صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کی طرف سے عیدالفطر کے موقع پر 6 ماہ کی معافی کا اعلان پاکستان کی جیلوں میں بھنگڑے آصف زرداری زندہ باد کے نعرے عید کا ایک ایسا موقع ہوتا ہے جب ایک قیدی کو اپنے قید میں ہونے کا شدت سے احساس ہوتا ہے اور ان کے لواحقین بھی عید کے موقع پر اداس نظر آتے ہیں بلکہ روتے نظر آتے ہیں صدر زرداری سے گزارش ہے کہ قیدیوں کی معافی کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے شکریہ
*وفاقی کابینہ اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنس میں اضافہ کر دیا گیا**وفاقی وزرا، وزرائے مملکت اور مشیران کی تنخواہوں میں 188 فیصد تک اضافہ: ذرائع**وفاقی وزراء نے اپنی اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں میں اضافے کی سمری منظور کر لی: ذرائع**وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کے الاؤنس اور تنخواہوں کے ایکٹ 1975 میں ترمیم منظور: ذرائع**نئے بل کی منظوری کے بعد وفاقی وزیر، وزیر مملکت اور مشیر کی تنخواہ 5 لاکھ 19 ہزار ہوگی: ذرائع**اس سے پہلے وفاقی وزیر کی تنخواہ 2 لاکھ اور وزیر مملکت کی 1 لاکھ 80 ہزار تھی: ذرائع**وفاقی وزیر کی تنخواہ میں 159 فیصد اضافہ منظور: ذرائع**وزیر مملکت اور مشیر برائے وزیراعظم کی تنخواہوں میں بھی 188 فیصد تک اضافہ منظور: ذرائع**وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے سمری کی منظوری دے دی: ذرائع*
ایک اور پاکستانی برطانوی ہاؤس آف لارڈز کا رکن منتخبباپ دادا مزدور تھے، ہاؤس آف لارڈ تک پہنچنےکا سفر طویل اور محنت سے عبارت ہے، شیفیلڈ میں 20 برس کونسل گروپ لیڈر اور یورپی پارلیمنٹ میں بھی خدمات سرانجام دیں، کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ لارڈ بنوں .شفق محمدپاکستان میں چکسواری کے علاقے میں مٹی سے بنےگھر میں آنکھ کھولی،گھر میں پانی اور بجلی نہیں تھی، والدہ کنویں سے پانی بھر کر لاتی تھیں۔لارڈ شفق محمد
لیہ:حسن نواز کے والدین نے بیٹے کی شاندار پرفارمنس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسن نواز کی محنت رنگ لے آئی۔حسن نواز کے والد کا کہنا تھا کہ کم وسائل کے باوجود حسن نواز نے اپنے سفر میں ہمت نہیں ہاری انہوں نےلیہ کے پسماندہ علاقے کوٹلہ حاجی شاہ سے اپنا سفر شروع کیا، بیٹے کی عمدہ کارکردگی پربہت خوش اور اپنے رب کے شکرگذارہیں۔حسن نواز کی 44 گیندوں پر سنچری، پاکستان نے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں کیویز کو 9 وکٹوں سے شکست دیدیحسن نواز کی والدہ نے کہا کہ اس ڈر سے میچ نہیں دیکھا کہ کہیں بیٹے کو ان کی ہی نظر نہ لگ جائے۔
نیوزی لینڈ کے خلاف آکلینڈ میں 44 گیندوں پر 105 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھلینے اور ٹیم کو جیت سے ہمکنار کروانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئےحسن نواز نے کہا کہ وہ اپنی سنچری اپنے والد کے نام کرتے ہیں جو ہمیشہ ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔.
۔راولپنڈی کے علاقے تھانہ کینٹ میں پیشہ ور گداگری کا بڑا نیٹ ورک چلانے والے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔پولیس کے مطابق مختلف پلازوں میں مقیم 47 پیشہ ور گداگر وں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جن میں 14خواتین اور 2 ٹرانس جینڈر بھی شامل ہیں۔پولیس کا بتانا ہے کہ تھانہ کینٹ کے علاقے میں پیشہ ور گداگری میں ملوث بڑا نیٹ ورک چلانے والے 2 ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، نیٹ ورک کم عمر بچوں کوبھی گداگری کے لیے استعمال کرنے میں ملوث ہے۔پولیس کے مطابق گرفتارملزمان لاہور ، فیروز والا، بورے والا اور ڈی جی خان سے افراد کو لا کر گداگری کرواتے تھے جس کیلئے ملزمان گداگروں کو اپنی ٹرانسپورٹ پر مخصوص پوائنٹ پر چھوڑتے ہیں جہاں وہ گداگری کرتے تھے، گداگروں نے خواتین کے پرس، گاڑیوں سے موبائل اور قیمتی سامان چرانے کا بھی اعتراف کیا ہے۔سی پی او راولپنڈی کے مطابق گداگروں کو کرائے پر رہائش دینے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔—–بلوچستان میں انتظامی بحران ختم کرنے کیلئے ایف آئی اے سندھ زون سے 10 افسران کا بلوچستان تبادلہ کردیا گیا ہے جبکہ ہیڈکوارٹر کے احکامات پر مزید ایف آئی اے کے 24 افسران کی فہرست تیار کی جارہی ہے۔ ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر اسلام آباد سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں آپریشنل ڈیمانڈ کی وجہ سے تمام رینک کے افسران کی کمی ہے اور ایف آئی اے بلوچستان کی اہم ذمہ داریوں کیلئے کام کو مؤثر بنانے کیلئے فوری تبادلوں کی ہدایت کی گئی۔ایف آئی اے اے ڈی جی ساؤتھ آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی زون سے اے ڈی شاہد سعید، انسپکٹر نازیہ سلیم، خرم اسلام، راجہ سنیل، منیر باجکانی اور کامبوہ خان کا تبادلہ بلوچستان کردیا گیا ہے، حیدرآباد زون سے ذوالفقار علی سیال، صائمہ صدیق، سرفراز حسین اور وقار احمد بھی بلوچستان روانہ کیے گئے ہیں۔ایف آئی اے حکام کے مطابق ہیڈ کوارٹر سے موصول تازہ احکامات میں ایف آئی اے سندھ زون سے مزید 24 افسران اور اہلکاروں کا بلوچستان تبادلہ کرنے کا کہا گیا ہے۔حکام کے مطابق ان احکامات پر فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں اور آئندہ 24 گھنٹے میں مزید 24 ایف آئی اے ملازمان کے بلوچستان تبادلے متوقع ہیں، 2 اسسٹنٹ ڈائریکٹر، 6 انسپیکٹر، 6 سب انسپکٹرز اور 10 کانسٹیبلوں کا فوری طور پر بلوچستان تبادلہ کیا جائے۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے سندھ زون میں پہلے ہی افسران کی شدید کمی ہے، تازہ یا آئندہ صورتحال میں مزید انتظامی بحران کا خدشہ ہے۔——صدر آصف علی زرداری نے یوم پاکستان اور عید الفطر 2025 کے موقع پر قیدیوں کے لیے خصوصی طور پر 180 دن کی سزا میں کمی کا اعلان کیا ہے. یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت کیا گیا۔90 دن کی خصوصی معافی تمام سزا یافتہ قیدیوں کے لیے ہوگی.سوائے ان افراد کے جو قتل، جاسوسی، ڈکیتی، اغوا، ریاست مخالف سرگرمیوں، زیادتی اور دہشت گردی جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔اس کے علاوہ مالیاتی جرائم میں ملوث، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے، غیر ملکیوں کے ایکٹ 1946 اور منشیات کنٹرول ایکٹ 2022 کے تحت سزا یافتہ افراد بھی اس رعایت سے مستفید نہیں ہوں گے۔یہ رعایت 65 سال سے زائد عمر کے مرد قیدیوں اور 60 سال سے زائد عمر کی خواتین قیدیوں کو دی جائے گی. بشرطیکہ وہ اپنی ایک تہائی سزا مکمل کر چکے ہوں۔وہ خواتین جو اپنے بچوں کے ساتھ قید ہیں اور 18 سال سے کم عمر کم عمر قیدی، جنہوں نے اپنی سزا کا ایک تہائی حصہ مکمل کر لیا ہے، بھی اس رعایت کے حقدار ہوں گے۔
40 ممالک میں سےپاکستان کا تیارکردہ فٹبال ہرلحاظ سے بہترین قرارپایا فیفا ورلڈکپ 2026 امریکہ کینیڈا میکسکو میں کھیلا جاۓ گاجس میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کا تیارکردہ فٹ بال استعمال ہوگا فٹ بال کی عالمی تنظیم نے پاکستان کاتیار کردہ بال پر اعتماد کرتے ہوئے منظوری دے دی یہ سلسلے گزشتہ تین فٹبال ورلڈکپ سے جاری ہے جہاں پرصرف پاکستان کا تیارکردہ فٹ بال استعمال ہورہا ہے
نواز شریف کی حکومت نے پہلی بار بجلی کے بلوں پر سرچارج لگایا تو اس پر اپوزیشن اور عوام کی جانب سے کافی سخت ردعمل آیا ۔ سینٹ کا اجلاس ہو رہا تھا صدارت بلوچستان سے تعلق رکھنے والی نورجہان پانیزئی کررہی تھیں ۔حافظ حسین احمد اٹھے اور کہا وزیر خزانہ جناب سرچارج عزیز صاحب بتانا پسند فرمائیں گے؟ ابھی سوال نامکمل تھا کہ وزیر خزانہ سرتاج عزیز اٹھے اور کہا ”جی !انہیں سمجھائیں، میرا نام درست لیں ۔”حافظ صاحب سے درست نام لینے کو کہا گیا تو حافظ صاحب کہنے لگے: ”آج اخبار میں “سرچارج” کا تذکرہ بہت پڑھا ممکن ھے وہی اٹک گیا ہو ۔ وزیر صاحب اپنا درست نام بتادیں تاکہ انہیں اسی نام سے پکارا جائے ۔ سرتاج عزیز اپنے سرخ چہرے کے ساتھ انتہائی غصے میں اٹھے اور کہنے لگے:” میرا نام سرتاج ہے سرتاج!! !!!یہ کہنے کی دیر تھی کہ حافظ حسین احمد نے کہا محترمہ چیئرپرسن صاحبہ! آپ انہیں سرتاج (شوہر مراد ہے)کہہ سکتی ہیں؟ ڈاکٹر نورجہاں پانیزئی چند لمحوں کے لئے تو چپ رہیں۔ پھر بولیں:”
نہیں میں نہیں کہہ سکتی” حافظ حسین احمد نے جواباً کہا جب آپ انہیں “سرتاج” نہیں کہہ سکتیں تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں؟اسی طرح ایک بار وسیم سجاد سینٹ کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے اقبال حیدر(مرحوم) کی یہ عادت تھی کہ وہ اجلاس سے اٹھ کرہال کے ساتھ والے کمرے میں بیٹھ کر سگریٹ پیتے تھے ۔چیئرمین صاحب نے پوچھا اقبال حیدر کہاں ہیں؟ حافظ حسین احمد نے کہا” پینے گئے ھیں” پوے ہال میں قہقہے گونجنے لگے تو اقبال حیدر فوراً ایوان میں داخل ہوئے اور کہنے لگے جناب چیئرمین !انہو ں نے مجھ پر بہتان لگایا ھے’ اقبال حیدر غصے سے لال پیلے ھو چکے تھے ،حافظ حسین احمد اٹھے اور کہنے لگے جناب چیئرمین! آپ ان سے پوچھیں یہ سگریٹ پی کر نہیں آئے ؟میں نے بھی تو یہی کہا تھا کہ پینے گئے ہیں ڈاکٹر اشرف عباسی قومی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر تھیں، سپیکر معراج خالد بیرونی دورے پر چلے گئے۔ اب قائم مقام سپیکر کی حیثیت سے اجلاس کی صدارت اشرف عباسی ہی کو کرنا تھی ۔مسئلہ صرف حافظ حسین احمد کا تھا کہ کسی طرح انہیں کنٹرول کیا جائے۔ ڈاکٹر اشرف عباسی نے سوچ وبچار کے بعد فیصلہ کیا کہ حافظ حسین احمد سے میٹنگ کرلی جائے ۔وہ یہ سوچ کر رات ساڑھے دس بجے ایم این اے ھوسٹل چلی آئیں ۔کمرے میں کراچی کے ایک عالم دین بھی موجود تھے ان سے کہنے لگیں کہ حافظ صاحب بہت تنگ کرتے ہیں انہیں سمجھائیں، اجلاس کو پر سکون رہنے دیا کریں۔ تیسرے فریق کی موجودگی میں حافظ حسین احمد اور ڈاکٹر اشرف عباسی کے درمیان معاہدہ ہوگیا کہ حافظ حسین احمد “تنگ” نہیں کریں گے ۔اگلے دن اجلاس شروع ھوا تو حافظ حسین احمد اٹھے اور بولنا چاہا تو ڈاکٹر اشرف عباسی نے غصے سے کہا بیٹھ جاؤ۔ چند منٹوں کے توقف کے بعد وہ پھر اٹھے تو ڈاکٹر صاحبہ نے اپنا پہلے والا جملہ دھرایا دیا۔ ایک مرتبہ پھر ایسا ھوا ۔جب چوتھی مرتبہ حافظ حسین احمد اٹھے تو ڈاکٹر اشرف عباسی نے جھاڑ پلادی ۔حافظ صاحب نے کہا میں رات والے معاہدے کو توڑنے کا اعلان کرتا ہوں۔یہ کہنے کی دیر تھی کہ ڈاکٹر اشرف عباسی نے سپیکر کی کرسی سے مخاطب ھوتے ہوئے کہنا شروع کردیا :نہیں، نہیں حافظ صاحب! معاہدہ برقرار رہے گا۔ تمام ممبران “رات” والے معاہدے پر حیرت زدہ تھے ،یہ معاہدہ ممبران کیلئے معمہ بن کے رہ گیا تھا۔ ملک معراج خالد قومی اسمبلی کے سپیکر تھے، اعتزاز احسن وزیر پارلیمانی امور تھے، انہیں جواب دینا تھے اعتزاز احسن نے آتے ہی سپیکر سے کہا کہ آج مجھے جلدی ھے حافظ حسین احمد صاحب سے کہیں کہ وہ سوال پوچھ لیں۔ حافظ حسین احمد نے کہا کہ وزیر صاحب بتانا پسند کریں گے کہ کس بات کی جلدی ہے؟ اعتزازاحسن وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو مری جارہی ہیں۔ حافظ حسین احمد:کس پر؟ بس یہ کہنے کی دیر تھی کہ شور شرابہ شروع ہوگیا ۔
حکومتی پارٹی کے اراکین کہنے لگے کہ یہ جملے قابل اعتراض ہیں، ہم واک آؤٹ کریں گے نہیں تو حافظ صاحب اپنے الفاظ واپس لیں۔حافظ حسین احمد: کون سے الفاظ قابل اعتراض ہیں، میں نے بڑی لمبی تقریر کی ہے مجھے کیا پتہ کہ کون سے قابل اعتراض بن گئے ہیں۔ معراج خالد ۔۔ وہ جو قابل اعتراض ھیں ۔ حافظ حسین احمد۔۔ مجھے کیسے پتہ چلے گا؟ اعتزاز احسن ۔۔۔ وہ جو انہوں نے کہا کہ کس پر…؟ حافظ حسین احمد:جناب سپیکر !میرا کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اگر محترمہ ہیلی کاپٹر پر جارہی ہیں تو پھر تویہ جائیں اور اگر وہ بائی روڈ جارہی ہیں تو وزیر صاحب بعد میں اپنی گاڑی پر جاسکتے ہیں۔ میں نے یہ پوچھا کہ وہ کس پر مری جارہی ہیں؟ گاڑی پر یا ہیلی کاپٹر پر” اتنے میں شور بلند ھوا اور پیپلز پارٹی کے اراکین پھر کھڑے ھوگئے کہنے لگے:” نہیں! حافظ صاحب کی نیت ٹھیک نہیں ھے۔” بڑھ چڑھ کر بولنے والوں میں جہانگیر بدر بھی تھے۔ حافظ حسین احمد:جناب سپیکر !مجھے اپنی نیت کا پتہ ھے ،انہیں میری نیت کا کیسے پتہ چل گیا؟یہ پکوڑے بیچنے والے جس عظیم خاتون کے توسط سے ممبر بن کے آئے ہیں ان کی اپنی لیڈر کے بارے میں کیسی سوچ ہے؟ حافظ صاحب کی حس مزاح اور انداز تخاطب بہت جاندار تھا وہ بہت سنجیدہ ماحول کو اپنے ایک جملے سے کشت زعفران بنا دیتے تھے۔ عمر بھر مولانا فضل الرحمان کے ساتھی رہے آخر میں جنرل فیض جیسے “فضول” جرنیل کی وجہ سے مولانے سے اختلاف کیا جو بعد ازاں صلح کی صورت میں اپنے گھر واپسی کا سبب بنا ۔ حافظ حسین احمد سفر آخرت پر روانہ ہوگئے ہیں ۔انا للہ وانا الیہ راجعون اللہ پاک انہیں غریق رحمت فرمائے ۔
جدہ : 20 مارچ 2025*وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 19 ہزار پوائینٹس کی حد عبور کرنے پر اظہار اطمینان*پاکستان اسٹاک ایکسچنج میں کاروبار کی مثبت سمت حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تاجروں اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا اظہار ہے
: وزیراعظم بہتر ہوتے معاشی اعشاریے اور کاروباری ماحول پچھلے ایک سال کے دوران حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ممکن ہوا
: وزیراعظم حکومت ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لئے مثبت ماحول کی فراہمی کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر تمام تر سہولیات فراہم کر رہی ہے : وزیراعظم
مدینہ منورہ: مارچ 20، 2025۔*وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی مدینہ منورہ آمد مدینہ منورہ آمد پر گورنر مدینہ عزت مآب شہزادہ سلمان بن سلطان نے وزیراعظم کا ایئر پورٹ استقبال کیاوزیراعظم محمد شہباز شریف مدینہ منورہ میں روضہ رسول کی زیارت کریں گے، مسجد نبوی میں عبادات اور نوافل ادا کریں گے اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کریں گے.
پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلاول بھٹو زرداری نے افغانستان کو دہشتگردی کی آماجگاہ قرار دے دیا۔پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو آگ پاکستان میں لگی ہے اردگرد والے مت سمجھیں یہ آگ اُن تک نہیں پہنچے گی۔پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے والوں کا بھی پتہ لگانا ہو گا اور افغانستان میں دہشتگردی کا معاملہ بھرپور انداز میں سفارتی سطح پر اٹھانا ہو گا جبکہ دنیا کو بھی افغان حکومت کے کردار سے آگاہ کرنا ہو گا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی دنیا بھی یہ سب معاملات دیکھے جا رہے ہیں اور دنیا خود کو اِس خطے سے الگ تھلگ نہیں رکھ سکتی۔
بولان میں جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے کے بعد بلوچستان حکومت نے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے لیویز فورس کو صوبائی پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر سول فورسز کو مزید منظم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں چھبیس ہزار اہلکاروں پر مشتمل لیویز فورس کو بلوچستان پولیس میں ضم کرنے کے لیے قانون سازی کے لیے مشاورت شروع کردی گئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر کیا گیا ہے.۔ بلوچستان میں پولیسنگ کا نظام دو ححصوں میں تقسیم ہے۔ پولیس شہری علاقوں میں کام کرتی ہے جسے اے ایریا جبکہ لیویز دیہی علاقوں میں کام کرتی ہے جسے بی ایریا کہا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اے اور بی ایریاز کی تفریق ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ کوئٹہ کے حالیہ دورہ کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری حکام نے لیویز فورس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے تھے۔
پاکستان نے غزہ پر اسرائیل کے مہلک فضائی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں میں 400 سے زائد بے گناہ فلسطینی شہید ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ترجمان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اسرائیل نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں یہ جارحیت کی جو اسے مزید قابل مذمت بناتا ہے۔شفقت علی خان نے کہا کہ اسرائیل کا یہ بھیانک عمل جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے غزہ سمیت پورے خطے میں ایک بار پھر عدم استحکام کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے زور دیا کہ وہ اسرائیلی کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری کردار ادا کرے۔
پاکستان نے مطالبہ کیا کہ غزہ اور مشرق وسطیٰ میں فوری اور دیرپا امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کی جائیں۔ترجمان نے کہا کہ یہ حملے نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے کی مجموعی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں، پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے اور عالمی سطح پر اس مسئلے کے حل کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے مسلم لیگ ن سے پیپلز پارٹی میں شامل ہونیوالے رانا احسان سمیت پارٹی رہنماؤں نے ملاقات کی۔تفصیلات کے مطابق ملاقات کے دوران رانا احسان نے پیپلز پارٹی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی میں شمولیت پر رانا احسان کو خوش آمدید کہا۔ بلاول بھٹو زرداری سے پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری وقار مہدی نے ملاقات کی اور ترقیاتی منصوبوں کے معیار کو بہتر بنانے سمیت کارکردگی سے آگاہ کیا۔ دریں اثنا چیئرمین پیپلز پارٹی سے محکمہ بلدیات کے وزیر سعیدغنی کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں صوبائی وزیر نے اپنے محکمے کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ دی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے اجلاس میں کمیٹی نے سینیٹ کے غلط رولز بتانے پر ڈپٹی سیکرٹری وزارت آئی ٹی کو اجلاس سے نکال دیا، چیئرپرسن کمیٹی نے وفاقی وزیر شزہ فاطمہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، ڈپٹی سیکرٹری آئی ٹی نے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ کو سینیٹ کمیٹی رولز سے متعلق گمراہ کردیا، کمیٹی نے سینیٹ کے غلط رولز بتانے پر ڈپٹی سیکرٹری وزارت آئی ٹی کو اجلاس سے نکال دیا۔قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ ڈپٹی سیکرٹری وزارت آئی ٹی کے خلاف تحریک استحقاق لائی جائے گی، وفاقی وزیر شزہ فاطمہ ڈپٹی سیکرٹری کی طرف سے بتائے گئے غلط رولز پڑھ کر چلی گئیں، شزہ فاطمہ کمیٹی سے معافی مانگیں۔سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کو ایک ایک کرکے ان کا مؤقف جانیں گے،
ایل ڈی آئی کمپنیوں کے بقایا جات کے حوالے سے ہمارے پاس 2 آپشن زیر غور ہیں، ایل ڈی آئی کمپنیوں کے 112 کیسز اس وقت عدالتوں میں چل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمپنیاں پرنسپل رقم ایک ساتھ جمع کرادیں تو بہتر رہے گا، باقی رقم اقساط میں جمع کروانے کا بھی آپشن ہوسکتا ہے، ہمارے پاس نادہندہ کمپنیوں کے لائسنس کینسل کرنے کا بھی آپشن زیر غور ہے، کمپنیاں گزشتہ بقایہ جات ادا کریں تو پرانے لائسنس کی تجدید ہو گی۔کمیٹی چیئرپرسن نے مزید کہا کہ وزارت آئی ٹی کے حکام آئندہ اجلاس میں آکر ایل ڈی آئی کے معاملے پر وضاحت کریں، وزارت آئی ٹی خط کے ذریعے کیا چاہتی ہے کمیٹی کو وضاحت کرے، سابق سیکرٹری آئی ٹی کیخلاف کیا کارروائی کی گئی ہے، ان کو عہدے سے ہٹانے کے علاوہ کیا کیس نیب یا ایف آئی اے کو بھیجا گیا ہے اس پر وضاحت کی جائے۔
کوئٹہ میں قائم بلوچستان یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت کےلیے بند کر دیا گیا، انتظامیہ نے سٹی سمیت تمام کیمپس کا تدریسی عمل آن لائن کردیا ۔کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی اور تمام کیمپس میں تدریسی سرگرمیاں ورچوئل لرننگ پر منتقل کردی گئی ہیں۔سرداربہادرخان ویمن یونیورسٹی میں پہلے ہی طالبا ت کے لیے آن لائن کلاسز کا اجراء کیا جاچکا ہے۔بلوچستان آئی ٹی یونیورسٹی (بیوٹمز) میں تمام کلاسز عید الفطر تک معطل کردی گئی ہیں۔یونیورسٹی اعلامیےکے مطابق آئی ٹی یونیورسٹی کی تمام کلاسز آن لائن ہوں گی، آئی ٹی یونیورسٹی ٹرانسپورٹیشن سروس غیر معینہ مدت تک بند کی گئی ہے۔اعلامیے کے مطابق یونیورسٹی کے ژوب اور مسلم باغ کیمپس میں تدریسی عمل معمول کے مطابق ہوگا۔ذرائع کے مطابق یونیورسٹیوں کو سکیورٹی خدشات کی بناء پر بند کیا گیا ہے۔
*چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کا قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی سے خطاب*ملک کی سلامتی سے بڑا کوئی ایجنڈا نہیں ،کوئی تحریک نہیں، کوئی شخصیت نہیں، آرمی چیف پائدار استکام کے لئے قومی طاقت کہ تمام عناصر کو ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہو گا، آرمی چیف یہ ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے، آرمی چیف ہم کو بہتر گورننس اور مملکت پاکستان کو Hard State بنانے کی ضرورت ہے ہم کب تک ایک Soft State کے طرز پر بے پناہ جانوں کی قربانی دیتے رہیں گے، آرمی چیف ہم گورننس کہ گیپس کو کب تک افوج پاکستان اور شہداء کے خون سے بھرتے رہیں گے، آرمی چیف علماء سے درخواست ہے کے وہ خوارج کی طرف سے اسلام کی مسخ شدہ تشریح کا پردہ چاک کریں، آرمی چیفاگر یہ ملک ہے تو ہم ہیں، لہٰذا ملک کی سلامتی سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی چیز نہیں، آرمی چیف پاکستان کے تحفظ کیلئے یک زبان ہو کر اپنی سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک بیانیہ اپنانا ہو گا، آرمی چیف جو سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ان دہشتگردوں کے ذریعے کمزور کر سکتے ہیں آج کا دن ان کو یہ پیغآم دیتاہے کہ ہم متحد ہو کر نہ صرف انکو بلکہ انکے تمام سہولتکاروں کو بھی ناکام کریں گے، آرمی چیف ہمیں اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ ہے جو کچھ بھی ہو جائے انشاء اللہ ہم کامیاب ہونگے، آرمی چیف