وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دورہءِ سعودی عرب ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، آرمی چیف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں.

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دورہءِ سعودی عرب

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی مکہ مکرمہ میں قصر الصفا آمد، سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم شیخ محمد بن سلمان بن عبد العزیز آلسعود نے وزیرِ اعظم کا استقبال کیا.

دونوں رہنماؤں کے مابین دوطرفہ ملاقات شروع. ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، آرمی چیف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں.

پاکستان، ترکیہ اور مملکتِ سعودی عرب کے درمیان دور اندیش حکمتِ عملی پر مبنی اجتماعی سلامتی کا معاہدہ دہائیوں پر محیط تاریخی تعلقات کا قدرتی ارتقا اور باقاعدہ قانونی تحریر ہے۔

‼️ *مشترکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ*‼️📌 پاکستان، ترکیہ اور مملکتِ سعودی عرب کے درمیان دور اندیش حکمتِ عملی پر مبنی اجتماعی سلامتی کا معاہدہ دہائیوں پر محیط تاریخی تعلقات کا قدرتی ارتقا اور باقاعدہ قانونی تحریر ہے۔ ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اس کی اپنی آزادی سے بھی پہلے کے ہیں، جن کی جڑیں تحریکِ خلافت (1919–1924) میں ملتی ہیں۔ اسی طرح، پاکستان اور سعودی عرب طویل عرصے سے باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی قریبی اسٹریٹجک، سیاسی، اقتصادی اور عوامی تعلقات رکھتے ہیں۔📌 یہ خطہ ایک بڑے اسٹریٹجک تبدیلی اور خطرات کے عمل سے گزر رہا ہے۔ علاقائی تنازعات، سیکیورٹی چیلنجز، اور جنگ کے بدلتے ہوئے انداز ان ممالک کے درمیان مزید تعاون پر زور دیتے ہیں جو استحکام پر مبنی مشترکہ مقاصد کے حامل ہیں۔ اس ماحول میں، ایک سہ فریقی فریم ورک کسی مذہبی ہم آہنگی کے بجائے علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے اور اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ 📌 یہ سہ فریقی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی ہے۔ یہ اجتماعی سلامتی اور اجتماعی deterrence کے اصولوں پر مبنی ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کسی ایک رکن پر کوئی بھی بیرونی حملہ تمام تینوں کے لیے ایک خطرہ بن جائے، کیونکہ ایسی کسی بھی جارحیت کے بتدریج تباہ کن اثرات تمام تینوں ممالک اور پورے خطے کے استحکام، خوشحالی اور مستقبل کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ معاہدہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے اور اس کا مقصد قابلِ اعتماد Deterrence کے ذریعے تنازعات کو روکنا اور امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔📌یہ شراکت داری ایک درج ذیل باہمی صلاحیتوں کو یکجا کرتی ہے:• پاکستان کی عسکری طاقت، جنگ مہارت کی حامل افواج اور طاقت کے ذریعے کشیدگی پر کنٹرول پر مبنی اسٹریٹجک مہارت۔• سالمیت کے معاملے میں سعودی عرب کی مرکزی حیثیت، مستحکم معیشت اور طاقتور، واضح سوچ والی قیادت۔• ترکیہ کی جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی، لچک اور صنعتی صلاحیتیں۔تینوں ممالک کی دور اندیش قیادت کی بدولت، یہ تمام صلاحیتیں یکجا ہو کر ایک متوازن سیکیورٹی آرکیٹیکچر بناتی ہیں جو ابھرتے ہوئے علاقائی چیلنجوں سے نپٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔📌 پاکستان، معرکہِ حق کے بعد اور ایران اور امریکہ کے عسکری تنازع میں ثالثی کے اہم کردار کے بعد، تیزی سے ایک ایک مستند سیکورٹی ضامن کے طور پر ابھر رہا ہے۔ پاکستان کی مخلص اور باصلاحیت قیادت کے سعودی عرب، ترکیہ، ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ، اور عالمی سطح پر امریکہ اور چین کے ساتھ تعمیری تعلقات اسے علاقائی و عالمی شراکت داروں کے درمیان ایک قابلِ اعتماد پل کا کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔📌 ا س فریم ورک کی مصدقہ حیثیت سعودی، ترکی اور پاکستانی قیادت کے اخلاص، وضاحت اور صلاحیت پر منحصر ہے۔ ان رہنماؤں نے مسلسل ذمہ داری کے ساتھ بحرانوں سے نپٹنے، عسکری تیاری کو اسٹریٹجک restraint کے ساتھ جوڑنے، اور قومی سلامتی پر سمجوتہ کیے بغیر سفارت کاری کو آگے بڑھانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔📌 عسکری صلاحیتوں، انٹیلی جنس تعاون اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کو یکجا کر کے، تینوں ممالک اجتماعی سلامتی اور اجتماعی deterrence کا ایک فریم ورک قائم کرتے ہیں۔ یہ ایک قابلِ اعتماد دفاعی تعاون کے ذریعے تنازع کے امکانات اور جارحیت سے جڑی تباہی کو کم کرنے کیلئے ایک اہم قدم ہے۔📌یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ کوئی “مسلم نیٹو” نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی ایٹمی ضمانت دیتا ہے؛ یہ عام لوگوں کی خوشحالی کے لیے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک منطقی قدم ہے۔ یہ دفاعی ایک غیر جارحانہ اتحاد ہے جسے اجتماعی سلامتی اور deterrence کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، نہ کہ کسی ریاست کو نشانہ بنانے کے لیے۔ یہ سیکیورٹی کے لیے دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود انحصاری کو ترویج دیتا ہے، یہ معائدہ پہلے موجود باہمی اشتراک کو قانونی شکل دیتا ہے، یہ استحکام کو طاقت بخشتا ہے اور خطے میں امن میں خلل ڈالنے والی روایتی قوتوں کی نفی کرتا ہے۔

