All posts by admin

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال ایرانی سپیکر نے کیا۔ سید عاصم منیر اور ایرانی سپریم لیڈر نے قیام امن کے طریقہ کار پر غور کیا۔ حکومت کی ھچکولے کھاتی کشتی ڈوبنے کے قریب۔۔12 وزارتوں کو ختم کرنے کا فیصلہ 50 فیصد ملازمین کو۔۔ ۔حکومت کی ھچکولے کھاتی کشتی ڈوبنے کے قریب۔۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جنگ کے خاتمے کا باعث بننے والے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کو ایک اضافی موقع دینے،۔ انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر نے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی مخالفت کے باعث استعفیٰ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کی کتاب”ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں” کی تقریب پذیرائیاسلام آباد(پ۔ر)دُنیا کی تمام تہذیبوں میں سب سے بہتر تہذیب مسلمانوں کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز اُردو شاعرپروفیسر جلیل عالی نے مدینہ منورہ میں مقیم اُردو کے شاعر ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کے شعری مجموعے “ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں” کی تقریب پذیرائی سے صدارتی خطاب کے دوران کیا

۔اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے بات کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہوں کیونکہ میرے والد سیاسی لیڈر تھے۔ ہر قوم کی تاریخ کا میابیوں اور ناکامیوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔پاکستان سب کا ہے،عوام کے ہمدرد لوگوں کا بھی اور مفادپرست لوگوں کا بھی۔ دنیا میں جتنی تہذیبیں گذری ہیں ان میں سب سے بہتر تہذیب مسلمانوں کی ہے

۔ ہماری فارن پالیسی کامیاب پالیسی ہے۔ڈائریکٹر جنرل، ادارۂ فروغِ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے کہا کہ میرے نزدیک پاکستان واحد ملک ہے جہاں ایک بچہ باہر جاتا ہے اور تمام خاندان کی کفالت کرتا ہے۔ ۔

وہی بیرونِ ملک رہنے والا بچہ وطن کی محبت سے سرشار ہوتا ہے۔ پردیسی کے دل میں وطن کی یاد ایمان کا حصّہ ہے۔ پاکستان کا ہر شہری رضا کارانہ طور پر جنگ میں جانے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

خالد نے مدینہ منورہ میں بیٹھ کر اپنے ملک کے لیے اس قدر خوبصورت اشعار لکھے۔اُنھوں نے ہم سب کی ترجمانی کی ہے اور ان کی یہ کوشش خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ وہ اپنے اس روحانی سفر کو جاری رکھیں۔ اللہ اس ہلالی پرچم کی عزت بڑھانے والے لوگوں کو سلامت رکھے ۔ تقریب کی نظامت کے فرائض محبوب ظفر نے ادا کرتے ہوئے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا۔ صاحبِ کتاب نے مدینہ منورہ سے آن لائن خطاب کرتے ہوئےاپنی نظمیں سنائیں اور فوج کو خراجِ تحسین پیش کیا

۔اُنھوں نے کہا کہ پاکستان قربانیاں دے کرحاصل کیا گیا اور قربانیوں سے قائم رہے گا۔ کئی ماؤں نے اس سرزمین پر اپنے بیٹے وار دیے ہیں۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میری پہلی محبت ہے جس کا آغاز میری ماں کے آنسو سے ہوا جب وہ اپنے والد کی شہادت کو یاد کرتی تھیں۔ محمدحمید شاہد نے کہا کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس سرزمین سے جب ہمارا ایمان جڑتا ہے تو اسے کا نظریہ بہت اہم ہوجاتا ہے ۔ ہماری فوج جب ریاست سے جڑتی ہے تو ہمیں یہ بے حد اچھے لگتے ہیں۔

خالدالاسدی نے ادبی سفر غزل سے شروع کیا مگر عشق محمد غالب آگئی ۔ سبز گنبد سے سبز پرچم کا سفر ان کی اس تصنیف سے قاری تک منتقل ہوتا ہے ۔ یہ کتاب ان کی توقیر اور منزلت میں اضافہ کرے گی۔ جبار مرزا نے کہا کہ خالد کی فوج سے محبت کی کئی وجوہات ہیں، جس میں سے ایک ان کی والدہ کے آنسو بھی ہیں۔خالد کی یہ کتاب پاک فوج کو خراج ِ تحسین ہے جس کا قیام پاکستان کے وقت ایک رجمنٹ بھی مکمل موجود نہیں تھا۔ خالد ایک شاعر ،دوست اور درجن بھر کتابوں کے مصنف اور پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں

۔ مسجد نبوی کے 14ویں توسیعی منصوبے میں چیف ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام شروع کیا ،تین بار ٹرانسفر کا موقع بھی ملا مگر نہ گئے۔ سلمان باسط نے کہا کہ محبت میں ڈوبا یہ شخص اللہ کے نام پر قائم مملکت سے بھی محبت کرتا ہے۔ اس کتاب کا ایک ایک لفظ پاکستان کی انسیت سے بھر اپڑا ہے۔ ان کی یہ کتاب عشق اور محبت کا زمزمہ ہے۔فاروق عادل نے کہا کہ خالد سے جان پہچان نہیں ۔ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں، جواُن کے کلام میں دیکھی جاسکتی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فلاں نہیں تو پاکستان نہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ۔ اُنھوں نے کوشش کی ہے کہ ہمارے ناراض اور روٹھے بچے جان سکیں کہ اُنھوں نے کیا حاصل کیا ہے۔

نفرت کی آگ بجھا کر محبت کے پُھول اگانے کا طریقہ یہ ہے۔ماہنامہ” ہلال” کے ایڈیٹر یوسف عالمگیرین نے کہا کہ شعروادب سے شغف ہوناتحفۂ خداوندی ہے کیونکہ ہر شخص شعر نہیں کہہ سکتا ، صرف پیدائشی شاعر ہی لکھ سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر خالد کے وطنیت کے لیے کہے گئے اشعار کی گونج پورے ملک میں سنائی دیتی ہے۔ڈاکٹر خالد میں وطنیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ان کے ایک ایک شعراس کی گواہی دیتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن پاکستان آرمی کے تھری اسٹار جنرل ہیں۔ انہیں “ہلال امتیاز – ملٹری” HI(M) سے نوازا گیا ہے، آئی جی ایف سی بلوچستان IGFC Balochistan* بطور میجر جنرل انہوں نے فرنٹیر کور بلوچستان کے انسپکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔ یہ دورانیہ بلوچستان میں دہشت گردی اور امن و امان کے حوالے سے بہت حساس تھا۔ کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں امن کی بحالی میں ان کا کردار کلیدی رہا۔ ترقی پا کر وہ 31 کور بہاولپور کے کمانڈر بنے۔ اس عہدے پر انہوں نے مشرقی سرحد کے دفاع، آپریشنل تیاری اور جوانوں کے مورال کو بلند رکھنے میں.

اہم کردار ادا کیا۔جی ایچ کیو راولپنڈی میں وہ انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوشن رہے۔ یہ عہدہ فوج کی تربیت، ڈاکٹرین اور مستقبل کی قیادت کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔انہیں آزاد کشمیر رجمنٹ کا کرنل کمانڈنٹ بھی مقرر کیا گیا

جو اس رجمنٹ کے لیے اعزاز کی بات ہے۔جنرل شیر افگن کو انسداد دہشت گردی، لائن آف کنٹرول LoC پر تعیناتی اور قومی سلامتی کے معاملات میں تجربہ کار اور جارحانہ مزاج افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جنگ کے خاتمے کا باعث بننے والے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کو ایک اضافی موقع دینے، نیز آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سکیورٹی اور آزادی کو 28 فروری 2026ء سے پہلے کی صورت حال کے مطابق بحال کرنے اور خطے کے امن و استحکام کی خاطر تمام اختلافی امور کو حل کرنے کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مثبت رد عمل کو اپنے ملک کی جانب سے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔سعودی عرب نے اس سلسلے میں پاکستان کی مسلسل ثالثی کی کوششوں کو بھی بہت سراہا ہے۔

نیز مملکت اس بات کی متوقع ہے کہ ایران کشیدگی کے خطرناک نتائج سے بچنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائے گا۔ ان خیالات کا اظہار شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایکس پلیٹ فارم (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کیا۔سعودی عرب امید کرتا ہے کہ ایران مذاکرات میں پیش رفت کے لیے کی جانے والی کوششوں کا جلد مثبت جواب دے گا تاکہ ایک ایسے جامع معاہدے تک پہنچا جا سکے جو خطے اور دنیا میں پائیدار امن کا ضامن ہو

⭕امریکہ کی قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر نے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی مخالفت کے باعث استعفیٰ دے دیا ہے۔یہ گمان نہ کریں کہ مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچنے والے ہیں۔ایران کی مسلح افواج سو فیصد ہائی الرٹ پر ہیں۔

تحریک انصاف کا جنازہ زرا دھوم سے سھیل آفریدی مولانا فضل الرھمان کے در پر تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ آمد!وزیراعلیٰ نے دہشت گردی کے حالیہ واقعے میں شہید ہونے والے مولانا شیخ ادریس مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی کی اور مولانا شیخ ادریس کی شہادت پر تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وفاق کے ذمہ خیبرپختونخوا کے بقایاجات اور مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیادونوں رہنماؤں کا صوبے کے آئینی، قانونی اور مالی حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا گیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال ایرانی سپیکر نے کیا۔۔سید عاصم منیر اور ایرانی سپریم لیڈر نے قیام امن کے طریقہ کار پر غور کیا۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایرانی وزیرداخلہ اسکندر مومنی نے تہران پہنچنے پر فیلڈ مارشل کا پرتپاک استقبال کیا، وزیرداخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل کا دورہ ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے، خطے میں قیام امن اور دیگر امور پر بات چیت ہوگی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اہم اعلیٰ ایرانی شخصیات سے ملاقات کریں گے۔یاد رہے کہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی جنگ بندی کی تجاویز پر ایران اپنا ردِ عمل دینے کے قریب ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ایران میں موجود ہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کر کے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔خبر ایجنسی کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کر کے ایران امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے مسودوں پر تفصیلی بات چیت کی۔ایرانی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ دونوں شخصیات نے قیام امن کے طریقہ کار پر غور کیا۔دوسری جانب سفارتی ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی آج بھی تہران میں ہی قیام کریں گے، محسن نقوی امریکا ایران مذاکرات سے متعلق اہم ملاقاتیں جاری رکھےہوئے

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے قطر کے تعمیر گروپ کے بانی محمد حسین آل علی کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی.سرمایہ کاری کے وزیر کو مدعو نہیں کیا گیا ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ،شریک

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے قطر کے تعمیر گروپ کے بانی محمد حسین آل علی کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی.سرمایہ کاری کے وزیر کو مدعو نہیں کیا گیا ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.قطر پاکستان کا دیرینہ دوست ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا. وزیرِ اعظمبیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہے ہیں. وزیرِ اعظمخصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا. وزیرِ اعظمپاکستان کے سیاحت، ہوٹلنگ و ہاسپیٹیلٹی اور رئیل اسٹیٹ و تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی وسیع استعداد موجود ہے. وزیرِ اعظموزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو گروپ کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے سہولت و معاونت فراہم کرنے کی ہدایت.تعمیر گروپ کے بانی نے گروپ کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور جاری منصوبوں سے آگاہ کیا.تعمیر گروپ پاکستان میں ہاسپیٹیلٹی و ہوٹلز اور رئیل اسٹیٹ و تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس حوالے سے کئی منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے.

بریفنگ.محمد حسین آل علی نے پاکستان میں گروپ کی جانب سے سرمایہ کاری میں اضافے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا.محمد حسین آل علی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملکی ترقی اور کاروبار و بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے اقدامات کی تعریف کی.انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وزیرِ اعظم کی قیادت میں حکومت ایس آئی ایف سی کے تحت سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کیلئے مثبت اقدامات اٹھارہی ہے.

پی ای اے نے 30 سال بعد دنیا کی بڑی ائیر لائن کا روپ دھار لیا 97 فیصد پروازوں نے بروقت حجاج کو پھنچایا

*پی آئی اے کا قبل از حج آپریشن 97 فیصد بروقت پروازوں کی روانگی کے ساتھ مکمل**21 مئی 2026*پی آئی اے قبل از حج آپریشن 21 مئی کو کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا۔ ترجمان پی آئی اے۔ رواں سال 210 پروازوں کےذریعے 53,000 سے زائد عازمین حج کو حجازِ مقدس پہنچایا گیا ۔ پی آئی اے کی قبل از حج کی پروازوں کی کامیابی کی شرح 97 فیصد رہی یعنی مجموعی طور پر 97 فیصد سے زائد پروازیں بروقت روانہ ہوئیں۔پی آئی اے کی جانب سے حج پروازوں کی بروقت روانگی مقررہ ہدف سے سات فیصد زائد رہی۔ اس سال 53،000 سے زائد عازمین حج کو پی آئی اے کے ذریعے سعودی عرب پہنچایا گیا ۔ حج آپریشن کے لیے اسلام آباد، کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ اور کوئٹہ سے براہِ راست پروازیں چلائی گئیں۔پی آئی اے کی جانب سے بعد از حج آپریشن کے لئےضروری اقدامات مکمل کر لئے گئے ہیںپی آئی اے کا بعد از حج آپریشن 30 مئی 2026 کو شرو ع ہو گا اور 30جون کو اختتام پذیر ہو گا ۔ترجمان پی آئی اے

آرمی چیف نے شہدا کی فیملیز کو گرانقدر خدمات پر خراج تحسین پیش کیا

راولپنڈی GHQ میں فوجی اعزازات دینے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شہداء کے اہلِ خانہ، افسران اور جوانوں کو بہادری اور خدمات کے اعتراف میں اعزازات دیے

۔تقریب میں 50 ستارۂ امتیاز (ملٹری) 12 تمغۂ بسالت دیے گئے، شہداء کے اعزازات انکے خاندانوں نے وصول کیے۔

“پچھلے دس مہینوں میں مفتاح اسماعیل کے مطابق تین ارب ڈالرز کی گاڑیاں امپورٹ کی گئی اور یہاں ایک ارب ڈالرز کے لیے آئی ایم ایف آپ کا ناک رگڑوا رہا ہوتا ہے۔ یہ تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے اسٹیٹ بینک کے لیے مشکل تو زیادہ نہیں ہے کہ اس پر کچھ پابندیاں عائد کر دے۔”

سرمد علی اشتھار اکھٹھے کرتے کرتے تمغہ حاصل کر بیٹھا تفصیلات کے لیے فاروق فیصل کی وال سے شکریہ کے ساتھ۔۔مھنگای ھاےمھنگای اور خودکشیوں کا بازار۔۔تفتیش کے مطابق مقتول حمزہ خان کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا، جبکہ اُن کی لاش ملزم عارف شاہ کے آبائی گھر مانسہرہ سے برآمد ہوئی، جسے باغیچے میں دفنایا گیا تھا۔ایس ایس پی عارف شاہ کو سزائے موت۔ روس اور چین کا نیا اسٹریٹجک اتحاد سامنے آگیا۔۔۔۔ڈالر کی بادشاہت کو آخری سلام امریکی سپر پاور کا خاتمہ۔۔روسی صدر اور چینی صدر شی کے درمیان 3 گھنٹے کی ملاقات میں سب کچھ طے پا گیا اب جس کی لاٹھی اسکی بھینس والہ سسٹم نھی ھو گا۔۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

سرمد علی،صحافت،تمغہ امتیاز اور ڈاکٹر عارف جلالاہلیت اور قیادت کا نتیجہ۔۔۔۔دفاتر کرائے کے لیے خالی ہیں فاروق فیصل خان لائلپور سے ہماری محبت کی وجہ عہد ساز صحافی ظفر ڈوگر اور میاں زاہد سرفراز سے قربت ہے، چبکہ فیصل اباد سے قلبی تعلق لاس اینجلس جا بسنے والے یونیورسٹی کے کلاس فیلو،قومی فتبال ٹیم کے سابق کھلاڑی محبوب الحسن اور وویمن یونیورسٹی فیصل اباد شعبہ میڈیا سٹڈیز کی سربراہ ڈاکٹر سلمی عنبر ہین۔۔۔۔ میاں زاہد سرفراز پاکستان کی سیاسی تاریخ کا نہ صرف انسائیکلوپیڈیا بلکہ کردار ہیں۔عہد فیلڈ مارشل ایوب خان میں پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے سیکرٹری۔ محترمہ فاطمہ جناح کے چیف سپورٹر اور پولنگ ایجنٹ، متعدد مرتبہ رکن پارلیمنٹ اور وفاقی وزیر رہے ہیں ۔اب بھی ان کا بیٹا علی سرفراز عہد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر میں پی ٹی آئی کا رکن قومی اسمبلی ہے۔میاں زاہد سرفراز پیرانہ سالی کے باوجود پرانے لائلپور کی مجلسی زندگی،دیہی تہذیب اور وضع داری کی علامت ہیں۔ان کی زبان سے ہمیشہ لیلپور ہی سنا ہے۔

