🚨 وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے، پاکستان تمام عالمی اور دوطرفہ تعلقات کا احترام کرتا ہے، کچھ ممالک نے دہشت گردی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے، دنیا اب ان کے بیانیے پر یقین نہیں کرتی، ہمارے پاس جعفر ایکسپریس پر حملے میں غیر ملکی ہاتھ کے ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن دیکھنا چاہتا ہے، مستحکم افغانستان نہ صرف ہمارے بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے معمول کے تعلقات چاہتا ہے۔ معمول کے تعلقات کے لیے بات چیت اور سفارتکاری کے خواہاں ہیں۔
🚨 انا للہ وانا الیہ راجعون 💔 پاکستان آرمی ایویشن کا MI-17 ہیلی کاپٹر دیامر کے علاقے چلاس (ہدور) میں حادثے کا شکار:حادثے میں پاکستان آرمی کے دو پائلٹس اور 3 ٹیکنیکل اسٹاف کے پانچ افراد شہید ہوۓ ہیں ۔💔شہداء کے نام 🇵🇰میجر فیصل میجر عاطف نائب صوبیدار مقبول حوالدار جہانگیر نائیک عامر اللہ تعالیٰ شہیدوں کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین
🚨 *بھارت نے پاکستان کو دریائے ستلج پر اونچے درجے کے سیلاب سے آگاہ کر دیا*لاہور: وزارت آبی وسائل کے مطابق پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن نے وزارت آبی وسائل کو ستلج میں سیلاب کے بارے میں آگاہ کیا۔وزارت آبی وسائل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دریائے ستلج میں ہریکے زیریں اور فیروزپور زیریں پر اونچے درجے کا سیلاب ہو گا، اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ آج صبح 8 بجے سے ہے۔وزارت آبی وسائل کے حکام نے مزید کہا ہے کہ سیلاب الرٹ سے متعلقہ اداروں اور صوبائی حکومتوں کو جاری کردیا گیا ہے۔ادھر دریائے ستلج کی غضب ناک لہریں بورے والا کی حدود میں تباہی مچانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، سیلاب کے نتیجے میں ایک لاکھ 90 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلہ اس وقت بورے والا سے گزر رہا ہے جو ہر طرف تباہی کی علامت بن چکا ہے۔سیلاب سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے متعدد بند ٹوٹ چکے ہیں جس کی وجہ سے سیلابی پانی ساہوکا تک پہنچ چکا ہے، ہزاروں ایکٹر پر کاشت کی گئی فصلیں، بشمول کپاس، دھان، مکئی اور تل مکمل طور پر دریا برد ہو گئی ہیں۔اس سیلابی ریلے نے کھیتوں کو تباہ و برباد کر دیا ہے اور فصلوں کی تباہی نے کسانوں کے لیے ایک بڑا المیہ کھڑا کر دیا ہے۔
*غربت کے خاتمے اور مشترکہ خوشحالی کا چینی صدر شی جن پھنگ کا ویژن ہمارے لیے مشعل راہ ہے، وزیر اعظم شہباز شریف*وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاک چین دوستی باہمی اعتماد، احترام اور پرخلوص محبت کی بنیاد پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے اور مشترکہ خوشحالی کا چینی صدر شی جن پھنگ کا ویژن ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار چین کی تھیئن جن یونیورسٹی میں فیکلٹی ممبران اور طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور ان کے وفد کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تھیئن جن یونیورسٹی میں موجودگی میرے لیے فخر کا باعث ہے، پہلی بار 2017ء میں ، میں نے اس یونیورسٹی کا دورہ کیا تھا اور پاکستانی اور چینی طلباء سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تھیئن جن یونیورسٹی علم و دانش کی بہترین درسگاہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی تبدیلیاں بھی آتی رہی ہیں لیکن ہماری دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین نے 80 کروڑ سے زائد افراد کو خط غربت سے نکالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی کامیابی اور دنیا کے لیے ماڈل ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت اور ان تھک محنت قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، ہمیں چین کے ماڈل سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 30 ہزار کے قریب پاکستانی چین میں زیر تعلیم ہیں، ہمیں نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا ہے۔
سب کچھ بدلا لیکن ہماری گوورننس کا طریقہ نہ بدلا- گوورننس آج بھی ایک ہاتھ دو، ایک ہاتھ لو کے کلیے پر عمل پیرا ھے-سیاست، ریاست کی ترقی اور استحکام کا پہلا زینہ ہے- جب کھانا بنانے والی ھانڈی کا پیندہ ہی نہیں تو کھانا کیسے بنے گا- ہمارے ہاں پچھلے اٹھتہر برسوں میں صرف سیاسی عدم استحکام کو استحکام حاصل ھے – جب پیندہ ہی ٹوٹ گیا تو سیاسی ہانڈی کیسے پکی گی-جس طرح زمیں سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے اور لگاتی جا رہی ھے، اسی طرح ہم افراتفری اور ابتر حالات کے گرد ، سردائی پی کر، اندھا دھند دھمال ڈالتے جا رہے ہیں- گوورننس اور عوامی مزاج mutually exclusive ہیں-باہر سے کچھ نہیں آیا- ہم ایک مکمل extractive سسٹم میں بند ہیں- اسی لئے ملک میں صرف افراتفری کو استحکام حاصل ہے-سیرالیون افریقہ کے جنوب میں ،ھیرے کی کانوں کی وجہ سے مشہور ، ملک ھے جو اپنی ملکی قیادت کی نااھلی کی وجہ سے غریب ترین ملکوں میں شمار ہوتا ھے-
دو دھائیاں قبل اقوام متحدہ کی فوج کا حصّہ بن کر وہاں جانے کا اتفاق ہوا- کوئیڈو شہر کے دو اطراف ھزاروں لوگ دن بھر ھیرے کھودتے نظر آتے اور غیر ملکی ان سے کوڑیوں کے بھاؤ ھیرے خرید لیتے- اتنی غربت تھی کہ لوگ دو وقت کا کھانا کھانے سے معزور تھے- وجہ صرف نا اھل قیادت-ہمارے ہاں مس گوورننس کی بنیادی وجہ ہماری ادھوری معلومات، محظ سیاسی بیان بازی، تجزیے اور زرخیز سوچ کی کمی ھے- لگے بندے چار پانچ سیاسی ٹوٹکے ہیں جن کا ہم باقاعدگی سے استعمال کرتے آ رھے ہیں-مغلیہ سلطنت کی تباھی اور پر رونق گورننس کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ ان کو چَس اور کام کرنے کے فرق کا بہت جلد علم ہو گیا – اکبر کے زمانے سے فتوحات کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ اورنگزیب پر آ کر ختم ہو گیا-
مغلیہ شہزادے جنگوں کی سختیوں کے عادی نہ رہے -وہ بھانپ چکے تھے کہ جنگیں لڑنا ان کے بس کی بات نہیں- عافیت اسی میں ھے کہ دن کو سو جاؤ اور فریش ھو کر رات کی تاریکی میں محفل سجاؤ- کو جاگو جائے- اس زمانے میں کیونکہ انٹر نیٹ کی سہولت نہیں تھی، اس لئے طبلے اور گھنگرو سے کام چلاتے تھے- محمد شاہ رنگیلا نے گوورنس کو کچّے ٹریک پر ڈال کرگوورننس کے کس بل درست کئے اور بالاخر معاملات نادر شاہ سے ھوتے ایسٹ انڈیا کمپنی کے سپرد کر کے سر خرو ھوا- سیاست، گوورننس، تجارت ہر جگہ یہی منصوبہ بندی کی جاتی ہے کہ عام آدمی کی آنکھوں میں دھول کیسے جھونکنی ہے- عام آدمی کو دھوکہ دینے کےایسے ایسے طریقے استعمال کئے جا رھے ھیں کہ عقل دنگ رھ جاتی ھے۔ کسی نے بیگانگی کی حد دیکھنی تو ہمیں دیکھ لے-
دنیا کے تمام مسائل ، پریشانیوں اور خطروں سے بے نیاز ہم علیحدہ قسم کے پیچے ڈال کے بیٹھے ہوئے ہیں- کبھی اُدھر سے بُو کاٹا کی آواز آتی ہے کبھی اِدھر سے-بسنت کا سماں ہے-پچیس سال سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، 2005 کا زلزلہ، 2010 اور 2022 کے سیلاب، تھر کی خشک سالی، آبی وسائل کی کمی،
گیس کے تقریبا ختم ہوتے ہوئے وسائل، آئی پی پیز کے معاملات ،معدنیات سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت کا فقدان، انفارمیشن کی بدلتی صورتحال نے گوورننس کو اتنا پیچیدہ بنا دیا ھے کہ ہمارے معجزاتی تبدیلیاں درکار ہیں-
*جہاز کے عملہ نے سعودی شہر ینبوع سے 40 نائیکل میل دور میزائل حملے کی اطلاع دی**جہاز کا تمام عملہ محفوظ اور سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ۔برطانوی میری ٹائم ایجنسی*
صدر آصف علی زرداری نے انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دے دینیا قانون سکیورٹی اداروں کی دہشت گردی روکنے کی صلاحیت مضبوط بنائے گاقانون میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا گیا ہےبل میں تین سالہ سن سیٹ کلاز شامل ہے، تاکہ مدت محدود رہےقانون میں عدالتی نگرانی اور حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیںیہ قانون پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اہم قدم ہے
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دورہ چین*وزیراعظم محمد شہباز شریف چین کے شہر تیانجن پہنچ گئے وزیراعظم محمد شہباز شریف اپنے اس دورے میں تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس اور بیجنگ میں چینی عوامی جنگ کی فتح کی 80ویں سالگرہ اور دیگر سرکاری مصروفیات میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم کے ساتھ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی ڈاکٹر احسن اقبال، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور اعلیٰ سرکاری افسران شامل ہیں۔
چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کی سی پی سی کمیٹی کی منسٹر اور سیکریٹری سن میجن(Sun Meijun) اور تیانجن میونسپل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اور پارٹی سیکریٹری یو یونلن (Yu Yunlin)، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ ذائیڈونگ اور چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے تیانجن ائیرپورٹ پر وزیراعظم کا استقبال کیا۔وزیر اعظم 31 اگست 2025 سے 01 ستمبر 2025 تک ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے کونسل آف ہیڈز سمٹ میں شرکت اور خطاب کریں گے۔ دورے کے دوران وزیراعظم صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کیانگ سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔
اس دورے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف چین کے ممتاز کاروباری اداروں کے سربراہان سے بات چیت کریں گے اور 4 ستمبر 2025 کو بیجنگ میں منعقد ہونے والی دوسری پاک چین B2B سرمایہ کاری کانفرنس کی صدارت بھی کریں گے تاکہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے نئی راہیں تلاش کی جا سکیں۔وزیراعظم شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں موجود دیگر ممالک کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔
ایک درد ناک خبر پڑھنے اور سننے کے منتظر “بے حس” لوگخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تعزیتی کالم ،مضامین اور رنج والم کے واقعات چوہدری شجاعت حسین پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے اپنے منصب کی مدت ( تین ماہ) مکمل کی 27 جنوری 2026 کو ملک کے ممتاز سیاستدان وزارت عظمی اور دو مرتبہ وزارت داخلہ کے منصب پر فائز رہنے اور پاکستان کی سیاست کے تاریخی کردار چوہری شجاعت حسین 27 جنوری 2026 کو 85 سال کے ہو جائیں گے دیگر خوبیوں کے ساتھ ساتھ اپنی وضعداری ،تعلق نبھانے اور وسیع دسترخوان کے حوالے سے بھی ان کا تذکرہ ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا
چوہری شجاعت حسین گزشتہ کچھ عرصے سے شدید بیماری کے باعث پس منظر میں اس لیے بھی ہیں کہ ان کی طویل بیماری معزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے اور ان کی نقل و حرکت ان کے بستر تک محدود ہو چکی ہے ل لیکن یہ امر باعث افسوس ہی نہیں بلکہ بے حسی کے مترادف بھی ہے کہ اس تمام عرصے میں ان کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی خبر تو دور کی بات ان کی طبیعت کے بارے میں اور عیادت کرنے والوں کے حوالے سے بھی کوئی خبر منظر عام پر نہیں ارہی ان کے ہلکے سے بخار اور تھکن کو بھی اخباروں میں سرخیاں بنانے والے اور کالمز لکھنے والے بھی بادی النظر میں قطعی طور پر ان سے لا تعلق نظر اتے ہیں” ہر ماہ باقاعدگی سے” ان کے در دولت پر حاضری دینے والے ان سے دوری اختیار کر چکے ہیں جنرل پرویز مشرف کے دور حکمرانی میں جب بلوچستان کے ایک باکردار سیاستدان میر ظفر اللہ خان جمالی کو وزارت عظمی کے منصب سے ہٹانے اور ان کی جگہ شوکت عزیز کو ملک کا وزیراعظم بنانے کا فیصلہ ہوا تو تین ماہ کے درمیانی عرصے کے لیے چودھری شجاعت حسین کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ ہوا اس طرح انہوں نے 30 جون 2004 کو وزیراعظم کا حلف اٹھایا اور ٹھیک 20 اگست کو تین ماہ مکمل ہونے کے بعد انہیں اس ذمہ داری کو خیر باد کہنا پڑا اس طرح ازراہ تفنن یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ چوہدری شجاعت پہلے وزیراعظم تھے جنہوں نے اپنے منصب کی مدت مکمل کی۔۔۔۔۔۔ اور شوکت عزیز نے وزیراعظم پاکستان کی ذمہ داریوں کا حلف اٹھا لیا اپنی ہنگامہ خیز سیاسی زندگی کے حوالے سے چوہدری صاحب نے” سچ تو یہ ہے” کہ عنوان سے اپنے یادداشتوں کو کتابی شکل بھی دی ہے جس میں پاکستان کی سیاست میں سازشوں منافقتوں اور اقتدار و اختیار کے حصول کے لیے سیاست دانوں اور حکمرانوں کے کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے چشم کشا انکشافات کیے ہیں 2020 میں روزنامہ جنگ میں ملک کے نامور سیاست دانوں کی اسیری کے مصائب اور شب و روز پر مشتمل “جیل کہانی “کا سلسلہ شروع کیا
جو بے حد مقبول ہوا اس میں چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی کی اسیری کی داستان بھی شامل تھی اس وقت جنگ پنڈی کے ایڈیٹر رانا طاہر تھے ان کے ہمراہ چوہدری شجاعت حسین صاحب سے طویل ملاقات ہوئی…….. لیکن یہ کہانی اور اس کی تفصیلات پھر کبھی۔۔۔ اس وقت عرض کرنا یہی مقصود تھا کہ اللہ تعالی چوہدری صاحب کو مکمل صحت کاملہ اور عاجلہ عطا فرمائے اور اس کے ساتھ ساتھ طویل زندگی بھی ان کی صحت اس حد درجے گر چکی ہے
کہ انہیں اب دواؤں کی نہیں صرف دعاؤں کی ضرورت ہے ان سے کئی دہائیوں سے تعلق رکھنے والے اپنے صحافی دوستوں اور احباب سے بالخصوص اور چوہدری خاندان کے وسائل اور اختیارات سے استفادہ کرنے والے ماضی کے ان رفقاء سے درخواست ہے جنہوں نے تعزیتی مضامین ،کالمز اور چوہدری صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے کی تیاریاں کر رکھی ہیں وہ چوھدری صاحب کی عیادت کے لیے ان سے رابطے میں رہیں ان کی خبر گیری اور دلجوئی کریں بقول خود چوہدری صاحب کے” مٹی پاؤ ” کا انتظار نہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بریگیڈیئر حسن صاحب کے ضبط کی انتہا دیکھنے کے قابل تھی۔ چہرہ پتھر کا لگ رہا تھا مگر دل کے اندر ایک باپ ٹوٹ کر بکھر رہا تھا۔ بیٹے کو مٹی کے سپرد کرنا کوئی معمولی بات نہیں، یہ لمحہ کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا۔گھر میں شادی کی تیاریاں مکمل تھیں۔ ماں کے ہاتھوں میں مہندی کے رنگ سجنے کو تھے، اور پورے گھر میں خوشیوں کا سماں تھا۔ لیکن وہ لعل، جو ماں کا سہارا اور باپ کا فخر تھا، وطن کی مٹی پر اپنی جان قربان کر گیا۔ سہرا تو نہ بندھا، مگر شہادت کا کفن اوڑھ کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ذرا سوچو! وہ لمحہ کیسا ہوگا
جب ایک ماں اپنے بیٹے کی شادی کے ارمان دل میں لیے بیٹھے اور اچانک وہی بیٹا تابوت میں لپٹا واپس آئے۔ وہ باپ کیسا ہوگا جو فوجی وردی میں ڈیوٹی بھی دے رہا ہوں اور بیٹے کے جنازے کو کندھا بھی؟اے وطن کے نوجوانو! تم شاید کبھی نہ سمجھ سکو یہ درد کیسا ہوتا ہے۔ یہ قربانی صرف ایک گھرانے کی نہیں، یہ قربانی ہم سب کی آزادی کی ضمانت ہے۔ ان آنسوؤں کے پیچھے ایک فخر چھپا ہے
، وہ فخر جو پاکستان کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔یہی وہ خون ہے جس پر یہ زمین قائم ہے، یہی وہ قربانیاں ہیں جو ہمیں جھکنے نہیں دیتیں۔سلام ہے ان شہیدوں کو اور سلام ہے ان والدین کو جنہوں نے اپنے خواب وطن پر قربان کر دیے۔ 🇵🇰💖💖
: 29 اگست، 2025*وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ* وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر عزت مآب ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کا ٹیلی فونک رابطہ۔ صدر پیزیشکیان نے پاکستان کے مختلف حصوں میں سیلاب پر پاکستانی عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ایرانی صدر نے حالیہ سیلاب میں جانی و مالی نقصان پر متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس مشکل وقت میں پاکستان کے برادر عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ وزیر اعظم نے صدر پیزشکیان کی جانب سے ہمدردی و یکجہتی کے اظہار اور ایران کی طرف سے دکھ اور تکلیف کی اس گھڑی میں اظہار یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے ایرانی صدر کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کیلئے گہرے احترام اور نیک خواہشات کا پیغام دیا۔ دونوں رہنماؤں نے چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کے موقع پر متوقع ملاقات و گفتگو کے حوالے سے مثبت خیالات کا بھی اظہار کیا۔
🚨 ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کے لیے 30 لاکھ ڈالر ہنگامی امداد کا اعلانجو سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی پر خرچ ہونگے🚨 ⚠️دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر سیلاب بلند ترین سطح پر پہنچ گیا گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بہاؤ 3 لاکھ 85 ہزار لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیاجو پچھلی 3 دہائیوں میں بلند ترین سطح ہے قصور اور ملحقہ علاقوں میں خطرناک سیلابی صورتحال🚨 Update:دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر بہاو میں اضافہ (180410 کیوسک) اور انتہائی اونچے درجے کا سیلاب
:دریائے ستلج قصور میں 1955ء کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا پانی آیا ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اےہمیں اس وقت قصور شہر کو بچانے کا چیلنج درپیش ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اےشاہدرہ، لاہور سے خطرے والی بات ختم ہوگئی ہے اور پانی کی سطح کم ہوگئی ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اے