All posts by admin
بریانی ملی؟ بریانی میں بوٹی تھی؟متاثرینِ سیلاب کے لیے سرکاری ریلیف کی مکمل کہانی۔14 کروڑ عوام کے سر پر بٹھاے عقل سے پیدل وزراء کی سیلاب زدگان کے زخموں پر نمک پاشی۔۔ ۔ھزاروں ارب روپے کی فصلوں کے نقصان کرنے والے کسانوں کے بچوں سے وزراء کے سوالات۔۔پاکستانی حکمرانوں نے بے حسی نالائقی کے 100 سالہ توڑ ڈالے۔۔افغانستان کی جیت اور پاکستانی کرکٹ ٹیم تاریخ کی بدترین شکستوں کا سلسلہ۔خورشید شاہ خدا انکو صحت مند کرے پیپلز پارٹی اور پاکستان کا اثاثہ۔1962 کے بعد چین نے کوی جنگ لڑی اور نہ جیتی۔راجہ رینٹل اور خواجہ مینٹل وزارت دفاع سے ڈرمہ والہ سیالکوٹ واپسی کا سفر افغانستان کی جیت اور پاکستانی کرکٹ ٹیم تاریخ کی بدترین شکستوں کا سلسلہ۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سینئر سیاست دان سید خورشید احمد شاہ کی عیادت کے لئے مقامی اسپتال آمدکراچی: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے رکن قومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ کی صحت سے متعلق خیریت دریافت کیکراچی: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا سابق قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کی جلد صحت یابی کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار

جھوٹ جھوٹ ہوتا ہےجھوٹ کو سیاسی بیانیہ کہنے والے سیاست کو. مزید گندہ کرتے ہیںامریکہ نے حکومت گرای جھوٹ تھا35 پنجر جھوٹ تھانواز شریف پر کیس جھوٹ تھا لیکن ادھر جھوٹ صاف نہیں بولا جاتا کہا جاتا ہے وہ سیاسی بیان تھا پی ٹی آئی ٹوٹل جھوٹ جھوٹ جھوٹ اور صرف جھو

#فخر_واہ_کینٹ پائلٹ میجر عاطف شہید کوپورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیاپائلٹ میجر عاطف شہید واہ کینٹ کے رہائشی تھے، جنہوں نے چلاس ہیلی کاپٹر حادثے میں جام شہادت نوش کی تھیہیلی کاپٹر حادثے میں شہادت پانے والے میجر عاطف کی نماز جنازہ منگل کے روز واہ کینٹ کی مرکزی مسجد میں ادا کی گئی۔ شہید افسر کو بعد ازاں واہ کینٹ 21 ایرایا قبرستان میں فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

قبل ازیں انھیں پاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی نماز جنازہ اور تدفین میں چیئرمین پی او ایف بورڈ واہ کینٹ سیمت اعلیٰ عسکری و سول حکام کی شرکت، خاندانی ذرائع کے مطابق میجر عاطف پس ماندگان میں والدین، اہلیہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ گئے ہیں

۔ رشتہ داروں نے انہیں ایک بہادر افسر اور شفیق خاندان پرور قرار دیا جو ہمیشہ ذاتی آرام پر فرض کو مقدم رکھتے تھے۔ شہید کے والد نے کہا کہ اگرچہ یہ صدمہ نا قابل بیان ہے، تاہم انہیں فخر ہے کہ ان کے بیٹے نے ملک وقوم کی خاطر اپنی جان قربان کی۔ نماز جنازہ کے موقع پر فضا اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ مقامی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے شہید کو خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں واہ کینٹ کا فخر قرار دیا۔

پائلٹ میجر عاطف شہید کا تعلق واہ کینٹ کے علاقہ نیو گلستان کالونی واہ کینٹ سے تھا، یاد رہے کہ چلاس میں پاک فوج کے ایم آئی 17 ہیلی کا پڑفنی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہوا تھا۔ اس حادثے میں پاک فوج کے پانچ افراد نے جام شہادت نوش کیا تھا جن میں پائلٹ میجر عاطف، میجر فیصل، نائب صوبیدار مقبول، حولدار جہانگیر اور نائیک عامر شامل تھے#

برطانیہ کا ویزہ ختم ہونے پر واپس نہ جانے والے تمام سٹوڈنٹس کو ڈی پورٹ کرنے کا اعلانبرطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام غیر ملکی طلبا جو اپنی ویزا مدت ختم ہونے کے باوجود برطانیہ میں مقیم ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملک بدر کرے گی۔ برطانوی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ امیگریشن نظام کے مبینہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ہوم آفس نے ہزاروں بین الاقوامی طلبا کو ای میلز اور ٹیکسٹ پیغامات کے ذریعے مطلع کیا ہے کہ اگر وہ اپنی ویزا مدت مکمل ہونے کے بعد بھی ملک میں موجود پائے گئے تو انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جائے گا یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔حکام کے مطابق، اس اقدام کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی

کیونکہ حالیہ عرصے میں ایسے غیر ملکی طلبا کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو کہ ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد دائر کی گئی تھیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ایک سال میں تقریباً 14 ہزار 800 افراد نے برطانیہ میں پناہ کی درخواستیں دائر کیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد اسٹڈی ویزا پر آئے ہوئے طلبا کی تھی۔ان میں سب سے زیادہ پاکستانی طلبا شامل ہیں جنہوں نے 5 ہزار 700 کے قریب پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں، اس کے بعد بھارتی، بنگلہ دیشی اور نائیجیرین طلبا شامل ہیں

۔برطانوی ہوم سیکرٹری یویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ بہت سی ایسی پناہ کی درخواستیں بھی دیکھی گئی ہیں جن میں درخواست گزاروں کے آبائی ممالک میں کوئی ہنگامی یا خطرناک حالات موجود نہیں تھے۔

ان کے مطابق یہ رجحان نظام کے غلط استعمال کے مترادف ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔واضح رہے کہ برطانیہ نے ایک روز قبل ہی پناہ گزین خاندانوں کے ملاپ سے متعلق نئی درخواستیں عارضی طور پر معطل کرنے کا بھی اعلان کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت امیگریشن پالیسی میں سختی لا رہی ہے

۔ماہرین کے مطابق، ان اقدامات سے نہ صرف موجودہ بین الاقوامی طلبا متاثر ہوں گے بلکہ آئندہ برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبا کو بھی امیگریشن قوانین کا بغور جائزہ لینا پڑے گا۔
چینوٹ ڈوب گیا 150 دیہات زیر آب۔۔۔سعودی عرب 2 سال میں ایک کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے میں مکمل طور پر ناکام۔۔50 ارب ڈالر کے خواب دکھانا فراڈ نکلہ پاکستان کے حجاج اور عمرہ زائرین 20 ارب ڈالر سے زائد سعودی عرب میں سالانہ خرچتے ھے تفصیلات کے لئے بادبان نیوز
سندھی قوم کے خلاف بکواس کرنے والہ ن لیگ کا لونڈا لاپاڑہ برطرف سیکرٹری اطلاعات حکومت پاکستان امبرین جان جو مستقبل کی چئیرمین پیمرا ھے فوری طور پر برطرف کرتے ھوے 26 لاکھ روپے کی مراعات واپس لینے کا حکم بھی جاری کیا۔۔انفارمیشین اور خبر کی خصوصیت یہ ھے کہ جب حالات موافق نہ ھوں تو یہ ھوائی بگولہ بن کر گھومتی ہیں-کوئٹہ ۔ بی این پی کے رہنما سرداراخترجان مینگل کی گاڈی پر بم دھماکہ،درجنوں کارکن شہید زخمی۔۔۔۔اسرائیلی وزیر خارجہ پر ایرانی وزیر خارجہ کا حملہ لتر پریڈ۔۔ایران کے ھاتھوں پاکستان کو عبرت ناک شکست۔دو گیندوں پر دو وکٹیں ، راشد خان نے میچ پاکستان کے ہاتھ سے چھین لیا۔۔۔۔منظور پشتین کے افغان بر والوں نے عورتوں کی میڈیکل تعلیم پر بھی پابندی عائد کر دی ہے اب افغان ماؤں کو کوئی پیچیدگی ہوئی نئے منظور پشتین اور انکی مائیں دوران حمل ہی مر جایا کریں گی ۔۔خطرے کی گھنٹی اور خطرناک گونج۔۔اھم ترین ملاقات شیروانی اور بادبان نیوز نیا پنڈوارا بکس۔۔شیروانی اور بادبان نیوز نیا پنڈوارا بکس۔۔چپڑاسی سے وزیر اعظم تک کرپشن کے تبوت۔*عید میلادالنبی کے موقع پر ملک بھر میں 6 ستمبر بروز ہفتہ عام تعطیل ہو گی، نوٹیفیکیشن جاری*سعودی اور عراقی کمپنیوں نے بھارتی ریفائنری کو تیل کی فروخت روک دی*۔۔اسلام آباد ایئرپورٹ کا انتظام امارات کے سپرد۔۔پی ٹی آئی کے 6 اراکین قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ سے بھی مستعفی ہوگئے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ڈبو کے شہر کو یک دم اتر گیا پانی ———————————————شاہد اقبال کامران —————————ہماری ریاست ماں جیسی نہیں ، ورنہ کوئی ماں اپنے بچوں کو پانی میں غرق نہیں ہونے دیتی ۔ ہماری ریاست باپ جیسی بھی نہیں کہ۔جو اپنے بچوں کا کفیل ہو ۔ہماری ریاست ،جیسا کہ بتایا جاتا ہے کوئی نظریاتی ریاست ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کسی نظریے کی چادر میں چھپ کر ریاست اپنی پرستش کروانا چاہتی ہے اور جبرا ایسا کروا بھی رہی ہے ۔ لوگوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ اسلام میں بت پرستی مکمل طور پر حرام ہے۔کسی بھی قسم کے بت کو توڑنا ، پاش پاش کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے ۔دوسری بات یہ کہ چونکہ حکومت کا نظام یہاں ناکام و نامراد ہو چکا ہے اس لیے معاشرتی نظم و نسق کے دیگر متبادلات پر غور وفکر کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

حالیہ سیلاب کے دوران بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں جو تباہی مچی ،اور جس طرح سے ہمارے تنخواہ دار حکمرانوں نے روپوشی اختیار کی ہے ۔اسے عامتہ الناس کو یاد رکھنا چاہئیے۔سیلاب زدہ علاقوں میں بیماریاں پھیلنے کا بھی خدشہ ہے۔لوگوں کو چاہئیے کہ انتظار کرنے کی بجائے انتظامیہ کے قلعہ نما محلات پر قبضہ کرلیں۔اور اپنی تقدیر کے مالک خود بنیں۔جب سے ملک کے بیشتر علاقوں میں تند و تیز بارشوں اور بھارت کی طرف سے خاموش دریاؤں میں چھوڑے پانی کی وجہ سے سیلاب بلاخیز نے تباہی مچا رکھی ہے ،ملت پاکستانیہ کو شرم اور حیا کی طرف متوجہ کرنے والے سیالکوٹ کے خواجہ آصف بالکل غائب ہیں ۔شرلی بے بنیاد کی تحقیق کے مطابق جس وزیر کو وفاقی کابینہ میں بالکل فارغ رکھنا ہو

،اسے وزیر دفاع بنا دیا جاتا ہے ۔شرلی کا اصرار ہے کہ اس وزرات کی املا غلط لکھی جاتی ہے ،اس کے نزدیک اصل املا “وزیر دفع” ہے ،جو غلطی سے دفاع قیاس کر لی گئی ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ دفاع سے متعلق معاملات دفاع والے خود ہی دیکھ لیتے ہیں ، وہ اپنا سیکرٹری دفاع مقرر کر کے اسے کھیلنے کے لیے ایک وفاقی وزیر دے دیتے ہیں تاکہ دستخط کرنے کے کام آسکے۔خواجہ آصف جونسا جونسا کی تکرار کے ساتھ اپنے سیاسی مخالفین پر طنز کے بے تدبیر تیر چلانے میں بڑے ماہر ہیں

۔وہ دوسرے سیاستدانوں سے ہر اس خوبی کی توقع رکھتے ہیں ، جو خود ان کے اپنے اندر نہیں ہوتی۔قوم کو شرم و حیا کی طرف متوجہ کرنے والے خواجہ آصف اس وقت خود اپنے وزیراعظم شہباز شریف اور اپنی حکومت کو خواب غفلت سے بیدار کرنے اور شرم و حیا کی ضرورت و اہمیت سے آگاہ کرنے میں غفلت کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں؟ وہ ملک کے سیاسی منظر سے بالکل غائب ہیں ۔بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے زیریں علاقے پانی کی غارت گری کا شکار ہیں ۔صوبائی حکومت کی غفلت شعاری ایک طرف ،لیکن ہماری ازخود انقلابی وفاقی حکومت اپنا فرض کیوں ادا نہیں کر رہی؟شہبازشریف نے شروع شروع میں اپنی انگلی لہرا لہرا کر انقلابی باتیں کرنا شروع کی تھیں

۔پھر بھیک مانگنے کا سلسلہ شروع ہوا اور ایسے ایسے نادر طریقے اور دردناک سلیقے سے بھیک مانگی گئی کہ اب پاکستانی بھکاریوں کا یہ منشور بن گیا ہے کہ “آپ سمجھے ہیں کہ میں بھیک مانگنے آیا ہوں۔ بس ایک بار آپ ہماری مدد کر دیں۔۔۔۔ ۔۔۔” یہ تو سچ ہے کہ مصیبت بتا کر نہیں آتی ،لیکن موسمی پیشگوئی اب سائنس بن چکی ہے ۔سیلاب تو بتا کر ہی آیا ہے ، بارش کا بھی پیشگی اندازہ کر لیا جاتا ہے ۔اس کے بعد اس کے اثرات کو قابو کرنے کی منصوبہ بندی اور اقدامات کی ذمہ داری حکومت پر آتی ہے ۔تحصیل دار سے لے کر کمشنر تک ،اورکمشنر سے لے کر چیف سیکرٹری اور پھر وزراء اور وزیر اعلی تک سب کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔لیکن پنجاب کے اداکار وزیر اعلی پرویز الٰہی اپنی سیاسی مصروفیات میں اس قدر الجھے بیٹھے ہیں کہ انہیں ابھی تک سیلاب زدگان کی طرف توجہ دینے کی فرصت نہیں ملی۔

