فیصل آباد پی آئی اے کا گراؤنڈ سٹاف انتہائی بدتمیز جاہل اور گنوار پوری دنیا میں ائیر لائن ہینڈ کیری کا وزن نہیں کیا جاتا دو لوگوں کا وزن دو کلو گرام سے بھی کم زیادہ تھا جس میں پرسنل استعمال لیپ ٹاپ کمپیوٹر کا چارجر ا بورڈنگ کاؤنٹر پر ایک بوڑھی سی عورت جو کہ کم از کم آدھ کلو گرام کوئی سستا سا میک اپ لگا کر بیٹھی تھی جس اس کے چہرے کی جھریاں اور واضح ہو رہی تھیں پہلے تو پانچ سو روپے رشوت کے طور پر اینٹھنے کی کوشش کی جو نہ دینے پر 1050 روپے وزن کے چارجز وصول کئے گئے۔ اس کی ہاں میں ہاں ملانے کے لئے ایک اس سے بھی زیادہ بزرگ خاتون جس نے اس سے بھی زیادہ تقریبا پون کلو گھٹیا سا میک اپ لگا کر جوان بننے کی کوشش کر رہی تھی۔ ان کے منیجر صاحب بیچارے للو انسان جس کی بات بورڈنگ کاؤنٹر والی دونوں بزرگ عورتیں نہیں مان رہی تھیں لہذا آف لوڈ ہونے سے بچنے کے لئے ان کو 1050 دینے پڑے ۔ پیسے وصول کرنے کے بعد منیجر کے سامنے بھی وہ پیسوں کی رسید دینے کے لئے تیار نہیں تھیں ۔ پی آئی اے باکمال لوگوں کی لاجواب انتخاب کے سلوگن والی ائیر لائن کی بربادی کے پیچھے ان خون آشام درندوں کا ہاتھ ہے۔ عارف حبیب گروپ کی مہربانی سے یہ ادارہ بک گیا ہے ورنہ اس کو پوری دنیا میں مفت میں بھی خریدنے کے لئے کوئی تیار نہیں تھا۔ نئے مالکان سے گزارش ہے اگر اس ادارے کو چلانا ہے تو اس طرح کے ملازمین کی اسکرونٹی اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نپٹا جائے ورنہ وہ مثال جتھے دی کھوتی اوتھے آن کلوتھی – دھڑلے سے رشوت وصول کرنے والےاس طرح کے ملازمین کو نوکری سے برطرف کرنا کافی نہیں ہے ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
*کراچی میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پاکستان رینجرز (سندھ) کے جوانوں کی نمازِ جنازہ ادا*بھارتی پراکسی جماعت الاحرار کے بزدلانہ دہشت گرد حملے کو ناکام بناتے ہوئے رینجرز کے جوانوں نے جام شہادت نوش کیا تھاشہدا کی نمازِ جنازہ میں وفاقی وزیر داخلہ،گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ، ڈی جی رینجرز، شہداء کے لواحقین اور سینئر سول و عسکری حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کیشرکاء نے شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا*وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ؛* دہشت گردی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے جس کا حساب لیا جائے گادہشتگردی کرنے والے عناصر چاہیے وہ کہیں بھی ہوں سیکیورٹی فورسز ان کا پیچھا کر کے کیفرکردار تک پہنچائیں گی، *وزیر داخلہ* *گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا کہ؛* ہم دہشتگردی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے ملک سے اس کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردی کو کبھی برداشت نہیں کریں گے اور دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے، *گورنر سندھ* *وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ؛* دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے رینجرز کے بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جن کو سلام پیش کرتے ہیںملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمہ کیلئے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں، *وزیراعلیٰ سندھ* نمازِ جنازہ کے بعد شہداء کے جسدِ خاکی ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دیے گئے جہاں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گابعد از نماز جنازہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گورنر سندھ کے ہمراہ اس جگہ کا دورہ بھی کیا جہاں دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں
‼️‼️‼️breaking *پاکستان رینجرز سندھ کیمپ حملے میں ملوث زخمی دہشت گرد کے ہوشربا انکشافات* پاکستان رینجرز کیمپ پر بزدلانہ حملے میں ملوث دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کے پس پردہ افغان طالبان رجیم کے شواہد سامنے آ گئے *بزدلانہ حملے میں ملوث دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کے دہشت گرد نے انکشاف کیا کہ؛* میرا نام عثمان علی ہے اور میں افغانستان کے علاقے جلال آباد سے آیا ہوں میرے ساتھ 3 اور ساتھی بھی تھے جن کا نام عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق تھا ، *گرفتار دہشت گرد عثمان* میرے ساتھ آنے والا دہشتگرد عبدالہادی مارا جا چکا ہے ، *گرفتار دہشت گرد عثمان* دہشت گرد جانان نے پاکستان رینجرز کے کیمپ پر بم پھینکا تھا، *گرفتار دہشت گرد عثمان*ہم لوگ سات دن قبل پاکستان آئے تھے عبدالہادی کے پاس جو باجوڑ کا رہائشی تھا، *گرفتار دہشت گرد عثمان*ہمیں زیر تعمیر بلڈنگ میں رکھا گیا تھا، حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ عبدالہادی وزیرستان سے لایا تھا، *گرفتار دہشت گرد عثمان* دوسری طرف جانے کے لیے جب میں بھاگ رہا تھا تو مجھے گولی لگ گئی اور میں وہیں گر گیا، *گرفتار دہشت گرد عثمان*میرا تعلق جماعت الاحرار کے ساتھ ہے جس کے افغانستان میں کمانڈر کا نام احرار مولوی صاحب نام ہے، *گرفتار دہشت گرد عثمان*ہم سب کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی مجھے صرف جیکٹ دی گئی تھی خود کش ہم خود تیار کر لیتے ہیں، *گرفتار دہشت گرد عثمان*ہم سب خود کش جیکٹ تیار کر لیتے ہیں *ہمیں افغانستان میں پہلے سے تربیت دی گئی تھی*، *گرفتار دہشت گرد عثمان*افغانستان میں خود کش جیکٹ اور دیگر ٹریننگ عمر قاری نے دی تھی ، *گرفتار دہشت گرد عثمان*کراچی آنے سے پہلے ہمارے لیےافغانستان سے سب انتظامات ہو گئے تھے۔ عبدالہادی یہاں سب جانتا تھا۔پہلے بھی یہاں آیا تھا، *گرفتار دہشت گرد عثمان* *دفاعی ماہرین کے مطابق* ؛ افغان طالبان رجیم افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا کر پاکستان کیخلاف استعمال کر رہی ہےاس سے قبل بھی پاکستان متعدد بار افغان طالبان رجیم کو سرحد پار دہشتگردی کے ناقابل تردید شواہد پیش کر چکا ہے، *دفاعی ماہرین*
*کراچی میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پاکستان رینجرز (سندھ) کے جوانوں کی نمازِ جنازہ ادا*بھارتی پراکسی جماعت الاحرار کے بزدلانہ دہشت گرد حملے کو ناکام بناتے ہوئے رینجرز کے جوانوں نے جام شہادت نوش کیا تھا شہدا کی نمازِ جنازہ میں وفاقی وزیر داخلہ،گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ، ڈی جی رینجرز، شہداء کے لواحقین اور سینئر سول و عسکری حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کیشرکاء نے شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا*وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ؛* دہشت گردی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے جس کا حساب لیا جائے گادہشتگردی کرنے والے عناصر چاہیے وہ کہیں بھی ہوں سیکیورٹی فورسز ان کا پیچھا کر کے کیفرکردار تک پہنچائیں گی، *وزیر داخلہ* *گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا کہ؛* ہم دہشتگردی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے ملک سے اس کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردی کو کبھی برداشت نہیں کریں گے اور دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے، *گورنر سندھ* *وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ؛* دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے رینجرز کے بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جن کو سلام پیش کرتے ہیںملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمہ کیلئے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں، *وزیراعلیٰ سندھ* نمازِ جنازہ کے بعد شہداء کے جسدِ خاکی ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دیے گئے جہاں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گابعد از نماز جنازہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گورنر سندھ کے ہمراہ اس جگہ کا دورہ بھی کیا جہاں دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں
علاقائی کشیدگی کے بعد متحدہ عرب امارات اور ایران کے وزرائے خارجہ کا پہلا باضابطہ رابطہ، سفارت کاری اور استحکام پر زورابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ، عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کو اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلی فون موصول ہوا، جو خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلا باضابطہ اور عوامی سطح پر سامنے آنے والا اعلیٰ سفارتی رابطہ ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال اور امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) پر اتفاق اور دستخط کے بعد پیدا ہونے والی تازہ علاقائی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔گفتگو کے دوران شیخ عبداللہ بن زاید نے فوری اور جامع جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی حل، سنجیدہ سفارت کاری اور تعمیری مذاکرات ہی مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے کے امن و استحکام کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہیں۔انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف دشمنیوں کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ ریاستوں کی خودمختاری، حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں اور علاقائی سلامتی کو بھی تقویت ملے گی۔اماراتی وزیر خارجہ نے بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری، ریاستوں کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا اور اسے خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ٹیلی فونک رابطے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کی سلامتی کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ سمندری گزرگاہوں کی آزادی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کا بلا تعطل جاری رہنا نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بنیادی اور تزویراتی ضرورت ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج برآمد کریں گی اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کی راہ ہموار کریں گی۔شیخ عبداللہ بن زاید نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سنجیدہ سفارت کاری اور ذمہ دارانہ مکالمہ ہی علاقائی اور بین الاقوامی بحرانوں کے حل کا بہترین ذریعہ ہیں اور یہی راستہ خطے کے عوام کی امن، ترقی اور خوشحالی کی امنگوں کو پورا کر سکتا ہے۔یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے، وسیع تر تصادم کو روکنے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے علاقائی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات خود کو خطے میں استحکام، مذاکرات اور تعمیری سفارت کاری کے ایک فعال حامی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران پانچ زلزلے، ماہرین نے عالمی ٹیکٹونک سرگرمی سے جوڑ دیااسلام آباد: پاکستان میں محض 24 گھنٹوں کے دوران آنے والے پانچ زلزلوں نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ ماہرین ارضیات نے اس غیر معمولی سرگرمی کو دنیا کے مختلف خطوں میں جاری وسیع ٹیکٹونک حرکات کا حصہ قرار دیا ہے۔زلزلوں سے متاثرہ علاقوں میں صوبہ بلوچستان، خصوصاً بارکھان اور اس سے ملحقہ علاقے شامل ہیں، جہاں سب سے شدید جھٹکوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.2 ریکارڈ کی گئی۔ماہرین کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا یوریشین ٹیکٹونک پلیٹ کی سرحد پر واقع ہیں، جس کے باعث یہ علاقے قدرتی طور پر زلزلہ خیز شمار ہوتے ہیں۔ ماہرین نے واضح کیا کہ حالیہ جھٹکوں کی اکثریت کم شدت کی تھی، تاہم ان کی مسلسل نوعیت نے عوامی خدشات میں اضافہ کیا۔ارضیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دنیا کے مختلف حصوں میں ٹیکٹونک سرگرمی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لیکن وینزویلا میں آنے والے زلزلے اور پاکستان میں حالیہ جھٹکوں کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت کرنے کے لیے فی الحال کوئی حتمی سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے 2026 کے پہلے نصف کے دوران عالمی مسابقتی درجہ بندی میں ایک بار پھر نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے دنیا کی مضبوط اور تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی ہے۔عالمی رپورٹس کے مطابق یو اے ای 118 مختلف عالمی اشاریوں میں دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل رہا، جبکہ 67 اشاریوں میں اسے ٹاپ 5 ممالک میں جگہ حاصل ہوئی، جو مختلف اقتصادی، سرمایہ کاری، کاروباری اور حکومتی شعبوں میں اس کی غیر معمولی کارکردگی کا عکاس ہے۔اسی دوران گلوبل انٹرپرینیورشپ مانیٹر (GEM) 2025-2026 کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای مسلسل پانچویں سال دنیا میں کاروبار شروع کرنے، اسے فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے لیے بہترین ملک قرار پایا ہے۔اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کامیابیاں جدید حکومتی پالیسیوں، جدت طرازی، ڈیجیٹل تبدیلی، کاروبار دوست قوانین، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول اور مستقبل پر مبنی ترقیاتی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہیں۔ ان اقدامات نے یو اے ای کو عالمی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے لیے مزید پرکشش اور قابلِ اعتماد منزل بنا دیا ہے۔ماہرین کے مطابق یو اے ای کی مسلسل کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک نے اقتصادی تنوع، ٹیکنالوجی، اختراع اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں اپنی عالمی قیادت کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
کیا مشرق وسطیٰ ایک نئے جغرافیائی تزویراتی انقلاب کے دہانے پر کھڑا ہے؟آٹھ دہائیوں سے زائد عرصے سے امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سیاسی، عسکری اور اقتصادی مفادات کا ایک ایسا جال بچھا رکھا ہے جس نے اسے خلیجی ریاستوں کا ناگزیر شراکت دار بنا دیا۔ یہ تعلق صرف تیل اور توانائی تک محدود نہیں بلکہ خطے میں موجود بڑے امریکی فوجی اڈوں، اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدوں اور جدید اسلحے کی فروخت نے مشرق وسطیٰ کو امریکی دفاعی صنعت کے لیے ایک مستقل اور منافع بخش منڈی میں تبدیل کر دیا ہے۔تاہم حالیہ علاقائی کشیدگی نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے: کیا وہ فوجی اڈے جو خلیجی اتحادیوں کے تحفظ کی علامت سمجھے جاتے تھے، ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کی صورت میں خطرے کی نئی علامت بن سکتے ہیں؟تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تہران کسی وسیع تر محاذ آرائی کا جواب دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کا ہدف براہِ راست امریکی سرزمین نہیں بلکہ خطے میں موجود اہم تنصیبات ہو سکتی ہیں، جن میں تیل کے ذخائر، بجلی گھر اور ڈی سیلینیشن پلانٹس شامل ہیں۔ ایسی کسی کارروائی کی صورت میں پورے خلیج میں توانائی، پانی اور روزمرہ زندگی کا نظام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔اس صورتحال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ واشنگٹن اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے معاشی فوائد بھی حاصل کرتا ہے۔ جدید لڑاکا طیاروں، فضائی دفاعی نظاموں اور نگرانی کے آلات کی فروخت سے اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، جبکہ ہزاروں امریکی انجینئرز اور ماہرین خلیجی توانائی کے منصوبوں سے وابستہ ہیں۔تاہم اگر خطے میں عدم استحکام طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے تو کچھ خلیجی دارالحکومت اپنی روایتی تزویراتی وابستگیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔یہیں سے ایک متبادل منظرنامہ جنم لیتا ہے: روس اور چین کی جانب بتدریج جھکاؤ۔ چین پہلے ہی اپنے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو” کے ذریعے خطے میں معاشی اور جغرافیائی اثرورسوخ بڑھا رہا ہے، جبکہ ایران مشرق اور مغرب کو ملانے والی نئی تجارتی راہداریوں کا اہم مرکز بن سکتا ہے، جو ماسکو اور بیجنگ کو غیر معمولی تزویراتی فوائد فراہم کرے گا۔امریکی قیادت کے لیے اصل مخمصہ یہ ہے کہ آیا وہ اسرائیل کے لیے اپنی غیر مشروط حمایت جاری رکھتے ہوئے خلیج میں اپنے طویل المدتی مفادات کو خطرے میں ڈالے گی، یا پھر عملی سیاست کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اقتصادی اور تزویراتی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دے گی۔بہت سے مبصرین کے نزدیک مشرق وسطیٰ میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات محض ایک اور علاقائی بحران نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ممکنہ تبدیلی کا نقطۂ آغاز ہیں۔ آنے والے مہینوں میں کیے جانے والے فیصلے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ آنے والی دہائیوں کے عالمی نظام کی سمت کا بھی تعین کر سکتے ہیں۔آپ کی رائے میں کیا امریکہ اسرائیل کی خاطر اپنے خلیجی مفادات کو داؤ پر لگا دے گا، یا بالآخر عملیت پسندی غالب آئے گی؟
