لمحات میں اپنے دل کو شدید نقصان سے بچائیں ۔ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔ لاہور ۔ پاکستان ۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان پہنچ گئے ، شاندار استقبال*وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان پہنچ گئے۔معزز مہمان کا اسلام آباد پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا ، پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے فضائی سلامی دی

*متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان پہنچ گئے ، شاندار استقبال*وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان پہنچ گئے۔معزز مہمان کا اسلام آباد پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا ، پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے فضائی سلامی دی۔اماراتی صدر کی صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں شیڈول ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اماراتی صدر کا دورہ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گا۔امارات کے صدر کے دورہ پاکستان کے تناظر میں اسلام آباد میں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

صدر یو اے ای۔۔۔پاکستان آمد متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر راولپنڈی پہنچ گئے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے استقبال کیاراولپنڈی۔26دسمبر :متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر راولپنڈی پہنچ گئے

—صدر یو اے ای۔۔۔پاکستان آمدمتحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر راولپنڈی پہنچ گئے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے استقبال کیا

راولپنڈی۔26دسمبر :متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر راولپنڈی پہنچ گئے،وزیراعظم محمد شہباز شریف ، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزرا نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔شیخ محمد بن زاید النہیان اپنے طیارے سے باہر آئےتو وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےان سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔

روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے یو اے ای کے صدر کو پھول پیش کئے۔اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ یو اے ای کے صدر کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی، جیسے ہی ان کا طیارہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے انہیں سلامی دی۔شیخ محمد بن زاید النہیان کے اعزاز میں نور خان ایئر بیس پر باضابطہ استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا،مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا جس کا انہوں نے معائنہ کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے ارکان کا متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے تعارف کرایا

جبکہ متحدہ عرب امارات کے صدر نے اپنے وفد کے ارکان کو وزیراعظم محمد شہباز شریف سے متعارف کرایا۔دونوں ممالک کے پرچم تھامے بچوں نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا،متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے بچوں سے ہاتھ ملایا اور ان کے ساتھ شفقت کا اظہار کیا۔دورے کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کریں گے جس میں دو طرفہ تعلقات کے علاوہ عالمی و علاقائی امور پر بھی بات چیت ہو گی۔

افغان میڈیا کے مطابق تنخواہیں ایسے وقت میں معطل کی گئی ہیں جب سردیوں کے باعث بیشتر خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔۔۔*سرحدی جھڑپ؛ افغانستان سے تاجکستان میں دراندازی کرنے والے تین حملہ آور ہلاک۔۔کوئٹہ بلدیاتی انتخابات روک دئیے گئےالیکشن کمیشن نے بلدیاتی الیکشنز روکنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*👈کیا مریم نواز کا یہ اقدام درست ہے؟**💥وزیراعلیٰ پنجاب کا سکھ برادری کو ہیلمٹ کے قانون سے مستثنیٰ قرار دینے کا اعلان*لاہور: پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے سکھ برادری کو بائیک پر ہیلمٹ پہننے کے قانون سے مستثنیٰ قرار دے دیا، ساتھ ہی انہوں ںے اقلیتی کارڈ کی تعداد 75 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ کرنے کا اعلان کیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے سکھ برادری کو بائیک پر ہیلمٹ پہننے کے قانون سے مستثنیٰ قرار دینے کا اعلان کیا۔ مریم نواز ںے کہا کہ سکھ برادری کو پگڑی پہننے کی وجہ سے ہیلمٹ سے مستثنی کردیا گیا ہے، پگڑی کے سبب انہیں ہیلمٹ پہننے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وہ ملک ہے، پنجاب وہ صوبہ ہے جس نے واقعی اقلیتوں کو اپنے سر کا تاج بنالیا ہے، حکومت کی کامیابی کا معیار اقلیتوں کا محفوظ ہونا ہے، اگر کوئی اقلیتوں کو نقصان پہنچائے گا یا ان کا حق مارے گا تو ریاست پوری قوت سے ٹکرائے گی۔

کوئٹہ بلدیاتی انتخابات روک دئیے گئےالیکشن کمیشن نے بلدیاتی الیکشنز روکنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیاوفاقی آئینی عدالت کے حکم پر کوئٹہ میں بلدیاتی الیکشنز روکے گئےکوئٹہ میں بلدیاتی الیکشنز 28 دسمبر کو شیڈول تھے

ایرانی فورسز نے کا خلیج فارس میں 40 لاکھ لیٹر ایندھن سے بھرا جہاز پکڑ لیا 🔹 ایران کی بحریہ کے پہلے ریجن کے کمانڈر سردار غلام شاہی نے بتایا کہ سپاہ نیوی کے پہلے ریجن کے جوانوں نے مکمل انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر ایک انتہائی منظم اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ایک ایسے جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا جو 40 لاکھ لیٹر اسمگل شدہ ایندھن لے جا رہا تھا۔ اس جہاز پر 16 غیر ملکی افراد بطور عملہ موجود تھے اور یہ جہاز اسلامی جمہوریہ ایران کے علاقائی پانیوں سے باہر نکلنے کی کوشش میں تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ جہاز کا مقدمہ مزید قانونی کارروائی کے لیے عدالتی اداروں کو بھیج دیا گیا ہے

*شام میں ترکیہ کے وزیر خارجہ پر اسرائیل کے خلاف بولنے پر پابندی* جیسے ہی ترکیہ کے وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے دمشق میں ہونے والی پریس کانفرنس میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے بارے میں بات شروع کی، ان کی بات کاٹ دی گئی اور اجلاس کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا۔

سیکورٹی فورسز نے شدت پسندوں اور دہشت گردوں کو گرفتار ھلاک کرنے کا سلسلہ جاری۔۔شھزاد اکبر کا 50 ارب کا لین دین پاونڈ واپس نہ کرنے پر لتر پریڈ۔۔پاکستانی خفیہ میزائل جن سے پورا بھارت ہل گیا 72 گھنٹے اھم۔۔ پاکستان کی طاقت مساوی مواقع اور مذہب و ذات سے بالاتر آئینی اقدار پر قائم اتحاد میں ہے۔۔۔ برطانوی سرزمین پہ بیرسٹر شہزاد اکبر پر دوسرا حملہ برطانوی ایجنسیوں کی خاموش تائید کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لین دین۔۔دنیائے فٹبال کے نامور کھلاڑی 72 برس کی عمر میں چل بسے۔۔ بھارت: ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں رنز کے انبار، سوالات اٹھنے لگے۔ دنیائے فٹبال کے نامور کھلاڑی 72 برس کی عمر میں چل بسے۔۔ ’ تمیز کے دائرے میں رہنا‘ سرفراز احمد کا جملہ۔شھباز حکومت خطرے کی گھنٹی بج گئی 4 بڑے مالیاتی سکینڈل۔اقلیتوں کو مکمل آزادی ہے۔بنگلا دیش نیشنل پارٹی کے عبوری چیئرمین طارق رحمان 17 سال بعد ڈھاکا واپس پہنچ۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے راولپنڈی کے چرچ میں کرسمس کی تقریبات میں شرکت کی اور مسیحی برادری کے ساتھ تہوار منایا۔ انہوں نے قومی ترقی و سلامتی میں پاکستانی مسیحیوں کی خدمات اور افواجِ پاکستان میں ان کی نسل در نسل قربانیوں کو سراہا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کی طاقت مساوی مواقع اور مذہب و ذات سے بالاتر آئینی اقدار پر قائم اتحاد میں ہے۔

دو ھزار چھبیس 2026 کا مصنوعی ذھانت کا سین انقلابی ھے- فوائد اور خطرات- مصنوعی ذھانت کے ایجنٹ بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ھونگے- ٹریلن ڈالر مزید انوسٹ ھونگے- ڈیٹا سنٹر کی ضروریات بڑھ رھی ہیں – اسی طرح sim, semi conductors کی ضروریات بھی- لیتھم کی ضروریات- حکومتیں ان سب کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں- جیو پالیٹکس کا انحصار اب ایک بھی بجائے درجنوں دوسرے معاملات کے ساتھ جڑ گیا ھے- جنگوں کی نوعیت تبدیل ھو گئی ھے- سیاست اب نیا مشغلہ بن گیا ھے – انجوائے کریں

میسی صدی کے عظیم ترین کھلاڑی بن گئے؛ رونالڈو کا نمبر کیا رہا؟اس فہرست میں مختلف کھیلوں سے تعلق رکھنے والے 25 عظیم کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے

بھارت: ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں رنز کے انبار، سوالات اٹھنے لگےٹورنامنٹ کے پہلے دن 18 میچز میں مجموعی طور پر 22 سینچریاں بنیں جبکہ ایک میچ میں ڈبل سینچری بھی اسکور کی گئی

دنیائے فٹبال کے نامور کھلاڑی 72 برس کی عمر میں چل بسے1979 اور 1980 میں اپنی ٹیم کو تاریخی کامیابی دلوانے والے عظیم کھلاڑی ہمیشہ کیلیے مداحوں کو اداس چھوڑ گئے

’ تمیز کے دائرے میں رہنا‘ سرفراز احمد کا جملہ ایشیا کپ کی فتح سے زیادہ وائرلسوشل میڈیا صارفین نے سرفراز کو مینٹور مقرر کرنے کے پی سی بی کے فیصلے کی تعریف کی اور انہیں پرجوش، بے لوث اور ایماندار قرار دیا، خاص طور پر اس بات پر کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کو دباؤ اور سیاست زدہ مقابلوں میں خود پر قابو رکھنا سکھا رہے ہیں

پنجاب حکومت، میڈیا ہاؤسز اور خاتون منصف بمقابلہ خاتون وزیراعلٰیپنجاب حکومت نے پہلے ’پولیس مقابلوں‘ کے ذریعے ’سستا اور بروقت انصاف‘ فراہم کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد ’پولیس مقابلوں‘ کے ’سستے طریقے‘ سے ’منشیات فروشی/فروشوں‘ کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی۔اور اب صوبائی حکومت نے پراپرٹی آرڈیننس جاری کرا کے 90 دنوں میں عوام کو ’فوری قبضے‘ دلانے کے لیے ٹریبیونلز تشکیل دیے کیونکہ سرکاری دعوے کے مطابق ’عدالتیں ناکام ہو چکی ہیں۔‘اس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مقدمے کی سماعت کے دوران ’سخت‘ ریمارکس دیے اور پھر آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا۔عدالتی حکم کے مطابق صوبائی حکومت کا جاری کردہ آرڈیننس ملکی آئین سے مطابقت نہیں رکھتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ’یوں لگتا ہے سرکاری وکلا نے یہ قانون پڑھا ہی نہیں۔

اگر یہ قانون اسی طرح لاگو ہونا ہے تو پھر جاتی امرا (شریف خاندان کے محلات) کو بھی آدھے گھنٹے میں خالی کروایا جا سکتا ہے۔‘دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے بڑے اور غیرجانبدار میڈیا ہاؤسز نے چیف جسٹس عالیہ نیلم کے یہ سارے ریمارکس اس طرح رپورٹ نہیں کیے۔آج کے روزنامہ ڈان نے اس کیس کو تمام ریمارکس کے ساتھ مکمل رپورٹ کیا۔اب وزیراعلیٰ مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر ناپسندیدگی کے اظہار کے ساتھ کسی حد تک سخت بیان جاری کیا ہے تو ملک کا ’سب سے بڑا اور غیرجانبدار‘ میڈیا ہاؤس اُس کو ’پورے کا پورا‘ رپورٹ کر رہا ہے۔

اور بار بار ہیڈلائنز کے ساتھ کر رہا ہے۔صوبے کی وزیراعلٰی کہتی ہیں کہ قانون سازی حکومت کا کام ہے جبکہ صوبے کی منصف اعلٰی کہتی ہیں کہ آئین کے تحت ضابطہ کار اختیار کرنا ضروری ہے یعنی Due process of law۔ دیکھتے ہیں ’سستے انصاف‘ سے شروع ہونے والا ’سستے قبضوں‘ کا یہ سفر کہاں جا کر رکتا ہے۔ویسے 8 فروری کے الیکشن کے ’نتائج‘ سے وجود میں آںے والی ن لیگ کی پنجاب حکومت کی وزیراعلٰی اور جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تیسرے نمبر سے لاہور ہائیکورٹ کی منصف اعلٰی بننے والی دونوں شخصیات کو ’ویمن امپاورمنٹ‘ پر ہم مبارکباد پیش کرتے ہیں۔