تازہ تر ین

ایران بڑے حملے کئ تیاری میں سی آئی اے کا مراسلہ۔۔یورپ اور امریکہ نے اپنے شہریوں کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دے دیا۔سابق آرمی چیف وحید کاکڑ رب کے حضور پیش۔۔ ۔ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لئے ایمرجنسی کی گونج۔برازیل اسرائیل امریکہ میں انتخابات۔26 اکتوبر سے 5 نومبر تک۔کون جیتے گا کون ھارے گا چار ممالک کے انتخابات اسرائیل اور امریکہ۔امن کا سپاہی Man of peace۔۔ ۔ایک میز پر بٹھانے والے فیلڈ مارشل۔۔ایران سعودی عرب اور ترکی کو۔ایک میز پر بٹھانے والے فیلڈ مارشل امن کا سپاہی۔۔ ۔۔دنیا کے طاقت ور فوجی سربراہ فیلڈ مارشل کا قومی اور بین الاقوامی مخالفین کے منہ پر زناٹے دارتھپڑ۔۔وزیر اعطم پر تنقید اور سمت کی تبدیلی احسن اقبال۔مسلم ممالک کا اتحاد اسرائیل کی جارحیت روک سکتا ہے ایرانی صدر۔شرح سود 12 فیصد معشیت تباہ۔۔بھارت نے 4 ماھی گیر گرفتار کر لئے۔۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم پاکستان میں زیادہ۔۔ٹرائی نیشن پاکستان اور سری لنکا امنے سامنے۔گزشتہ روز کی سینچری پاکستان کے ولڈ کپ ھارنے کی پیش گوئی۔حارث رؤف آفریدی اور صائم ایوب ٹیم کے لیے زھر قاتل۔انڈر 19 کے 2 باولر ان کی جگہ ڈال لئے جاے دنیا کی کوئی ٹیم ان نھی ھرا سکتی۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

تہران میں خطے کے چار اہم ممالک ایک میز پر امن، سلامتی اور اتحاد کی جانب اہم قدمآج 26 اکتوبر 2026 کو ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کا ایک اہم چار ملکی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر، سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کی نمائندگی قومی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن نے کی، جبکہ ایران کی جانب سے صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اعلیٰ سکیورٹی حکام شریک ہوئے۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح پر موجود ہے۔ اجلاس کا بنیادی مقصد علاقائی سلامتی، کشیدگی میں کمی، سفارتی رابطوں کو فروغ دینا اور خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کے امکانات پر بات چیت کرنا تھا۔🤝 چار ممالک، ایک خطہ، مشترکہ چیلنجزپاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ حال ہی میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ایک نئے دفاعی تعاون کے فریم ورک میں شامل ہوئے ہیں۔ اسی پس منظر میں ان تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام کا تہران پہنچنا اور ایرانی قیادت سے براہِ راست مشاورت کرنا ایک غیر معمولی اور اہم سفارتی پیش رفت ہے۔🕊️ اجلاس میں کن امور پر بات ہوئی؟رپورٹس کے مطابق گفتگو میں:🔹 خطے کی مجموعی سلامتی🔹 موجودہ کشیدگی میں کمی🔹 امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی🔹 اسرائیل کی علاقائی پالیسی اور اس کے اثرات🔹 فلسطین اور لبنان کی صورتحال🔹 یمن اور بحیرۂ احمر سے متعلق سکیورٹی خدشات🔹 سفارتی مذاکرات اور ثالثی کی کوششیں🔹 خطے کے ممالک کے ذریعے علاقائی سلامتی کا نیا نظامجیسے اہم امور زیرِ بحث آئے۔🇵🇰 پاکستان کا اہم سفارتی کرداراس پورے عمل میں پاکستان کا کردار خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق تہران میں ہونے والی یہ ملاقات پاکستان کی تجویز اور کوششوں کے نتیجے میں منعقد ہوئی، جبکہ ایران نے بھی اس عمل میں تعاون کیا۔ پاکستان اس وقت ایران اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان سفارتی رابطے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔🇸🇦 سعودی عرب، 🇵🇰 پاکستان، 🇹🇷 ترکیہ اور 🇮🇷 ایرانان چاروں ممالک کی جغرافیائی، معاشی، دفاعی اور سیاسی اہمیت کو دیکھا جائے تو ان کا ایک ہی میز پر بیٹھنا خطے کی سیاست میں ایک اہم پیغام رکھتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں مذاکرات، علاقائی تعاون اور سفارتی حل کی تلاش کی ایک اہم کوشش کے طور پر سامنے آئی ہے۔ سعودی حکام نے بھی تہران کے دورے کو کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی حوصلہ افزائی اور سفارتی حل کی حمایت سے جوڑا ہے۔آج تہران میں ہونے والی یہ ملاقات اس بات کی علامت ہے کہ خطے کے اہم ممالک اپنے مسائل کے حل کے لیے باہمی رابطے اور علاقائی سفارت کاری کو اہمیت دے رہے ہیں۔امن کا راستہ جنگ سے نہیں، مذاکرات اور باہمی تعاون سے نکلتا ہوں

فراہم کردہ خبر کے مطابق **وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے وزیراعظم شہباز شریف کو لکھے گئے خط** کے اہم نکات درج ذیل ہیں:* **موجودہ پالیسی پر تنقید اور سمت کی تبدیلی:** موجودہ معاشی پالیسی کو ’’محدود اور قرضوں پر مبنی استحکام‘‘ قرار دیتے ہوئے زور دیا گیا ہے کہ انتخابی دور سے پہلے معیشت کا رخ صرف استحکام کے بجائے پائیدار ترقی، برآمدات اور روزگار کی طرف موڑا جائے۔* **ترقیاتی بجٹ (PSDP) میں شدید کمی:** وفاقی ترقیاتی اخراجات GDP کے تناسب سے 2018ء میں 2.6 فیصد سے کم ہو کر موجودہ مالی سال میں صرف 0.8 فیصد رہ گئے ہیں، جس سے تعلیم، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور پیداواری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔* **8 نکاتی فریم ورک اور 2029ء کے اہداف:** وزارتِ خزانہ اور وزارتِ منصوبہ بندی کے تعاون سے 2029ء تک معاشی نمو اور 10 سالہ طویل المدتی حکمت عملی کا واضح منصوبہ بنانے اور آئی ایم ایف پروگرام کے بعد کی صورتحال کا ابھی سے جائزہ لینے کی تجویز دی گئی ہے۔* **ضعیف معاشی اشاریے:** پچھلے مالی سال معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، بے روزگاری 7.1 فیصد (21 سال کی بلند ترین سطح) تک پہنچی، برآمدات میں 6 فیصد کمی آئی اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) 34 فیصد کم ہو کر 1.6 ارب ڈالر رہ گئی۔* **ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی ضرورت:** محض ترقیاتی اخراجات کاٹ کر خسارہ پورا کرنے کے بجائے بااثر مستثنیٰ شعبوں پر ٹیکس عائد کرنے، ٹیکس چوری روکنے اور محصولات بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔* **کم شرح نمو کا مستقل خطرہ:** خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ترقیاتی اخراجات کاٹنے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک طویل عرصے کے لیے کم شرح نمو کا شکار ہو جائے گا، جس سے نجی سرمایہ کاری اور مستقبل میں حکومت کی آمدنی بڑھانے کی صلاحیت مزید کمزور ہوگی۔* **وقت کی کمی کا احساس:** حکومت کی 5 سالہ مدت کا نصف ختم ہو چکا ہے اور اصل کام کے لیے محض ڈھائی سال باقی ہیں، لہٰذا فوری طور پر ترقی دوست اقدامات شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

۔ اگست میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان مکہ معاہدہ ہوا۔ اور اب دوحہ میں پاکستان، قطر، ترکی اور انڈونیشیا نے معاہدہ بدر پر دستخط کردیئے۔ ان دونوں معاہدوں میں ایک بڑا باریک فرق ہے۔ مکہ معاہدہ کہتا ہے، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔ یعنی یہ ویسا ہی فوجی اتحادہے جیسا امریکا اور یورپ نے نیٹو کے نام سے بنا رکھا ہے۔ جبکہ معاہدہ بدر کہتا ہے کہ اب ہم ہتھیاروں کیلئے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔ اپنے ہتھیار ہم خود بنائیں گے۔ یعنی مکہ الائنس ایک ڈھال ہے اور بدر ایگریمنٹ اس ڈھال کا کارخانہ ۔یہاں سوال ذہن میں آتا ہے کہ سعودی عرب مکہ الائنس میں تو ہے، لیکن وہ بدر ایگریمنٹ میں شامل نہیں۔ اسی طرح قطر بدر ایگریمنٹ میں شامل ہے لیکن وہ مکہ اتحاد کا حصہ نہیں۔ لیکن ایک ملک ایسا بھی ہے جو مکہ میں بھی بیٹھا ہے، بدر میں بھی، اور تہران کی میز پر بھی۔ تو سوال یہ ہے کہ مکہ الائنس کے بعد معاہدہ بدر کی ضرورت کیوں پڑی؟ سعودی عرب معاہدہ بدر سے باہر کیوں ہے؟ کیا یہ دراڑ ہے یا کوئی چال؟ جس اتحاد میں ایران کا قریبی دوست بیٹھا ہو، اسے فرقہ وارانہ کیسے کہا جا سکتا ہے؟ جو کام او آئی سی پچاس سال میں نہ کر سکی، یہ دو معاہدے کیسے کریں گے؟ بھارت، اسرائیل اور ان کے اتحادی ان معاہدوں سے خوفزدہ کیوں ہیں؟۔دشمنوں کو زیادہ تکلیف اس معاہدے سے نہیں بلکہ اس کے نام “بدر” سے ہے۔ بدر کا مطلب ہے پورا چان، ترک وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ نام اس لیے رکھا گیا کیونکہ چاروں ملک ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔ لیکن یہ نام چودہ سو سال پرانی ایک جنگ کی یاد بھی دلاتا ہے۔ میدان بدر میں صرف 313 مسلمانوں نے کفار کے بڑے لشکر کو میدان چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہ نام بڑا سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے۔ پیغام بڑا واضح ہے کہ جنگ کا فیصلہ اب دشمن کی تعداد پر نہیں ہوگا۔ بلکہ اس بات پر ہوگا کہ جنگ کیلئے کس نے اچھی تیاری کی۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ مکہ الائنس جیسا مضبوط اتحاد ہوتے ہوئے معاہدہ بدر کی ضرورت کیوں پڑی؟تو اس کا جواب ایک لفظ میں ہے۔ محتاجی۔۔۔!۔مکہ معاہدے میں وعدہ کیا تھا کہ ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ لیکن لڑیں گے کس ہتھیار سے؟ وہ ہتھیار جو امریکا اور یورپ سے خریدے جاتے ہیں؟ جن کے پرزے بھی ان کی مرضی سے ملتے ہیں؟ مسلم ورلڈ ایک ہی سبق دو بار سیکھ چکی ہے۔ پہلی بار یہ سبق ہم نے پچھلے سال سیکھا جب اسرائیل نے دوحہ پر حملہ کیا۔ قطر کے پاس مہنگے مغربی ہتھیار تھے، مگر اس کے باوجود وہ اسرائیلی میزائلوں کو روک نہ سکا۔ دوسری بار رواں سال، جب ایران جنگ میں خلیجی ملکوں پر میزائل گرے۔ اسی لیے معاہدہ بدر کا پہلا ہدف سستا اور اپنا فضائی دفاعی نظام تیار کرنا ہے۔ یعنی اپنے آسمان کی حفاظت، اپنے ہاتھ سے۔ اور یہ کام ہوگا کیسے؟ معاہدے کے مطابق چاروں ملک مل کر ہتھیار بنائیں گے۔ دفاعی میدان میں مل کر ریسرچ کریں گے۔ ایک دوسرے کی فوجوں کو تربیت دیں گے اور مشترکہ فوجی مشقیں کریں گے۔ ہتھیار بنانے کیلئے مشترکہ کارخانے لگیں گے۔ چاروں ممالک کا ایک وزارتی بورڈ بنے گا، جو بجٹ اور کارخانوں کی جگہ طے کرے گا۔ اب دیکھیں کہ اس معاہدے کے تحت کون سا ملک کیا لا رہا ہے؟ ترکی کے پاس ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت ہے۔ قطر کے پاس پیسہ ہے اور ہتھیاروں کی ضرورت بھی۔ پاکستان کے پاس ہنرمند ہاتھ اور ہتھیار بنانے کا تجربہ ہے۔ جبکہ انڈونیشیا کے پاس بڑی فوج اور بڑی منڈی ہے۔ اور یہ صرف کاغذی باتیں نہیں۔ ترکی کے ڈیزائن کردہ جنگی جہاز آج کراچی میں بن رہے ہیں۔ ترکی کا ٹینک انڈونیشیا میں تیار ہو رہا ہے۔یہ معاہدہ ان سب کو ایک چھت تلے لے آیا ہے۔ لیکن اسی چھت کے نیچے ایک کرسی خالی ہے۔ اور وہ کرسی ہے سعودی عرب کی۔تو کیا سعودی عرب معاہدہ بدر سے ناراض ہے؟۔ مکہ الائنس کے ہوتے ہوئے معاہدہ بدر کرنا دراڑ کی علامت نہیں بلکہ ایک گہری سیاسی چال ہے۔ یہ دو الگ الگ اتحاد نہیں بلکہ ایک ہی زنجیر کی دو کڑیاں ہیں۔ دفاعی صنعت میں تعاون کی شق مکہ معاہدے میں بھی شامل ہے۔ پاکستان اور ترکی دونوں معاہدوں میں ہیں۔ مکہ معاہدے کی طرف سے سعودی سرمایہ اور بدر ایگریمنٹ کی طرف سے قطری سرمایہ۔ دونوں کا رخ ایک ہی منزل کی طرف ہے۔ اور یہ منزل ہے مسلم دنیا کی اپنی دفاعی صنعت۔ اس بات کو بھی یاد رکھیں۔ کچھ سال پہلے سعودی عرب اور قطر ایک دوسرے کا بائیکاٹ کر رہے تھے۔ آج دونوں کا پیسہ ایک ہی مقصد کی طرف جا رہا ہے۔ اور دونوں کو جوڑنے والا پاکستان ہے۔ اسی لیے سعودی عرب کو معاہدہ بدر پر کوئی اعتراض نہیں۔ اور یہ بات ہمارے دشمنوں کو بہت چبھ رہی ہے۔ اسی لئے اب وہ ان معاہدوں کو فرقہ واریت کا رنگ دے رہے ہیں۔ آپ اسرائیلی میڈیا دیکھیں۔ انڈین چینلز دیکھیں۔ ویسٹرن میڈیا کی خبریں پڑھیں۔ ہر جگہ ایک ہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ ایران ان معاہدوں میں کیوں نہیں؟ اگر یہ ایران کے خلاف سنی اتحاد ہے تو اس میں قطر کیا کر رہا ہے؟ قطر اور ایران دونوں ملک دنیا کا سب سے بڑا گیس کا ذخیرہ مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ خلیج میں تہران کا سب سے قریبی دوست قطر ہے اور پاکستان؟آپ دیکھیں کہ ایران جنگ میں پاکستان نے کسی فریق کا ساتھ نہیں دیا۔ اسلام آباد نے ایران پر حملوں کی مذمت کی، اور خلیج پر حملوں کی بھی۔ جنگ بندی پاکستان نے کرائی۔ امریکا اور ایران کے مذاکرات کی میزبانی کی۔ اور آج بھی دونوں کے درمیان ثالثی کر رہا ہے ۔ رہ گیا انڈونیشیا۔ تو وہ دنیا کا سب سے بڑا مسلمان ملک ہے، اور مشرق وسطیٰ کے فرقہ وارانہ جھگڑوں سے ہزاروں میل دور۔ فیصلہ خود کر لیں۔ جس اتحاد میں ایران کا قریبی دوست بھی ہو اور ایران کا ثالث بھی، وہ اتحاد ایران کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ الزام اس لیے بھی بے معنی ہے کیونکہ یہ دونوں اتحاد ضرورت کی بنیاد پر بنے ہیں۔اور یہی ضرورت وہ کام کرے گی جو آج تک او آئی سی نہ کر سکی۔ ویسے دنیا کے تمام بڑے اتحاد ایسے ہی بنے ہیں۔ یورپی یونین آج ستائیس ملکوں کا اتحاد ہے۔ مگر یہ یونین صرف چھ ملکوں کے کوئلے اور اسٹیل کے ایک معاہدے سے شروع ہوئی تھی۔ ابتدا میں نیٹو بھی صرف بارہ ملکوں سے شروع ہوا تھا۔ آج جب مسلم ملک مل کر دفاعی تحقیق کریں گے تو اس کا فائدہ ان کی صنعت اور معیشت کو بھی ہوگا۔ یوں او آئی سی نے جو خواب دیکھا تھا ۔اب وہ شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا ہے ۔یہ وہی تصور ہے جو علامہ اقبال نے دیا تھا۔ لیکن یہ تصویر بعض ملکوں کی نیند حرام کر رہی ہے۔سب سے پہلے آپ اسرائیل کو دیکھیں۔ اسرائیل کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ عرب ملک اپنے ہتھیار مغرب سے خریدتے ہیں، اور مغرب ہتھیاروں کی سپلائی سے پہلے اسرائیل کی برتری کا پورا خیال رکھتا ہے۔ ایف تھرٹی فائیو فائٹر جیٹس کو ہی دیکھ لیں۔ سعودی عرب کو بھی وہ ویریئنٹ نہیں مل رہے جو اسرائیل کے پاس ہیں۔ اور ترکی کو تو اس پروگرام سے ہی نکال دیا گیا تھا۔ اسی طرح اسرائیل نے دوحہ پر حملہ کیا تو امریکی ایئر ڈیفنس سسٹم کے ہوتے ہوئے بھی قطر کچھ نہ کر سکا۔ اسی لئے قطر آج اپنا فضائی دفاع خود بنانے نکلا ہے۔ اسرائیل آج تک مڈل ایسٹ کے آسمان پر بلا روک ٹوک اڑتا رہا ہے۔ لیکن یقین رکھیں اگلے چند سال میں اسرائیلی پائلٹ عرب فضاؤں میں داخل ہونے سے پہلے سو بار سوچیں گے۔۔بھارت نے تو پچھلے سال ہی دیکھ لیا تھا کہ پاکستان کیا کر سکتا ہے۔ اب اسی پاکستان کی دفاعی صنعت کو ترکی کی ٹیکنالوجی اور قطر کا سرمایہ ایک ساتھ مل گیا ہے۔ بھارت کے حلق سے تو مکہ معاہدہ ہی نہیں اتر رہا تھا۔ اب اس کیلئے معاہدہ بدر سے بری خبر کوئی ہو نہیں سکتی۔ دلی میں سوگ ہے۔ بھارت کے دفاعی تجزیہ کار اور ریٹائرڈ جنرلز اپنی حکومت کے لتے لے رہے ہیں۔ اب یہ لوگ اپنی شرمندگی مٹانے کیلئے ان معاہدوں کو فرقہ واریت کا رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔کیونکہ جب آپ کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو لیبل ہی کام آتا ہے ۔اسی لئے ان معاہدوں پر فرقہ واریت کا لیبل لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

انیل سعید ڈیپٹی کمشنر سی ڈی اے اسلام آباد تعینات، ‏باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری‏انیل سعید (PBS-18) کو کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) اسلام آباد میں باقاعدہ طور پر ڈیپٹی کمشنر تعینات کر دیا گیا ہے۔‏ اس سلسلے میں متعلقہ شعبے کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔‏یاد رہے کہ انل سعید اس سے قبل بھی اسلام آباد میں اپنی شاندار خدمات انجام دے چکے ہیں۔‏ اسلام آباد کے علاوہ پنجاب میں بھی ان کی کارکردگی انتہائی شاندار اور آؤٹ کلاس رہی ہے، جس کی وزیراعلیٰ پنجاب بھی کئی بار کھلے دل سے تعریف کر چکے ہیں۔‏ان کی بہترین انتظامی صلاحیتوں اور شاندار ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اب انہیں ایک بار پھر بڑی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔۔

اگلے 96 گھنٹے انتہائی اہم، امریکی خفیہ اداروں نے صدر کو آگاہ کیا ہے کہ ایران نے مشرق وسطیٰ اور کچھ دیگر ملکوں میں امریکی شہریوں اور تنصیبات پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔اس میں جو بات سب سے تشویشناک ہے وہ ’’کچھ دیگر ممالک‘‘ کا لفظ ہے۔ یعنی اب یہ جنگ صرف مشرق وسطیٰ تک نہیں کچھ اور ممالک کو بھی لپیٹ میں لینے والی ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved