تازہ تر ین

ائین میں چاروں صوبوں کی خودمختاری کی بات کی مولانا فضل الرھمان۔سیاسی مذہبی جماعت کا سربراہ گورنری مانگتا تھا۔۔ ۔۔چاروں طرف کھیلنے والہ سیاسی جماعت کا لیڈر پھلی دفعہ بلیک میل کرنے میں ناکام۔۔۔ عمران خان کی صوبائی حکومت ختم کروانے میں بھی اس کا ھاتھ۔۔ ۔۔اسد قیصر عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھوپنے والہ۔ملک بھر میں دھشت گردی بلوچستان میں الرٹ جاری۔پارلیمنٹ کو دھشت گردوں سے بچا لیا گیا۔۔برطانوی کرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی ٹرائنگورز سیریز۔۔بقول پاکستانی مولوی یہ ملک اللّٰہ کی رازوں میں سے ایک راز ہے ۔۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ہم نے آئین میں چاروں صوبوں کی خودمختاری کی بات کی ہے، کس بات کی خودمختاری؟ یہ کوئی کنفیڈریش نہیں ہے کہ کوئی یونٹ جب چاہے آزادی حاصل کرے اور الگ ہو جائے، یہ فیڈریشن ہے کہ جس فیڈریشن کے تحت تمام یونٹیں اور تمام صوبے اپنے وسائل پر اختیار رکھتے ہیں، اپنی قانون سازی پر اختیار رکھتے ہیں، لیکن ہر چند کے آئین صوبوں کو اختیار دیتا ہے، صوبوں کے عوام کو اختیار دیتا ہے اور ہر صوبے کے وسائل پر وہاں کے عوام وہاں کے بچوں کے حق کو تسلیم کرتا ہے لیکن جب بھی دیکھا، جب بھی دیکھا صوبوں کے اختیار پر شب خون مارا گیا، مجھے یاد ہے جب انیس سو تریہتر میں بلوچستان حکومت توڑی گئی اور وہاں گورنر راج نافذ کیا گیا وہ بھی پاکستان پیپلز پارٹی جو کہتی ہے کہ جمہوریت میری شناخت ہے، جس جماعت کی شناخت جمہوریت ہے اسی نے سن ستر کے الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا، اسی نے بنگال کی اکثریت کو تسلیم نہیں کیا، اسی نے بٹے ہوئے پاکستان کے اندر بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر دیا اور صوبہ سرحد میں راتوں رات گورنر کو تبدیل کر دیا اور اس کے نتیجے میں مولانا مفتی محمود تھا جس کے ضمیر نے گوارا نہ کیا کہ ایک لمحے کے لیے بھی مزید حکومت جاری رکھے اور اپنی وزارت کے منصف سے استعفیٰ کا اعلان کر دیا، اور ماشاءاللہ جب بھی کسی صوبے میں گورنر راج لگا ہے پنجاب میں لگا، بلوچستان میں لگا، خیبر پختونخواہ میں لگا، جب بھی لگا یہ جمہوریت کی علم بردار پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے نامدار سربراہ آصف زرداری ہی کی قسمت میں آیا۔یہ ہماری تاریخ ہے ہمارے درمیان بعض دفعہ اتفاق بھی ہوتا ہے

لیکن بہرحال یہ تاریخ ہے اس کو تنقید نہ سمجھا جائے، اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا جائے کہ آج ایک بار پھر صوبہ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج نافذ کیا گیا، لیکن ذرا اس گورنر راج کا جائزہ تو لے لیں ایک صوبہ ہے آدھے میں گورنر راج اور آدھے میں ایمرجنسی، اب آپ مجھے ایک بات بتائیں دو ہزار سترہ میں جب فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جا رہا تھا تو ہم نے ایک اختلاف رائے کیا تھا، اس بات پر نہیں کہ ضم نہیں کیا جانا چاہیے ہم نے انضمام کی مخالفت نہیں کی تھی، ہم نے یہ کہا تھا کہ یہ قبائلی عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، انضمام بھی ایک صورت ہو سکتی ہے، مستقل صوبہ بھی ایک صورت ہو سکتا ہے اور جس صورتحال میں چلا آ رہا ہے اس کو برقرار رکھنا بھی ایک صورت ہے، ان تینوں صورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے فاٹا کے عوام سے پوچھا جائے، لیکن فاٹا کے عوام سے نہیں پوچھا گیا، میاں نواز شریف صاحب کے ذہن میں انضمام یہ فاٹا کے عوام کے فائدہ میں تھا، وہ صوبہ بن گیا اس صوبہ کے پہاڑ اور اس پہاڑوں کے نیچے معدنی ذخائر زخائر وہ صوبہ خیبر پختونخوا کی ملکیت بن گئے، انضمام کے بعد ان تمام ذخائر اور وسائل پر صوبہ کے عوام کا حق ثابت ہو گیا، آج کیا وجہ ہے کہ پورے صوبہ میں گورنر راج نہیں لگایا جا رہا اور صرف قبائلی علاقہ سابق فاٹا اور چار ضلعے صرف یہ بتانے کے لیے یہ دھوکہ دینے کے لیے قوم کو کہ یہاں تو بدامنی ہے، تو فاٹا میں بھی بدامنی ہے، تو ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی بدامنی ہے، تو ٹانک میں بھی بدامنی ہے، لکی مروت میں بھی بدامنی ہے، بنوں میں بھی بدامنی ہے، یہ صرف آپ کو دکھانے کے لیے کہ ہم نے یہ سارا کام بدامنی کی وجہ سے کیا ہے، اگر بدامنی ہی وجہ ہے تو آج کل تو آپ کو کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں زبردست مار پڑ رہی ہے اس کو کیوں باہر رکھا ہے؟تو آپ کی چوری ہم جانتے ہیں، بدامنی کی بات کرتے ہو، دہشت گردی کی بات کرتے ہو، اگر بات بدامنی کی ہے تو بلوچستان کے حالات خیبر پختونخوا سے زیادہ خراب ہیں، اگر گورنر راج اس لیے لگایا جا رہا ہے کہ بدامنی ہے، اگر ایمرجنسی اس لیے لگائی جا رہی ہے کہ بدامنی ہے تو پھر اس کا زیادہ حقدار اگر کوئی بن سکتا تھا تو وہ تو صوبہ بلوچستان بن سکتا تھا، بلوچستان میں اس لیے نہیں لگا رہے کہ وہاں کا وزیر اعلیٰ آپ کا مدح سرا اور آپ کا حدی خوان ہے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں اپوزیشن کی حکومت ہے، بات پی ٹی آئی کی نہیں ہے، بات ایک کا اصول کی ہے کہ جہاں اپوزیشن کی حکومت ہو آپ وہاں پر ان کی حکومت کو اڑانے اور وہ فاٹا جس کے ذخائر و وسائل صوبے کا حصہ بن چکے تھے آپ نے ایمرجنسی لگا کر ان کے تمام وسائل کو وفاق کے تابع بنا دیا ہے، کل جس ہاتھ سے آپ نے ان کو کچھ دیا تھا آج دوسرے ہاتھ سے آپ نے واپس چھین لیا ہے۔ یہ ملک تمہاری ملکیت ہے؟ تمہارے باپ دادا کی ملکیت ہے؟ یہ عوام تمہارے نوکر ہیں؟ عوام تمہیں جانور نظر آتے ہیں؟ جیسا چارہ چاہو ان کے سامنے ڈال دو، یاد رکھو! آپ کے اس غیر جمہوری اور جابرانہ اقدام اس کا مقابلہ کوئی پارٹی نہیں کرے گی۔امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا ملتان میں خطاب

بقول پاکستانی مولوی یہ ملک اللّٰہ کی رازوں میں سے ایک راز ہے ۔۔۔۔ لیکن حقیقت میں نظام کفر سے بھی بدتر۔۔۔۔ایان علی اور زردارییان علی اور اس ملک کا قانونایان علی دبئی جانے کے لیے اسلام آباد ائرپورٹ پر پہنچی جس کا نام اس وقت بےنظیر ائرپورٹ رکھا گیا تھا ،وہ وی آئی پی لاؤنج تک آئی اور اپنا سامان کاونٹر پر رکھا تو کسٹم حکام نے اس کا بیگ چیک کرنا چاہا ، ایان علی نے لاپروائی سے بیگ کھولا اور اعجاز چوہدری نامی کسٹم انسپکٹر نے بیگ میں پڑے دو کپڑے ہٹائے تو نیچے ڈالروں کی گڈیاں پڑی ہوئی تھیں ، انسپکٹر نے ایان علی سے استفسار کیا تو اس نے لاپروائی سے کہا کہ یہ میرے ہیں ، اس نے کہا میڈم مجھے یہ رقم زیادہ لگ رہی ہے، کم و بیش پانچ ہزار ڈالرز سے زیادہ کیش لے جانا غیر قانونی ہے ، پھر اس نے گڈیاں گنی تو وہ 5 لاکھ ڈالرز تھے ، کسٹم انسپکٹر نے اپنے سنئئر کو مطلع کیا اور ایان علی کو صوفے پر بٹھا دیا ، ایان علی کو کوئی پریشانی نہیں تھی ، اس کے لئے یہ روز کا معمول تھا لیکن اعجاز چوہدری کے لئے یہ غیر معمولی بات تھی ، وہ جانتا تھا کہ ایان علی ہفتے میں دو مرتبہ دبئی جاتی ہے اور اس کے سامان کی کوئی خاص چیکنگ نہیں ہوتی اور کسٹم کا عملہ ہی اسے ہینگر تک لے کے جاتا ہے ، سنئیر حکام آ گئے اور انہوں نے اعجاز چوہدری کو ایک طرف لے جا کر کچھ سمجھانے کی کوشش کی ، اعجاز چوہدری اکڑ گیا اور اپنی قانونی پوزیشن بتانے لگا ، نیز اس نے اس دوران سی اے اے اور نارکوٹیکس کے افسران کو بھی مطلع کیا ، دوسری ایان علی بےزاری سے صوفے پر بیٹھ کر مالکوں سے مسلسل فون پر بات کرتی رہی ،اسی دوران کسٹم ہی کے کسی فرد نے میڈیا کو خبر دی اور چند گھنٹوں میں پورے میڈیا میں خبر پھیل گئی کہ مشہور ماڈل ایان علی پانچ لاکھ ڈالر سمگل کرتے ہوئے پکڑی گئی اور پکڑنے والا کسٹم انسپکٹر اعجاز چوہدری ہے ،بات چونکہ اب پھیل گئی تھی لہذا کسٹم حکام کو بھی مجبور ہو کر سٹینڈ لینا پڑا ، انہوں نے ایان علی کہ سفری دستاویزات اور ڈیٹا کی انکوائری کی تو صرف ایک سال میں ایان علی 43 مرتبہ دبئی کا سفر کر چکی تھی ، ایان علی نے دوران تفتیش اقرار کیا کہ وہ اپنے ذاتی اخراجات اور شاپنگ کے لیے ڈالر ہی لے کر جاتی تھی ، اس بار 43 ویں مرتبہ پکڑی گئی تھی، دوران تفتیش جو کچھ ہوا اس سے ہر شخص باخبر ہے ،لیکن اس سب کے بیچ جو سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ کسٹم انسپکٹر اعجاز چوہدری تھا ،اس کے افسران اسے ملامت کرتے ،اس کے کولیگز اسے نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ، دوران جرح ایان علی کے وکیل اسے گالیاں اور جھڑکیاں دیتے ، عدالت کے احاطے میں اسے دھمکیاں دیتے ، اسے نا معلوم نمبروں سے کالیں آتی ، اسے قتل کرنے کی دھمکیاں دی جاتی لیکن وہ اپنی جگہ کھڑا رہا ، اسے ہر قسم کا لالچ دیا گیا لیکن وہ کیس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا ، اس کی ترقی روک دی گئی اور بجائے اس کے کہ اسے انعام دیا جاتا ، اسے پابند کیا کہ جب تک کیس کا فیصلہ نہی ہوتا وہ کسٹم کاونٹر پر خدمات نہیں دے گا ۔اس نے تمام ثبوت اکھٹے کئے اور عدالت کو دے دئیے، جب فرد جرم لگنے کی تاریخ قریب آگئی اور اسے بطور عینی گواہ پیش ہونا تھا

،اسے اپنے گھر کے سامنے دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے قتل کر دیا ،پولیس آئی اور اسکی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئی ،چند دن میڈیا پر ہاہا کار رہی پھر تھانہ وارث خان پولیس نے اس کی قتل کو ڈکیتی کی واردات قرار دے کر فائل بند کردیا ،کسٹم حکام بھی بلکل خاموش ہوگئے ،اسکی بیوی سر پیٹ پیٹ کر تھانوں عدالتوں میں دھاڑیں مارتی رہی لیکن اسے ہر طرف سے دھتکار دیا گیا ،اسکے ساتھ اسکا کم سن بیٹا عدالتوں کے احاطے میں بدترین گرمی میں رلتا رہتا لیکن کسٹم حکام اور اعجاز چوہدری کے ساتھی اس سے نظریں چرا کر ایک طرف ہوجاتے ،اعجاز چوہدری مر گیا تھا ۔عدالت نے ایان علی کو منی لانڈرنگ کیس میں اور اعجاز چوہدری کے قتل کے ایف آئی آر میں نامزد ملزم کی حیثیت سے بری کردیا اور اسے پاسپورٹ واپس دے دیا ،آج ایان علی دبئی کے سب سے مہنگے ترین علاقے میں رہائش پذیر ہے ،اسکے پاس ڈاج کی سپورٹس کار ہے ،پچھلے دنوں اس نے مینی رولز رائس خریدی ہے ،وہ فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام کرتی ہے اور پام جمیرا کے بیچ پہ نہاتی ہے ،رہا اعجاز چوہدری تو وہ قبر کے اندھیروں میں اتر گیا ،اسکی بیوی اور کم سن بیٹا تین مرلے کے مکان کی بوسیدہ دیواروں پر اسکا عکس ڈھونڈتے ہیں ،اسکے شیو کا سامان اور تولیہ اور وردی اسکی بیوی نے سنبھال کر رکھے ہیں لیکن اس نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے بیٹے کو کسٹم میں بھرتی نہیں کرائے گی ،اسکے سنگی ساتھی اسکی خالی کرسی کو آج بھی دکھ سے دیکھتے ہیں ،اعجاز چوہدری کی روح اسلام آباد کے پرانے ائرپورٹ کی فضاوں میں دیکھی جا سکتی ہے ،آج اسلام آباد کا نیا ائر پورٹ بن گیا ہے ،وہاں اعجاز چوہدری کے موت کے سائے نہیں ہیں لیکن وہاں کے کسٹم انسپکٹر اب اعجاز چوہدری والی غلطی نہیں دہرائیں گے ریاست کی موت اور مافیاز کی جیت

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved