All posts by admin

3 وفاقی وزراء برطرف؟ 8 اھم ترین غیر ملکی شخصیات کی آمد شادی کی تقریبات اسلام آباد مکمل طور پر سیل 8 اھم ترین غیر ملکی شخصیات کی آمد شادی کی تقریباتعرب امارات اور سعودی عرب میں پھڈا۔۔پاکستان کے ساتھ 12 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے سہیل رانا لائیو میں

واشنگٹن سے ای پی ای نیوز ایجنسی کے مطابق 6 ماہ میں دوسرے آرمی چیف کا قتل.. دونوں ارمی چیف کا قائل اسرائیل ھے.. ایسا عذاب آنے والا ہے جس کے لئے حکومیں تیار نہیں ۔۔۔سرکاری ملازم دیواروں سے سر ٹکرا کر اپنا اور ریاست کا سر پھوڑ رہے ہیں۔شالیمار تھانے میں تعینات سب انسپکٹر اور سابق ایس ایچ او تھانہ لوئی بھیر سہیل اشرف ،خاتون ڈاکٹرکو ہراساں کرنے کی الزام میں۔۔نجکاری یا حرام کاری ذمہ دار کون۔۔دلھن عارف حبیب فاطمہ فڑٹلائر اور کون۔40 بیورو کریسی کے شکرے لاپتہ آسمان کھا گیا یا زمین۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA): ایک قومی ادارے کی داستانِ عروج و زوالپاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) محض ایک فضائی کمپنی نہیں بلکہ پاکستان کی قومی شناخت، ریاستی وقار اور عالمی سطح پر نمائندگی کی علامت رہی ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس نے ایک دور میں پاکستان کو ہوابازی کے میدان میں ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کا رہنما بنا دیا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہی ادارہ بدانتظامی، مالی خسارے اور سیاسی مداخلت کا شکار ہو کر زوال کی داستان بن گیا۔—قیام اور ابتدائی دورPIA کی بنیاد 1946 میں اورینٹ ایئرویز کے نام سے رکھی گئی، جو قیامِ پاکستان کے بعد 1955 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی صورت اختیار کر گئی۔ اس وقت پاکستان ایک نیا ملک تھا اور قومی ایئر لائن کا قیام دنیا کو یہ پیغام دینے کے مترادف تھا کہ پاکستان جدید، خود مختار اور ترقی کی راہ پر گامزن ریاست ہے۔ابتدائی برسوں میں PIA نے:کراچی سے لندن کی براہِ راست پروازیں شروع کیںجدید طیارے اپنے بیڑے میں شامل کیےایشیا، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ تک پروازیں پھیلائیںیہ وہ زمانہ تھا جب PIA کو ایشیا کی بہترین ایئر لائن قرار دیا جاتا تھا۔—سنہری دور (1960–1970 کی دہائیاں)1960 اور 1970 کی دہائیاں PIA کا سنہری دور کہلاتی ہیں۔ اس دور میں:PIA دنیا کی پہلی ایئر لائن بنی جس نے بوئنگ 707 کو ایشیا میں متعارف کرایافضائی سروس، وقت کی پابندی اور مسافر سہولت میں مثال قائم کیکیبن کریو، پائلٹس اور انجینئرز عالمی معیار کے تھےدیگر ممالک کی ایئر لائنز نے PIA سے تربیت حاصل کییہی وجہ ہے کہ کہا جاتا تھا:> “PIA was a role model airline for the world.”—زوال کا آغازوقت کے ساتھ حالات بدلتے گئے۔ 1980 کے بعد PIA کو جن مسائل نے گھیر لیا، ان میں نمایاں تھے:1. سیاسی مداخلتحکومتی اثر و رسوخ، غیر پیشہ ورانہ تقرریاں اور سفارش کلچر نے ادارے کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا۔2. مالی خسارہPIA مسلسل خسارے میں جاتی رہی۔ غیر ضروری ملازمین، ناقص فیصلے اور غیر منافع بخش روٹس نے نقصان بڑھایا۔3. انتظامی کمزوریاںنجی اور غیر ملکی ایئر لائنز جدید جہاز، بہتر سروس اور کم کرایوں کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں جبکہ PIA پرانا نظام لیے کھڑی رہی۔4. عالمی ساکھ کو نقصانحادثات، تاخیر، یورپی فضائی پابندیاں اور اندرونی بدانتظامی نے PIA کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔—PIA اور قومی تشخصاس کے باوجود PIA نے کئی مواقع پر قومی خدمات انجام دیں:قدرتی آفات میں امدادی پروازیںبیرونِ ملک پاکستانیوں کی واپسیحج و عمرہ آپریشنزجنگی اور ہنگامی حالات میں قومی ذمہ داریاںیہ تمام خدمات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ PIA محض تجارتی ادارہ نہیں بلکہ قومی خدمت کا ادارہ بھی رہا ہے۔—نجکاری کی بحث اور مستقبلPIA کے مسلسل خسارے کے باعث حکومتِ پاکستان نے نجکاری کا فیصلہ کیا۔ حالیہ برسوں میں:حکومت پر مالی بوجھ بڑھتا گیاقومی خزانے سے اربوں روپے کی سبسڈی دی جاتی رہینتیجتاً نجکاری کو واحد حل سمجھا جانے لگانجکاری کے حامیوں کے مطابق: ✔ ادارے میں پیشہ ورانہ نظم آئے گا✔ خسارہ کم ہوگا✔ سروس کا معیار بہتر ہوگاجبکہ مخالفین کا مؤقف ہے: ✖ ملازمین کا مستقبل غیر یقینی ہوگا✖ قومی اثاثہ ہاتھ سے نکل جائے گا—نتیجہپاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی تاریخ دراصل پاکستان کی اپنی تاریخ کا عکس ہے—ایک شاندار آغاز، ایک روشن دور، اور پھر غلط فیصلوں کا بوجھ۔اگر PIA کو خلوصِ نیت، پیشہ ورانہ قیادت اور سیاسی مداخلت سے پاک انتظام دیا جائے تو آج بھی یہ ادارہ دوبارہ عالمی سطح پر اپنا مقام حاصل کر سکتا ہے۔ PIA کی بحالی صرف ایک ایئر لائن کی بحالی نہیں، بلکہ قومی وقار کی بحالی ہے۔Arif habib group 135 Billion Bid winner….پی آئی اے کے 75فیصد حصص 135 ارب روپیہ میں حاصل کرنے والے عارف حبیب کراچی کے ایک میمن خاندان میں نو بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کا خاندان بانتوا، گجرات سے تھا، جہاں ان کے پاس چائے کا کاروبار اور کئی جائیدادیں تھیں۔ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد، انھوں نے اپنے کاروبار کو چھوڑ کر پاکستان ہجرت کی۔ ان کی تعلیم دسویں جماعت مکمل کرنے کے بعد ختم ہوئی اور انھوں نے کبھی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لیا۔ 1970ء میں، انھوں نے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں بروکریج انڈسٹری میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا، جسے ان کے بھائی نے خریدا تھا۔ 1970 میں، 17 سال کی میں حبیب نے اپنے کیریئر کا آغاز کراچی اسٹاک ایکسچینج (کے ایس ای) میں اسٹاک بروکر کی حیثیت سے کیا، جسے ان کے بڑے بھائی نے رکھا تھا جنھوں نے تجارتی لائسنس خرید رکھا تھا۔ ان کی ماہانہ تنخواہ 60 روپے تھی۔ انھوں نے اپنے دن ٹریڈنگ ہال میں سرمایہ کاروں کے حصص اور بیانات کا تجزیہ کرتے ہوئے گزارے، جس کا وہ اسٹاک کے بارے میں ان کے علم میں حصہ ڈالنے کا سہرا دیتے ہیں۔ 1992ء میں حبیب کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کا صدر منتخب کیا گیا اور انھوں نے اسٹاک ٹریڈنگ سسٹم کو کمپیوٹرائز کیا۔ وہ مزید پانچ بار پاکستان سٹاک ایکسچینج کے صدر منتخب ہوئے۔