امریکہ-ترکی دفاعی معاہدے اور سیکورٹی انتباہات کے بعد ترکی-اسرائیل کشیدگی میں نیا موڑانقرہ/تل ابیب: ترکی اور اسرائیل کے تعلقات ایک نئے سیاسی اور تزویراتی تناؤ کے مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جب اسرائیل کی وزیر برائے اختراعات گیلا گملیل نے ترکی کو ایران کے بعد اسرائیل کے لیے “اگلا بڑا سیکورٹی چیلنج” قرار دیا۔ ان کے بیان نے خطے میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد اور مسابقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ترکی کے ساتھ تقریباً 705 ملین ڈالر مالیت کے فوجی معاہدے، جس میں لڑاکا طیاروں کے انجنوں کی فروخت بھی شامل ہے، کو آگے بڑھانے کا اعلان کیا۔ اس پیش رفت نے اسرائیلی سیاسی اور دفاعی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ تل ابیب خطے میں ترکی کے بڑھتے ہوئے فوجی اور سیاسی اثر و رسوخ کو اپنے لیے ایک ممکنہ چیلنج سمجھتا ہے۔اس دوران سابق بیانات بھی دوبارہ زیرِ بحث آ گئے ہیں جن میں صدر ٹرمپ سے منسوب یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو اسرائیل کے خلاف کسی ممکنہ فوجی اقدام سے روکنے کے لیے مداخلت کی تھی۔ ان دعوؤں نے واشنگٹن، انقرہ اور تل ابیب کے درمیان پسِ پردہ رابطوں کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔دوسری جانب صدر اردوان اسرائیلی پالیسیوں، خصوصاً غزہ کے معاملے پر، مسلسل سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ترکی نے اسرائیل کے خلاف سفارتی اور سیاسی دباؤ میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی بیانات اور امریکہ-ترکی دفاعی معاہدے کا بیک وقت سامنے آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اب ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی اثر و رسوخ، توانائی کے وسائل، سلامتی کے معاملات اور فوجی اتحادوں پر مسابقت مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید تصادم کی جانب دھکیل سکتی ہے۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو آنے والے مہینوں میں ترکی اور اسرائیل کے تعلقات مزید پیچیدہ، غیر یقینی اور ممکنہ طور پر زیادہ محاذ آرائی پر مبنی ہو سکتے ہیں۔
مصر نے لبنان کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کر دیا، اسرائیل کے مکمل انخلا اور ریاستی عملداری کے قیام پر زورقاہرہ: مصر نے لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور استحکام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے اسرائیل کے تمام لبنانی علاقوں سے مکمل انخلا اور پورے ملک میں لبنانی ریاست کی مکمل عملداری کے قیام پر زور دیا ہے۔مصری وزیر خارجہ، بدر عبدالعاطی نے لبنانی وزیراعظم نواف سلام سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے حالیہ فریم ورک معاہدے، لبنان کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال اور خطے میں جاری پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔گفتگو کے دوران قاہرہ نے واضح کیا کہ کسی بھی سیاسی یا سکیورٹی انتظام کا بنیادی مقصد لبنانی ریاست کی اپنے تمام علاقوں پر مکمل عملداری کی بحالی ہونا چاہیے تاکہ ملک میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور کشیدگی یا تنازع کے دوبارہ جنم لینے کے امکانات کو روکا جا سکے۔مصری وزیر خارجہ نے لبنان کے حوالے سے اپنے ملک کے چار بنیادی نکات پیش کیے:اسرائیلی افواج کا تمام لبنانی علاقوں سے مرحلہ وار اور مکمل انخلا؛تمام ہتھیاروں کو ریاستی اداروں کے اختیار میں دے کر قومی خودمختاری کو مضبوط بنانا؛بالخصوص جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی مکمل تعیناتی اور اسے اپنی سکیورٹی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل بنانا؛اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہے اور فوجی تصادم کی راہ مسدود ہو۔مصر نے اس موقع پر لبنانی سیاسی قوتوں کے درمیان اتحاد، ریاستی اداروں میں ہم آہنگی اور مشترکہ قومی مؤقف کی اہمیت پر بھی زور دیا اور اسے موجودہ سیاسی، سکیورٹی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔دوسری جانب وزیراعظم نواف سلام نے لبنان کے لیے مصر کی مستقل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ قاہرہ نے ہمیشہ لبنانی ریاستی اداروں کے استحکام اور قومی وحدت کے فروغ میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان آئندہ بھی قریبی مشاورت اور رابطوں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان سے متعلق حالیہ علاقائی اور بین الاقوامی سمجھوتوں پر عمل درآمد کی کوششیں جاری ہیں اور عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا متعلقہ فریق ان معاہدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کر کے لبنان کے استحکام اور ریاستی خودمختاری کو مزید مضبوط بنا پائیں گے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی حلقہ انتخاب بھی رکھتے ہیں اور حلقہ احباب بھیلاہور سے رپورٹنگ کرنے والے احباب ہی بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں کہ ایسا کیا ہو گیا ہے فیس بک پر سپیکر پنجاب اسمبلی کے حق میں پوسٹوں کا سیلاب امڈ آیا ہے۔۔۔۔۔۔ پنجاب اسمبلی میں سپیکر صاحب کا وزراء سے رویہ کچھ سخت نظر آیا ہے تو وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے بھی اپنے تئیں سپیکر صاحب کو “حد” میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔وہ ایسا کرتے ہوئے یا ان سے کہلوانے والی بھول گئیں ہیں کہ ملک احمد خان خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہو کر نہیں آئے وہ ووٹرز کا حلقہ انتخاب بھی رکھتے ہیں اور ذاتی “حلقہ احباب” بھی۔۔۔۔جس انداز میں عظمی بخاری نے سپیکر پر طنز کی اور جس طرح سپیکر آئین اور ایوان کے تحفظ کی بات کر رہے ہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ بند کمرے میں معاملہ (درپردہ)جو بھی ہے حل نہیں ہو سکا۔۔۔۔صاف الفاظ میں بات کی جائے تو جب چودھری اپنے کامیوں کے ذریعے شٹ آپ کال دیں تو سمجھ جائیں “مختاریا گل دوھ گئ ہے”۔۔۔۔۔۔
🌹 جنرل علی قلی خان خٹک — ایک عظیم سپاہی، مدبر اور محبِ وطن جرنیل کو خراجِ عقیدت 🌹🇵🇰 ایک ایسے جرنیل کی داستان جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گیپاکستان کی عسکری تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف اپنے عہدوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، بصیرت، دیانت داری اور پیشہ ورانہ قابلیت کی بدولت ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل Ali Kuli Khan Khattak بھی انہی عظیم شخصیات میں سے ایک تھے۔وہ ایک ایسے فوجی خاندان میں پیدا ہوئے جہاں حب الوطنی، فرض شناسی اور خدمتِ وطن نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ نوجوان علی قلی خان نے جب پاکستان آرمی کی وردی پہنی تو شاید کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ نوجوان افسر ایک دن پاکستان کے قابل ترین جرنیلوں میں شمار ہوگا۔فوجی زندگی کے ابتدائی دنوں ہی سے ان کی ذہانت، قائدانہ صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت نے انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کر دیا۔
وہ ہر ذمہ داری کو صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ قومی امانت سمجھ کر ادا کرتے تھے۔ میدانِ جنگ ہو، تدریسی ذمہ داریاں ہوں یا حساس انٹیلی جنس معاملات، انہوں نے ہر محاذ پر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔⭐ علم، حکمت اور عسکری مہارت کا امتزاججنرل علی قلی خان خٹک صرف ایک سپاہی نہیں تھے بلکہ ایک بہترین عسکری مفکر بھی تھے۔
کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں بطور انسٹرکٹر اور بعد ازاں کمانڈنٹ انہوں نے نوجوان افسروں کی ایسی تربیت کی جس کے اثرات آج بھی پاکستان آرمی میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ان کے شاگرد انہیں ایک ایسے استاد کے طور پر یاد کرتے ہیں جو صرف فوجی حکمتِ عملی ہی نہیں بلکہ کردار، دیانت داری اور قیادت کا درس بھی دیتے تھے۔🛡️ وطن کے محافظبطور ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس انہوں نے پاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات کا بروقت ادراک کیا اور قومی مفادات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔ 1995ء میں ریاست کے خلاف ایک خطرناک سازش کو ناکام بنانے میں ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔
بعد ازاں جب انہیں راولپنڈی کی اہم ترین کور، X کور، کی کمان سونپی گئی تو انہوں نے ثابت کیا کہ وہ صرف ایک بہترین اسٹاف آفیسر ہی نہیں بلکہ ایک کامیاب فیلڈ کمانڈر بھی ہیں۔🎖️ چیف آف جنرل اسٹاف — اعتماد کی علامتپاکستان آرمی میں چیف آف جنرل اسٹاف کا عہدہ انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
اس منصب پر فائز ہونا کسی بھی فوجی افسر کی قابلیت اور اعتماد کا ثبوت ہوتا ہے۔ جنرل علی قلی خان خٹک نے اس ذمہ داری کو بھی انتہائی وقار اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ نبھایا۔ان کی رائے کو فوجی حلقوں میں ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ دور اندیشی، متانت اور اصول پسندی کی علامت سمجھے جاتے تھے۔🌺 ایک عظیم انسانعظیم جرنیل ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک نہایت شائستہ، منکسر المزاج اور اصول پسند انسان بھی تھے۔ ان کے ماتحت افسر اور جوان انہیں عزت، محبت اور اعتماد کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔انہوں نے اپنی پوری زندگی پاکستان، پاکستان آرمی اور قومی سلامتی کے لیے وقف کر دی۔ ان کا کیریئر اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی عظمت صرف عہدوں سے نہیں بلکہ کردار، خدمت اور دیانت داری سے حاصل ہوتی ہے۔💚 خراجِ عقیدتسلام ہے اس سپاہی کو جس نے اپنی ذہانت، بصیرت اور بے مثال پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے پاکستان آرمی کا وقار بلند کیا۔
سلام ہے اس قائد کو جس نے ہر ذمہ داری کو قومی امانت سمجھ کر نبھایا۔سلام ہے جنرل علی قلی خان خٹک کو، جن کا نام پاکستان کی عسکری تاریخ میں ہمیشہ عزت، وقار اور احترام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔”عظیم سپاہی وقت کے ساتھ رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کی خدمات، کردار اور مثالیں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔ جنرل علی قلی خان خٹک ایسی ہی ایک درخشاں مثال تھے۔”🇵🇰 پاکستان آرمی کے اس عظیم فرزند کو بھرپور خراجِ
اسلام آباد کے اتوار بازار میں ہر سال مسلسل آگ لگنے کے واقعات ہر گز اتفاق نہیں ہو سکتا ۔اگ سے زیادہ نقصان ہمیشہ پختون تاجر بھائیوں کا ہوتا ہے ۔دو مرتبہ آگ لگنے سے پختونوں کے جوتوں اور کپڑے کی دوکانیں نشانہ بنیں اور وہ اپنی ساری جمع پونجی اثاثوں سے محروم ہو گئے ۔ایک دوکان جلنے سے صرف تاجر کا نقصان نہیں ہوتا اس سے منسلک سارا گھرانہ لٹ پٹ جاتا ہے ۔حکومتی ادارے اس معاملہ کی باریک بینی سے تفتیش کریں اور زمہ داران کو عبرت کا نشان بنائیں۔
لوگ مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ ہیں،ظالمانہ ٹیکسوں نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے،معیشت کا پہیہ جام ہے اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ بنانے والے وزارت خزانہ اور وزیراعظم ہاوس کے ملازمین کو 6 ماہ کی تنخواہ بطور بونس دینے کا اعلان کردیا ہے ۔کیوں بھئی ؟ آپ کے باپ کا مال ہے؟ بادشاہ سلامت ہیں آپ ؟ پہلی بات تو یہ اس بجٹ میں ایسا کونسا تیر مارا ہے کہ انعام دیا جائے؟ دوسری بات اگر بونس دینا بھی ہے تو ان چند ملازمین کو دیں جنہوں نے دن رات کام کیا۔ کروڑوں روپے یوں اڑا دینے کیا جواز ہے؟ وزارت خزانہ اور وزیراعظم ہائوس کے سینکڑوں ملازمین کو 6ماہ کی تنخواہیں انعام دینے کا اختیار کس نے دیا ؟ کیا آپ اپنی جیب سے یہ بخشش دے سکتے ہیں؟
آپ کی فوج سے محبت کب سے جاگی ہے، آپ نے کہا تھا کہ آرمی چیف نے کہا جاسوس کو چھوڑو ورنہ بھارت حملہ کر دے گا، آپ نے کہا تھا کہ آرمی چیف کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، آپ گولیاں ماریں گے، جیلوں میں ڈالیں گے تو ہم مخالفت کرینگے ، اچکزئی کا اسپیکر ایاز صادق کو جواب۔۔!!
کشمیر کیلئے ہم نے پانچ جنگیں لڑی ہیں، لیکن صِلہ یہ ملا کہ وہاں پاکستان کو گالیاں دی جا رہی ہیں،جب وہ یہ کہیں کہ بلوچستان سے لاشیں واپس آ جاتی ہیں، کشمیر سے ان کی لاشیں بھی واپس نہیں جائیں گی، تو پھر جو میں نے جواب دیا ہے وہ بالکل بہترین جواب دیا ہے، خواجہ آصف