📌 *Joint Defense Agreement Pakistan, Saudi Arabia and Türkiye*The strategic collective security agreement between *Pakistan, Türkiye, and the Kingdom of Saudi Arabia (KSA)* is the natural evolution and formal codification of decades of historic ties. Pakistan’s relationship with Türkiye predates its own independence, rooted in the *Khilafat Movement (1919–1924).* Likewise, Pakistan and Saudi Arabia have long shared close strategic, political, economic and people to people contact based on *mutual trust* and *common interests.*👉 *A Changing Regional Environment*The region is undergoing a major strategic transformation and threats. Regional conflicts, security challenges, and changing character of warfare underscore more cooperation between those having common aspirations based on stability. In this environment, a *trilateral framework* offers a mechanism to preserve *regional stability* and strengthen *collective security, rather than any religio- based convergence. 👉 *A Defensive and Not an Offensive, Pact*The proposed *Trilateral Defence Agreement* is *purely defensive.* It is based on the principles of *collective security* and *collective deterrence,* ensuring that any external attack to one member becomes a threat for all three, since the cascading domino effects of any such physical attack hurts badly the stability and prosperity and future of all three plus the region. The agreement is *not directed against any country* and is intended to prevent conflict through *credible deterrence* while promoting *peace and stability.*👉 *Three Nations, Three Strategic Strengths*The partnership brings together complementary strengths:• *Pakistan’s military strength, battle hardened forces and strategic expertise based on astute management of escalation control through strength. • *Saudi Arabia’s centrality in the region, strong economy* and powerful clear headed leadership.• *Türkiye’s advanced defence technology*, resilience and industrial capabilities.Together, these strengths guided by their respective strategic leaders create a *balanced security architecture* capable of addressing emerging regional challenges.👉 *Pakistan as a Net Regional Stabiliser*Pakistan, post Mark e Haq and lead role in mediating Iran USA military conflict, is increasingly emerging as a *net regional stabiliser*. Pakistan sincere and competent leadership having constructive relations with *Saudi Arabia, Türkiye, Iran,* and others in the region and globally with the *United States as well as China enables the role of a *trusted bridge* between regional and global stakeholders.👉 *Leadership Built on Sincerity, Clarity and Competence*The credibility of this framework rests on the *sincerity, clarity,* and *competence* of Saudi, Turkish and Pakistani leadership. These leaders have consistently demonstrated the ability to *manage crises responsibly,* combine *military preparedness with strategic restraint,* and pursue diplomacy without compromising *national security.*👉 *Collective Security and Collective Deterrence*By pooling *military capabilities, intelligence cooperation,* and *strategic coordination,* the three countries establish a framework of *collective security* and *collective deterrence.* This significantly raises the *cost of aggression* while reducing the likelihood of conflict through *credible defence cooperation.*👉 *Pakistan’s Emerging Strategic Role*The *Trilateral Defence Pact* is no Muslim NATO, it’s no nuclear backstopping, it represents the next logical step in the strategic partnership between *Pakistan, Saudi Arabia,* and *Türkiye for common people centric prosperity. It is a *defensive, non-aggressive alliance* designed to strengthen *collective security* and *collective deterrence,* not to target any state. It embodies self dependence rather looking for others for security, it codifies what was already there, it empowers stability and only makes the historical disrupters of peace in the region nervous. ‼️‼️‼️

پاکستان کے غدار ابن غدار ابن غدار ابن غدار آئی ایم ایف ہمکو سستی بجلی فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے رہا: وزیر توانائی راےپیزا برگر پیپسی کوک شیور مرغی حرام کا روپیہ کینسر کا باعث ڈاکٹروں کی رائے آئی ایم ایف ہمکو سستی بجلی فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے رہا: وزیر توانائی۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

آئی ایم ایف ہمکو سستی بجلی فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے رہا: وزیر توانائی جبکہ IMF ججوں ، وزیروں ،مشیروں، بیوروکریٹس کو سالانہ 34 کروڑ یونٹ فری بجلی دینے کی اجازت ضرور دیتا ہے نا.لکھ دی لعنت ایسے IMF پہ اور ایسے قانون بنانے والوں پہ کہ لاکھوں کمانے والا فری بجلی بھی لے گا.

*آپریشن “رد الفتنہ – 3” کے تحت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلیجینس معلومات کی بنیاد پر سیکورٹی فورسز کے آپریشنز جاری*5 اور 6 اگست 2026 کو، سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع واشک اور مستونگ میں انٹیلیجینس معلومات کی بنیاد پر دو آپریشنز کیے، جو کہ “رد الفتنہ-3” کے تحت جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے سلسلۂ عمل کا حصہ ہیں۔ یہ مؤثر انسدادِ دہشت گردی مہم ہے جس کا مقصد بھارتی پروکسیز کا خاتمہ کرنا ہے، جس کے نتیجے میں “فتنہ الہندوستان” کے 12 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔5اگست 2026 کو، سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع واشک میں چھ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔ افواج نے ان دہشت گردوں کو مؤثر طریقے سے گھیرے میں لیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں، بھارتی پروکسی “فتنہ الہندوستان” سے تعلق رکھنے والے تمام چھ دہشت گرد جہنم واصل کر دیے گئے۔6 اگست 2026 کو انٹیلیجینس معلومات پر مبنی ایک اور آپریشن میں، بلوچستان کے ضلع مستونگ میں مسلح افواج اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چھ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ مزید برآں، دہشت گردوں کی پناہ گاہ بھی تباہ کر دی گئی۔ویژن”عزمِ استحکام” کے تحت (جس کی منظوری قومی ایکشن پلان کی وفاقیApex کمیٹی نے دی ہے) سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور معاونت یافتہ دہشت گردی کی لعنت کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے مُستعِدی کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

جدہ بادبان ٹی وی رپورٹ *وزیراعظم محمد شہباز آرمی چیف و چیف آف ڈیفینس فورسز سید عاصم منیر، ملٹری آپریشن کے سربراہ کاشف عبداللہ چیف اف سٹاف جنرل جواد پاکستانی وفد نے مکہ مکرمہ میں عمرہ ادا کیا.

اسلام آباد بادبان ٹی وی *وزیراعظم محمد شہباز آرمی چیف و چیف آف ڈیفینس فورسز سید عاصم منیر، ملٹری آپریشن کے سربراہ کاشف عبداللہ چیف اف سٹاف جنرل جواد پاکستانی وفد نے مکہ مکرمہ میں عمرہ ادا کیا.*عمرہ کی ادائیگی سے قبل پاکستانی وفد نے کعبہ شریف کی ذیارت خاص کی سعادت حاصل کی. عمرہ کی ادائیگی کے بعد وزیرِ اعظم، فیلڈ مارشل اور پاکستانی وفد نے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی، امت مسلمہ کی سلامتی اور علاقائی و عالمی امن کیلئے دعا کی.

ٹیسٹ سیریز میں شاندار پرفارمینس ، مین آف دی سیریز کا ایوارڈ بابر اعظم اور گریوز کو مشترکہ طور پر دیا گیا۔۔وزارت اطلاعات کا جواب بھی پٹیشنرز کی حمایت میں۔ امبرین جان کی برطرفی برطرفی اور برطرفی جواب نہ جمع کروانے پر ھای کورت بھرم۔۔امبرین جان تیسری دفعہ جواب دینے کی بجائے رفوچکر۔۔ ججز سمری صدرِ مملکت کا انکار وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ خطرناک۔ حکومت کی ھٹ دھرمی پٹرول کی قیمتوں میں کمی کی بجائے پٹرولیم مافیا کے ساتھ مک مکا۔ صدر مملکت اور وفاقی حکومت امنے سامنے۔ ۔ججز تقرری کیس۔جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر صدر زرداری کا ججز تعیناتی پر اختلاف۔۔ حکومت کا آئین کے آرٹیکل 48 اور 75 کے تحت مقررہ مدت کے بعد خود نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا فیصلہ ۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