لیبیا کے آرمی چیف جنرل محمد علی الحداد سمیت آٹھ سینئر فوجی افسران ترکی میں ایک المناک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ حادثے کا شکار ہونے والا فوجی طیارہ ترک دارالحکومت انقرہ سے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس جا رہا تھا۔ترک حکام کے مطابق پرواز کے کچھ ہی دیر بعد طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے بعد تلاش کا عمل شروع کیا گیا۔ بعد ازاں طیارے کا ملبہ انقرہ ایئرپورٹ سے تقریباً 105 کلومیٹر دور ایک دیہی علاقے سے برآمد ہوا۔حادثے میں تباہ ہونے والا طیارہ فالکن 50 جٹ تھا، جو 37 سالہ پرانا جہاز تھا۔

اگست 2020 میں محمد علی احمد الحداد کو لیبیا کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر مقرر کیا گیا۔ یہ تقرری اس وقت کے وزیر اعظم فیاض السراج نے کی، تقرری ایسے وقت میں ہوئی تھی جب لیبیا طویل عرصے سے سیاسی انتشار اور عسکری تنازعات کی لپیٹ میں تھا۔اس وقت لیبیا عملی طور پر دو حصوں میں منقسم ہے۔ دارالحکومت طرابلس میں اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت قائم ہے، جس کی قیادت عبدالحمید دبیبہ کر رہے ہیں، جبکہ مشرقی علاقوں میں طاقتور فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر کی زیرِ قیادت الگ انتظامی ڈھانچہ موجود ہے۔ یہی تقسیم ملک میں پائیدار استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔لیبیا میں جاری یہ بحران 2011 میں اس وقت شدت اختیار کر گیا، جب نیٹو کی حمایت سے ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں دہائیوں سے اقتدار پر قابض رہنما معمر قذافی کا خاتمہ ہوا۔ اس کے بعد سے ریاستی ادارے کمزور ہوتے چلے گئے اور ملک مسلسل بدامنی کا شکار رہا۔علاقائی سطح پر ترکی کا کردار خاص طور پر نمایاں ہے، جو طرابلس میں قائم اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔ ترکی نہ صرف اقتصادی معاونت فراہم کرتا رہا ہے بلکہ دفاعی تعاون بھی اس تعلق کا اہم حصہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے اور باہمی دورے لیبیا کی سیاسی و عسکری صورتحال میں ترکی کے اثر و رسوخ کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔۔

نجکاری یا حرام کاری….؟جاوداں سیمنٹ، PSM، پی،آئی،اے، دلہن اور عارف حبیب !محاسبہناصر جمالاے پیشہ ورو ! اس برگد کو بھی تراش دو سنا ہے! اس کی ٹہنیوں میں دودھ بے شمار ہے پی آئی اے (PIA) کی نجکاری کا ”پنڈورا باکس“ کھل گیا ہے۔ نجکاری ہونی چاہیے۔مگر اس کی آڑ میں حرام کاری “جرم” ہے۔ نجکاری کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ آپ گھر کا “سلور گولڈ” کوڑیوں کے بھاؤ، لاڈلوں کو بیچ دیں گے۔بتایا جا رہا ہے کہ پی آئی اے کا گذشتہ سال کا منافع 26 ارب ہے۔ پی آئی اے کے 777 (ٹریپل سیون) ایک بوئنگ جہاز کی قیمت 400 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ جبکہ یہاں ایئر لائن ہی 48 ملین ڈالر میں بیچ دی گئی ہے۔ حکومت کے حصہ میں صرف ساڑھے تین ملین ڈالر آئیں گے۔ ساڑھے 44 ملین ڈالر خریدنے والا، ایئر لائن پر لگائے گا۔ یعنی ایئر لائنز صرف 10.2 ارب روپے میں بیچی گئی ہے۔پیپلز پارٹی کے چوہدری منظور کہہ رہے ہیں کہ پی آئی اے کے ملازمین کا پراویڈنٹ فنڈ 20 ارب، بلڈنگز تقریباً 50 ارب کی ہیں، 10 ارب کے سپیئر پارٹس ہیں۔ 400 گاڑیاں، فرنشڈ دفاتر، 64 انٹرنیشنل لینڈنگ روٹس جو آج 640 ارب روپے میں بھی نہیں ملتے۔ 25 سال سے چلنے والی ایئر لائنز، سخت ترین کوششوں کے باوجود یہ روٹس نہیں لے سکیں۔ ان کا کہنا ہے، پی آئی اے پر قرضہ 650 ارب کا، مگر اثاثے ہزاروں ارب کے ہیں۔ گذشتہ سال 13 جہازوں کے ساتھ 26 ارب کا PIA نے منافع کمایا ہے۔ اسی سال 6 ماہ میں ساڑھے گیارہ ارب کا منافع کمایا گیا ہے۔ 10 ارب کے سپورٹنگ آلات ہیں۔یورپین روٹس کھلنے سے 40 فیصد مزید منافع آنا تھا۔پی آئی اے کا انتظامی خرچ 16 فیصد پر ہے۔سری لنکن اور ایتھوپیا جیسی ایئر لائن کے اخراجات 22 فیصد پر ہیں۔ پی آئی اے کے اثاثوں کے متعلق ابھی اور بہت سے ہوشربا انکشافات ہوں گے۔جیسے پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثوں کے متعلق ہوئے تھے۔قارئین!!! منصوبہ تو روز ویلٹ، سکرائب پیرس وغیرہ کو بھی ہضم کرنے کا تھا۔ فی الحال اسے موخر کیا گیا ہے۔ شاطر جانتے ہیں کہ ٹھنڈا کر کے کھانا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔سوشل میڈیا پر جو اکاؤنٹس اس نجکاری کو عظیم انقلاب قرار دے رہے ہیں ان کے بارے میں پوری قوم جانتی ہے یہ کون لوگ ہیں۔ ان کا تو ایک ہی ماٹو ہے کہ ”مینوں نوٹ ویکھا میرا موڈ بنے۔۔۔۔کراچی، منگھوپیر کے علاقے میں جاوداں سیمنٹ ہوا کرتی تھی۔ یہ 1961 میں قائم ہوئی۔ اس کا ابتدائی نام ویلیکا سیمنٹ لمیٹڈ تھا۔ 1972 میں بھٹو نے اسے نیشنلائز کر لیا۔ 2006 میں نجکاری کے پردے میں یہ عارف حبیب کے زیر انتظام آئی۔ 2010 میں اسے بند کر دیا گیا۔ 1367 ایکڑ زمین پر عارف حبیب نے مشہور زمانہ نیا ناظم آباد ہاؤسنگ پروجیکٹ کھڑا کر دیا۔ ماشاءاللہ، نجکاری کامیاب ہوگئی۔ مل کی روح آسمانوں پر پرواز کر گئی۔ صرف چار سالوں میں بندش کا ٹارگٹ حاصل کر لیا گیا۔کیا کبھی کسی حکومت نے اس بارے میں ان سے پوچھا۔؟ یا شرائط ہی ان سے پوچھ کر بنائی گئی تھیں؟اسی سال 2006ء میں عارف حبیب کا نام اسٹیل مل کی نجکاری میں خوب گونجا۔ ان کی نظریں اسٹیل مل کے 18660 ایکڑ زمین پر تھیں۔ 10390 ایکڑ پر پلانٹ، 8070 ایکڑ پر ٹاؤن شپ، 200 ایکڑ کا واٹر ریزوائر ہے۔ اسے 22 ارب میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ اسٹیل مل کے پاس اس وقت کیش فلو 7 ارب سے زائد کا تھا۔ اتنی ہی مالیت کا فنش اور اس سے زائد مالیت کا غیر فنش سامان تھا۔ انوینیٹری ان پراسیس اربوں میں تھی۔ صرف 6 ماہ پہلے 65 کروڑ کی سٹیل ملز نے نئی گاڑیاں خریدی تھیں۔65 میل لمبا میٹل ٹریک تھا۔ اپنی جیٹی تھی۔اعتزاز احسن نے پارلیمنٹ میں اپنے تاریخی خطاب میں کہا تھا کہ اسٹیل مل ”عارف بھائی“ کو دلہن کی طرح سجا کے پیش کی جا رہی ہے۔ بعدازاں اعتزاز احسن کو عارف حبیب کی جانب سے کیس لڑنے پر من پسند فیس کی آفر بھی کی گئی تھی۔اعتزاز احسن انکاری ہو گئے۔ان کا موقف تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں تقریر کر چکے ہیں۔اب اخلاقیات کا تقاضہ ہے کہ وہ یہ کیس نہ لیں۔پھر سپریم کورٹ نے اس نجکاری کو ختم کر دیا۔ یہیں سے مشرف اور شوکت عزیز کا افتخار چوہدری کا جھگڑا شروع ہوا۔آج قلم کار کو بھی یقین ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کی طرح ایک بار پھر پی آئی اے بھی عارف حبیب اور اس کے ساتھیوں کو دلہن کی طرح سجا کے پیش کی جاچکی ہے۔ ایسے میں فوجی فرٹیلائزر کی کنسورشیم میں شمولیت کی خبر آچکی ہے۔فوجی فرٹیلائزر ابتدائی بولی سے خود باہر نکل گیا تھا۔ اس پر ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے۔ایک طرف وفاقی حکومت اور اس کے جید ترین وزراء اپنے سوشل میڈیا کے ” موکلوں“ کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ پھر اسی وفاق کی ذیلی سروس، افواج پاکستان کو کیسے کاروبار کا حق دیا جاسکتا ہے۔ ان کی دکانیں بھی تو بند کروائی جائیں۔ان کے شٹر کیوں ڈاؤن نہیں کیے جاتے۔کیا ہم نے انہیں کاکول میں کاروبار کرنے کی تربیت دی تھی۔یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن ہو یا آرمی ویلفیئر ٹرسٹ، یہ حقیقت نہیں بدل سکتی۔ کیا حکومت کل پی۔ او، ایف واہ ۔ کامرہ، شپ یارڈ جیسے ادارے ایسے ہی چلاتی رہے گی۔ اگر پرائیویٹ سیکٹر کو آگے لانا ہے تو پھر ان اور دیگر سمیت ماری پٹرولیم کو بھی بیچا جائے۔ جس میں وفاقی حکومت کے 50٪ حصص ہیں۔ امید ہے پر اس پر”ڈاکہ” نہیں ڈلہ ہو گا۔ ماری پٹرولیم تو ایک عرصہ سے وفاق کاحصہ ماننے سے ہی انکاری ہے۔ حالانکہ یہ کمپنی 50/ 50 فیصد برابر سرمایہ کاری پر قائم کی گئی تھی. عوام کے اس مال کا تحفظ کون کرے گا؟میں تو اس لیے بھی ہوں خاکِ وطن کا محافظ یہ بھی بے غریبوں کی کمائی میرے بھائی دشمن تجھے کیسے نظر آنے لگیں دشمن تو نے نہیں دیکھے بھائی ! میرے بھائی (رام ریاض)عارف حبیب کے ساتھی کون ہیں۔ عقیل کریم ڈھیڈی، کو کون نہیں جانتا، وہ کس کا بندہ ہے۔ وہ کس کے لیے۔سب کچھ مینج کرتا ہے۔اسٹاک ایکسچینج میں اتنے ”بلڈ باتھ“ ہوئے اج تک کسی اسٹاک کنگ کا کچھ بگڑا۔ایک اسٹاک کنگ کے خلاف تو کیس سپریم کورٹ تک جا پہنچا تھا۔ کبھ حجازیوں کی بجائے SECP میں کچھ پاگل بھی ھوا کرتے تھے۔ کنسورشیم کا ایک رکن سٹی پرائیویٹ سکول ہے۔پوری قوم اندازہ کر لے تعلیم کتنا منافع بخش کاروبار ہے کہ اب ایک سکول والا بھی ایئر لائن خرید رہا ہے۔ لیک سٹی کے روح رواں،گوہر اعجاز تو کسی تعارف کے ہی محتاج نہیں۔آصف زرداری نے انہیں اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ جب وہ اپٹما کے ان داتا تھے۔ دونوں گیس کمپنیوں کے ایم ڈی ان کے جلال سے تھر تھر کانپتے تھے۔اسحاق ڈار لندن سے حکم دیتے کہ پہلے گوہر اعجاز کی بات سنو وگرنہ تم دفتر سے گھر ہی نہیں جاسکتے۔ اور ایم ڈی رات کو تین تین بجے دفتر سے گھر گئے۔ وہ، محسن نقوی کے 24 ٹی وی کے سرپرست بھی ہیں، حافظ صاحب کی نظر کرم سے، نگران دور میں تجارت کے وزیر رہے۔ابھی تو عارف حبیب معاہدے کے مطابق کسی انٹرنیشنل ایئرلائنز کو بھی اپنے کنسورشیم میں شامل کر چکے ہیں۔ جبکہ فوجی فاؤنڈیشن کا تو آج مبینہ طور پر اعلان ہوا ہے۔پاکستان کے چھوٹے بچے سے لے کر ایک نابینا تک جانتا ہے کہ یہ پورا میلہ کس کے لیے سجایا گیا تھا اور پی آئی اے کے ”اصل مالکان“ کون ہیں۔ حکومت کو 135 ارب میں سے صرف 10.11 ارب ملیں گے۔ 125 ارب جو کے 92٪ فی صد شیئر ہے۔ کنسورشیم، اپنی نئی نویلی پی آئی۔اے کی بحالی اور توسیع پر خرچ کرے گا۔ 25٪ بقیہ حصص پر حکومت کو ایک سال پریمیم ملے گا۔ جسے کنسورشیم ایک سال تک کسی بھی وقت خرید سکتا ہے۔ ظاہر ہے کنسورشیم 25 فیصد بقایا حصص بھی لازمی لے گا۔قارئین !!!سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ حکومتی ملکیتی ادارے، ساڑھے آٹھ سو ارب روپے سالانہ کھا رہے ہیں۔ ان میں سے پی آئی اے، 25 ارب کھا رہا تھا۔ (پارلیمنٹ اور پارلیمنٹرینز کا مت پوچھیے گا۔ وہ ور ان کے فصلے ھمیں کتنے کھربوں میں پڑتے ہیں)ہم نے اسے کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیا ۔ جبکہ ہم 400 ارب کے قریب فوجی پینشن بھی تو سویلین بجٹ سے ہی دے رہے ہیں۔ یعنی بات 1200 ارب سے اوپر ہے۔اگر 800 یا 1200 ارب سے جان چھڑانی ہے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ آپ گھر کے اثاثے کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیں گے۔ یہ لوٹ مار کا مال تو نہیں ہے جو لٹیروں کو لاٹھیوں کے گز بیچ دیا جائے۔؟؟؟کیا اس ملک کو اب کارٹل بنا کر لوٹا جائے گا۔آپ سے پی آئی اے نہیں چل رہی تھی۔ شاھد خاقان عباسی کو 25 سال کے لیے دے دیتے۔اسے کہتے منافع 50/50 ہوگا جبکہ خسارے میں ہم حصہ دار نہیں ہوں گے.وہ نہیں مانتے تو، آپ جہاز ، بلڈنگز، نام ۔۔گڈول اور روٹس کی الگ الگ بولی لگوا لیتے۔ اب اپ ہمیں یہ بھاشن مت دیجیے گا کہ اپ کو باقائد اعظم کی پی آئی اے سے عشق ہے۔اور آپ اسے کے لئے مرے جارہے ہیں۔ ھم قائد کے پاکستان سے آپ سب کی کمٹنٹ دیکھ نہیں بھگت رہے ہیں۔اب حضور۔۔۔ پاکستان کو ایسے تو فروخت نہ کرو۔ چند کوڑیوں کے عوض، اتنی رسوائی۔ اس سے بہتر ہے، آپ اسے بند کر دیتے۔نثار میمن نے روز ویلٹ کی نجکاری یہ کہہ کر روکی تھی کہ روز ویلٹ مین ہٹن نیویارک میں واقعہ ہے۔ وہاں پر صرف پاکستان کا جھنڈا لگا رہے تو خسارہ نہیں ہے۔ ہم ہوٹل کو بند کر دیں گے لیکن پاکستان کا جھنڈا لگا رہے گا۔ لگتا ہے۔اب والوں میں تو خُو، غیرت خودداری سب کچھ ہی چند سکوں کے عوض داؤ پر لگا دی ہے۔ صرف ملی نغموں سے کام چلا لیتے ہیں۔ سیاست دانوں، بابوؤں اور ملازمین (سیاسی بھرتیوں) نے ادارے کو برباد کر دیا۔ ایک نوجوان نے ریونیو 64 کروڑ سے اٹھا کر ساڑھے چار ارب کے قریب پہنچا دیا۔ ادارے نے اسے ہی نشانِ عبرت بنا دیا۔ انجینیئر ایئر لائن اور جنگی پائلٹ مارکیٹنگ دیکھ رہے ہیں۔ یہ تجربے کیا ہم عوام نے کیے ہیں۔؟

