
*‼️اپڈیٹ**کُرم سیکٹر* *افغانستان سے پاکستان میں در اندازی کےناقابل تردید شواہد*اپر کُرم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کامیابی،مسلح افغان خارجی گرفتارکرلیا۔ *سیکیورٹی ذرائع*افغانستان سے دراندازی کرنے والی دہشت گرد تشکیل کا ایک مسلح خارجی گرفتار، جبکہ باقی بارڈر کراس کرنے میں ناکام۔ *سیکیورٹی ذرائع*گرفتار خارجی کی شناخت قاری وقاص عرف قدوس کے نام سے ہوئی، جس کا تعلق اسپین غرافغانستان سے ہے، *سیکیورٹی ذرائع*گرفتار افغان خارجی نے دورانِ تفتیش خارجی کاظم گروپ میں شمولیت کے لیے پاکستان میں داخل ہونے کا انکشاف کیا، *سیکیورٹی ذرائع*تلاشی کے دوران گرفتارافغان خارجی قاری وقاص کے قبضے سے ایک سب مشین گن، چار میگزین اور 88 گولیاں برآمد کی گئیں، *سیکیورٹی ذرائع*افغان خارجی کے قبضے سے مختلف مقامات اور بم بنانے کی تکنیک سے متعلق نوٹس پر مشتمل نوٹ بک بھی برآمد ہوئی، *سیکیورٹی ذرائع*افغان خارجی قاری وقاص سے تفتیش جاری ہے، *سیکیورٹی ذرائع*

سرکاری اور عدالتی قانون کے تحت ایک جرم میں دو سزائیں نہیں دی سکتیں۔ ایسے ہی کسی ایک کام پر انسان دو مراعات نہیں لے سکتا۔ آپ نے منگلہ ڈیم کی زمین کے بدلے پاکستان میں جائیدادیں نوکریاں اور یو کے کے ویزے لیے جس کی وجہ سے چند گندے خون کی اولادیں آج یوکے میں بیٹھ کر اپنے محسنوں کو گالیاں دے رہی ہے۔ آپ نے پاکستان کی یونیورسٹوں کالجوں میڈیکل کالجوں سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ حاصل کیا۔یو کے جا کر چند ایک گاو موتر والے کے ایجنٹ بن گے۔ کیونکہ ویسے بھی مشہور ہے کہ چند ایسے نمک حرام خاندان رہے ہیں جو پیسے کے لیے سب کچھ کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے تقریبا ہر محکمے میں چند ایسے کشمیری افراد رہے جو فراڈ کر کے بھاگے اور جا کر پہاڑوں پر پناہ لی وہی آج کشمیر میں فسادات کروا رہے ہیں۔ جبکہ لاکھوں کشمیری ہمارے سر کے تاج ہیں۔جن کے لیے ہم نے مل کر جہدوجہد کی۔ ڈھاڈر جیسے چھوٹے سے گاؤں کے ایک محلے میں۔ میرے ہمساۓ کا جوان بیٹا کشمیر میں شہید ہوا۔۔ اس کی ماں کی انکھوں میں مقبوضہ کشمیر کو آزاد دینے کا خواب آج بھی بسا ہے۔ پاکستان کے ہر گاوں دیہات میں ایسے کئی جوان شہید دفن ہیں جنھوں نے اپنی کشمیری بہنوں کی عزتوں کی حفاظت کو جان قربان کی کیا وہ کشمیر کا ڈومیسائل لینا اور وہاں جائیداد لینے کو شہید ہوئے؟ لیکن اب اگر چند گاو موتر کے ایجنٹ نمک حرامی بن گے ہیں تو ہمیں بھی حق ہے کہ اپنے شہید جوانوں کی پاکیزہ روحوں کو یہ خسش خبری دیں کہ اب ہم اور کشمیری پکے بھائی بھائی ہیں۔۔ میں اپنے بھائیوں پر فخر تھا فخر ہے۔۔۔ اسی کشمیر نے ہمیں بہترین سپاہی کھلاڑی سیاست دان اور جنرل دیے۔ مگر یوکے جا کر پیسے کے لیے مذہب تک بدلنے والوں کی اگلی نسل ایسی نمک حرام نکلی کہ اپنے محسنوں بلکہ پاکستان سے مخلص اپنے ہی بھائیوں پر گولیاں چلانے لگی۔ یہ اب کسی صورت برداشت نہ ہوگا۔۔ کشمیری ہمارے بھائی ہیں۔ اب انھیں مکمل طور پر پاکستانی کا اسٹیٹس دینا ہوگا۔ مہاجر یا ریاست کا تصور انڈیا ختم کر چکا۔ یو این او نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا تو اس کا مطلب ہے کہ دنیا راضی ہے کہ پاکستان بھی ایسا کرے۔

کشمیر ہماری شہہ رگ تھا ہے اور رہے گا۔۔ اس کے مخلص ہمدرد اور جانثار لوگ ہمارے سر کا تاج ہیں لیکن یہ کسی صورت برداشت نہیں ہوگا کہ چند گاو موتر کے ایجنٹس پوری آبادی کو یرغمال بنا کر گاو موتر پالیسی سب پر مسلط کریں۔یہ یاد رکھا جاے کہ جو بناتے ہیں وہ مٹانا بھی جانتے ہیں ہم نے ہی تمہیں یوکے یورپ کا دیدار کروایا ورنہ تم آج بھی جنگل میں بکریاں چرا رہے ہوتے۔۔۔ اب منگلہ ڈیم کے بدلے سن ساٹھ میں مراعات لینے کے بعد اب مفت کا آٹا اور بجلی کس قانون کے تحت دی جا رہی ہے؟کوئٹہ شہر کے ایک بلوچ خاندان نے سن ساٹھ میں، مین روڈ پر کم از کم دس ایکڑ زمین چار ہزار روپے بھی بھیجی تھی تو کیا آج اس کی اولاد اٹھ کر مفت آٹا اور بجلی کا منصوبہ لا کر فساد شروع کر دے؟ بات سیدھی ہے کشمیر کی انفرادی حیثیت ختم ہونی چاہیے۔ جیسے انھیں پاکستان بھر میں جائیداد لینے نوکری کرنے اور ڈومیسائل رکھنے کے حقوق ہیں ویسے ہی دیگر پاکستانیوں کو ہونے چاہیے۔ دو بھائی آخر کب تک الگ الگ رہیں گے۔۔پھر ایک بھائی مہنگائی میں پسا ہو اور دوسرا مفت آتا بجلی لے کر پراٹھے کھاے۔ جانوروں کے باڑے میں ساری ساری رات بجلی کے ہیٹر جلیں۔کیا اس سے قبل کشمیر میں جانور نہ تھے؟ تو اب یہ مفت کی مستی صرف اس لیے کہ مفتا مل رہا ہے کھاو موج کرو۔۔۔تمام دوستوں سے التماس ہے کہ میری تحریک۔کشمیر کی انفرادی حیثیت ختم کرو” پالیسی کا حصہ بنیں اور بڑھ چڑھ کر پوسٹیں لگائیں تا کہ اقتدار کے ایوانوں تک میری آواز پہنچے۔۔ ایک اور اہم مسلہ یہ ہے پوٹھوار اور پنجاب سے شیر شاہ سوری کے ڈر کر کشمیر کے پہاڑوں میں چھنےوالے بھگوڑے آج کشمیریوں کے لیڈر بنے ہیں ان بزدلوں کو کشمیری اپنی صفوں سے نکالیں ان کا خون ہی بزدل ہے یہ آپ کو بھی ایک دن خراب کریں گے۔۔ باقی پی ٹی آئی والے تو گاو موتر سے افغانستان تک۔۔ آئی ایم ایف سے ازا عیل تک ہر پاکستان دشمن کا ساتھ دے چکے۔۔ ان کی تو نسلوں کو انشاءاللہ خدا مسجد نبوی کی توہین پر تا عمر ذلیل کرے گا انشاءاللہ۔۔ وہ جس کا بھی ساتھ دیتے ہیں وہ اللہ پاک کے کرم سے ذلیل ہو جاتا ہے۔۔ وہ کوئی جج ہو یا ٹرمپ۔۔ ذلالت اس کا مقدر ہے۔۔ وہ اپنا زور لگا لیں۔۔ باقی یوکے میں گاو موتر والوں کے پیسوں پر مذہب اور شناخت بدلنے والے سر سے نیچے تک کا زور لگا لیں۔۔ پوسٹیں رپورٹ کریں۔ گالیاں دیں۔۔۔انشاءلله وہ دن دور نہیں جب تم جیسے گاو موتر کے ایجنٹ شرمندہ اور ذلیل ہو گے اور ہمارے ہمدرد مخلص اور سچے کشمیری ہمارے سر کے تاج ہوں گے ہم بھائی ملکر رہیں گے انشاءاللہ ۔محمد وسیم شاہد

منتخب منصوبوں پر شاہانہ وسائل، ٹھیکیداروں کے ایک ارب روپے سے زائد واجبات منجمد! عبدالعلیم خان اور علی شیر محسود کی وزارتِ مواصلات میں اختیارات، اخراجات اور مالیاتی ترجیحات پر سنگین سوالاتوزیراعظم کے تمام جاری منصوبوں کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا حکم، نتائج کہاں ہیں؟ مارگلہ لنک روڈ کے مبینہ 70 ارب روپے، پارک ویو کے سامنے این-5 پر دو ارب کے اخراجات اور ٹھیکیداروں کی ادائیگیوں میں تعطل کی تحقیقات کا مطالبہتحریر: رانا تصدق حسیناسلام آباد: وزارتِ مواصلات اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں انتظامی اختیارات کے مبینہ ارتکاز، ترقیاتی فنڈز کے غیر واضح استعمال اور ٹھیکیداروں کے ایک ارب روپے سے زائد تصدیق شدہ واجبات کی طویل بندش نے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور قائم مقام وفاقی سیکریٹری علی شیر محسود کے انتظامی کردار کو کڑی جانچ پڑتال کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف ٹھیکیدار اپنے تصدیق شدہ عبوری ادائیگی سرٹیفکیٹس (IPCs) کے حصول کے لیے دربدر ہیں، دوسری طرف وزیراعظم کے ترجیحی منصوبوں پر این ایچ اے کے اعلیٰ انتظامی اور انجینئرنگ وسائل کے مبینہ غیر معمولی ارتکاز اور اربوں روپے کے متنازعہ اخراجات نے مالیاتی ترجیحات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔یہ محض ٹھیکیداروں اور ایک سرکاری ادارے کے درمیان ادائیگیوں کا معمولی تنازع نہیں رہا، بلکہ اب معاملہ اس بنیادی سوال تک پہنچ چکا ہے کہ قومی شاہراہوں کے اربوں روپے کے ترقیاتی وسائل، انتظامی اختیارات اور مالیاتی منظوریوں کا اصل کنٹرول کس کے پاس ہے؟ اگر ٹھیکیداروں کے کام این ایچ اے کی مجاز تکنیکی ٹیمیں ناپ، جانچ اور تصدیق کر چکی ہیں تو ان کے واجبات کس کے حکم پر روکے گئے ہیں؟ اور اگر ایک جانب ادائیگیوں کے لیے وسائل دستیاب نہیں تو دوسری جانب مخصوص منصوبوں پر غیر معمولی مالیاتی سرگرمیوں کی بنیاد کیا ہے؟وزیراعظم کا تمام جاری منصوبوں کے آڈٹ کا حکم، عمل درآمد کہاں اور نتائج کس نے روک رکھے ہیں؟اس پورے معاملے کا سب سے اہم پہلو وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے این ایچ اے کے تمام جاری منصوبوں کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت ہے۔6 اور 7 اکتوبر 2026 کو وزیراعظم ہاؤس میں این ایچ اے کے امور پر منعقدہ جائزہ اجلاس میں وزیراعظم نے تمام جاری منصوبوں کا آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے فروغ کے لیے حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی تھی۔اس سے قبل بھی وزیراعظم کی ہدایات پر وزارتِ منصوبہ بندی نے این ایچ اے کے تحت 70 ملین روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کی تھرڈ پارٹی جانچ کا عمل شروع کیا تھا۔مزید برآں، این ایچ اے نے 2021 سے 2025 تک کے روڈ مینٹی نینس منصوبوں کے آڈٹ کے لیے میسرز انجینئرنگ کنسلٹنسی سروسز پنجاب (ECSP) پرائیویٹ لمیٹڈ کو سب سے موزوں بولی دہندہ قرار دیا تھا، تاکہ تعمیراتی و مرمتی کام کے معیار اور ان پر خرچ ہونے والی رقوم کی جانچ کی جا سکے۔یہ تین الگ الگ آڈٹ اقدامات ہیں، جنہیں ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے دائرۂ کار، تکمیل اور نتائج کی الگ الگ تفصیلات سامنے لانا ضروری ہیں۔اب سوال یہ ہے:- کیا وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق تمام جاری این ایچ اے منصوبوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ مکمل ہو چکا ہے؟- کیا ECSP نے 2021 تا 2025 کے مینٹی نینس منصوبوں کا آڈٹ مکمل کر لیا ہے؟- کیا کسی مالیاتی، انتظامی یا تکنیکی بے ضابطگی کی نشاندہی ہوئی؟- کیا رپورٹس وزیراعظم آفس اور متعلقہ مجاز اداروں کو پیش کی جا چکی ہیں؟- اگر نتائج مرتب ہو چکے ہیں تو انہیں عوامی اور پارلیمانی نگرانی سے اوجھل رکھنے کی وجہ کیا ہے؟وزیراعظم کے واضح احکامات کو محض اجلاس کی کارروائی اور سرکاری پریس ریلیز تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور قائم مقام سیکریٹری علی شیر محسود کو بتانا ہوگا کہ ان احکامات پر کتنا عمل ہوا اور اگر پیش رفت نہیں ہوئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ایک ارب روپے سے زائد کے تصدیق شدہ واجبات منجمد: ٹھیکیداروں کو مالی سزائیں کیوں؟این ایچ اے کے ٹھیکیداروں کا دعویٰ ہے کہ ایک ارب روپے سے زائد کے تصدیق شدہ عبوری ادائیگی سرٹیفکیٹس (IPCs) کئی ماہ سے روکے ہوئے ہیں، حالانکہ متعلقہ کام کی پیمائش، انجینئرنگ جانچ، مانیٹرنگ اور معائنہ مکمل کیا جا چکا ہے۔اس مبینہ تعطل نے ٹھیکیداروں کو بینکوں کے قرضوں، بھاری مالیاتی اخراجات، کاروباری سرگرمیوں کی بندش، ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر معاہداتی ذمہ داریوں کے سنگین بحران سے دوچار کر دیا ہے۔اگر این ایچ اے کی اپنی مجاز تکنیکی تشکیل کام کی تکمیل اور ادائیگی کی تصدیق کر چکی ہے تو پھر ادائیگی روکنے کا تحریری حکم کس نے دیا؟ کیا کوئی قانونی اعتراض موجود ہے یا محض انتظامی صوابدید کے ذریعے معاہداتی واجبات کو غیر معینہ مدت کے لیے منجمد کر دیا گیا ہے؟وزارتِ مواصلات اور این ایچ اے انتظامیہ کو فوری طور پر درج ذیل ریکارڈ سامنے لانا چاہیے:1. تمام زیرِ التوا تصدیق شدہ IPCs کی منصوبہ وار اور ٹھیکیدار وار تفصیلات اور مجموعی مالیت۔2. سرٹیفکیٹس جمع ہونے، جانچ، تصدیق اور ادائیگی روکنے کی تاریخیں۔3. متعلقہ افسران اور شعبوں کی نشاندہی جو ادائیگیوں کی کارروائی کے ذمہ دار ہیں۔4. تصدیق شدہ معاہداتی واجبات روکنے کے تحریری قانونی اور مالیاتی جواز۔5. آیا مختص فنڈز دوسرے منصوبوں کو منتقل یا دوبارہ مختص کیے گئے؟6. آیا یکساں حیثیت رکھنے والے دیگر ٹھیکیداروں کو ادائیگیوں میں ترجیح دی گئی؟اگر ایک طرف تصدیق شدہ واجبات ادا نہیں کیے جا رہے اور دوسری طرف مخصوص منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی جاری ہے تو یہ محض انتظامی تاخیر نہیں بلکہ ممکنہ امتیازی سلوک، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالیاتی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا معاملہ بن جاتا ہے۔این ایچ اے کے جنرل منیجرز اور انجینئرز مخصوص منصوبوں کے لیے مختص، ادارے کا معمول کا نظام کس کے حوالے؟ایک اور اہم سوال این ایچ اے کے سینئر انتظامی اور انجینئرنگ افسران کی وزیراعظم کے ترجیحی منصوبوں پر مبینہ خصوصی تعیناتیوں کا ہے۔کتنے جنرل منیجرز، چیف انجینئرز، ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور دیگر انجینئرنگ افسران ان منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے؟ ان کے نام، بی پی ایس گریڈ، ذمہ داریاں اور تعیناتی کے مجاز احکامات کہاں ہیں؟کیا یہ تعیناتیاں این ایچ اے کے مجاز فورمز کی منظوری سے ہوئیں یا انتظامی اختیارات کے تحت مخصوص منصوبوں کو غیر معمولی ترجیح دی گئی؟