All posts by admin
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا گلگت بلتستان کے انتخابات میں شفافیت کیلئے چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کو خط ارسال!وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے گلگت بلتستان میں آنے والے انتخابات کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے فوری عدالتی مداخلت کی درخواست کی ہے
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا گلگت بلتستان کے انتخابات میں شفافیت کیلئے چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کو خط ارسال!وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے گلگت بلتستان میں آنے والے انتخابات کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے فوری عدالتی مداخلت کی درخواست کی ہے۔خط میں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابی ماحول کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں، جہاں ایک سیاسی جماعت کو انتخابی سرگرمیوں، عوامی اجتماعات، انتخابی مہم اور پارٹی قیادت و کارکنان کی نقل و حرکت میں غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے، غیر قانونی گرفتار کرنے اور سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جو اگر نہ روکی گئیں تو انتخابی عمل کی ساکھ اور شفافیت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں واضح کیا کہ پاکستان کا آئین ہر سیاسی جماعت اور شہری کو آزاد، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات میں حصہ لینے کا بنیادی حق دیتا ہے۔ ان آئینی اور جمہوری اصولوں سے انحراف نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔وزیراعلیٰ کی عدالت سے اہم گزارشات:🔹گلگت بلتستان میں انتخابات کے آزاد، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدار انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کی جائیں۔🔹سیاسی کارکنوں اور جماعتی قیادت کے خلاف غیر قانونی ہراسانی، گرفتاریوں اور پابندیوں کو فوری طور پر روکا جائے۔🔹تمام سیاسی جماعتوں کو بلاامتیاز اپنی انتخابی مہم اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا مکمل حق دیا جائے۔🔹انتخابی عمل کے دوران آئینی اور جمہوری حقوق کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔🔹وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے عدالت سے اپیل کی کہ وہ اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار کے تحفظ اور عوام کے انتخابی عمل پر اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری احکامات جاری کرے۔🔹انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عدلیہ کی بروقت مداخلت گلگت بلتستان میں شفاف، آزاد اور قابلِ اعتماد انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے گی اور عوام کے جمہوری حقِ رائے دہی کا مکمل تحفظ ہوگا۔نوٹ: اس خط کی نقل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھی ارسال کی گئی ہے۔#CMKP #SohailAfridi #GBElection
پاکستان کی وزارت برائے خارجہ امور نے جمعرات کو بتایا وزیر خارجہ اسحاق ڈار اج واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے۔یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسلام آباد ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے امن معاہدے پر مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے۔وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق اسحاق ڈار اور مارکو روبیو دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گے اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
یہ لوگ بہت بڑے منافق ہیں جھوٹے ہیں یہ کہ رہا ہے خطے میں سب سے پیٹرول پاکستان میں ہے میں ان منافقین سے پوچھنا چاہتا ہوں مہنگا کس نے کیا ہے؟؟ کیا ایران سے سستا نہیں ملتا؟
یہ لوگ بہت بڑے منافق ہیں جھوٹے ہیں یہ کہ رہا ہے خطے میں سب سے پیٹرول پاکستان میں ہے میں ان منافقین سے پوچھنا چاہتا ہوں مہنگا کس نے کیا ہے؟؟ کیا ایران سے سستا نہیں ملتا؟؟ تم غلام لوگ ہوں انگریزوں کے وہ تمہیں بلاتے ہیں تم لوگ دم حلاتے ہوئے ان کے سامنے پہنچتے ہوںیہا تمہاری گردنوں میں سریہ لگ جاتا ہے جن کی تم نوکری کرتے ہو ان کے سامنے تم سیاسی لوگ وہ منافق ہو جنہوں نے اپنے ملک کی عوام کو لوٹا بے تحاشا ان پر ظلم کیا اور کر بھی رہے ہو اور عوام کو کہتے پھرتے بھی ہو ساتھ کے ہم تمہارے ہمدرد ہیںتم لوگ ہمدرد نہیں دشمن سے بھی بدتر ہو تم لوگوں کا تمہارا کیا ہے تمہیں عوام کے پیسے سے ہر مہینے کا فری پیٹرول ملتا ہے تمہیں کون سی محنت کرنی پڑتی ہےحرام جن کے منہ لگ جائے وہ کبھی محنت نہیں کرتے
وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کا یوم تکبیر (28 مئی) کے موقع پر پیغامیوم تکبیر پاکستان کی تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جب پوری قوم نے غیر متزلزل عزم، قومی وحدت اور بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کیا تھا
وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کا یوم تکبیر (28 مئی) کے موقع پر پیغامیوم تکبیر پاکستان کی تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جب پوری قوم نے غیر متزلزل عزم، قومی وحدت اور بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کیا تھا۔ 28 مئی 1998ء کو پاکستان نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں کامیاب جوہری دھماکے کر کے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن بحال کیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہم اپنی دفاعی صلاحیت سے ہر گز غافل نہیں۔یہ دن گواہی دیتا ہے کہ مملکت خداداد جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور قائداعظم محمد علی جناح نے اسے خطہ ارض پر نقش کیا اسکا دفاع آہنی ہاتھوں میں ہے۔آج کے دن ہم پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تکمیل میں شامل تمام شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جن میں ذوالفقار علی بھٹو کی فکر انگیزی اور محمد نواز شریف کی بے لوث فیصلہ سازی اور قیادت اور قومی ہیروز ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی خدمات شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ان تمام سائنسدانوں، انجینئرز، ماہرین، افواجِ پاکستان اور کارکنان کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔بھارت نے اپنے جنگی جنون ، انتہا پسندانہ سوچ اور توسیع پسندانہ عزائم کے اظہار کے لیے ایٹمی دھماکے کیے تھے۔ پاکستان نے دانشمندانہ اور بروقت فیصلہ کرتے ہوئے جوابی دھماکوں سے دشمن کے تمام عزائم خاک میں ملادیے۔ دنیا کی بڑی طاقتوں نے پاکستان کو جوہری دھماکوں سے روکنےکی کوشش کی، معاشی دباؤ ڈالا، پابندیوں کی دھمکیاں دیں، حتی کہ بھاری معاشی و مالی پیشکش کی، لیکن وزیر اعظم پاکستان مھمد نواز شریف کسی بھی دباو یا لالچ کو خاطر میں لائے بغیر اپنی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کے لئے پر عزم تھے۔