د. لبنى فرح..تفصیلی تجزیہ: باب المندب، ایران، سعودی اتحاد اور خطے کی بدلتی ہوئی بحری حکمتِ عملیایران نے بظاہر براہِ راست سعودی عرب کے مجوزہ بحری دفاعی اتحاد کو مسترد نہیں کیا، تاہم مختلف علاقائی اشاروں اور یمن میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی سرگرمیوں کو بعض مبصرین اس اتحاد کے خلاف ایک بالواسطہ پیغام قرار دے رہے ہیں۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے اسے محتاط انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔سعودی عرب کا مجوزہ بحری اتحادسعودی وزارتِ دفاع کے مطابق مجوزہ اتحاد کا مقصد:باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں بحری سلامتی کو مضبوط بنانا۔رکن ممالک کے درمیان دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون میں اضافہ کرنا۔تجارتی اور توانائی بردار بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانا۔ریاض کو اتحاد کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے طور پر قائم کرنا۔سرکاری معلومات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 14 ممالک نے اس اقدام کی حمایت کی،

جن میں پاکستان، ترکی، مصر، سوڈان اور جبوتی شامل ہیں، جبکہ مستقبل میں مزید ممالک کی شمولیت متوقع ہے۔ایران کا ممکنہ ردعملتجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس اتحاد کو خطے میں سعودی اثر و رسوخ بڑھانے اور اپنے اتحادیوں کے خلاف ایک تزویراتی اقدام کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔ایران پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اگر اس پر شدید اقتصادی یا عسکری دباؤ ڈالا گیا تو وہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت پر اثر انداز ہونے والے اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم اس بارے میں مختلف ادوار میں دیے گئے بیانات اور عملی اقدامات میں فرق رہا ہے۔یمن اور حوثیوں کا کرداراگر ایران اپنے موقف کو عملی شکل دینا چاہے تو سب سے مؤثر ذریعہ یمن میں موجود حوثی تحریک ہو سکتی ہے، جو پہلے بھی بحیرہ احمر میں تجارتی اور تیل بردار جہازوں پر حملوں یا انہیں نشانہ بنانے کی دھمکیوں سے عالمی تجارت کو متاثر کرتی رہی ہے۔ممکنہ منظرناموں میں شامل ہو سکتے ہیں:سعودی یا اس سے منسلک تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا۔تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا کرنا۔

ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے بحری راستوں پر دباؤ بڑھانا۔بحری انشورنس اور مال برداری کی لاگت میں اضافہ۔امریکہ۔ایران مذاکرات کا اثرموجودہ غیر مستقیم مذاکرات کو خطے کی بحری سلامتی کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو:آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔باب المندب میں بھی نسبتاً استحکام آنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔عالمی توانائی کی ترسیل معمول پر آ سکتی ہے۔لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو:ایران یا اس کے علاقائی اتحادی دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔بحیرہ احمر اور خلیج عمان میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور شپنگ اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔عالمی تجارت پر اثراتباب المندب دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔خلیجی ممالک کی تیل برآمدات کے لیے یہ ایک اہم گزرگاہ ہے۔کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔پاکستان کے لیے اہمیتپاکستان کی اس اتحاد کی حمایت کئی پہلو رکھتی ہے:سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کرنا۔

بحیرہ احمر میں پاکستانی بحریہ کے کردار کو وسعت دینا۔بین الاقوامی بحری سلامتی میں فعال شمولیت۔توانائی کی عالمی ترسیل کے تحفظ میں کردار ادا کرنا۔مجموعی تجزیہسعودی عرب کا مجوزہ اتحاد صرف ایک دفاعی انتظام نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کی نئی تشکیل کی کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے براہِ راست یا بالواسطہ ذرائع استعمال کر سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے مختلف دعوے اور امکانات موجود ہیں جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات آئندہ مہینوں میں اس بات کا تعین کریں گے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں کشیدگی کم ہوتی ہے یا خطہ ایک نئے بحری تصادم کی طرف بڑھتا ہے۔خلاصہسعودی عرب نے باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن کی سلامتی کے لیے کثیرالملکی بحری اتحاد کی تجویز پیش کی ہے۔ابتدائی طور پر 14 ممالک نے اس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔بعض مبصرین کے مطابق ایران اس اتحاد سے مطمئن نہیں، اگرچہ اس نے باضابطہ طور پر اسے مسترد نہیں کیا۔یمن میں حوثیوں کی سرگرمیاں مستقبل میں کشیدگی کا اہم عنصر بن سکتی ہیں۔امریکہ۔ایران مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی خطے کی بحری سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی حساس بحری گزرگاہیں ہیں۔

پاکستانی خاتون باکسر کا تاریخی کارنامہفاطمہ زہرہ کامن ویلتھ گیمز میں تمغہ جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون باکسر بن گئیںکوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کی حریف کے خلاف شاندار فتح

‏‎پاکستانی اشرافیہ کی ایک تلخ حقیقت ‏‎انصاف یہاں ٹکے ٹکے پر بکتا ھے اور قانون طاقتوروں کے گھر کی لونڈی ھےایان علی دبئی جانے کے لیے اسلام آباد ائرپورٹ پر پہنچی جسکا نام اس وقت بے نظیر ائرپورٹ رکھا گیا تھا ،وہ وی آئی پی لاؤنج تک آئی اور اپنا لیگیج کاونٹر پر رکھا تو کسٹم حکام نے اسکا بیگ چیک کرنا چاہا ،ایان علی نے لاپروائی سے بیگ کھولا اور اعجاز چوہدری نامی کسٹم انسپکٹر نے بیگ میں پڑے دو کپڑے ہٹائے تو نیچے ڈالروں کی گڈیاں پڑی ہوئی تھیں

،انسپکٹر نے ایان علی سے استفسار کیا تو اس نے لاپروائی سے کہا کہ یہ میرے ہیں ،اس نے کہا میڈم مجھے یہ رقم زیادہ لگ رہی ہے، کم و بیش پانچ ہزار ڈالرز سے زیادہ کیش لے جانا غیر قانونی ہے ،پھر اس نے گڈیاں گنی تو وہ 5 لاکھ ڈالرز تھے ،کسٹم انسپکٹر نے اپنے سنئئر کو مطلع کیا اور ایان علی کو صوفے پر بٹھا دیا ،ایان علی کو کوئی پریشانی نہیں تھی ،اسکے لئے یہ روز کا معمول تھا لیکن اعجاز چوہدری کے لئے یہ معمولی بات نہیں تھی ،وہ جانتا تھا کہ ایان علی ہفتے میں دو مرتبہ دبئی جاتی ہے

اور اسکے سامان کی کوئی خاص چیکنگ نہیں ہوتی اور کسٹم کا عملہ ہی اسکو ہینگر تک لے کے جاتا ہے ،سنئیر حکام اگئے اور انہوں نے اعجاز چوہدری کو ایک طرف لے جاکر کچھ سمجھانے کی کوشش کی ،اعجاز چوہدری اکھڑ گیا اور اپنی قانونی پوزیشن بتانے لگا ،نیز اس نے اس دوران سی اے اے اور نارکوٹیکس کے افسران کو بھی مطلع کیا ،دوسری ایان علی بے زاری سے صوفے پر بیٹھ کر مسلسل فون پر بات کرتی رہی ،اسی دوران کسٹم ہی کے کسی فرد نے میڈیا کو خبر دی اور چند گھنٹوں میں پورے میڈیا میں خبر پھیل گئی کہ مشہور ماڈل ایان علی پانچ لاکھ ڈالر سمگل کرتے ہوئے پکڑی گئی اور پکڑنے والا کسٹم انسپکٹر اعجاز چوہدری ہے ،بات چونکہ اب پھیل گئی تھی لہذا کسٹم حکام کو بھی مجبور ہوکر سٹینڈ لینا پڑا

،انہوں نے ایان علی کہ سفری دستاویزات اور ڈیٹا کی انکوائری کی تو صرف ایک سال میں ایان علی 42مرتبہ دبئی کا سفر کر چکی تھی ،ایان علی نے دوران تفتیش اقرار کیا کہ وہ اپنے ذاتی اخراجات اور شاپنگ کے لیے ڈالر ہی لے کر جاتی تھی ،یہ 43 ویں مرتبہ پکڑی گئی تھی، جب اس سے پوچھا گیا کہ اتنے ڈالر اسکے پاس کہاں سے آئے اور وہ ڈالر ہی کیوں لے کے جاتی ہے تو اسکے پاس صرف ایک جواب تھا ،یہ میری اپنی کمائی ہے ،ایان علی کی گرفتاری کے فورا بعد پیپلز پارٹی کی لیگل ٹیم نے اسکا کیس لیا، سردار لطیف کھوسہ اسکا وکیل بنا، ملک کے چوٹی کے وکیلوں نے بیٹھک کی اور مختلف قانونی نقاط اور پوائنٹس اکھٹے کئے گئے ان وکیلوں میں اعتزاز احسن بھی شامل تھے انہوں نے ایان علی کے کیس کی پوری پیروی کی، ہر ہر قدم پر وہ لطیف کھوسہ کو گائیڈ کرتے رہے خالانکہ یہ سو فیصد اوپن اینڈ شٹ کیس تھا، میڈیا سیل اورسوشل میڈیا نے ایان علی کا نام زرداری سے جوڑا، ٹاک شوز ہونے لگے، پیپلز پارٹی کے لیڈروں سے سوال جواب ہونے لگے تو وہ ٹاک شوز میں بلکل باولے ہوجاتے تھے، شرمیلا فاروقی سے لے کر شہلا رضا تک اور مصطفی کھوکھر سے لے کر سعید غنی تک نے مریم صفدر اور مرحوم کلثوم نواز کے کپڑے تک اتار دئیے،بہر حال ایان علی کی گرفتاری سے اس ریاست اور اسکے اداروں کا اصل امتحان شروع ہوا ،وہ جیل گئی ،پھر جب پیشیوں پر آتی تھی تو پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ میک اپ کرکے آتی تھی ،اسے جیل کے فائیو سٹار بیرک میں رکھا گیا ،کمرے میں دنیا کی ہر سہولت موجود تھی ،وہ منرل واٹر پیتی تھی اور ناشتے میں امریکن و چائنیز فوڈ کھاتی تھی ،اسے ورزش کی مشینیں مہیا کی گئیں ،اسکا فون اور لیپ ٹاپ کسٹم حکام کے پاس تھا لہذا اسے ایک اور فون دیا گیا ،اسکی خدمت کے لیے پورے جیل کا عملہ وقف تھا ،ایان علی کے پورے کیس اور قید میں سب سے زیادہ چاندی وکیلوں کی ہوئی ،دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ فائدہ جیل حکام اور پولیس والوں کو ہوا ،تیسرے نمبر پر میڈیا تھا جس نے زرداری اور ملک ریاض دونوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا ساتھ شریفوں سے بھی زرداری کی مخالفت میں فائدہ اٹھاتے رہے ،ایان علی ملکی تاریخ کی پہلی قیدی تھی جسے جیل میں فائیو سٹار ہوٹل کی سہولیات دی گئی ،ایسی سہولیات ذوالفقار علی بھٹو جیسے شخص اور نصرت بھٹو و بے نظیر بھٹو سمیت آصف زرداری اور نواز شریف تک کو نہیں دی گئی تھیں ،حتی کہ جتنی بھی بڑی بڑی سیاسی شخصیات جیل گئی ہیں انہیں یہ سہولیات نہیں ملیںدوران تفتیش جو کچھ ہوا اس سے ہر شخص باخبر ہے ،لیکن اس سب کے بیچ جو سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ کسٹم انسپکٹر اعجاز چوہدری تھا ،اسکے افسران اسے ملامت کرتے ،اسکے کولیگز اسے نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ،

دوران جرح ایان علی کے وکیل اسے گالیاں اور جھڑکیاں دیتے ،عدالت کے احاطے میں اسے دھمکیاں دیتے ،اسے نا معلوم نمبروں سے کالیں آتی ،اسے قتل کرنے کی دھمکیاں دی جاتی لیکن وہ اپنی جگہ کھڑا رہا ،اسے ہر قسم کا لالچ دیا گیا لیکن وہ کیس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا ،اسکی ترقی روک دی گئی اور بجائے اسکے کہ اسے انعام دیا جاتا ،اسے پابند کیا کہ جب تک کیس کا فیصلہ نہی ہوتا وہ کسٹم کاونٹر پر خدمات نہیں دے گا ۔اس نے تمام ثبوت اکھٹے کئے اور عدالت کو دے دئیے، جب فرد جرم لگنے کی تاریخ قریب آگئی اور اسے بطور عینی گواہ پیش ہونا تھا ،اسے اپنے گھر کے سامنے دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے قتل کردیا ،پولیس آئی اور اسکی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئی ،چند دن میڈیا پر ہاہا کار رہی پھر تھانہ وارث خان پولیس نے اسکی قتل کو ڈکیتی کی واردات قرار دے کر فائل بند کردیا ،کسٹم حکام بھی بلکل خاموش ہوگئے ،اسکی بیوی سر پیٹ پیٹ کر تھانوں عدالتوں میں دھاڑیں مارتی رہی لیکن اسے ہر طرف سے دھتکار دیا گیا ،اسکے ساتھ اسکا کم سن بیٹا عدالتوں کے احاطے میں بدترین گرمی میں رلتا رہتا لیکن کسٹم حکام اور اعجاز چوہدری کے ساتھی اس سے نظریں چرا کر ایک طرف ہوجاتے ،اعجاز چوہدری مر گیا تھا

۔عدالت نے ایان علی کو منی لانڈرنگ کیس میں اور اعجاز چوہدری کے قتل کے ایف آئی آر میں نامزد ملزم کی حیثیت سے بری کردیا اور اسے پاسپورٹ واپس دے دیا ،آج ایان علی دبئی کے سب سے مہنگے ترین علاقے میں رہائش پذیر ہے رہا اعجاز چوہدری تو وہ قبر کے اندھیروں میں اتر گیا ،اسکی بیوی اور کم سن بیٹا تین مرلے کے مکان کی بوسیدہ دیواروں پر اسکا عکس ڈھونڈتے ہیں ،اسکے شیو کا سامان اور تولیہ اور وردی اسکی بیوی نے سنبھال کر رکھے ہیں لیکن اس نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے بیٹے کو کسٹم میں بھرتی نہیں کرائے گی ،اسکے سنگی ساتھی اسکی خالی کرسی کو آج بھی دکھ سے دیکھتے ہیں لیکن وہاں کے کسٹم انسپکٹر اب اعجاز چوہدری والی غلطی نہیں دہرائیں گے ۔ایسا ہے میرے دیس کا قانون اور انصاف ان اشرافیہ کی رکھیل۔ انکے گھروں کی لونڈی۔سانحہ ماڈل ٹاؤن اورسانحہ ساہیوال کا واقعہ جن بچوں کے سامنے انکے والدین کو شہید کردیا

گیا اور ایک بچی کے ہاتھ میں گولی ماری گئ‏‎دنیا دھوکہ ہے دولت فساد ہے اصلی زندگی تو موت کے بعد یے جو اعجاز چوہدری تو گزار رہا ہے باقیوں نے گزارنی ہے۔‏‎سردار لطیف کھوسہ اور اعتزاز احسن دونوں آج کل کسے انصاف دلا رہے ہیں ..؟‏‎روح کانپتی سن کر سہنے والوں نے کیسے سہا ہوگا یہ سب۔۔۔۔ گند اور غلاظت میں لپٹے حسین چہرے گناہوں کی دلدل میں گھرے ہوئے لوگ انکا ساتھ دینے والے دلال اور میر جعفر کھا گئے پاکستان کو‏‎‎میرے پاس ان آنسوؤں اور بدعا کے سوا کچھ نہیں یااللہ جو اس ظلم میں شامل تھا ان کو اس دنیاں میں ہی عبرت کا نشان بنا آمین ثم آمین یا رب العالمین‏‎پاکستانی اشرافیہ کی ایک تلخ حقیقت ‏‎انصاف یہاں ٹکے ٹکے پر بکتا ھے اور قانون طاقتوروں کے گھر کی لونڈی ھے۔

چئیرمین پیمرا غیر تعیناتی کیس کابینہ ڈویژن کے بعد صدارتی ھاوس نے عدالت کو تعیناتی پر صدارتی ھاوس لا تعلق امبرین جان تیسری دفعہ جواب دینے کی بجائے رفوچکر۔وزارت اطلاعات کا جواب بھی پٹیشنرز کی حمایت میں۔امبرین جان کی برطرفی برطرفی اور برطرفی جواب نہ جمع کروانے پر ھای کورت بھرم۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

صوبوں کی مخالفت کرنے والوں کو عوام سنگسارکر دے محمد علی درانی 16 پرائیویٹ بینکس انویسٹمنٹ کمپنیوں اور انشورنس اداروں کو پینشن فنڈ چلانے کی ذمہ داری پیشنز بھی مافیا کے شکنجے میں پینشن فنڈ بھی سرمایہ داروں کے حوالے۔ میرے استعفے کی خبریں بے بنیاد ہیں تفصیلات کے لئے بادبان نیوز۔۔

پاکستان نے جنوبی کوریا کو ہاکی ٹیسٹ سیریز کے دوسرے میچ میں بھی شکست دے دی، پاکستان کو چار ٹیسٹ میچوں کی ہاکی سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان نے جنوبی کوریا کو 1-3 سے ہرایا۔ قومی ٹیم کی جانب سے ابوبکر نے دو جبکہ عبدالرحمان نے ایک گول اسکور کیا۔اس سے قبل پہلے ٹیسٹ میچ میں بھی پاکستان نے جنوبی کوریا کو 1-3 سے شکست دی تھی۔ چار میچوں پر مشتمل سیریز میں پاکستان کو اب دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

د. لبنى فرح…قطر نے امریکا۔ایران براہِ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کردی، سفارتی رابطے بدستور بالواسطہ جاریدوحہ: قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کے باوجود واضح کیا ہے کہ اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے انعقاد کا کوئی منصوبہ موجود نہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے بدستور ثالث ممالک کے ذریعے جاری ہیں۔قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کے روز صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دوحہ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے میں ہے اور اس کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا، اعتماد سازی کو فروغ دینا اور بحران کا پائیدار سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات براہِ راست مذاکرات کے لیے سازگار نہیں، اس لیے امریکا اور ایران کے درمیان تمام رابطے فی الحال ثالثوں کے ذریعے ہی جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم انہوں نے جاری رابطوں کی نوعیت یا ممکنہ آئندہ مذاکرات کے وقت کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔قطری مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے

جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ قطر، عمان اور دیگر علاقائی ثالث دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے اور مستقبل میں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔دوسری جانب ایرانی مؤقف نے مذاکراتی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رویٹرز کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران ایسا کوئی بھی مجوزہ معاہدہ قبول نہیں کرے گا جس میں آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول اور اس کے بنیادی مفادات کی ضمانت موجود نہ ہو۔آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی رسد کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس آبی راستے سے متعلق کسی بھی اختلاف کا براہِ راست اثر عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی پر پڑ سکتا ہے۔سیاسی تجزیہ:قطر کا تازہ بیان اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ اگرچہ سفارتی دروازے بند نہیں ہوئے، لیکن امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ دونوں ممالک فی الحال براہِ راست بات چیت کے بجائے بالواسطہ سفارتی ذرائع پر انحصار کر رہے ہیں،

جو اس امر کی علامت ہے کہ مذاکراتی ماحول ابھی مکمل طور پر سازگار نہیں۔ایرانی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف بھی ظاہر کرتا ہے کہ تہران مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں اپنی تزویراتی اور سلامتی سے متعلق ترجیحات پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس صورتحال میں ثالث ممالک کی سفارتی کوششیں خطے میں کشیدگی کم رکھنے کے لیے نہایت اہم حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔مبصرین کے مطابق آئندہ چند ہفتے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر سفارتی رابطے جاری رہے اور اعتماد سازی میں پیش رفت ہوئی تو مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم موجودہ حالات میں کسی فوری یا بڑی سفارتی پیش رفت کی توقع قبل از وقت ہوگی۔

پنشن فنڈ بھی سرمایہ داروں کے حوالے: سرکاری ملازمت بھی پرائیویٹ کی طرح ہو رھی ہے۔ مسلح افواج پر یہ لاگو نہیں ہو گی وفاقی حکومت نے نئے سرکاری ملازمین کے لیے متعارف کرائی گئی کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم پر عمل درامد کے لئے 16 پرائیوٹ بینکوں، انویسٹمنٹ کمپنیوں اور انشورنس اداروں کو پنشن فنڈ چلانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔اس نئی اسکیم سے پبلک سیکٹر کے محنت کشوں کو حاصل مراعات کا تقریبا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اور پنشن کا زیادہ بوجھ سرکاری ملازم پر ہی ڈال دیا گیا ہے۔ ملازم اپنی قابلِ پنشن تنخواہ کا 10 فیصد ہر ماہ پنشن فنڈ میں جمع کرائے گا۔ اور حکومت اس میں 12 فیصد حصہ ڈالے گی۔ اس طرح تنخواہ کا 22 فیصد حصہ ان نئی پرائیویٹ کمپنیوں کو دیا جائے گا۔ حیران کن طور پر محنت کش ریٹائرمنٹ سے پہلے پنشن فنڈ سے رقم نہیں نکال سکے گا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پوری پنشن نہیں ملے گی بلکہ صرف 25 فیصد رقم ایک ساتھ نکالی جا سکے گی، جبکہ باقی 75 فیصد رقم کم از کم 20 سال تک قسطوں یا قواعد کے مطابق وصول کرنا ہوگی

۔یہ اسکیم صرف یکم جولائی 2024 کے بعد بھرتی ہونے والے نئے وفاقی سول ملازمین پر لاگو ہے، جبکہ مسلح افواج کے لیے اس پر عمل درآمد نہیں ہو گا۔ صرف سویلین کے لئے ہو گی۔ حکومت اور عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً ورلڈ بینک، نے یہ سکیم اس لئے متعارف کرائی کہ نئی اسکیم سے مستقبل میں پنشن کا مالی بوجھ کا ایک حصہ محنت کش پر منتقل کیا جا سکے۔ اس سکیم سے نئے ملازمین کو 2024 سے پہلے سرکاری ملازمین کو حاصل شدہ مراعات کے مقابلے میں بہت کم مراعات ملیں گی۔پنشن کا مالی خطرہ حکومت کے بجائے ملازم پر منتقل ہو جائے گا، کیونکہ پنشن کی رقم سرمایہ کاری کے منافع پر بھی منحصر ہوگی۔ریٹائرمنٹ کے بعد صرف 25 فیصد رقم ایک ساتھ نکالنے کی پابندی بعض ملازمین کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے، خصوصاً اگر انہیں علاج، رہائش یا دیگر ضروریات کے لیے بڑی رقم درکار ہو۔چنانچہ وہ دور ختم ہوا جب سرکاری ملازمت کی مراعات جو دہائیوں کی محنت سے حاصل کی گئی تھیں ملازمت حاصل کرنے کے لئے ایک attraction تھی۔ اب حکومت اپنی تمام ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ کر پرائیویٹ شعبہ کو منافع کمانے کے خوب مواقع فراھم کر رہی ہے۔ طبقاتی جبر دوران ہر ہے اب سرکاری ملازمت بھی پرائیویٹ ملازمت کی طرح ہوتی جا رھی ہے۔

آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی چھٹی لے کر بیرون ملک روانہ ، سیٹ خالی دو سال سے زائد عرصہ تک اسلام آباد میں سیاہ سفید کے مالک موسٹ پاور فل آئی جی اچانک بیرون ملک روانہ ہو گئے ، کیا یہ تبدیلی آگے آنے والی کسی بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے یا روٹین کا کام کچھ دِنوں میں صورت حال واضح ہو جائے گی نیا چارج کون لے گا اور ہدایات کس طرف سے اہیں گی یہ بھی ایک اہم مرحلہ ہے ، تعیناتی نون لیگ کی خواہش پر ہو گی یا نقوی صاحب کی ، طاقت کا جھکاؤ کس طرف ہو گا یہ چھٹی اور تعیناتی اسکا اشارہ دے دے گی اور یہی سے مستقبل میں بڑے پیمانے پر طاقت کے توازن کی سمت کا بھی تعین ہو جائے گا ذرائع کے مطابق آئی جی اسلام آباد ادارے کے اندر بیرونی مداخلت کے باعث ناراض تھے Islamabad Police

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے استعفے سے متعلق زیرِ گردش خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے پر برقرار ہیں اور بطور صدر اپنی ذمہ داریاں بدستور انجام دیتے رہیں گے۔صدر پزشکیان نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ اختلافات کی خبروں کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور مسلح افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور مؤثر رابطہ موجود ہے۔ایرانی سرکاری ٹی وی کو اپنی حکومت کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر وہ کبھی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کریں گے تو اس کا اعلان خود کریں گے، تاہم اس وقت استعفے کا نہ کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی ایسی خبروں میں کوئی صداقت ہے۔

سینکڑوں اھم شخصیات ایگرٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ائیر پورٹس پر سیکیورٹی سخت۔ھزاروں ارب روپے کی کرپشن کرنے والے شکنجے میں۔۔درجنوں وزراء سینکڑوں بیورو کریٹ شکنجے میں غیر یقینی صورتحال سعودی فارمولا۔۔ ٹیم میں شامل کھلاڑی آپس میں گھتا گھتا باپر کے لیے پریشانی۔عدالت نے قرار دیا کہ مفت بجلی واپڈا ملازمین کا قانونی حق نہیں بلکہ صرف ایک انتظامی رعایت تھی، جسے ختم کرنا حکومت کا اختیار ہے۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

اگر الیکشن کریڈیبل نہیں ہے، صاف شفاف اور منصفانہ نہیں ہے، غیر جانبدارانہ نہیں ہے تو اس الیکشن کو کوئی نہیں مانے گا۔ یہ صرف پیپلز پارٹی کی بات نہیں، آزاد کشمیر کا کوئی باشندہ اور ووٹر یہ بات تسلیم نہیں کرے گا۔ پانچ سال انتظار کرنے کے بعد ووٹر سے اس کے ووٹ کا حق بھی محروم کر دیا گیا ہے۔سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس

قومی احتساب بیورو (نیب) میں اعلی افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں کی منظوریچیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) نے فوری طور پر نافذ العمل ہونے والے احکامات کے تحت گریڈ 19 اور 20 کے چار افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں کی منظوری دے دی ہے۔سید محمد آفاق (ڈائریکٹر، گریڈ 20) کو نیب کراچی سے ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسنل ڈویژن، نیب ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا گیا۔محمد سلیم احمد (ڈائریکٹر، گریڈ 20) کو نیب بلوچستان سے نیب کراچی تعینات کر دیا گیا۔محمد عبید اللہ اعظم (ڈائریکٹر، گریڈ 20) کو نیب ہیڈکوارٹر سے نیب کراچی منتقل کر دیا گیا۔اصغر خان (ایڈیشنل ڈائریکٹر، گریڈ 19) کو نیب ہیڈکوارٹر سے نیب کراچی میں اپنے موجودہ پے اینڈ اسکیل پر بطور ڈائریکٹر تعینات کیا گیا ہے جبکہ وہ نیب ہیڈکوارٹر میں لینڈ ڈائریکٹوریٹ کی اضافی ذمہ داریاں بھی انجام دیتے رہیں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ افسران کو قواعد کے مطابق ٹی اے ڈی اے اور جوائننگ ٹائم بھی دیا جائے گا۔ یہ نوٹیفکیشن 28 جولائی 2026 کو جاری کیا گیا۔Kamran Zehri Journalist Kamran Zehri Kamran Zehri Journalist #kamranzehri #Sindh #journalist #سندھ #SindhiNews #Pakistan #karachi #PakistanNews

#پاکستانی ہیرو کی ناقابل یقین کارکردگی۔37 سال اور 44 سال کی عمر میں چمپیئن بننا۔۔۔۔! دنیا کے عظیم ترین اسکوائش کھلاڑیوں میں شمار ہونے والے ہاشم خان نے 37 سال کی عمر میں اپنا پہلا ‘برٹش اوپن’ ٹائٹل جیتا تھا؟ وہ عمر جب اکثر کھلاڑی ریٹائرمنٹ لے چکے ہوتے ہیں، ہاشم خان نے وہاں سے دنیا پر راج کرنا شروع کیا اور 44 سال کی عمر میں اپنا آخری برٹش اوپن ٹائٹل جیت کر تاریخ رقم کر دی!پشاور کے تاریخی گاؤں “نواں کلی” سے تعلق رکھنے والے ہاشم خان پیدائش1914ء نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک برطانوی کلب میں بال بوائے (Ball Boy) اور کورٹس کی صفائی سے کیا۔ ممبران کے جانے کے بعد، وہ کڑکتی دھوپ میں ننگے پاؤں اور ٹوٹے ہوئے ریکیٹس کے ساتھ گھنٹوں پریکٹس کرتے تھے۔ اسی بے مثال محنت اور جنون نے انہیں ایک عام بال بوائے سے عالمی چیمپئن بنا دیا۔ شاندار کامیابیوں کا سفر اور عمر کے تاریخی ریکارڈزپہلا برٹش اوپن (1951ء): صرف 37 سال کی عمر میں اپنا پہلا برٹش اوپن ٹائٹل جیتا اور عالمی اسکوائش میں پاکستان کی آمد کا اعلان کیا۔آخری برٹش اوپن (1958ء): 44 سال کی پختہ عمر میں اپنا ساتواں اور آخری برٹش اوپن جیتا (جس کے بعد 1960ء میں 46 سال کی عمر میں بھی وہ اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچے)۔عالمی فتوحات: 7 بار برٹش اوپن جیتنے کے علاوہ انہوں نے 3 بار ‘یو ایس اوپن’ اور 3 بار ‘کینیڈین اوپن’ بھی اپنے نام کیا۔خان ڈائنسٹی (Khan Dynasty) کی بنیاد: ان کی کامیابیوں سے اسکوائش کی وہ عظیم “خان ڈائنسٹی” وجود میں آئی جس میں ان کے بھائی اعظم خان، روشن خان، اور بعد میں جہانگیر خان اور جان شیر خان نے اسکوائش کی دنیا پر دَہائیوں تک پاکستان کا پرچم لہرایا۔⚡ کھیل کا اندازعدم برداشت کی حد تک تیز رفتار، ناقابلِ یقین اسٹیمنا اور زبردست حکمتِ عملی! وہ کورٹ میں اتنی چستی اور مہارت سے حرکت کرتے تھے کہ بین الاقوامی میڈیا نے انہیں “فلائنگ خان” (The Flying Khan) کا لقب دیا تھا۔🕊️ عظیم وراثت18 اگست 2014ء کو 100 سال کی عمر میں انتقال کر جانے والے ‘بابائے اسکوائش’ ہاشم خان نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی اسپورٹس کی تاریخ کا ایک بے مثال اور روشن باب ہیں۔#شیرد

ایک زمانہ تھا جب عمران خان کی پہچان یہ نہیں تھی کہ وہ عمران خان ہیں… بلکہ لوگ کہتے تھے، “یہ ماجد خان کے کزن ہیں۔” 🇵🇰🏏کرکٹ کی تاریخ میں کچھ نام صرف رنز نہیں بناتے، بلکہ ایک معیار قائم کرتے ہیں۔ ماجد خان انہی شخصیات میں سے ایک تھے۔1946 میں لدھیانہ میں پیدا ہونے والے ماجد خان کا تعلق پاکستان کے اس عظیم کرکٹ خاندان سے تھا جس نے کئی نسلوں تک قومی کرکٹ کی خدمت کی۔ ان کے والد ڈاکٹر جہانگیر خان ٹیسٹ کرکٹر تھے، جبکہ جاوید برکی، عمران خان اور بعد میں بازید خان بھی اسی خاندان کی پہچان بنے۔لیکن ماجد خان کی اصل پہچان ان کا خاندان نہیں، بلکہ ان کی اپنی کلاس تھی۔برطانوی میڈیا نے انہیں “Majestic Khan” کا لقب دیا، کیونکہ ان کی بیٹنگ میں طاقت سے زیادہ نفاست، اعتماد اور خوبصورتی نظر آتی تھی۔ ان کا ہر کور ڈرائیو اور ہر آن ڈرائیو دیکھنے والوں کو دیر تک یاد رہتا تھا۔🏏 چند یادگار کارنامے:⭐ پاکستان کی تاریخ کی پہلی ون ڈے سنچری (109 بمقابلہ انگلینڈ، 1974)⭐ 1976 کراچی ٹیسٹ میں لنچ سے پہلے سنچری مکمل کرنے والے دنیا کے چند خوش نصیب بلے بازوں میں شامل⭐ 1976-77 میں ویسٹ انڈیز کے خوفناک فاسٹ بولنگ اٹیک کے خلاف پوری سیریز میں 530 رنز، جس میں تاریخی 167 رنز کی اننگ بھی شامل تھی۔⭐ گلیمورگن کے لیے 9,000 سے زائد فرسٹ کلاس رنز، 21 سنچریاں اور کامیاب کپتانی⭐ کیمبرج یونیورسٹی کے کپتان بنے، لارڈز میں ڈبل سنچری اسکور کی، اور اپنی ہی قومی ٹیم پاکستان کو یونیورسٹی کی جانب سے شکست دینے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔لیکن ماجد خان صرف ایک عظیم بلے باز نہیں تھے۔وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، باوقار، نرم گفتار اور کھیل کی روایات کا احترام کرنے والے حقیقی جینٹلمین کرکٹر تھے۔ اگر انہیں یقین ہوتا کہ گیند بلے سے لگی ہے تو وہ امپائر کے فیصلے کا انتظار کیے بغیر خود واپس چل دیتے تھے۔📊 ٹیسٹ کیریئر:🏏 63 ٹیسٹ میچز🏏 3,931 رنز🏏 8 سنچریاں، 23 نصف سنچریاں📊 فرسٹ کلاس کرکٹ:🏏 27,000 سے زائد رنز🏏 73 سنچریاںوقت کے ساتھ نئی نسل شاید انہیں کم جانتی ہو، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ماجد خان پاکستان کے پہلے عالمی معیار کے اسٹائلش اوپنرز میں شمار ہوتے ہیں۔وہ صرف رنز نہیں بناتے تھے… وہ کرکٹ کو خوبصورت بناتے تھے۔ ❤️🇵🇰💬 آپ کے خیال میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے اسٹائلش بلے باز کون تھا؟ ماجد خان، ظہیر عباس، یا کوئی اور؟#CMLU #CricketMatchLiveUpdate #MajidKhan #PakistanCricket #TestCricket #ODICricket #CricketHistory #ImranKhan #Glamorgan #CambridgeCricket

پاکستان نے جنوبی کوریا کو دوسرے میچ میں بھی شکست دے دی۔۔خواجہ سراوں کا تھانے پر حملہ۔خواجہ اصف نے پی سی بی کا بیڑہ غرق کا ذمہ دار محسن نقوی کو قرار دے دیا۔۔تھانہ ایس ایچ او سمیت فرار۔۔3 سالوں میں کرکٹ کی پستی کا ذمہ دار محسن نقوی ھے خواج اصف۔۔کرکٹ بورڈ کی وجہ سے تینوں فارمیٹ میں تنزلی کا ذمہ دار محسن نقوی۔آزاد کشمیر نواز لیگ 7 اور پیپلز پارٹی ایک سیٹ پر کام۔وفاقی حکومت خطرے میں بڑی تبدیلی۔۔*آزاد جموں وکشمیر قانوں ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 41 کا رزلٹ جاری*۔۔وزیر اعطم کی رخصتی یا سسٹم کی برطرفی۔۔۔ستمبر ستمگر وزراء کی گرفتاریاں۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*🚨آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے دوسرے مرحلے کے انتخابات: ن لیگ 7 اور پی پی ایک نشست پر کامیاب**اب تک کے نتائج کی مکمل تفصیلات سامنے آگئیں*آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پولنگ کے بعد نتائج آنا شروع ہوگئے۔آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مظفر آباد ڈویژن کے 8 حلقوں اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی۔مظفر آباد ڈویژن کے آٹھ حلقوں پر پولنگ شام 6 بجے تک جاری رہی جبکہ حلقہ ایل اے 27 میں موسم کی خرابی اور لینڈسلائڈنگ کے باعث عملہ اور پولنگ کا سامان نہ پہنچ سکا، تمام 196 پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابات ملتوی کردیے گئے۔پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج بھی آنا شروع ہوگئے۔

غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج:غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم ليگ(ن) 7حلقوں پر جبکہ پیپلزپارٹی ایک حلقے سے کامیاب ہوئی۔ایل اے 25 نیلم ویلی 1 کے 143 پولنگ اسٹیشن میں سے 11 کے غیرسرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم ليگ (ن) کے شاہ غلام قادر 1433 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے عابد افضل 1018 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔ایل اے 26 نیلم ویلی 2 کے 135 پولنگ اسٹیشن میں سے 26 کے غیرسرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے میاں عبدالوحید 3762 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر اور ن ليگ کے شاہ غلام قادر 3296 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

ایل اے 30 مظفرآباد 4: تمام 129 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری و غیرحتمی نتیجے کے مطابق مسلم ليگ(ن) کے مصطفیٰ بشیر عباسی 17749 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے مبشر منیر اعوان 11947 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 34 جموں 1 کے 131 پولنگ اسٹیشن میں سے 51 کے غیرسرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم ليگ(ن) کے ناصر حسین ڈار 1690 ووٹ لے کر پہلے اور آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے محمد سعود مختار 741 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ایل اے 35 جموں 2: 142 پولنگ اسٹیشن میں سے 100 کے غیرسرکاری غیر حتمی نتیجے کے تحت ن لیگ کے چوہدری محمد اسماعیل 18788 ووٹ لے کر پہلے اورآزاد امیدوار سردار محمد غیاث 5041 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔ایل اے 36 جموں 3: تمام 140 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم ليگ (ن) کے محمد احسن رضا 27218 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے احسن اسماعیل 12980 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ایل اے 37 جموں 4: تمام 185 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجے کے تحت مسلم ليگ (ن) کی مریم جاوید 28664 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں جبکہ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے عثمان علیم 22827 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے

۔ایل اے 38 جموں 5 کے 115 پولنگ اسٹیشن میں سے 48 کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق ن لیگ کے ذیشان علی 5483 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ مسلم لیگ آزاد جموں و کشمیر کے محمد اکبر چوہدری 4935 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔ایل اے 39 جموں 6: 157 پولنگ اسٹیشن میں سے 32 کے غیر سرکاری غیر حتمی نتیجے کے مطابق مسلم ليگ(ن) کے راجہ محمد صدیق 2328 ووٹ لے کر پہلے اور پیپلزپارٹی کے چوہدری فخر زمان 650 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔ایل اے 40 کشمیر ویلی 1: 47 پولنگ اسٹیشن میں سے 23 کے غیر سرکاری، غیر حتمی نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے عامر عبدالغفار 1178 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر

جبکہ مسلم ليگ(ن) کے محمد نعیم خان 65 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ایل اے 41 کشمیر ویلی 2: تمام 19 پولنگ اسٹیشنزکے غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجے کے مطابق مسلم ليگ(ن) کے محمد عامر شاہ 1804 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ آزاد امیدوار صباء دیوان 588 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

ایل اے 42 کشمیر ویلی 3: تمام 43 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجے کے مطابق مسلم ليگ(ن) کے سید شوکت علی شاہ 1524 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد عاصم شریف 477 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ایل اے 43 کشمیر ویلی 4: تمام 10 پولنگ اسٹیشن کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجے کے مطابق مسلم ليگ(ن) کے محمد یاسین لون 1276 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جاوید بٹ 563 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

ایل اے 44 کشمیر ویلی 5: تمام27 پولنگ اسٹیشن کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجے کے مطابق مسلم ليگ(ن) کے محمد احمد رضا قادری 1700 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی مہرالنساء 650 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ایل اے 45 کشمیر ویلی 6: تمام 41 پولنگ اسٹیشن کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی عبدالماجد خان 3448 ووٹ لے کر کامیاب وئے جبکہ آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے خواجہ محمد دلاور 823 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