اسٹیل مل کو کس نے بند کیا تھا۔جب وہ منافہ کے قریب پہنچنے لگی۔ کون کون شامل تھا۔۔؟؟؟ کس کس کا سٹیل کا کاروبار تھا؟؟؟ہم کب کہہ رہے ہیں۔ خسارے سے نہ بچو۔ ضرور بچو۔ چاہے ادارے بند کر دو۔ ایسے تو نہ بیچو۔ اندھوں کی طرح، اپنوں میں تو ریوڑیاں نہ بانٹو۔آپ خسارے کی وجہ سے نجکاری چاہتے ہیں نا۔؟؟؟پی آئی اے قرضہ 650 ارب روپے ہے۔ اپ کے نزدیک اس کا حل نجکاری ہے۔آج پاکستان ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا مقرض ہے۔ سالانہ خسارہ اربوں ڈالر کا ہے۔ آپ سے ملک نہیں چل رہا۔ کیا پاکستان کو بھی بیچ دیں گے کیا….؟لوگ اور نظام بدلنا حل ہے۔ یا ملک بیچنا حل ہے۔؟؟؟ کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جسے نشئی کہتے تھے وہ جیل میں ایکسرسائز کر رہا ہے۔اور جو تندرست ہیں وہ گھر کی چیزیں بیچ رہے ہیں۔۔ویسے ہی جاپانی ہائیکو یاد آگئیسب کچھ بیچ کھایا ہےایک پڑیا کی خاطر ابکاغذ چن کر لایا ہے۔۔MCB، یو بی ایل، کی نجکاری کی فیوض و برکات گنواؤں کیا۔؟پاکستان کی عسکری، سیاسی، بیوروکریٹک اور سیٹھ نسل اور نسلیں، ناکام ہو چکی ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ اقتداد ایجنٹوں کی بجائے عوام کو منتقل کر دیا جائے۔ آپ یقین کیجئے عوام اس سے مراد عمران خان تو قطعاً نہیں ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ تباہی مچائے گا۔اس کی ٹیم میں عثمان بزدار،محمود خان، رزاق داؤد، زلفی بخاری،فرح گوگی، پیرنی، فواد چوہدری اور حماد اظہر جیسے وسیم اکرم پلس ہوں گے۔۔۔۔لیکن اگر وہ پھر بھی عوام کی چوائس ہے تو ایک بار پھر عوام کو اپنا شوق پورا کر لینے دیں۔ عوام جانیں اور وہ جانے….آپ ایکسٹینشن کے چکر میں شوق پورے کرنے سے باز رہیں۔ ریاست پرابلم میں ہے۔ اسے اپنا راستہ خود بنانے دیں۔ آپ برائے مہربانی، ہماری جان چھوڑ دیں۔ یا پھر ہمیں بتا دیں کہ ھم سب یہ ملک چھوڑ دیں….؟قحط سالی سے رہائی کی یہی دو صورتیں ہیں یا تیرا خون بہے یا میرا فن برسےیہی دعا ہے !!! مری، اے ارضِ وطن تجھ پہ ! بادل کی طرح میرا جیون برسے میرے شعروں پہ کسی شخص نے بھی داد نہ دی تری ! آواز پہ سکے بھی چھناچھن برسے (رام ریاض)

کچے کے ڈاکوؤں نے اپنے ایک جزیرہ کا نام تحریک انصاف کے سربراہ کے نام پر کچہ عمرانی رکھا ہوا تھا ۔گرفتار ڈاکوؤں کا کہنا ہے کہ پولیس کاروائی میں متعدد ساتھیوں سمیت مارے جانے والا گروپ کا سربراہ انور اندھڑ عمران خان کا شیدائی تھا ،کہتا تھا اس طرح لوٹ مار کرو پورا ملک چیخ اٹھے لیکن کچھ کر نہ سکے ایک علاقہ کچہ کراچی اور ایک علاقہ کچہ رجوانی بازیاب کروایا گیا ہے جہاں جدید ترین اسلحہ کےبہت بڑے زخائر ملے ہیں۔

کچے کے علاقہ میں پولیس اور رینجرز آپریشن کی ہلاکت خیزیاں جاری ہیں۔ڈرون حملوں میں اب تک دو درجن سے زیادہ ڈاکو مارے جا چکے ہیں ۔بڑی تعداد میں زخمی ہیں ۔ڈاکووں کی اکثریت فرار ہو رہی ہے ۔اب تک اغواء کئے گئے چھ افراد بازیاب ہو چکے ہیں۔بڑی تعداد میں جدید ترین اسلحہ برآمد ہو چکا ہے ۔اس مرتبہ پریشن کی نگرانی رینجرز کر رہی ہے۔ڈاکووں کا علاج کرنے والے جس ڈاکٹر اور ڈسپنر کو کچے کے علاقہ سے پکڑا گیا ہے وہ بھی رینجرز نے اپنی تحویل میں لے لئے ہیں ۔

خاک سے اڑان تک حبیب جالب اور حبیب رفیق تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

✈️🌟 عارف حبیب — خاک سے اُڑان تکپی آئی اے خریدنے والے عارف حبیب کون ہیں؟ کراچی کی تنگ گلیوں میں ایک لڑکا رہتا تھا۔ گھر میں آسائشیں کم تھیں، مگر اس کے خواب… آسمان سے بھی اونچے تھے اور اس لڑکے کا نام تھا عارف حبیب ہجرت کے بعد اس کے خاندان نے نئے سرے سے زندگی شروع کی۔ تعلیم میٹرک تک تھی، مگر سیکھنے کا جنون کسی بڑی یونیورسٹی سے کم نہیں تھا۔ 1970 میں اس نے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ایک چھوٹے بروکر کی حیثیت سے قدم رکھا۔ وہ روزانہ گھنٹوں مارکیٹ کو دیکھتا، سمجھتا، اور نوٹ کرتا وقت گزرتا گیااس کی ایمانداری، محنت اور تیز نظر نے اسے دوسروں سے آگے نکال دیا۔ وہ چھوٹا بروکر آہستہ آہستہ پاکستان کے بڑے سرمایہ کاروں میں شمار ہونے لگا۔پھر ایک دن اس نے وہ قدم اٹھایا جس نے اسکی زندگی بدل دی اس نے عارف حبیب گروپ کی بنیاد رکھی ۔ ایک ایسا گروپ جو آج اسٹیل، سیمنٹ، فرٹیلائزر، انرجی، رئیل اسٹیٹ اور فنانس جیسے بڑے شعبوں میں کام کرتا ہے۔عارف حبیب صرف ایک بزنس مین نہیں وہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے والوں میں سے ایک ہے۔1️⃣ ہزاروں پاکستانیوں کو روزگار دیااس کے گروپ کی کمپنیوں میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار چلتا ہے۔ اس نے ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جہاں نوکریاں کم تھیں، اور لوگوں کو باعزت روزگار ملا۔2️⃣ Naya Nazimabad — کراچی کا نیا چہرہایک ایسا ہاؤسنگ پروجیکٹ جس نے ہزاروں خاندانوں کو محفوظ، صاف اور جدید رہائش فراہم کی۔ یہ پروجیکٹ کراچی کی ترقی کی علامت بن گیا۔3️⃣ اسٹاک مارکیٹ کو بحرانوں سے نکالاوہ کئی بار پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے چیئرمین رہے۔ مشکل وقتوں میں انہوں نے مارکیٹ کو سنبھالا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا، اور ملکی فنانشل سسٹم کو مضبوط کیا۔4️⃣ انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاریانہوں نے بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ لگا کر ملک میں توانائی کی کمی کم کرنے میں کردار ادا کیا۔عارف حبیب کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جو کم لوگ جانتے ہیں وہ دل سے انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔1️⃣ Arif Habib Foundationیہ فاؤنڈیشن تعلیم، صحت، کھیل، اور سماجی بہبود کے منصوبوں پر کام کرتی ہے۔ غریب خاندانوں کی مدد، اسکولوں کی سپورٹ، اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنا اس کے اہم مقاصد ہیں۔2️⃣ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی سپورٹوہ مختلف اسپتالوں، ٹرسٹس، اور تعلیمی اداروں کو فنڈنگ دیتے ہیں، تاکہ غریب مریضوں کا علاج ہو سکے اور بچوں کو تعلیم مل سکے۔3️⃣ کھیل اور نوجوانوں کی ترقیNaya Nazimabad میں اسٹیڈیم، گراؤنڈز اور کھیلوں کی سہولیات ان کی اس سوچ کی علامت ہیں کہ “صحت مند نوجوان ہی مضبوط قوم بناتے ہیں۔”✈️ اور آج… سب سے بڑا سنگِ میلاس نے پاکستان کی قومی ایئرلائن PIA کا 75٪ حصہ خرید لیا۔135 ارب روپے کی اس تاریخی ڈیل نے پورے ملک کو حیران کر دیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی پرائیویٹائزیشن ہے۔اور انہوں نے کہا ہے کہ پی آئی اے میں کام کرنے والے ملازمین کو نہیں نکالا جائے گا اور مزید 20 طیارے مزید پی آئی اے میں لائے جائیں گے۔ایک وقت تھا جب وہ اسٹاک مارکیٹ کے باہر کھڑے ہو کر سینئر بروکرز کو دیکھتا تھا۔ آج وہ ایک ایسی ایئرلائن کا مالک ہے جس کے جہاز دنیا بھر کے آسمانوں پر اُڑتے ہیں۔🌤️ یہ کہانی صرف ایک شخص کی نہیں — یہ امید کی کہانی ہےیہ کہانی بتاتی ہے کہ:“کامیابی ڈگریوں سے نہیں، حوصلے سے ملتی ہے ” “اصل طاقت حالات میں نہیں، انسان کے اندر ہوتی ہے۔” “اگر نیت صاف ہو اور محنت سچی… تو ایک میٹرک پاس لڑکا بھی قومی ایئرلائن کا مالک بن سکتا ہے۔”

2006 میں پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری ہوئی اس وقت کی سپریم کورٹ میں یہ کیس لیکر جایا گیا تو اس وقت چیف جسٹس افتخار چوہدری بن چکا تھا تو افتخار چوہدری نے اس کیس کو ٹیک اپ کیا- اور یوں سٹیل ملز کی نجکاری کے عمل کو غیر شفاف اور غیر قانونی قرار دیا-

2006 میں پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری ہوئی اس وقت کی سپریم کورٹ میں یہ کیس لیکر جایا گیا تو اس وقت چیف جسٹس افتخار چوہدری بن چکا تھا تو افتخار چوہدری نے اس کیس کو ٹیک اپ کیا- اور یوں سٹیل ملز کی نجکاری کے عمل کو غیر شفاف اور غیر قانونی قرار دیا- کیا آپ جانتے ہیں اس وقت بھی ایک کنشورشیئم بنا تھا اور اس کنشورشیئم کی سربراہی عارف حبیب ہی کررہا تھا—جی ہاں یہی عارف حبیب جس نے آج کنشورشیئم بنا کر پی آئی اے کو خریدا– آپ دیکھ رہے ہیں عاصم چوہدری کی وال اور اس خبر کی پوری اصلی اور نیوٹرل تفصیل جاننے کے لیئے جڑے رہیئیے ہمارے ساتھ- اور ہمارے پیج پر فالو کے بٹن کو دبادیجیئے- سٹیل ملز کی نجکاری کے لیئے عارف حبیب کی قیادت میں ایک کنسورشیم بنا جس میں التوارکی گروپ سعودی عرب، میگنیٹوگورسک آئرن اینڈ سٹیل ورکس روس اور عارف حبیب سیکورٹیز لمیٹڈ نے 75 فیصد شیئر ساڑھے 21 ارب روپے میں (21.68 ارب) خرید لیا- -جون 2006 میں سپریم کورٹ نے اس پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس کے مطابق اس نجکاری کو غیر قانونی اور غیر شفاف قرار دیا- اس میں جن چیزوں کو جواز بنا کر یہ فیصلہ دیا گیا ان کی تفصیل میں یہاں بیان کردیتا ہوں تاکہ ایک پوسٹ جو وائرل ہورہی اس میں موجود کچھ انفارمیشن خراب ہونے کے باعث جگ ہنسائی نہ ہوجائے- سپریم کورٹ کے فیصلے میں عارف حبیب پر ذاتی طور پر فراڈ یا کرپشن کا براہ راست الزام نہیں لگایا گیا تھا بلکہ نجکاری کے مجموعی عمل میں پروسیجرل ایرریگولیریٹیز کی نشاندہی کی گئی- جو کہ سرکاری ملازمین کی طرف کی گئی جس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ سب عارف حبیب کو فائدہ پہنچانے کے لیئے کی گئی ہیں مثلا کنشورشیئم کی تشکیل ہی غیر قانونی قرار دی گئی- رولز کے مطابق کنسورشیم جس وقت بننا چاہیئے تھا اس وقت نہیں بنایا گیا بلکہ بولی کے بعد بنا۔ کچھ آف شور کمپنیاں (ماریشس بیسڈ) شامل کی گئیں جن کے دستاویزات کورٹ میں پیش نہیں کیے گئے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سٹیٹ فنکشنریز کی غلطیوں سے کنسورشیم کے ممبر عارف حبیب کو فائدہ ہوا- پاکستان سٹیل ملز کے اثاثوں (زمین، مشینری، انوینٹری) کی ویلیو اربوں روپے تھی (زمین اکیلی 250 ارب کی بتائی جاتی تھی)، لیکن سارا کچھ مل ملا کر 21.68 ارب میں بیچی جا رہا تھا۔پھر بولی صرف 30 منٹ میں ختم ہوگئی اور سٹیل مل پر اس وقت سارے قرضے پہلے ادا کر دیے گئے تاکہ سٹیل مل ڈیٹ فری بکے- اور یہی سارے کام تقریبا اب پی آئی اے کو بیچنے کے وقت بھی کیئے گئے ہیں– جیسے 18 طیاروں کی قیمت 70 ارب سے زائد، 170 پریمیم سلاٹس کی موجودگی جن میں ایک سلاٹس کی قیمت 30 ملین ڈالر- اس کے علاوہ آپریشنل آفسز، اور دوسری بہت سی چیزیں– اور پھر پی آئی اے کا قرضہ زیرو کرکے یعنی ڈیٹ فری کرکے عارف حبیب اینڈ کنشورشیئم کو دیا گیا–