شائد ان کا خیال ہے کہ ان کی وزارت اعلی تو پی ٹی آئی کے ووٹوں پر کھڑی ہے ، جنوبی پنجاب کے غریب سرائیکیوں کے ووٹ پر تو نہیں،لہذا انہوں نے تونسہ یا فاضل پور یا کوہ سلیمان کے اطراف کا دورہ کرنے کی بجائے بنی گالہ جا کر عمران خان کے دربار میں حاضری دینا مناسب سمجھا۔سنا ہے کہ انہوں نے اپنے شہر گجرات کے لیے اربوں کے ترقیاتی فنڈز کا اعلان کیا ہے۔شکر ہے گجرات جنوبی پنجاب میں واقع نہیں ،ورنہ اس فنڈ سے سرائیکی بولنے والے غریب لوگوں کا بھی کچھ بھلا ہو سکتا تھا۔

ستم ظریف کا موقف ہے کہ پاکستان کے مرکزی سیاست دان ،چاہے وہ صوبائی حکومت میں ہوں ،چاہے وفاقی حکومت میں ،وہ جانتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کے ایم پی ایز اور ایم این ایز کو تو نقد ادائیگی کر کے بازار سے ہی خریدنا ہے ۔تو پھر ان کے ووٹروں کی دلداری کرنے کیا ضرورت ہے۔ وہاں کا سردار ،وڈیرا ،خان ، پیر اور سجادہ نشین اصل بیماریاں ہیں ،جو سیلاب گزر جانے کے بعد بھی موجود اور ناقابل علاج رہیں گی ۔میں نے ستم ظریف کو سمجھایا ہے کہ جنوبی پنجاب کو ریاست پاکستان کا ایک حصہ سمجھ کر سوچنے کی مشق کرنی ہو گی۔بالکل اس طرح جیسے بلوچستان کو پاکستان کا ایک با عزت حصہ ماننا پڑے گا

۔میں نے اسے بتایا کہ سیلاب کی بے رحم تباہ کاری کا مسلہ سیاسی نہیں انسانی المیہ ہے ۔لیکن افسوس اور عبرت کا مقام یہ ہے کہ ہماری حکومتیں اس باب میں مکمل خاموشی اختیار کیے بیٹھیں ہیں۔اب جبکہ ان گنت اموات اور نقصان ہو چکا ہے تو خبر آئی ہے کہ وزیراعظم اورآرمی چیف نے از راہ کرم ٹیلیفون کے ذریعے رابطہ کر کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔آپ سوچیے جن لوگوں نے اس تباہی سے پہلے منصوبہ بندی کرنی تھی ، وہ بعداز خرابی بسیار اب ایک دوسرے کو ٹیلی فون کے ذریعے بتا رہے ہیں کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے

۔بس یہی المیہ ہے کہ ابھی تک وزیراعظم “ضرورت ہے” ہی کی تکرار کیے جارہے ہیں۔وہ یہ نہیں بتاتے کہ یہ ضرورت کون پوری کرے گا۔سنا ہے کہ وزیراعظم نے سپہ سالار جنرل قمر جاویدباجوہ کے علاؤہ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اخترنواز سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے

۔یہ جو نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے جنرل اختر نواز نامی چیئرمین صاحب ہیں ،نہیں تو فوراً واپس اپنی اصل ڈیوٹی پر اس رپورٹ کے ساتھ بھیج دینا چاہئیے کہ یہ موصوف اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں

۔لیکن ہمارے وزیراعظم نے کئی دن تک اپنے سینے میں سانس کی مشق کرنے کے بعد ان موصوف سے بات کرنے کی ہمت کی۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو سندھ میں بارشوں اور سیلاب کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔یہ بھی اللہ کا شکر ہے ورنہ وزیراعظم کو سندھ میں سیلاب کی صورتحال کا کس طرح سے پتہ چلتا۔اس پوری گفتگو میں جنوبی پنجاب کے مظلوم اور غرقاب علاقوں کا اشارتاً بھی ذکر نہیں آیا۔ہاں مگر شہباز شریف نے پھر وہی کیا ،جو انہیں کرنا آتا ہے ۔یعنی ریاست کے پیسوں سے اخباروں میں اشتہارات چھپوا کر کارروائی ڈالنا۔ وزیر اعظم شہباز شریف صاحب ! یہ تصویری اور اشتہاری ڈرامے بند کریں۔بلوچستان ، جنوبی پنجاب اور سندھ کے بہت سے علاقے بدترین سیلاب کی زد میں ہیں۔

اور آپ کروڑوں روپے کے اشتہارات کی رشوت اخبارات کو دے رہے ہیں۔ذرا کوہ سلیمان کے اطراف پھنسے ہوئے مجبور لوگوں کی خبر لیں۔آپ پرانے ڈراموں کی تصویریں لگا کر داد سمیٹنا چاہتے ہیں۔بلائیں ذرا خواجہ آصف کو جو قوم کو بتایا کرتا تھا کہ؛ کوئی شرم ہوتی ہے ،کوئی حیا ہوتی ہے۔میں اس سے پوچھوں گا کہ اتنی اہم بات شہباز شریف کو کیوں نہیں بتائی؟ شاعر باکمال فیصل عجمی کے شعر یاد آرہے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ؛زمیں کی نوحہ گری سن کے ڈر گیا پانیڈبو کے شہر کو یک دم اتر گیا پانیمیں ایک بار پکارا کوئی بچاؤمجھےپھر اس کے بعد میرے منہ میں بھر گیا پانیجو ڈوب گئے ، وہ تلاش مرگ میں تھےچلو کسی پہ تو احسان کر گیا پانی —————————————–
بنوں میں دھشت گردوں کا حملہ فورسز کی کارروائی تمام بھارتی دھشت گرد ھلاک۔۔مافیا کے 40 بیورو کریسی کے ڈان گرفتار۔500 کا دستہ 21 وزراء کے ھمراہ چین روانہ۔۔بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کا فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر بنوں پر حملہ، تمام 5 دہشتگرد ہلاک۔۔اسمبلیوں سے استعفے نہیں دیئے جائیں گے، سلمان اکرم راجہ کا انکشاف۔۔کوئٹہ ۔ بی این پی کے رہنما سرداراخترجان مینگل کی گاڈی پر بم دھماکہ،درجنوں کارکن شہید زخمی۔ ۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

_روس کے صدر اور پاکستان کے وزیراعظم کے درمیان ملاقات_* وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے رشین فیڈریشن کے صدر عزت مآب ولادیمیر پیوتن سے آج بیجنگ، چین میں ملاقات کی۔2024 میں آستانہ میں ہونے والی اپنی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ایک سال کے دوران تعاون کو وسعت دینے اور اس کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور گرمجوشی پر مبنی ہیں۔ اس بات کی بنیاد پر کہ پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، وزیراعظم نے روس کے ساتھ تجارتی روابط، توانائی، زراعت، سرمایہ کاری، دفاع، مصنوعی ذہانت، تعلیم، ثقافت اور عوام سے عوام کے تبادلے جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کے لیے پاکستان کی تیاری اور دلچسپی سے آگاہ کیا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر دونوں ممالک کے نقطہء نظر میں کافی حد تک مماثلت ہے۔ مزید برآں، وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان قائم ادارہ جاتی میکانزم کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجوزہ پاکستان اسٹیل مل (PSM) کراچی کے فلیگ شپ پراجیکٹ اور کنیکٹیوٹی پراجیکٹس میں سرمایہ کاری جیسے ٹھوس اقدامات آنے والی نسلوں کے لیے پاکستان روس دوستی کی علامت ہوں گے۔دوطرفہ تعلقات کے بارے میں پاکستان کے وزیر اعظم کے جائزے سے اتفاق کرتے ہوئے، صدر ولادیمیر پیوتن نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بلندی کی رفتار کا ذکر کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم جیسی تنظیموں میں تعاون کا فروغ علاقائی اور عالمی سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے روس کے پاکستان کے ساتھ مختلف موضوعات پر دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جنوبی ایشیاء کی صورتحال، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کثیرالجہتی فورمز پر جاری تعاون کے ساتھ ساتھ فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ مسائل اور عالمی دلچسپی کے تنازعات پر بھی تبادلہء خیال کیا۔ملاقات کے دوران روسی صدر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو روس کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی۔___
انفارمیشین اور خبر کی خصوصیت یہ ھے کہ جب حالات موافق نہ ھوں تو یہ ھوائی بگولہ بن کر گھومتی ہیں-

انفارمیشین اور خبر کی خصوصیت یہ ھے کہ جب حالات موافق نہ ھوں تو یہ ھوائی بگولہ بن کر گھومتی ہیں- اور جب حالات آپ کے حق میں ہوں تو عوام خواہ مخواہ ہر نعرے پر تالیاں مارتے ہیں- میڈیا کیونکہ سائنس ھے، اور سائنس میں ادھر ادھر کی نہیں چلتی، فارمولے چلتے ہیں- سیلاب جہاں سے شروع ہواتھا وہاں سے لیکر جہاں پہنچا ھے اور جدھر سے ہوتا ہوا گزرا ھے پوری قوم کے پاس چپے چپے کی فوٹیج ھے- اتنی وسیع کیمرہ شوٹنگ ھے کہ اسے اکٹھا کرنے کے لئے مہینوں درکار ہیں- کیا اس ھیوی ڈیوٹی سوشل میڈیا کوریج میں سے کوئی جھوٹ بول کے نکل سکتا ہے-
روس کے صدر اور پاکستان کے وزیراعظم کے درمیان ملاقات_* وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے رشین فیڈریشن کے صدر عزت مآب ولادیمیر پیوتن سے آج بیجنگ، چین میں ملاقات کی۔2024 میں آستانہ میں ہونے والی اپنی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ایک سال کے دوران تعاون کو وسعت دینے اور اس کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا
*_روس کے صدر اور پاکستان کے وزیراعظم کے درمیان ملاقات_* وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے رشین فیڈریشن کے صدر عزت مآب ولادیمیر پیوتن سے آج بیجنگ، چین میں ملاقات کی۔2024 میں آستانہ میں ہونے والی اپنی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ایک سال کے دوران تعاون کو وسعت دینے اور اس کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور گرمجوشی پر مبنی ہیں۔ اس بات کی بنیاد پر کہ پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، وزیراعظم نے روس کے ساتھ تجارتی روابط، توانائی، زراعت، سرمایہ کاری، دفاع، مصنوعی ذہانت، تعلیم، ثقافت اور عوام سے عوام کے تبادلے جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کے لیے پاکستان کی تیاری اور دلچسپی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر دونوں ممالک کے نقطہء نظر میں کافی حد تک مماثلت ہے۔ مزید برآں، وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان قائم ادارہ جاتی میکانزم کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجوزہ پاکستان اسٹیل مل (PSM) کراچی کے فلیگ شپ پراجیکٹ اور کنیکٹیوٹی پراجیکٹس میں سرمایہ کاری جیسے ٹھوس اقدامات آنے والی نسلوں کے لیے پاکستان روس دوستی کی علامت ہوں گے۔دوطرفہ تعلقات کے بارے میں پاکستان کے وزیر اعظم کے جائزے سے اتفاق کرتے ہوئے، صدر ولادیمیر پیوتن نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بلندی کی رفتار کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم جیسی تنظیموں میں تعاون کا فروغ علاقائی اور عالمی سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے روس کے پاکستان کے ساتھ مختلف موضوعات پر دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جنوبی ایشیاء کی صورتحال، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کثیرالجہتی فورمز پر جاری تعاون کے ساتھ ساتھ فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ مسائل اور عالمی دلچسپی کے تنازعات پر بھی تبادلہء خیال کیا۔ملاقات کے دوران روسی صدر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو روس کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی۔___
سندھی قوم کے خلاف بکواس کرنے والہ ن لیگ کا لونڈا لاپاڑہ برطرف سیکرٹری اطلاعات حکومت پاکستان امبرین جان جو مستقبل کی چئیرمین پیمرا ھے فوری طور پر برطرف کرتے ھوے 26 لاکھ روپے کی مراعات واپس لینے کا حکم بھی جاری کیا
آرمی چیف کی آئینی مدت ملازمت کے 920 روز باقی 90 فیصد ٹی وی چینلز کے مالکان جن کا تعلق لینڈ مافیا سے وزیراعظم شریف کی وزارت عظمی خطرے میں نئے وزیراعظم نے شیروانی سلوا لی تفصیلات کے بادبان یو ٹیوب
آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر ہڈر کے مقام پر فنی خرابی کی وجہ سے کریش۔۔2 میجر ایک نائب صوبیدار حوالدار نائیک لانس شھید ماں دھرتی پر قربان۔بارشوں اور سیلاب کی تباہی تباہی اور تباہی۔۔ دریاؤں پر قبضے اور ہاؤسنگ سوسائٹیز ماحولیاتی تباہی کی اصل وجہ ہیں، شاہد خاقان۔۔ غیر قانونی سوسائٹییز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع۔ 40 بیورو کریسی کے سرکردہ شخصیات کے خلاف کریک ڈاؤن جاری۔ تاریخی جنازہ آج افغانستان میں پڑھایا گیا زلزلے سےشہیدوں کی تعداد جنازہ پڑھنے والوں سے کہی زیادہ تھی تقریباً 800 سو شہیدوں کا جنازہ پڑھایا گیا۔۔ جنازہ پڑھنے والے کم قبر میں دفن ھونے والے زیادہ۔۔حالات کشیدہ صورتحال نازک بڑے حادثے کی گونج ۔قومی اسمبلی کا اجلاس خاموشی ڈرے ھوے سھمے ھوے ارکان۔۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

🚨 *گوجرانوالہ: پھل فروش نے مبینہ طور پر ایک شخص کو قتل کرکے لاش پیٹی میں چھپادی*گوجرانوالہ میں ایک پھل فروش نے مبینہ طور پر ایک شخص کو قتل کر کے لاش پیٹی میں چھپادی۔پولیس ذرائع نے کہا کہ سامان منتقلی پر رکشہ ڈرائیور نے پیٹی وزنی ہونے پر وجہ پوچھی تو رازفاش ہوگیا۔گوجرانوالہ پولیس نے کہا کہ واقعہ تھانہ نوشہرہ ورکاں کے علاقے محلہ صدیق سویٹ مین بازار میں پیش آیا۔اہل محلہ نے کہا کہ ملک اعجاز نامی شخص نے کرایہ کا مکان تبدیل کرنے کو سامان باہر کیا تو لوڈر رکشہ والے نے پییٹی کھول کردیکھی تو اعجاز پھل فروش نے دوڑ لگادی جسے اہل علاقہ نے پکڑا، تاحال مقتول کی شناخت نہیں ہوسکی۔گوجرانوالہ پولیس نے کہا کہ لاش 2 روز پرانی لگتی ہے، تحقیقات جاری ہیں، جلد حقائق سامنے آئیں گے۔🚨 شنگھائی تعان تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کی ملاقات ہوئی ہے۔

وزیراعظم نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدے پر مبارکباد دی، دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ آذربائیجان کے صدر نے پاکستان میں سیلاب میں جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں آذربائیجان کی حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں🚨 چین کے صدر شی جن پنگ نے ایس سی او ترقیاتی بینک کے قیام کی تجویز تجویز دیدی ہے۔ چین کے شہر تیانجن میں جاری ایس سی او اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا کہ ایس سی او باہمی اعتماد اور اصولوں کے تحت آگے بڑھ رہی ہے، وقت گزرنے کے ساتھ تنظیم تناوردرخت بن چکی ہے، ایس سی او ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی بہت گنجائش ہے، رکن ملکوں کو تجارت اور معیشت کے شعبوں میں دستیاب مواقع سے استفادہ کرناہوگا۔ چینی صدر کا کہنا تھا کہ مشترکہ خوشحال مستقبل کے لیے تجارتی اورمواصلاتی روابط بڑھانا ہوں گے، چین رکن ملکوں کی سماجی اورمعاشی ترقی میں کردار اداکرنے کے لیے پرعزم ہے، عوام کی خوشحالی کے لیے ایس سی او ملکوں کوعملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

🚨 کراچی کے علاقے لانڈھی میں نارکوٹکس کنٹرول فورس نے کارروائی کرتے ہوئے ہیروئن سپلائی کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ترجمان کے مطابق کارروائی کورنگی نارکوٹکس کنٹرول ونگ نے کی اور ملزم کو لانڈھی سیکٹر 36 سے حراست میں لیا۔ ملزم کی شناخت مرزا علی ولد عبدالرحمان کے نام سے ہوئی جو ایک بین الصوبائی منشیات گروہ کا رکن ہے۔ تحقیقات کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ پشاور سے کراچی تک منشیات سپلائی کرتا تھا۔ کارروائی کے دوران ملزم سے 10 کلو 400 گرام ہیروئن برآمد کی گئی۔ جسکی بین الاقوامی مارکیٹ میں مالیت تقریباً 20 کروڑ روپے ہے۔

Pag ہم قومی اثاثے اپنی جاگیر سمجھ کر استعمال کرتے ہیں اور احتجاجوں میں تباہ بھی کرتے ہیں – اعلی سرکاری افسران کی رہائش پر درجن بھر ملازمین، پانچ چھ گاڑیاں ،سرکاری وسائل ایک معمول کی بات ھے-۲۰۰۹ میں ایک مغربی ملک میں تعلیم کے حصول کے لئے کچھ وقت گزارنے کے بعد جب واپسی کی تیاری شروع ھوئی تو انتظامیہ نے پوچھا کہ کس دن اور وقت کو ہم ہوٹل سے آپ کو ایئر پورٹ ڈراپ کریں – میں نے ایک عزیز کے گھر کا ایڈریس دیا جو قریب ہی تھا مگر ایئر پورٹ کے راستے میں نہیں تھا- انتظامیہ نے معزرت کر لی کہ یہ ممکن نہیں، ہم صرف ھوٹل سے آپ کو پک کر سکتے ہیں-وہاں سرکاری دفاتر بلکہ کسی بھی دفتر میں نہ چائے پلاتے ہیں، نہ چائے پانی لیتے ہیں-ایک اور موقع پر برسلز ، بلجیئم سے نیٹو ھیڈ کوارٹر کا فیلڈ آفس دیکھنے جانا تھا راستے میں واٹر لو پڑتا تھا ( جہاں نیپولین کو شکست ھوئی)- گروپ نے واٹر لو رکنے کی درخواست کی تو ہمارے گائیڈ نے معزرت کی کہ جب تک ھیڈ کوارٹر سے اجازت نہ لیں یہ ممکن نہیں- ہماری درخواست پر گائیڈ نے ھیڈ کوارٹر سے اجازت لی اور پھر ہم واپسی پر “واٹر لو” رکے-ہم اکثر موازنہ کرتے ہوئے مغربی معاشروں کی ترقی کا حوالہ دیتے ہیں کہ وہ اس طرح ہیں تو ہم کیوںنہیں؟ ان کا نظام تعلم دیکھ لیں ،ان کے ہسپتال، بجلی ، پانی کا نظام دیکھ لیں سب کتنا اعلی ہے– ہم نےکبھی نہی کہا ان کی عوام دیکھ لیں کتنی سلجھی ہوئی ہے، کتنی ذمہ دار ہے، کیسے قانون کی پاسداری کرتیہے–مغرب کی تاریخی حیثیت کا حوالہ مضبوط معیشیت اور اعلی تعلیم ہے– مشرق میں ابھی ابھی پیسہ آیا ہےاور وہ بھی ھمارے ارگرد ہی گھوم رہا ہے ھمارے ھاں نہیں پہنچا- یعنی مشرق کا کچھ حصہ اب جا کر نودولتیا ہوا ہے– ہمارے ہاں کی تعلیم کی حالت اب آپ سے کوئی ڈھکی چھپی تو ہے نہیں ، ہم سب نےاپنی اعلی تعلیم کہاں کہاں حاصل کی ھے وہ ہمارے ڈومیسائل میں درج ھے- زرعی ماحول میں پلے بڑھےتعلیم یافتہ افراد، سکول انے سے پہلے اور سکول سے چھٹی کے بعد، بالترتیب بھینسوں کا دودھ دھو کر آتےتھے اور جا کر چارے کا انتظام بھی کرتے تھے–بات اگر تعلیمی قابلیت کی ھے تو آپ خود اپنا امتحان لے لیں– سوال بنانا ہی نہی آئے گا– یعنی ہمیں اتنابھی شعور نہیں کہ ہم نے پوچھنا کیا ہے– جواب کا تو رہنے ہی دیں– ہمیں ٹوٹل کرنا پڑ جائے تو آج بھی”دو دونی چار”، “تن دونی چھ” کا سہارا لینا پڑتا ہے– درخواست لکھنے کے لئے ”

بخدمت جناب ھیڈ ماسٹر ——” والا فارمیٹ رائج تھا اور آج بھی وہی چل رھا ہے –ہمارے ہاں چیزوں کی کمی نہیں، ہمیں ان کا استعمال نہیں آتا– ہمیں سرکاری اثاثوں کا دریغ نہی ہے– ہمارے بجٹ میں ۲۲۰۰ ارب روپے کی سبسڈی حکومت دیتی ہے– کس کو دیتی ہے وہ الگ معاملہ ہے– حکومتی سطح پر مس گوورننس ہے تو عوامی سطح پر ڈنگ ٹپاؤ – مقابلہ سخت ہے- سب مل کر ریاست کااستحصال کر رھے ہیں اور ساتھ ساتھ الزام تراشیاں کر کے اپنے آپ کو دھوکا بھی دیتے جا رھے ہیں–مغرب نے تو کبھی سوچا بھی نہی ہو گا کہ “گھوسٹ سکول ” کیا ہوتا ہے– ہمارے ہاں دھائیوں سے ایکدو نہیں سینکڑوں ،ھزاروں گوسٹ سکول چل رھے ہیں – پتا نہیں کتنی گھوسٹ ڈسپنسریاں اور رورل ھیلتھ سنٹر دھوکہ دے رھے ہیںاگر مغرب کو بھی پٹواری میسر آ جائے تو انہیں لگ سمجھ جائے کہ معاشرہ بنتا کیسے ہے–سیاست اور ادب میں بڑے بڑے نام ابھی ناپید ھوتے جارھے ہیں– مغرب میں انگلش لٹریچر کو بہتپزیرائی ملی ھے – سٹیفن کنگ ، سٹین لی، پاؤلو کولیھو ، نوم چومسکی، سٹیفن کووی، اور بہت سے دوسروںنے ادب کو سنبھال رکھا ھے–سیاست میں البتہ ان کو ھیرے ملنا شروع ہو گئے ہیں –اتنے منظممعاشرے کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اگر معمولات یا مراعات میں تھوڑا سا خلل بھی آ جائے توپریشان ھو کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں– مضبوط معاشروں کی یہی خوبی ہے کہ انسانی حقوق کا بہت خیالرکھتے ہیں– ھمارے ہاں سیلابی پانی اور مہنگائی کٹی پتنگ کی طرح ہاتھ سے نکل چکی ھے- لیکن مجال ہےحکومت کے کانوں پر جوں بھی رینگے–

گلگت :(انفارمیشن رپورٹ )چلاس شہر کے متصل گاؤں ہوڈر میں ہیلی کاپٹر کریش میں شہید جوان۔میجر عاطف شہید ، میجر فیصل شہید ، نائب صوبیدار مقبول شہید ، حوالدار جہانگیر شہید ، نائیک عامر شہیداللہ تعالیٰ شہداء کی درجات بلند فرمائے آمین









