تازہ تر ین

مھنگای مھنگای ھاے مھنگای اٹا مھنگا خون سستا۔۔ دنیا کی واحد عوام دشمن حکومت جمہوریت بہترین انتقام۔حکومت نے پٹرول 350 روپے اور ڈیزل 400 روپے مقرر کر دیا۔۔۔دنیا کی واحد عوام دشمن حکومت جمہوریت بہترین انتقام۔۔اسلام آباد، راولپنڈی اور ملحقہ علاقوں میں رات سے مزید بارش کا امکان، نچلے علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ۔، نچلے علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ۔۔اسلام آباد، راولپنڈی اور ملحقہ علاقوں میں رات سے مزید بارش۔۔۔جماعت اسلامی کا لانگ مارچ ختم پٹرول 350۔۔زرداری نواز شریف اور وزیر قانون لندن میں۔۔پیوٹن کا ایران کی بھر پور حمایت کا اعلان۔ٹرمپ کو امریکی عدالت سے ایک اور بڑا دھچکا۔۔جہاں تک ممکن ہوگا حکومت عوام کو ریلیف دے گی، احسن اقبال۔۔ھمیں اپ پر فخر ہے وزیراعظم کا 2 بچوں کو بچانے والی نرس سے ملاقات کے بعد گرانقدر خدمات پر ایک کروڑ روپے کا چیک پیش کیا۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*سی ڈی اے کا ڈپلومیٹک انکلیو کی بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈیشن کے منصوبہ پر کام تیزی سے جاری* اسلام آباد: 3ستمبر 2026: سی ڈی اے کی طرف سے اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ لفٹنگ کے منصوبہ پر تیزی سے کام جاری ہے- ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ گریڈیشن کے منصوبہ کا مقصد معیاری انفراسٹرکچر، سکیورٹی کے مؤثر نظام، جدید طرزِ تعمیر، لینڈ اسکیپنگ، ہارٹیکلچر، بہتر سڑکوں اور فٹ پاتھوں، جدید لائٹنگ اور باوقار عوامی مقامات کی فراہمی کے ذریعے ڈپلومیٹک انکلیو کے ماحول اور سہولیات کو بہتر بنانا ہے، جس سے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مثبت اور باوقار تشخص کو مزید مستحکم کیا جا سکے گا۔چیئرمین سی ڈی اے نے ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ گریڈیشن، نئی باؤنڈری وال کی تعمیر اور سکیورٹی انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سی ڈی اے کی اسپیشل پراجیکٹس ڈائریکٹوریٹ کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔جاری کاموں میں سکیورٹی گیٹس اور چیک پوسٹس کی اپ گریڈیشن، مخصوص ویٹنگ ایریا کی تعمیر، سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی بہتری سمیت دیگر سول ورکس، آرکیٹیکچرل کلاڈنگ اور تعمیراتی کام، باؤنڈری اور سکیورٹی انفراسٹرکچر کی مضبوطی، جدید ایل ای ڈی اور سکیورٹی لائٹس کی تنصیب، فینسنگ، گرِلز، ریزر وائر اور دیگر حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لینڈ اسکیپنگ، نئی شجرکاری، گرین بیلٹس اور میڈینز کی بہتری پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ڈپلومیٹک انکلیو کی منفرد سرسبز شناخت کو مزید نمایاں کرنے کے لیے لینڈ اسکیپنگ، ہارٹیکلچر، اور تزئین و آرائش پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پیدل چلنے والوں کے لیے بہتر سہولیات، جدید لائٹنگ، بہتر سڑکیں اور باوقار عوامی مقامات علاقے کے مجموعی ماحول، خوبصورتی اور فعالیت کو مزید بہتر بنائیں گے۔اس منصوبے کا بنیادی مقصد سفارت کاروں، رہائشیوں، ملکی و غیر ملکی مہمانوں کے لیے ایک محفوظ، منظم، خوبصورت اور باوقار ماحول فراہم کرنا ہے۔ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ گریڈشن اسلام آباد کو ایک عالمی معیار کے محفوظ، خوبصورت اور پیشہ ورانہ انداز میں منظم وفاقی دارالحکومت بنانے کے لیے سی ڈی اے کے وسیع تر وژن کا حصہ ہے۔اپ گریڈ ہونے سے ڈپلومیٹک انکلیو بین الاقوامی سفارتی برادری کے سامنے پاکستان کا ایک مثبت، باوقار اور جدید تشخص اجاگر کرے گا، جبکہ سفارت کاروں، بین الاقوامی وفود، سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور دیگر معزز مہمانوں کے لیے ایک بہتر اور عالمی معیار کا ماحول فراہم کرے گا

۔ڈپلومیٹک کمیونٹی نے سی ڈی اے کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے جاری اپ گریڈیشن کے کام کو ڈپلومیٹک انکلیو کی سکیورٹی، انفراسٹرکچر، لینڈ اسکیپنگ اور مجموعی طور پرایک اہم قدم قرار دیا ہے۔یہ منصوبہ وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کے وژن اور چیئرمین سی ڈی اے کی قیادت میں اسلام آباد میں ایک ایسے ڈپلومیٹک انکلیو کے قیام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جو پاکستان کی عظمت و وقار، اسلام آباد کے منفرد تشخص اور عصری بین الاقوامی معیار کا حقیقی عکاس ہو۔

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 84 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 349 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ڈیزل کی قیمت بھی 2 روپے 28 پیسے فی لیٹر بڑھا دی گئی ہے، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 374 روپے 31 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔حکومت کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 4 ستمبر سے نافذ ہوں گی۔

پاکستان ٹیم کا انگلیںڈ کا دورہ کبھی بھی خیر سے پر امن نہ رہا اور ہمیشہ کوئی نیا تنازع کھڑا ہوا ۔۔۔ایک منٹ میں حالات ٹائٹ ہو جاتے ہیں اور حالات ٹائٹ دیکھ کر پاکستانیوں کا مسلہ کھڑا ہو جاتا ہے پاکستان ٹیم جب بھی انگلینڈ گئی، کہانی صرف کرکٹ تک محدود نہیں رہی۔ رنز اور وکٹوں کے ساتھ کوئی نہ کوئی بڑا تنازع بھی ضرور کھڑا ہوا۔ کبھی میڈیا، کبھی الزامات اور کبھی ایسے فیصلے جنہوں نے کرکٹ سے زیادہ ہلچل مچائی۔ یوں لگتا ہے انگلینڈ میں پاکستان کے خلاف مقابلہ صرف 22 گز پر نہیں ہوتا۔1️ 1992 — ریورس سوئنگ کا جادو یا بال ٹمپرنگ؟ وسیم اکرم اور وقار یونس نے انگلش بیٹسمینوں کو اپنی تباہ کن ریورس سوئنگ سے پریشان کر دیا۔ وسیم کی سوئنگ تو دنیا جانتی ہے مگر اس وقت سپیڈ بھی وقار سے کم نہ تھی اور وقار کی سپیڈ اور ریورس سوئنگ کے سامنے گورے بلکل بے بس ہو گئے نہ وکٹ محفوظ نہ پاؤں نہ کھوپڑی نہ عزت ۔۔ تو گورے نے وہی گورا چال چلی جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے وقت چلی یعنی دماغ کا کھیل ۔۔۔ پاکستانی گیند بازوں پر بال ٹیمپرنگ یعنی گیند سے چھیڑ چھاڑ کے الزامات لگے، مگر کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہ آیا۔ بعد میں دنیا نے ریورس سوئنگ کو پاکستان کی ایک عظیم مہارت تسلیم کیا۔2️۔ 2006 — اوول کا تنازع امپائر ڈیرل ہیئر جو ہمیشہ پاکستان کے خلاف رہا نے پاکستان پر بال ٹمپرنگ کا الزام لگا کر انگلینڈ کو پانچ پنالٹی رنز دیے۔ احتجاجاً کپتان انضمام الحق نے فیصلہ کیا اور پاکستانی ٹیم چائے کے وقفے کے بعد میدان میں واپس نہ آئی اور انگلینڈ کو میچ کا فاتح قرار دے دیا گیا۔ بعد میں پاکستان کو بال ٹمپرنگ کے الزام سے بری بھی کر دیا گیا، مگر اوول کا واقعہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔یاد رہے کہ پی سی بی چیئر مین نسیم اشرف نے کھیلنے کا حکم جاری کر دیا تھا لیکن انضمام اپنے موقف پر ڈٹے رھے اور نہیں کھیلنے گئے ۔3️۔ 2010 جب پاکستان کے پاس دنیا کا نمبر ون بولنگ اٹیک جس میں عامر کی سپیڈ آصف کی سوئنگ کنیریا کی گللی سلمان بٹ کی انتہائی کرکٹ سینس کے ساتھ کپتانی اور یوسف یونس کی مڈل آرڈر کے ساتھ ٹیم انتہائی خطرناک تھی مگر ایک بار پھر گورے نے جال بچھیایا اور لالچی کبوتر اس میں پھنس گئے ۔ لارڈز اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل لارڈز میں محمد عامر، محمد آصف اور کپتان سلمان بٹ سے جڑا اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آیا۔ مخصوص نو بالز نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا۔ تینوں پر پابندیاں لگیں اور بعد میں جیل کی سزائیں بھی ہوئیں۔ یہ پاکستان کرکٹ کے بدترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔4️ 2026 — پھر انگلینڈ، پھر تنازع! حالیہ دورے میں لارڈز ٹیسٹ کے دوران اسکائی اسپورٹس پر عمران خان کے صاحبزادوں کا انٹرویو نشر ہوا، جس پر پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔

میڈیا پابندیوں اور ٹیم کے اندرونی معاملات نے ماحول مزید گرم کر دیا۔5️ شکست کے بعد بڑی تبدیلیاں پہلے دو ٹیسٹ میچز کے بعد کئی اہم کھلاڑیوں کو سیریز کے دوران ہی ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔ یوں میدان کی شکست کے ساتھ میدان سے باہر کا انتشار بھی خبروں کا مرکز بن گیا۔چند ایک مزید انکی چولیں ملاحضہ کریں بوتھم 87 میں پاکستان آیا تو اس نے کہا یہاں تو بندہ اپنی ساس کو بھیجے ۔۔ یعنی سزا کے طور پر ۔ایلن لیمب کی چول: انگلش بلے باز نے پی سی بی اور آئی سی سی کو چھوڑ کر برطانوی اخبار کو سنسنی خیز انٹرویو دیا اور پاکستانی باؤلرز پر سرعام “چور” کا الزام لگایا۔میچ ریفری ڈیرک مرے کی چول: لارڈز ون ڈے میں گیند تبدیل کرنے کی اصل وجہ کو خفیہ رکھا، جس سے پاکستانی باؤلرز کے خلاف بلاوجہ شکوک و شبہات اور میڈیا ٹرائل کو ہوا ملی۔امپائرز کین پامر اور جان ہیمپشائر کی چول: بغیر کسی ٹھوس ثبوت یا کپتان کو بتائے لارڈز میچ کے دوران خفیہ طور پر خود ہی گیند بدل ڈالی۔انگلش کپتان گراہم گوچ کی چول: سیریز ہارنے کے بعد اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے بجائے میڈیا میں ریورس سوئنگ کو مسلسل مشکوک قرار دیتے رہے۔برطانوی پریس اور کمنٹیٹرز کی چول: پاکستانی باؤلرز کی مہارت کی تعریف کرنے کے بجائے انہیں اخبارات میں “بال ٹیمپرنگ سے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔۔ ❓تو سوال یہ ہے: کیا انگلینڈ میں پاکستان کے خلاف میڈیا اور نفسیاتی دباؤ محض اتفاق ہے، یا یہ ایک پرانی حکمتِ عملی ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو کیا ہم خود اپنے فیصلوں سے اس دباؤ کو مزید بڑھا دیتے ہیں؟گئے دنوں کا سراغ یہی بتاتا ہے کہ انگلینڈ میں پاکستان کا اصل امتحان صرف 22 گز پر نہیں ہوتا… اصل جنگ اکثر اس کے باہر شروع ہوتی ہے۔ 🇵🇰🏏#cricketaffairs #Pakistantourofengland #teamwork #tour #matchfixing #spotfixing #gliballrague #tempted #inzimamulhaq #salnanbut

د. لبنى فرح آبنائے ہرمز میں بڑی پیش رفت، ایران کی نئی سمندری بارودی سرنگوں کی صلاحیت نے امریکا کو دوبارہ کشیدگی بڑھانے پر مجبور کر دیاآبنائے ہرمز میں گزشتہ چند روز کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی میں نسبتاً عارضی وقفے کو ختم کرتے ہوئے ایک بار پھر تصادم کا راستہ اختیار کیا۔حالیہ دنوں میں ایران پر کیے گئے امریکی فضائی حملوں میں میزائل داغنے کے لیے استعمال ہونے والے دو پلیٹ فارمز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق یہ دونوں پلیٹ فارم ممکنہ طور پر ایسی چھوٹی بحری بارودی سرنگیں نصب کرنے یا آبنائے ہرمز میں پہنچانے کے لیے تیار کیے جا رہے تھے جنہیں میزائلوں کے ذریعے سمندر میں داغا جا سکتا ہے۔اس نوعیت کی فوجی ٹیکنالوجی، یعنی زمین سے توپ خانے یا میزائل نما نظام کے ذریعے ایسا راکٹ داغنا جو سمندر میں بارودی سرنگ پہنچائے، غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ ایران نے ایک ایسا نیا طریقہ تیار کر لیا ہے جسے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور عالمی توانائی کی ترسیل میں خلل ڈالنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام)، جو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرتی ہے، کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا:«’’ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کو آبنائے ہرمز میں میزائلوں کے ذریعے بحری بارودی سرنگیں داغنے کی تیاری کرتے ہوئے دیکھا گیا۔‘‘»آبنائے ہرمز کو مسلسل خطرہآبنائے ہرمز، جس سے دنیا کی عالمی منڈیوں تک پہنچنے والی تیل کی ایک بڑی مقدار لے جانے والے ٹینکر گزرتے ہیں، 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ حملہ شروع کیے جانے کے بعد سے مسلسل خطرے کی زد میں ہے۔جنگ کے نتیجے میں متعدد بحری جہاز رانی کمپنیوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے سے گریز شروع کر دیا ہے، جبکہ خطے کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک سعودی عرب نے اپنے خام تیل کی زیادہ مقدار کو بحیرۂ احمر کے راستے برآمد کرنے کا انتظام کیا ہے۔ایران کے پاس طویل عرصے سے بحری بارودی سرنگوں کا ایک وسیع اور متنوع ذخیرہ موجود ہونے کے بارے میں معلومات سامنے آتی رہی ہیں۔ ان میں چھوٹی مقناطیسی یا چسپاں بارودی سرنگیں بھی شامل ہیں، جنہیں غوطہ خور بحری جہازوں کے ڈھانچے کے ساتھ نصب کر سکتے ہیں، جبکہ دوسری جانب نسبتاً بڑے اور زیادہ طاقتور ہتھیار بھی موجود ہیں جنہیں کشتیاں یا بحری جہاز سمندر میں نصب کر سکتے ہیں اور جو اپنے ہدف کو غرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تاہم، ایرانی بحری بارودی سرنگوں کے ایسے نظام کے بارے میں عوامی سطح پر دستیاب معلومات اب بھی انتہائی محدود ہیں جنہیں خشکی سے میزائلوں کے ذریعے سمندر میں داغا جا سکے۔یہ صلاحیت موجودہ ایران-امریکا کشیدگی کے دوران سامنے آنے والے ممکنہ طور پر اہم ترین اور غیر متوقع عسکری انکشافات میں سے ایک ہو سکتی ہے۔تزویراتی اہمیتاگر ایران واقعی خشکی سے میزائل کے ذریعے بحری بارودی سرنگیں آبنائے ہرمز میں پہنچانے کی قابلِ اعتماد صلاحیت تیار کر چکا ہے تو اس سے آبنائے میں تجارتی اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرات کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس طرح کی صلاحیت روایتی بحری مائن بچھانے کے مقابلے میں نسبتاً تیز، دور سے اور ممکنہ طور پر کم خطرے کے ساتھ استعمال کی جا سکتی ہے۔آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس لیے اس میں معمولی نوعیت کی رکاوٹ بھی تیل کی عالمی ترسیل، جہاز رانی کے اخراجات اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

*سی ڈی اے کا ڈپلومیٹک انکلیو کی بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈیشن کے منصوبہ پر کام تیزی سے جاری* اسلام آباد: 3ستمبر 2026: سی ڈی اے کی طرف سے اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ لفٹنگ کے منصوبہ پر تیزی سے کام جاری ہے- ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ گریڈیشن کے منصوبہ کا مقصد معیاری انفراسٹرکچر، سکیورٹی کے مؤثر نظام، جدید طرزِ تعمیر، لینڈ اسکیپنگ، ہارٹیکلچر، بہتر سڑکوں اور فٹ پاتھوں، جدید لائٹنگ اور باوقار عوامی مقامات کی فراہمی کے ذریعے ڈپلومیٹک انکلیو کے ماحول اور سہولیات کو بہتر بنانا ہے، جس سے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مثبت اور باوقار تشخص کو مزید مستحکم کیا جا سکے گا۔چیئرمین سی ڈی اے نے ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ گریڈیشن، نئی باؤنڈری وال کی تعمیر اور سکیورٹی انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سی ڈی اے کی اسپیشل پراجیکٹس ڈائریکٹوریٹ کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔جاری کاموں میں سکیورٹی گیٹس اور چیک پوسٹس کی اپ گریڈیشن، مخصوص ویٹنگ ایریا کی تعمیر، سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی بہتری سمیت دیگر سول ورکس، آرکیٹیکچرل کلاڈنگ اور تعمیراتی کام، باؤنڈری اور سکیورٹی انفراسٹرکچر کی مضبوطی، جدید ایل ای ڈی اور سکیورٹی لائٹس کی تنصیب، فینسنگ، گرِلز، ریزر وائر اور دیگر حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لینڈ اسکیپنگ، نئی شجرکاری، گرین بیلٹس اور میڈینز کی بہتری پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ڈپلومیٹک انکلیو کی منفرد سرسبز شناخت کو مزید نمایاں کرنے کے لیے لینڈ اسکیپنگ، ہارٹیکلچر، اور تزئین و آرائش پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

پیدل چلنے والوں کے لیے بہتر سہولیات، جدید لائٹنگ، بہتر سڑکیں اور باوقار عوامی مقامات علاقے کے مجموعی ماحول، خوبصورتی اور فعالیت کو مزید بہتر بنائیں گے۔اس منصوبے کا بنیادی مقصد سفارت کاروں، رہائشیوں، ملکی و غیر ملکی مہمانوں کے لیے ایک محفوظ، منظم، خوبصورت اور باوقار ماحول فراہم کرنا ہے۔ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ گریڈشن اسلام آباد کو ایک عالمی معیار کے محفوظ، خوبصورت اور پیشہ ورانہ انداز میں منظم وفاقی دارالحکومت بنانے کے لیے سی ڈی اے کے وسیع تر وژن کا حصہ ہے۔اپ گریڈ ہونے سے ڈپلومیٹک انکلیو بین الاقوامی سفارتی برادری کے سامنے پاکستان کا ایک مثبت، باوقار اور جدید تشخص اجاگر کرے گا، جبکہ سفارت کاروں، بین الاقوامی وفود، سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور دیگر معزز مہمانوں کے لیے ایک بہتر اور عالمی معیار کا ماحول فراہم کرے گا۔ڈپلومیٹک کمیونٹی نے سی ڈی اے کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے جاری اپ گریڈیشن کے کام کو ڈپلومیٹک انکلیو کی سکیورٹی، انفراسٹرکچر، لینڈ اسکیپنگ اور مجموعی طور پرایک اہم قدم قرار دیا ہے۔یہ منصوبہ وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کے وژن اور چیئرمین سی ڈی اے کی قیادت میں اسلام آباد میں ایک ایسے ڈپلومیٹک انکلیو کے قیام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جو پاکستان کی عظمت و وقار، اسلام آباد کے منفرد تشخص اور عصری بین الاقوامی معیار کا حقیقی عکاس ہو۔

*پاک بحریہ کی اہم بحری مشق سی سپارک 2026 کا کراچی میں آغاز*مشق کی افتتاحی بریفنگ کے مہمان خصوصی چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف تھےخطے کے غیر مستحکم اور پیچیدہ سیکیورٹی ماحول میں پاک بحریہ اپنی آپریشنل تیاریوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ ایڈمرل نوید اشرفنیول چیف نے جنگوں کی بدلتی ہوئی نوعیت میں تینوں مسلح افواج کے مابین مضبوط مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ انفارمیشن ڈومین کی اہمیت پر زور دیامشق میں روایتی اور جدید بحری خطرات سے نمٹنے کے لیے پاک بحریہ کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا مشق میں پاک بحریہ کے جنگی جہاز، آبدوزیں، ہوائی جہاز، ڈرونز، پاک میرینز اور اسپیشل آپریشنز فورسز حصہ لیں گےسی سپارک میں پاک آرمی اور پاک فضائیہ بھی مشترکہ حکمت عملی اور جنگی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کریں گےچیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کا پاک بحریہ کے جنگی جہازوں کا دورہ اور جاری آپریشنل سرگرمیوں کا جائزہ نیول چیف کی فلیٹ یونٹس میں افسران اور جوانوں سے ملاقات مشق سی سپارک بحری جنگ کے ہر میدان میں برتری حاصل کرنے کے پاک بحریہ کے غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved