
“اسے کہتے ہیں ہیڈ کوچ اور بہترین لیڈر!کوچنگ سے بڑھ کر ڈیرن سیمی نے سادگی سے سب کے دل جیت لیے!رات جب بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان میچ جاری تھا، تو 10 اوورز کے بعد جب پانی کا وقفہ ہوا، تو ویسٹ انڈیز کے ہیڈ کوچ ڈیرن سیمی خود تولیہ، فروٹ اور پانی اٹھا کر بھاگتے ہوئے گراؤنڈ کے اندر آ گئے۔ڈیرن سیمی کی اس عاجزی کو دیکھ کر بھارتی کمنٹیٹر روی شاستری بھی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے اور کمنٹری کے دوران کہا: “یہی چیز مجھے ڈیرن سیمی کی سب سے زیادہ پسند ہے کہ وہ خود کو صرف ایک بند کمرے کا کوچ نہیں، بلکہ ٹیم کا ایک عام کھلاڑی سمجھتے ہیں۔ اگر وہ چاہتے تو کسی بھی اضافی کھلاڑی کے ہاتھ یہ پانی، فروٹ اور تولیہ بھجوا سکتے تھے اور خود بغیر کوئی سامان اٹھائے آرام سے گراؤنڈ میں آ سکتے تھے، لیکن انہوں نے خود یہ کام کرنے کو ترجیح

🚨 تین پاکستانی کرکٹرز بہتر مستقبل کی تلاش میں امریکہ جانے کے لیے تیار ! 🇵🇰✈️🇺🇸سوات سے تعلق رکھنے والے احسان اللہ، حیدرآباد کے محمد حسنین اور لاڑکانہ کے شاہنواز دھانی کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مبینہ ناروا سلوک سے تنگ آ کر امریکہ منتقل ہونے اور وہاں اپنا کرکٹ کیریئر جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔آپ لوگوں کے خیال سے ان کھلاڑیوں کا فیصلہ ٹھیک ہے یا غلط ؟واضح رہے اس سے پہلے بھی کئی کرکٹر پاکستان چھوڑ کر امریکہ منتقل ہو چکے ہیں #PakistanCricket #ShahnawazDahani #MohammadHasnain #USA Cricket #CricketNews

*پاکستان میں ہاکی کا کھویا ہوا مقام بحال کرنے کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کی سرپرستی اور نجی شعبے کا تعاون ناگزیر ہے، احسن اقبال*اسلام آباد، 15 اکتوبر 2026ء: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہاکی کا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی، باصلاحیت کھلاڑیوں کی سرپرستی اور کھیلوں کے فروغ میں نجی شعبے کی مؤثر شمولیت ضروری ہے۔وہ پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے ساتھ نوجوانوں کی شمولیت اور روابط کے فروغ کے لیے پاکستان ہاکی فیڈریشن اور وائٹل گروپ کے درمیان شراکت داری کی دستاویز پر دستخط کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہاکی پاکستان کی قومی شناخت اور کھیلوں کے شاندار ماضی کی علامت ہے۔ پاکستان میں ہاکی کا عالمی مقام دوبارہ حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہاکی کے سنہری دور کی بحالی کے لیے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کو آگے لانا اور انہیں عالمی معیار کی تربیت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پاکستانی کھلاڑی ایک بار پھر عالمی میدانوں میں ملک کا پرچم بلند کر سکیں۔احسن اقبال نے کہا کہ کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی میں نجی شعبے کی سرپرستی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ جب کھلاڑی معاشی مسائل اور مالی پریشانیوں سے آزاد ہوں گے تو وہ اپنی تمام تر توجہ اور توانائیاں کھیل پر مرکوز کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک کھلاڑی کی توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ اگلا گول کیسے کرنا ہے، نہ کہ اس فکر میں کہ اپنے اخراجات کیسے پورے کرنے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جدید دور میں کھیلوں میں کامیابی کے لیے صرف قدرتی صلاحیت کافی نہیں بلکہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اعداد و شمار کے مؤثر استعمال کو بھی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔ عالمی سطح پر نمایاں کارکردگی کے لیے کھلاڑیوں کی جسمانی فٹنس، ذہنی مضبوطی، نظم و ضبط اور مسلسل مشق کو فروغ دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی کامیابی کے پیچھے مسلسل محنت، باقاعدہ مشق، نظم و ضبط اور اپنی کارکردگی پر غیر معمولی توجہ کارفرما ہوتی ہے۔

پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی جدید تربیتی طریقوں اور پیشہ ورانہ معیار کو اپناتے ہوئے عالمی مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا ہوگا۔احسن اقبال نے نارووال میں نیشنل اسپورٹس سٹی کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد پاکستان میں کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی کھیلوں کی سہولیات ایک ہی مقام پر فراہم کرنا تھا۔ نیشنل اسپورٹس سٹی نارووال میں 14 کھیلوں کے لیے عالمی معیار کی سہولیات موجود ہیں، جو کھلاڑیوں کو جدید ماحول میں تربیت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔وفاقی وزیر نے پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کو نیشنل اسپورٹس سٹی نارووال کو اپنا مستقل تربیتی مرکز بنانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کو جدید تربیتی سہولیات اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں اور بین الاقوامی مقابلوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن اور وائٹل گروپ کے درمیان شراکت داری کو ملک میں ہاکی کے فروغ، نوجوانوں کو کھیلوں کی جانب راغب کرنے اور نئے ٹیلنٹ کو آگے لانے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومتی اداروں، کھیلوں کی تنظیموں اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے پاکستان ہاکی کی عظمت رفتہ بحال کرنے اور عالمی سطح پر اپنا مقام دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔

خورشید شاہ کمیٹی کیس ایک اور فیصلہ اگیا ۔!!اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیپٹل کے سرکاری کالجوں کے اساتذہ اور کمپیوٹر ٹیچرز کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں نے ایک دہائی پرانے پختہ ملازمتوں کے معاملے کو دوبارہ گرم کر دیا ہے۔ سانیہ شبیر اور دیگر اساتذہ، جو فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (FDE) کے تحت 2004 اور 2005 سے مختلف پروجیکٹس میں بحیثیت کانٹریکٹ ملازم بھرتی ہوئے تھے، سال 2011 میں سید خورشید احمد شاہ کی سربراہی میں قائم کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات پر مستقل کیے گئے تھے۔ لیکن حال ہی میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC)، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور FDE کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشنز کے ذریعے تمام پختہ ملازمین کا ڈیٹا طلب کر کے ان کے دوبارہ ٹیسٹ اور انٹرویو لینے کا فیصلہ کیا گیا، جسے اساتذہ نے عدالت عالیہ میں چیلنج کر دیا۔درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ وہ ایک شفاف مقابلے کے عمل سے گزر کر بھرتی ہوئے تھے اور 14 سال سے زائد عرصے سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، لہٰذا ان کی ملازمتوں کو دوبارہ نوکری کا آغاز قرار دینا یا ان سے دوبارہ امتحان لینا ان کے آئینی حقوق، پینشن اور سینیارٹی کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے محسن رضا گوندل بنام سردار محمود کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلہ محض ان مخصوص فریقین تک محدود تھا۔ دوسری جانب سرکاری وکلا اور ادارے کا موقف تھا کہ گریڈ 16 اور اس سے اوپر کی اسامیوں کے لیے FPSC کو بائی پاس کر کے کابینہ کمیٹی کے ذریعے کی گئی پختگی قانونی طور پر کالعدم (Void ab initio) ہے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ تمام یکساں متاثرہ ملازمین پر لاگو ہوتا ہے۔جسٹس شاہ رخ ارجمند نے اس ہائی پروفائل کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے اساتذہ کی تمام درخواستوں کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت سپریم کورٹ کا قانون اور اصول تمام عدالتوں اور اداروں پر لاگو ہوتا ہے، اور قانونی دائرہ اختیار کے بغیر کیا گیا کوئی بھی عمل محض وقت گزرنے یا طویل عرصہ ملازمت کرنے سے قانونی اور پختہ نہیں بن جاتا۔ تاہم، عدالت نے ملازمین کی دہائیوں پر محیط طویل ترین خدمات اور ریٹائرمنٹ کی عمر کے قریب ہونے کے انسانی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ملازمین کی جانچ کے عمل میں ہمدردی، قانون کے تمام تحفظات، اور ان کی ریٹائرمنٹ مراعات کا خاص خیال رکھیں تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

نشر مکرر تحریر جسے پانچ ملین لوگوں نے پڑھا اس تحریر کے اختتام پر کچھ نامور فوجی جرنیلوں کے نام ہیں جن سب کا تعلق پنجاب کے ایک ہی چھوٹے سے شہر سے ہے اور یہ فہرست بھی اس شہر کے صرف ان جرنیلوں کی ہے جن کے نام میں جانتا ہوں جبکہ …مجھے یقین ہے کہ درجنوں نام ان میں مجھ سے رہ بھی گیے ہوں گے اور ہاں اس فہرست میں اس شہر کے سرونگ جرنلز کے نام ابھی شامل نہیں کیے جنکی تعداد بھی یقینا درجنوں میں ہو گی اور اگر کوئی اس شہر کے برگیڈئیرز کرنلز کی لسٹ بنائے تو شاید کبھی مکمل ہی نا ہو اس مذکورہ شہر کا نام میں نہیں بلکہ میرے احباب بتائیں گے … 😄اب آتے ہیں دوسری طرف کہ پورے ڈیرہ غازی خان میں میری معلومات کے مطابق اج تک صرف دو میجر جنرلز ( دس پنجاب کے جنرل امیر حمزہ قیصرانی اور اے ایم سی کے جنرل اسلم صاحب ) ملتان سے شاید ایک یا دو جنرلز (جنرل شمس) اور بہاولپور کا بھی کوئی قابل زکر نام ذہن میں نہیں آ رہا دیگر اس بابت احباب رہنمائی فرما دیں گے …المیہ یہ ہے کہ ایک طرف ہمیں شکایت ہے کہ پاکستان ایک فوجی ریاست ہے دوسری طرف ہمارے علاقوں میں اسی فوج میں نمائندگی کا تناسب میں نے اپکو بتا دیا اور اس پر سونے پہ سہاگہ کہ …”اسی فوجی ریاست میں ہمیں برابری کے حقوق بھی چاہیے” 🤔نوٹ : مجھے اس مذکورہ علاقے سے اپنی نسبت پر یوں ناز ہے کہ یہ میرے بچوں کا نانکا یعنی میرا سسرال ہے دیگر یہاں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے “گرائیں بندی” جس کا مطلب منفی نہیں بلکہ میرے نذدیک مثبت ہے کہ …ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ٹانگیں نا کھینچی جائیں شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں بچوں کی پیدائیش پر مہاورا مشہور ہے کہ “بچہ جرنل ہوسی یا کرنل ہوسی” اور یہاں کے بچے دور دراز اکیڈمیاں نہیں جاتے کہ یہاں کا ہر گھرانہ ایک اکیڈمی اور سب کےلیے یکساں مفید و مددگار ہے … 👏مذکورہ اس شہر سے تعلق رکھنے والے چند جنرلز کے نام یہ ہیں ، جنرل یحی خان (جائے پیدائیش) ائیر مارشل نور خان ، جنرل فیض حمید ، جنرل ساحر شمشاد مرزا ، لیفٹینٹ جنرل مشتاق بیگ شہید ، ائیر وائس مارشل خداداد خان ، لیفٹینٹ جنرل شاہد بیگ مرزا ، میجر جنرل محمد اکبر خان ، لیفٹیننٹ جنرل امتیاز ملک ، جنرل محمد افتخار خان ، لیفٹینٹ جنرل عبدل علی ملک ، لیفٹینٹ جنرل غلام محمد منھاس میجر جنرل عبد الرزاق میجر جنرل ملک محمد فاروق جنرل محمد صفدر میجر جنرل اسد ملک میجر جنرل ڈاکٹر شاہدہ ملک لیفٹیننٹ جنرل چوہدری افضل مظفر لیفٹیننٹ جنرل عبید الرحمن لیفٹیننٹ جنرل سجاد حسین میجر جنرل سرفراز خان میجر جنرل ملک اختر حسین میجر جنرل عبد العلی ملک لیفٹینٹ جنرل سید نذر حسین شاہ میجر جنرل سید مجتبٰی حسین شاہ میجر جنرل ڈاکٹر ریاض احمد میجر جنرل غلام محبوب میجر جنرل محمد صدیق ملک ۔جنرل رحم دل بھٹی

جنرل محمد افسر میجر جنرل نذیر احمد جنرل شجاعت علی شاہ میجر جنرل عبد اللطیف میجر جنرل ڈاکٹر ظفر اقبال لیفٹیننٹ جنرل حق نواز میجر جنرل شیر بہادر میجر جنرل تجمل حسین ملک لیفٹیننٹ جنرل نیک محمد میجر جنرل نذر حسین لیفٹیننٹ جنرل راجہ محمد اشرف لیفٹیننٹ جنرل عبد المجید لیفٹینٹ جنرل عبد القیوم جنرل راجہ محمد اکرم میجر جنرل محمد افتخار میجر جنرل محمد انور خان میجر جنرل محمد نواز خان میجر جنرل آصف یاسین لیفٹیننٹ جنرل راجہ حامد نواز میجر جنرل اعجاز حسین لیفٹیننٹ جنرل فیض جیلانی جنرل ہری سنگھ نلوہ ائیر وائس مارشل سید الطاف حسین نیوی کے وائس ایڈمرل شفقت جاوید اور وائس ایڈمرل عبدالعلیم لیفٹینٹ جنرل اشفاق ندیم لیفٹینٹ جنرل مسرت کھنڈوعہ لیفٹیننٹ جنرل اسد ملک لیفٹننٹ جنرل مجید ملک، لیفٹننٹ جنرل پیرداد لیفٹینٹ جنرل اقبال لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد اصغر اعوان میجر جنرل یعقوب خان میجر جنرل حافظ مسرور بھٹہ میجر جنرل شاہد منیر افشار ، لیفٹینٹ جنرل محبوب










