All posts by admin

اسلام آباد،تھانہ کوہسار،4مسلح ڈاکو بلیوایریا،بینک سے40لاکھ لوٹ کر فرار،پولیس مکمل طور پر ناکام۔ عمران خان کی رہائی کی جتنی کوشش محسن نقوی نے کی ہے کسی نے نہیں کی۔ علی امین گنڈا پور۔بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کی حلف برداری 13 ممالک کے سربراہان مدعو۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

برطرف جوان اپیل کریں ۔ آئی جی پی گلگت بلتستان ڈاکٹر اکبر ناصر خان کا دورہ پولیس ٹریننگ کالج گلگت، پولیس دربار سے خطاب ۔ دربار میں گلگت بلتستان پولیس کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افسران و جوانوں نے شرکت کی۔ قانون کی عملداری پیشہ ورانہ عزم و جذبے کی آبیاری اور پاسداری کے علاوہ میرٹ کی بالادستی پر زور۔ پولیس افسران کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس گلگت بلتستان ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے کہا ہے کہ خطے میں قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور اس معاملے میں کسی قسم کی لیت و لعل ناقابلِ برداشت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے وردی پہن کر حلف اٹھایا ہے، لہٰذا ان پر ملک و قوم کی خدمت اور مفادات کی روشنی میں نہ صرف مقامی بلکہ ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی خدمات انجام دینے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پولیس ٹریننگ کالج میں جوانوں اور افسران کے دربار سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پی نے مزید کہا کہ ذاتی مفادات اور ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہو کر عوام کی خدمت کو شعار بنایا جائے، کیونکہ یہی اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریات اور محکمانہ وقار کو برقرار رکھتے ہوئے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنا ہر اہلکار کا فرض ہے

۔انہوں نے مزید کہا کہ آئین پاکستان کے تحت پولیس فورس کے کندھوں پر اہم ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں، جنہیں ایمانداری اور جذبۂ حب الوطنی کے ساتھ بہترین انداز میں نبھانا ہوگا۔ آئی جی پی نے واضح کیا کہ پروموشن، پوسٹنگ، ٹرانسفرز، روٹیشن پالیسی اور ریکروٹمنٹ کے دوران میرٹ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ محکمے میں revemping کا عمل شروع ہوچکا ہے انشاء اللہ اسں کے بہتر ثمرات دیکھنے کو ملیں گے۔ اس کے علاوہ پولیس فورس میں digitalization کے عمل کو پائیہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ سیف سٹی پراجیکٹ کو وسعت دیکر مذید فعال بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سزا و جزا کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا جبکہ خطے سے دہشت گردی، منشیات اور دیگر جرائم کے خاتمے کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں پولیس ہیڈکوارٹرز نفری اور دیگر ضروریات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی پوسٹوں کی تشہیر کے بعد جلد ریکروٹمنٹ کا عمل شروع کیا جائے گا۔آئی جی پی نے کہا کہ انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ کارکردگی کا براہِ راست تعلق وسائل کی دستیابی سے ہے، اسی لیے پولیس کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے کیس متعلقہ محکموں کو بھجوا دیا گیا ہے۔ ڈسپلن کی خلاف ورزی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ متاثرہ جوان اپنے متعلقہ افسران کے پاس اپیل جمع کروائیں، جن پر نظرثانی کی جائے گی۔دربار میں ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز نوید احمد نثار خواجہ، ڈی آئی جی انویسٹیگیشن فرمان علی، ڈی آئی جی گلگت رینج راجہ مرزا حسن، ڈی آئی جی دیامر/استور رینج فروغ رشید، ڈی آئی جی بلتستان رینج طفیل احمد میر، ڈی آئی جی آپریشنز آصف اقبال مہمند، ڈی آئی جی سپیشل برانچ سلطان فیصل، کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج طاہرہ یعسوب سمیت تمام اضلاع و یونٹ برانچز کے کے ایس ایس پیز، ایس ڈی پی اوز، ایس ایچ اوز اور جوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔قبل ازیں، انسپکٹر جنرل آف پولیس گلگت بلتستان ڈاکٹر اکبر ناصر خان جب اپنے پہلی دورے پر پولیس ٹریننگ کالج پہنچے تو ڈی آئی جی پولیس ہیڈکوارٹرز نوید احمد نثار خواجہ اور کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج نے ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں پولیس کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔

پاکستان کا مسئلہ کشمیر کے حل، مضبوط کثیرالجہتی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات پر زورچیئرمین سینیٹ کی قیادت میں پاکستانی پارلیمانی وفد کی صدر جنرل اسمبلی سے ملاقات چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں پاکستان کے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے سالانہ آئی پی یو پارلیمانی سماعت 2026 کے موقع پر اقوام متحدہ کے صدر جنرل اسمبلی محترمہ اینالینا بیئربوک سے اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر میں ملاقات کی۔چیئرمین سینیٹ نے اقوام متحدہ کو کثیرالجہتی تعاون کے مرکزی ستون کے طور پر پاکستان کی غیر متزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔پاکستان کی ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور تنازعات کے پُرامن حل کی دیرینہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے بتایا کہ بھارت نے مزید عدم استحکام پیدا کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام معاہدے کی شقوں اور سرحد پار آبی وسائل سے متعلق بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں اور معاش پر سنگین اثرات ڈال سکتے ہیں اور خطرناک مثالیں قائم کرتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب موسمیاتی دباؤ اور پانی کی قلت باہمی تعاون اور بین الاقوامی معاہدوں کے سخت احترام کا تقاضا کرتے ہیں۔صدر جنرل اسمبلی کی توجہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کی جانب مبذول کراتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، القاعدہ، داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے) اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین کو بلا روک ٹوک پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے عوام بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے مشن کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متعدد اور باہم جڑے عالمی بحرانوں کے اس دور میں کثیرالجہتی نظام کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں، جن میں اقوام متحدہ کے منشور کی مسلسل خلاف ورزیاں اور طویل عرصے سے زیر التوا سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عدم عملدرآمد شامل ہے۔بین الاقوامی قانون اور قائم شدہ قانونی ضوابط کی پاسداری میں مجموعی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے خبردار کیا کہ یہ رجحانات عالمی نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک، جو عالمی حدت میں معمولی حصہ ڈالتے ہیں، اس کے شدید اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اجتماعی اقدام، موسمیاتی انصاف اور مضبوط بین الاقوامی تعاون کی فوری ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ان باہم مربوط چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک ناگزیر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔اس موقع پر صدر جنرل اسمبلی اینالینا بیئربوک نے پاکستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر حکومت اور عوامِ پاکستان سے تعزیت کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفود کے ساتھ ان کی پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔پاکستانی پارلیمانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے آئی پی یو سالانہ سماعت میں سینئر قانون سازوں کی اعلیٰ سطحی شرکت کو سراہا اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے قابلِ تحسین کردار کی تعریف کی۔ملاقات میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سینیٹر محمد عبدالقادر اور سینیٹر سید فیصل علی سبزواری بھی شریک تھے۔

مرد حر ۔اظہر سیدپاکستان کی تاریخ میں جو جبر ،قہر اور ریاستی ظلم آصف علی زرداری نے سہا کوئی سیاسی قیدی قریب بھی نہیں پھٹکتا ۔بھری جوانی جیلوں میں گزار دی ۔بچوں کو بچپن میں باپ کی شفقت نہیں دے سکا ۔مالکوں سے لڑنے والی اہلیہ کو جھکانے کیلئے خود پر ہوئے ظلم پامردی سے برادشت کئے ۔آصف علی زرداری نے کچھ نہیں کیا صرف سیاست کی ہے جو کبھی میاں نواز شریف نے عدالت میں کالا کوٹ پہن کر کی یا پھر زبان کاٹنے کیلئے مخصوص انسپکٹر کو بھیجنے والے کو مقبول کو نواز کر کی ۔آصف علی زرداری نے وہی سیاست کی جب میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے والوں نے اس وقت کی جب زرداری نے جنرل راحیل کو للکارا تو کہیں سے سیاسی مدد نہیں ملی ۔میاں نواز شریف نے اٹک جیل میں اور میاں شہباز شریف ،حمزہ شہباز اور مریم نواز نے نیب کی قید میں ان مشکلات کا سامنا نہیں کیا جن کو سامنا سالوں آصف علی زرداری نے کیا ۔شہباز شریف کی صورت میاں نواز شریف کو گڈ کاپ کی سہولت ہمیشہ حاصل رہی لیکن آصف علی زرداری کے پاس یہ سہولت کبھی نہیں رہی ۔گڈ کاپ بھی خود بننا پڑا اور بیڈ کاپ بھی ۔سینٹ الیکشن میں اپنے حصہ سے زیادہ سیٹیں لینا وہی جرم ہے جو سیاسی حریف اور حلیف ہمیشہ کرتے آئے ہیں ۔بلوچستان حکومت گرانے میں آصف علی زرداری کا کردار جمہوریت کش تھا تو اس طرح کے اقدامات سیاسی حریف اور حلیف ہمیشہ کرتے آئے ہیں۔ہائی برڈ نظام کو اپنانا اگر جرم ہے تو مسلم لیگ ن بھی شریک جرم ہے ۔آصف علی زرداری کے کریڈٹ میں اٹھارویں ترمیم ایسا نیا سوشل کنٹریکٹ بھی ہے جس سے مالکان آج تک عاجز ہیں ۔سنگاپور پورٹ سے گوادر پورٹ واپس لے کر چینی کمپنی کو دیا براہ راست عالمی طاقت امریکہ کو آنکھیں دکھانا اور پاکستان کے مفاد کو ترجیح دینا تھا۔ایران گیس پائپ لائین پر دستخط کرنا بیک وقت امریکہ اور سعودی عرب کو چیلنج کرنا تھا۔آصف علی زرداری نے تحریک انصاف کو بطور سیاسی جماعت بچانے کی بہت کوشش کی ۔عمران خان کو سیاسی مفاہمت پر لانے کی کوشش کی جسے خود ہوا کے گھوڑے پر سوار خچر نے مسترد کر دیا تھا ۔آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کو بچایا اور مالکوں سے جمہوریت چھیننے کی بھی ہمیشہ کوشش کی ۔اس وقت آصف علی زرداری اگر بلاول بھٹو کی وزارت عظمیٰ کیلئے راہیں تلاش کر رہے ہیں تو یہی حق میاں نواز شریف نے بھی مریم نواز کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر بٹھا کر استعمال کیا ۔میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں محبت وطن ہیں ۔دونوں اسٹیٹس مین بن چکے ہیں ۔اس وقت طاقت کی ٹرائیکا عاصم منیر ،شہباز شریف اور آصف علی زرداری سارے مل کر پاکستان کی ترقی اور استحکام کیلئے کوشاں ہیں اور ماضی کی گندگی صاف کر رہے ہیں ۔

‏لطیف کھوسہ کا عمران خان کی میڈیکل رپورٹ دینے کیلئے چیف جسٹس یحیی خان آفریدی کو خط ۔۔ الشفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم بھی جاری کرنے کی استدعاخط میں کہا بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم کو معائنے کی اجازت دی جائے،بانی پی ٹی آئی کو الشفاء ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائےلطیف کھوسہ نے خط میں کہا عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ ہوا لیکن اہلخانہ کو لاعلم رکھا گیابولے دعویٰ کیا گیا کہ اہلخانہ اور پارٹی قائدین کو بلایا گیا لیکن وہ نہیں آئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اہلخانہ اور پارٹی قیادت کو طبی معائنے کے وقت بلانے کا دعویٰ بالکل غلط ہے،اہلخانہ کو آگاہ کیے بغیر خفیہ طبی معائنے نے کئی خدشات کو جنم دیا ہے،طبی معاملے سے اہلخانہ کو باہر رکھنے سے پریشانی اور خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے

‏سولر صارفین کے لیے اچھی خبر نیپرا کا پرانے سولرصارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ نیپرا نے سولر پالیسی 2026میں ترمیمی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا نیپرا اتھارٹی نے شراکت داروں سے تیس روز میں تجاویز مانگ لیں ترامیم کا اطلاق 9 فروری 2026 سے کیا جائے گا۔ نوٹیفکیش

“ہر خواب ہے ممکن”یونیورسٹی آف گجرات کی طالبہ کا سی ایم کو منظوم خراج تحسین “سی ایم تے بوہتا احسان کر چھڈیا ۔ پریشان لوگو نو حیران کر چھڈیا””اینیاں کرائیاں صفایاں پنجاب وچ، پنڈاں نو ملتان تے لاہور کر چھڈیا۔” یونیورسٹی آف گجرات میںوزیراعلی مریم نواز شریف کی یونیورسٹی آف گجرات امد۔ طلبہ نے پرتپاک استقبال کیا وزیراعلی مریم نواز شریف نے تقریب میں وزرا اور ارکان اسمبلی سے نشستوں پر جا کر سلام کیا وزیراعلی مریم نواز شریف طا لبات کے درمیان بیٹھ گئیںوزیراعلی مریم نواز شریف نے طلبہ کی درخواست پر سٹیج پر جاکر ساتھ قومی ترانہ پڑھا وزیراعلی مریم نواز شریف نے طلبہ کے ساتھ” اے راہ حق کے شہیدو “” سوہنی دھرتی “ملی نغمہ گائےاور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا یونیورسٹی آف گجرات کی طالبہ نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف سے پر جوش معانقہ کیا یونیورسٹی طلبہ نے پر اثر ملی نغمہ پیش کیاطلبہ کے اعزاز میں لیڈیز پولیس کے چاق وچوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ پولیس بینڈ نے مدھر سر بکھیرے تقریب میں “جرنی آف لیپ ٹاپ ” پر ڈاکومینٹری پیش کی گئی وزیراعلی مریم نواز شریف نے لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالرشپ کے چیک تقسیم کیےطلبہ نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو پینٹنگز اور سکچ پیش کیا ،وزیراعلی مریم نواز شریف کا اظہار شفقت طالبات نے اصرار کرکے وزیراعلی مریم نواز شریف کے ساتھ تصاویر بنوائیں صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالرشپ پر بریفنگ دی گوجرانولہ ڈویژن کے 2904 طلبہ کے لئے لیپ ٹاپ اور 843 ہونہار سکالرشپ یونیورسٹی آف گجرات کے 846 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 268 طلبہ کو ہونہار سکالرشپ مل گئے نواز شریف میڈیکل کالج گجرات کے 47 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 9 کےلئے ہونہار سکالرشپ گورنمنٹ کالج وویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کےلئے 512 طالبات کو لیپ ٹاپ ور 160 ہونہار سکالرشپ یونیورسٹی آف ناروال کے 281 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 90 کے لئے ہونہار سکالرشپ پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی رسول منڈی بہاوالدین کے 12 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 6 طلبہ کو ہونہار سکالرشپ مل گئے گوجرانوالہ میڈیکل کالج کے 83 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 28 طلبہ کےلئے ہونہار سکالرشپ خواجہ محمد صفدر میڈیکل کالج سیالکوٹ کے 98 طلبہ کے لئے 98 لیپ ٹاپ اور 66 ہونہار سکالرشپ سرکاری کالجز کے 1025 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 216 طلبہ کو ہونہار سکالرشپ مل گئے ہونہار سکالرشپ کے پہلے مرحلے میں 30 ہزار طلبہ اور فیز ٹو میں آٹھ ویں سمسٹر تک کے طلبہ کو 20 ہزار ہونہار سکالرشپ مل رہے ہیں

انتباہ ⚠️*جعلی رمضان پیکج لنکس سے ہوشیار رہیں ،*سوشل میڈیا اور WhatsApp پر کچھ پیغامات گردش کر رہے ہیں جو 12,000 یا 20,000 روپے کا رمضان پیکج دینے کا دعویٰ کرتے ہیں ،ہرگز ایسے لنکس پر کلک نہ کریں ،یہ جعلی اور فراڈ ہیں ،خطرات: موبائل ہیک، ذاتی معلومات چوری، WhatsApp فراڈ، بینک رقم نکلنا، وائرس کا خطرہ ۔ہدایات:• غیر معروف لنکس پر کلک نہ کریں• ذاتی معلومات شیئر نہ کریں• جعلی میسجز فوراً ڈیلیٹ کریں اور دوسروں کو آگاہ کریں ۔یاد رکھیں: حکومت یا مستند ادارے اس طرح کے لنکس کبھی نہیں بھیجتے ۔

انتباہ ⚠️*جعلی رمضان پیکج لنکس سے ہوشیار رہیں ،*سوشل میڈیا اور WhatsApp پر کچھ پیغامات گردش کر رہے ہیں جو 12,000 یا 20,000 روپے کا رمضان پیکج دینے کا دعویٰ کرتے ہیں ،ہرگز ایسے لنکس پر کلک نہ کریں ،یہ جعلی اور فراڈ ہیں ،خطرات: موبائل ہیک، ذاتی معلومات چوری، WhatsApp فراڈ، بینک رقم نکلنا، وائرس کا خطرہ ۔ہدایات:• غیر معروف لنکس پر کلک نہ کریں• ذاتی معلومات شیئر نہ کریں• جعلی میسجز فوراً ڈیلیٹ کریں اور دوسروں کو آگاہ کریں ۔یاد رکھیں: حکومت یا مستند ادارے اس طرح کے لنکس کبھی نہیں بھیجتے ۔

نئی کابینہ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے 13 ممالک کے سربراہان حکومت کو مدعو کیا ہے۔اب تک مدعو ممالک کی فہرست میں چین، سعودی عرب، ہندوستان، پاکستان، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر، ملائیشیا، برونائی، سری لنکا، نیپال، مالدیپ اور بھوٹان شامل ہیں۔17 فروری کو تقریب حلف برداری ہونی ہے ۔ جس کیلئے سب سے پہلے ہندوستان کی لوک سبھا (پارلیمنٹ) کے اسپیکر اوم برلا اور سکریٹری خارجہ وکرم مصری ‛ طارق رحمان کی وزارت عظمی کی حلف برداری میں ہندوستان کی نمائندگی کریں گے۔ادھر سے مدعو ہوئے ادھر سے فوراً نام دے دیئے گئے ۔ گویا انڈیا راہ تک رہا تھا کہ سانوں بلاؤ

بجلی پیٹرول میں اضافہ فیکسڈ چارجز سولر کا ظلم اصل میں وزیر اعظم نے اپنے نہیں ہمارے کپڑے اتارنے تھے۔۔اب بھی وقت ھے عمران خان کو بچا لیا جاے۔۔سب کچھ فیلڈ مارشل نے کرنا ہے تو 2 ھزار پارلیمینٹرین کس مرض کی دوا عرب امارات سے مامعلات طے۔۔کرکٹ کا کینسر کون۔۔وزیر اعطم کا دورہ ویانا کیا سب کچھ ختم ھونے والہ ھے ۔۔کام کرے فیلڈ مارشل مزے کریں پارلیمنٹرینز سب کچھ جاننے کے لئے سھیل رانا لائیو

آسٹریاوزیراعظم شہباز شریف کی آسٹریا کے کاروباری طبقے کو پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوتویانا۔16فروری وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آسٹریا کے کاروباری طبقے کو زراعت، آئی ٹی، معدنیات و کان کنی، سیاحت، ٹیکسٹائل و لیدر، قابل تجدید توانائی، انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریا کے سرمایہ کار پاکستان آئیں، حکومت ان کی میزبانی کرے گی،

—وزیراعظم۔۔ آسٹریاوزیراعظم شہباز شریف کی آسٹریا کے کاروباری طبقے کو پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوتویانا۔16فروری وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آسٹریا کے کاروباری طبقے کو زراعت، آئی ٹی، معدنیات و کان کنی، سیاحت، ٹیکسٹائل و لیدر، قابل تجدید توانائی، انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریا کے سرمایہ کار پاکستان آئیں، حکومت ان کی میزبانی کرے گی، دونوں ممالک میں تعاون اور دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں پاکستان-آسٹریا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی کے علاوہ دونوں ممالک کی نمایاں کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے مابین مضبوط بنیادوں پر استوار طویل دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آسٹرین کمپنیاں دہائیوں سے پاکستان میں کام کرتی رہی ہیں لیکن ماضی قریب میں بوجوہ اس میں کمی آئی، قابل تجدید توانائی، معدنیات و کان کنی اور سیاحت کے شعبے میں کئی آسٹرین کمپنیاں پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے چانسلر کرسچئین اسٹاکر کے ساتھ دوطرفہ اور وفود کی سطح پر مذاکرات کو بہت مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ملاقاتوں میں طے ہونے والے امور کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آسٹریا کے دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات دہائیوں پر محیط تاریخی حقائق پر مبنی ہیں، قابل تجدید توانائی اور کان کنی کے شعبے میں آسٹریا کا تعاون قابل تعریف ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، ہماری نوجوان نسل بہت باصلاحیت ہے، حکومت نے آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر آئی ٹی کی تعلیم اور تربیت کے لئے کوشاں ہیں، نوجوانوں کی ترقی کے لئے متعدد منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ غیرقانونی تارکین وطن کے مسئلے پر یورپی پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا اہم انحصار زراعت پر ہے، 60 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے، زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی اور گندم، مکئی اور گنے سمیت اہم فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لئے کاوشیں جاری ہیں، زرعی شعبے میں ویلیو ایڈیشن کے لئے آسٹریا کے تعاون کا خیرمقدم کریں گے کیونکہ اس شعبے میں آسٹریا کا وسیع تجربہ اور مہارت ہے۔ انہوں نے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں بھی دوطرفہ تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں آسٹریا کی بزنس کمیونٹی کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاحت، قابل تجدید توانائی، انجینئرنگ،ٹیکسٹائل، لیدر، ہائیڈرو پاور، سولر، بائیو ماس، سمارٹ سلوشنز، گرڈ ماڈرنائزیشن، انڈسٹریل آٹومیشن، مشینری اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع ہیں، معاشی شعبے میں شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے خواہاں ہیں، اپرل میں پاکستان ای بزنس فورم کا اسلام آباد میں انعقاد ہوگا۔ وزیراعظم نے آسٹرین سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ حکومت کی دعوت پر پاکستان آئیں، ہمارے مہمان بنیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیں۔ قبل ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے فورم کا انعقاد اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور چانسلر کرسچئین اسٹاکر کے درمیان تعمیری بات چیت ہوئی، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معاشی سفارتکاری پر توجہ مرکوز ہے، اپنے محل وقوع اور معاشی مواقع کی وجہ سے پاکستان اہم مارکیٹ ہے، معاشی استحکام اور ترقی کے لئے اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے موجودہ دور میں معاشی سفارتکاری اور ترقیاتی عمل کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سفارتکاری میں آسٹریا کے اہم کردار کے معترف ہیں، برآمدات پر مبنی معیشت کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے حکومت کے معاشی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، نوجوانوں کی بہت بڑی آبادی کے باعث پاکستان میں ٹیکنالوجی اور جدت جس میں آسٹریا کو خصوصی مہارت حاصل ہے، کے شعبے میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ فورم میں پاکستانی اور آسٹرین کاروباری شخصیات اور کمپنیوں کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی

دنیا کی خوبصورت ترین لیجنڈ ائیر ھوسٹس مومی گل درانی 5 ماہ کے 2 جڑواں بچے 1962 تفصیلات کے لیے بادبان نیوز خدایا ھم کدھر اڑان سے کس پستی کی طرف گامزن سھیل رانا

پی آئی اے کی تاریخ کی لیجنڈ ائیر ہوسٹس مومی گل درانی ، رشیدہ اور 2 جڑواں بچوں کے طویل سفر کا دلچسپ واقعہ ۔۔۔۔یہ تصویر اگست 1962 میں لی گئی جب مومی گل اور رشیدہ کی گود میں یہ بچے لندن سے کراچی کا طویل سفر کرکے پہنچے تھے۔ دونوں جڑواں بچوں، فہیم احمد اور سوزین افراح محض پانچ ماہ کی عمر میں 4,500 میل کا فضائی سفر بغیر والدین کے طے کر کے کم عمر ترین جیٹ مسافر بن گئے۔ وہ لندن سے پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچے اور بیس منٹ بعد راولپنڈی کے لیے متصل پرواز لے کر مزید 700 میل کا سفر اپنی فلائٹ لاگ میں شامل کیا۔ان کے والدین کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے انگلینڈ میں ہی قیام کرنا پڑا۔لندن سے کراچی تک کے سفر کے دوران یہ بچے مکمل طور پر پی آئی اے کی ایئر ہوسٹسز مومی گل درانی اور رشیدہ کی نگرانی میں رہے۔کراچی میں لینڈنگ کے بیس منٹ بعد جڑواں بچوں کو ایئر ہوسٹسز کی ایک اور جوڑی کے سپرد کر دیا گیا، جنہوں نے راولپنڈی تک سفر کے دوسرے مرحلے میں ان کی دیکھ بھال کی۔مومی گل درانی 1950 اور 1960 کی دہائی میں پی آئی اے کے نہایت تربیت یافتہ کیبن کریو ارکان میں سے ایک تھیں۔ وہ قدآور، گوری رنگت کی حامل اور فلمی ستاروں جیسی وجاہت رکھتی تھیں، اور پی آئی اے نے انہیں اپنے متعدد اشتہارات میں نمایاں کیا تھا۔ ان اشتہارات نے مومی کو اپنے دور کی سب سے زیادہ پہچانی جانے والی پی آئی اے ایئر ہوسٹس بنا دیا تھا۔ 20 مئی 1965 کو مومی پی آئی اے کے بوئنگ 720B جیٹ لائنر پر ڈیوٹی پر تھیں جو قاہرہ ایئرپورٹ کے قریب حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس افسوسناک سانحے میں مومی گل سمیت 114 افراد جاں بحق ہو گئے تھے ، اللہ کریم مومی گل درانی اور اسے حادثے میں تمام جان بحق مسافروں کے درجات بلند فرمائے آمین

خیبرپختونخوا ہاؤس کے مرکزی دروازے پر بھی وزیراعلی سہیل آفریدی اور قیادت میں دھرنا جاری پارلیمنٹ لاجز میں بھی پی ٹی آئی ارکان موجود صحافیوں کا شاہراہ دستور میں داخلہ بندناکوں پر موجود پولیس اہلکاروں کی صحافیوں بدسلوکی خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر قیدیوں کی مزید وینیں پہنچا دی گئیں تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا دھرنے تیسرے روز بھی جاری دھرنے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں تین مقامات پر دئیے جا رہے ہیں پارلیمنٹ کے احاطے میں دئیے جانے والے دھرنے کی قیادت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس بھی پارلیمنٹ کے دھرنے میں موجود چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی پارلیمنٹ دھرنے میں موجود ہمارے پاس صرف کھجوریں اور بسکٹ ہیں جن پر گزارا کر رہے ہیں، ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان حسین یوسفزئی ہمارے پاس پینے کا صاف پانی ختم ہو چکا، پارلیمنٹ کے نلکوں کا پانی پی رہے ہیں، ترجمان علامہ راجہ ناصر عباس، سینیٹر فلک چترالی کی ادویات بھی ختم ہو چکی ہیں، ترجمان اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی جانب سے سہولیات کے حوالے سے تاحال کوئی راںطہ نہیں کیا گیا، ذرائع پارلیمنٹ کے کسٹوڈین اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ نے اپنے ارکان کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا، اپوزیشن کا الزام خیبرپختونخوا ہاؤس کے مرکزی دروازے پر بھی وزیراعلی سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کی قیادت میں دھرنا جاری پارلیمنٹ لاجز میں بھی پی ٹی آئی ارکان موجود صحافیوں کا شاہراہ دستور میں داخلہ بندناکوں پر موجود پولیس اہلکاروں کی صحافیوں بدسلوکی خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر قیدیوں کی مزید وینیں پہنچا دی گئیں

جب ایک ڈیڑھ سو روپے کی لنڈے کی جیکٹ پہننے والے کو دو ہزار کا چالان کرو گے تو کیا وہ زندہ رہ پائے گا ؟افسوس گجرات میں شام کے وقت طاہر بیگ جو کہ ایک دیہاڑی دار غریب بندہ تھا اپنے کام سے واپس آرہا تھا کہ وراڈن والوں نے روکا یہ بیچارہ منتیں کرتا رہا کہ میرے حالات نہیں ہیں لیکن کسی نے ایک نہیں سنی ان کو اپنے کمیشن سے غرض تھا

جب ایک ڈیڑھ سو روپے کی لنڈے کی جیکٹ پہننے والے کو دو ہزار کا چالان کرو گے تو کیا وہ زندہ رہ پائے گا ؟افسوس گجرات میں شام کے وقت طاہر بیگ جو کہ ایک دیہاڑی دار غریب بندہ تھا اپنے کام سے واپس آرہا تھا کہ وراڈن والوں نے روکا یہ بیچارہ منتیں کرتا رہا کہ میرے حالات نہیں ہیں لیکن کسی نے ایک نہیں سنی ان کو اپنے کمیشن سے غرض تھا حتیٰ کے یہ رونے لگ گیا کہ میری جیب میں چند سو کے علاوہ کچھ نہیں ہے گھر میں بچے انتظار میں ہیں مجھ پہ رحم کرو لیکن انہوں نے 2000 کا چالان کردیا جس کی وجہ سے یہ وہیں موقع پہ گرا اور ختم ہوگیا ۔وارڈن والوں نے اس کی موٹر سائیکل کو پکڑا اور اس کو لے گئے جبکہ یہ وہیں پہ گرا پڑا رہا کہنے لگے کہ ڈرامے بازی کر رہا ہے ۔جب لوگ اکٹھے ہوئے اور اس کو لیٹایا تو پتا چلا کہ یہ بیچارہ دو ہزار کا صدمہ برداشت نہیں کر سکا جب جیب چیک کی گئی تو چند سو روپے اور ایک پرانا سا موبائل نکلا یہ ہماری بے حسی کا عالم ہے اب چاہے ڈی پی او نوٹس لے لیں لیکن کیا ہوگا ؟؟؟کیا اس کے گھر والوں کی کفالت حکومت کرے گی

بھارت 11 کھلاڑیوں کے ساتھ اور پاکستان 7 کھلاڑیوں کے ساتھ کیسے جیتے 4 تو کھیلنے والے فراڈیے ھے جمھوریت ختم پاکستان میں اھم ترین شخصیات خطرے میں اسلام آباد مکمل سیل موٹر وے بند *اقتدار پر براجمان اور اقتدار کے دروازے پر موجود لوگوں کے درمیان تصادم کا نام انقلاب تفصیلات کے لیے سھیل رانا لاءیو سبسکرائب بادبان یو ٹیوب

بلوچستان میں 5 افراد کی لاشیں برآمد، کوئٹہ اور پنجگور میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاریکوئٹہ/پنجگور: بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مزید پانچ افراد کی لاشیں برآمد ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس سے تین تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مقتولین کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور انہیں بے دردی سے قتل کیا گیا

بلوچستان میں 5 افراد کی لاشیں برآمد، کوئٹہ اور پنجگور میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاریکوئٹہ/پنجگور: بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مزید پانچ افراد کی لاشیں برآمد ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس سے تین تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مقتولین کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور انہیں بے دردی سے قتل کیا گیا۔ لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ شناخت اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔دوسری جانب ضلع پنجگور میں دو روز کے دوران مزید دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان میں سے ایک کی شناخت جبری لاپتہ نواب کے نام سے ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔رواں ہفتے کے دوران صرف پنجگور سے مجموعی طور پر چھ افراد کی لاشیں مل چکی ہیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ سکیورٹی اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم تاحال کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔

آزاد کشمیر میں آئی جی پولیس کی تعیناتی کے معاملے نے ایک بار پھر ہمیں سرکاری پروٹوکول، سینیارٹی اور وفاقی روایات کے حسین امتزاج پر غور کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے پنجاب پولیس میں خدمات انجام دینے والے ڈی آئی جی کیپٹن (ر) ملک لیاقت علی کو آزاد کشمیر پولیس کا آئی جی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے،

سنیارٹی کا جنازہ۔۔۔۔۔۔تحریر۔سجاد جرال آزاد کشمیر میں آئی جی پولیس کی تعیناتی کے معاملے نے ایک بار پھر ہمیں سرکاری پروٹوکول، سینیارٹی اور وفاقی روایات کے حسین امتزاج پر غور کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے پنجاب پولیس میں خدمات انجام دینے والے ڈی آئی جی کیپٹن (ر) ملک لیاقت علی کو آزاد کشمیر پولیس کا آئی جی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ موجودہ آئی جی یاسین قریشی بدستور ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ سرکاری طریقۂ کار کے مطابق تقرریاں حکومتِ وقت کا اختیار ہوتی ہیں اور بلاشبہ ہر افسر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت اور خدمات کی بنیاد پر اہمیت رکھتا ہے۔تاہم سرکاری نظم و ضبط میں ایک اصول “سینیارٹی” بھی کہلاتا ہے، جو فائلوں میں تو بڑی باوقار نظر آتا ہے مگر عملی فیصلوں میں کبھی کبھار شرما سا جاتا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے کہ نئے متوقع آئی جی، موجودہ افسر سے تقریباً دس سال جونیئر ہیں، جبکہ 7 کے قریب پولیس آفیسر ان سے سنیر ہیں اور انکے کورس میٹ آزاد کشمیر میں ایس ایس پی کے عہدے پر تعینات ہیں، انکی بطور ائی جی آزاد کشمیر تعیناتی پر ان افسران پر کیا اثر پڑے گا۔۔۔۔ ؟یہ سوال اُٹھنا فطری ہے کہ کیا تجربہ اور سروس اسٹرکچر محض سرکاری کتابچوں کی زینت کے لیے ہوتے ہیں؟یاسین قریشی کی مختصر مدت کی کارکردگی کے حوالے سے مقامی حلقوں میں مثبت رائے پائی جاتی ہے۔ ایسے میں اگر وہ چند ماہ مزید اپنی ذمہ داریاں انجام دے لیتے تو غالباً سرکاری نظام کی دیواریں کم از کم لرز تو نہ جاتیں۔ آخر پانچ ماہ کی مدت کوئی آئینی بحران تو پیدا نہیں کرتی۔یہ بات بھی بجا ہے کہ کیپٹن (ر) ملک لیاقت علی ایک قابل اور پیشہ ور افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں، اور ان کی خدمات پر کسی کو اعتراض نہیں۔ مگر سوال فردِ واحد کی قابلیت کا نہیں، بلکہ ادارہ جاتی توازن اور افسران کے وقار کا ہے۔ اگر ایک سینئر افسر کے اوپر واضح طور پر جونیئر افسر تعینات کیا جائے تو اس کا تاثر محض تقرری نہیں بلکہ ایک پیغام بھی ہوتا ہے—اور پیغامات اکثر فائل نوٹنگ سے زیادہ دیرپا اثر رکھتے ہیں۔آزاد کشمیر حکومت، بالخصوص وزیر اعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور کے لیے مناسب ہوگا کہ وہ اس معاملے پر وفاق سے باوقار اور آئینی انداز میں مشاورت کریں، تاکہ سرکاری پروٹوکول کی پاسداری بھی ہو اور ادارہ جاتی ہم آہنگی بھی برقرار رہے۔ اختلاف رائے جمہوری حسن ہے، بشرطیکہ وہ مہذب اور اصولی انداز میں پیش کیا جائے۔آخرکار آزاد کشمیر کوئی تجربہ گاہ نہیں جہاں سینیارٹی کو محض رسمی شے سمجھ لیا جائے۔ اگر تقرری ناگزیر ہو تو کم از کم اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ میرٹ، تجربہ اور ادارہ جاتی وقار تینوں پہلو ساتھ ساتھ چلیں—کیونکہ پولیس فورس صرف وردی سے نہیں، اعتماد سے بھی چلتی ہے۔

بنگلہ دیش کے نامزد وزیر اعظم طارق رحمانبنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے چیئرمین طارق رحمان مقامی طور پر طارق ضیا کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ بی این پی نے 2026 کے عام انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی، جس کے بعد وہ جاتیہ سنگساد (قومی اسمبلی) کے دو حلقوں سے پہلی بار منتخب ہوئے ہیں۔ نتائج کے حتمی اعلان کے بعد وہ وزیر اعظم بننے والے ہیں

بنگلہ دیش کے نامزد وزیر اعظم طارق رحمانبنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے چیئرمین طارق رحمان مقامی طور پر طارق ضیا کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ بی این پی نے 2026 کے عام انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی، جس کے بعد وہ جاتیہ سنگساد (قومی اسمبلی) کے دو حلقوں سے پہلی بار منتخب ہوئے ہیں۔ نتائج کے حتمی اعلان کے بعد وہ وزیر اعظم بننے والے ہیں۔طارق رحمان بنگلہ دیش کے ساتویں صدر ضیاء الرحمن اور بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے ہیں۔ وہ مختلف مقدمات کے باعث 2008 سے لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ 25 دسمبر 2025 کو وہ اپنی اہلیہ زبیدہ اور بیٹی زائمہ کے ہمراہ 17 سالہ جلاوطنی ختم کرکے بنگلہ دیش واپس آئے۔ان کی لندن سے آمد کے پانچ دن بعد، ان کی والدہ، سابق وزیر اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی چیئرمین خالدہ ضیا، انتقال کر گئیں۔ ان کی وفات کے دس دن بعد، 9 جنوری 2026 کو، طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین منتخب ہو گئے۔طارق رحمان کے والد، ضیاء الرحمن، پاکستانی فوج کے افسر تھے، جو بعد میں “بیر اتم” اعزاز یافتہ اور بنگلہ دیش کے صدر بنے۔ ان کی والدہ، خالدہ ضیا، ابتدا میں ایک گھریلو خاتون تھیں، لیکن شوہر کے قتل کے بعد سیاست میں آئیں اور بعد میں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بنیں۔طارق رحمان 20 نومبر 1965 کو ڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔ تاہم، ان کے انتخابی حلف نامے اور قومی شناختی کارڈ میں ان کی تاریخ پیدائش 1968

درج ہے۔

انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ڈھاکہ کے بی اے ایف شاہین کالج سے حاصل کی۔ ہائیر سیکنڈری تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1985–86 میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ قانون میں داخلہ لیا، لیکن بعد میں شعبہ تبدیل کرکے انٹرنیشنل ریلیشنز میں داخلہ لے لیا۔ تاہم، دوسرے سال کے دوران انہوں نے یونیورسٹی چھوڑ دی اور ٹیکسٹائل انڈسٹری اور شپنگ سیکٹر میں کاروبار شروع کیا۔طارق رحمان نے 3 فروری 1994 کو بنگلہ دیش نیوی کے سابق چیف آف نیول اسٹاف ریئر ایڈمرل محبوب علی خان کی سب سے چھوٹی بیٹی زبیدہ سے شادی کی، جو ایک ڈاکٹر ہیں۔ زبیدہ نے 1995 میں بنگلہ دیش سول سروس (BCS) کا امتحان پاس کرنے کے بعد سرکاری ملازمت اختیار کی۔ تاہم، 2014 میں چھ سال تک غیر حاضری کے باعث عوامی لیگ حکومت نے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا۔ طارق رحمان کی اکلوتی بیٹی زائمہ ایک بیرسٹر ہیں۔طارق رحمان نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1988 میں بوگرہ کے گبتھلی میں بی این پی کی ذیلی ضلعی شاخ کے بنیادی رکن کے طور پر کیا۔1991 کے عام انتخابات میں وہ ان حلقوں میں بی این پی کی انتخابی مہم میں سرگرم رہے جہاں ان کی والدہ خالدہ ضیا امیدوار تھیں۔ یہ انتخابات بنگلہ دیش میں فوجی حکمرانی سے جمہوری حکومت کی طرف منتقلی کے دوران منعقد ہوئے تھے۔1996 کے عام انتخابات میں انہوں نے خود کسی نشست پر انتخاب نہیں لڑا بلکہ ان حلقوں میں انتخابی مہم کو منظم کیا جہاں ان کی والدہ امیدوار تھیں۔1996 سے 2001 تک عوامی لیگ حکومت کے دوران وہ اپوزیشن کی سیاسی سرگرمیوں میں شامل رہے۔ 2001 کے انتخابات میں بی این پی نے دو تہائی اکثریت حاصل کی۔11 ستمبر 2008 کو اپنی والدہ کی رہائی کے بعد وہ علاج کے لیے لندن کے سینٹ جانز ووڈ میں واقع ویلنگٹن ہسپتال منتقل ہو گئے۔ فوج کے حمایت یافتہ نگران حکومت نے تصدیق کی کہ انہوں نے تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ سیاست میں حصہ نہیں لیں گے، جس کے بعد انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی۔8 دسمبر 2009 کو ڈھاکہ میں منعقدہ بی این پی کی پانچویں قومی کونسل میں انہیں سینئر نائب چیئرمین منتخب کیا گیا۔بعد ازاں، ان کی والدہ خالدہ ضیا نے کہا کہ علاج مکمل ہونے کے بعد وہ دوبارہ فعال سیاست میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت انہیں واپس آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے اور ان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔4 جنوری 2014 کو یوٹیوب پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں طارق رحمان نے انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔2015 میں انہوں نے برطانیہ میں وائٹ اینڈ بلیو کنسلٹنٹس لمیٹڈ کے نام سے ایک پبلک ریلیشنز کمپنی رجسٹر کروائی۔ ابتدائی طور پر کمپنی ریکارڈ میں ان کی قومیت برطانوی درج تھی، تاہم 2016 میں اسے درست کرکے بنگلہ دیشی کر دیا گیا۔ انہوں نے برطانوی شہریت حاصل کرنے کے الزامات کی تردید کی۔2018 کے انتخابات میں انہوں نے اسکائپ کے ذریعے پارٹی امیدواروں کے انٹرویوز کیے۔شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد انہوں نے وعدہ کیا کہ مقدمات ختم ہونے کے بعد وہ بنگلہ دیش واپس آئیں گے اور اصلاحاتی عمل کی حمایت کریں گے۔13 جون 2025 کو انہوں نے لندن میں عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس سے ملاقات کی، جسے بی این پی نے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔12 فروری 2026 کے عام انتخابات میں بی این پی کی کامیابی کے بعد طارق رحمان بنگلہ دیش کے وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں۔طارق رحمان پر تنازعات اور الزاماتطارق رحمان اپنی والدہ، خالدہ ضیا کے تیسرے دورِ حکومت اور بعد ازاں حسینہ واجد کی عوامی لیگ حکومت کے دوران متعدد تنازعات کا مرکز رہے۔2007 کے بعد ان کے خلاف مجموعی طور پر 84 مقدمات درج کیے گئے۔ بی این پی نے ان مقدمات کو “سیاسی طور پر محرک” قرار دیا۔ بعد ازاں، جولائی انقلاب کے بعد ڈھاکہ کی عدالتوں نے انہیں ان تمام الزامات سے بری کر دیا

۔کھمبہ تنازع2001 سے 2006 کے دوران بی این پی حکومت کے عرصے میں، طارق رحمان پر سیاسی مخالفین، خصوصاً عوامی لیگ، کی جانب سے بجلی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے۔ ان الزامات کو عام طور پر “کھمبہ تنازع” کے نام سے جانا جاتا ہے۔جنوری 2026 میں ٹائم میگزین کے ایک مضمون بعنوان “بنگلہ دیش کا نافرمان بیٹا” میں ذکر کیا گیا کہ ان کے ناقدین انہیں اب بھی توہین آمیز لقب “کھمبہ طارق” سے پکارتے ہیں۔ اس مضمون میں 2008 کی امریکی سفارت خانے کی ایک سفارتی کیبل کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں انہیں بنگلہ دیش میں بدعنوان حکومت کی علامت قرار دیا گیا تھا۔طارق رحمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے سیاسی مخالفین اور ریاستی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت کو کمزور کرنے کی “بدنامی مہم” قرار دیا۔حوا بھون تنازعطارق رحمان اور ان کے ساتھیوں پر یہ بھی الزام لگایا گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر تاجروں اور سیاسی مخالفین سے رشوت وصول کی اور یہ رقم بیرون ملک منتقل کی۔ان الزامات کی بنیاد پر بنگلہ دیش کے انسداد بدعنوانی کمیشن، امریکہ کے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (FBI)، اور سنگاپور کی عدالتوں نے تحقیقات کیں۔ تحقیقات کے دوران یہ دعویٰ کیا گیا کہ تقریباً 20 ملین ڈالر بیرون ملک منتقل کیے گئے تھے۔تاہم، 20 مارچ 2025 کو عدالت نے انہیں اس مقدمے میں بری کر دیا۔منی لانڈرنگ کیس2007 میں بنگلہ دیش کے انسداد بدعنوانی کمیشن نے طارق رحمان اور غیاث الدین کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ دائر کیا۔2013 میں ٹرائل کورٹ نے انہیں اس مقدمے میں بری کر دیا، تاہم 21 جولائی 2016 کو ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں سات سال قید اور 20 کروڑ ٹکا جرمانے کی سزا سنائی۔بعد ازاں، 5 دسمبر 2024 کو بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے انہیں اس مقدمے میں بری کر دیا۔غیر قانونی اثاثوں کا مقدمہ2007 میں نگران حکومت نے طارق رحمان، ان کی اہلیہ زبیدہ، اور ان کی ساس اقبال بانو کے خلاف ان کی آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا۔ڈھاکہ کی عدالت نے طارق رحمان کو نو سال قید اور 30 ملین ٹکا جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ ان کی اہلیہ کو تین سال قید اور 3.5 ملین ٹکا جرمانے کی سزا دی گئی۔ عدالت نے ان کے بعض اثاثے ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔بعد ازاں، 28 مئی 2025 کو عدالت نے طارق رحمان اور ان کی اہلیہ کو اس مقدمے میں تمام الزامات سے بری کر دیا۔ضیا چیریٹیبل ٹرسٹ بدعنوانی کیسانسداد بدعنوانی کمیشن نے 2008 میں یہ مقدمہ دائر کیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ ضیا یتیم خانہ ٹرسٹ کے لیے دی گئی غیر ملکی گرانٹ کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔2018 میں عدالت نے خالدہ ضیا کو پانچ سال اور طارق رحمان کو دس سال قید کی سزا سنائی۔ تاہم، بعد ازاں 2025 میں عدالت نے اس مقدمے میں تمام ملزمان کو بری کر دیا۔2004 ڈھاکہ گرینیڈ حملہ کیس2004 میں عوامی لیگ کی ایک ریلی پر گرینیڈ حملہ ہوا، جس میں 24 افراد ہلاک اور تقریباً 300 زخمی ہوئے۔2018 میں عدالت نے طارق رحمان کو اس حملے کا مرکزی سازشی قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔تاہم، 2024 میں عدالت نے انہیں اور دیگر ملزمان کو اس مقدمے میں بری کر دیا۔دس ٹرک اسلحہ کیس2004 میں چٹاگانگ میں دس ٹرکوں میں بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا۔ طارق رحمان پر اس اسلحہ اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا۔اس مقدمے میں ان کے خلاف تحقیقات کی گئیں، تاہم بعد میں عدالت نے انہیں بری کر دیا۔بغاوت اور دیگر مقدمات2014 میں لندن میں ایک تقریر کے بعد ان پر بغاوت اور دیگر الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے۔بعد ازاں، 2024 اور 2025 کے دوران عدالتوں نے ان مقدمات کو خارج کرتے ہوئے انہیں بری کر دیا۔طارق رحمان بنگلہ دیش کی سیاست کی ایک انتہائی متنازع شخصیت رہے ہیں۔ ان پر بدعنوانی، رشوت، منی لانڈرنگ، اور دہشت گردی سے متعلق متعدد الزامات عائد کیے گئے۔ تاہم، بعد ازاں عدالتوں نے زیادہ تر مقدمات میں انہیں بری کر دیا۔ان تمام تنازعات کے باوجود، وہ اب بنگلہ دیش کے وزیر اعظم بننے کی پوزیشن میں ہیں، جو ان کے سیاسی کیریئر کی ایک اہم پیش رفت ہے۔