یوم تکبیر محض ایٹمی دھماکوں کی یاد نہیں بلکہ یہقومی خودداری، اتحاد، قربانی اور دفاع وطن کے ناقابل تسخیر عزم کی علامت ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پرو گرام ہر دور میں جاری رکھ کر ہمارے اسلاف نے ثابت کیا کہ ملکی وقار سے بڑھ کر کوئی چیز مقدم نہیں۔ اگر پاکستان ایٹمی قوت نہ بنتا تو دشمن اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا تھا۔ پاکستان کا مضبوط ایٹمی حصار اور مسلح افواج کی تیاری اور عزم دشمن کے عزائم کی راہ میں فیصلہ کن رکاوٹ ہے۔معرکہ حق میں دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر ہم اپنے اس عزم کو ثابت کر چکے ہیں۔ ہندوستان نے اپنی فرسودہ اور گھسی پٹی سازش کے ذریعے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا اور اسے جواز بنا کر پاکستان کے شہریوں اور مساجد پر حملہ کر دیا، تاہم ہماری مسلح افواج اور قوم نے بنیان المرصوص بن کر نہ صرف اس کے عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ اس کی حربی و عددی برتری کے گھمنڈ کو بھی توڑ کے رکھ دیا۔چیف آف آرمی اسٹاف،چیف آف ڈیفنس فورسز کی قیادت میں مسلح افواج نے فقید المثال پیشہ ورانہ استعداد کا مظاہرہ کیا۔ چیف آف دی ائیر اسٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کی مثالی کارکردگی نے دشمن پر ہماری بہادری کی دھاک بٹھا دی۔ہم نے پوری دنیا کو یہ باور کرادیا ہے کہ ہمارے کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں تاہم اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔معرکہ حق میں عبرت ناک شکست کے بعد دشمن براہ راست حملوں کی بجائے دوسرے ہتھکنڈوں سے ہماری سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ وہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسی پر اکسیز کے ذریعے اپنے مکروہ عزائم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں افغان رجیم اس کی سہولت کار ہے۔ ہم اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پر عزم ہیں۔جہاں ہم نے آپریشن بنیان المرصوص کے ذریعے ازلی دشمن کو عبرت ناک شکست دی، وہیں آپریشن غضب للحق کے ذریعے ایسے تمام فتنوں اور ان کے سہولت کاروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔دشمن کسی غلط فہمی میں نہ ر ہے، ہماری بہادر مسلح افواج جدید ترین ہتھیاروں سے لیس مادر وطن کے چپے چپے کے دفاع کے لیے پر عزم ہیں۔قوم اپنے ان محسنوں کی ہمیشہ شکر گزار رہے گی۔ آئیے ، اس عہد کی تجدید کریں کہ وطن عزیز کے امن ، ترقی ، استحکام اور سلامتی کے لیے متحد رہیں گے ، ہر اندرونی و بیرونی سازش کا مقابلہ کریں گے ، اور ہم پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار ریاست بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لاتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد روالپندی کراچی گجرنوالہ فیصل آباد کے شھری کب تک بجلی چورں کے بل پورے کرینگے تفصیل کے لیے بادبان نیوز
پاکستان کی اعلی عدالتوں(جو بھی بااختیار ہیں) وہ بجلی کے شعبہ کا ملک گیر آڈٹ کروائیں۔۔اہلیان لاہور،کراچی یا راولپنڈی اسلام آباد سمیت چند بڑے شہروں کے باسی کب تک بجلی کے شعبے کا خسارہ پورا کرتے رہیں گے؟براہ کرم وکلاء دوست اس سلسلہ میں درخواستیں دائر کریں اور پورے ملک میں آڈٹ کے مطالبہ کے ساتھ ججوں، جرنیلوں، بیوروکریسی، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے عہدیداروں کو بجلی کی مفت فراہمی،وزیروں، مشیروں کے علاقوں میں کھلے عام چوری،سیاسی جماعتوں کے جلسے، جلوسوں یا سیکورٹی کے نام پر انتظامات کے لیے بجلی کی چوری،سیف سٹی کے لاہور میں کیمرے بغیر کسی میٹر کے بجلی استعمال کررہے ہیں، تھانوں اور ماتحت عدالتوں میں بجلی کی تاریں کھلے عام لگی ہیں یہ سارے “خسارے” عام شہری ادا کرتا ہے۔۔