مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے حکومت کو پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات کرانے کا مشورہ دے دیا۔اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حکومت کو شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع پر احتجاج کا عُذر ختم کر دینا چاہیے اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی اپنے قائد سے ملاقات کا اہتمام کرنا چاہیے۔سعد رفیق کا کہنا تھا ایس سی او کانفرنس کے موقع پر تصادم سے گریز کر کے جگ ہنسائی سے بچا جائے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرا بھی دی گئی تو وہ احتجاج کا کوئی اور بہانہ نکال سکتے ہیں۔خیال رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے جا رہا ہے جس میں شرکت کے لیے چینی وزیراعظم کے علاوہ بھارتی، روسی اور ایرانی وفود پاکستان پہنچ چکے ہیں۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے 15 اکتوبر کو ڈی چوک اسلام آباد پر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے اور ترجمان پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر ہماری عمران خان سے ملاقات کرا دی جائے تو احتجاج کی کال واپس لے لیں گے۔
*وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ایس سی او کانفرنس کی کوریج کرنے والے مقامی اور غیر ملکی میڈیا کیلئے میڈیا فیسلیٹیشن سینٹر کا افتتاح کر دیا*افتتاح کے موقع پر وفاقی سیکریٹری اطلاعات عنبرین جان۔ پرنسپل انفارمیشن آفیسر (پی آئی او) مبشر حسن اور وزارت اطلاعات کے دیگر اعلی افسران بھی موجود 15 اور 16 اکتوبر کو منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس کے موقع پر مقامی اور غیر ملکی میڈیا کے نمائندے میڈیا فیسلیٹیشن سینٹر سے مستفید ہوں گےپاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر میں قائم میڈیا فیسلیٹیشن سینٹر میں کمپیوٹر لیب، ہائی سپیڈ انٹرنیٹ، ڈیجیٹل پرنٹر، ڈیجیٹل سٹوڈیو، پوڈ کاسٹ سٹوڈیو، میڈیا لائبریری، کانفرنس روم سمیت جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیںمیڈیا فیسلی ٹیشن سینٹر میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کی طرف سے بھرپور انتظامات کئے گئے ہیںڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلی کیشنز کی جانب سے میڈیا فیسلیٹیشن سینٹر میں ڈیجیٹل لائبریری بھی قائم کی گئی ہے میڈیا فیسلیٹیشن سینٹر میں مقامی اور غیر ملکی صحافیوں کی سہولت کیلئے انفارمیشن ڈیسک بھی قائم کیا گیا ہےایس سی او کانفرنس کے دوران میڈیا فیسلیٹیشن سینٹر میں ایس سی او کانفرنس کی کوریج کرنے والے صحافیوں کیلئے چوبیس گھنٹے سہولیات دستیاب ہوں گی
پاکستان ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر ????️سلیکشن کمیٹی کی غیر مستقل مزاجی اور پی سی بی کی چیئرمین شپ میں بار بار ہونے والی تبدیلیوں سے پاکستان کرکٹ ٹیم کی پرفارمنس متاثر ہوگئی ہے پی سی بی میں کرکٹ سے لاعلم افراد بھرتی ہے یہ ٹیم اتنی بری نہیں تھی کچھ عرصہ قبل خاص کر وائٹ بال کی ٹاپ ٹیم تھی ٹیم میں اتحاد بہت اچھی تھی لیکن اب وہ چیز نظر نہیں آرہا ہے ٹیم بکھری ہوئی ہے #PakvsEng | #BANvsIND | #ShanMasood #BabarAzam #syedghafarshah #cricket #MohammadRizwan
چین کے وزیراعظم لی چیانگ 4 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے، یہ کسی بھی چینی وزیراعظم کا 11 سال بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزرا کے ہمراہ چینی ہم منصب کا نورخان ایئر بیس پر استقبال کیا۔ڈان نیوز کے مطابق چینی وزیراعظم لی چیانگ وفد کے ہمراہ ایئرچائنا کے طیارے میں نور خان ایئر بیس پر اترے، جہاں ان کا بھرپور استقبال کیا گیا۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ، نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال ودیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔نور خان ایئربیس پر دو بچوں نے چینی وزیراعظم کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے، پاکستان آمد پر چینی وزیراعظم کو 21 توپوں کی سلامی پیش کی گئی۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے باضابطہ ملاقات کی درخواست نہیں کی ،ہماری جانب سے ایسی کوئی پیشکش نہیں کی گئی ہے، پاکستان 27 سال بعد کسی بڑے ایونٹ کی میزبانی کررہا ہے، اسلا م آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے کئی رکن ملکوں نے وزیراعظم سے ملاقات کی درخواست کی۔چینی وزیر اعظم پاکستان میں اہم منصوبوں سے متعلق تبادلہ خیال کریں گے اور ایس سی او سربراہی اجلاس میں چین کی نمائندگی کریں گے۔یہ بھی بتایاگیا ہے کہ چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ آج اسلام آباد پہنچیں گے اور سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں ۔ مہمانوں کی آمد سے قبل اسلام آباد کو سجا دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر سربراہان مملکت کی آمد کے پیش نظر شہر میں سخت سیکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کیلئے مختلف ممالک کے وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ چین، بھارت، روس، ایران اور کرغزستان کے وفود پاکستان پہنچ گئے ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کرنے والے سربراہان حکومت میں عوامی جمہوریہ چین کے وزیراعظم لی چیانگ بھی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔روس کے وزیراعظم میخائل مشوستن بھی کانفرنس کیلئے پاکستان پہنچیں گے۔ بیلاروس کے وزیراعظم رومان گولوف چینکو ایس سی او اجلاس میں شرکت کریں گے۔کرغزستان کے وزراءکی کابینہ کے چیئرمین زاپاروف اکیل بیک بھی پہنچ گئے ہیں جبکہ تاجکستان کے وزیراعظم کوہر رسول زادہ اور ازبکستان کے وزیراعظم عبداللہ اریپوف بھی کانفرنس میں شریک ہونگے۔مہمانوں کی آمد سے قبل اسلام آباد کو دلہن کی مانند سجا دیاگیا۔شہر کی اہم شاہراہوں، چوک چوراہوں پر سبزی ہلالی رنگوں کی خوبصورت منظر کشی کی گئی ہے۔ سرکاری عمارات کے ساتھ ساتھ نجی کاروباری مراکز کو بھی سجایا گیا ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور سربراہان مملکت کی آمد کے پیش نظر شہر میں سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔اسلام آباد میں سربراہی اجلاس کے دوران سڑکوں پر فوج کی تعیناتی کی اجازت دے دی گئی تھی تاکہ سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
اہم ، گزشتہ 11 برس میں چیف جسٹس بننے والوں کے نوٹیفکیشنز کتنے دن پہلے ہوتے رہے ان میں انوکھا لاڈلہ کون ٹھہرا ؟ جسٹس تصدق حسین جیلانی کا 2013 میں بطور چیف جسٹس نوٹیفکیشن 15 دن پہلے ہوا جسٹس ناصر الملک کا 4 دن پہلے ، جسٹس جواد ایس خواجہ کا 12 دن پہلے ، جسٹس انور ظہیر جمالی کا 11 دن پہلے ، جسٹس ثاقب نثار کا 23 دن پہلے ، جسٹس آصف سعید کھوسہ کا 14 دن پہلے ، جسٹس گلزار احمد کا 17 دن پہلے ، جسٹس عمر عطا بندیال کا 20 دن پہلے جبکہ ون اینڈ اونلی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا 84 دن پہلے نوٹیفکیشن ہوا تھا جبکہ جسٹس منصور علی شاہ کا نوٹیفکیشن 11 دن پہلے ابھی تک نہیں ہوا ، اب لب لباب یہ ہوا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے علاؤہ پچھلے 11 سال میں تمام چیف جسٹس کے نوٹیفکیشنز ایک ماہ سے کم مدت قبل ہوتے رہے بلکہ جسٹس ناصر الملک کا 4 دن پہلے بھی ہوا تو شور نہیں مچا جس طرح آج مچا ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تب روٹین تھی کم وقت رہ گیا یا زیادہ کی بحث ہی نہیں تھی اب جان بوجھ کر نوٹیفکیشن نہیں کیا جا رہا حکومت کی ہر ممکن کوشش ہے کہ ترامیم کرکے کچھ نیا ہی کیا جائے اگر نیا نا ہو سکا تو پھر پرانے نظام کے مطابق تو لا محالہ جسٹس منصور علی شاہ کا ہی نوٹیفکیشن ہونا ہے
عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف ) نے پاکستام میں کرپشن کے خاتمے کے لیے حکومت سے مزید اقدامات کا مطالبہ کرلیا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو فراہم کردہ 7 ارب ڈالر کے نئے قرض پروگرام کے تحت طے پانے والی شرائط سے متعلق رپورٹ میں عالمی ادارے نے پاکستان میں سرکاری بدانتظامی کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن کے مقدمات میں سیاسی مقاصد کے لیے ہراسانی ختم کی جائے۔ حکومت سے مطالبات میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) کو زیادہ آزاد اور خود مختار بنانے کے اقدامات کیے جائیں اور نیب کو احتساب کے لیے مزید مؤثر بنایا جائے۔پاکستان میں کرپشن ختم کرنے کے لیے تحقیقاتی نظام بہتر بنایا جائے، جون 2025 تک کرپشن کے خاتمے کے لیے ایکشن پلان تیار کیا جائے۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ انسداد کرپشن کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن کی روشنی میں جائزہ رپورٹ تیار کی جائے اور کرپشن کے خلاف مقدمات میں سرکاری اداروں کی کمزور قانونی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے۔تمام سرکاری افسران کے اثاثوں کی معلومات رسائی آسان بنائی جائے، سرکاری افسران کے غیر قانونی طریقے سے بڑھتے اثاثوں کو روکا جائے اور سرکاری افسران کے اثاثوں اور آمدن کے گوشواروں کو پبلک کیا جائے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فروری تک سرکاری افسران اور اراکین پارلیمنٹ کے اثاثے پبلک کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے، تمام سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے کے لیے ایف بی آر کو ڈیجیٹلائز کیا جائے،نیب کو کرپشن کی تحقیقات کے لیے درست ڈیٹا فراہم نہیں کیا جاتا اور مطالبہ کیا ہےکہ پاکستان میں سرکاری اداروں میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔
*سی پیک کی ترقی ;چینی وزیر اعظم کا دورہ پاکستان آج سے شروع* , (اصغر علی مبارک)پاک چین دوستی دنیا کے لیے ایک مثال ہے, پاکستان اور چین دو ایسے ملک ہیں جو دوستی کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے ہیں , یہ دوستی برسوں پر محیط ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہےپاکستان اور چین کی لازوال شراکت داری اور گہری دوستی دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے اور یہ ہمارے عوام کا تاریخی انتخاب ہے۔ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ترین ستون ہیں۔پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات انتہائی اچھے ہیں۔ دونوں ممالک نہ صرف معاشی بلکہ اقتصادی، اسلحہ اور توانائی میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے رہے ہیں, چینی وزیر اعظم لی کا دورہ پاکستان ,آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کا اظہارہے , چین کے وزیر اعظم لی کیانگ وزیر اعظم پاکستان کی دعوت پر14اکتوبر سے17 اکتوبر تک پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں. چینی وزیر اعظم لی کا دورہ اسلام آباد پاکستان اور چین کی جانب سے “آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ” کی اہمیت کا اظہار ہے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور وزیر اعظم لی کیانگ اپنے اپنے وفود کی قیادت کریں گے جہاں وہ پاک چین تعلقات کے تمام پہلوؤں بشمول اقتصادی اور تجارتی تعلقات اور سی پیک کے تحت تعاون پر جامع بات چیت کریں گے, دونوں فریقین علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی بات کریں گے۔ چینی وزیراعظم صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے اور پارلیمانی رہنماؤں ,پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ چینی وزیراعظم اسلام آباد میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان حکومت کی کونسل کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ وزیر اعظم لی کا دورہ اسلام آباد پاکستان اور چین کی جانب سے “آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ” کی اہمیت کا اظہار ہے۔ یہ دونوں فریقوں کے لیے بنیادی دلچسپی کے امور پر باہمی تعاون کی توثیق کرنے کا موقع ہوگا۔ CPEC کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانا اور اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر باقاعدہ تبادلوں کو تقویت دیناہے یاد رکھیں کہ پاکستان اور پاکستان کے لوگ اس تعلق کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فخر سے چین کو ا پنا بہترین دوست قرار دیتے ہیں جبکہ چینی قوم بھی آہنی بھائی کی اصطلاح فقط پاکستان کے لیے استعمال کرتی ہے۔پاک چین تعلقات بہت خاص نوعیت کے حامل ہیں۔ یہ بھائی چارے ‘ دوستی اور اعتماد کا وہ باب ہے جس کی بنیاد ستر سال سے زائد عرصہ قبل رکھی گئی تھی۔دونوں ممالک کی اس وقت کی قیادت نے انتہائی بالغ نظری سے ایک مستحکم تعلق کا آغاز کیا جو ہر گزرتے برس کے ساتھ ساتھ مزید مؤثر‘ مضبوط اور توانا تر ہوتا گیا۔ نہایت مہارت اور ہوشمندی سے تشکیل دیا گیا یہ خاص تعلق وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترا ہے اور لمبے عرصے کی تزویراتی شراکت پر محیط ہے۔پاکستان 1947ء میں قائداعظم کی قیادت میں آزاد ہوا جبکہ چین 1949ء میں مائوزے تنگ کی عظیم قیادت اور اُن کے لانگ مارچ کے ثمرات کے نتیجہ میں آزاد ہوا۔ 1949ء میں چین کی آزادی کے ساتھ ہی پاکستان اور چین کے تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہونا شروع ہو گئے تھے۔ پاکستان نے چین کی آزادی کو تسلیم کیا یہ پاکستان اور چین کی دوستی کا نقطہ آغاز تھا یا اسے اِس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ پاکستان اور چین کی دوستی کی ابتدا تھی۔ پاک بھارت جنگ میں چین نے پاکستان کا ہر طرح ساتھ دیا اور پاکستان کی بھرپور مدد کی اور اپنی سچی دوستی کا حق نبھایا اِس جنگ میں چین نے پاکستان کی حمایت میں جو کردار ادا کیا وہ مثالی تھا اور پاکستان اور چین کی دوستی ایک مثالی دوستی میں تبدیل ہو گئی۔جب 1949 میں چین آزاد ہوا تو امریکا اور چین کے تعلقات اتنے بہتر نہیں تھے بلکہ کشیدگی کی طرف مائل تھے لیکن پاکستان کی کئی سالوں پر مشتمل مسلسل کوشش اور مخلصانہ جدوجہد کے نتیجہ میں اُس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے چین کا دورہ کیا۔ اس طرح امریکا اور چین کے تعلقات بہتر ہونا شروع ہو گئے اور چین کا عالمی برادری میں ایک مقام پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ چین کو اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت مل گئی اور چین کو اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کا حق مل گیا۔ پاکستان کے اِس کردار کی وجہ سے چین کی نظر میں پاکستان کا وقار بہت بلند ہو گیا۔چین نے ہر موقع پر پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی کو نبھایا ہے۔ چین نے پاکستان کی دُنیا کی تمام مخالفتوں کے باوجود ٹینک سازی اور طیارہ سازی میں بھرپور مدد کی جس کی وجہ سے پاکستان کی اسلحہ سازی کی صنعت نے بہت ترقی کی اس کے علاوہ چین پاکستان کی مختلف دفاعی منصوبہ جات میں بھرپور مدد کر رہا ہے جس کی وجہ سے چین اور پاکستان کے تعلقات میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے۔چین توانائی اور دیگر بہت سے منصوبہ جات میں جن میں سینڈک کا منصوبہ، گوادر پورٹ کا منصوبہ پاکستان کو ریلوے انجن کی فراہمی اور دیگر بے شمار ایسے منصوبہ جات ہیں جن میں پاکستان کو چین کی بھرپور مدد حاصل ہے جس سے پاکستان اور چین دوستی کے ایک ایسے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔چین کے ساتھ قریبی دوستی کو پاکستانی عوام کی مستقل حمایت حاصل ہے۔