ترجیحی منصوبوں کی تکمیل اپنی جگہ اہم ہے، لیکن کیا اس کے لیے پورے ادارے کے انتظامی اور تکنیکی وسائل کا توازن متاثر کرنا ضروری تھا؟ کیا علاقائی دفاتر، تعمیراتی و مرمتی شعبوں، آپریشنز، نگرانی اور ادائیگیوں کے نظام کو تجربہ کار افسران سے محروم کیا گیا؟حکام کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا:- کتنے اعلیٰ افسران خصوصی طور پر تعینات ہیں اور ان کے متعلقہ گریڈ کیا ہیں؟- ان کی تعیناتیوں کی منظوری کس مجاز اتھارٹی نے دی؟- کیا انہیں اضافی الاؤنس، گاڑیاں، رہائش اور دیگر مالی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں؟- ان انتظامات پر مجموعی سرکاری اخراجات کتنے ہیں؟- معمول کے علاقائی اور آپریشنل کاموں کی نگرانی کس کے سپرد ہے؟- ٹھیکیداروں کی تصدیق شدہ ادائیگیوں کی منظوری اور پراسیسنگ کون کر رہا ہے؟- کیا وزیراعظم کے حکم پر ہونے والے تھرڈ پارٹی آڈٹ میں ان تعیناتیوں اور ان کے مالیاتی اثرات کو بھی شامل کیا گیا ہے؟یہ طے ہونا چاہیے کہ این ایچ اے کی افرادی قوت قومی شاہراہوں کی مجموعی ضروریات کے مطابق استعمال ہو رہی ہے یا ادارے کے وسائل مخصوص منصوبوں کے گرد مرتکز کیے جا رہے ہیں، جبکہ دیگر منصوبوں کے ٹھیکیدار اپنے جائز واجبات کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔مارگلہ لنک روڈ: 4.1 ارب کا معاہدہ، 6.681 ارب کی منظور شدہ لاگت اور مبینہ 70 ارب روپے کا معمہ!تقریباً 2.7 کلومیٹر طویل مارگلہ لنک روڈ، جو چنگی نمبر 26 کو موٹروے ایم ون سے ملاتی ہے، مالیاتی تنازعے کا سب سے حساس معاملہ بن چکی ہے۔ٹھیکیداروں نے الزام عائد کیا ہے کہ وفاقی وزیر سے منسوب متنازعہ احکامات کے تحت اس منصوبے کے لیے تقریباً 70 ارب روپے جاری کیے گئے، جبکہ منصوبے کی مبینہ دستاویزی مالیاتی تفصیلات اس سے یکسر مختلف ہیں۔- 6.681 ارب روپے: مکمل لنک روڈ کی مبینہ منظور شدہ لاگت۔- 4.2 ارب روپے: مبینہ پی سی ون لاگت۔- 4.1 ارب روپے: نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (NLC) کو دیا گیا مبینہ معاہدہ۔- 70 ارب روپے: ٹھیکیداروں کی جانب سے متنازعہ احکامات کے تحت جاری کیے جانے کا الزام۔ان اعدادوشمار کے درمیان فرق معمولی نہیں۔ اگر 70 ارب روپے واقعی جاری ہوئے تو اس کی منظوری کس نے دی؟ رقم کس مد میں جاری ہوئی؟ کس ادارے یا کن ٹھیکیداروں کو ادائیگی کی گئی؟ اور اس کا استعمال کہاں ہوا؟کیا منصوبے کا نظرثانی شدہ پی سی ون منظور کیا گیا؟ کیا اضافی کاموں یا معاہداتی تبدیلیوں کی مجاز اتھارٹی سے منظوری لی گئی؟ کیا اضافی مالی ذمہ داریوں کے لیے متعلقہ فورمز کی اجازت حاصل تھی؟اس معاملے میں اصل پی سی ون، نظرثانی شدہ تخمینوں، انتظامی و مالیاتی منظوریوں، فنڈ ریلیز آرڈرز، معاہداتی ترامیم، ادائیگیوں اور استعمال کے سرٹیفکیٹس کا مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے آنا چاہیے۔وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور قائم مقام سیکریٹری علی شیر محسود کو اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں کیے گئے فیصلوں کی وضاحت کرنا ہوگی۔

اگر 70 ارب روپے کے مبینہ اجرا کی تصدیق ہوتی ہے اور وہ منظور شدہ لاگت و قانونی منظوریوں سے مطابقت نہیں رکھتا تو نیب اور ایف آئی اے کو آزادانہ تحقیقات کرکے ذمہ داران کا تعین کرنا چاہیے۔پارک ویو کے بالمقابل این-5 پر دو ارب روپے کے اخراجات: سینیٹ کی نگرانی، 551 ملین روپے کا حساب کون دے گا؟قومی شاہراہ این-5 پر ٹھوکر نیاز بیگ سے حیدرہ پل کی جانب تقریباً پانچ کلومیٹر طویل حصے، جو پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے بالمقابل واقع ہے، پر تقریباً دو ارب روپے کے مبینہ اخراجات نے بھی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اس معاملے میں اخراجات اور ان کے جواز سے متعلق سوالات کا جائزہ لے رہی ہے۔دستیاب بتائی گئی تفصیلات کے مطابق:کام کی نوعیت| مبینہ لاگتیوٹرن کی تعمیر| 4.01 ملین روپےسڑک کی مرمت| 105 ملین روپےاسٹریٹ لائٹس| 137 ملین روپےروڈ سیفٹی اقدامات| 241 ملین روپےسڑک کی توسیع| 671 ملین روپےپل کی توسیع| 291 ملین روپےمجموعی اخراجات| 1,449 ملین روپےان تمام مدات کا مجموعہ تقریباً 1.449 ارب روپے بنتا ہے، جبکہ رپورٹ کردہ دو ارب روپے کے مجموعی اخراجات میں تقریباً 551 ملین روپے کا فرق باقی ہے۔ اس رقم کی مد وار تفصیلات، منظوریوں اور ادائیگیوں کی وضاحت ناگزیر ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو اصل پی سی ون، تکنیکی جواز، ٹریفک اسٹڈی، انتظامی منظوریوں، ٹینڈرنگ، خریداری کے طریقۂ کار، معاہداتی ترامیم اور حقیقی ادائیگیوں کا جامع جائزہ لینا چاہیے۔اس کے ساتھ وفاقی وزیر کی ویژن گروپ، پارک ویو سے متعلق کاروباری مفادات اور سما ٹی وی سے وابستگی کے حوالے سے ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کے سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ محض کاروباری وابستگی کسی خلاف ورزی کا ثبوت نہیں، تاہم جہاں سرکاری فیصلوں اور ممکنہ نجی مفادات کا تعلق زیرِ بحث آئے وہاں متعلقہ مفادات کا مکمل انکشاف اور قابلِ اطلاق قوانین کے تحت غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔قومی خزانے سے اخراجات کا جواز کسی شخصیت کی صوابدید نہیں بلکہ منظور شدہ منصوبہ، ثابت شدہ قومی ضرورت، تکنیکی افادیت اور شفاف مالیاتی طریقۂ کار ہونا چاہیے۔آئی ایم ایف کا مالیاتی نظم و ضبط، مگر قومی شاہراہوں کے ٹھیکیدار ادائیگیوں سے محروم کیوں؟یہ تنازع پاکستان کی مالیاتی صورتحال، ترقیاتی بجٹ اور آئی ایم ایف سے وابستہ اخراجاتی نظم و ضبط کے تناظر میں مزید سنگین ہو جاتا ہے۔جاری بحث میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق تقریباً ایک کھرب روپے کی رپورٹ کردہ پی ایس ڈی پی مختص رقم کے مقابلے میں پہلے چار ماہ کے دوران صرف 76 ارب روپے استعمال ہوئے، جو تقریباً 7.6 فیصد بنتے ہیں۔ اسی طرح 330 ارب روپے کی رپورٹ کردہ مجاز رقم کے مقابلے میں استعمال شدہ رقم تقریباً 75.97 ارب روپے بتائی گئی ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط، ترقیاتی اخراجات کی ترجیحات اور تکمیل کے قریب اسٹریٹجک منصوبوں پر توجہ دینے کی اہمیت اجاگر کی جاتی رہی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب قومی شاہراہوں کے جاری منصوبوں کے ٹھیکیدار اپنے تصدیق شدہ واجبات کے لیے خوار ہو رہے ہیں تو منتخب منصوبوں پر بھاری مالیاتی ترجیحات کی بنیاد کیا ہے؟حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ یہ اخراجات منظور شدہ پی ایس ڈی پی، مالیاتی حدود، منصوبوں کی تیاری اور آئی ایم ایف کے تحت طے شدہ اخراجاتی فریم ورک سے کس حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔مالیاتی نظم و ضبط کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ جائز معاہداتی واجبات روک دیے جائیں جبکہ اربوں روپے کے متنازعہ اخراجات اسی معیار کی جانچ سے مستثنیٰ رہیں۔ٹھیکیداروں کا نیب، ایف آئی اے سے رجوع: 48 گھنٹوں میں واجبات، ذمہ داروں کا تعین اور اعلیٰ سطحی احتساب کا مطالبہٹھیکیداروں نے اجتماعی طور پر نیب اور ایف آئی اے سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے ان الزامات کی غیر جانب دارانہ، آزادانہ اور مقررہ مدت میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ان کے مطالبات میں شامل ہیں:1۔ آڈٹ رپورٹس کی اشاعت: وزیراعظم کی ہدایت پر تمام جاری این ایچ اے منصوبوں کے تھرڈ پارٹی آڈٹ اور 2021 تا 2025 کے مینٹی نینس آڈٹ کی تکمیل اور نتائج کی فوری تفصیلات جاری کی جائیں۔2۔ نیب اور ایف آئی اے کی تحقیقات: مارگلہ لنک روڈ کے مبینہ 70 ارب روپے کے اجرا، پارک ویو کے بالمقابل این-5 پر دو ارب روپے کے اخراجات اور ایک ارب روپے سے زائد کے تصدیق شدہ واجبات روکنے کے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔3۔ ذمہ داران کا تعین: ہر منظوری دینے والے مجاز افسر، سرکاری عہدے دار اور عمل درآمد کرنے والے ادارے کا کردار جانچا جائے اور کسی بھی ثابت شدہ مالی بے ضابطگی، غیر قانونی ہدایت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا امتیازی سلوک پر ذمہ داری متعین کی جائے۔4۔ جائز واجبات کی فوری ادائیگی: قانونی اور معاہداتی تقاضوں کی تکمیل کے بعد ایک ارب روپے سے زائد کے تمام تصدیق شدہ اور قابلِ ادائیگی IPCs کو 48 گھنٹوں کے اندر ادا کیا جائے۔5۔ وزارتِ مواصلات کی اعلیٰ قیادت کا احتساب: وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور قائم مقام سیکریٹری علی شیر محسود کے پالیسی احکامات، انتظامی فیصلوں، مالیاتی ترجیحات اور نگرانی کے نظام میں کردار کا جائزہ لیا جائے۔ اگر کسی غیر قانونی ہدایت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا مالی بدعنوانی کے شواہد سامنے آتے ہیں تو متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے، جس میں ان کی متعلقہ ذمہ داریوں سے علیحدگی یا برطرفی پر غور بھی شامل ہو۔ٹھیکیداروں نے چیف آف ڈیفنس فورسز (CDS) فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر سے بھی مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ وزارتِ مواصلات میں حد سے زیادہ مرکزیت اور مبینہ صوابدیدی طرزِ انتظام نے ٹھیکیداروں اور دیگر متعلقہ حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ان خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ انتظامی مداخلت، مالیاتی دباؤ اور ادارہ جاتی کمزوری این ایچ اے کو دیگر سرکاری اداروں، بشمول پی ٹی سی ایل، پی ٹی ڈی سی اور سابق پاک پی ڈبلیو ڈی، جیسے انجام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔تاہم ان تمام الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ محض سرکاری وضاحتوں یا رسمی یقین دہانیوں سے ایسے سنگین سوالات ختم نہیں ہو سکتے۔این ایچ اے کسی وزیر کی جاگیر نہیں، پارلیمانی قانون اور ادارہ جاتی خودمختاری مقدم ہیں!اس پورے تنازعے کا اصل مرکز این ایچ اے کے قانونی تشخص، ادارہ جاتی خودمختاری اور پارلیمانی نگرانی کا سوال ہے۔نیشنل ہائی وے کونسل (NHC) اور نیشنل ہائی وے ایگزیکٹو بورڈ (NHEB) کو اپنے قانونی اختیارات اور نگرانی کی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ این ایچ اے کے مالیاتی اور انتظامی امور کو شخصی صوابدید، غیر رسمی احکامات یا منتخب منصوبوں کی ترجیحات کے تابع نہیں بنایا جا سکتا۔ہر بڑے مالیاتی فیصلے کی بنیاد این ایچ اے ایکٹ، متعلقہ خریداری قوانین، منظور شدہ پی سی ون، معاہداتی ذمہ داریوں، مالیاتی قواعد اور مجاز قانونی و انتظامی فورمز کی منظوری ہونی چاہیے۔وزارتِ مواصلات اور این ایچ اے انتظامیہ پارلیمنٹ، آڈٹ کے مجاز اداروں اور قانون کے سامنے جواب دہ ہیں۔وزیراعظم کی ہدایت پر ہونے والے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا دائرہ محض تعمیراتی معیار تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس میں منصوبہ جاتی اخراجات، معاہدوں پر عمل درآمد، اعلیٰ افسران کی تعیناتیوں، مالیاتی منظوریوں، ادائیگیوں کے نظام اور انتظامی تاخیر کی ذمہ داری کا بھی جامع جائزہ شامل ہونا چاہیے۔منتخب منصوبوں کے نام پر اختیارات کا ارتکاز، ادارے کی مالی ترجیحات کا غیر شفاف تعین اور جائز معاہداتی واجبات کی بندش کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔یہ معاملہ اب محض ٹھیکیداروں کی ادائیگیوں تک محدود نہیں رہا۔ یہ وزیراعظم کے احکامات پر عمل درآمد، قومی خزانے کے تحفظ، وزارتِ مواصلات کی جواب دہی اور این ایچ اے کی قانونی و ادارہ جاتی خودمختاری کا امتحان بن چکا ہے۔قوم جواب چاہتی ہے: این ایچ اے کی ترجیحات کون طے کر رہا ہے؟ اربوں روپے کے فنڈز کی منظوری کس نے دی؟ ٹھیکیداروں کے تصدیق شدہ واجبات کس نے روکے؟ وزیراعظم کے آڈٹ احکامات پر عمل درآمد کہاں تک پہنچا؟ اور اگر سب کچھ قواعد و ضوابط کے مطابق ہے تو مکمل دستاویزی ریکارڈ اور آڈٹ نتائج منظرعام پر لانے میں تامل کیوں؟قومی خزانہ کسی کی صوابدید نہیں، این ایچ اے کسی کی ذاتی جاگیر نہیں اور سرکاری عہدہ احتساب سے استثنیٰ کا پروانہ نہیں
پارلیمنٹ ہاؤس میں احتساب کا بڑا آپریشن: اسپیکر ایاز صادق کا غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف فیصلہ کن وار، 12 ملازمین برطرف، جعلی ڈگریوں کے حامل افراد کی باری؛ اعلیٰ افسران بھی شکنجے میںتحقیقاتی رپورٹ: رانا تصدق حسیناسلام آباد: پارلیمنٹ کے ایوانوں میں قانون سازی اور حکمرانی کا درس دینے والے ادارے کے اپنے انتظامی ڈھانچے میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں، جعلی تعلیمی اسناد، گھوسٹ ملازمین اور قواعد کے برخلاف ترقیوں و مستقلیوں کے خلاف بالآخر بڑا آپریشن شروع ہو گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں 12 ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں جعلی اور بوگس ڈگریوں کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔یہ محض چند ملازمین کی برطرفی کا معاملہ نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے انتظامی نظام میں مبینہ اقربا پروری، بیک ڈور بھرتیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے پر غیر قانونی بوجھ کے خلاف ایک بڑے احتسابی عمل کا آغاز ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض ایسے افراد سرکاری تنخواہیں اور مراعات وصول کر رہے تھے جن کی تقرریوں کا قانونی جواز ہی مشکوک تھا، جبکہ بعض ملازمین کی دفتر میں حاضری اور تعلیمی اسناد بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی تھیں۔12 غیر قانونی تقرریاں ختم، قومی خزانے پر بوجھ ڈالنے والوں کے خلاف پہلا وارقومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے باخبر ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں 12 ایسے ملازمین کو فوری طور پر ملازمت سے فارغ کیا گیا ہے جن کی بھرتیاں مبینہ طور پر مقررہ قانونی طریقہ کار اور مجاز منظوری کے بغیر عمل میں لائی گئی تھیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ ملازمین بھاری ماہانہ تنخواہیں اور مالی مراعات وصول کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ ہوئے۔اس کارروائی نے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر ان تقرریوں کی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی تو انہیں کس نے منظور کیا، کس نے ان کی توثیق کی اور کس انتظامی اختیار کے تحت سرکاری خزانے سے مسلسل ادائیگیاں کی جاتی رہیں؟ محض تقرریاں ختم کرنا کافی نہیں؛ ان فیصلوں کے ذمہ داران اور مالی نقصانات کا تعین بھی ناگزیر ہے۔دوسرا مرحلہ: جعلی ڈگریوں پر سرکاری ملازمت حاصل کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹیاسپیکر ایاز صادق نے دوسرے مرحلے میں جعلی، بوگس یا مشکوک تعلیمی اسناد کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تعلیمی ڈگریوں اور اسناد کی تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔اگر کسی ملازم کی تقرری جعلی تعلیمی قابلیت یا دانستہ غلط بیانی کے ذریعے ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف قانون اور متعلقہ سروس قواعد کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ یہ معاملہ صرف ملازمت کے حصول تک محدود نہیں بلکہ اس سوال سے بھی جڑا ہے کہ جعلی اسناد کی بنیاد پر سرکاری عہدوں، ترقیوں اور مالی مراعات سے فائدہ اٹھانے والوں کی ذمہ داری کس طرح متعین کی جائے گی۔احتساب کا دائرہ اعلیٰ انتظامی عہدوں تک پھیل گیااس کارروائی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس کا دائرہ ماتحت ملازمین تک محدود نہیں رہا بلکہ اعلیٰ انتظامی افسران بھی اس کی زد میں آئے ہیں۔ذرائع کے مطابق:- اسپیشل سیکریٹری چوہدری مبارک کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔- ایڈیشنل سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ یاسین سلیمی کو انکوائری کے بعد معطل کرتے ہوئے چارج شیٹ جاری کر دی گئی ہے۔- 17 افسران کو مبینہ طور پر قواعد کے برخلاف مستقلی اور ترقیوں سے فائدہ اٹھانے پر تنزلی کے بعد دوبارہ کنٹریکٹ ملازمت پر واپس بھیج دیا گیا ہے۔یہ پیش رفت اس امر کی متقاضی ہے کہ ان تمام انتظامی منظوریوں، سفارشات اور فیصلوں کا بھی جائزہ لیا جائے جن کے نتیجے میں مبینہ طور پر غیر قانونی بھرتیاں، غیر مجاز ترقیاں اور غیر قانونی مستقلیاں ممکن ہوئیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ فائدہ کس نے اٹھایا، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان اقدامات کی منظوری کس نے دی اور ادارے کے اندر نگرانی کا نظام کہاں ناکام ہوا؟گھوسٹ ملازمین کا انکشاف: 90 افراد کو شوکاز، بائیومیٹرک حاضری لازمیاس پورے معاملے کا ایک تشویش ناک پہلو مبینہ گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر کو شکایات موصول ہوئی تھیں کہ بعض ملازمین دفتر آئے بغیر سرکاری تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔ ان شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے بائیومیٹرک حاضری لازمی قرار دی گئی، جبکہ بائیومیٹرک نظام میں رجسٹرڈ نہ ہونے والے 90 ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بعض بھرتیوں کے ریکارڈ میں مطلوبہ دستاویزات اور تعلیمی اسناد کی عدم دستیابی یا نامکمل ہونے کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔اگر سرکاری ادارے میں ایسے افراد کی موجودگی ثابت ہوتی ہے جو فرائض انجام دیے بغیر قومی خزانے سے تنخواہیں وصول کرتے رہے تو یہ محض حاضری کا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی وسائل کے ممکنہ ناجائز استعمال کا سنگین معاملہ ہے۔ بائیومیٹرک حاضری کا نظام اسی لیے مؤثر ہونا چاہیے کہ کاغذی ملازمتوں اور فرضی حاضری کے ذریعے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کا راستہ بند ہو۔شکایات سیل قائم، نیب کی تحقیقات میں 2018ء تا 2024ء کا ریکارڈ طلباسپیکر قومی اسمبلی نے ملازمین اور دیگر متعلقہ افراد کی شکایات کے ازالے اور مبینہ انتظامی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے لیے خصوصی شکایات سیل بھی قائم کیا ہے۔دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب) بھی معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے 2018ء سے 2024ء تک ہونے والی تمام بھرتیوں، ترقیوں اور ڈیپوٹیشن پر آنے والے ملازمین کی مستقلی یا ادارے میں جذب کیے جانے (Absorption) سے متعلق مکمل ریکارڈ طلب کیا ہے۔یہ تحقیقات غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ طلب کردہ ریکارڈ سے بھرتیوں اور ترقیوں کی قانونی حیثیت، تقرریوں کی منظوری دینے والے حکام، ڈیپوٹیشن پر آنے والے ملازمین کے انضمام کے طریقہ کار اور متعلقہ قواعد پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جا سکے گا۔ اس عمل میں یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ آیا کسی عہدے پر تقرری کے لیے منظور شدہ آسامی، مطلوبہ اہلیت، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور شفاف طریقہ کار کی پابندی کی گئی تھی یا نہیں۔اصل امتحان: برطرفیوں سے آگے بڑھ کر منظوری دینے والوں کا احتسابپارلیمنٹ ملک کا اعلیٰ ترین منتخب قانون ساز ادارہ ہے۔ اس کے اپنے سیکریٹریٹ میں اگر غیر قانونی تقرریوں، جعلی اسناد، گھوسٹ ملازمین اور قواعد سے انحراف کے الزامات سامنے آئیں تو یہ محض انتظامی بدانتظامی نہیں بلکہ پارلیمانی وقار، ادارہ جاتی شفافیت اور عوامی اعتماد کا معاملہ بن جاتا ہے۔اس لیے موجودہ کارروائی کو صرف چند ملازمین کی برطرفی، معطلی یا تنزلی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اصل احتساب اس وقت ہو گا جب مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کی منظوری دینے والوں، قواعد سے انحراف کی اجازت دینے والوں، غیر قانونی ترقیوں اور مستقلیوں میں کردار ادا کرنے والوں اور ایسے فیصلوں سے مستفید ہونے والوں کی ذمہ داری بھی قانون کے مطابق متعین ہو گی۔ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تعین، جہاں قانونی طور پر ممکن ہو وہاں رقوم کی واپسی اور ذمہ داران کے خلاف مؤثر کارروائی بھی اسی عمل کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ہر آسامی کی مجاز منظوری، ہر تقرری کا قانونی جواز، ہر تعلیمی سند کی مستند تصدیق، ہر ترقی کا سروس قواعد سے مطابقت رکھنا اور ہر تنخواہ کا حقیقی فرائض کی ادائیگی سے منسلک ہونا یقینی بنانا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ ملازمین کو قانونی تقاضوں اور شفاف انکوائری کے تحت اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع بھی دیا جانا چاہیے۔پارلیمنٹ کے اپنے گھر میں احتساب کا آغاز ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت ہو گی جب کارروائی صرف تنخواہیں لینے والوں تک نہیں بلکہ غیر قانونی تقرریوں کا راستہ ہموار کرنے، منظوری دینے اور ان سے فائدہ اٹھانے والے پورے انتظامی سلسلے تک پہنچے گی۔ قانون سازی کے ایوان کا انتظامی نظام بھی قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔










