
راولپنڈی پشاور روڈ پر سگنل فری کوریڈور منصوبے پر تعمیراتی کام تیزراولپنڈی: راولپنڈی پشاور روڈ کو سگنل فری کوریڈور میں تبدیل کرنے کے بڑے ترقیاتی منصوبے پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے، جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستے بھی فعال کر دیے گئے ہیں۔حکام کے مطابق منصوبے پر باقاعدہ تعمیراتی کام 8 ستمبر 2026 سے شروع ہوا۔ ٹریفک کی بلا تعطل روانی اور شہریوں کو کم سے کم مشکلات پیش آنے کو یقینی بنانے کے لیے 250 سے زائد ٹریفک پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔منصوبے کے تحت آرمی گریویارڈ چوک پر تیسرے انڈر پاس کی تعمیر کے ابتدائی منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے اب چوک کی ری ماڈلنگ، سڑک کی بہتری اور ٹریفک کے بہاؤ کو مؤثر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔متبادل ٹریفک راستےصدر سے پشاور کی جانب جانے والی ٹریفک اب عابد مجید روڈ سے عابد مجید ٹرن، ایم ایچ گیٹ نمبر 5، شیر خان چوک اور قاسم مارکیٹ کے راستے سفر کر سکتی ہے۔پشاور سے صدر آنے والی ٹریفک کے لیے اللہ آباد ٹرن کے سامنے سروس روڈ، حالی روڈ اور رفیع مال کا متبادل راستہ مقرر کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے بعد چکری سے موٹروے چوک تک سفر کا دورانیہ تقریباً 20 منٹ رہ جائے گا۔ منصوبے سے روزانہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار گاڑیوں اور 20 لاکھ شہریوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) ندیم ناصر نے متعلقہ حکام کو تعمیراتی کام کی رفتار تیز کرنے، منصوبے کے معیار کو برقرار رکھنے اور مقررہ مدت میں تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے منصوبے کی پیش رفت کی ذاتی طور پر نگرانی کے لیے سائٹ کا دورہ کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔حکام نے منصوبہ دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

جوڈیشل کمیشن سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ارکان کے استعفے، پارلیمانی نشستوں کی طے شدہ گردش کا معاملہاسلام آباد — پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد کے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان سے یکے بعد دیگرے استعفوں نے کمیشن میں پارلیمانی نمائندگی میں ہونے والی تبدیلی اور اس کے پسِ پردہ وجوہات کے حوالے سے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بدھ کے روز جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفیٰ دیا، جبکہ ان کے ایک روز بعد مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ شیخ آفتاب احمد ضلع اٹک سے قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے آئینی عمل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔شیخ آفتاب احمد کے قریبی ذرائع کے مطابق دونوں استعفوں کی بنیادی وجہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کے وقت طے پانے والا پارلیمانی نمائندگی کا گردشی نظام ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیشن کی نئی تشکیل کے وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی نمائندوں کے لیے ڈھائی، ڈھائی سال کی مدت طے کی گئی تھی، جس کے بعد دونوں جماعتوں اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے درمیان نمائندگی میں تبدیلی ہونی تھی۔موجودہ انتظام کے تحت شیخ آفتاب احمد قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے نمائندے جبکہ فاروق ایچ نائیک سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے نمائندے کی حیثیت سے جوڈیشل کمیشن کا حصہ تھے۔ذرائع کے مطابق آئندہ مرحلے میں سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی کے بجائے مسلم لیگ (ن) کا نمائندہ اور قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے موجودہ رکن کی جگہ پیپلز پارٹی کا نمائندہ جوڈیشل کمیشن میں شامل ہوگا۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بطور نئے رکن شمولیت متوقع ہے، تاہم اس حوالے سے متعلقہ آئینی اور پارلیمانی عمل کی تکمیل ضروری ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت کو فی الحال جوڈیشل کمیشن کے اندر کسی اختلاف یا تنازع کے بجائے پارلیمانی نمائندگی کے طے شدہ گردشی نظام کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔تاہم، دونوں ارکان کے استعفوں کو کمیشن کے اندر کسی اختلاف کی علامت قرار دینا قبل از وقت ہوگا، جب تک کہ متعلقہ ارکان یا ان کی جماعتوں کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی مؤقف سامنے نہ آئے۔جوڈیشل کمیشن میں یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب 26ویں آئینی ترمیم کے بعد کمیشن کی تشکیل، اختیارات اور اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلیاں کی جا چکی ہیں۔.