بے مثال دوستی پر مبنی دو برادر ممالک کا یہ بھائی چارہ وقت کے ہر امتحان پر پورا اترتا آیا ہے اور دونوں ممالک ہر قسم کے تغیرات زمانہ سے بے نیاز ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔دونوں ممالک کے عوام کے مابین محبت و الفت کا یہ رشتہ درحقیقت ’’پہاڑوں سے بلند‘ سمندر سے گہرا اور شہد سے میٹھا‘‘ ہے۔چین کے پہلے وزیراعظم چو این لائی نے ایک بار کہا تھا چین اور پاکستان کے عوام کے درمیان دوستانہ روابط زمانہ قدیم سے ہیں۔ یقیناً پاک چین تعلقات ہمارے لوگوں کے درمیان موجود قدیم تہذیبی رشتوں کا تسلسل ہیں۔دونوں ممالک کے باہمی تعاون اور تزویراتی شراکت کا یہ پودا اب ایک تناور درخت بن چکا ہے اور اس کی پیار بھری جڑیں ہمارے لوگوں کے دلوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ یاد رکھیں کہ پاکستان سی پیک کے دوسرے مرحلے میں اعلیٰ معیار کے حامل منصوبوں پر کام کے لیے تیار ہے اور دوسرے مرحلے کی کامیاب تکمیل کے لیے پر عزم ہے۔ پاکستانی سی پیک کو ترقی اور روزگار کی فراہمی کا اہم ذریعہ جانتے ہیں اور سبز معیشت ‘ نئی ٹیکنالوجی‘ مل جل کر ترقی کرنے اور کھلی معیشت کے لیے چین کی تجاویز سے ا تفاق کرتے ہیں۔سی پیک اقتصادی خوشحالی اور رابطے کے حوالے سے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے خواب کی بہترین تعبیر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سی پیک پاکستان کے سماجی و اقتصادی منظر نامے میں انقلابی تبدیلیاں لاتا جا رہا ہے۔ اس سے جدید انفرااسٹرکچر وجود میں آیاہے‘ علاقائی رابطے بہتر ہوئے ہیں‘ توانائی کی کمی پوری ہوئی ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ گُزشتہ سال چین پاکستان اقتصادی راہداری کی دس سالہ تقریبات میں شرکت کے لیے صدر شی جن پنگ کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے چین کے نائب وزیراعظم ہی لائفنک پاکستان تشریف لائے تھے۔چینی ریاستی کونسل کی جانب سے حال ہی میں ایک وائٹ پیپر جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بی آر آئی مشترکہ مستقبل کی عالمی برادری کا ایک اہم ستون ہے۔بی آر آئی کے بعد سامنے آنے والے تصورات بشمول گلوبل ڈویلپمنٹ انیشٹیو ‘ گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشیٹو سے ’’مشترکہ کمیونٹی‘‘ کا تصور مزید واضح ہو جاتا ہے۔پاکستان بی آر آئی میں شامل ہونے والے اولین ممالک میں سے ہے۔چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے پرچم بردار کے طور پر سی پیک پاک چین تعلقات میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سی پیک کے ذریعے اقتصادی تعاون اور کنیکٹوٹی پاک چین تعلقات کا مرکزی نقطہ بن چکے ہیں اور اس وقت دونوں ممالک پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ چینی تصور تیان زی ہے جسے ہم اردو میں ’’آسمان کے نیچے ہم آہنگی‘‘ کہہ سکتے ہیں‘ پوری دنیا کی طرف اشارہ کرتا ہے اور پائیدار امن کے لیے تنوع کو تسلیم کرتے ہوئے باہمی تعاون پر زور دیتا ہے۔چینی صدر شی بین الاقوامی تعاون و تبادلے کے خیال تازہ کے مؤجد ثابت ہوئے ہیں اور انھوں نے دنیا کی آپسی جڑت کا اچھوتا مگر قابل عمل ماڈل پیش کیا ہے جس کی عملی شکل بتدریج سامنے آتی جا رہی ہے۔اس مدبرانہ تصور کا مرکزی نکتہ ایک ایسی سماجی اور اقتصادی ترقی ہے جس میں سب شامل ہوں‘ سب کا فائدہ ہو اور سب کی فتح ہو۔ یہ ایک آپس میں جڑی ہوئی صاف ستھری‘ پرامن اور خوبصورت دنیا کا تصور ہے۔ ایک ایسی دنیا جو سب کے لیے ہے اور جس میں کسی کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔جوں جوں ہم اس خیال کی گہرائی میں اترتے ہیں‘ ہمیں واضح ہوتا جاتا ہے کہ یہ تصور قدیم چینی فلسفے اور حکمت پر مبنی ہے۔چینی تصور تیان زی ہے جسے ہم اردو میں ’’آسمان کے نیچے ہم آہنگی‘‘ کہہ سکتے ہیں‘ پوری دنیا کی طرف اشارہ کرتا ہے اور پائیدار امن کے لیے تنوع کو تسلیم کرتے ہوئے باہمی تعاون پر زور دیتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان جی ڈی آئی گروپ آف فرینڈز کا بھی ایک اہم رکن ہے اور اس نے اسے مزید ٹھوس شکل دینے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان جی ڈی آئی کے تحت پہلا ترجیحی شراکت دار اورجی ڈی آئی مفاہمت نامے پر دستخط کرنے والا پہلا ملک ہونے کی حیثیت سے تعلیم‘ صحت‘ موسمیاتی تبدیلی اور غربت میں کمی کے شعبوں میں تعاون سے بروقت انداز میں مستفید ہونے کے لیے تیار ہے۔اس طرح ہمیں پائیدار ترقی کے مقاصد بروقت حال کرنے میں مدد ملے گی۔پاکستان جی ایس آئی کی بھی حمایت کرتا ہے اور اسے اقوام متحدہ کے چارٹر اور کثیر الجہتی اصولوں اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت سے مطابق جانتا ہے۔ مدت سے حل طلب تنازعات اور دہشت گردی سے نقصان اٹھانے کی بنا پر ہم جنوبی ایشیا میں علاقائی امن کو یقینی بنانے کے لیے باہمی احترام پر مبنی بات چیت کی بھی حمایت کرتے ہیں, یہ صدر شی جن پنگ کا ایک اور تاریخی اور بروقت اقدام ہے۔جس میں تنوع‘ پرامن بقائے باہمی‘ ایک دوسرے سے سیکھنے اور جامعیت کے احترام کو فروغ دیا گیا ہے جو اختلاف اور تفرقہ سے دو چار دنیا میں تہذیب کے درمیان مکالمے‘ امن اور مفاہمت کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ارشادات کی روشنی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مقاصد ہمیشہ ’’اندرونی و بیرونی امن‘‘ رہے ہیں۔لہٰذا‘ صدر شی جن پنگ کی طرف سے پیش کیے گئے ان اہم اقدامات کی توثیق پاکستان کے لیے فطری تھی۔تنازعات ‘ معاشی کساد بازاری‘ غذائی عدم تحفظ‘ سماجی عدم مساوات اور موسمیاتی تبدیلی جیسے متعدد چیلنجوں سے دوچار دنیا میں پاک چین اسٹرٹیجک پارٹنر شپ کی ا ہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے فخر اور سکون کا باعث ہے اور خطے کے اندر اور باہر امن و استحکام کا عنصر ہے۔ ہمارا ماضی‘ حال اور مستقبل کا رشتہ ہے۔ اور کوئی چیز اس حقیقت کو بدل نہیں سکتی۔ہماری دیرینہ روایات کے مطابق ہم اپنے بنیادی مسائل پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم پاکستان کی خود مختاری‘ علاقائی سالمیت‘ اقتصادی استحکام اور جموں و کشمیر کے معاملے پر چین کی اصولی حمایت کے لیے اس کے شکر گزار ہیں۔ ہم ون چائنا پالیسی کے لیے اپنی وابستگی اور تائیوان‘ ہانگ کانگ‘ تبت‘ سنکیانگ اور بحیرہ جنوبی چین سمیت اس کے بنیادی مسائل پر چین کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ اسٹرٹیجک پارٹنرز اور آہنی بھائیوں کی حیثیت سے پاکستان اور چین مشترکہ مستقبل کی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان کو یقین ہے کہ ہماری دوستی آنے والے دنوں میں مزید مضبوط ہو گی اور آنے والے برسوں میں اس کو مزید فروغ حاصل ہو گا۔ یاد رہے کہ 23 مئی 2013ء کو پاکستان میں چینی وزیر اعظم کے دورے کے دوران، صدر پاکستان آصف علی زرداری اور چینی وزیر اعظم کے درمیان گوادر پورٹ کی حوالگی سمیت پاک چائنہ اقتصادی راہداری سمیت مختلف شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر چین اور پاکستان کے درمیان منصوبوں پر دستخط ہوئے تھے۔ راہداری کے بڑے منصوبے جو دوطرفہ تعاون سے ہیں: چین کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس قوم نے ہر دور میں کڑی محنت سے اپنا ایک بلند مقام حاصل کیا ہے۔ پاک چائنہ اقتصادی راہداری پروجیکٹ میں اب کئی ممالک شامل ہو چکے ہیں۔چین کا یہ پراجیکٹ اپنی تکمیل کی جانب رواں دواں ہے۔*پاکستان زندہ باد !پاکستان چین دوستی پائندہ باد! _*