وہ صرف بلند آہنگ شخصیت کے مالک ہی نہیں دنیا بھر کے ادب کا مطالعہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔برادر ظفر ڈوگر کو عہد ساز صحافی اس لئے قرار دیتا ہوں کہ اس کی صورت فیصل آباد کی صحافت، علاقائی صحافت سے نکل کر قومی اور مرکزی دھارے میں شامل ہوئی۔روزنامہ ایکسپریس وہ پہلا قومی اخبار ہے جس نے فیصل آباد سے اپنی اشاعت کا اہتمام کیا تو ظفر ڈوگر کو اس کی ادارت کی ذمہ داری سونپی۔کچھ برسوں بعد روزنامہ جنگ کو بھی فیصل آباد سے اخبار شائع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کی نظر انتخاب بھی ظفر ڈوگر پر پڑی۔ٹی وی چینلز کا دور آیا تو محسن نقوی صاحب نے فیصل آباد سے چینل لانچ کیا تو ان کی جوہر شناس نظر نے بھی ظفر ڈوگر جیسے ہیرے کا انتخاب کیا۔ان دونوں شخصیات کی قربت کے نتیجے میں ہمیں زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عارف جلال کا تحفہ ملا۔ڈاکٹر صاحب کی شخصیت پر لکھنے کا مطلب آپ کے کئ گھنٹے گئے۔ان کا اتنا تعارف کافی ہے کہ درس و تدریس کے بعد ان کا زیادہ تر وقت فیملی سے زیادہ میاں زاہد سرفراز اور ظفر ڈوگر کی صحبت میں گذرا ہے۔ڈاکٹر صاحب گزشتہ برس ریٹائر ہونے کے بعد قلم قبیلے والوں کے قافلے میں شامل ہو گئے ہیں۔

ہم خوش تھے کہ ان کا قلم زراعت اور زرعی تحقیق پر اٹھے گا، ہم سمجھ پائیں گے کہ ہماری زراعت کے ساتھ کیا ہوا اور کیا کرتے کی ضرورت ہے۔۔۔ان موضوعات پر انہوں نے لکھا بھی لیکن انہوں نے بھی اب ان موضوعات کو منتخب کرنا شروع کر دیا ہے جو ہم جیسے نیم خواندہ کی چراگاہ ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے تازہ آرٹیکل میں اے پی این ایس(مالکان اخبارات کی تنظیم)کے صدر اور حکمران پیپلز پارٹی کے سینیٹر سرمد علی جن کو حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز کا حقدار ٹھہرایا کی ذاتی صفات اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بیان کیا ہے۔ان کے مضمون کا عنوان ہے”سرمد علی۔۔پاکستانی جمہوری صحافت کے عہد ساز معمار قلم،قیادت اور ستارہ امتیاز”سرمد علی صاحب کو یہ اعزاز ملنے پر بہت مبارک۔اللہ پاک ان کو مزید کامیابیوں سے نوازے۔شخصی خوبیوں کو چھوڑ کر ایک صحافی ہونے کے ناطے ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے نتیجے پر گفتگو تو کی جا سکتی ہے۔ماضی میں ان کے دور صدارت میں ان کی تنظیم پر تنقید کے نتیجے میں خاکسار اور اس وقت جس ادارے میں کام کر رہا تھا دونوں کو نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اب تو ملازمت کا کوئی سلسلہ بھی نہیں۔سو پیارے ڈاکٹر عارف جلال صاحب سرمد صاحب کہاں اور کب سے عہد ساز معمار قلم ہوئے۔ان کے قلم سے کوئی ایک خبر، کالم ،مضمون، اداریہ لکھا ہوا موجود ہو تو اگاہ کیجئے گا۔۔وہ مارکیٹنگ کے ایک باصلاحیت انسان ہیں

جہنوں نے اپنی محنت سے اپنے ادارے اور اس کی بدولت صنعت میں بڑا مقام بنایا لیکن قلم کار نہیں ہیں۔وہ اس جدید صحافت کے معمار ضرور ہیں جس میں ادارتی پالیسی کلی طور پر مارکیٹنگ کے تابع ہے،جس میں ایڈیٹر شعبہ اشتہارات کے ہیڈ کو جوابدہ ہے۔وہ ادارتی مواد کے عوض استہارات کی اچھی ڈیل کرنے کے ماہر ہیں۔وہ صحافیوں یا ایڈیٹرز کی کسی تنطیم کے صدر نہیں بلکہ مالکان اخبارات کے کاروباری مفادات کو تحفظ دینے والی تنطیم کے صدر ہیں۔

