All posts by admin

دھرنا پارلیمنٹ ھاوس کے اندر شفٹ 15 ارکان اسمبلی موجود۔ارکان اسمبلی میں راجہ ناصر اچکزئی علی ظفر شاھد خٹک علی ظفر مشعا ل بھی شامل۔۔ملک میں غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے۔بھارت امریکا اسرائیل گٹھ جوڑ ذمہ دار کون۔ علی امین گنڈاپور نے عمران خان کو اپنی آنکھ عطیہ دینے کا اعلان کر دیا۔ ۔دھرنا ختم نہیں ہوگا یہ عوام کا دھرنا ہے جاری رہےگا…یو اے ای نے پاکستان کی قرض واپسی کی مدت میں مزید 2 ماہ کی توسیع۔۔دھرنا ختم نہیں ہوگا یہ عوام کا دھرنا ہے جاری رہےگا…۔عمران خان کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 8 ٹیمز اگلے راوںڈ۔پاکستان اور بھارت کا میچ کل جوا بازوں کی چاندنی۔کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن۔خالدہ ضیا کی جماعت کی جیت۔صوابی موٹروے مکمل بند۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

چین نے سب میرین صلاحیتوں میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔بیجنگ جلد ٹائپ 095 نیوکلیئر سب میرین لانچ کرے گا تاکہ امریکی ورجینیا کلاس کے مقابلے میں توازن قائم کیا جا سکے۔ورجینیا کلاس کے برعکس، ٹائپ 095 سب میرینز ہائپر سونک اینٹی شپ میزائلز فائر کر سکتی ہیں اور ایئرکرافٹ کیریئرز کو بھی نشانہ بنا سکتی ہیں۔

*نیا چاند 17 فروری کو شام 05 بج کر 01 منٹ پر پیدا ہوگا،19 فروری کو پہلا روزہ ہونے کا امکان ہے،ترجمان سپارکو*پاکستان میں یکم رمضان المبارک 19 فروری 2026ء کو ہونے کا امکان ہے۔ سپارکو کے ترجمان سپارکو کے مطابق نیا چاند 17 فروری 2026ء کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 1 منٹ پر پیدا ہو گا اور 18 فروری کو غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 25 گھنٹے اور 48 منٹ ہو گی۔ ترجمان کے مطابق 18 فروری کی شام آنکھ سے چاند نظر آنے کے امکانات ہیں، مقدس مہینے کے آغاز کا حتمی اعلان رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کرے گی۔ دوسری جانب آسٹریلیا اور عمان میں باضابطہ طور پر یکم رمضان المبارک 2026ء کے حوالے سے اعلان کر دیا گیا ہے۔ آسٹریلیا اور عمان میں رمضان المبارک کا آغاز 19 فروری 2026ء بروز جمعرات سے ہو گا۔

ملک بھر چین نے سب میرین صلاحیتوں میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔بیجنگ جلد ٹائپ 095 نیوکلیئر سب میرین لانچ کرے گا تاکہ امریکی ورجینیا کلاس کے مقابلے میں توازن قائم کیا جا سکے۔ورجینیا کلاس کے برعکس، ٹائپ 095 سب میرینز ہائپر سونک اینٹی شپ میزائلز فائر کر سکتی ہیں اور ایئرکرافٹ کیریئرز کو بھی نشانہ بنا سکتی ہیں۔

*آج کی پوسٹ میں 42 ہیڈلائنز ہیں🚨 (1) انڈونیشیا کا پاک فضائیہ کے جنگی تجربے اور تربیتی مہارت سے استفادے کی خواہش کا اظہار🚨 (2) ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی انڈونیشین ہم منصب، صدر، وزیر دفاع اور مسلح افواج کے کمانڈر سے ملاقاتیں🚨 (3) کراچی حیدرآباد موٹروے پر گاڑیوں میں تصادم، 13 افراد جاں بحق، انسانی اعضا بکھر گئے🚨 (4) پی ٹی آئی احتجاج کا معاملہ، پارلیمنٹ جانیوالے تمام راستے بند، پولیس کے ارکان پارلیمنٹ کو دھکے🚨 (5) پی ٹی آئی احتجاج؛ پارلیمنٹ ہاؤس کے دروازے بند، ارکان اسمبلی کو باہر جانے سے روک دیا گیا🚨 (6) پی ٹی آئی کارکنان کا خیبرپختونخوا سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج، بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ🚨 (7) 2 ماہ میں اسلام آباد کی جیل مکمل ہوگی تو عمران خان کو وہاں منتقل کیا جائے گا: وزیر داخلہ🚨 (8) بانی پی ٹی آئی کو سزا اسلام آباد کی عدالت سے ہوئی، انہیں اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا: محسن نقوی کی گفتگو🚨 (9) عمران خان کے حق میں مال روڈ لاہور پر بھی وکلاء نے احتجاج ریکارڈ کرایا🚨 (10) اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن، مولانا فضل الرحمٰن کی رہائشگاہ پہنچ گئے، خصوصی ملاقات🚨 (11) اسلام آباد: سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت میں ہزاروں افراد پر مشتمل ریلی، سانحہ ترلائی کیخلاف احتجاج🚨 (12) عمران خان کی 80 فیصد سے زائد بینائی ختم ہوگئی، انہیں ان کی مرضی کے اسپتال منتقل کیا جائے: محمود اچکزئی🚨

(13) 4 ماہ کی غفلت والی کوئی بات نہیں، عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کی جائے: رانا ثنااللہ🚨 (14) عمران خان کی تکلیف پر سیاست مجرمانہ، ہرممکن علاج کرائیں گے: طارق چودھری🚨 (15) جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کو دل کا دورہ، اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال منتقل🚨 (16) عمران خان کے ساتھ ہونے والے رویے سے نفرتیں بڑھیں گی پھر کوئی سنبھالنے والا نہیں ہوگا، سہیل آفریدی🚨 (17) جنرل باجوہ پھسلے نہیں، دل میں خرابی کی وجہ سے بیہوش ہو کر گرے تھے، فیملی ذرائع🚨 (18) بنگلادیش انتخابات: بی این پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ 209 نشستیں جیتنے میں کامیاب، جماعت اسلامی اتحاد 68 سیٹوں تک محدود🚨 (19) وزیرِاعظم کا بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی🚨 (20) اخترمینگل کی خالی کردہ قومی اسمبلی کی سیٹ پر ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری، پولنگ 5 اپریل کو ہوگی🚨 (21) فی تولہ سونا 8,600 روپے کمی کے بعد 5 لاکھ 19 ہزار 962 روپے پر آگیا🚨 (22) لکی مروت میں کواڈ کاپٹر سے پولیس پر حملہ، دو اہلکار زخمی🚨 (23) اڈیالہ جیل میں کسی کی بینائی چلی جائے تو اس کی ذمہ دار انتظامیہ، حکومت پنجاب ہے، شاہ محمود قریشی🚨 (24) سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے 6 مقدمات کی سماعت کیلیے مقرر🚨 (25) یوٹیوب کا بڑا فیچر اپ ڈیٹ: اب کسی بھی زبان کی ویڈیوز اپنی زبان میں دیکھیں🚨 (26) ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ🚨 (27) کراچی؛ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ، بلدیہ میں گھر میں فائرنگ سے خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق🚨 (28) مسلم لیگ ن کے سابق رہنما و رکن پنجاب اسمبلی اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما زعیم قادری انتقال کر گئے🚨 (29) حکومت نے بھارت سے پاکستان آ کر شادی کرنے والی خاتون سربجیت کی ملک بدری روک دی🚨 (30) کچھ لو کچھ دو! کیا عمران خان کو ملک سے باہر بھجوانے کی تیاری ہو رہی ہے؟🚨 (31) وزیراعظم کا متحدہ عرب امارات کے صدر سے رابطہ، باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے فروغ کا اعادہ🚨 (32) امارات کا پاکستان کے 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں 2 ماہ توسیع پر اتفاق🚨 (33) 26نومبر احتجاج؛ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار🚨

(34) کراچی کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی بلکہ وڈیروں کا تسلط ہے، حافظ نعیم🚨 (35) سینیٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد مسترد، اپوزیشن کا شدید احتجاج🚨 (36) پی ٹی آئی قیادت کسی بھی وقت اسلام آباد کی جانب کال کا اعلان کر سکتی ہے، شیخ وقاص🚨 (37) ملکی سات ایئرپورٹس سے سال بھر میں 2 کروڑ 68 لاکھ افراد نے سفر کیا🚨 (38) افـغـاـ ن سرزمین سے دہشت گردی ناقابل قبول ہے، طاـ لباـ ن اپنی ذمہ داری پوری کریں، پاکستان کا مطالبہ🚨 (39) ہسپتالوں کی ایمرجنسیز کو سیف سٹی کے ساتھ لنک کر دیا: مریم نواز🚨 (40) سینیٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد مسترد، اپوزیشن کا شدید احتجاج🚨 (41) عُمان زلزلے کے جھٹکوں سے لرز اُٹھا؛ شدت 5.2 ریکارڈ کی گئی🚨 (42) ’میں پی ایس ایل کی کسی ٹیم میں ہوتا تو ان کو ضرور شامل کرتا‘، آفریدی عمر اکمل اور احمد شہزاد کے حق میں

*”بریکنگ: امنسٹی انٹرنیشنل کا پاکستان پر شدید تنقیدی الزام – 15 سال سے لاپتہ افراد کے خطوط پر کوئی جواب نہیں”*امنسیٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پاکستان نے 15 سال تک لاپتہ افراد کے حوالے سے بھیجے گئے سینکڑوں خطوط کو نظرانداز کیا۔ تنظیم نے بتایا: “یہ مہلک عمل بلا روک ٹوک جاری ہے، جو خاندانوں اور کمیونٹیوں میں خوف پھیلا رہا ہے۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ ہمیں کوئی جواب کیوں نہیں ملتا؟” یہ خطوط پاکستان کے سفیر واشنگٹن ڈی سی کو بھیجے گئے تھے۔

بیوروکریسی کے جنسی درندے۔۔۔قسط نمبر -1اگر بیوروکریٹ کے نیفے میں پسٹل چلنا شروع ہوگئے تو آدھے سے زائد ”رِمل شاہ“ بن جائیں گے۔یہ وہ ٹاپک ہے جسے میں بہت عرصے سے لکھ نہیں پارہا تھا جبکہ بہت سارے دوستوں کو چاہ کر بھی ڈائریکٹ سمجھانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ایک گالی۔۔۔بیٹی چ ود۔۔۔سب نے سنی ہوگی اس کا مطب پہلی دفعہ سمجھ آیا۔پولیس سروس کے ایک طاقتور اور سنئیر افسر جس کی ابھی دو سال سے زائد سروس باقی ہے وہ سپلائیر ہے۔اس کی ایک سوشل ورکر خاتون کے ساتھ طریقہ واردات کی پوری چیٹ دیکھی کہ جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ ہمارا کوڈ ورڈ ہوگا کہ میں تمہیں بیٹی کہوں گا تم مجھے ڈیڈی۔مجھ سے ملو گی تب بھی پیکٹ اگر کسی کے پاس بھیجوں گا تب بھی پیکٹ میری گارنٹی،اگلا تمیں کچھ انعام دے دے تو وہ بھی تمھارا۔میرے دفتر آکر پچاس ہزار ایڈوانس لے کر کسی پارلر سے خود کو اپڈیٹ کروا لو۔جہاں بھیجوں آنکھ اور کان بند کرکے جانا ہے۔میں نے پہلے بھی کالم لکھا تھا کہ بہت سارے بیوروکریٹ اچھی پوسٹنگ کیلئے سپلائی کا فریضہ ادا کررہے ہیں۔پارٹی،پلائی اور سپلائی یہی انکی کامیابی کا راز ہے۔ پینٹ کوٹ اور ٹائی کے اندر چپھی انکی غلاظت کا اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔پاؤں چاٹ گروپ کی بات کی جائے تو پولیس افسران سر فہرست اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس والے دوسرے جبکہ پی ایم ایس والے تیسرے نمبر پر ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس کام میں کوئی سپیشلائیزیشن کی ہوئی ہے یا پھر سب نے لڑکی پھنسانے کے ٹوٹکوں والا ایک ہی میگزین لے رکھا ہے کہ ہر دوسرے افسر کی چیٹ کا آغاز پاؤں چاٹنے کی خواہش سے ہوتا ہے۔ ایک ڈی آئی جی کی ویڈیو دیکھی تو وہ سابق چئیرمین نیب کو پیچھے چھوڑ چکے تھے جناب نے عرق گلاب سے ڈانسر کے پاؤں دھوئے اور کئی منٹ تک چاٹتا رہا۔ یہ جنسی درندے ہر سوشل خاتون پر ٹرائی کرتے ہیں۔ میڈیا گرلز کی بات کی جائے تو یہاں سرکاری افسران کی دال نہیں گلتی ہرلڑکی کی بلاک لسٹ میں پچاس سے زائد بیوروکریٹ ملیں گے۔ بیوروکریسی کے افسران کا آسان ٹارگٹ سماجی تنظیموں سے وابستہ خواتین،جونئیر اور ماتحت خواتین افسران ہوتی ہیں۔جنسی درندگی کا آسان طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکیوں کو سی ایس ایس اور سرکاری نوکری کا خواب دکھا کر یہ سستے مینٹور اپنی ہوس پوری کرتے ہیں

۔ سرکاری جنسی درندوں کو پہچاننے کا آسان طریقہ سرکاری ہائرنگ فائرنگ کا ریکارڈ دیکھ لیں باس کی بات ماننے سے انکار کرنے والی خوتین کو مہینوں اور دنوں میں نکال دیا جاتا ہے جبکہ باس کی خواہش کی تکمیل کرنے والوں کیلئے ترقی کے تمام در کھل جاتے ہیں۔جنسی درندے بنے افسران سنیپ چیٹ کو سیکس چیٹ کیلئے محفوظ تصور کرتے ہیں۔کچھ نے انٹرنیشنل واٹس ایپٹ نمبر رکھے ہوئے تو کچھ ایسے نڈر ہیں کہ اپنے پرسنل نمبر سے once کرکے گندی اور ننگی تصاویر اور آڈیو چیٹ کرتے ہیں۔ لیکن دوسرے موبائل سے انکی سنیپ چیٹ اور once والی ساری چیٹ ریکارڈ ہورہی ہوتی ہے۔درجنوں افسران ان حسیناؤں سے بلیک میل ہوکر خفیہ نکاح نبھا رہے ہیں۔ان پاؤں چاٹنے والوں کی زندگی آوارہ جانوروں سے بھی بدتر ہے۔بلیک میل ہونے والے افسران کی زندگی شرمندگی بن چکی ہے، ایک کال پر یہ گھر میٹنگ اور دفتر چھوڑ کر دم ہلاتے پہنچ جاتے ہیں۔ پی ایم ایس کے ایک لڑکے نے واقع سنایا کہ ایک سنئیر آفیسر نے اسے بہت تنگ کیا ہوا تھا کہ ایک دفعہ وہ اپنی گرل فرینڈ کے پاس بیٹھا تھا کہ وہی افسر ٹیلیفون کال پر اسکی عزت افزائی کررہا تھا،کال ختم ہوئی تو گرل فرینڈ نے پوچھا کہ کون تھا تو میں نے بے خیالی میں بتادیا کہ فلاں سیکرٹری ہے۔ اس نے فوری موبائل نکالا اور مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے کال ملا دی اور دوسری طرف سے کال اٹھاتے ہی بولی اوئے بات سن۔نیکسٹ۔۔۔۔۔اسکو تنگ کرنے کی شکایت نہ ملے۔دوسری طرف سے سے سیکرٹری نے پوچھا ک تمہارا کیا لگتا ہے تو اس نے جھٹ سے جواب دیا کہ جس طرح تم میرے کتے ہو ویسے ہی یہ بھی ہے۔ افسر کہ کہنا تھا کہ اس کا کام تو ہوگیا لیکن یہ فقرہ آج تک تکلیف دیتا ہے کہ”جیسے تم میرے کتے ہو ویسے ہی یہ بھی ہے“۔یہ باتیں کوئی ٹاپ سیکرٹ نہیں ہر افسر کو پتا ہے کہ دوسرا افسر کہاں اور کس کے ساتھ منہ کالا کرتاہے ان بے شرم افسران کو سمجھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ان سے اس لیے ہمدردی ہے کہ ان افسران کی اکثریت انتہائی غریب گھروں کے بچے ہیں،خاص طور پر فخر سے اولڈ راوین کہلوانے والے 40ویں کامن سے 46ویں کامن والوں میں سے درجنوں کو میں تب سے جانتا ہوں جب یہ جی سی کی ہاسٹل فیس ادا نہیں کرسکتے تھے اور گاؤں کے دوستوں کی مدد سے کریسنٹ ہاسٹل سول لائنز میں ایک بستر پر دو،دو سوتے تھے، اور دعائیں دیں ہاسٹل مسجد کو جو عشاء کی نماز کے بعد سے فجر تک انکے کیلئے آرام گاہ ہوتی تھی۔ سنئیرز کے حالات بھی زیادہ مختلف نہیں کوئی گاؤں کے چوہدری سے پیسے لیکر شہر آیا تو کسی کی فیس بیرون ملک بیٹھے رشتے دار ادا کرتے تھے۔ یتیم الشانی سے عظیم الشانی کا سفر مبارک ہو، ریکارڈ توڑ کرپشن کے بعد یہ امیر تو ہوگئے لیکن انکی ذہنی پسماندگی اور غربت آج بھی وہیں کی وہیں ہے۔ان کو ڈائریکٹ نہیں سمجھا سکتا تھا کہ بیچارے نظریں نہیں ملا پائیں گے۔میں انکو پچانا چاہتا ہوں اس لیے ان بے غیرتوں کو سمجھا رہا ہوں کہ لعنتیوں سمجھ جاؤ اس سے پہلے کہ تم اشتہار بن جاؤ۔50 سے 60 کے درمیان والے سینیئر افسران جنھیں عام پبلک حتی کہ سیاستدان بھی سر سر کرتے ہیں وہیں پر انکی “شوگر بی بیز” نے ان کا نام “ٹھرکی بابا” “دادا ابو” اور “بے غیرت بڈھا” رکھا ہوا ہوتا ہے۔ میری تحقیق کے مطابق نوجوان بیوروکریٹ میں سے 50 فیصد جبکہ سینیئر افسران میں سے 65 فیصد ٹھرک کے ہاتھوں مجبور ہو کر کتے سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مالی کرپشن کے بغیر اخلاقی کرپشن افورڈ نہیں ہو سکتی۔جاری ہے۔۔۔

اسلام آباد(رپورٹ: ناصر جمال) سوئی سدرن گیس کمپنی لیمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے اختیارات استعمال کرنا شروع کردیئے۔ صرف دو روز کے بعد 60 سال پر ریٹائر ہونے والے قائمقام ایم ڈی امین راجپوت کو مدت ملازمت میں تین ماہ کی توسیع دے دی۔ وہ سابق چیئرمین شمشاد اختر مرحومہ کے منظور نظر ہیں۔ 2024 میں وہ وزارت کی مخالفت کے باوجود وہ قائمقام ایم۔ ڈی بننے میں کامیاب رہے۔ سابق بورڈ نے عمران منیار کا تین سالہ کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود انھیں بھی مزید سات ماہ ایم۔ ڈی رکھا۔ وہ استعفیٰ نہ دیتے تو ابھی تک ایم ڈی ہوتے۔ نئے بورڈ نے بھی سابقہ بورڈ کی روایت کو دوام دیا۔ معروف قانون دان فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ ریٹائر ہونے والے ایم ڈی کو گھر جانا ہوگا۔ قانون واضح ہے۔ بورڈ کے پاس اُسے توسیع دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ سینئر موسٹ ڈی ایم ڈی سعید رضوی کو اس کے باوجود چارج نہیں دیا گیا کہ ایم ڈی شپ کی دوڑ میں نہیں ہیں اور غیر جانبدار ہیں۔معتبر ذرائع کے مطابق ایس۔ ایس۔ جی۔ سی۔ ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا اجلاس جمعرات کو ہوا۔ نئے ایم۔ ڈی کی تقرری اہم ایجنڈا آیٹم تھا۔ تقریباً تین سال توسیع در توسیع پر چلنے والے سابق بی او ڈی کو حکومت نے نئے ایم۔ ڈی کے تقرر سے الگ رہنے کی ہدایت کی تھی۔ مرحومہ شمشاد اختر، وہاں پر زبردستی تین ٹرم براجمان رہیں۔ وزیر خزانہ ہونے کے باوجود انھوں نے ایس۔ ایس۔ جی۔ سی کا بورڈ نہیں چھوڑا تھا۔

ابھی بھی وہ اپنی جگہ باامر مجبوری اپنے بہنوئی خالد رحمان کی شکل میں اپنی نمائندگی چھوڑ گئیں۔12 ستمبر 2024ء میں امین راجپوت کو زبردستی، شمشاد اختر نے قائمقام ایم ڈی لگوایا۔ ایڈیشنل سیکرٹری ظفر عباس نے وزارت کے ایما پر اُن کی شدید ترین مخالفت کی۔ سابق سیکرٹری مومن آغا بھی یہی چاہتے تھے مگر وزارت اور ان کے ڈائریکٹرز نے سابق وزیر اعظم کے سمدھی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اور اپنا تھوکا ہوا چاٹ لیا۔ امین راجپوت ڈیڑھ سال سے قائمقام ایم ڈی ہیں۔ وہ اتنے طاقتور ہیں کہ انھوں نے ایک بار پھر پوری وزارت اور بورڈ کو لٹا کر، ریٹائرمنٹ کے باوجود تین ماہ کی توسیع لے لی۔ حالانکہ وہ دو روز میں اپنی ساٹھ سال ملازمت کی مدت پوری کرکے ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔بظاہر یہ کہا جارہا ہے کہ وہ نئے ایم۔ ڈی کی تقرری تک قائمقام ایم ڈی رہیں گے۔ مگر کمپنی وزارت اور سیکٹر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم۔ ڈی کا میچ بظاہر ”فکس“ محسوس ہورہا ہے۔بورڈ کو بتایا گیا ہے کہ ایک درجن سے زائد امیدوار شارٹ لسٹ کئے گئے ہیں۔کمپنی کے ڈی۔ ایم۔ ڈی سعید رضوی کو قائمقام ایم۔ ڈی کا چارج دیا جاسکتا تھا۔ مگر بورڈ نے بظاہر اُن پر عدم اعتماد کیا ہے۔ جس کا دوسرامطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کمپنی میں کوئی اور ایم۔ ڈی بننے کے اہل ہی نہیں ہے۔ حالانکہ سعید رضوی ایم۔ ڈی کے امیدوار بھی نہیں ہیں۔ جبکہ امین راجپوت کو ریٹائرمنٹ کے باوجود ایم۔ ڈی برقرار رکھنا ’’دال کے کالا‘‘ ہونے کی جانب اشارہ کررہا ہے۔ امین راجپوت ایم۔ ڈی کے آفس کو پہلے بھی خود کو قائم رکھنے میں مبینہ طور پر استعمال کررہے ہیں۔ انھیں تین ماہ کی ’’توسیع‘‘ ایم ڈی شپ کی دوڑ میں ترجیح فراہم کررہی ہے۔ جو کہ ایس۔ او۔ ای ایکٹ اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔وفاقی ملازم یا وفاقی ادارے کا ملازم ساٹھ سال میں ریٹائر ہوتا ہے۔ تو اُس کی مدت ملازمت میں توسیع صرف وزیر اعظم کا اختیار ہے۔مگر یہاں بورڈ وزیراعظم کا اختیار استعمال کرچکا ہے۔ کیا صرف ایک لیگل اوپینین لینے سے وزیر اعظم کا اختیار استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہاں بورڈ ایک کنٹریکٹ ایم۔ ڈی کو نہیں، ایک روز بعد ریٹائرڈ ہونے والے وفاقی ادارے کے ملازم کو ایکسٹینشن دے رہا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی بطور میں ارمی چیف پہلی تقرری سے پہلے بھی توسیع وزیراعظم و کابینہ نے کی تھی۔ یعنی یہ کام فوج نے بھی نہیں کیا، جو سوئی سدرن کا بورڈ کررہا ہے۔ حالانکہ بورڈ کا تقرر کابینہ نے کیا ہے۔ اس ضمن میں ان سوالات پر مبنی ایک سوال نامہ، وفاقی وزیر علی پرویز ملک اور وزارت کے ترجمان، بورڈ کے رکن، ایڈیشنل سیکرٹری ظفر عباس کو بھی بھیجا گیا۔ مگر ان کا جواب نہیں آیا۔مشہور قانون دان فیصل چوہدری نے کہا کہ ساٹھ سالہ مدت ملازمت سے ریٹائرڈ ہونے والے قائمقام ایم۔ ڈی اپنی قائمقام ایم۔ ڈی شپ جاری نہیں رکھ سکتے۔ 2016 کے مصطفٰے اپیکس فیصلے کے مطابق، یہ معاملہ وزیراعظم واہ وفاقی کابینہ کے پاس جائے گا۔ ساٹھ سالہ ریٹائرمنٹ اور کنٹریکٹ میں توسیع دو مختلف معاملے ہیں۔ بورڈ کنٹریکٹ ایم۔ ڈی کو خدمات جاری رکھنے کا کہہ سکتا ہے۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازم کو نہیں۔ انھیں ریٹائرڈ ہونے والے ایم۔ ڈی کو نیا کنٹریکٹ دینا ہوگا۔ اس کے لیے پروسیس کرنا ہوگا۔ بورڈ کسی بھی صورت میں یہ اختیار نہیں رکھتا۔ یہ اختیار وفاقی حکومت کا ہے۔ بورڈ کے پاس ساٹھ سالہ مدت پوری کرنے والے قائمقام ایم۔ ڈی کی توسیع دینے کا اختیار نہیں ہے۔ بطور نیو ایم۔ ڈی قواعد و ضوابط کے تحت ان کو بورڈ کنٹریکٹ دے سکتا ہے۔ تین سالہ کنٹریکٹ والے ایم۔ ڈی کو بھی ایس۔ او۔ ای ایکٹ کے تحت توسیع مل سکتی ہے۔ جب تک کہ نیا ایم۔ ڈی نہ آجائے۔ مگر ریٹائرمنٹ والے قائمقام ایم۔ ڈی کو ہر صورت میں گھر جانا ہوگا۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک خود ایک قانون دان اور معتبر قانون قانونی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے طاقتور شمشاد اختر کے ہوتے ہوئے نئے بورڈ کی تشکیل کی۔ جو کئی وفاقی وزیر نہ کر سکے۔ بیرسٹر حمدون سبحانی نے کہا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز ریٹائرڈ شخص کو توسیع دے کر آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ توسیعِ ملازمت (Extension) درج ذیل قوانین اور قواعد کے تحت منضبط ہے:ایف آر 56 (Fundamental Rule 56)رولز آف بزنس 1973اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ہدایاتتوسیع صرف درج ذیل شرائط کے تحت دی جا سکتی ہے:ریٹائرمنٹ سے پہلے منظور کی جائے۔عوامی مفاد (Public Interest) میں ہو۔وفاقی حکومت کی جانب سے دی جائے۔رولز آف بزنس کے تحت وزیرِ اعظم / وفاقی کابینہ کے ذریعے استعمال کی جائے۔یہ اختیار آئینِ پاکستان کے تحت ایک انتظامی (Executive) اختیار ہے، جو کہ:آرٹیکل 90 (وفاقی حکومت کا انتظامی اختیار)آرٹیکل 99 (وفاقی حکومت کے امور کی انجام دہی)کے تحت استعمال ہوتا ہے۔بورڈ آف ڈائریکٹرز وفاقی حکومت نہیں ہے۔بورڈ کسی خودمختار آئینی یا انتظامی اختیار کا حامل نہیں ہے۔لہٰذا:بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پاس ایف آر 56 کے تحت کسی سول سرونٹ کی مدتِ ملازمت میں توسیع دینے کا کوئی دائرۂ اختیار (Jurisdiction) نہیں ہے۔ایسا کوئی اقدام قانوناً کالعدم (Ultra Vires) تصور ہوگا۔

عمران خان کی سیاست ۔اظہر سیداب جو معافیاں مانگ کر ریلیف لے رہا ہے سیاستدانوں کی وکٹ پر کھیلتا سیاست بچ جاتی ،جماعت بچ جاتی اور ووٹ بینک بھی برباد نہ ہوتا ۔ہفتے دس دن بعد یوٹیوبرز اور یوتھیوں پر جو بجلی گرنا ہے نہ گرتی ۔ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین مالکوں سے جتنی معافیاں مانگ لیں اب واپسی ممکن نہیں ۔عمران خان کی کل کمائی یہی ہے جان بچ جائے اور باقی کے دن ٹریان خان کے ساتھ سکون سے گزار لے سیاست کی اجازت اب نہیں ملے گی ۔جھوٹ دھوکہ اور فراڈ سے جو ووٹ بینک بنا تھا مالکوں نے ہی بنا کر دیا تھا ۔اس نے اتنا بڑا سیاسی اثاثہ مالکوں سے سینگ پھنسا کر برباد کر دیا ۔اسی طرح کا ووٹ بینک اور سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کو چیلنج کرنے کیلئے میاں نواز شریف کو بھی دی گئی تھی لیکن انہوں نے گڈ کاپ بیڈ کاپ کا کھیل کامیابی سے کھیلا ۔مالکوں سے سینگ پھنسا کر جمہوریت کا پرچم بلند رکھا اور گڈ کاپ شہباز شریف کے زریعے مالکوں سے بنا کر بھی رکھی ۔عمران خان نے دو فاش غلطیاں کیں ۔سوشل میڈیا کے زریعے مالکوں کو شکست دینے کی ٹھانی ۔فوج کو براہ راست نشانہ بنا کر اپنی سیاسی قسمت اسی طرح کھوٹی کر لی جس طرح الطاف حسین نے کی تھی ۔جو ریلیف ملتا نظر آرہا ہے وہ رو رو کر معافیاں مانگنے کے بعد مل رہا ہے مالکوں کو چیلنج کرنے سے نہیں مل رہا ۔نو ستاروں نے بھٹو کو پھانسی گھاٹ پر پہنچا دیا تھا، لیکن نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو نے انہی نو ستاروں کو ساتھ ملا کر ایم آر ڈی کی تحریک چلائی اور سیاست میں اپنی جگہ برقرار رکھی ۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا ووٹ بینک ہی ایک دوسرے کی دشمنی پر مبنی تھا لیکن دونوں سیاسی جماعتوں نے میثاق جمہوریت کے زریعے ایک دوسرے کو تحفظ دیا اور مالکوں کو مسلسل چیلنج بھی ۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی سیاست ہی تھی مالکوں نے عمران خان کی شکل میں نیا گھوڑا میدان میں اتارا ۔یہ گھوڑا اصل میں سیاستدان تھا ہی نہیں خچر تھا “گدھے سے تھوڑا بہتر”جنہوں نے مالکوں سے بچانا تھا انہی کو چور ڈاکو کہتا رہا ۔چور ڈاکو تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ والے بھی ایک دوسرے کو کہتے تھے لیکن آج بھی ہائی برڈ نظام میں صدر وزیراعظم بن کر سیاست سیاست کھیل رہے ہیں ۔اس خچر کو آصف علی زرداری نے بار بار بچانے کی کوشش کی ۔اس خچر کو مولانا فضل الرحمٰن نے بار بار بچانے کی کوشش کی ۔اس خچر کو مسلم لیگ ن نے بار بار بچانے کی کوشش کی لیکن یہ ہوا کے گھوڑے پر سوار تھا لیکن تھا خچر ۔سیاستدانوں کی وکٹ پر اجاتا ایک بڑے ووٹ بینک والی سیاسی جماعت کے طور پر سیاست بچا لیتا اور یوں رو رو کر معافیاں مانگ مانگ کر ریلیف لینے سے بچ جاتا ۔نو مئی کو اس نے جو کچھ کیا ۔سوشل میڈیا کے زریعے مالکوں کو جس طرح عاجز کیا اس کو ریلیف مل جانا ہی بہت بڑی چیز ہے ۔سیاست ختم اور قوم کو نیا الطاف حسین مبارک ۔

اسلام آباد کی فضا آج وفا اور غیرت کے جذبات سے معطر تھی، جب گذشتہ جمعہ نمازِ جمعہ کے دوران شہید ہونے والے مومنین کی یاد میں ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ہزاروں عاشقانِ اہلِ بیت علیھم السلام نے شرکت کر کے شہداء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔اس اجتماع میں ان کے پاکیزہ خون سے تجدیدِ عہد کا ولولہ انگیز مظاہرہ کیا گیا اور حق و صداقت پر ثابت قدم رہنے کے عزم کو تازہ کیا گیا۔

جماعت اسلامی کو ھرا دیا گیا بنگلہ دیش میں دھاندلی نھی دھانلاا سہیل رانا لائیو میں

انتخابی نتائج آنے کے بعد ابتدائی تین گھنٹے تک جماعت اسلامی کی کامیابی کی اطلاعات تھیں۔ اس دوران میں بی این پی نے خاموشی اختیار کیے رکھی پھر انتخابی نتائج رک گئے۔بعد کی اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن کے تھرڈ فلور پر غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی۔ اس کے بعد بی این پی نے 160 نشستوں پر کامیابی کا اعلان کر دیا۔ڈھاکا میں موجود ایک قابل اعتماد صحافی کے مطابق اب نشستوں کی گنتی بے معنی ہو چکی ہے۔ نتیجہ وہی ہو گا جس کا کل دوپہر سرکاری طور پر اعلان کیا جائے گا۔

25 کروڑ عوام کو 3 ھسپتال دینے والہ عمران خان علاج سے محروم۔پرویز مشرف پر تنقید کرنے والے جمہوریت کے ڈاکو۔۔ریاست ھر ماہ ڈاکے ڈالنے کے لئے تیار عوام 2 روٹی سے مجبور۔۔بجلی کے بلوں نے عوام کو زندہ دفن کر دیا۔۔ تفصیلات سہیل رانا لائیو میں

جنرل باجوہ باٹھ روم میں زخمی حالت تشویشناک صورتحال کومے کے بعد ھوش میں۔صدر مملکت آصف زرداری نے چیئرپرسن پیمرا کیلئے عنبرین جان کی تقرری کی منظوری دے دی.۔ ۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے کھیلتا پنجاب پنک گیمز 2026 کا افتتاح کردیا۔ ۔روس جوہری ہتھیاروں کے معاہدے کی پابندی جاری رکھے گا جب تک کہ امریکا ان حدود سے تجاوز نہ کرے۔ سرگئی لاوروف روسی وزیر خارجہ۔حکومت کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رھے ہیں۔شھباز حکومت کا دن دھاڑے ڈاکہ۔ای پی پی کی ناکامی کا بوجھ غریب عوام پر گھٹیا حرکت کی آخری حد۔حکومت عوام کی جیبوں پر 50 ھزار ارب روپے کا مزید ڈاکہ ڈالنے میں کامیاب۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

اچانک سے ایک خبر ائ کہ حاجی صاحب کا باتھ روم میں پاؤں سلپ ہوا اور متعدد گھاؤ آۓکیا باتھ روم میں گرنے کی خبر اتنی اہم تھی کہ میڈیا پہ خصوصی خبر نشر کی جاتی حالانکہ ایسی خبر کی اشاعت کی کوئ خاص تک نہیں بنتی اگر ایسا کوئ واقعہ ہوا بھی تو خاموشی سے میڈیا کو بھنک پڑے بنا ہسپتال میں علاج ہوتا اس خبر کی خصوصی اشاعت کے پیچھے کوئ نہ کوئ کھچڑی پک رہی ہے اب کیا ہے جلد کٹی کٹا کھل جاۓ گااب عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی ایک تشویش ناک رپورٹ سپریم میں جمع کروائ گئ ہے جسے سپریم کورٹ نے خود عوام تک حقائق پہنچانے تھے لیکن کل سے اب تک مکمل خاموشی ہے اور پیرسٹر سلمان صفدر بھی ابھی تک عمران خان کی صحت بارے بات کرنے سے گریزاں ہیںتو یقیننا حاجی صاحب کے گرنے کی ٹرک والی بتی کے پیچھے عوام کو لگا کہ عمران خان کی رپورٹ سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے یا کوئ اور خاص مقصدایویں ہی نہیں خصوصی ٹکر میڈیا پہ چلاۓ گۓدال میں کچھ کالا نہ ں پوری دیگ کالی ہے

افغان حکمران اپنے دین کو سمجھیں۔ علم حاصل کرنا دین کا حصہ ہے۔ کسی لڑکی کو دین کے نام پر تعلیم سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ لڑکیوں کو تعلیم کے حصول سے روکنا اسلام کے پیغام کیخلاف ہے۔ میں افغان لڑکیوں کے ساتھ کھڑی ہوں۔ ملالہ یوسفزئی

کاشتکار پر رحم کریں ۔ اظہر سید مہنگی سبزیاں اور مہنگے پھل عوام کو کم قیمت پر مل تو رہے ہیں لیکن ساٹھ فٹ فیصد زراعت سے منسلک عوام کی امیدوں اور خواہشات کا خون ہول سیل سبزی اور فروٹ منڈی میں اس طرح بہہ رہا ہے گویا ہلاکو خان نے بغداد میں خون کی ندیاں بہا دی ہوں ۔پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں انتہائی درجہ پر ہیں کھیت سے منڈی تک پھل اور سبزیوں کی منتقلی کے کرایہ میں ہی کسان کی پتلی کمر ٹوٹ جاتی ہے ۔صبح بیٹی کو یونیورسٹی چھوڑ کر مالکوں کے حکم پر منڈی گئے ہر طرف گویا ظلم کی داستانیں بکھری نظر آرہی ہے تھیں ۔شاندار پھیکے الو ڈیڑھ سو روپیہ کے پانچ کلو تھے ۔ہم نے دل گرفتگی سے سوچا کسان کو ٹرک کا کرایہ ادا کرنے کے بعد کیا ملا ہو گا ۔اس نے چھ ماہ فصل کی حفاظت کی ۔پانی اور کھاد ڈالی ۔فصل کاٹی اور منڈی میں پانچ کلو کے صرف ایک سو پچاس روپیہ ؟ٹماٹر ایک سو روپیہ کے کلو ۔امرود ستر روپیہ کے کلو ۔شاندار مالٹے کینو،موسمبی ،سنگترے ایک سو پچاس سے دو سو روپیہ درجن ۔بھنڈی ستر روپیہ،اروی ،پچاس روپیہ ،مٹر پچاس روپیہ کلو ۔ہم خریداری کرتے وقت یہی سوچ رہے تھے شہری ابادی دیہاتوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی ملا کر بھی چالیس فیصد ہو گی ۔دیہی ابادی تو ساٹھ فیصد ہے ۔جب گنا آتا ہے لکڑی سے کم بھاؤ پر بیچو ۔جب گندم آتی ہے 35 سو روپیہ من فروخت کرو بعد میں بھلے دس کلو آٹا شہرو میں ڈھائی ہزار کا فروخت ہو ۔

ایک پاؤ آلو کے چپس کا غیر ملکی پیکٹ تین سو روپیہ کا ہے ۔ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ٹماٹو کیچپ یا مالٹے کے جوس کی چھوٹی سے بوتل مہنگے داموں بکتی ہے تو کیوں ایسی پالیسیاں نہیں بناتے کسانوں کی اجناس ویلوایڈ وہیں پر ہو سکیں ۔چین میں فصلوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے صنعتی یونٹ ہیں جو ویلو ایڈیشن کے بعد وہیں پیکجنگ بھی کرتے ہیں ۔ہمارا بدقسمت کسان ڈیڑھ سو روپیہ کے پانچ کلو شائد سو روپیہ کے پانچ کلو بیچنے پر مجبور ہے کہ آڑھتی سے منڈی کے ریڑی والے تک یہ ڈیڑھ سو روپیہ کے پانچ کلو بک رہے ہیں۔چالیس فیصد شہریوں کو تو کم قیمت پر چیزیں مل جائیں گی جو ساٹھ فیصد اگلی دفعہ یہ فصل ہی نہیں اگائیں گے تو پھر حکومت والے یہ درآمد کریں گے اور پانچ سو روپیہ کا ایک کلو بیچیں گے ۔فائدہ اپنے کسان کو نہیں غیر ملکی کسان کو پہنچائیں گے ۔بس اتنی سے کہانی ہے ۔

تم واپس کیوں آگئے ہو، یہاں تم نے کیا کرنا ہے ۔۔۔؟؟ 30 سال دبئی اور 10 سال انگلینڈ میں ملازمت کرکے کروڑوں روپے کمانے والا لاہور کا ایک بزرگ سب کچھ بیوی بچوں کو لٹا کر اولڈ ہوم میں رہنے پر مجبور ۔۔۔۔۔۔سمن آباد کے حنیف صاحب 1975 میں دبئی چلے گئے ، یہ وہاں ایک سرکاری محکمے میں آپریٹر کے طور پر کام کرتے تھے ، 30 سال اسی کمپنی میں رہے اور سپروائز بن کر ریٹائرڈ ہوئے تو انگلینڈ چلے گئے ، 10 سال وہاں ملازمت کی ، اس دوران گھر کا چکر بھی ہر سال دو سال بعد لگا لیتے ، ان سے غلطی یہ ہوئی کہ جو کمایا بیوی کے اکاؤنٹ میں بھیج دیا ، بیوی نے کچے مکان سے شاندار کوٹھی بنا لی ، 2 بیٹوں اور 2 بیٹیوں کو شاندار تعلیم دلائی گئی ، انگلینڈ میں حنیف صاحب کے روم میٹ انہیں اکثر کہتے ، سب کمائی پاکستان نہ بھیجا کرو کچھ برے دنوں کے لیے اپنے پاس محفوظ رکھو مگر حنیف صاحب کا جواب ہوتا مین نے کیا کرنے ہیں پیسے جو کچھ ہے بچوں کا ہے مر جاؤں گا تو تب بھی تو بچے ہی وارث ہونگے ، قصہ مختصر 40 سال بیرون ملک کمائیاں کرکے حنیف صاحب گھر آگئے تو ہر روز گھر میں لڑائی ہونے لگی ، بیوی کہتی تمہارے بغیر ادھر کونسا کام ہے جو نہیں ہورہا تم واپس آئے کیوں ہو ، جب یہ جھگڑا ہر دوسرے چوتھے دن ہونے لگا تو حنیف صاحب عمر رفتہ کو یاد کرکے رو پڑے اور سوچا کاش اب وہ دوبارہ واپس دبئی یا انگلینڈ جا سکتے ، تو کبھی مر کر بھی واپس نہ آتے مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا اب انکی واپسی ناممکن تھی چنانچہ ایک روز حنیف صاحب نے فیصلہ کیا اور لاہور میں ہی ایک اولڈ ہوم میں شفٹ ہو گئے ، چند روز بعد ہی اے آر وائی ٹی وی چینل کے لیے انکا انٹرویو ہوا ، یہ انٹرویو نشر ہوا تو انگلینڈ والے ان کے روم میٹ دوستوں نے کسی نہ کسی طرح پتہ کرکے اولڈ ہوم فون کیا اور کہا : حنیف صاحب: کیا ہو گیا ، آپ کہاں پہنچ گئے ، آپ کے گھر والے خیریت سے ہیں ؟ اب حنیف صاحب انہیں کیا بتاتے کہ انکی کمائی سے بیٹے موجیں کررہے ہیں نئے نئے ماڈل کی گاڑیوں میں پھرتے ہیں اور انکے لیے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں جو ان کے خون پسینے کی کمائی سے بنا ہے ۔۔۔ ان دوستوں نے یہ بھی پیشکش کی کہ آپ گوجرانوالہ ہمارے گھر چلے جائیں ، وہاں ٹھاٹ سے رہیں ، نوکر چاکر آپ کی دن رات خدمت کریں گے ۔۔۔۔۔۔ مگر حنیف صاحب نے یہیں اولڈ ہوم میں رہنا مناسب سمجھا ، یہاں عزت بھی ہے ، پیار بھی ، اور خیال بھی رکھا جاتا ہے ۔۔۔۔ یہ اولڈ ہوم انکے گھر سے بہتر ہے جہاں انکی لالچی بیوی اور ڈالروں سے پالے ہوئے بیٹے اور بیٹیاں رہتے ہیں ۔۔۔۔۔ حنیف صاحب کے بقول کاش میں اپنی کمائی کا آدھا حصہ اپنے پاس رکھتا تو آج یہی گھر والے جو ڈیڑھ سال ہو گیا ایک بار مجھے یہاں اولڈ ہوم میں دیکھنے تک نہیں آئے ، سب کے سب میری اجازت کے بغیر کوئی قدم بھی نہ اٹھاتے ۔۔۔ سچ کہتے ہیں دنیا مطلب دی او یاد دنیا مطلب دی ۔۔۔۔ #FB

شہباز حکومت کا عوام پر دن دھاڑے ڈاکہ۔۔۔شہباز حکومت کا عوام دشمن فیصلہ۔۔آئی پی پیز (IPPs)کی ناکامی کا بوجھ غریب/متوسط پر ڈالنے کی گھٹیا حرکت، اب حکومت عوام سے اضافی بجلی 11 روپےفی یونٹ میں خریدے گی(جبکہ یہی حکومت آئی پی پیز سے 30 روپے یونٹ تک بجلی خرید رہی ہے)لیکن وہی بجلی گرڈ سے40 روپے(بعض سلیبز کیمطابق 50 روپ فی یونٹ )میں عوام کو بیچے گی! پرانا یونٹ فار یونٹ ختم، اب لوٹ مار،دن دھاڑے ڈاکہ۔۔حکومت/نیپرا نے ہزاروں گھروں کے شمسی سسٹم کو تباہ کردیا ،نیپرا نوٹیفکیشن جاری۔پاکستان رائٹس موومنٹ اس کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔عوام اس ظلم/ڈاکے کیخلاف آواز اٹھائیں،

سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ باتھ روم میں پھسلنے کے بعد ہسپتال منتقل۔ ان کے ایک فیملی ممبر نے مجھے تصدیق کی کہ سابق آرمی چیف کل باتھ روم میں پھسل گئے اور انہیں فوری طور پر ملٹری ہسپتال راولپنڈی منتقل کیے گئے جہاں گھٹنے اور سر کی چوٹ (زیادہ شدید نہیں) کا معائنہ کیا گیا۔ فورا ان کے دونوں بیٹے بھی پاکستان پہنچ گئے اور اب وہ ہسپتال میں والد کے ساتھ ہیں۔ ڈاکٹرز کی ٹیم انکی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ وہ مستحکم ہیں اور مزید مشورے تک ہسپتال میں رہیں گے،

پشاور کو محفوظ، ٹریفک نظام کو بہتر بنانے اور تمام ریسکیو اداروں کو ایک ہی نظام کے تحت مربوط کرنے کی غرض سے پشاور سیف سٹی منصوبہ 18 سال کے طویل انتظار کے بعد مکمل ہونے کے بعد فعال کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا بلوچستان میں امن و امان اور سیکیورٹی فورسز کی معاونت کیلئے 10 ارب روپے دینے کا۔ایرانی فوجی حکا م اور وزیرخارجہ عباس عراقچی کی ملاقات، خطرات کا مقابلہ کرنے کی تیاری کا عزم۔۔ ۔ایران کے قومی سلامتی سیکرٹری علی لاریجانی عمان پہنچ گئے۔۔امریکا کے ساتھ مذاکرات سے متعلق اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوں گی۔سونے کا فراڈ جاری جوا بازوں کا کھیل۔بجلی کا بل اور شھری کی خودکشی۔۔مافیا کی بجلی سستی اور مافیا کی مھنگی۔فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کے حوالے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کی زندگی خطرے میں۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ آمدوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی صوبائی کابینہ اور اراکین اسمبلی کی جانب سے پرتپاک استقبال وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی بلوچستان کابینہ اور اتحادی جماعتوں کے اراکین سے ملاقات وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے مریم نواز شریف کو بلوچستان آمد پر خوش آمدید کہاوزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی کوئٹہ میں بات چیت خوشی ہے کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ میرا پہلا دورہ بلوچستان کا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریفبلوچستان کے عوام کا جذبہ اور پاکستان سے وابستگی قابلِ ستائش ہے۔ مریم نواز شریفبلوچستان کو درپیش چیلنجز میں حکومت پنجاب ہر ممکن تعاون کرے گی۔ مریم نواز شریفہم بلوچستان کے ساتھ ہیں، دہشت گردی کا خاتمہ قومی یکجہتی سے ممکن ہے۔ مریم نواز شریفبلوچستان میں امن ، استحکام اور خوشحالی دیکھنا چاہتے ہیں۔ مریم نواز شریفبلوچستان میں خیرمقدم کرنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان کی شکر گزار ہوں۔ مریم نواز شریفبلوچستان کے لوگوں کی ملک کے ساتھ عقیدت کو سراہتی ہوں۔ مریم نواز شریف وزیراعلیٰ بلوچستان موجودہ حالات میں بہت اچھا کام کررہے ہیں۔ مریم نواز شریفبلوچستان کے لئے پنجاب کے وسائل اور خدمات حاضر ہیں۔ مریم نواز شریف بلوچستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ ہیں۔ مریم نواز شریف دعا ہے کہ بلوچستان خوب آگے بڑھے، امن و امان اور خوشیوں کا گہوارہ بنے۔

مریم نواز شریفخوشی ہوگی کہ بلوچستان کے عوام کی خدمت کر سکوں۔ مریم نواز شریفحوصلے اور استقامت کے ساتھ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی صوبے کے معاملات چلارہے ہیں۔ مریم نواز شریفبلوچستان کو فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن میں ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ مریم نواز شریفدعا ہے کہ بلوچستان سے دہشت گردی کا جلد خاتمہ ہو۔ مریم نواز شریفعزت افزائی کرنے پر گورنر اور سی ایم بلوچستان کی شکر گزار ہوں۔ مریم نواز شریفسیکیورٹی کے لئے معاونت مثبت اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹیبلوچستان میں امن اور عوامی فلاح کے لئے متحد ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

راولپنڈی پیرودھائی کے لوہارہ بازار میں ایک شخص نے بجلی کا بل زیادہ آنے پر چھری سے اپنا گلا کاٹ کر خودکشی کرلی۔ ذرائع یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ کس حد تک پریشانی کا شکار ہوسکتے ہیں ۔

*کےپی میں امن وامان سے متعلق اجلاس، مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو ماڈل کے طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ*خیبر پختونخوا میں امن وامان سے متعلق اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو ماڈل کے طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتِحال سے متعلق اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، کور کمانڈر اور قومی سلامتی کے مشیر نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے میں مستقل قیامِ امن کے لیے بات چیت کی گئی اور قبائلی اضلاع کی بہتری کے لیے اجتماعی حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق سب نے مل بیٹھ کر امن وامان کی صورتحال پرمتفقہ طورپر بات چیت کی، اجلاس اپیکس کمیٹی کے اجلاس کا فالو اپ تھا۔اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو بطور ماڈل نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ ماڈل کو خیبر، اورکزئی اور کرم میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔

نقابِ مظلومیت بے نقاب: بی ایل اے کی خاتون خودکش بمبار دہشت گردی کی اصل ساخت عیاں کر گئیرانا تصدق حسینکوئٹہ — حالیہ ناکام بنائے گئے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے آپریشن “ہیروف-2” کے دوران ہلاک ہونے والی خاتون خودکش بمبار حاتم ناز سملانی محض کسی نام نہاد مظلوم کا کردار نہیں تھی، بلکہ ایک طویل عرصے سے سرگرم دہشت گرد آپریٹو تھی—یہ حقیقت اب خود بی ایل اے کی جانب سے بھی کھلے عام تسلیم کر لی گئی ہے۔مصدقہ تفصیلات کے مطابق حاتم ناز نے کم عمری میں کالعدم دہشت گرد تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور 2015ء میں باقاعدہ طور پر بی ایل اے کے خودکش ونگ، نام نہاد “مجید بریگیڈ” کا حصہ بنی۔2016ء میں وہ سیکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن کے دوران زخمی بھی ہوئی، جو مجید بریگیڈ کے بانی کمانڈر اسلم اچھو کے خلاف کیا گیا تھا—یہ امر اس کے فعال عملی کردار کی مزید تصدیق کرتا ہے۔بعد ازاں، مستند خفیہ معلومات کی بنیاد پر پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے حاتم ناز کو گرفتار کر لیا۔تاہم، اس گرفتاری کو فوری طور پر سیاسی رنگ دے دیا گیا۔نام نہاد “ویمن کارڈ” کے پردے میں بی وائی سی (BYC) کی جانب سے ایک منظم پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی، جس میں گرفتاری کو “بلوچ غیرت اور وقار” پر حملہ قرار دیا گیا۔سڑکوں پر احتجاج اور دباؤ کے نتیجے میں حکام کو مجبوراً اسے رہا کرنا پڑا۔رہائی کے بعد حاتم ناز دوبارہ پہاڑوں میں موجود دہشت گرد ٹھکانوں پر جا پہنچی، بی ایل اے کے مسلح نیٹ ورک میں شامل ہوئی اور بالآخر خودکش حملہ کر کے ناکام ہیروف-2 آپریشن کے دوران انجام کو پہنچی۔قابلِ غور امر یہ ہے کہ اب بی وائی سی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جبکہ خود بی ایل اے نے اعتراف کیا ہے کہ حاتم ناز کئی برسوں سے تنظیم سے وابستہ تھی—یوں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے مؤقف کی مکمل توثیق ہو گئی ہے۔یہ واقعہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے:دہشت گردی کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے، نہ قوم، نہ جنس اور نہ عمر۔دہشت گرد 16 سالہ لڑکا بھی ہو سکتا ہے، 22 سالہ طالب علم بھی، نوجوان عورت بھی اور کوئی معمر فرد بھی۔دہشت گردی مظلومیت کی شناخت نہیں، بلکہ تشدد پر مبنی ایک نظریہ ہے۔بلوچ لبریشن آرمی، جسے بین الاقوامی سطح پر کالعدم دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے، شہری آبادی، ترقیاتی منصوبوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کی ایک طویل اور خون آلود تاریخ رکھتی ہے۔

اس کی سرگرمیوں کے بارے میں یہ حقیقت مستند ذرائع سے ثابت ہے کہ انہیں بھارت کی خفیہ ایجنسی را کی سرپرستی، سہولت کاری اور مالی معاونت حاصل رہی ہے، جبکہ بعض دیگر علاقائی دشمن عناصر بھی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اس میں شریک رہے ہیں۔تاہم، ایسے تمام عزائم ناکامی سے دوچار ہوں گے۔جب تک پاکستان فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر (چیف آف ڈیفنس اسٹاف) کی قیادت میں، اور پاکستان ایئر فورس و مسلح افواج کے معرکہ آزمودہ غازیوں کے سائے تلے محفوظ ہے، ریاست کے خلاف ہر سازش نہ صرف ناکام ہوگی بلکہ اپنے ہی سرپرستوں پر الٹ کر کہیں زیادہ شدت سے گرے

صوبے کے تمام 9 تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں پر مشتمل بورڈ کمیٹی نے امتحانی نظام میں بڑی اصلاحات کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات میں روایتی دستی چیکنگ اور نگرانی کا طریقہ ختم کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد امتحانی عمل کو جدید، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔نئے نظام کے تحت امتحانات میں شرکت کرنے والے تمام طلبہ و طالبات کے لیے بایومیٹرک حاضری لازمی ہوگی۔ 2026 سے جماعت نہم اور گیارہویں میں رجسٹریشن کے وقت طلبہ کے انگوٹھوں کے نشانات لیے جائیں گے، جنہیں امتحانی مراکز میں داخلے اور تصدیق کے لیے استعمال کیا جائے گا۔کمیٹی نے پرچوں کی مکمل ڈیجیٹل مارکنگ کی بھی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت جوابی کاپیاں اسکین کر کے کمپیوٹر اسکرین پر چیک کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق اس سے غلط مارکنگ، حسابی غلطیوں کا خاتمہ اور شفافیت میں بہتری آئے گی۔سائنس کے پریکٹیکل امتحانات کو بھی مؤثر اور بامقصد بنایا جا رہا ہے۔ رواں سال یہ اصلاحات جزوی طور پر نافذ ہوں گی، جن کا آغاز نہم اور گیارہویں جماعت کے طلبہ کی بایومیٹرک رجسٹریشن سے کیا جائے گا۔

شہری کو زنجیروں میں جکڑنے کا معاملہ، آئی جی پنجاب عبدالکریم کا سخت نوٹساے ایس پی آپریشنز کاہنہ (لاہور) آغا فصیح رحمان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، نوٹیفکیشن

مودی سرکار کے ساتھ معاہدہ۔بھارت کے ساتھ مامعلات طے ٹرمپ کا دورہ بھارت مارچ کے آخر میں۔۔9 واں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مقابلہ کھاریاں میں کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا۔۔ ۔پاکستان نے امریکہ کو 32 رنز سے شکست دے دی۔۔عمران خان کی رہائی کتنے روز بعد۔ ۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

خفیہ اداروں نے 22 ھزار 380 افسران ملازمین دوھری شہریت والے پکڑ لئے گریڈ 22 کے 21 افسران بھی شامل پولیس وزارت خارجہ اور ڈی ایم جی کے افسران پھلے 3 نمبروں میں شامل میری وزارت اطلاعات کے 25 افسران بھی دوھری شہریت کے حامل تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*بادبان ٹی وی **ملک پاکستان چلانے والے کرداروں کی لسٹ پہلی بار منظر عام پر آ گئی کون لوگ ہیں کس ملک کے باسی ہیں تفصیلات جان کر 24کروڑ پاکستانی حیران و پریشان*بائیس ہزار سے زیادہ اہم عہدوں پر تعینات افسران نے امریکہ کینیڈا انگلینڈ و آسٹریلیا کی شہریت لے رکھی ہے۔سپریم کورٹ میں پیش کی گئی فہرست کے مطابق دوہری شہریت والے افسران کی تعداد 22 ہزار 380 ہےان میں1100 کا تعلق صرف پولیس اور بیوروکریسی سے ہے اور ان میں سے540 کینیڈین240 برطانوی190 کے قریب امریکہ کے بھی شہری ہیںدرجنوں سرکاری ملازمین نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ملائیشیا اورآئرلینڈ جیسے ملکوں کی بھی شہریت لے رکھی ہے110 سرکاری افسروں میں اہم حکومتی عہدوں پر بھی براجمان ہیںگریڈ 22 کے 6ایم پی ون سکیل کے 11گریڈ 21 کے 40گریڈ 20 کے 90گریڈ 19 کے 160گریڈ 18کے 220گریڈ 17 کے 160داخلہ ڈویژن کے 20پاور ڈویژن 44ایوی ایشن ڈویژن 92خزانہ ڈویژن 64پٹرولیم ڈویژن 96کامرس ڈویژن 10آمدن ڈویژن 26اطلاعات و نشریات 25اسٹیبلشمنٹ 22نیشنل فوڈ سکیورٹی 7کیپیٹل ایڈمنسٹریشن11مواصلات ڈویژن 16ریلوے ڈویژن 8کبنٹ ڈویژن کے 6 افسر دہری شہریت کے حامل ہیںسب سے زیادہ دہری شہریت کے حامل افراد کا تعلق محکمہ تعلیم سے ہےان کی تعداد 140 سے زیادہ ہےقومی ایئر لائن کے 80 سے زیادہلوکل گورنمنٹ 55سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر 55نیشنل بینک 30سائنس اور ٹیکنالوجی 60زراعت 40سے زیادہسکیورٹیایکسچینج کمیشن 20آبپاشی 20سوئی سدرن 30سوئی ناردرن 20پی ایم ایس 17پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس 14نادرا کے 15 ملازمین دہری شہریت کے حامل ہیںدوہری شہریت والی اہم شخصیات میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22کے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوانوید کامران بلوچ کینیڈا(پی اے ایس)کی پہلی خاتون صدراور گریڈ22 کی وفاقی سیکرٹری انسانی حقوق ڈویژن رابعہ آغا

برطانیہگریڈ 22کے سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ سردار احمد نواز سکھیرا امریکہگریڈ21کے موجودہ ڈی جی پاسپورٹ و امیگریشن عشرت علی برطانیہگریڈ22کی سابق سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ سمیرا نذیر صدیقی نیوزی لینڈگریڈ 20 کے سیکرٹری اوقاف پنجاب ذوالفقار احمد گھمن امریکہمراکو میں سابق سفیر نادر چودھری برطانیہقطر میں سابق سفیر شہزاد احمد برطانیہکسٹم کے گریڈ 21 کے ایڈیشنل وفاقی سیکرٹری خزانہ احمد مجتبیٰ میمن کینیڈاگریڈ 21 کی چیف کلیکٹر کسٹم زیبا حئی اظہرکینیڈاپولیس سروس کے گریڈ 22 کے اقبال محمود (ر)گریڈ21 کے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب میاں شجاع الدین ذکا کینیڈاچیئرمین پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین فوزیہ وقار کینیڈاپاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر سید ومیق بخاری امریکہموجودہ ایم ڈی معین رضا خان، نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد برطانیہڈائریکٹرجنرل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف طاہر امریکہگریڈ 20کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ /پریس انفارمیشن آفیسرجہانگیر اقبال کینیڈاسابق پنجاب حکومت کے ساتھ اہم قانونی معاملات پہ کام کرنے والے نامور قانون دان سلمان صوفی امریکہ کے شہری ہیںاسی طرح گریڈ 20 کے ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر محمد اجمل کینیڈاگریڈ21کے وزارت داخلہ میں ایڈیشنل سیکرٹری شیر افگن خان امریکہگریڈ 20 کے جوائنٹ سیکرٹری وزیر اعظم آفس احسن علی منگی برطانیہگریڈ20 کے راشد منصور کینیڈاگریڈ 20کے علی سرفراز حسین برطانیہگریڈ 18کے محمد اسلم راؤبرطانیہگریڈ 20 کی سارہ سعید برطانیہ،گریڈ18کے عدنان قادر خان برطانیہگریڈ 18کی رابعہ اورنگزیب کینیڈاگریڈ 18 کی صائمہ علی برطانیہگریڈ 20 کے سپیشل برانچ کے ڈی آئی جی زعیم اقبال شیخ برطانیہ

گریڈ 20 کے لاہور پولیس ٹریننگ کالج کے کمانڈنٹ ڈی آئی جی مرزا فاران بیگ برطانیہگریڈ20 کے ڈی آئی جی مواصلات شاہد جاوید کینیڈاگریڈ 20 کے ڈاکٹر محمد شفیق (ریٹائرڈ) کینیڈاگریڈ 19کے ایس ایس پی گوادر برکت حسین کھوسہ کینیڈاگریڈ 19 کے ایس ایس پی ندیم حسن کینیڈاگریڈ 18 کے ایس پی عادل میمن امریکہگریڈ 17 پنجاب لوکل گورنمنٹ کے عرفان سلیم بٹ کینیڈا گریڈ 18کے عقیل احمد خان امریکہگریڈ18کے ارشد محمود کینیڈا،گریڈ 19کے سہیل شہزاد برطانیی تنویر جبار کینیڈاگریڈ19کے محمد جاوید نسیم کینیڈاگریڈ19کے محمد محسن رفیق کینیڈاگریڈ19کے راشد احمد خان کینیڈاگریڈ 19کے طفیل خان یوسفزئی آسٹریلیاگریڈ19کے محمد شاہد نذیر کینیڈاگریڈ19کے محسن فاروق کینیڈاگریڈ18کے محمد ابراہیم کینیڈا گریڈ17کے محمد افتخار امریکہگریڈ 17کے نواز گوندل کینیڈا گریڈ 19کے اعجازعلی شاہ امریکہگریڈ19کے امجد علی لغاری کینیڈاسٹیٹ بینک کے عبد الرؤف امریکہصبا عابد امریکہسید سہیل جاویدکینیڈاراحت سعیدامریکہٹیپو سلطان امریکہعرفان الٰہی مغل امریکہمحمد علی چودھری برطانیہحسن جیواجی کینیڈازہرہ رضوی برطانیہامجد مقصود کینیڈاعنایت حسین آسٹریلیاشازیہ ارم کینیڈا، تبسم رانا کینیڈاریاض احمد خواجہ کینیڈاناصر جہانگیر خان کینیڈا مصطفی متین شیخ کینیڈا فضلی حمید کینیڈاسینئرایگزیکٹو نائب صدر نیشنل بینک شاہد سعید برطانیہرشا اے محی الدین برطانیہسید جمال باقر برطانیہمدثر ایچ خان امریکہایگزیکٹو نائب صدرفاروق حسن برطانیہعاصم اختر کینیڈاناصر حسین کینیڈاسینئر نائب صدرسید خرم حسین امریکہواصف خسرو احمد برطانیہ سید طارق حسن کینیڈاغلام حسین اظہر کینیڈانائب صدرمحمود رضا برطانیہ نادیہ احمر کینیڈااسسٹنٹ نائب صدرعامر نواز کینیڈامحمد آفتاب کینیڈابابر علی کینیڈامحمد امان پیر کینیڈامحمد فرذوق بٹ برطانیہسید نعمان احمد برطانیہسبین طاہر برطانیہسید نازش علی برطانیہگریڈ 20 کے سید طارق حسن کینیڈاگریڈ 20کے عبد القادر برطانیہ گریڈ20کے سید شبیر احمد کینیڈاگریڈ18کے سید نعمان احمدبرطانیہگریڈ17کے خواجہ فیصل سلیم برطانیہ

گریڈ18کے نوید تاجدار رضوی برطانیہگریڈ18کے عثمان علی شیخ امریکہگریڈ21کے امین قاضی جرمنی محکمہ تعلیم میں گریڈ19کے منصور احمدجرمنیگریڈ21کے ڈاکٹر سہیل اختر آسٹریلیاگریڈ21کے خالد محمود کینیڈاگریڈ 17کی فرزانہ اکرم سپین گریڈ19 کے محمد عمران قریشی کینیڈاگریڈ21کے ڈاکٹر مشرف احمد کینیڈابریگیڈیئر (ر) عامر حفیظ امریکہوقار عزیز کینیڈارملہ طاہر آسٹریلیاڈاکٹر جمشید اقبال جرمنیڈاکٹرکاشف رشید آسٹریلیاڈاکٹر اسد اﷲ خان برطانیہ ڈاکٹر محمد مشتاق خان ہالینڈنعمان احمد کینیڈانیئر پرویز بٹ برطانیہاعجاز احمد فرانسصنم علی ڈنمارکخالدہ نور کینیڈاپروفیسر ڈاکٹراسلم نور کینیڈا محمد ارشد رفیق کینیڈانرگس خالد امریکہمحمد افضل ابراہیم امریکہڈاکٹر عقیل احمد قدوائی کینیڈاڈاکٹر پاشا غزل برطانیہمحمد سعد بن عزیز کینیڈاگریڈ19کے خالد محمود احمد برطانیہگریڈ19کی ثانیہ طارق کینیڈا گریڈ20کی طاہرہ ضیا برطانیہ گریڈ17کی روشان امبرامریکہ گریڈ17کی سمرین آصف کینیڈا گریڈ18کی قنطا نور کینیڈاگریڈ19کے ڈاکٹر محمد شیراز ارشدملک کینیڈاگریڈ21کے فرحت عباس کینیڈا گریڈ19کی شبنم نور کینیڈا گریڈ17کی عاصمہ اعظم امریکہگریڈ18کی تہمینہ عتیق کینیڈا گریڈ19کی روحیلہ ریاض ہالینڈ گریڈ18کی سیدہ نوشین طلعت کینیڈاقمر الوہاب سویڈنگریڈ17کے منصور احمد بٹ کینیڈاگریڈ18کے سید جمال شاہ کینیڈاگریڈ19کے محمد کلیم کینیڈا گریڈ19کے ڈاکٹر قیصر رشید کینیڈاگریڈ21کے محمد منیر احمد برطانیگریڈ19کے ڈاکٹر عبد الرحمان شاہد برطانیہگریڈ18کے شاہ رخ عرفان برطانیہگریڈ18کی ساشا احمد کینیڈا گریڈ17کے سخن الٰہی برطانیہ گریڈ18کے حسن بخاری برطانیہ گریڈ17کی رخسانہ احسن امریکہگریڈ17کے محمد علی ظہیر امریکہگریڈ17کے ابراہیم عبد القادر عارف امریکہڈاکٹر محمد نعمان ملائیشیا گریڈ17کی عالیہ نذر کینیڈاگریڈ19کی ڈاکٹر مریم مصطفی جرمنیگریڈ18کے نجم طارق برطانیہ گریڈ19کی کوکب علی کینیڈا گریڈ19کی فریدہ بیگم بحرینگریڈ18کی عشرت این بخاری برطانیہگریڈ19کی نسیم اختر بحریننوباح علی سعد برطانیہکامران ہاشمی امریکہطاہر عزیز خان برطانیہجنید شریف کینیڈاڈاکٹر جلیل اختر کینیڈا گریڈ20کی ڈاکٹر صبینہ عزیز برطانیہگریڈ18کے عتیق امجد کینیڈا گریڈ17کی لائقہ کے بسرا امریکہگریڈ19کی فاخرہ سلطانہ برطانیہگریڈ 19کے ڈاکٹر آصف خان برطانیہگریڈ18کی نسرین کوثر کینیڈاگریڈ17کی کشور فردوس کینیڈاگریڈ20کے ناصر سعید کینیڈا گریڈ18کے ڈاکٹر محمد علی عارف برطانیہڈاکٹر محمد احمد بودلا کینیڈا گریڈ18کی ناظمہ ملک کینیڈا گریڈ18کی عائشہ سعید نیوز لینڈگریڈ17کے ساجد مسعود برطانیہگریڈ17کے شاہد آزاد نیوزی لینڈ گریڈ18کے نیاز محمد خان کینیڈاگریڈ18کے شہزاد اسلم باجوہ آسٹریلیاگریڈ17کی ڈاکٹر عفت بشیر امریکہگریڈ 19کے محمد اسماعیل برطانیہگریڈ18کے محمد اظہر آسٹریلیا گریڈ17کی مدینہ بی بی افغانستانگریڈ17کی عطرت جمال کینیڈا گریڈ20کی ڈاکٹر راحیلہ آصف کینیڈاگریڈ21کے پروفیسر ڈاکٹر ناصر الدین شیخ کینیڈاگریڈ18کی ماریہ سرمد کینیڈاگریڈ21کی پروفیسر ڈاکٹر انیلہ نعیم کینیڈاگریڈ21کے پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا مہدی امریکہعمر میمن آسٹریلیاگریڈ20کی سارہ کاظمی امریکہ گریڈ21کے شمس ندیم عالم امریکہگریڈ19کے اقتدار احمد صدیقی امریکہگریڈ19کے اسد خان کینیڈا گریڈ19کے سعید اختر امریکہگریڈ18کی شائمہ سلطانہ میمن جنوبی افریقہگریڈ18کے ذو الفقار نذیر امریکہشگفتہ نظام برطانیہگریڈ18کے عدنان سرور سکو والاسویڈنگریڈ 19کی نادیہ رفیق کینیڈا گریڈ20کے مجیب رحمان عباسی آئر لینڈتزین ملک برطانیزنیرہ طارق امریکہ، گریڈ20کے فرید الدین صدیقی کینیڈا،

گریڈ19کی مریم قریشی برطانیہ، گریڈ19کی راشدہ پروین امریکہ، گریڈ19کے شاداب علی راجپوت کینیڈا، گریڈ17کی لبنیٰ بلوچ کینیڈا،گریڈ18کی یاسمین زمان برطانیہ، گریڈ17کے محمد ارشد علی خان امریکہ، گریڈ19کے ڈاکٹر سلیم احمد پھل کینیڈا، گریڈ17کے توقیر سوئٹزر لینڈ، گریڈ19کی نبیلہ فرید برطانیہ،ڈاکٹر نوشین انور امریکہ، ڈاکٹر نادیہ قمر چشتی مجاہد امریکہ، ثمر قاسم امریکہ، ڈاکٹر جبران رشید کینیڈا، گریڈ21کے ڈاکٹر شمیم ہاشمی امریکہ، ڈاکٹر اعجاز احمد میاں کینیڈا، ڈاکٹر محمد نشاط نیوزی لینڈ، ڈاکٹر شیبا سعید برطانیہ، محمداسد الیاس کینیڈا، ڈاکٹر محمد شعیب جمالی امریکہ، لبنیٰ انصر بیگ کینیڈا، گریڈ21کی علیسیا مریم ثمیمہ امریکہ،گریڈ17کی حمیدہ عباسی کینیڈا، گریڈ19کی رابعہ منیر برطانیہ، ڈاکٹر بینش عارف سلطان برطانیہ، گریڈ17کی بشیراں رندکینیڈا، گریڈ20کے زبیر اے عباسی برطانیہ، گریڈ17کی مہرین افضل امریکہ، پی آئی اے کے ضیا قادر قریشی آسٹریلیا، عنایت اﷲ آئرلینڈ، شیخ عمر اسلام کینیڈا، مبارک احمد کینیڈا، فواز نوید خان کینیڈا، تنویر لودھی امریکہ، سہیل محمود کینیڈا،شہزادہ خرم کینیڈا، انعام اﷲ جان امریکہ، طلحہ احمد خان کینیڈا، ندیم احمد خان کینیڈا، توصیف احمد امریکہ، منظور بھٹو کینیڈا، عامر حسین شاہ کینیڈا، شہریار احمدڈوگرکینیڈا، محمد جمیل امریکہ، ڈاکٹر صنم ممتاز کینیڈا، بدر الاسلام امریکہ، سید ہمایوں امریکہ، طارق جمیل خان برطانیہ،محمد علی کھنڈوالا امریکہ، فرحان وحید برطانیہ، عثمان غنی راؤ کینیڈا، مصباح احسان امریکہ، نجیب امین مغل کینیڈا، طارق محمود خان کینیڈا، وقار الاحسن کینیڈا، عمر رزاق کینیڈا، اشفاق حسین برطانیہ، سید خالد انور امریکہ، محمد ظفر علی کینیڈا، زریاب بشیر برطانیہ، محمد حسام الدین خان برطانیہ، سمیع ہاشمی کینیڈا، عامر سرور کینیڈا، فیضان خالد رضوی امریکہ، عمر سلیم برطانیہ، اسد اویس کینیڈا، زاہد رضا نقوی کینیڈا، نوید اکرام امریکہ، راشد احمد برطانیہ، محمد نجم الخدا کینیڈا، افضل احمد ممتاز برطانیہ، کہکشاں ترنم کینیڈا،عاصمہ باجوہ برطانیہ، ریاض علی خان کینیڈا، نجیب اے سید کینیڈا، محمد سہیل برطانیہ، زاہد حمید قریشی برطانیہ، ڈاکٹر رخسانہ کینیڈا،نائلہ منصور امریکہ، عریج اے بلگرامی کینیڈا، سعید احمد امریکہ، محمد حنیف میمن کینیڈا، محمد طارق گبول کینیڈا، امش جاوید کینیڈا،طارق بن صمد کینیڈا، سعیدہ حسنین برطانیہ، ساجد اﷲ خان امریکہ،طارق این علوی فرانس، علی حسن یزدانی کینیڈا، ارشد علی حسن جان کینیڈا، عدنان عندلیب آسٹریلیا، شمشاد آغا امریکہ، فرح حسین برطانیہ، علی اصغر شاہ برطانیہ، ندیم ظفر خان کینیڈا، راحیل احمد برطانیہ،سید بائر مسعود کینیڈا، کلیم چغتائی کینیڈا، عبد الحمید سعدی کینیڈا، رفعت اشفاق برطانیہ، محمد انور علوی امریکہ، سید محسن علی کینیڈا، ناصر جمال ملک کینیڈا، محمد ماجد حفیظ صدیقی کینیڈا،اسد مرتضیٰ کینیڈا، میر محمد علی کینیڈا، سجاد علی نیوزی لینڈ، سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئراینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں گریڈ19کی ڈاکٹر سعیدہ آصف امریکہ، محمد کامران منشا برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر منیب اشرف امریکہ،گریڈ18کی ڈاکٹر مریم اشرف برطانیہ، ڈاکٹر سمیرہ امین کینیڈا،گریڈ17کی ڈاکٹر گل رعناوسیم برطانیہ، ڈاکٹر خواجہ ندیم آئرلینڈ، فراز تجمل امریکہ،گریڈ20کے پروفیسر آصف بشیرامریکہ، گریڈ18کی ڈاکٹرعائشہ بشیرہاشمی، گریڈ18کے ڈاکٹر سید مظاہر حسین برطانیہ، گریڈ18کی ڈاکٹر رحسانی ملک کینیڈا، گریڈ20 کے پروفیسر ناصر رضا زیدی کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر علی رضا خان روس،گریڈ20کے ڈاکٹر مظہر الر حمان برطانیہ، گریڈ18کے محمد توقیر اکبر آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹرمحمد یوسف معراج ملائیشیا،گریڈ17کے ڈاکٹر انیس اورنگزیب برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر طیب اکرام برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر عدنان ایس ملک امریکہ،

گریڈ20کے ڈاکٹر محمد مغیث امین برطانیہ،گریڈ18کی ڈاکٹرارم چودھری امریکہ، گریڈ 20 کی ڈاکٹر فرخندہ حفیظ کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر سلیمان اے شاہ امریکہ، گریڈ17کی ڈاکٹر اشما خان نیپال، گریڈ17کی ثمن صغیر برطانیہ، گریڈ18کی ڈاکٹر بشریٰ رزاق امریکہ، گریڈ18کی ڈاکٹر لبنیٰ فاروق کینیڈا،گریڈ17کی ڈاکٹر شمائلہ رشید برطانیہ، پروفیسر محمد طارق برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر گوہر علی خان برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر سلمان یوسف شاہ برطانیہ، گریڈ 17کی ڈاکٹر عائشہ عثمان برطانیہ، گریڈ19کے ڈاکٹر خرم ایس خان کینیڈا، گریڈ18کے طارق اے بنگش آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹر عامر لطیف آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹر غلام سرور برطانیہ،گریڈ 17کے امجد فاروق امریکہ، گریڈ 18کے کاشف عزیز احمد کینیڈا، گریڈ 17کی ڈاکٹر لبنیٰ ناصر برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر فرقان یعقوب برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر ظہیر خان امریکہ، گریڈ17کی غازیہ خانم کینیڈا، گریڈ20کے پروفیسر اعظم جہانگیر امریکہ،گریڈ18کے ڈاکٹر شفیق چیمہ امریکہ، گریڈ19کے ڈاکٹر خورشید خان امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹر ارسلان امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر نعمان اکرم فرانس، گریڈ18کی ڈاکٹر حمیرہ رضوان کینیڈا،گریڈ18کی ڈاکٹر تبسم عزیزبرطانیہ، گریڈ18کی رخسانہ کینیڈا، گریڈ17کے ڈاکٹر عمر فاروق برطانیہ، گریڈ20کی نسرین منظور نیوزی لینڈ، گریڈ 17کے ڈاکٹر حسن فاریس النائف شام،گریڈ20کی ڈاکٹر مہرین سادات کینیڈا، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں گریڈ 19کے اختر احمد بھوگیو کینیڈا،سہیل اصغر آسٹریلیا، چودھری آفاق الرحمان کینیڈا،سلمان اسلم کینیڈا،( نسٹ)گریڈ19کے اکرام رسول قریشی امریکہ، گریڈ19کی نگہت پروین گیلانی کینیڈا، گریڈ21کے ریاض احمد مفتی برطانیہ، گریڈ21کے ارشد حسین کینیڈا، گریڈ19کے کامران حیدر سید کینیڈا، گریڈ19کے عدیل نعیم بیگ آسٹریلیا، گریڈ19کے ندیم احمد آسٹریلیا، گریڈ20کے ارشد زمان خان امریکہ،گریڈ19کے منیر احمد تارڑ کینیڈا، ڈاکٹر طاہر مصطفی مدنی برطانیہ، گریڈ19کے ماجد مقبول کینیڈا، گریڈ19کے سعد اعظم خان المروت امریکہ، گریڈ19 کے عاطف محمد خان برطانیہ، گریڈ21کے شہباز خان برطانیہ، گریڈ19کے نوید اکمل دین برطانیہ،گریڈ19کے عثمان حسن کینیڈا، گریڈ19کے فرحان خالد چودھری برطانیہ، گریڈ19کے اطہر علی کینیڈا، گریڈ19کے اختر علی قریشی کینیڈا، گریڈ19کے حسن رضا کینیڈا، گریڈ 19کی ماہا احمد آسٹریلیا، گریڈ20کے فیصل شفاعت جرمنی، گریڈ21کے ذاکر حسین جرمنی،گریڈ21کے محمد فہیم کھوکھر جرمنی، محکمہ صحت میں گریڈ18کے ڈاکٹرفیاض احمد امریکہ،گریڈ 17کے ڈاکٹر صوبیہ ظفر کینیڈا، گریڈ17کے ڈاکٹر فیصل اعجاز امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹرمحمد عمران خان آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹر خالد عثمان آئر لینڈ،گریڈ19کے ڈاکٹر آفتاب عالم برطانیہ، گریڈ18کی ڈاکٹر انیلہ ریاض برطانیہ، گریڈ20کے ڈاکٹر عمر حیات آئر لینڈ، گریڈ18کے مجیب الر حمان کینیڈا، گریڈ18کے ہارون ظفر برطانیہ، گریڈ18کی شازیہ طارق برطانیہ، گریڈ18کی مینا خان ناظم برطانیہ، اظہر سردار کینیڈا، گریڈ20کے آصف ملک برطانیہ،گریڈ18کے ڈاکٹر سجاد اے خان روس، گریڈ17کی ثمینہ ناز کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر مہدی خان برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر نسرین اختر امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد آصف سلیم برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر طاہرہ حمید برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد شیراز بحرین، گریڈ17کے ڈاکٹر ناصر علی نواز برطانیہ،گریڈ18کے ڈاکٹر محمد وسیم کینیڈا، گریڈ18کی ڈاکٹر عائشہ ابراہیم برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر محمد اقبال شکور برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر مشال وحید امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹر ساج علی ڈوگا برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر آصف محمود اے قاضی کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر اسد الرحمان برطانیہ،گریڈ17کی ناہید انور برطانیہ، ڈاکٹر محمد بلال یاسین آسٹریلیا،گریڈ18کے ڈاکٹر آفتاب احمد علوی امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر نیئر جمال کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر فیاض علی برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر ذکیہ صمد امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر راشد خان امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹر عبد الرؤف آئر لینڈ، گریڈ17کی رفعت آرا خالد کینیڈا، گریڈ17کے ڈاکٹر وقار احمد برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر شیریں جان بحرین، گریڈ17کی گل مہینا برطانیہ،گریڈ17کی شمیم نورآسٹریلیا،

گریڈ19کے ڈاکٹر محمد فاروق ترین برطانیہ، گریڈ17کی حاجرہ علی آفریدی امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد فیصل بحرین، گریڈ17کی فریدہ بلوچ کینیڈا،گریڈ19کی صائمہ شیخ برطانیہ، گریڈ19کی ڈاکٹرلبنیٰ سرور برطانیہ، گریڈ20کے زاہد حسن انصاری کینیڈا، گریڈ19کی حمیرا معین کینیڈا، گریڈ20کے پروفیسر ڈاکٹر ہاشم رضا برطانیہ،گریڈ19کی ڈاکٹر سائرہ افغان برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر عنبر نواز امریکہ، گریڈ17کی ڈاکٹر مشل طارق آسٹریلیا، گریڈ18کی ڈاکٹر فریدہ امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد ہاشم کینیڈا،گریڈ19کے محمد حنیف برطانیہ، گریڈ19کی شہلا باقی امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر شہاب جو نیجو امریکہ، شوہاب حیدر شیخ برطانیہ، سید اکمل سلطان برطانیہ، ڈاکٹر نوشیروان گل حیدر سومرو برطانیہ، گریڈ17کی عذراپروین برطانیہ، گریڈ18کے عدنان قاسم برطانیہ،گریڈ18کی ڈاکٹر آسیہ رحمان امریکہ، ڈاکٹر عامر حلیم آئرلینڈ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمدعامر ہارون کینیڈا، گریڈ19کے محمد شاہد اقبال کینیڈا، منصوبہ بندی وترقی میں گریڈ 20 کے محمد اجمل کینیڈا، ڈاکٹر اسد زمان امریکہ، عامر منصف خان امریکہ،ڈاکٹر شہزادرحمان کینیڈا، مراد جاوید خان کینیڈا، علی رضا خیری برطانیہ، محمد احمد چودھری آسٹریلیا، انتساب احمد کینیڈا، حرا اقبال شیخ امریکہ، صداقت حسین کینیڈا، ملک احمد خان کینیڈا،مائرہ جعفری برطانیہ، فرحان ظہیر آسٹریلیا، حسن ایم خالد کینیڈا، نوشین فیاض کینیڈا، گریڈ19کے ناصر اقبال برطانیہ، گریڈ18کے عرفان احمد انصاری کینیڈا، ہما محمود برطانیہ، اعجاز غنی کینیڈا، گریڈ 20کے سابق ممبر پلاننگ سی ڈی اے (ر)اسد محمود کیانی امریکہ، گریڈ19کے ایاز احمد خان کینیڈا،گریڈ 19کے حافظ محمد احسان الحق کینیڈا،گریڈ 19کی ڈاکٹر شازیہ یوسف کینیڈا، گریڈ18کی ڈاکٹر عظمیٰ علی کینیڈا،لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں گریڈ 19کے معین شریف کینیڈا، گریڈ 20 کے محمد ارشاد اﷲ کینیڈا، گریڈ 18 کے خالد محمود کینیڈا، گریڈ 19کے سلما ن مجید بٹ کینیڈا، گریڈ 18کے احمد فراز سلیم کینیڈا، گریڈ 19کے اعجازاحمد کینیڈا، گریڈ 20کے محمد علی ڈوگرکینیڈا، گریڈ 17کے محسن وقار امریکہ، گریڈ19کے خالد خان کینیڈا، ہائر ایجوکیشن کمیشن میں گریڈ 21کے ڈاکٹر ریاض احمد نیوزی لینڈ، ڈاکٹر محمد لطیف آسٹریلیا،گریڈ18کے فواد مرتضیٰ کینیڈا،گریڈ19کی سیدہ ہما ترمزی برطانیہ، گریڈ19کی نادیہ اقدس کینیڈا، گریڈ19کی نبیلہ نثار کینیڈا، گریڈ18کی ریحانہ افضل آسٹریلیا، گریڈ18کی عذرامنور کاظمی آسٹریلیا، گریڈ18کی سمرہ عبد الجلیل امریکہ، گریڈ18کی حمیدہ بیگم کینیڈا، گریڈ17کی رفیعہ مرتضیٰ کینیڈا، گریڈ17کی امین فاطمہ امریکہ، گریڈ17کی غزالہ سہراب کینیڈا، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے سلیم اﷲ محمود برطانیہ ،حسیب احمد کینیڈا، شجاعت احمد کینیڈا، عبد الوحید برطانیہ، سہیل رانا کینیڈا، فضل حسین برطانیہ، فاروق اعظم شاہ کینیڈا، خالد محمود رحمان کینیڈا، ثاقب احمد برطانیہ، کوثر احمد محمد کینیڈا، صدیق محمد چودھری برطانیہ، گریڈ 13کے صہیب قادرکینیڈا، شرجیل حسن خان برطانیہ، ایف بی آر میں گریڈ 19کی مصباح کھٹانا برطانیہ، گریڈ 19کے سید آفتاب حیدر برطانیہ،گریڈ 21کے احمد مجتبیٰ میمن کینیڈا، گریڈ 18کے عبد الوہاب امریکہ، گریڈ19کے اورنگزیب عالمگیر کینیڈا، طارق حسین نیازی کینیڈا، گریڈ18کے بشارت علی ملک امریکہ، گریڈ 20کے قاسم رضا کینیڈا، گریڈ 21 کے ڈاکٹر اشفاق احمد تنیو کینیڈا، پاکستان ٹیلی ویژن میں گریڈ 8کے ندیم احمد امریکہ،گریڈ6 کے محمد امجد رامے کینیڈا، گریڈ6 کے میر عجب خان کینیڈا،گریڈ7 کے منصور ناصر کینیڈا، گریڈ6کی صبا شاہد امریکہ، گریڈ6 کی نصرت مسعود امریکہ، گریڈ7کے امتیاز احمد کینیڈا، گریڈ6کے اعجاز احمد بٹ برطانیہ،گریڈ 9 کے محمد شاہ خان کینیڈا، اسدحسین کینیڈا، گریڈ 8کی شاہینہ شاہد، ان لینڈ ریونیو کے گریڈ 19کے نعیم بابر آسٹریلیا، گریڈ 20کے سجاد تسلیم اعظم برطانیہ،گریڈ 19کے شاہد صدیق بھٹی کینیڈا،گریڈ 20 کے عاصم افتخار کینیڈا، گریڈ18کے سید صلاح الدین جیلانی کینیڈا، گریڈ20کی شازیہ میمن برطانیہ، گریڈ18کے اسفندیار جنجوعہ کینیڈا، گریڈ20کے نوید اختر کینیڈا، گریڈ 21 کے حافظ محمد علی امریکہ، گریڈ20 کے وسیم اے عباسی کینیڈا، گریڈ 19کی سیدہ نورین زہرہ کینیڈا، گریڈ 20 کے عاصم افتخار کینیڈا،نادرا کے سمیر خان برطانیہ، جواد حسین عباسی برطانیہ، منظور احمد خواجہ برطانیہ، احمرین حسین برطانیہ، عارف علی بٹ آسٹریلیا، گریڈ18کے شاہد علی خان برطانیہ،عثمان چیمہ آسٹریلیا، وریام شفقت آسٹریلیا، مبشر امان نیوزی لینڈ، فضا شاہد آسٹریلیا، احمد کمال گیلانی کینیڈا، مکرم علی برطانیہ، گریڈ 19کے طاہر محمود پرتگال، سہیل ارشاد انجم امریکہ، سہیل جہانگیر امریکہ،نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں گریڈ19کے رانا ٹکا خان کینیڈا،گریڈ 18کے عامر سید کینیڈا، گریڈ 18کے محمد زمان کینیڈا،گریڈ 18کے سجاد علی شاہ کینیڈا،گریڈ18کے محمد الطاف نیوزی لینڈ، گریڈ17کے ندیم قاسم خان کینیڈا، گریڈ18کے سید اشرف علی شاہ کینیڈا، گریڈ 19کی نسیم کینیڈا،

خالد اقبال ملک امریکہ، ڈاکٹر مریم پنہوارکینیڈا، مسعود نبی امریکہ، فیصل عارف کینیڈا، محمد ریاض آسٹریلیا، افتخار مصطفی رضوی برطانیہ، اظہر اسحاق کینیڈا،افتخار عباسی برطانیہ،سلیم باز خان امریکہ، گریڈ18کے کاشف علی شیخ کینیڈا، گریڈ17کے طاہر علی اکبر کینیڈا، گریڈ17کی صباحت احمد چودھری کینیڈا، گریڈ18کے آغا عنایت اﷲ کینیڈا، گریڈ17کے محمد جمیل کینیڈا، مواصلات اور ورکس ڈیپارٹمنٹ میں گریڈ19کے سلیم الرحمان کینیڈا، گریڈ 18کی سمیراجمیل کینیڈا، گریڈ18کے محمد نسیم کینیڈا، گریڈ18کے زاہد امان وڑائچ کینیڈا،گریڈ19 کے امجد رضا خان کینیڈا، گریڈ19کے ساجد رشید بٹ کینیڈا،گریڈ19 کے انصار محمود کینیڈا، گریڈ20کے محمد جمال اظہر سلطان کینیڈا، گریڈ18کے علی نواز خان برطانیہ، گریڈ18کے مہرعظمت حیات کینیڈا، گریڈ18کے ارشد خان کینیڈا، گریڈ18کے محمد ایوب کینیڈا، گریڈ20کے علی احمد بلوچ کینیڈا، گریڈ21کے ملک عبد الرشید کینیڈا، گریڈ19کے شفقت حسین کینیڈا،خزانہ ڈویژن کے جیند احمد فاروقی برطانیہ، ایس ایم ای بینک کے اسسٹنٹ نائب صدراطہر اشفاق احمدبرطانیہ،سینئر نائب صدر حافظ محمد اشفاق برطانیہ، گریڈ19کے تجمل الٰہی برطانیہ، ڈاکٹر خاقان حسن نجیب آسٹریلیا، گریڈ 18کے باسط حسین برطانیہ، گریڈ 18کے وقاص خان امریکہ، گریڈ18کے قیصر وقار برطانیہ، اشعر حمید آسٹریلیا، گریڈ19کے عمران شبیر برطانیہ، نہال اے صدیقی کینیڈا، امتیاز احمد میمن برطانیہ، اطہر انعام ملک امریکہ، گریڈ17کے سید علی معظم کینیڈا،گریڈ 21کے نیشنل بین

خیبرپختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ، اعلیٰ سطحی اجلاس منعقدپشاور میں صوبہ خیبرپختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کور ہیڈکوارٹر میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی اور صوبائی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی

پشاور: خیبرپختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ، اعلیٰ سطحی اجلاس منعقدپشاور میں صوبہ خیبرپختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کور ہیڈکوارٹر میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی اور صوبائی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، قومی سلامتی کے مشیر، کور کمانڈر پشاور،آئی جی ایف سی نارتھ، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ اجلاس کے آغاز پر دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پشاور میں رواں برس پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز کا انعقاد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ملاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم و نسق کو فوری طور پر صوبائی پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی نگرانی میں ایک ماڈل کے طور پر نافذ کیا جائے گا، جسے بعد ازاں مرحلہ وار خیبر، اورکزئی اور کرم کے متاثرہ اضلاع میں بھی متعارف کرایا جائے گا۔اجلاس میں ان اضلاع میں شروع کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور کسی بھی ممکنہ عسکری کارروائی کے جائزے کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سربراہی میں ایک خصوصی ذیلی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، جو ماہانہ بنیادوں پر اجلاس منعقد کرے گی۔

خصوصی کمیٹی میں منتخب عوامی نمائندگان، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، صوبائی حکام اور وفاقی اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کمیٹی ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے لیے مستقل روزگار کے مواقع پیدا کرنے، متبادل معاشی ذرائع کی فراہمی اور عارضی طور پر بے گھر افراد کے مسائل کے حل کے لیے بھی اقدامات کرے گی۔

اجلاس میں وفاق اور صوبہ خیبرپختونخوا کے درمیان مؤثر رابطے کے ذریعے دہشت گردی جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے یکساں پالیسی اور ہم آہنگ موقف اپنانے پر بھی زور دیا گیا۔مزید برآں نوجوانوں میں شدت پسندانہ سوچ کی روک تھام اور مثبت طرزِ فکر کے فروغ کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں غیر قانونی سم کارڈز، دھماکہ خیز مواد، بھتہ خوری اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔حکام نے واضح کیا کہ صوبے میں سیکیورٹی کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر بنانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کی جا رہی ہے، جس کا مقصد عوام کو محفوظ ماحول اور پائیدار معاشی مواقع فراہم کرنا ہے۔