واشنگٹن سے ای پی ای نیوز ایجنسی کے مطابق۔ 3 اھم ترین شخصیات کو گرفتار کرنے کا فیصلہ۔۔قائدِجمعیت مولانا فضل الرحمٰن کو پاکستان کےلیے قومی خدمات کے اعتراف میں سر سید یونیورسٹی کراچی کی جانب سے گورنر سندھ کامران ٹیسوری پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری پیش کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان ‘ڈاکٹر’ بن گئے، پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری موصول۔ قائدِجمعیت مولانا فضل الرحمٰن کو پاکستان کےلیے قومی خدمات کے اعتراف میں سر سید یونیورسٹی کراچی کی جانب سے گورنر سندھ کامران ٹیسوری پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری پیش کر رہے ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری کا دورہ عراق صدر مملکت زیارات کے ساتھ عراق کے ساتھ دفاعی معاہدہ طے کروانے میں کامیاب۔۔پاکستان دنیا کی نمبر ون ٹیم ھے ارمی چیف۔۔4 وزراء کی رخصتی 3 کے عھدے تبدیل۔۔ملک بھر میں مھنگای کا طوفان زندگی سسکیاں لینے لگی۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*ایک گھنٹے میں قتل کیس حل، اے ایس پی شہر بانو نے بھارتی ڈرامے سی آئی ڈی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا*سوشل میڈیا پر ایک پوڈکاسٹ کا کلپ غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے، جس میں ایس پی شہر بانو نقوی ایک سنجیدہ گفتگو کے دوران اچانک موصول ہونے والی فون کال کے بعد انٹرویو ادھورا چھوڑ کر روانہ ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کال سنتے ہی اے ایس پی شہر بانو میزبان کو یہ کہہ کر رخصت ہوتی ہیں کہ ایک قتل کا واقعہ پیش آ گیا ہے اور انہیں فوری جانا ہوگا۔ ’’آپ اس ہی طرح رہیں ، ایک مرڈر ہوگیا ہے ، میں بس آتی ہوں‘‘۔یہ پوڈ کاسٹ ایک معروف یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا گیا، جہاں گفتگو کے دوران اسکرین بلیک آؤٹ ہوتی ہے اور ناظرین کو بتایا جاتا ہے کہ ایک گھنٹے بعد اے ایس پی شہر بانو واپس آتی ہیں۔ پوڈ کاسٹ دوبارہ وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں رکی تھی۔ میزبان ان کی واپسی پر ان کی پیشہ ورانہ وابستگی کو سراہتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ اس دوران کیا پیش آیا، جس پر اے ایس پی مختصر جواب دیتی ہیں کہ قتل کا واقعہ تھا۔مزید گفتگو میں اے ایس پی شہر بانو نقوی اس قتل کی تفصیلات بھی بیان کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ڈیفنس کے علاقے میں لین دین کے تنازع پر ایک دوست نے دوسرے دوست کو قتل کردیا اور بعد ازاں مقتول کے اہلِ خانہ کو یرغمال بنالیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب مقتول کے رشتے دار بیرونِ شہر سے واپس آئے اور فون کالز کا جواب نہ ملا تو انہوں نے دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہو کر صورتحال دیکھی۔ گھر کی مالکن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، جنہوں نے اشاروں کے ذریعے ملزم کی نشاندہی کی۔ اس کے بعد اہلِ خانہ نے تھانے جا کر اطلاع دی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا۔یہ پوری تفصیل پوڈ کاسٹ میں محض چند منٹ کے لیے دکھائی گئی، تاہم یہی حصہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے انٹرویو کی سب سے نمایاں جھلک بن گیا۔ وائرل کلپ کے بعد سوشل میڈیا پر طنز ، تنقید اور تبصروں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔کئی صارفین نے اس واقعے کو طنزیہ انداز میں لیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ اے ایس پی نے پوڈ کاسٹ کے دوران ایک گھنٹے میں قتل کا کیس حل کر دیا، جو غیر معمولی رفتار ہے۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ جتنی دیر میں یہ کیس حل ہوا، اتنی دیر میں وہ ایک تعلیمی سوال بھی حل نہیں کر پاتے۔ بعض صارفین نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا ایک گھنٹے میں نہ صرف ملزم کی گرفتاری بلکہ مکمل کہانی سامنے آجانا حقیقت پسندانہ ہے؟دوسری جانب کچھ صارفین اے ایس پی شہر بانو نقوی کے حق میں بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک پولیس افسر نے ڈیوٹی کو ذاتی مصروفیت پر ترجیح دی، جو قابلِ تحسین ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی اور افسر کو ایسی اطلاع ملتی تو شاید وہ موقع واردات پر جانے کے بجائے ماتحت عملے کو ہدایات دے کر معاملہ نمٹا دیتا، مگر شہر بانو نقوی نے خود جا کر ذمے داری نبھائی۔تاحال اے ایس پی شہر بانو نقوی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باقاعدہ وضاحت یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر جاری بحث میں یہ سوال شدت اختیار کرگیا ہے کہ چاہے واقعہ حقیقی ہو یا نہیں، کیا اسے اس انداز میں ریکارڈ کرکے ایڈیٹ شدہ شکل میں عوام کے سامنے پیش کرنا ضروری تھا؟ یہی سوال اس پوڈ کاسٹ کو محض ایک انٹرویو سے بڑھا کر ایک متنازع بحث میں تبدیل کرچکا ہے۔

*💥ہم دفاعی قوت کو دفاع کے اعتبار سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں سیاسی قوت کے طور پر نہیں، مولانا فضل الرحمان**🌼سیاسی قوت کے طور پر مضبوط ہونا عوام اور سیاست دانوں کا حق ہے، فـلسـطـین فوج بھیجنے کی غلطی ہرگز نہ کی جائے، سربراہ جے یو آئی**🔴یہ بات انہوں نے کراچی میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ گورنر سندھ نے مولانا فضل الرحمان کو اعزازی ڈگری سے نوازا۔*

صدر آصف علی زرداری کی بغداد میں زیاراتِ مقدسہ پر حاضریصدر مملکت نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے مزار پر فاتحہ خوانی کیصدر مملکت نے کاظمیہ مقدسہ میں امامِ موسیٰ الکاظمؑ اور امامِ محمد التقیٰ الجوادؑ کے روضوں پر حاضری دیصدر مملکت نے روضۂ کاظمیہ میں امتِ مسلمہ کے امن، اتحاد اور سلامتی کے لیے دعا کیصدر آصف علی زرداری نے روضۂ کاظمیہ میں زائرین کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیےصدر مملکت نے ائمۂ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو علم، صبر، حکمت اور اخلاقی قوت کا دائمی سرچشمہ قرار دیاصدر آصف علی زرداری کی امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کے مزار پر بھی حاضریصدر نے تمام مزارات کے منتظمین اور مبلغین سے بھی ملاقاتیں کیں

*بریکنگ**سری لنکا میں بدترین سمندری طوفان، پاکستان کے ریلیف آپریشن کی راہ میں بھارتی حکومت کی تنگ نظری اور پاکستان دشمنی حائل*مودی سرکار کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی: انا کی تسکین کیلئے خطے کے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے لگابھارتی حکومت نے فضائی حدود کی بندش کر کے سری لنکا میں پاکستان کے ریسکیو آپریشن میں حائل ہو گئیسمندری طوفان ڈٹوہ نے 28 نومبر کو سری لنکا کے ساحلی علاقوں میں تباہی مچا دیسر ی لنکا میں سمندری طوفان ڈٹوہ کے باعث کئی افراد ہلاک، زخمی جبکہ ایک بڑی تعداد بے گھر ہو گئیحکومت پاکستان اور عوام اس مشکل گھڑی میں اپنے سری لنکن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیںسمندری طوفان کے بعد وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پاکستان کی جانب سے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی خصوصی ہدایاتپاک فوج کی 45 رکنی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم این ڈی ایم اے اور پاک فضائیہ کی مدد سے سی 130 طیارے کے ذریعے سری لنکا روانگی کیلئے تیارسری لنکا بھیجی جانے والی ریسکیو ٹیم ترکیہ میں بھی ناگہانی آفت کے دوران اپنے فرائض بخوبی سر انجام دے چکی ہے بھارت نے اس انسانی ہمدردی کے مشن کیلئے فضائی اجازت دینے سے انکار کردیااین ڈی ایم اے نے 100 ٹن صلاحیت والے تجارتی کارگو طیاروں کے ذریعے امداد بھیجوانے کی بھی کوشش کیان طیاروں کی روانگی بھی بھارتی فضائی حدود کی بندش سے مشروط ہونے کے باعث سست روی کا شکار ہےپاکستان کی امدادی کھیپ اور ریسکیو ٹیم کو متبادل راستہ اختیار کرنا پڑے گا جس کیلئے زیادہ وقت درکار ہےبھارتی فضائی حدود کی بندش کے باعث 100 ٹن امدادی سامان بحری راستے سے 8 دن میں سری لنکا پہنچے گاامدادی سامان میں ریسکیو کشتیاں، پمپس، لائف جیکٹس، ٹینٹ، کمبل، دودھ، خوراک اور ادویات شامل ہیںپاک بحریہ کا پی این ایس سیف جو انٹرنیشنل فیلٹ ریویو 2025 کیلئے کولمبو میں موجود تھا امدادی سرگرمیاں میں پہلے ہی مصروف عمل ہےتمام تر رکاوٹوں کے باوجود پاکستان سری لنکا کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے امدادی سامان کی ترسیل جاری رکھے گابھارتی حکومت کا اس ناگہانی صورتحال میں فضائی حدود کی بندش کا فیصلہ انسان دشمنی کی بڑی مثال ہے

بادبان نیوز—وزیراعظم ۔۔۔ظہرانہ وزیراعظم کا ایشیا کپ کی فاتح انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے ہر کھلاڑی کیلئے ایک ایک کروڑ روپے کا اعلان، ٹیم نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، شہباز شریف

بادبان نیوز سروساہم ترین—وزیراعظم ۔۔۔ظہرانہوزیراعظم کا ایشیا کپ کی فاتح انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے ہر کھلاڑی کیلئے ایک ایک کروڑ روپے کا اعلان، ٹیم نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، شہباز شریف

اسلام آباد۔22دسمبر (بادبان):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انڈر 19 ایشیا کپ کی فاتح پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہر کھلاڑی کیلئے ایک ایک کروڑ روپے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم نے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔ وہ پیر کو یہاں انڈر 19 کرکٹ ٹیم ایشیا کپ کی فاتح انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں ظہرانے سے خطاب کر رہے تھے۔

وفاقی وزیر داخلہ و چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے علاوہ ٹیم کے کھلاڑی اور پی سی بی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وزیر اعظم نے ٹیم کو شاندار جیت پر شاباش دیتے ہوئے کہا کہ ایشیا کپ کی فاتح ٹیم نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم، انتظامیہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی کاوشیں اور محسن نقوی کی محنت قابل قدر ہیں۔ وزیراعظم نے علی رضا اور سمیر منہاس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ٹیم کی کامیابی میں کردار ادا کرنے والے تمام کھلاڑیوں، کوچز اور دیگر سٹاف کو شاباش دی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ میں اﷲ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح سے ہمکنار کیا۔

وزیراعظم نے ہر کھلاڑی کیلئے ایک ایک کروڑ روپے اور ٹیم مینجمنٹ کے ہر رکن کیلئے 25، 25 لاکھ روپے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایشیا کپ میں فتح سے قوم نے بھرپور خوشیاں منائیں۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ انڈر 19 ٹیم کی جیت ہمارے لئے بڑا اعزاز اور تاریخی دن تھا۔

ٹیم کے کپتان اور کھلاڑیوں نے انعامات کے اعلان پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی کی جانب سے بھرپور تعاون ملا ، کوچز نے کیمپس کے دوران بھرپور محنت کرائی۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بہادر ترین فوجی قرار سعودی عرب کا سب سے بڑا قومی ایوارڈ دے دیا گیا

*فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز میڈل سے نوازا گیا*پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ریاض میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی۔پاکستان سعودی دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے اور سٹریٹجک تعاون کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرنے پر سعودی عرب نے انہیں کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس سے نوازا۔

واشنگٹن سے ای پی ای نیوز ایجنسی کے مطابق۔۔ کے پی کے میں بھارتی تربیت یافتہ دھشت گرد 2 کارائیوں کے بعد دھشت گرد ھلاک کئے گئے آپریشن کی نگرانی جنرل عمران رانا نے کہ۔۔اپوزیشن نے نئے الیکشن اور ۔۔چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا مطالبہ کر دیا۔اپوزیشن نے طلبہ یونین پر عائد پابندی بھی ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔۔گورنر سندھ اور کے پی تبدیل شیر پاؤ کنفرم۔۔جنوبی افریقہ میں دھشت گردی 21 افراد ہلاک۔چینی مافیا اور گندم مافیا کے درمیان کرپشن مقابلہ جاری۔ صارفین کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان۔۔۔10 غیر قانونی افغان ھلاک۔۔کچے کے علاقے میں سب ھلاک۔گلگت بلتستان میں دفعہ 144 نافذ۔سندھ طاس معاہدہ رفو چکر۔۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بہادر ترین فوجی قرار سعودی عرب کا سب سے بڑا قومی ایوارڈ دے دیا گیا۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ملک میں نئے صاف و شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرائی جائیں اور واضح کیا ہے کہ اپوزیشن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے منعقدہ دو روزہ قومی مشاورتی کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ جمہوریت کی عمارت شفاف انتخابات پر کھڑی ہے، انتقال اقتدار میں عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے تحریک تحفظ آئین پاکستان نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری اور نئے صاف شفاف انتخابات انعقاد کروانے کا مطالبہ کرتی ہے۔اپوزیشن اتحاد نے کہا ہے کہ قومی کانفرنس کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ فروری 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کروائی جائیں اور عدلیہ پر حملوں، 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ کانفرنس جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس منصور علی شاہ سمیت تمام ججوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان، ان کی اہلیہ، ان کے بہنوں اور سیاسی عمائدین کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک کی شدید مذمت کرتی ہے۔قومی کانفرنس کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی اہلیہ اور ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی یقینی بنائی جائے، عمران خان اور ان کی اہلیہ سے ملاقاتوں پر لگی پابندی فوراً ختم کی جائے۔اپوزیشن اتحاد نے پیکا کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے اس سے ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا

کہ مطیع اللہ، ایمان مزاری، ہادی چھٹا سمیت دیگر کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے، میڈیا کا گلا گھونٹا جارہا ہے، مقدمات بنائے جا رہے ہیں، جس کی مذمت کرتے ہیں اور ان جھوٹے مقدمات کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔اپوزیشن اتحاد نے غزہ میں پاک فوج بھیجنے کے حوالے سے چھائی دھند کو ختم کرکے سب کو اعتماد میں لینے کا بھی مطالبہ کیا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ قومی کانفرنس یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی میں کمی لائے جائے، لوگوں پر عائد ٹیکسز میں کمی کی جائے، لوگوں کو لاپتہ کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہیں، مہارنگ بلوچ سمیت دیگر کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے امن جرگے کے متفقہ لائحہ عمل پر عمل کیا جائے، پی ٹی آئی سے پابندی ہٹائی جائے۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان افغانستان کے ساتھ بگڑے ہوئے حالات ٹھیک کرنے کے لیے مذاکرات کا مطالبہ کرتی ہے۔صوبائی امور پر مطالبہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی میں اس کا حصہ دیا جائے، معدنیات صوبے کی عوام کی منشا کے بغیر کسی کو نہیں دیے جاسکتے لہٰذا معدنیات سے متعلق صوبے کے عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ اپوزیشن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔قومی کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ہم 8 فروری کو بین الاقوامی طور پر یوم سیاہ منائیں گے اورعوام کو متحرک کرنے کے لیے مرکزی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، بانی پی ٹی آئی سے بھی اسٹریٹ موومنٹ کی ہدایات آئی ہیں، اس حوالے سے صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں مشاورتی کانفرنسز کا اہتمام کیا جائے گا۔ اپوزیشن نے طلبہ یونین پر عائد پابندی بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

نایاب ہار، گھڑی اور ڈنر سیٹ تک نہیں چھوڑا گیا ، طلال چودھریہم نے منع نہیں کیا ، آپ کے بچے آپ سے نہیں ملنا چاہتے، طلال چودھریہمدردی حاصل کرنے کیلئے قید تنہائی کا کارڈ نہ کھیلیں، طلال چودھریجیل میں ان کو جتنی سہولیات حاصل ہیں وہ کسی کو نہیں ملیں، طلال چودھریبانی پی ٹی آئی کے بچے پاکستان آئیں، مکمل سکیورٹی دی جائےگی، طلال چودھری

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسانی اسمگلنگ کے خاتمے اور غیر قانونی طور پر بیرون ممالک سفر کے خلاف اقدامات پر اجلاساجلاس کو بیرون ملک غیر قانونی سفر کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں اور اقدامات پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ یورپ کے ممالک میں غیر قانونی ہجرت، ورک ویزا، وزٹ و ٹورسٹ ویزا کا غلط استعمال، آف لوڈنگ اور ڈی پورٹیشن کی اہم وجوہات ہیں۔ ایئر پورٹس پر ای-گیٹس کا نظام فعال کرنے پر کام جاری ہے۔ غیر قانونی سفر روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔”- ایمیگریشن کا نظام بہتر بنانے کے حوالے سے ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔”وزیراعظماجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔

انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان نے بھارت کو 191 رنز سے شکست دیکر ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔پاکستان کی جانب سے ملنے والے 348 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم 26.2 اوورز میں 156 رنز بناکر ڈھیر ہوگئی۔بھارت کی جانب سے دیپیش دیویندرن 36 رنز کیساتھ نمایاں رہے، سوریا ونشی 26، ارون پٹیل 19، ارون جارج 16 رنز بنا کر چلتے بنے جبکہ کنشک چوہان اور ویدانت چوہان 9، 9 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔پاکستان کی جانب سے علی رضا نے 4، محمد صیام، عبدالسبحان اور حذیفہ احسن نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔قبل ازیں دبئی میں کھیلے گئے انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، تاہم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 347 رنز سکور کیے اور بھارت کو جیت کے لیے 348 رنز کا ہدف دیا۔بھارت کے خلاف سمیر منہاس نے 17 چوکے اور 9 چھکوں کی مدد سے دھواں دھار 172 رنز کی اننگز کھیلی، انہوں نے 103 رنز محض 71 گیندوں پر بنائے، سمیر اس ٹورنامنٹ کے ٹاپ سکورر ہیں۔اس کے علاوہ احمد حسین نے 56، عثمان خان نے 35، کپتان فرحان یوسف نے 19 اور حمزہ ظہور نے 18رنز بنائے۔ محمد صیام 13 اور نقاب شفیق 12رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔بھارت کی جانب سے دپیش دیوندرن نے 3، کھیلان پٹیل اور ہینل پٹیل نے 2-2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔پاکستان کی شاندار فتح پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہبازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹیم کو مبارکباد دی۔

*اسلام آباد۔۔۔۔وزارتِ مذہبی امور نے حج 2026 کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی**اسلام آباد۔۔۔ عازمینِ حج کو سعودی عرب لے جانے اور واپس پاکستان لانے کے لیے 4 فضائی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے طے پا گئے ہیں**اسلام آباد۔۔۔ وزارت نے پی آئی اے، سعودی ایئرلائن اور دو پاکستانی نجی فضائی کمپنیوں کے ساتھ حتمی معاہدے کیے ہیں**اسلام آباد۔۔۔ حکومت عازمین کو محفوظ اور بروقت سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔*

🚨 *پاکستان ہمارا سچا اتحادی ہے، یہ دوستی قیامت تک رہے گی: صدر اردوان*ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ پاکستان ترکیہ کا سچا اور کھرا اتحادی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی قیامت تک قائم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاک ترک تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط اور مستحکم ہوں گے۔بحری پلیٹ فارمز کی شمولیت سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ مکمل کامیاب آزمائشوں کے بعد جدید جنگی جہاز PNS خیبر پاکستان بحریہ کے حوالے کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان بحریہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے چار ملگیم (MILGEM) بحری جہازوں کی تعمیر کا معاہدہ کیا گیا تھا، جس پر کامیابی سے عمل کیا جا رہا ہے۔

نصر من اللہ وفتح قریب : کچے کے ڈا۔کؤؤں کا انجام قریب : ریاست کو چیلنج کرنے کا انجام : چند روز قبل اینٹی ائیر۔کر۔افٹ گن خرید کر فورسز کو دھم۔کیاں دینے والا ظفری چھبیل کچے میں آپریشن کے دوران پار کردیا گیا ، تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس ، پنجاب پولیس اور پاکستان رینجرز کے ایک مشترکہ مشن میں کچے کے متعدد ڈا۔کوؤں کو واصل جہنم کیا گیا ہے ، کئی زخمی اور درجنوں ڈا۔کو ٹھکانے چھوڑ کر بھاگ گئے ، ان ٹھکانوں سے بڑی مقدار مین گو۔لہ بارو۔د ، موبائل فونز ، جدید ترین ہتھیار ، را۔کٹ لا۔نچرز کے علاوہ ڈا۔کوؤں کے بیوی بچے بھی ملے ہیں ۔۔۔ عورتوں اور خواتین کو بالکل کچھ نہیں کہا گیا ۔۔۔یاد رہے کہ لگ بھگ ایک ہفتہ قبل ظفری چھبیل نے ایک اینٹی ائیر کرا۔فٹ چلاتے ہوئے ویڈیو بنوا کر اداروں کو چیلنج کیا تھا کہ اب تمہارا دھواں نکال کررکھ دیں گے ، اسکے دیگر ساتھیوں کی ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں جن میں وہ ایک کے بدلے چار والا انتقام لینے کی بات کررہے ہیں ۔۔۔ کچے کے ان ڈا۔کؤؤں کو فورسز نے اس وقت نشانہ بنایا جب ایک بار فرار ہونے کے بعد وہ کشتی کے ذریعے دوبارہ اپنے ٹھکانوں پر آئے تاکہ زخمی ساتھیوں کو لے جا سکیں ،، مگر فورسز نے فضائی آپریشن اور سنائپرز کے ذریعے انہیں نشانہ بنا ڈالا ، ہلا۔ک ہونیوالے ڈا۔کؤوں میں ظفری چھبیل کے علاوہ گمنی اور گوپانگ بھی شامل ہیں جنہیں کچے میں بااثر ترین افراد میں شمار کیا جاتا تھا ۔۔۔۔۔