اس حیثیت میں ان تنظیموں کے حصے بخرے کرنے میں بھی ان کا کردار کلیدی ہے۔اج ایڈیٹرز اور عامل صحافیوں کی تنظیموں کی اولین ترجیح اشتہارات کا حصول اور پیمنٹ کی ادائیگی ہے تو اس کا سہرا بھی ڈاکٹر صاحب کے ممدوع سرمد صاحب کو جاتا ہے۔ان کی قیادت، اہلیت اور وژن کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا اشاعتی ادارہ جس کے وہ کرتا دھرتا ہیں کے دفاتر برائے فروخت اور کرائے کے لئے خالی ہیں کے اشتہار دے رہا ہے۔ باقی تمام اخبارات اور صحافت حکومت کے سامنے اشتہارات کا کشکول اور صحافی عیدی کے لئے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں۔

‏اداکارہ مومنہ اقبال سے ہراسگی اور دھمکیوں کے معاملے میں لیگی رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ ملوث نکلے۔‏اداکارہ کی جانب سے ثاقب چدھڑ اور انکی بیوی سمیرا خان کو درخواست میں نامزد کیا گیا ہے‏این سی سی آئی اے لاہور نے لیگی رکن پنجاب اسمبلی اور انکی بیوی کو 22 مئی کو طلب کرلیا۔ذرائع

امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: پاکستانی ثالثی نازک مرحلے میں داخل، وزیر داخلہ محسن نقوی کا ہنگامی دورہ تہرانپاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے مستقل خاتمے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کی سفارتی کوششیں اب ایک انتہائی نازک اور اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ ان تازہ ترین پیش رفت کی تفصیلی تفصیلات درج ذیل ہیں

:وزیر داخلہ محسن نقوی کا 24 گھنٹوں میں دوسرا دورہ تہرانخطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور امریکا کی جانب سے ملنے والی حالیہ تجاویز کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ہی ہفتے (اور گزشتہ 24 گھنٹوں) کے دوران دوسری مرتبہ ہنگامی دورے پر تہران پہنچے ہیں۔ اہم ملاقاتیں: تہران پہنچنے پر محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اعلیٰ حکام بشمول جنرل احمد وحیدی سے اہم ترین ملاقاتیں کیں، جن میں عسکری اور سول قیادت کو امریکی تجاویز پر اعتماد میں لیا گیا۔ دورے کا مقصد: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق، پاکستانی وزیر داخلہ کا یہ دورہ دونوں ممالک (امریکا اور ایران) کے درمیان پیغامات کی فوری منتقلی اور دونوں جانب سے موصول ہونے والے مسودوں (Texts) کی مزید وضاحت اور ابہام دور کرنے کے لیے ہے۔امریکا کا نیا مسودہ اور ایرانی موقفذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کو ایک نیا مسودہ/تجاویز پیش کی گئی ہیں،

جس میں سابقہ پیشکشوں کے مقابلے میں ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے نسبتاً بہتر مراعات (Incentives) شامل کی گئی ہیں۔ ایران کا ردِعمل: ایرانی ترجمان کا کہنا ہے کہ تہران کو امریکی تجاویز کا مسودہ موصول ہو چکا ہے اور وہ اس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم، ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات (تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، اثاثوں کی واپسی اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے) پر سختی سے قائم ہے۔مذاکرات کا اگلا دور: عید کے بعد اسلام آباد میںپاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی مسلسل پسِ پردہ سفارت کاری کے نتیجے میں دونوں فریقین کو دوبارہ براہِ راست میز پر لانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

دوسرا دور: پاکستان کی اولین ترجیح 8 اپریل سے نافذ العمل عارضی جنگ بندی کو مستقل معاہدے میں بدلنا ہے۔ اس سلسلے میں امریکا اور ایران کے مابین باقاعدہ مذاکرات کا اگلا اور حتمی دور عید کے فوراً بعد اسلام آباد میں شیڈول کیا جا رہا ہے، جہاں دونوں ممالک کے وفود حتمی مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔ سفارتی حلقوں کا تجزیہ: عید کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے میں مستقل امن یا دوبارہ ممکنہ کشیدگی کا فیصلہ کرنے میں تاریخی نوعیت کے حامل ہوں گے۔