



*: 10 دسمبر 2024ء*12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (ر) کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی، آئی ایس پی آرفیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے اگلے مرحلے میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید(ر) کوباضابطہ طور پر چارج شیٹ کردیا گیا ہے، آئی ایس پی آران چارجز میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزیاں کرتے ہُوئے ریاست کے تحفظ اور مفاد کو نقصان پہنچانا،اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور افراد کو ناجائز نقصان پہنچنانا شامل ہیں، آئی ایس پی آرفیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے عمل کے دوران ملک میں انتشار اور بدامنی سے متعلق پرتشدد واقعات میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید(ر) کے ملوث ہونے سے متعلق علیحدہ تفتیش بھی کی جا رہی ہے، آئی ایس پی آران پرتشدد اور بدامنی کے متعدد واقعات میں 9 مئی سے جڑے واقعات بھی شامل تفتیش ہیں، آئی ایس پی آران متعدد پرتشدد واقعات میں مذموم سیاسی عناصر کی ایماء اور ملی بھگت بھی شامل تفتیش ہے، آئی ایس پی آر فیلڈجنرل کورٹ مارشل کے عمل کے دوران لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (ر)کو قانون کے مطابق تمام قانونی حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں، آئی ایس پی آر
ایوب خان کے دور میں ایک لطیفہ بہت مشہور ہوا۔ ہوا یہ کہ ایوب نے ایجنسیوں سے اپنی عوامی مقبولیت اور قبولیت کی رپورٹ مانگی جو %100 پیش کی گئی۔اس رپورٹ کو ایوب نے جعلی قرار دے دیا چنانچہ ایک اعلی سطحی اجلاس ہوا۔ جس میں فیصلہ ہوا کہ صدر ایوب خان خود کسی سنیما ہال میں تھرڈ کلاس کیبن میں عوام کے ساتھ بیٹھ کر اپنے متعلق ایک ڈاکومنٹری فلم دیکھیں گے اور عوام کا ردعمل کا خود ملاخطہ کریں گے۔ چنانچہ طے شدہ پروگرام کے مطابق صدر ایوب خان بھیس بدل کر سنیما ہال میں پہنچ گئے اور ان کے بارے ڈاکومنٹری فلم چلنا شروع ہوگئی۔ جس پہ سارا سنیما ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ ایوب خان خود تالی نہیں بجا رہے تھے مگر بہت خوش اور شاداں تھے۔ اسی دوران ساتھ بیٹھے آدمی نے صدر ایوب خان کو ایک زور دار تھپڑ رسید کر دیا اور بولا تالی بجاؤ ورنہ پولیس گرفتار کرکے تھانہ میں بند کر دے گی۔۔۔۔۔
_*اسد حکومت کا تختہ اُلٹنے والے باغیوں کے سربراہ احمد حسین عرف ابو محمد الجولانی کون ہیں؟*_امریکہ نے الجولانی اور اُن کی ‘ہیئت تحریر الشام’ تنظیم کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔الجولانی 2003 میں عراق میں امریکہ اور اتحادی افواج کے خلاف سرگرم القاعدہ میں شامل ہوئے۔سن 2016 میں الجولانی نے پہلی مرتبہ اپنا چہرہ ظاہر کیا اور اعلان کیا کہ اُن کا گروپ القاعدہ سے اپنی راہیں جدا کر کے ‘جبھہ فتح الشام’ کے نام سے جدوجہد جاری رکھے گا۔’ہیئت تحریر الشام’ انضمام کے مخالف دھڑوں کے خلاف لڑتی رہی اور شمال مغربی شام میں اسے سرکردہ طاقت کے طور پر مزید تقویت
کشمور میں پولیس نے کارروائی کرکے کچے کے ڈاکوؤں کیلئے اسلحہ لے جانے والے 7 ملزمان گرفتار کرلیے۔ سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کشمور بشیر بروہی کے مطابق کچے کے ڈاکوؤں کواسمگل کیا جانے والا بڑی تعداد میں اسلحہ پکڑا گیا۔انہوں نے بتایاکہ ہیبت روڈ پرایک ٹرک پرچھاپہ مار کر 7ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جن سے 12ہزار گولیاں، 4 جی تھرکشمور میں پولیس نے کارروائی کرکے کچے کے ڈاکوؤں کیلئے اسلحہ لے جانے والے 7 ملزمان گرفتار کرلیے۔ سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کشمور بشیر بروہی کے مطابق کچے کے ڈاکوؤں کواسمگل کیا جانے والا بڑی تعداد میں اسلحہ پکڑا گیا۔انہوں نے بتایاکہ ہیبت روڈ پرایک ٹرک پرچھاپہ مار کر 7ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جن سے 12ہزار گولیاں، 4 جی تھری رائفلز، 4 ایس ایم جی رائفلز برآمد ہوئیں۔ان کا کہنا تھاکہ ملزمان سے ایم فور رائفل، 2 پستول، ایس ایم جی کے 35 میگزین، جی تھری 320 میگزین برآمد ہوئے۔ایس ایس پی کا کہنا تھاکہ گرفتار ملزمان نے انکشاف کیا کہ اسلحہ کے پی کے سے پنجاب اور سندھ کے کچے کے ڈاکوؤں کو فراہم کیا جاتا ہے۔
آپ کے فون پر کبھی ایسے نمبرز سے کال آتی ہوں گی جنہیں آپ جانتے نہیں ہیں لیکن پھر بھی آپ کال اٹھا لیتے ہیں لیکن اب سائبر کرائم حکام نے خبردار کیا ہے کہ ان نمبروں سے اگر فون کالز آئیں تو جواب ہر گز نہ دیں۔بھارت کے شہر حیدرآباد کی سائبر کرائم پولیس نے عوام کو نامعلوم نمبروں سے آنے والی کالز کے حوالے سے خبردار رہنے کا مشورہ دیا ہے،پولیس نے خاص طور پر کچھ مخصوص نمبرز جاری کیے ہیں اور کہا ہے کہ ان نمبرز سے آنے والی کالز کو ریسکیو نہ کریں، ان نمبرز میں 94777455913، 37127913091، 56322553736، 37052529259، 255901130460 شامل ہیں۔سائبر کرائم پولیس نے بتایا کہ ان نمبروں کے علاوہ جن نمبروں کا آغاز 371+ (لٹویا)، 374+ (بیلاروس)، 381+ (سربیا)، 563+ (چلی)، 380+ (لیتھوانیا)، اور 255+ (تنزانیہ) سے ہوتا ہے وہ دھوکہ دہی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔یہ کالز اکثر مختصر وقت کے لیے کی جاتی ہیں، اور اگر آپ واپس کال کریں تو آپ کی فون کانٹیکٹس، بینک، اور کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات محض تین سیکنڈز میں چوری ہو سکتی ہیں۔پولیس نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی آپ کو 90# یا # دبانے کو کہے تو ہرگز نہ کریں، کیونکہ ایسا کرنے 90 سے دھوکے باز آپ کے سم کارڈ کو کنٹرول کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔عوام کو احتیاط برتنے اور ایسے نمبروں کو نظرانداز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