
قومی اسمبلی سیکریٹریٹڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیاپریس ریلیز*ذہنی صحت انسانی فلاح و بہبود، سماجی ہم آہنگی اور معاشرتی استحکام کی بنیاد ہے، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق**ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے آگاہی، ہمدردی اور بروقت علاج ناگزیر ہے، اسپیکر سردار ایاز صادق*اسلام آباد، 9 اکتوبر 2026ء: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ذہنی صحت انسانی فلاح و بہبود اور ایک صحت مند و مستحکم معاشرے کی تشکیل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ذہنی صحت سے متعلق عوامی آگاہی کا فروغ اور نفسیاتی مسائل سے وابستہ منفی سماجی رویوں کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا، جو ہر سال 10 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل کسی مخصوص عمر یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ ہر عمر اور طبقے کے افراد کو متاثر کر سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں ذہنی دباؤ اور دیگر نفسیاتی مسائل سے متعلق آگاہی، بروقت تشخیص اور مؤثر علاج کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ذہنی صحت کے مسائل کو کمزوری سمجھنے کے بجائے صحت کے ایک اہم مسئلے کے طور پر تسلیم کیا جائے۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنے والے افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کے بجائے ہمدردی، احترام اور معاونت کا رویہ اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے ایسے سازگار ماحول کی فراہمی پر زور دیا جہاں متاثرہ افراد بلا جھجھک اپنے مسائل بیان کر سکیں اور بروقت طبی و نفسیاتی معاونت حاصل کرنے میں خود کو محفوظ محسوس کریں

۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی فکری، جذباتی اور سماجی نشوونما صحت مند معاشرے کی تشکیل سے براہِ راست وابستہ ہے۔ انہوں نے خاندانوں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی حلقوں پر زور دیا کہ وہ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کے لیے مثبت رویوں کو فروغ دیں اور ان کی معاونت میں فعال کردار ادا کریں۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے حکومت، پارلیمان، متعلقہ اداروں، ماہرینِ صحت اور سول سوسائٹی کے درمیان مربوط تعاون ضروری ہے۔ عوامی آگاہی کے فروغ، معیاری طبی و نفسیاتی سہولیات تک رسائی اور مؤثر معاونتی نظام کی فراہمی کے لیے مشترکہ کوششیں وقت کا اہم تقاضا ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمان عوامی فلاح و بہبود، سماجی شمولیت اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا آئینی و پارلیمانی کردار ادا کرتی رہے گی۔

اے پی پی اردو نیوز سروساہم ترین—وزیراعظم۔۔۔فیول سبسڈی سکیموزیراعظم فیول سبسڈی سکیم سے کم از کم ایک دفعہ مستفید ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، وفاق کے ساتھ صوبوں کا تعاون قابل تحسین ہے، یہ بہترین ٹیم ورک کا نتیجہ ہے وزیراعظم شہباز شریف، شزا فاطمہ کو تمغہ دینے کا اعلاناسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ’’وزیراعظم فیول سبسڈی سکیم‘‘ میں وفاق کے ساتھ صوبوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ اس سکیم سے کم از کم ایک دفعہ مستفید ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، یہ پختہ عزم، غیر متزلزل لگن، وابستگی اور انتھک کوششوں پر مبنی بہترین ٹیم ور کا نتیجہ ہے جس پر وزراء اور متعلقہ ادارے تحسین کے مستحق ہیں۔عوام کی سہولت کے لئے یہ سکیم جاری رہے گی، اس سکیم کے لئے 75 ارب روپے کے فنڈز مختص کر رکھے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو وزیراعظم فیول سبسڈی سکیم میں ڈیجیٹل طریقہ کار سے شفاف انداز میں ایک کروڑ سے زائد مستحقین کو براہ راست سبسڈی فراہم کرنے پر وزراء و افسران کے اعزاز میں دیئے گئے عصرانے اور پذیرائی کے حوالے سے تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے وفاق نے صوبوں کی مدد سے مکمل یکجہتی کے ساتھ پٹرول سبسڈی فراہم کی، اس کو سراہتا ہوں، یہ ہمارا ایک بہت ہی اہم اقدام تھا اور ہے، اس میں خطرات بھی بہت تھے، بے شمار باتیں ہوئیں، لیکن ہم سب نے اللہ کا نام لے کر مل کر اس کے لیے جو کوششیں کیں، وہ الحمدللہ آج رنگ لا رہی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو خط لکھ کر ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کیا کہ وزرائے اعلیٰ اور ان کی ٹیموں نے بڑی محنت کی اور بھرپور تعاون کیا، اس کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔شہباز شریف نے کہا کہ اس حوالے سے آج اگر موازنہ کریں تو جب فروری کے مہینے میں یہ جنگ شروع ہوئی تھی، اس وقت بھی ہم نے اسی طرح کا اقدام کیا تھا، اس میں صوبوں نے انتظامی طور پر بھی اور مالی طور پر بھی اپنا پورا حصہ ڈالا تھا، اس کی جو بلند ترین سطح تھی، اس موقع پر 13 لاکھ ٹوکنز جاری ہوئے تھے۔انہو ں نے کہا کہ وہ بھی ہمارے سامنے ایک تصویر تھی کہ اگر یہاں لاکھوں موٹر سائیکلیں اور 800 سی سی کی گاڑیاں ملا کر ان کی تعداد لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے، اگر اس وقت 13 لاکھ لوگوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا تھا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ سکیم ایک مرتبہ پھر تاخیر کا شکار ہو جائے، لیکن اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل و کرم سے آپ کی محنت رنگ لائی، اس میں برکت پڑی اور اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وفاق اور صوبوں کی مشترکہ کوششوں سے آج اس سہولت سے مستفید ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے،

یعنی اس وقت یہ تعداد 13 لاکھ تھی اور اب ایک کروڑ سے بھی زائد ہو گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ موٹر سائیکلوں، چنگ چی، رکشوں اور 800 سی سی گاڑی رکھنے والے ایک کروڑ سے زائد افراد نے پٹرول پمپوں پر ماہانہ دو ہزار روپے کا فائدہ حاصل کیا ہے اور کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ براہ راست بھی اور بالواسطہ بھی فائدہ ہے، براہ راست تو ایک کروڑ افراد ہیں، لیکن ان کے ساتھ ان کے بچے بھی ہیں جو سکول جاتے ہیں اور انہیں موٹر سائیکل پر چھوڑنے جاتے ہیں، پھر اگر ایک اوسط گھرانے میں پانچ افراد شمار کریں تو یہ پانچ کروڑ لوگ ہیں جنہوں نے براہ راست اور بالواسطہ فائدہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ایک کروڑ آٹھ لاکھ اسی ہزار سے زائد شہریوں نے رجسٹریشن کروائی ہے، آج تک ایک کروڑ ایک لاکھ اٹھانوے ہزار افراد کو وائوچرز جاری کئے جا چکے ہیں، مجموعی طور پر دو کروڑ ستر لاکھ ٹوکن جاری کیے گئے جن میں سے ایک کروڑ چورانوے لاکھ ٹوکنز پر شہریوں نے رعایتی قیمت پر پٹرول حاصل کیا اور اب یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔مذکورہ اعداد و شمار میں بانوے لاکھ ستتر ہزار شہریوں نے دوبارہ بھی ٹوکن وصول اور استعمال کیے۔ تقریباً 96 فیصد موٹر سائیکل سواروں نے اس اسکیم سے فائدہ حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم ڈویژن، اوگرا، سٹیٹ بینک، نادرا، پی ٹی اے، ٹیلی کام آپریٹرز سمیت مثالی خدمات ادا کرنے والے ان تمام اداروں کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو مزید ہمت دے کہ آپ پاکستان کی اسی طرح بھرپور خدمت کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سکیم ان شاء اللہ چلتی رہے گی، ہم نے 75 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے میں آپ سب کا فرداً فرداً شکریہ ادا کرتا ہوں، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی سربراہی میں بہترین کام کیا گیا، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز اور ان کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور وزراء اعلیٰ کا بھی شکرگزار ہوں، میں نے انہیں خطوط لکھ دیئے ہیں، یقین کریں کہ آپ کی کوششوں اور تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا اور یہی وہ چیز ہے جسے عزم، غیر متزلزل لگن، وابستگی اور انتھک کوششوں پر مبنی بہترین ٹیم ورک کہا جاتا ہے، ۔انہوں نے کہا کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ نیک نیتی سے کام کر رہے تھے، محنت سے کام کر رہے تھے، صوبے بھی اور وفاق بھی اور اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی ان کوششوں کو قبول کیا۔اس موقع پر وزیراعظم نے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ کو بہترین خدمات پر 23 مارچ کو تمغہ دینے کا اعلان کیا جبکہ دیگر محکموں کے حکام کو شیلڈز دی جائیں گی۔

ایبٹ آباد: پی ایم اے میں صدارتی پریڈ کے سکیورٹی انتظامات، دفعہ 144 نافذ، مختلف سرگرمیوں پر پابندی عائد۔پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 13، 15 اور 17 اکتوبر 2026 کو ہونے والی صدارتی پریڈ کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کیپٹن (ر) سرمد سلیم اکرم نے دفعہ 144 کے تحت مختلف سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔جاری کردہ حکم نامے کے مطابق صدارتی پریڈ کے دوران اعلیٰ فوجی و سول افسران اور اہم شخصیات کی آمد کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔حکم نامے کے تحت 13 سے 17 اکتوبر تک احتجاج اور اجتماعات پر پابندی ہوگی، جبکہ پی ایم اے کاکول کے اطراف فائرنگ، کان کنی اور بلاسٹنگ بھی ممنوع قرار دی گئی ہے۔ کاکول کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں 13 سے 17 اکتوبر تک صبح 7 بجے سے دوپہر 12 بجے تک لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی ہوگی۔اسی طرح 12 اکتوبر کو ڈرون اور کواڈ کاپٹر اڑانے، جبکہ 15 اور 17 اکتوبر کو الیاسی گیٹ کے قریب دکانیں کھولنے، پیٹرول اور سی این جی اسٹیشنوں پر گاڑیوں کی پارکنگ، افغان باشندوں کی پی ایم اے روڈ کے قریب نقل و حرکت اور موٹر سائیکل کی سواری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس میں مقررہ مدت تک پابندیاں برقرار رہیں گی۔
ایبٹ آباد: پی ایم اے میں صدارتی پریڈ کے سکیورٹی انتظامات، دفعہ 144 نافذ، مختلف سرگرمیوں پر پابندی عائد۔پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 13، 15 اور 17 اکتوبر 2026 کو ہونے والی صدارتی پریڈ کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کیپٹن (ر) سرمد سلیم اکرم نے دفعہ 144 کے تحت مختلف سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔جاری کردہ حکم نامے کے مطابق صدارتی پریڈ کے دوران اعلیٰ فوجی و سول افسران اور اہم شخصیات کی آمد کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔حکم نامے کے تحت 13 سے 17 اکتوبر تک احتجاج اور اجتماعات پر پابندی ہوگی، جبکہ پی ایم اے کاکول کے اطراف فائرنگ، کان کنی اور بلاسٹنگ بھی ممنوع قرار دی گئی ہے۔ کاکول کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں 13 سے 17 اکتوبر تک صبح 7 بجے سے دوپہر 12 بجے تک لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی ہوگی۔اسی طرح 12 اکتوبر کو ڈرون اور کواڈ کاپٹر اڑانے، جبکہ 15 اور 17 اکتوبر کو الیاسی گیٹ کے قریب دکانیں کھولنے، پیٹرول اور سی این جی اسٹیشنوں پر گاڑیوں کی پارکنگ، افغان باشندوں کی پی ایم اے روڈ کے قریب نقل و حرکت اور موٹر سائیکل کی سواری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس میں مقررہ مدت تک پابندیاں برقرار رہیں گی۔










