تازہ تر ین

اپوزیشن لیڈر مولانا فضل الرھمان کے گھر پرانی بوتل نئی شراب۔۔جمھوریت کی آخری ھچکیاں۔۔اھم ادارے کی اھم ترین ملاقاتیں زمین بوس۔۔وفاقی کابینہ کی تشکیل نئی کابینہ جنگی کابینہ ھو گی۔۔بندوق کے ساے تلے روالپندی مے کرکٹ۔۔اسلام آباد روالپندی مکمل طور پر سیل سرینا چوک بند رہڈزوں مری روڈ سیل۔۔کرکٹ میچ سٹیڈیم روڈ پولیس کے حوالے۔۔3 اھم ترین شخصیات گرفتار نامعلوم جگہ پر منتقل۔۔ ۔اسلام آباد میں غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے۔۔وزیر اعطم کی تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت سھیل آفریدی کا انکار۔۔اب دما دم مست قلندر ھو گا کوی غلط فہمی میں نہ رھے لاکھوں افراد لے کر اسلام آباد کی طرف پیش قدمی جاری۔۔۔۔فتح میزائل کا تجربہ۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

اپوزیشن لیڈرمحمود خان اچکزئی نے اپوزیشن کو مذاکرت کی ہدایات جاری کردیں،ذرائعمحموداچکزئی نے اخونزادہ حسین یوسفزئی کے ذریعہ اپوزیشن رہنماوں کو پیغام بھجوادیا،ذرائعمحمود اچکزئی نے کہا کہ اگرحکومت رابطہ کرے تو مثبت جواب دیا جائے،ذرائعمحموداچکزئی نے کہا حکومت کے رابطے پرپہلی شرط بانی سے ملاقات ہونی چاہیے،ذرائعمحمود اچکزئی نے کہا کہ بہنوں کی رہائی سے حکومت مثبت پیشرفت کا آغازکرسکتی ہے،ذرائعمحمود اچکزئی نے کہا اگربانی سے ملاقات نہیں ہوتی تو وزیراعظم سے ملاقات بے معنی ہوگی،ذرائع محموداچکزئی نے کہا بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وزیراعظم سے ملاقات سے انکارکا سوچا جاسکتا ہے،ذرائع

د. لبنى فرح سعودی فضائی حدود میں کشیدگی: جازان اور نجران ایئرپورٹس پر حملوں کی تصدیق، ابھا سے متعلق حوثی دعویٰ غیر مصدقہحوثیوں کا سعودی فضائی حدود میں پروازوں سے گریز کا انتباہ؛ سعودی حکام نے جازان اور نجران میں حملوں اور تین افراد کے معمولی زخمی ہونے کی تصدیق کر دیریاض، 6 اکتوبر 2026: سعودی عرب میں فضائی اور سکیورٹی صورتحال میں کشیدگی اس وقت مزید نمایاں ہوگئی جب سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (GACA) نے تصدیق کی کہ پیر کی شام جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق واقعات میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے جبکہ بعض املاک کو بھی نقصان پہنچا۔دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے منگل کو دعویٰ کیا کہ ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان کے مطابق حملہ براہِ راست تھا اور اس کے نتیجے میں ایئرپورٹ پر فضائی ٹریفک متاثر ہوئی۔تاہم سعودی حکام کی جانب سے اب تک ابھا ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے یا وہاں فضائی ٹریفک میں خلل کے اس مخصوص دعوے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ابھا سے متعلق حوثیوں کے دعوے کے نتائج کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔سعودی ایئرپورٹس پر حملےسعودی سول ایوی ایشن حکام کے مطابق جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے۔ حکام نے املاک کو پہنچنے والے نقصان کی بھی اطلاع دی ہے۔دونوں ہوائی اڈے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں واقع ہیں اور یمن کی سرحد کے نسبتاً قریب ہونے کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ابھا ایئرپورٹ سے متعلق حوثی دعویٰحوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں کہا کہ ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملہ اپنے ہدف تک پہنچا اور ایئرپورٹ کی فضائی سرگرمی متاثر ہوئی۔تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں ہے۔ اس لیے ابھا ایئرپورٹ کو پہنچنے والے نقصان، حملے کے اثرات اور فضائی آپریشن پر اس کے مبینہ اثرات سے متعلق تفصیلات کو فی الحال حوثی دعوے کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی ایئر لائنز کے لیے حوثیوں کا انتباہحوثی ترجمان نے بین الاقوامی ایئر لائنز کو سعودی فضائی حدود میں پروازیں جاری رکھنے کے خلاف بھی خبردار کیا۔ بیان میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اوپر موجود فضائی حدود کو اس انتباہ سے مستثنیٰ قرار دینے کا دعویٰ کیا گیا۔

تاہم یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ حوثیوں کی جانب سے جاری کردہ انتباہ ہے اور اسے سعودی حکومت، بین الاقوامی سول ایوی ایشن اداروں یا کسی عالمی فضائی حفاظتی اتھارٹی کی عمومی فضائی پابندی تصور نہیں کیا جا سکتا۔وسیع تر سکیورٹی صورتحالتازہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کے متعدد دعوے کیے ہیں۔ ان دعوؤں میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، رابغ میں آرامکو کی تنصیب اور سعودی عرب کے جنوبی حصے میں فوجی تنصیبات کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی بات بھی شامل ہے۔دوسری جانب سعودی حکام کی جانب سے جازان اور نجران کے حملوں کی تصدیق اس صورتحال کے ایک اہم تصدیق شدہ پہلو کے طور پر سامنے آئی ہے۔مسافروں اور ایئر لائنز کے لیے اہم ہدایتمسافروں کو چاہیے کہ وہ اپنی پرواز سے متعلق تازہ ترین معلومات براہِ راست متعلقہ ایئر لائن، ایئرپورٹ یا مجاز سول ایوی ایشن حکام سے حاصل کریں۔ موجودہ صورتحال میں پروازوں کے اوقات، راستوں یا آپریشنز میں تبدیلی ممکن ہے۔اہم نکات- تصدیق شدہ: جازان اور نجران ایئرپورٹس پر حملے۔- تصدیق شدہ: تین افراد معمولی زخمی ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچا۔- حوثیوں کا دعویٰ: ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ۔- ابھی غیر مصدقہ: ابھا ایئرپورٹ پر حملے کے نتیجے میں فضائی ٹریفک میں خلل اور نقصان کی تفصیلات۔- حوثیوں کا انتباہ: بین الاقوامی ایئر لائنز سعودی فضائی حدود میں پروازوں سے گریز کریں۔- اہم وضاحت: حوثیوں کا یہ انتباہ بذاتِ خود سعودی عرب یا کسی بین الاقوامی ہوا بازی ادارے کی باضابطہ فضائی پابندی نہیں ہے۔خلاصہسعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں حالیہ حملوں نے شہری ہوابازی کے تحفظ سے متعلق خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔ جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی سعودی حکام کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ ابھا ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے سے متعلق حوثیوں کا دعویٰ تاحال آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوا۔ صورتحال کے پیش نظر مسافروں اور ایئر لائنز کے لیے سرکاری اور ایئرلائن ذرائع سے تازہ ترین سفری معلومات حاصل کرنا اہم ہے۔

د. لبنى فرح باب المندب محاذ: یمنی حکومتی فورسز کی پیش قدمی، حوثیوں کے سعودی اہداف پر حملوں کے دعوےصنعا/ریاض — 5 اکتوبر 2026: سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے مغربی یمن میں باب المندب آبنائے کے اطراف حوثی ملیشیا کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کے دوران اہم پیش قدمی کرتے ہوئے متعدد پوزیشنوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔مقامی حکومتی ذرائع کے مطابق کارروائی کا مرکزی محور ذُباب، باب اور حدید کے علاقے تھے، جو باب المندب کے قریب اہم تزویراتی حیثیت رکھتے ہیں۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی دستے حوثی جنگجوؤں کو ساحلی علاقوں سے پیچھے دھکیلتے ہوئے موخا کے مضافات تک پہنچ گئے۔یمنی وزارتِ دفاع نے بعد ازاں موخا شہر پر حکومتی فورسز کے دوبارہ کنٹرول کا اعلان کیا۔ تاہم اس دعوے کی مکمل آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور جنگی صورتِ حال سے متعلق مختلف فریقوں کے بیانات میں نمایاں فرق موجود ہے۔سعودی فضائی معاونتفوجی پیش قدمی کو سعودی قیادت والے اتحاد کی فضائی معاونت حاصل رہی۔ سعودی ذرائع کے مطابق فضائی کارروائیوں کا مقصد حوثی جنگجوؤں کی دفاعی پوزیشنوں، نقل و حرکت کے راستوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا اور حکومتی زمینی دستوں کے لیے فضائی تحفظ فراہم کرنا تھا۔سعودی اتحاد کی جانب سے حوثی اہداف کی بڑی تعداد کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ان دعووں کی تفصیلی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔حوثیوں کا جوابی ردعملدوسری جانب حوثی فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ تنظیم نے سعودی عرب کے اندر متعدد اہم اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔حوثیوں کے مطابق ان اہداف میں ریاض کا شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ، رابغ میں سعودی آرامکو کی تنصیب، ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور خمیس مشیط کے قریب فوجی تنصیبات شامل ہیں۔تاہم ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصان، جانی نقصانات یا تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ سعودی حکومت اور آرامکو کی جانب سے فوری طور پر ان دعووں پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔باب المندب کی تزویراتی اہمیتباب المندب دنیا کے اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے اور بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔ اس خطے میں کسی بھی فریق کی مستقل فوجی برتری عالمی بحری تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی شپنگ کے لیے اہم مضمرات رکھ سکتی ہے۔تاہم موخا یا باب المندب کے قریب کسی مخصوص ساحلی علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا پورے باب المندب پر مکمل فوجی کنٹرول کے مترادف نہیں۔ آبنائے کے دونوں اطراف، ساحلی پوزیشنوں، جزائر اور بحری راستوں کی مجموعی صورتِ حال اس حوالے سے اہم ہے۔تعز کا محاذاسی دوران یمن کے دوسرے محاذوں پر صورتحال یکساں نہیں رہی۔ اطلاعات کے مطابق حوثی فورسز نے تعز کے اطراف بعض علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ تربہ کے علاقے پر حوثیوں کے کنٹرول کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے حکومتی فورسز کی نقل و حرکت اور رسد کے راستوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔اس طرح موجودہ فوجی صورتِ حال کو حوثیوں کی مکمل پسپائی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ مغربی ساحل پر حکومتی فورسز کو پیش قدمی حاصل ہوئی ہے، جبکہ تعز سمیت بعض دیگر محاذوں پر حوثی فورسز بھی فعال کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ہرمز اور باب المندب: دو الگ تزویراتی راستےموجودہ کشیدگی کو خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ تاہم دونوں بحری گزرگاہیں جغرافیائی طور پر مختلف ہیں۔آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتی ہے، جبکہ باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے جوڑتا ہے۔ دونوں راستوں میں رکاوٹ عالمی توانائی اور بحری تجارت پر اثر انداز ہوسکتی ہے، تاہم ان کے عملی اور جغرافیائی کردار ایک جیسے نہیں۔پاکستان اور ترکی کا دفاعی پہلوعلاقائی سلامتی کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ تاہم دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستانی یا ترک افواج یمن کے اندر براہِ راست جنگی کارروائی میں شامل ہوگئی ہیں۔رپورٹ شدہ اقدامات کا تعلق بنیادی طور پر سعودی عرب کے دفاع اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے سے ہے۔

انسانی صورتحالیمن میں تازہ فوجی کشیدگی نے پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔ اقوام متحدہ سے وابستہ اداروں کے مطابق حالیہ لڑائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے حوالے سے مختلف ذرائع کے اعداد و شمار میں فرق پایا جاتا ہے۔فوجی صورتحال کا ابتدائی جائزہموجودہ اطلاعات سے یہ تصویر سامنے آتی ہے کہ:باب المندب کے مغربی ساحلی محاذ پر یمنی حکومتی فورسز نے اہم پیش قدمی کی ہے۔ذُباب اور ملحقہ علاقوں میں حکومتی کنٹرول کی اطلاعات نسبتاً مضبوط ہیں۔موخا پر مکمل کنٹرول حکومت کا دعویٰ ہے، جس کی آزادانہ تصدیق محدود ہے۔سعودی فضائی معاونت نے حکومتی زمینی کارروائی میں اہم کردار ادا کیا۔حوثیوں کے سعودی اہداف پر حملوں کے دعوے سامنے آئے، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔تعز کے محاذ پر حوثی فورسز کی سرگرمی بدستور جاری ہے۔باب المندب کی موجودہ صورتِ حال کو پورے بحری راستے پر کسی ایک فریق کا مکمل کنٹرول قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ابتدائی نتیجہ:موجودہ پیش رفت کو یمن کی جنگ میں ایک اہم آپریشنل اور تزویراتی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، تاہم زمینی کنٹرول کی حتمی حد، موخا کی مکمل حیثیت اور سعودی تنصیبات پر مبینہ حوثی حملوں کے نتائج کے بارے میں مزید آزادانہ اور قابلِ اعتماد شواہد درکار ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللّٰہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور یہ آفر اب بھی موجود ہے۔رانا ثنااللّٰہ نے کہاکہ تحریک انصاف لانگ مارچ ختم کرے تو بات ہوسکتی ہے، پی ٹی آئی کو غیر مشروط طور پر وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے کیونکہ ملک کو اس وقت دہش*تگردی کا سامنا ہے۔انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کو کب کہا کہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرائیں گے، ڈرافٹ میں سیاسی کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوگیا تھا، موجودہ مذاکراتی کمیٹی کو ہی سیاسی کمیٹی کا درجہ دے دیا جاتا۔رانا ثنااللّٰہ نے کہا کہ عمران خان کو شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے چیک کرایا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت بیرونی دہش*تگردی کا سامنا ہے، بیرونی جارحیت مسلط ہو تو پہلا فرض پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ تحریک انصاف کو بغیر کسی اگر مگر کے وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔رانا ثنااللّٰہ کا کہنا تھا کہ ایسا لانگ مارچ مہینہ بھی جاری رکھیں تو یہ خود ہی تھک جائیں گے۔ تحریک انصاف دوبارہ استعفے دے کر دیکھ لے، ان کے استعفوں سے سسٹم متاثر نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تین دن سے لانگ مارچ نکلا ہوا ہے لیکن لوگ نہیں نکل رہے،تحریک انصاف مار دھاڑ کی سیاست کررہی

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved