All posts by admin
کھربوں روپے کے حکومتی اشتھار اور مراعات لینے والے جیو کا لائسنس 15 روز کے لئے منسوخ کردیا گیا یوم عاشور پر مذہبی غیر قانونی کنٹینٹ چلایا گیا وزیر اطلاعات نے رات 2 بجکر 44 منٹ اتوار کی صبح تھجد کے وقت اس خبر کی تصدیق اور خود پریس ریلیز جاری کی تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
24 گھنٹوں میں 5 زلزلے پاکستان میں خوف۔ مصر نے لبنان پر حیلوں کو خطرناک قرار دے دیا۔۔امریکہ ترکیہ معاھدے اسرائیل کام ردعمل۔۔متحدہ عرب امارات 4 حصوں میں تقسیم۔۔علاقائ کشیدہ صورتحال کے بعد عرب امارات اور ایران وزراء خارجہ کی ملاقات ڈاکٹر لبنئ کا تجزیے بادبان نیوز پر نیٹ پرابلم کی صورت میں vpn پر کھولیں۔۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

علاقائی کشیدگی کے بعد متحدہ عرب امارات اور ایران کے وزرائے خارجہ کا پہلا باضابطہ رابطہ، سفارت کاری اور استحکام پر زورابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ، عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کو اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلی فون موصول ہوا، جو خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلا باضابطہ اور عوامی سطح پر سامنے آنے والا اعلیٰ سفارتی رابطہ ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال اور امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) پر اتفاق اور دستخط کے بعد پیدا ہونے والی تازہ علاقائی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔گفتگو کے دوران شیخ عبداللہ بن زاید نے فوری اور جامع جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی حل، سنجیدہ سفارت کاری اور تعمیری مذاکرات ہی مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے کے امن و استحکام کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہیں۔انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف دشمنیوں کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ ریاستوں کی خودمختاری، حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں اور علاقائی سلامتی کو بھی تقویت ملے گی۔اماراتی وزیر خارجہ نے بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری، ریاستوں کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا اور اسے خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ٹیلی فونک رابطے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کی سلامتی کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ سمندری گزرگاہوں کی آزادی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کا بلا تعطل جاری رہنا نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بنیادی اور تزویراتی ضرورت ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج برآمد کریں گی اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کی راہ ہموار کریں گی۔شیخ عبداللہ بن زاید نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سنجیدہ سفارت کاری اور ذمہ دارانہ مکالمہ ہی علاقائی اور بین الاقوامی بحرانوں کے حل کا بہترین ذریعہ ہیں اور یہی راستہ خطے کے عوام کی امن، ترقی اور خوشحالی کی امنگوں کو پورا کر سکتا ہے۔یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے، وسیع تر تصادم کو روکنے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے علاقائی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات خود کو خطے میں استحکام، مذاکرات اور تعمیری سفارت کاری کے ایک فعال حامی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران پانچ زلزلے، ماہرین نے عالمی ٹیکٹونک سرگرمی سے جوڑ دیااسلام آباد: پاکستان میں محض 24 گھنٹوں کے دوران آنے والے پانچ زلزلوں نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ ماہرین ارضیات نے اس غیر معمولی سرگرمی کو دنیا کے مختلف خطوں میں جاری وسیع ٹیکٹونک حرکات کا حصہ قرار دیا ہے۔زلزلوں سے متاثرہ علاقوں میں صوبہ بلوچستان، خصوصاً بارکھان اور اس سے ملحقہ علاقے شامل ہیں، جہاں سب سے شدید جھٹکوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.2 ریکارڈ کی گئی۔ماہرین کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا یوریشین ٹیکٹونک پلیٹ کی سرحد پر واقع ہیں، جس کے باعث یہ علاقے قدرتی طور پر زلزلہ خیز شمار ہوتے ہیں۔ ماہرین نے واضح کیا کہ حالیہ جھٹکوں کی اکثریت کم شدت کی تھی، تاہم ان کی مسلسل نوعیت نے عوامی خدشات میں اضافہ کیا۔ارضیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دنیا کے مختلف حصوں میں ٹیکٹونک سرگرمی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لیکن وینزویلا میں آنے والے زلزلے اور پاکستان میں حالیہ جھٹکوں کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت کرنے کے لیے فی الحال کوئی حتمی سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے 2026 کے پہلے نصف کے دوران عالمی مسابقتی درجہ بندی میں ایک بار پھر نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے دنیا کی مضبوط اور تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی ہے۔عالمی رپورٹس کے مطابق یو اے ای 118 مختلف عالمی اشاریوں میں دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل رہا، جبکہ 67 اشاریوں میں اسے ٹاپ 5 ممالک میں جگہ حاصل ہوئی، جو مختلف اقتصادی، سرمایہ کاری، کاروباری اور حکومتی شعبوں میں اس کی غیر معمولی کارکردگی کا عکاس ہے۔اسی دوران گلوبل انٹرپرینیورشپ مانیٹر (GEM) 2025-2026 کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای مسلسل پانچویں سال دنیا میں کاروبار شروع کرنے، اسے فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے لیے بہترین ملک قرار پایا ہے۔اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کامیابیاں جدید حکومتی پالیسیوں، جدت طرازی، ڈیجیٹل تبدیلی، کاروبار دوست قوانین، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول اور مستقبل پر مبنی ترقیاتی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہیں۔ ان اقدامات نے یو اے ای کو عالمی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے لیے مزید پرکشش اور قابلِ اعتماد منزل بنا دیا ہے۔ماہرین کے مطابق یو اے ای کی مسلسل کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک نے اقتصادی تنوع، ٹیکنالوجی، اختراع اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں اپنی عالمی قیادت کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

کیا مشرق وسطیٰ ایک نئے جغرافیائی تزویراتی انقلاب کے دہانے پر کھڑا ہے؟آٹھ دہائیوں سے زائد عرصے سے امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سیاسی، عسکری اور اقتصادی مفادات کا ایک ایسا جال بچھا رکھا ہے جس نے اسے خلیجی ریاستوں کا ناگزیر شراکت دار بنا دیا۔ یہ تعلق صرف تیل اور توانائی تک محدود نہیں بلکہ خطے میں موجود بڑے امریکی فوجی اڈوں، اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدوں اور جدید اسلحے کی فروخت نے مشرق وسطیٰ کو امریکی دفاعی صنعت کے لیے ایک مستقل اور منافع بخش منڈی میں تبدیل کر دیا ہے۔تاہم حالیہ علاقائی کشیدگی نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے: کیا وہ فوجی اڈے جو خلیجی اتحادیوں کے تحفظ کی علامت سمجھے جاتے تھے، ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کی صورت میں خطرے کی نئی علامت بن سکتے ہیں؟تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تہران کسی وسیع تر محاذ آرائی کا جواب دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کا ہدف براہِ راست امریکی سرزمین نہیں بلکہ خطے میں موجود اہم تنصیبات ہو سکتی ہیں، جن میں تیل کے ذخائر، بجلی گھر اور ڈی سیلینیشن پلانٹس شامل ہیں۔ ایسی کسی کارروائی کی صورت میں پورے خلیج میں توانائی، پانی اور روزمرہ زندگی کا نظام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔اس صورتحال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ واشنگٹن اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے معاشی فوائد بھی حاصل کرتا ہے۔ جدید لڑاکا طیاروں، فضائی دفاعی نظاموں اور نگرانی کے آلات کی فروخت سے اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، جبکہ ہزاروں امریکی انجینئرز اور ماہرین خلیجی توانائی کے منصوبوں سے وابستہ ہیں۔تاہم اگر خطے میں عدم استحکام طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے تو کچھ خلیجی دارالحکومت اپنی روایتی تزویراتی وابستگیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔یہیں سے ایک متبادل منظرنامہ جنم لیتا ہے: روس اور چین کی جانب بتدریج جھکاؤ۔ چین پہلے ہی اپنے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو” کے ذریعے خطے میں معاشی اور جغرافیائی اثرورسوخ بڑھا رہا ہے، جبکہ ایران مشرق اور مغرب کو ملانے والی نئی تجارتی راہداریوں کا اہم مرکز بن سکتا ہے، جو ماسکو اور بیجنگ کو غیر معمولی تزویراتی فوائد فراہم کرے گا۔امریکی قیادت کے لیے اصل مخمصہ یہ ہے کہ آیا وہ اسرائیل کے لیے اپنی غیر مشروط حمایت جاری رکھتے ہوئے خلیج میں اپنے طویل المدتی مفادات کو خطرے میں ڈالے گی، یا پھر عملی سیاست کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اقتصادی اور تزویراتی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دے گی۔بہت سے مبصرین کے نزدیک مشرق وسطیٰ میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات محض ایک اور علاقائی بحران نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ممکنہ تبدیلی کا نقطۂ آغاز ہیں۔ آنے والے مہینوں میں کیے جانے والے فیصلے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ آنے والی دہائیوں کے عالمی نظام کی سمت کا بھی تعین کر سکتے ہیں۔آپ کی رائے میں کیا امریکہ اسرائیل کی خاطر اپنے خلیجی مفادات کو داؤ پر لگا دے گا، یا بالآخر عملیت پسندی غالب آئے گی؟

امریکہ-ترکی دفاعی معاہدے اور سیکورٹی انتباہات کے بعد ترکی-اسرائیل کشیدگی میں نیا موڑانقرہ/تل ابیب: ترکی اور اسرائیل کے تعلقات ایک نئے سیاسی اور تزویراتی تناؤ کے مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جب اسرائیل کی وزیر برائے اختراعات گیلا گملیل نے ترکی کو ایران کے بعد اسرائیل کے لیے “اگلا بڑا سیکورٹی چیلنج” قرار دیا۔ ان کے بیان نے خطے میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد اور مسابقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ترکی کے ساتھ تقریباً 705 ملین ڈالر مالیت کے فوجی معاہدے، جس میں لڑاکا طیاروں کے انجنوں کی فروخت بھی شامل ہے، کو آگے بڑھانے کا اعلان کیا۔ اس پیش رفت نے اسرائیلی سیاسی اور دفاعی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ تل ابیب خطے میں ترکی کے بڑھتے ہوئے فوجی اور سیاسی اثر و رسوخ کو اپنے لیے ایک ممکنہ چیلنج سمجھتا ہے۔اس دوران سابق بیانات بھی دوبارہ زیرِ بحث آ گئے ہیں جن میں صدر ٹرمپ سے منسوب یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو اسرائیل کے خلاف کسی ممکنہ فوجی اقدام سے روکنے کے لیے مداخلت کی تھی۔ ان دعوؤں نے واشنگٹن، انقرہ اور تل ابیب کے درمیان پسِ پردہ رابطوں کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔دوسری جانب صدر اردوان اسرائیلی پالیسیوں، خصوصاً غزہ کے معاملے پر، مسلسل سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ترکی نے اسرائیل کے خلاف سفارتی اور سیاسی دباؤ میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی بیانات اور امریکہ-ترکی دفاعی معاہدے کا بیک وقت سامنے آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اب ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی اثر و رسوخ، توانائی کے وسائل، سلامتی کے معاملات اور فوجی اتحادوں پر مسابقت مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید تصادم کی جانب دھکیل سکتی ہے۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو آنے والے مہینوں میں ترکی اور اسرائیل کے تعلقات مزید پیچیدہ، غیر یقینی اور ممکنہ طور پر زیادہ محاذ آرائی پر مبنی ہو سکتے ہیں۔

مصر نے لبنان کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کر دیا، اسرائیل کے مکمل انخلا اور ریاستی عملداری کے قیام پر زورقاہرہ: مصر نے لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور استحکام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے اسرائیل کے تمام لبنانی علاقوں سے مکمل انخلا اور پورے ملک میں لبنانی ریاست کی مکمل عملداری کے قیام پر زور دیا ہے۔مصری وزیر خارجہ، بدر عبدالعاطی نے لبنانی وزیراعظم نواف سلام سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے حالیہ فریم ورک معاہدے، لبنان کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال اور خطے میں جاری پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔گفتگو کے دوران قاہرہ نے واضح کیا کہ کسی بھی سیاسی یا سکیورٹی انتظام کا بنیادی مقصد لبنانی ریاست کی اپنے تمام علاقوں پر مکمل عملداری کی بحالی ہونا چاہیے تاکہ ملک میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور کشیدگی یا تنازع کے دوبارہ جنم لینے کے امکانات کو روکا جا سکے۔مصری وزیر خارجہ نے لبنان کے حوالے سے اپنے ملک کے چار بنیادی نکات پیش کیے:اسرائیلی افواج کا تمام لبنانی علاقوں سے مرحلہ وار اور مکمل انخلا؛تمام ہتھیاروں کو ریاستی اداروں کے اختیار میں دے کر قومی خودمختاری کو مضبوط بنانا؛بالخصوص جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی مکمل تعیناتی اور اسے اپنی سکیورٹی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل بنانا؛اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہے اور فوجی تصادم کی راہ مسدود ہو۔مصر نے اس موقع پر لبنانی سیاسی قوتوں کے درمیان اتحاد، ریاستی اداروں میں ہم آہنگی اور مشترکہ قومی مؤقف کی اہمیت پر بھی زور دیا اور اسے موجودہ سیاسی، سکیورٹی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔دوسری جانب وزیراعظم نواف سلام نے لبنان کے لیے مصر کی مستقل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ قاہرہ نے ہمیشہ لبنانی ریاستی اداروں کے استحکام اور قومی وحدت کے فروغ میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان آئندہ بھی قریبی مشاورت اور رابطوں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان سے متعلق حالیہ علاقائی اور بین الاقوامی سمجھوتوں پر عمل درآمد کی کوششیں جاری ہیں اور عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا متعلقہ فریق ان معاہدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کر کے لبنان کے استحکام اور ریاستی خودمختاری کو مزید مضبوط بنا پائیں گے۔
راولاکوٹ میں حالات کشیدہ صورتحال نازک ۔۔عوام کا خون کرپٹ حکمرانوں بالخصوص وزیر اعظم نےچوسنا نہ چھوڑا 5 ھزار ارب روپے عوام کی جیبوں سے نکالنے کے بعد مزید 5 ھزار ارب روپے کا ڈاکہ مارنے پر بضد پٹرول کو ایک سو پچاس روپے فی لیٹر کرنے کی بجائے 300 پر برقرار ۔۔۔پٹرول پر حکومتی فی لیٹر 200 روپے ڈاکہ بدستور جاری۔۔تھانہ سواں ملزمان کے ساتھ مل گیا کتابوں کی دوکان پر بچی کے ساتھ دست درازی کی کوشش اھلہ محلہ بھپھر گیا حالات کشیدہ صورتحال نازک بڑے حادثے کی گونج ایف آئی آر درج پولیس اصل ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام ای جی اسلام آباد سے مداخلت کی اپیل۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
سپیکر پنجاب اسمبلی ان ایکشن 1993ء کا ایکشن۔۔جنرل علی قلی خان خٹک افواج پاکستان کی شان۔۔ماضی کے دریچوں میں۔۔پاکستان میں مھنگای کا طوفان زندگی سسکیاں لینے لگی۔۔۔پاکستان میں خون سستا اٹس۔۔10 محرم الحرام ملک بھر میں دھشت گردی کا خطرہ الرٹ جاری۔فیصل آباد روالپندی لاھور کراچی جھنگ گجرنوالہ کوئٹہ میں جلوسوں پر دھشت گردی کا خطرہ۔۔فوج اور ایاز صادق کی محبت۔۔میں نے جواب دیا ہے وہ بالکل بہترین جواب دیا ہے، خواجہ آصف۔۔افواج پاکستان میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

سپیکر پنجاب اسمبلی حلقہ انتخاب بھی رکھتے ہیں اور حلقہ احباب بھیلاہور سے رپورٹنگ کرنے والے احباب ہی بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں کہ ایسا کیا ہو گیا ہے فیس بک پر سپیکر پنجاب اسمبلی کے حق میں پوسٹوں کا سیلاب امڈ آیا ہے۔۔۔۔۔۔ پنجاب اسمبلی میں سپیکر صاحب کا وزراء سے رویہ کچھ سخت نظر آیا ہے تو وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے بھی اپنے تئیں سپیکر صاحب کو “حد” میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔وہ ایسا کرتے ہوئے یا ان سے کہلوانے والی بھول گئیں ہیں کہ ملک احمد خان خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہو کر نہیں آئے وہ ووٹرز کا حلقہ انتخاب بھی رکھتے ہیں اور ذاتی “حلقہ احباب” بھی۔۔۔۔جس انداز میں عظمی بخاری نے سپیکر پر طنز کی اور جس طرح سپیکر آئین اور ایوان کے تحفظ کی بات کر رہے ہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ بند کمرے میں معاملہ (درپردہ)جو بھی ہے حل نہیں ہو سکا۔۔۔۔صاف الفاظ میں بات کی جائے تو جب چودھری اپنے کامیوں کے ذریعے شٹ آپ کال دیں تو سمجھ جائیں “مختاریا گل دوھ گئ ہے”۔۔۔۔۔۔

🌹 جنرل علی قلی خان خٹک — ایک عظیم سپاہی، مدبر اور محبِ وطن جرنیل کو خراجِ عقیدت 🌹🇵🇰 ایک ایسے جرنیل کی داستان جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گیپاکستان کی عسکری تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف اپنے عہدوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، بصیرت، دیانت داری اور پیشہ ورانہ قابلیت کی بدولت ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل Ali Kuli Khan Khattak بھی انہی عظیم شخصیات میں سے ایک تھے۔وہ ایک ایسے فوجی خاندان میں پیدا ہوئے جہاں حب الوطنی، فرض شناسی اور خدمتِ وطن نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ نوجوان علی قلی خان نے جب پاکستان آرمی کی وردی پہنی تو شاید کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ نوجوان افسر ایک دن پاکستان کے قابل ترین جرنیلوں میں شمار ہوگا۔فوجی زندگی کے ابتدائی دنوں ہی سے ان کی ذہانت، قائدانہ صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت نے انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کر دیا۔

وہ ہر ذمہ داری کو صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ قومی امانت سمجھ کر ادا کرتے تھے۔ میدانِ جنگ ہو، تدریسی ذمہ داریاں ہوں یا حساس انٹیلی جنس معاملات، انہوں نے ہر محاذ پر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔⭐ علم، حکمت اور عسکری مہارت کا امتزاججنرل علی قلی خان خٹک صرف ایک سپاہی نہیں تھے بلکہ ایک بہترین عسکری مفکر بھی تھے۔

کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں بطور انسٹرکٹر اور بعد ازاں کمانڈنٹ انہوں نے نوجوان افسروں کی ایسی تربیت کی جس کے اثرات آج بھی پاکستان آرمی میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ان کے شاگرد انہیں ایک ایسے استاد کے طور پر یاد کرتے ہیں جو صرف فوجی حکمتِ عملی ہی نہیں بلکہ کردار، دیانت داری اور قیادت کا درس بھی دیتے تھے۔🛡️ وطن کے محافظبطور ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس انہوں نے پاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات کا بروقت ادراک کیا اور قومی مفادات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔ 1995ء میں ریاست کے خلاف ایک خطرناک سازش کو ناکام بنانے میں ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔

بعد ازاں جب انہیں راولپنڈی کی اہم ترین کور، X کور، کی کمان سونپی گئی تو انہوں نے ثابت کیا کہ وہ صرف ایک بہترین اسٹاف آفیسر ہی نہیں بلکہ ایک کامیاب فیلڈ کمانڈر بھی ہیں۔🎖️ چیف آف جنرل اسٹاف — اعتماد کی علامتپاکستان آرمی میں چیف آف جنرل اسٹاف کا عہدہ انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

اس منصب پر فائز ہونا کسی بھی فوجی افسر کی قابلیت اور اعتماد کا ثبوت ہوتا ہے۔ جنرل علی قلی خان خٹک نے اس ذمہ داری کو بھی انتہائی وقار اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ نبھایا۔ان کی رائے کو فوجی حلقوں میں ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ دور اندیشی، متانت اور اصول پسندی کی علامت سمجھے جاتے تھے۔🌺 ایک عظیم انسانعظیم جرنیل ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک نہایت شائستہ، منکسر المزاج اور اصول پسند انسان بھی تھے۔ ان کے ماتحت افسر اور جوان انہیں عزت، محبت اور اعتماد کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔انہوں نے اپنی پوری زندگی پاکستان، پاکستان آرمی اور قومی سلامتی کے لیے وقف کر دی۔ ان کا کیریئر اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی عظمت صرف عہدوں سے نہیں بلکہ کردار، خدمت اور دیانت داری سے حاصل ہوتی ہے۔💚 خراجِ عقیدتسلام ہے اس سپاہی کو جس نے اپنی ذہانت، بصیرت اور بے مثال پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے پاکستان آرمی کا وقار بلند کیا۔

سلام ہے اس قائد کو جس نے ہر ذمہ داری کو قومی امانت سمجھ کر نبھایا۔سلام ہے جنرل علی قلی خان خٹک کو، جن کا نام پاکستان کی عسکری تاریخ میں ہمیشہ عزت، وقار اور احترام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔”عظیم سپاہی وقت کے ساتھ رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کی خدمات، کردار اور مثالیں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔ جنرل علی قلی خان خٹک ایسی ہی ایک درخشاں مثال تھے۔”🇵🇰 پاکستان آرمی کے اس عظیم فرزند کو بھرپور خراجِ

اسلام آباد کے اتوار بازار میں ہر سال مسلسل آگ لگنے کے واقعات ہر گز اتفاق نہیں ہو سکتا ۔اگ سے زیادہ نقصان ہمیشہ پختون تاجر بھائیوں کا ہوتا ہے ۔دو مرتبہ آگ لگنے سے پختونوں کے جوتوں اور کپڑے کی دوکانیں نشانہ بنیں اور وہ اپنی ساری جمع پونجی اثاثوں سے محروم ہو گئے ۔ایک دوکان جلنے سے صرف تاجر کا نقصان نہیں ہوتا اس سے منسلک سارا گھرانہ لٹ پٹ جاتا ہے ۔حکومتی ادارے اس معاملہ کی باریک بینی سے تفتیش کریں اور زمہ داران کو عبرت کا نشان بنائیں۔

لوگ مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ ہیں،ظالمانہ ٹیکسوں نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے،معیشت کا پہیہ جام ہے اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ بنانے والے وزارت خزانہ اور وزیراعظم ہاوس کے ملازمین کو 6 ماہ کی تنخواہ بطور بونس دینے کا اعلان کردیا ہے ۔کیوں بھئی ؟ آپ کے باپ کا مال ہے؟ بادشاہ سلامت ہیں آپ ؟ پہلی بات تو یہ اس بجٹ میں ایسا کونسا تیر مارا ہے کہ انعام دیا جائے؟ دوسری بات اگر بونس دینا بھی ہے تو ان چند ملازمین کو دیں جنہوں نے دن رات کام کیا۔ کروڑوں روپے یوں اڑا دینے کیا جواز ہے؟ وزارت خزانہ اور وزیراعظم ہائوس کے سینکڑوں ملازمین کو 6ماہ کی تنخواہیں انعام دینے کا اختیار کس نے دیا ؟ کیا آپ اپنی جیب سے یہ بخشش دے سکتے ہیں؟

آپ کی فوج سے محبت کب سے جاگی ہے، آپ نے کہا تھا کہ آرمی چیف نے کہا جاسوس کو چھوڑو ورنہ بھارت حملہ کر دے گا، آپ نے کہا تھا کہ آرمی چیف کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، آپ گولیاں ماریں گے، جیلوں میں ڈالیں گے تو ہم مخالفت کرینگے ، اچکزئی کا اسپیکر ایاز صادق کو جواب۔۔!!

کشمیر کیلئے ہم نے پانچ جنگیں لڑی ہیں، لیکن صِلہ یہ ملا کہ وہاں پاکستان کو گالیاں دی جا رہی ہیں،جب وہ یہ کہیں کہ بلوچستان سے لاشیں واپس آ جاتی ہیں، کشمیر سے ان کی لاشیں بھی واپس نہیں جائیں گی، تو پھر جو میں نے جواب دیا ہے وہ بالکل بہترین جواب دیا ہے، خواجہ آصف
ای ایس پی ار کا سربراہ کون ؟ پشاور گجرنوالہ ملتان کے کور کمانڈر کونسے ای ایس ای سمیت 2 نئے فور سٹار جرنلز کونسے افواج پاکستان میں پرموشنز اور تبادلے ۔۔۔ کونسے وزراء برطرف کرپٹ وزراء کو انعاماتسب کچھ جاننے کے لیے سھیل رانا لاءیو
پنجاب کے تمام ڈی ایف سی تبدیل کرنے کا فیصلہ ڈائریکٹر جنرل فوڈ پنجاب کو بھی معطل کرنے کا فیصلہ 700 ارب روپے کی کرپشن گندم سکینڈل خفیہ ادارے کی تحقیقات جاری تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
تنخواہ دار طبقے سے 700ارب جبکہ وڈیروں، جاگیرداروں سے صرف 12ارب روپے ٹیکس وصول کیے جانے کا انکشاف۔آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کو رجسٹر کرنے کا حکم دے دیا۔۔تحریک انصاف ،ن، اور پاکستان مسلم لیگ،ن، کی ملی بھگت بجٹ پاس۔۔۔پاکستان پرو لیگ میں ائیندہ شریک نھی ھو گا عبرتناک شکست۔۔امریکہ نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت کیوں دی اور پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟جائز مطالبات کی منظوری کے باوجود احتجاج کیا گیا: چیف سیکریٹری آزاد کشمیر کی پریس بریفنگ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

یہ دونوں خواتین نون لیگ کی جانب سے پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں پر ‘خیراتی ممبرز’ ہیں۔ انہوں نے جیسے قسم کھا رکھی ہے کہ پاکستانی قوم کا صرف نقصان ہی کرنا ہے۔ قابلیت کا یہ عالم ہے کہ کوئی عام سی فرنچائز بھی انہیں نوکری نہ دے، مگر یہاں یہ وزیر بنی بیٹھی ہیں!خیراتی ممبر ھونے کا اس سے بڑا کیا ثبوت ھوگا کہ کل شیزا صاحبہ ایک انٹرویو میں فرمارھی تھی کہ مینے تو ایم پی اے کی سیٹ کیلیئے اپلائی کیا تھا، لیکن الیکشن کمیشن میں کاغزات جمع کرانے کیبعد الیکشن کمشنر نے مشورہ دیا کہ آپ ایم پی اے کیبجائے ایم این اے ٹھیک رھیں گی۔۔۔۔اسطرح میں نیشنل اسمبلی میں آگئییعنی کہ کوئی خاتون صوبائی اسمبلی کیلیئے فٹ ھے یا نیشنل کیلیئے یہ فیصلہ بھی پارٹی کیبجائے الیکشن کمیشن کرتا رھا ھے۔

🚨 شاباش فاطمہ ثناء شاباش ؛ آخر کار کپتان فاطمہ ثناء جیت گئی 🚨 بالآخر پاکستان کرکٹ بورڈ کی آنکھیں کھول گئی ویمنز ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا کے کہنے پر عالیہ ریاض کے شوہر اور وقار یونس کے چھوٹے بھائی علی یونس کو ہوٹل کے کمرے سے نکال دیا رپورٹ کے مطابق عالیہ ریاض کے شوہر اس کمرے میں رہائش پذیر ہوئے تھے جو آئی سی سی کی جانب سے ہر ایک لڑکی کو الگ الگ دیا گیا علی یونس وہاب ریاض کو پی سی بی کی جانب سے ملنے والی ٹیم کے فنڈ پر اپنے اہلیہ عالیہ ریاض سے ملنے کیلئے انگلینڈ گئے جہاں اس نے اسی کمرہ میں رہائش اختیار کی جو آئی سی سی کی جانب سے دی گئی بنگلہ دیش میچ کے بعد وہاب ریاض اور فاطمہ ثنا کے درمیان تلخ کلامی اسی بات پر ہوئی تھی فاطمہ ثنا نے بطور کپتان یہ کہا کہ عالیہ ریاض یہاں کرکٹ کھیلنے آئی ہے یاں گھومنے بنگلہ دیش میچ سے ایک روز قبل عالیہ ریاض اپنے شوہر کیساتھ گھومنے گئی اور پریکٹس میں بھی حصہ نہیں لیا تھا جسکو فاطمہ ثنا نے بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں ڈراپ کرنے کا فیصلہ کیا

لیکن وہاب ریاض نے شامل کرلیاپی سی بی کے اعلیٰ افیشل نے فوری طور پر وہاب ریاض کو کہدیا کہ علی یونس کو ہوٹل کے کمرے سے باہر کیا جائے رپورٹ کے مطابق اب اس بات کی بھی انکوائری شروع کردی گئی ہے کہ کس کے اجازت سے علی یونس اس ہوٹل میں گئے جہاں پاکستان ٹیم کی لڑکیاں موجود ہے #cricket #fblifestyle #fifaworldcup
پاکستان انڈیا سے 4-3 سے ہارنے کے بعد ہاکی ٹیم کی بدترین کارکردگی کی عکاس ہے، جس میں مسلسل 13 شکستوں اور منفی 43 کے گول فرق کے باعث ٹیم کو FIH پرو لیگ سے ریلیگیٹ کر دیا گیا ہے، یعنی پاکستان اب اگلے سیزن میں اس بڑے عالمی ٹورنامنٹ کا حصہ نہیں ہوگا۔ یہ صورتحال پاکستان ہاکی کے زوال اور ٹیم کی دفاعی و جارحانہ صلاحیتوں میں شدید کمی کو ظاہر کرتی ہے، جو ہاکی کے مداحوں کے لیے انتہائی افسوسناک اور مایوس کن ہے۔

*سرگودھا۔ ڈپٹی کمشنر کا واسا افسران کو فیلڈ میں نکل کر عوامی مسائل حل کرنے کا حکم**یونین کونسل اور محلہ کی سطح پر کھلی کچہریاں لگانے کی ہدایت**واسا کے تمام اثاثہ جات کی جیو ٹیگنگ، ریونیو میں اضافے کا پلان طلب**غیر قانونی کنکشنز کو قانونی بنانے اور بلوں کی ریکوری تیز کرنے کی ہدایت*سرگودھا (آن لائن) ڈپٹی کمشنر حسین احمد رضا چوہدری نے واسا افسران کو اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ڈی او سے لے کر منیجنگ ڈائریکٹر تک تمام افسران فیلڈ میں نکلیں، شہریوں کے مسائل ان کی دہلیز پر جا کر حل کریں، یونین کونسل اور محلے کی سطح پر کھلی کچہریوں کا انعقاد یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر سب ڈویژن میں متعلقہ ایکسین اپنی کارکردگی کا براہ راست ذمہ دار ہوگا۔اس امر کا اظہار انہوں نے واسا کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر واسا محمد ابوبکر عمران اور ادارے کے دیگر افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ واسا اپنی ریونیو وصولیوں میں اضافہ کرے، تمام اثاثہ جات کی جیو ٹیگنگ مکمل کرے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت بوٹیلنگ پلانٹ سمیت دیگر منصوبوں کی تجاویز تیار کرے۔ انہوں نے سیوریج اور ویسٹ واٹر کے مؤثر استعمال کے لیے قابل عمل منصوبہ بندی بھی طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر برانچ کے لیے واضح کی پرفارمنس انڈیکیٹرز (کے پی آئیز) مقرر کیے جائیں اور افسران کی سالانہ خفیہ رپورٹس ( اے سی آرز) کو ان کی کارکردگی سے مشروط کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے واسا سے بزنس پلان بھی طلب کرتے ہوئے ادارے کی مالی خود کفالت کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے

ایم ڈی واسا نے بتایا کہ واسا کے قیام کے وقت ادارے کے پاس 32 ہزار کنکشن موجود تھے جن میں تقریباً 10 ہزار واٹر سپلائی کنکشن شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جاری سروے کے دوران اب تک تقریباً 50 ہزار گھروں کا ریکارڈ مرتب کیا جا چکا ہے اور تمام ڈیٹا کو جیو ٹیگ کیا جا رہا ہے۔ سروے کی تکمیل کے بعد جامعہ سرگودھا کے شعبہ شماریات کے ذریعے اس کی تصدیق کرائی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ غیر قانونی کنکشنز کو قانونی بنانے اور واٹر سپلائی و سیوریج بلوں کی وصولی کے لیے خصوصی مہم جاری ہے۔ بلوں کی پرنٹنگ کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے جبکہ 10 جولائی تک وصولیوں کے اہداف حاصل کرنے کے لیے متعلقہ عملے کو ٹارگٹس دے دیے گئے ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اب شہری اپنے بل صرف ایزی پیسہ یا جاز کیش ہی نہیں بلکہ تمام بینکوں کے ذریعے بھی جمع کرا سکیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے واسا کے 1334 شکایات سیل کو مزید فعال بنانے اور موصول ہونے والی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔🚨محکمہ تعلیم بہاولنگر میں بڑا کریک ڈاؤن، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر ایک ہی خاندان کے 3 ملازم برطرف⬅️1۔ جونیئر کلرک ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس منچن آباد نعمان حسن ⬅️2۔ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر منچن آباد عائشہ نواب (اہلیہ نعمان حسن)⬅️3۔ ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول منچن آباد رضیہ پروین
ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ ۔ اظہر سیدڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کا غم اجتماعی نہیں زاتی تھا ۔باپ کی موت بطور بیٹی اس پر قرض تھا ،اس کا احتجاج سچا تھا ۔جنون کے عالم میں غم و غصہ کا اظہار کرتی تھی ۔جبری گمشدگیوں اور لاپتہ نوجوانوں کیلئے احتجاج بھی سچا تھا ۔ ماہرنگ بلوچ کی سچائی کو داغ تب لگنا شروع ہوا جب پنجاب کے نوجوانوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر بلوچستان کی سڑکوں پر قتل کرنے کا کام شروع ہوا ۔یہ نوجوان بھی اپنی بیٹیوں کے باپ تھے ۔یہ بھی ماہرنگ بلوچ کے باپ ایسے تھے ۔ماہرنگ بلوچ کو لیڈری کا نشہ چڑھ گیا ۔بے گناہ پنجابیوں کے قتل پر ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو دندل پڑھ جاتی تھی ۔اپنی ساری احتجاجی مہم میں اس بلوچ لڑکی نے بے گناہ پنجابیوں کے قتل پر افسوس تو دور کی بات مذمت کا کبھی ایک لفظ منہ سے نہیں نکالا ۔جو نام نہاد کامریڈ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی سزا پر نوحے پڑھتے نظر آتے ہیں وہ بھی منافق ہیں ۔خالص اور سچے منافق ۔جتنا مقدس خون کسی بے گناہ بلوچ نوجوان کا ہے اتنا ہی مقدس خون کسی بے گناہ پنجابی کا بھی ہے ۔یہ ممکن نہیں پنجابی نوجوان کے خون کو “ردعمل” کہہ کر آگے بڑھ جائیں اور بلوچ نوجوان کے خون پر سر پر مٹی ڈالتے ہوئے بین ڈالیں ۔عام پاکستانی شائد نہ جانتے ہوں ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور اسکی بلوچ یک جہتی کمیٹی بہت اچھی طرح جانتی تھی بے شمار لاپتہ نوجوان عسکریت پسند بن چکے ہیں

لیکن بدمعاشی اور بے ایمانی کی انتہا تھی انکی جبری گمشدگی کے نام پر ڈھٹائی کے ساتھ احتجاج کیا جاتا ۔ایجنسیاں بلوچ نوجوانوں کو غائب کرتی ہیں لیکن صرف انہیں جن کے متعلق شواہد موجود ہوتے ہیں ۔پاکستان نہیں دنیا کے ہر ملک کی ایجنسی یہ کام کرتی ہے ۔بلوچستان میں ریاست نے غلطیاں کیں اور انہی غلطیوں کے بوجھ کی وجہ سے ریاست نے ڈھائی سال تک ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ پر ہاتھ نہیں ڈالا ۔اسلام آباد میں دھرنہ دینے کی اجازت دی ۔ملک کے مختلف شہروں میں لانگ مارچ کی اجازت دی ۔اس ڈھائی سال کی ڈھیل نے ریاست کو بے پناہ نقصان پہنچایا ۔بے شمار بلوچ نوجوان مرکزی قومی دھارے سے کٹ کر عسکریت پسند بن گئے ۔ماہرنگ بلوچ احتجاج کا استعارہ بن گئی ۔ٹرین پر قبضہ کرنے والے عسکریت پسندوں کو فورسز نے نشانہ بنایا تو ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ نے ریڈ لائن عبور کر لی ۔ہسپتال میں عسکریت پسندوں کی لاشیں چھین لیں اور ان پر سیاست کرنے کی کوشش کی ۔اس کے بعد صرف کہانیاں ہیں ۔احتجاج،جلسے،لانگ مارچ اور جلوس سب بند ۔ریاست ڈھائی سال سے جو نرمی دکھا رہی تھی وہ ختم ہو گئی ۔کوئی ریاست احتجاج کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ نہیں بننے دیتی ۔پہلے پاکستان ہے پھر آئین ،قانون اور انسانی حقوق ۔بلوچ نوجوان ایندھن ہیں ۔انہیں سی پیک اور پاکستان مخالف قوتیں اپنے مفادات کے تنور میں جلا رہی ہیں ۔چالیس سال میں لاکھوں نوجوان افغانستان اور مقبوضہ کشمیر کے مفادات کے تنور میں جلائے گئے ۔انکی زندگیاں ختم ہو گئیں ۔مر کھپ گئے ۔کسی کو کچھ نہیں ملا ۔بندوق اٹھانے والے بلوچ نوجوانوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو گا ۔مر کھپ جائیں گے ۔کچھ نہیں ملے گا ۔’عظیم مقصد کیلئے قربانی” کا فراڈ صرف نوجوانوں کو اپنے مقاصد کیلئے استمال کرنے والوں کی ایک اصطلاح ہے اور بس ۔
ڈائریکٹر جنرل فوڈ پنجاب کی کسان دشمن پالیسی ارکان اسمبلی کا عدم اعتماد 2 ھزار ارب روپے کی کرپشن 90 ھزار ارب روپے کی کرپشن اور بھت کچھ ڈائریکٹر جنرل فوڈ نیب کے شکنجے میں تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
بھارت میں میری پسندیدہ شخصیت میری بیوی اور پاکستان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر،امریکی صدر۔۔بھارتی بلے باز نے ٹرائی سیریز کے فائنل میں سری لنکا کے خلاف میچ میں تاریخ رقم کی۔۔ایک طرف امریکا ایران مذاکرات جاری، دوسری جانب صدر ٹرمپ کے جارحانہ بیانات نے نئی بحث چھیڑ دی۔۔فیلڈ مارشل عاصم منیر مدبر قائد، عظیم فوجی رہنما اور بہترین سفارت کار ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اعتراف۔۔ایرانی وفد کا ٹر مپ کے بیانات کیخلاف شدید احتجاج، مذاکرات میں شرکت سے انکار۔۔پاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ میں جاری امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دور شروع نہ ہوسکا،۔۔حکومت کی رخصتی یا برطرفی۔مسلم لیگ ن آؤٹ!گلگت بلتستان میں حکومت سازی کیلئے پیپلزپارٹی اور استحکامِ پاکستان پارٹی میں معاملات طے پاگئے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

| سفارتی محاذ پر اچانک تبدیلی — 12 گھنٹوں میں صورتحال پلٹ گئیگزشتہ چند گھنٹوں کے دوران بین الاقوامی سفارتی ماحول میں ایک غیر معمولی اور تیز رفتار تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جس نے زمینی صورتِ حال کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات اور زمینی ذرائع کے مطابق، جہاں چند روز قبل تک غیر یقینی اور پسپائی کا ماحول تھا، وہیں اچانک پیدا ہونے والی پیش رفت نے تمام اندازے الٹ دیے ہیں۔ گزشتہ 12 گھنٹوں میں صورتحال اس قدر تیزی سے بدلی کہ خود میڈیا نمائندے بھی واپسی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے تھے۔ مختلف صحافی اپنے سامان پیک کر چکے تھے، فلائٹس بک کر لی گئی تھیں، اور عمومی تاثر یہ تھا کہ مذاکراتی یا سفارتی سرگرمیوں کا یہ مرحلہ اپنے اختتامی دور میں داخل ہو چکا ہے۔تاہم حالات نے ایک غیر متوقع موڑ اس وقت لیا جب خطے میں اچانک سکیورٹی اور سفارتی سرگرمیوں میں نئی شدت دیکھی گئی۔راتوں رات تبدیلی — اچانک سرگرمیوں میں اضافہذرائع کے مطابق، رات کے وقت اچانک متعدد اہم پیش رفتیں سامنے آئیں جنہوں نے صورتحال کا رخ بدل دیا۔ ان میں سب سے نمایاں پیش رفت ایران کے اعلیٰ سطحی حکام کی فوری سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔

اسی دوران اطلاعات سامنے آئیں کہ خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے صورتحال نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی، تاہم میڈیا اور سفارتی حلقوں میں ان خبروں نے غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی۔اسی پس منظر میں خطے میں سکیورٹی پروٹوکولز کو دوبارہ فعال کرنے اور بعض مقامات پر اضافی حفاظتی اقدامات کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جنہوں نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا کہ صورتحال ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔سفارتی رابطے اور اہم ملاقاتیںاسی دوران پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے اچانک ایران کے دورے نے صورتحال کو مزید اہم بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق ان کے دورے کے بعد سفارتی چینلز میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی۔منصور علی خان کے مطابق، ان کا کہنا ہے کہ ان کے رابطے میں آنے کے بعد انہیں مختصر مگر اہم پیغام موصول ہوا جس میں کہا گیا:> “ڈونٹ لیو — ابھی یہاں سے نہ جائیں”یہ پیغام اس وقت ایک غیر رسمی مگر اہم اشارہ سمجھا گیا کہ خطے میں موجود سفارتی اور سیاسی حالات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں اور مزید اہم پیش رفت متوقع ہو سکتی ہے۔سکیورٹی صورتحال میں اچانک تبدیلیذرائع یہ بھی بتاتے ہیں

کہ کچھ سکیورٹی انتظامات جو پہلے کم یا ختم کیے جا چکے تھے، انہیں دوبارہ فعال اور مضبوط (beef up) کیا جانے لگا ہے۔ اس پیش رفت کو عام طور پر اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ زمینی صورتحال میں کسی اہم تبدیلی کا امکان موجود ہے۔اسی دوران مختلف سفارتی حلقوں میں غیر رسمی رابطوں میں اضافہ بھی رپورٹ کیا گیا، جس سے یہ تاثر مزید گہرا ہوا کہ پسِ پردہ مذاکرات یا مشاورت کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔خطے کی مجموعی صورتحال — غیر یقینی مگر متحرکبین الاقوامی مبصرین کے مطابق، موجودہ صورتحال انتہائی غیر مستحکم مگر متحرک ہے۔ ایک طرف میڈیا رپورٹس میں کشیدگی اور ممکنہ بحران کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف سفارتی سطح پر سرگرمیوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ کچھ ممالک کشیدگی کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ابنائے ہرمز جیسے حساس آبی راستے کی ممکنہ بندش یا اس سے متعلق خبریں اگرچہ غیر مصدقہ ہیں، لیکن اس نوعیت کی اطلاعات خود عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں فوری ردعمل پیدا کرتی ہیں۔اعلیٰ سطحی وفود کی آمد کی اطلاعاتمزید ذرائع کے مطابق، یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ عباس عراقچی اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جیسے اعلیٰ سطحی شخصیات کی ممکنہ آمد سے متعلق بات چیت جاری ہے۔

اگر یہ پیش رفت عملی صورت اختیار کرتی ہے تو اسے اس بحران کے تناظر میں ایک انتہائی اہم سفارتی موڑ تصور کیا جائے گا۔تاہم اس وقت تک کسی بھی فریق نے باضابطہ طور پر ان ملاقاتوں یا شرکت کی تصدیق نہیں کی۔نتیجہ صورتحال کس طرف جا رہی ہے؟موجودہ حالات میں سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ صورتحال ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں:ایک طرف کشیدگی اور غیر یقینی بڑھ رہی ہےدوسری طرف سفارتی رابطے تیز ہو رہے ہیںاور تیسری طرف زمینی سکیورٹی اقدامات دوبارہ سخت کیے جا رہے ہیںیہ تمام عوامل مل کر اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ آنے والے چند گھنٹے یا دن خطے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔فی الحال صورتحال واضح نہیں، تاہم یہ بات یقینی ہے کہ سفارتی اور سیاسی محاذ پر ایک نئی اور بڑی پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔

ایرانی وفد کا ٹر مپ کے بیانات کیخلاف شدید احتجاج، مذاکرات میں شرکت سے انکارپاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ میں جاری امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دور شروع نہ ہوسکا، پہلا دور 80 منٹ جاری رہا ایرانی میڈیا
پاکستان ہر سال آئی ایم ایف کے پاس جاتا ہے، باقی ممالک کیا کرتے ہیں؟ بھارت آئی ایم ایف کے پاس آخری دفعہ 1991 میں گیا تھا اور اُس کے بعدآج تک آئی ایم ایف کے پاس نہیں گیا ملائشیا کبھی آئی ایم ایف کے پاس نہیں گیا، حتی کہ 1997-98 کے اقتصادی بحران میں جب جنوبی کوریا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور فلپائن آئی ایم ایف کے پاس گئے، ملائشیا کے مہاتیر نے ایسے مشکل وقت میں بھی آئی ایم ایف کے پاس جانے سے انکار کیا ترکیہ نے آخری آئی ایم ایف پلان 2005 میں لیا اور اُس کے بعد 20 سال سے آئی ایم ایف کے پاس نہیں گیا۔ایران نے آخری دفعہ آئی ایم ایف پلان 1959 میں لیا تھا چین آخری دفعہ 1986 میں آئی ایم ایف میں گیا جاپان 1964 اور جرمنی 1970 میں آخری دفعہ آئی ایم ایف کے پاس گیا تھائ لینڈ 1997 میں آخری دفعہ آئی ایم ایف میں گیا ویت نام 2001 میں آخری دفعہ آئی ایم ایف کے پاس گیا صرف اس سے اندازہ لگا لیں کہ پاکستان کا اقتدار جن دو موروثی جماعتوں اور اُن کے سہولت کاروں کے ہاتھ میں رہا، اُن کی صلاحیت صرف آئی ایم ایف سے قرضہ لینے اور ورلڈ بینک سے وزیر خزانہ لینے، تک محدود ہے

‼️ *امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فوسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بصیرت اور مدبرانہ قیادت کے معترف*‼️📌 مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام اور امریکہ و ایران کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی تاریخی مصالحتی کوششوں کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔📌 سوئٹزرلینڈ کے مقام برگن اسٹاک (Burgenstock) میں ہونے والے امریکہ ایران اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت اور سفارتی بصیرت کو غیر معمولی الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔📌سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی وفد سے ملاقات کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کھل کر اعتراف کیا کہ پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی انتھک کوششوں کے بغیر امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدے پر پیش رفت ممکن ہی نہ تھی۔📌 فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کلیدی کردار کی تعریف کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ انہوں نے پچھلے تین مہینوں میں شاید فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ بات چیت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل کی بصیرت اور مدبرانہ قیادت کے بغیر ہم اس اہم موڑ تک نہیں پہنچ سکتے تھے، وہ بلاشبہ ایک عظیم فوجی رہنما ہیں، لیکن ان کے خیال میں انہوں نے خود کو ایک بہترین اور اعلیٰ پائے کے سفارتکار کے طور پر بھی ثابت کیا ہے۔📌 پاکستان کی سول و عسکری قیادت کو امریکہ اور ایران کے مابین مزاکرات کرانے پر نہ صرف امریکہ، بلکہ پوری دنیا کی جانب سے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ 📌 اقوامِ متحدہ (UN)، یورپی یونین اور مشرقِ وسطیٰ کے برادر اسلامی ممالک سمیت عالمی برادری نے واشنگٹن اور تہران کے مابین برف پگھلانے پر اسلام آباد کے اس مخلصانہ اور مدبرانہ کردار کو دل کھول کر سراہا ہے۔ 📌 اس تاریخی سفارتکاری کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا، بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز کو بحال رکھ کر پوری دنیا کو ایک ہولناک معاشی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تباہ کن اضافے سے بھی محفوظ کر لیا۔ اگر پاکستان بروقت یہ مصالحتی کردار ادا نہ کرتا تو بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تجارتی نظام مفلوج ہو کر رہ جاتا۔📌 ایسے نازک موڑ پر جب دنیا بلاکس میں تقسیم ہو رہی تھی، پاکستان نے ایک بار پھر خود کو عالمی امن کا ایک غیر جانبدار، قابلِ اعتماد اور ناگزیر ضامن ثابت کیا، اور اس تاریخی مصالحت نے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے تزویراتی وقار اور سفارتی قد کاٹھ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

*🛑 قطر میں گیس کی سب سے بڑی سہولت راس لافان انڈسٹریل سٹی میں دھماکہ* *دھماکا اتنا شدید تھا کہ قطریوں نے اسے ‘زلزلہ’ قرار دیا اور بحرین میں بھی اس کی آواز سنی گئی۔ وجہ فی الحال معلوم نہیں ہے۔*