جج صاحبان شدید گرمیوں میں یخ بستہ کورٹ رومز، گھروں میں بیٹھتے ہیں جبکہ ان کے بل ادا کرنے والا عام شہری پنکھا چلانے کے قابل بھی نہیں چھوڑا معاشی دہشت گردوں نے۔۔خدارا اس معاشی دہشت گردی کے خلاف کم از کم آواز تو بلند کریں،ان کی پالیسیوں اور چور بازاری کی وجہ سے ہماری انڈسٹری بنگلہ دیش، ویتنام اور کئی افریقی ممالک میں منتقل ہوچکی ہے ایک بار معاشی دہشت گردوں کو بھی مردہ باد کہہ دیں اپنے سائے سے ڈرنے والوں سے خوف کیسا؟
ایک وقت تھا کوئی بھی خبر نامہ رحمان ملک کی خبروں سے خالی نہیں ہوتا تھا وہ پاکستان کے سب سے ایکٹیو اور سب سے زیادہ اہم شخص ہوا کرتے تھے، انہوں نے پیپلزپارٹی کا سارا وزن اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا تھاپھر جب وفات ہوئی، تو پارٹی کا چئیرمین اور بلاول بھی ان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکامشاہد اللہ تند گو تھے، باتوں کو مڑوڑنا اور طنز کے تیر برسانا خوب جانتے تھے
ایک وقت تھا کوئی بھی خبر نامہ رحمان ملک کی خبروں سے خالی نہیں ہوتا تھا وہ پاکستان کے سب سے ایکٹیو اور سب سے زیادہ اہم شخص ہوا کرتے تھے، انہوں نے پیپلزپارٹی کا سارا وزن اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا تھاپھر جب وفات ہوئی، تو پارٹی کا چئیرمین اور بلاول بھی ان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکامشاہد اللہ تند گو تھے، باتوں کو مڑوڑنا اور طنز کے تیر برسانا خوب جانتے تھے، حب شریفین میں اتنے مست تھے کہ پارلیمنٹ کے فلور پر بھی بازاری جملے کسنے سے نہ جھجھکتےانکی وفات پر چند تعزیتی پیغام آئے اور وہ ہمیشہ کےلئے یادوں سے فراموش کردیئے گئے۔عرفان صدیقی کاتب شریفین رہے، نواز شریف نے اپنے کل سیاسی کریئر میں جتنے بھی جملے ادا کئے ان میں سے 60 فیصد عرفان کے قلم سے ہی تراشے گئے تھے، وہ بے دام غلام تھے جو آقا کے ہر سیاہ کو سفید کرنے میں لگے رہے یہاں تک کے وفات ہوگئی مگر پارلمان کا سیشن اہم تھا، انکو بیمار ہی بتایا جاتا رہاناں تو نواز شریف نا ہی شہباز شریف نے ان کے جنازے میں شرکت کی حتی کہ شریف خاندان سے کوئی فرد بھی شامل نہ ہوا ان تین تصویروں میں ایک پیغام مشترک ہےآپ تب تک اہم ہیں جب تک ضرورت ہیں
حج ناقص انتظامات خفیہ اداروں کی رپورٹ ڈائریکٹر جنرل سومرو ڈپٹی ڈائریکٹر حج اور بلقیاس کو گرفتار کرنے کا فیصلہ وزیر داخلہ خود انکوائری اور حجاج کرام کی مشکلات منی میں پوچھتے رھے مزدلفہ رپورٹ سھیل رانا خدا سے ڈرو اور عھد کی پاسداری کرو اور غیر کی عبادت مت کرنا خطبہ حج ۔۔تین سال میں 3 سو دورے اربوں روپے سرکار کے خزانے سے رزلٹ صفر۔۔ کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا پاکستان سے کھربوں ڈالر باھر منتقل 7 وزراء کی بھی عیاشیاں۔۔ لبیک الھم لبیک 16 لاکھ سے زائد عازمین حج نے حج ادا کیا۔ بھوک افلاس اور خودکشیوں میں مصروف عوام کو کرپشن سے مصروف حکمرانوں کی طنز شدہ مبارکبادیں ۔۔اج شیطانوں کو کنکریاں مارینگے۔۔منڈیوں میں جانور ہی جانور خریدار کوئی نہیں عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور ۔۔حکومت نے ایک ایک ایم این اے کو 100 کروڑ جبکہ ایم پی اے کو 30 کروڑ روپے دیے ہیں۔ یعنی 700 ارب روپے بانٹے ہیں۔۔۔ماہر معاشی امور ڈاکٹر فرخ۔۔۔بجٹ کا گورکھ دھندا ھے بھئی 25 کروڑ عوام کا 20 ھزاز اشرافیہ خون نچوڑنے میں مصروف عمل ۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

تین سال میں تین سو ملک گھوم لیے۔ جہازوں کا کرایہ، ہوٹلوں کے بل، وفد کے خرچے، سب قوم کے خزانے سے گیا۔واپسی پر کیا لائےنہ ایک ڈالر کی سرمایہ کاری، نہ ایک فیکٹری کا وعدہ، نہ کسی ملک کا بھروسہ۔دنیا جانتی ہے کہ چوروں پر کوئی اعتماد نہیں کرتا۔

جو قوم کا پیسہ لوٹ کر باہر رکھیں، ان کے ساتھ ہاتھ کون ملائےیہ دورے قوم کے لیے نہیں تھے۔ یہ صرف تصویریں بنوانے میڈیا میں سرخیاں لگوانے اور اپنی کرسی بچانے کے لیے تھے۔یہ عمران خان سے مقابلہ کرنے چلے ہیں۔


وہ شخص خالی ہاتھ جاتا تھا نمل یونیورسٹی اور کینسر ہسپتال کے لیے اربوں لے کر واپس آتا تھا۔

وہ ٹیلی تھون کرتا تھا تو ایک گھنٹے میں پانچ ارب جمع کر کے دکھاتا تھا۔یہ اس کی جوتی کے برابر بھی نہیں۔ یہ لوگ لیڈر وہ ہوتا ہے جو قوم کو دے کر آئے، جو قوم کا لے کر جائے وہ صرف بوجھ ہوتا ہے۔

تین سو دوروں کا حساب دو۔ قوم کا مزید پیسہ برباد مت کرو تم پے اپنی قوم اعتماد نھی کرتی باھر والے کیا خاک اعتماد کرینگے عوام کی جان چھوڑو یھی کافی ھے
کدھر ھے ٹک ٹاکر ای جی آزاد کشمیر
مظفرآباد:5 ہزار روپے کا چالان کرنے پر ڈرائیور نے اپنی کوسٹر دریائے جہلم میں پھینک دی،ڈرائیور اور ٹریفک اہلکار دونوں محفوظ رہےگاڑی ضبط کرنے کے لیے مسافر کوسٹر میں سوار ٹریفک اہلکار سے تنگ ڈرائیور نے گاڑی دریائے جہلم میں پھینک دی ۔ ڈرائیور اور ٹریفک اہلکار دونوں زندہ بچ گئے جبکہ مسافر کوسٹر دریائے جہلم میں بہہ گئئ ڈرائیور نے پانچ ہزار چالان کرنے پر خود کو ٹریفک اہلکار سمیت کوسٹر کو نیو سیکرٹریٹ چھتر نزد سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے قریب سے خود اور ٹریفک اہلکار سمیت کوسٹر گاڑی کو دریا میں پھینکا ۔ گاڑی دریا میں بہہ گئی تاھم ڈرائیور اور ٹریفک اہلکار کو بچا لیا گیا ڈرائیور شدید شدید زخمی ہو گیا ۔ڈرائیور کے ورثا نے ٹریفک پولیس کے رویے کے خلاف مرکزی شاہراہ چھتر چوک سے بند کر کے احتجاج شروع کر رکھا ہے
پاکستانی افواج ھائ الرٹ ائر فورس جوابی کارروائی کے لیے تیار۔ نواز لیگ کی ایم این اے نوشین افتخار نے 2 بچوں کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا۔ ’تمام ممالک بیک وقت معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کریں‘: ٹرمپ کا پاکستان اور سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک سے مطالبہ۔۔گلگت میں عمران خان کا جادو سر چڑھ کر بول رہاہے انشااللہ 7جون کو کلین سویپ کریں گے…پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزه شیراز نے ڈبلیو بی او سپر مڈل ویٹ کا عالمی ٹائٹل۔۔ عمران خان کی رہائی قانونی طریقے سے تیار۔۔عید قربان کے بعد بڑے لیلے کی قربانی۔۔ایک ھزار اھم ترین شخصیات کے نام ای سی ایل میں شامل۔۔ابراہیم معاھدہ قبول نہیں ھمارے پاسپورٹ میں اسرائیل کا نام نھی خواجہ اصف۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ن لیگی ایم این اے سیدہ نوشین افتخار نےخاوندسےبچوں کی حوالگی کےلئے عدالت سے رجوع کرلیاعدالتی حکم پردونوں بچوں پندر سالہ سکینہ اور گیارہ سالہ امام مرتضی کوعدالت پیش کیاگیاعدالت نے میاں بیوی کو مصالحت کا موقع دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردیعدالت نے رکن قومی اسمبلی نوشین افتخار اور انکے خاوند سابق رکن قومی اسمبلی سید مرتضی امین کو چیمبر میں بلالیاعدالت نے والد کی جانب سے بچوں کی پرورش پراطمینان کا اظہار کیا

عدالت نے میاں بیوی کےتنازع میں شادی برقرار رہنے کےعمل کو مثبت قرار دے دیاعدالتی سماعت کےبعد عدالت نےعبوری طور پردونوں بچوں کو والد کےساتھ جانے کی اجازت دےدیجسٹس ملک اویس خالد نے سماعت کی ڈسکہ سے ن لیگی رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخارنے دونوں بچوں کی حوالگی کےلئے عدالت سے رجوع کررکھاہے

پاکستان میں فضائی آپریشن ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر کے مختلف ہوائی اڈوں پر ملکی اور غیر ملکی پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایوی ایشن ذرائع کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق،

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 83 ملکی اور بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ اس دوران صرف 430 پروازیں ہی اپنے شیڈول کے مطابق آپریٹ ہو سکیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بحران کی وجہ سے کراچی، اسلام آباد، لاہور، ملتان، پشاور، کوئٹہ، فیصل آباد، سکھر اور گلگت ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشن سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

پروازوں کی اچانک منسوخی اور تاخیر کے باعث مسافروں کو متبادل فلائٹس نہ مل سکیں، جس کی وجہ سے وہ کئی کئی گھنٹے ایئرپورٹس کے لاؤنجز میں انتظار کرنے پر مجبور رہے اور شدید خوار ہوئے۔اعداد و شمار کے مطابق اس صورتحال کے باوجود اسلام آباد ایئرپورٹ سے 134، کراچی سے 123 جبکہ لاہور سے 100 پروازیں چلائی گئیں۔ اس کے علاوہ ملتان سے 23، سیالکوٹ سے 20، پشاور سے 16 اور کوئٹہ سے صرف 10 پروازیں آپریٹ ہو سکیں۔ایوی ایشن حکام نے اس تعطل کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ متعدد پروازیں ناگزیر انتظامی اور آپریشنل وجوہات کی بنا پر منسوخ کرنا پڑیں۔

ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ خاص طور پر جدہ آنے اور جانے والی 20 سے زائد پروازیں مسافروں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے منسوخ کی گئیں، جس کا براہِ راست اثر عمرہ زائرین اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر پڑا۔ ہوائی بازی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ دنوں میں فضائی شعبے میں نافذ کیے جانے والے سخت حفاظتی اقدامات اور آپریشنل تبدیلیوں کے باعث بھی فلائٹ شیڈول برقرار رکھنا چیلنج بن گیا ہے

۔ دوسری طرف شدید پریشانی میں مبتلا مسافروں نے ایئرلائنز انتظامیہ کی بدانتظامی پر گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے لیے فوری طور پر متبادل پروازوں کا انتظام کیا جائے اور ان کے معاوضے کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

پاکستان کے وزیر دفاع نے پیر کو کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابراہم معاہدہ قابل قبول نہیں کیوں کہ یہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔نجی چینل سماء سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ ہمیں کسی ایسے معاہدے میں شامل ہوں گے جو ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہو۔ اس وقت ہم نے کوئی اقدام لیا ہے نہ کسی نے ہمیں (باضابطہ اس میں شامل ہونے کو) کہا ہے۔ اس وقت بھی غزہ (فائر بندی) معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، تو ان لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھا جا سکتا ہے

جن پر ایک دن کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔‘انہوں نے مزید کہا: ’ہمارا واضح موقف ہے کہ یہ (ابراہم معاہدہ) ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے اور ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام ہی شامل نہیں ہے۔‘خواجہ آصف کا یہ بیان صدر ٹرمپ کی سوشل میڈٰیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر، اردن سمت دیگر مسلم ممالک ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد ابراہم معاہدے میں شامل ہوں۔تصویر: اے ایف پی









