All posts by admin

پرائیویٹ حج سكيم 53763۔ گورنمنٹ حج سكيم125447۔۔پرائیویٹ ٹورز کو ریلیف فراہم کیا گیا اور بلیک لسٹ نھی کیا،وفاقی وزیر۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی اعلان کردہ حج پالیسی 2026 کی نمایاں خصوصیات۔۔۔ بتاریخ 30 جولائی، 2025*بفضل تعالیٰ حج پالیسی 2026 آج وفاقی کابینہ نے منظور کر لی ہے۔ اس کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں۔ 👈1. حج درخواستیں 4 اگست سے موصول کی جائیں گی۔👈2. پاکستان کے لیے حج 2026 کا کوٹہ فی الحال 179,210 مختص کیا گیا ہے ۔تاہم سعودی عرب کی جانب سے حتمی اعلان ہونا باقی ہے۔ سرکاری سکیم کے لئے 1 لاکھ 19 ہزار 210 نشستیں جبکہ پرائیویٹ حج اسکیم کے لیے 60 ہزار نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ 👈3. سرکاری حج اسکیم کے لیے 38-42 دن کا روایتی طویل پیکیج اور 20-25 دن کا مختصر پیکیج فراہم کیا جائے گا۔👈4. تمام درخواست گذاروں کی قربانی (اداہی پروگرام کے تحت) سعودی عرب کے نظام کے مطابق لازمی ہوگی۔👈5. درخواست گذار کا مسلمان اور پاکستانی پاسپورٹ کا حامل ہونا لازمی ہے جس کی مدت 26 نومبر، 2026 تک کارآمد ہو۔👈6. بارہ سال سے کم عمر بچوں کو اس سال حج کی اجازت نہیں ہوگی۔👈7. وہ افراد جو سرکاری حج اسکیم کے تحت حج ادا کرنا چاہتے ہیں، انہیں حج واجبات دو اقساط میں جمع کرانا ہوں گے۔👈8. سرکاری حج اسکیم کا تخمینہ پیکیج ساڑھے گیارہ لاکھ سے ساڑھے بارہ لاکھ روپے کے درمیان ہوگا؛ جو کہ سروس فراہم کنندگان کے ساتھ معاہدوں کی حتمی منظوری سے مشروط ہے۔👈9. سرکاری حج سکیم کے لانگ پیکیج کے لیے پہلی قسط 5 لاکھ روپے جبکہ شارٹ پیکیج کے لیے ساڑھے پانچ لاکھ روپے جمع کروانا لازم ہیں ۔ 👈10. حج اخراجات کی پہلی قسط 4اگست سے کسی بھی نامزد بینک کے ذریعے جمع کروائی جا سکتی ہے۔ 👈11. سعودی عرب کی ٹائم لائنز کے پیش نظر عازمینِ حج کا انتخاب ’’پہلے آئیے پہلے پائیے‘‘ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔👈12. بیرونِ ملک مقیم عازمینِ حج سرکاری حج اسکیم کے تحت دیے گئے نامزد بینک اکاؤنٹس میں اپنی حج رقم بھجوا سکتے ہیں ۔👈13. سعودی عرب سے منظور شدہ ویکسین لگوانا لازمی ہو گا ۔👈14. ’’روٹ ٹو مکہ‘‘ سہولت اسلام آباد اور کراچی ایئرپورٹس پر جاری رہے گی۔👈15. ڈیپنڈنٹ حج کمپنیوں (DHCs) کو بیرونِ ملک عازمینِ حج کی بکنگ کی اجازت ہو گی، بشرطیکہ وہ اپنی حج کی رقم بینکنگ چینلز کے ذریعے متعلقہ DHC کو بیرونِ ملک سے فارن ایکسچینج میں منتقل کریں، جس کے ساتھ وہ حج کرنا چاہتے ہیں۔ عازمینِ حج کا ڈیٹا اور مالیاتی لین دین وزارت کے پورٹل پر قابلِ مشاہدہ ہوگا۔👈16. ہر منظم / ڈی ایچ سی کے لیے کم از کم کوٹہ سعودی ہدایات کے مطابق ہوگا۔👈17. موت، شدید بیماری یا کسی اور ناگزیر وجہ کی صورت میں متبادل کیسز کو کمیٹی کے ذریعے جانچا جائے گا۔ 👈18. مشاعر بکنگ کے لئے پیکیج کے 25 فیصد پیشگی ادائیگی کے بعد DHCs کو بکنگ کی اجازت ہو گی۔👈19. امسال پرائیویٹ سیکٹر کی مالیاتی شفافیت کو برقرار رکھنے اور سعودی عرب میں بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے فنانشل سیف گارڈز متعارف کروائے گئے ہیں ۔ 20. DHCs کو وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے آئی ٹی پورٹل سے متعلق ہدایات کی پابندی کرنی ہو گی تاکہ شفافیت اور سہولت یقینی بنائی جا سکے۔👈21. تیسرے فریق کے ذریعے سرکاری اور پرائیویٹ حج سکیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائےگا۔👈22. پنجاب آئی ٹی بورڈ (PITB) ڈیجیٹائزیشن کے آپریشنل کنٹرول کو جاری رکھے گا، جبکہ MoIT&T اپنے ادارے NITB کے ذریعے نگرانی کرے گا تاکہ عازمین کے ڈیٹا اور ادائیگیوں کی رئیل ٹائم نگرانی، دوہری بکنگ اور نشستوں کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔👈23. وزارت مذہبی امور کی مانیٹرنگ ٹیم حج آپریشنز کی مجموعی کارکردگی کی نگرانی کرے گی تاکہ خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔👈24. ڈی ایچ سیز وزارت کے ساتھ سروس پرووائیڈر ایگریمنٹ (SPA) پر دستخط کریں گے اور ان کی نگرانی وزارت کے تربیت یافتہ عملے کے ذریعے کی جائے گی تاکہ حجاج کرام کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔👈25. حجاج کرام کی فلاحی خدمات کے لیے عملہ تعینات کیا جائے گا۔👈26. حج سے متعلق مکمل تربیت دی جائے گی جس میں لاجسٹکس، حج کے طریقہ کار، لباس اور ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کی مشق شامل ہوگی۔👈27. “حجاج محافظ اسکیم” جاری رکھی جائے گی جس کے تحت حجاج کو ان کے نقصانات پر معاوضہ دیا جائے گا۔👈28. الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم بشمول حج ہیلپ لائن اور پاک حج ایپ معلومات کی ترسیل، شکایات کے اندراج اور حج کی مانیٹرنگ کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔👈29. ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔👈30. مالیاتی نگرانی کا مؤثر نظام لاگو کیا جائے گا۔👈31. حج ناظم اسکیم جاری رکھی جائے گی۔👈32. شکایات کے ازالے کے لیے مکمل اور شفاف نظام موجود ہوگا جو شکایات کو بروقت اور منصفانہ طریقے سے نمٹائے گا۔👈33. حج پالیسی پر عمل درآمد کے لیے مناسب ہدایات جاری کی جائیں گی۔

چیئرمین پنجاب کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن،پنجاب زاہد بختاوری نے کہا کہ صحت کے شعبہ میں تجارتی سرگرمیاں خوش آئند ہیں،راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے زیر انتظام کامیاب ہیلتھ ایکسپو پر مبارکباد پیش کرتا ہوں

چیئرمین پنجاب کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن،پنجاب زاہد بختاوری نے کہا کہ صحت کے شعبہ میں تجارتی سرگرمیاں خوش آئند ہیں،راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے زیر انتظام کامیاب ہیلتھ ایکسپو پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انھوں نے یہ بات راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر انتظام پاک چائینہ فرینڈ شپ سینٹر میں ہیلتھ ایکسپو کی کامیابی پر گروپ لیڈر سہیل الطاف و دیگر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہی،اس موقع پر چیئرمین پنجاب کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن،راولپنڈی چوہدری عمران رشید بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔زاہد بختاوری کا کہنا تھا کہ ملک وقوم کی ترقی کے لئے تعلیم و صحت کے شعبہ جات کو ترجیح دینا ہوگی۔مجھے خوشی ہے کہ راولپنڈی چیمبر نے ہیلتھ ایکسپو کے ذریعہ شعبہ صحت کی اہمیت کو بخوبی اجاگر کیا۔جس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔زاہد بختاوری کا مزید کہنا تھا کہ طبی ٹیکنالوجی، دواسازی، اور صحت کی خدمات کو اجاگر کرنے میں اس طرح کے ایکسپو معاون ثابت ہوتے ہیں ۔جن کہ مدد سے کاروباری حلقوں کو بھی ایک مؤثر پلیٹ فارم دستیاب ہو جاتا ہے۔ ہم سب کو مل کر پاکستان میں صحت کے شعبہ کی ترقی میں حصہ ڈالنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ ہیلتھ ایکسپو کمپنیوں کو ممکنہ کلائنٹس، شراکت داروں اور تقسیم کاروں کے ساتھ جڑنے رہنے کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔اس طرح سے شعبہ صحت سے منسلک افراد اور اداروں کو اپنی مصنوعات کی نمائش کرنے میں مدد ملتی ہے ، جب کہ شرکاء کو بھی صحت کی دیکھ بھال ،جدید رجحانات اور ٹیکنالوجیز سے آگہی میسر آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاٹا ھمارا فخر ھے سید یوسف رضا گیلانی۔۔بجلی تقسیم کار کمپنیاں عوام کا خون بدستور چوستی رھے گی۔بجلی تقسیم کار کمپنیوں کا خسارہ 193 ارب روپے کم ھوا اور بجلی کی فی یونٹ 80 روپے سے تجاوز۔۔کئی دہائیوں میں پھلی بار بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی انا خوش ائیند۔۔ وزیر اعطم اس بات پر پوچھنے سے قاصر کہ خسارہ کم ھوا ھے تو قیمتوں میں کمی کیوں نہیں کرتے۔ ٹرین کا افتتاح پاکستان چین ترقی کی طرف گامزن۔۔گدھے کا گوشت اسلام آباد روالپندی کے کن ھوٹلوں میں فروخت ھوا۔احس اقبال نواز لیگ کے ان 6 وزراء میں شامل ھے جو ایمان دار پڑھا لکھا انسان ھے خدا ان کو ھمیشہ درست اور قوم کے لئے درست فیصلے کرنے کی ھمت عطا فرمائے۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

اسلام آباد: 29 جولائی 2025*_وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس_**کئی دہائیوں میں پہلی بار بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی آنا انتہائی خوش آئند ہے: وزیراعظم**بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی سے ان کمپنیوں کی نجکاری کا عمل آسان ہو جائے گا : وزیراعظم**وزیراعظم کی وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وفاقی سیکریٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر محمد فخر عالم اور ان کی ٹیم کی ستائش**وزیراعظم کی بہترین کارکردگی دکھانے والی اور خسارے میں کمی لانے بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کو ستائشی خطوط بھیجنے کی ہدایت* *بجلی تقیسم کار کمپنیوں کا خسارہ 193 ارب روپے کم ہوا ہے : اجلاس کو بریفنگ**

بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں 242 ارب روپے کی بہتری آئی ہے : بریفنگ* *لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی نے خسارے میں کمی کے حوالے سے سب سے اچھی کارکردگی دکھائی : بریفنگ**گردشی قرضوں کا فلو 780 ارب روپے رہا ہے

55 سال پہلے میں 7ویں جماعت کے طالبعلم کے طور پر کینٹ پبلک اسکول کراچی (اب ایف جی پبلک اسکول کراچی کینٹ) میں داخل ہوا تھا۔ کل اللہ کے فضل سے اسی اسکول واپس آیا – مگر اس بار طالبعلم کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی کے طور پر۔جب مجھے سکول انتظامیہ کی جانب سے وہ داخلہ فارم ملا جو میرے مرحوم والد نے 1970 میں میرے لیے پُر کیا تھا، تو دل جذبات سے لبریز ہو گیا۔

مجھے اپنے اساتذہ یاد آئے – میڈم ویل، جنہوں نے ہمیں روزانہ کلاس میں خبریں پڑھوا کر موجودہ حالات سے آگاہ رہنے کا شوق دیا، اور مسٹر جمیل، جن کی سائنس سے محبت نے میرے اندر سائینس اور انجینئرنگ کا شوق پیدا کیا۔جب میں اسکول کے انہی وسیع کھیل کے میدانوں میں کھڑا تھا، تو مجھے وہی کشادگی اور امکانات کا احساس ہوا جو بچپن میں محسوس کیا تھا۔ اس لمحے نے مجھے یاد دلایا کہ تعلیم صرف کلاس رومز تک محدود نہیں ہوتی – یہ ان اساتذہ کا نام ہے جو خواب جگاتے ہیں اور ایسے ماحول کا جو حوصلے اور بلند مقاصد کو جِلا بخشتا ہے۔آج کے تمام طلبہ سے میرا پیغام ہے: اپنے اسکول کو یاد رکھیں، اپنے اساتذہ کی قدر کریں، اور اپنے خوابوں کی طاقت پر یقین رکھیں – آپ نہیں جانتے کہ یہ خواب آپ کو کہاں تک لے جا سکتے ہیں۔ �

:بریفنگ*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کئی دہائیوں میں پہلی بار بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی آنا انتہائی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی سے ان کمپنیوں کی نجکاری کا عمل آسان ہو جائے گا ۔

وزیراعظم نے وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وفاقی سیکریٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر محمد فخر عالم اور ان کی ٹیم کی ستائش کرتے ہوئے پاور سیکٹر اصلاحات کے حوالے سے ان کی شاندار کارکردگی کو سراہا۔وزیراعظم نے بہترین کارکردگی دکھانے والی اور خسارے میں کمی لانے بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کو ستائشی خطوط بھیجنے کی ہدایت کی۔*اجلاس کو پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی تقیسم کار کمپنیوں اور گردشی قرضوں پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی تقیسم کار کمپنیوں کا خسارہ 193

ارب روپے کم ہوا ہے

۔لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی نے خسارے میں کمی کے حوالے سے سب سے اچھی کارکردگی دکھائی ۔

بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں 242 ارب روپے کی بہتری آئی ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ گردشی قرضوں کا فلو 780 ارب روپے رہا ہے۔ *کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاور ڈویژن کی سفارش پر نیشنل الیکٹریسٹی پلان -اسٹریٹجک ڈائریکٹو 87 میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ ان ترامیم کے تحت بجلی کی ترسیل کے اخراجات (wheeling charges) 12.55 روپے فی کلو واٹ ، اور بڈنگ پرائیس اس میں شامل ہو گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈیپینڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کی آپریشنلائزیشن کا کام مکمل ہو چکا ہے۔

اسی طرح نیشنل ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی اور بجلی تقیسم کار کمپنیوں میں مارکیٹ آپریشنز کے محکموں تشکیل دیے جا چکے ہیں۔

1969 میں پاکستانی سنیما پر دو یادگار فلمیں پیش کی👉👉👉 فلم دیکھیں:https://movie2025-4k.blogspot.com/2025/07/riaz-shahid.html گئیں، جن میں ایک ریاض شاہد کی ’’زرقا‘‘ اور دوسری اے جے کاردار کی ’’قسم اُس وقت کی‘‘۔ دونوں فلموں کو بے حد پسند کیا گیا۔ فلم ’’قسم اُس وقت کی ‘‘ اپنے موضوع اور پروڈکشن کے حوالے سے ایک بہت ہی اعلیٰ معیار کی مقصدی مشن فلم تھی، جو اُس دور میں کثیر سرمائے سے تیار کی گئی تھی۔ فلم کا موضوع جذبۂ حُب الوطنی پر مبنی ہونے کی وجہ سے اُس خفیف لہر کی حیثیت رکھتا ہے جو کسی بڑی موج کی اُٹھان کی محتاج نہیں۔ ایئر فورس پائلٹ کے گرد گھومنے والی یہ کہانی یُوں شروع ہوتی ہے کہ اسکواڈرن لیڈر جاوید (طارق عزیز) کے طیارے کی کرش لیڈنگ سے دکھائی جاتی ہے۔ وہ دشمن کے پانچ طیارے تباہ کرکے جب واپس آرہا ہوتا ہے، تو اس کا طیارہ کرش ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو جاتا ہے۔ اسے اسپتال پہنچایا جاتا ہے، جہاں اس کی جان بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جاوید کی امی (سورن لتا)، بہن (روزینہ)، محبوبہ (شبنم) اور ان کے دوست محسن امام جو خود بھی پائلٹ ہوتے ہیں، جاوید جو زندگی اور موت کی کش مکش میں تھا، سبھی اس کی طرف پتھرائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

باقی کہانی جنگ کے خون اشام دنوں کی کہانی ہے۔ سایر قوم موت و حیات کی کشمکش سے دوچار ہے۔ اس کے معرکے میں ’’صاحب و بندہ محتاج و غنی‘‘ سب ایک تھے۔ قسم اس وقت کیاُن درخشاں دنوں کی داستان ہمت اور شجاعت کی وہ سرخ و شہری داستان ہے جو زندگی کے ہر ورق پر لکھی گئی، کبھی میدان جنگ میں، کبھی پاکستانی فضائوں پر اور کبھی ان شہیدوں کے خون سے جو فرض اپنی جانیں نچھاور کرکے باب شہادت کی جاں بخش دہلیز سے گزرے ہوں۔

یہ کہانی فضائیہ کے فرض شناس مجاہدوں کے لیے ایک خراج تحسین ہے۔ یہ پہلی پاکستانی فلم تھی، جس کی فلم بندی اور تیاری میں پاکستان ایئرفورس نے فلمی یونٹ کے ساتھ پورا تعاون کیا۔نیشنل اسٹوڈیو لمیٹڈ کی اس شاہ کار فلم کے ہدایتکار اے جے کاردار تھے اور انہوں نے ہی فلم کا منظر نامہ تحریر کیا تھا، جب کہ فلم کی کہانی ونگ کمانڈر شاہد حسین اور پروفیسر احمد علی نے لکھی۔ فلم کے مکالمہ نویس میں زیڈ اے بخاری، ونگ کمانڈر شاہد حسین، دائود خان مجلس کے نام شامل ہیں۔ اس فلم کی فوٹو گرافی مارون مارشل جیسے ماہر غیرملکی فوٹو گرافر نے انجام دی۔ جنہوں نے اس فلم کی فوٹو گرافی میں ہالی وڈ فلمز کے انداز کو پہلی بار پاکستانی سینما کے لیے فلم بند کیا۔ ان کی فوٹو گرافی اس دور کی فرسودہ فلمی ماحول میں تازگی کا ایک سانس محسوس ہوتی ہے۔ مارون مارشل کے علاوہ فلم کے بعض مناظر ائیریل فوٹو گرافر اے آر کی بخاری اسکواڈرن لیڈر کی مرہون منت ہے اے جے کاردار نے تمام شعبہ جات میں اپنی بھرپور محنت اور توجہ سے ڈائریکشن دیں،

اس کا شمار ان ہدایت کاروں میں ہوتا ہے، جو ہر منظر کو

نہایت غورخوض کے بعد فلم بند کرتے ہیں۔ اس فلم کے ہ منظر اور فریم پر ان کے تیکنیکی ذہن کی مہر لگی ہوئی ہے۔ یہ پاکستان کی وہ اولین فلم ہے ، جس میں (Micro cosnic Study) پیش کی گئی ہے، اس فلم کی یہ خوبی اسے دیگر فلموں میں برتری دلاتی ہے۔اس فلم کا میوزک سہیل رعنا، خان عطاء الرحمن، رفیق غزنوی اور استاد نتھو خان نے ترتیب دیا اور نغمہ نگاری کے لیے فیض احمد فیض، جوش ملیح آبادی، خان عطاء الرحمن اور فیاض ہاشمی کی خدمات لیں گئیں۔ جذبہ حب الوطنی کی تسکین کے لیے اس فلم کے ٹائٹل سونگ ہی کافی ہے۔ اس نغمے کے مختلف حصے موقع کی مناسبت سے ساری فلم میں دوہرا کے جاتے ہیں، جس کے بول یوں ہیں۔’’ قسم اس وقت کی جب زندگی کی کروٹ بدلتی ہے، ہمارے ہاتھ سے دنیا نئے سانحے میں ڈھلتی ہے‘‘ جوش صاب کے لکھے ہوئے اس ترانے کو گلوکار مجیب عالم نے اپنی آواز میں ریکارڈ کروایا تھا۔ اس فلم کے ذریعے تکنیک اور موضوع میں نئے تجربات کیے گئے۔ فلم کی کاسٹ میں طارق عزیز، شبنم، روزینہ، روزی، حسن امام، فریدہ خانم، منیا، پرنس تاج، صاعقہ، اجمل ہدیٰ، سیٹھی، شاہجہ اناور سورن لتا شامل تھیں۔ یہ فلم 12دسمبر 1969ء کو عید الفطر کے روز کراچی کے نشاط سنیما میں ریلیز کی گئی۔فلم کے تقسیم کار ایور ریڈی پکچرز پاکستان تھے۔”قسم اس وقت کی” کی ایک یادگار تصویر اس فلم کے ایک منظر کی شوٹنگ سے پہلے طارق عزیز اپنے کپڑوں پر سرخ رنگ ‘خون’ کا چھڑکاؤ کرواتے ہوۓ۔کامل رند بلوچ /

ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ اور انفارمیشن گروپ کا اعزاز ڈی ایم جی کی سیٹوں پر تعینات رھے اور مافیا کو توڑا انفارمیشن گروپ کے اسماعیل پٹیل انور محمود سلیم گل شیخ خواجہ اعجاز اسی طرح ملٹری لینڈ کے نعیم جان راجہ نادر خان اور رانا منظور احمد نے مافیا کو توڑا تفصیلات کے لیے بادبان نیوز سھیل رانا لاءیو میں رات 10 بجے