بنوں کی چھوکرا منڈی جہاں کم عمر لڑکے شوقین افراد خریدتے ہیں تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بنوں کی چھوکرا منڈی جہاں کم عمر لڑکے شوقین افراد خریدتے ہیںHayat Preghal ki چونکا dene wali story se:میرا تعلق بنوں سے ہے اور یقین مانو کے حساس ذہنیت” کی وجہ سے بنوں جانے کو دل نہیں کر رہا، میں اس بات کا دعویدار ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ پورا پختونخوا اس لونڈے بازی کی بیماری میں مبتلا ہے پھر خصوصاً بنوں میں یہ چیز کچھ الگ لیول پر ہے۔وہاں اگر آپ کتنے ہی عزت دار کیوں نہ ہو لیکن آپ کی بجائے اس بندے کو زیادہ عزت دی جائے گی جس کے پاس کوئی کم عمر چوکرہ ہو، اور تو چھوڑو بڑے بڑے پروگراموں میں ان چوکروں کو مہمان خصوصی بناتے ہیں اور بڑے عزت دار لوگ اسی پروگرام کے انہی چوکروں کے سر پر پگڑی بھی رکھتے ہیں۔لڑکوں کے برملا دھندے ہوتے ہیں 30 40 لاکھ تک فروخت ہوتے ہیں اور انہی لونڈے بازوں نے انہی چوکروں کے لیے لاکھوں روپے کی گاڑیاں لی ہوتی ہے۔بنوں کے دو نمبر مولوی کا اسلام صرف عورت تک محدود ہے، عورت سے شروع ہو کر عورت پر ہی ختم ہوتا ہے۔ان چیزوں کے اگر کوئی ثبوت مانگتا ہے تو جاکر دیکھ لے کہ ہر جمعہ کو کاشو پل میں کیا ہوتا ہے، بنوں ریاض پارک میں کونسی تبلیغ ہو رہی ہے، ٹاؤن چوک یا دامی پل پر کیا چلتا ہے۔ وہ ظہیر ایس ایچ او مسجد میں یہ دعا تو مانگ رہا تھا کہ بازار میں شاپنگ کے غرض سے نکلنے والی عورتوں کے خاوند صاحبان کو غیرت دلا دو کہ اپنی بیویوں کو بازار میں نہ چھوڑے جبکہ وہی لونڈے بازوں کو سکیورٹی بھی دیتے رہے۔ اب اگر کسی کو اس بات سے ناراضگی ہو رہی ہے کہ کوئی بنوں کا نام لے کر بنوں کے اچھے برے لوگوں کو بدنام کر رہا ہے تو ان سے عرض کی جاتے ہے کہ خود کو “غیرت دلا کر ان چیزوں کے خاتمے کے لیے کچھ کرے 💔

‏ایرانی مُلاں شہادت کی تمنا لئے تڑپ رھے ھے پاکستانی اکثر مُلاں چندے، صدقہ، زکوۃ فطرانہ کے لئے مچل رھے ھیں۔ مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو سپریم لیڈر نامزد کرنا ایرانی آئین کے مطابق ہے ،چین ایران کی خودمختاری کے احترام پر یقین رکھتا ہے ، چینی وزارت خارجہ۔۔آخری سانس تک مسلمانوں اور ملک کا دفاع کرینگے دنیا سن لے۔۔ اسلام آباد میں کرفیو نافذ۔۔ ‏جس مُلک میں استعفی دے کر بھاگنے والے جسٹس صاحبان سولہ سولہ کروڑ روپے پینشن وصول کر کے گھر جاتے ہوں ملک میں سالانہ 50 ھزار ارب روپے کی کرپشن ھوتی ھو گیس پانی پیٹرول سیکورٹی کے چار چار پولیس اہلکار تاحیات لیتے ہوں اُس مُلک کے لوگوں کو کفایت شعاری اور قومی اتفاق والا لالی پاپ دیا جا رہا تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ملکی سلامتی کے پیش نظر اھم ترین اجلاس۔ آرمی چیف اور ای ایس ای کے سربراہ شریک۔ وزیر اعطم 60لاکھ کا کوٹ پینٹ ٹای لگا کر کفائیئت شاری کا بھاشن۔۔ 50 ھزار ارب روپے کی سالانہ کرپشن جاری رکھئے پر اتفاق۔۔ وزیر اعطم کے احکامات کھوکھاتے 3 وزراء سرکاری عمرے پر روانہ۔۔ ‏چیئرمین اوگرا کی تنخواہ اور مراعات ملا کر 69 لاکھ روپے ماہانہ لینے والا ، ہمیں بتا رہا ہے کہ گیس ختم ہو گئی ہے۔۔دوبئی کا خاتمہ سب کچھ ایک سراب جعلی۔۔ راولپنڈی اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش؟ہم امریکا کے ساتھ 10سال تک ج ن گ لڑنے کو تیار ہیں۔ ہمارے پاس ہتھیاروں کا زخیرہ موجود ہے۔ جنرل سردار ابراهيم جباری ۔۔عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 36 ڈالر فی بیرل کم ہو گئیں ،نئی قیمت 84 ڈالر فی بیرل ،عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں پچھلے چوبیس گھنٹے میں 25 ڈالر فی بیرل کم ہو گئی ہیں ، پاکستان میں فورا قیمتیں کم کرنی چاہئیں، تفصیلات بادبان ٹی وی پر

_وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت علاقائی صورتحال کے تناظر میں ملکی معیشت پر جائزہ اجلاس_*اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ،چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ،وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ،وفاقی وزیر تجارت جام کمال ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک،

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و بین الصوبائی روابط رانا ثناء اللہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی ، وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی ،وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور, وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس ریٹائرڈ یار محمد ناصر ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر مزمل اسلم، متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران کی شرکت اجلاس میں ملک میں توانائی کی بچت کے حوالے سے جامع لائحہ عمل پر بریفنگ اجلاس میں علاقائی صورتحال کے پیش نظر ملکی معیشت کے استحکام کے لئے کفایت شعاری، سادگی, توانائی کی بچت کے حوالے سے تفصیلی تبادلہء خیال اور اس حوالے سے اہم فیصلے

وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات کا فیصلہ پیٹرولیم بحران کے خاتمے تک صوبائی وزراء کے لئے سرکاری فیول بند، وزیراعلی مریم نواز شریف کا بڑا فیصلہ سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی کردی گئیصوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی ناگزیر سیکورٹی کے لئے صرف ایک گاڑی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ ہوگی،

وزیراعلی مریم نواز شریف کا فیصلہ سرکاری دفاتر میں “ورک فرام ہوم ” کا فیصلہ، صرف ضروری عملہ ہی دفتر آئےگا سکول، کالج اور یونیورسٹیاں ، 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہیں گی، امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے سکول اور تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز لے سکیں گیشہریوں کی سہولت کے لئے ای بزنس اور “مریم کی دستک ” کے تحت سروسز جاری رہیں گیسرکاری امور کی انجام دہی کے لئے آن لائن اجلاس اور ٹیلی کانفرنسز منعقد ہوں گیسرکاری آؤٹ ڈور تقریبات پر پابندی لگا دی گئ، ہارس اینڈ کیٹل شو کا ثقافتی تہوار بھی ملتوی کر دیا گیا

پیٹرولیم مصنوعات کی مانیٹرنگ کے لئے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ پیٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کرنے کا حکم پی آئی ٹی بی کو پیٹرولیم مصنوعات کے لئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا ضلعی انتظامیہ، پولیس، پیرا اور دیگر اداروں کے نمائندے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیارکرنے والی ٹیم میں شامل ہوں گے ورک فرام ہوم کے تحت صرف اضافی سپورٹ سٹاف کی آمد و رفت بند کی جارہی ہے،

دفاتر میں کام بند نہیں ہوگا۔وزیراعلی مریم نواز شریف کی ہدایت نجی سیکٹر کو ورک فرام ہوم، غیر ضروری تقریبات نہ کرنے اور صرف ضروری سٹاف بلانے کی ایڈوائزری ایشو کی جائے، وزیر اعلی مریم نواز شریف کی ہدایت تمام اضلاع میں ٹرانسپورٹ کرایوں کی سخت نگرانی کی جائے، زائد اور ناجائز کرائے وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، وزیر اعلی مریم نواز شریف کی ہدایت پنجاب میں اشیائے خوردونوش کی طلب و رسد کی سخت نگرانی کی جائے، وزیر اعلی مریم نواز شریف کی ہدایت بحرانی صورتحال کے پیش نظرعوام آؤٹ ڈور فنکشن نہ کریں، وزیراعلی مریم نواز شریف کی اپیل کی ہنگامی حالات کے پیش نظر عوام لیٹ نائٹ شاپنگ سے گریز کریں، وزیر اعلی مریم نواز شریف کی عوام سے اپیل ضروری اشیا کی غیر ضروری خریداری یا ذخیرہ نہ کریں، وزیر اعلی مریم نواز شریف کی عوام سے اپیل وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مشکل ترین بحران میں جراتمندانہ فیصلوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں، وزیر اعلی مریم نواز شریفمشکل حالات میں قوم کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والوثسے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے، وزیراعلی مریم نواز شریف بہادر قومیں مشکل حالات کا اتحاد، صبر اور دانش مندی سے مقابلہ کرتی ہیں، وزیراعلی مریم نواز شریف

دنیا کا معاشی نظام بینکر نہیں بلکہ وژینری ماہرین معاشیات چلاتے ہیں ، بینکر تو صرف ایک نوکرمائنڈ سیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے جو ہر وقت اپنے ادارے کے لیئے زیادہ سے زیادہ پیسہ اکٹھا کرنے کا معاوضہ لیتا ہے پاکستان کی بدقسمتی اورمعاشی طور پر ناکامی کا ذمہ دار بھی ایک بینکر ہی ہے جو حکومت کو زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے چکر میں عوام اور کاروباری افراد کی چیخیں نکلوا رہا ہے اور ملک کو معاشی طور پر کھڈے لائن کی طرف لے کر جا رہا ہے ورنہ کبھی کوئ ملک یک دم 55 روپے فی لٹر پیٹرول یا ڈیزل کی قیمت بھی بڑھاتا ہے ؟ اس بات کا ادراک کیئے بغیر کہ یہ صرف پیڑول یا ڈیزل کی قیمت میں اضافہ نہیں بلکہ مہنگائ کے ایک شدید طوفان کا پیش خیمہ ہے

‏ روسی انٹیلی جنس نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے پہلے 3 دنوں کے اندر ڈیمونا نیوکلئیر پلانٹ تک رسائی کھو دی ہے، جبکہ 11 ایٹمی سائنسدان، 6 IDF جنرلز، 198 ایئر فورس کے افسران، 462 اسرائیلی فوجی اور موساد کے 32 ایجنٹ ایرانی مزائلوں اور ڈرونز حملوں میں ہلاک ہو چکے

تہران شہر کالے دھوئیں سے ڈھک گیا بارش کے پانی میں بھی تیل کے ذرات شامل۔۔ بڑھتی مہنگائی کا احساس ہے۔ عوام اور ہم ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔ حکومت۔اسرائیل خطے میں ھلاکتوں کا ذمہ دار ہے۔ایرانی صدر کے بیان کے باوجود بھی متحدہ عرب امارات پر جوابی حملے جاری۔۔سیکورٹی فورسز اور کالعدم B lA کے مابین شدید جھڑپ 5 عسکریت پسند ھلاک۔۔سعودی عرب میں تعینات پاکستانی سفیر فارق اور عملہ لاپتہ۔۔جنوبی وزیرستان لوئر میں 2 پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔ضروری نہیں کہ طاقتور درست بھی ہوں، دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف واپس نہیں جانا چاہیے۔ چینی وزیرخارجہ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

🇮🇷🇮🇱🇺🇸⚡️بریکنگ: ایران نے اسرائیل اور امریکی اڈوں پر متعدد وارہیڈ میزائلوں سے حملے کی فوٹیج جاری کر دیان میزائلوں میں قادر، امید اور خیبرشکن شامل ہیں۔اسرائیل میں ویڈیوز اور تصاویر پر سخت سنسرشپ ہے، عام طور پر ایسی ویڈیوز دکھائی جاتی ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔

ٹرمپ نے ایران کی سب سے بڑی آئل ریفائنری أڑا دی۔ 🙁 اب مہنگائی کا خمیازہ پوری دنیا بھگتے گی جسکا زمہ دار ٹرمپ ہے۔ ظاہر ہے اسکا جواب بھی آئے گا ایران کی جانب سے۔

ایران جنگ ۔اظہر سید امریکہ اور اسرائیل نے جن مفروضوں پر ایران کو نشانہ بنایا جنگ کے نو روز گزرنے پر جو حقائق دنیا کے سامنے ہیں ایران،چین اور روس کی تیاریاں زیادہ مکمل تھیں ۔ابتدائی حملہ سے آج تک ایرانی شہروں پر تباہی مسلط کی گئی ۔بیشتر سیاسی اور فوجی قیادت ختم کر دی گئی لیکن ردعمل حیرت انگیز ہے ۔خلیج میں ٹھاڈ میزائل دفاعی سسٹم کے چار ریڈار موجود تھے امریکہ اسرائیل کے ابتدائی حملوں کے بعد ایرانی ردعمل میں کویت،اردن،قطر میں سارے ریڈار تباہ ہو چکے ہیں ۔اب صرف پٹریاٹ،ایرن ڈوم اور ایرو دفاعی شیلڈ موجود ہیں لیکن وہ ایرانی میزائل روکنے میں ناکام ہیں۔تباہی ایران میں مچی ہے ناکامی اسرائیل اور امریکہ کی زیادہ خوفناک ہے ۔اس مرتبہ ایرانی میزائلوں کو جو گائیڈنس میسر ہے وہ سات ماہ پہلے حاصل نہیں تھی ۔اس دفعہ ابرہم لنکن حملہ کے دوسرے روز ہی ایرانی میزائلوں کا نشانہ بن گیا باوجود اس کے طیارہ بردار جہاز مکمل حفاظتی شیلڈ میں تھا لیکن شائد چینی اور روسی ٹیکنالوجی سے بچ نہیں پایا ۔لڑائی کے دوران چینی اور روسی مدد کے کوئی شواہد موجود نہیں لیکن امریکی میڈیا روسی معاونت کی خبریں دے رہا ہے لیکن بغیر شواہد کے ۔دو چیزیں ممکن ہیں چینی معاونت پہلے سے شروع تھی اور متوقع حملہ کے تناظر میں تھی ۔شائد چینی ہنر مند اب بھی زیر زمین میزائل ٹھکانوں پر موجود ہوں جو چینی سٹلائٹ کی معاونت سے سو فیصد درست نشانہ بازی کروا رہے ہیں ۔سو فیصد درستگی کا یہ عالم ہے امریکی فوجی کویت کے ہوٹل کے جس کمرے میں موجود تھے اسے نشانہ بنایا گیا ۔سات امریکی فائٹر جیٹ کویت میں “فرینڈلی” فائرنگ کا نشانہ بن گئے بقول امریکی کویتی موقف کے لیکن ایوی ایشن کے عالمی ماہرین امریکہ کویت موقف کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں امریکی طیارے برتر ٹیکنالوجی کا نشانہ بنے ہیں ۔ابرہم لنکن میدان جنگ سے بھاگ گیا ہے ۔خلیج میں موجود لڑاکا جیٹ قبرص منتقل ہو گئے ہیں ۔قطر،بحرین اور اردن میں فوجی اہلکار وہاں سے نکال لئے گئے ہیں۔خلیج میں بچے کچھے ریڈار وہاں سے اسرائیل منتقل کر دئے گئے ہیں ۔لگتا ہے ایران ،روس اور چین کا ہوم ورک زیادہ مکمل تھا اور اس میں ایرانی فوجی اور سیاسی قیادت کے قتل ہونے کا باب بھی شامل تھا ۔آسان لفظوں میں ایران کا انتظامی ڈھانچہ تباہ کرنے،سیاسی اور فوجی قیادت کو راہ سے ہٹانے کے باوجود امریکہ اور اسرائیل یہ جنگ ہار گئے ہیں۔جوابی حملوں کی ایرانی صلاحیت برقرار ہے۔ ایسا لگتا ہے زمینی قبضے کے بغیر یہ صلاحیت ختم کرنا ممکن نہیں ۔

صرف دو آپشن باقی ہیں ۔ایران میں زمینی افواج اتریں اور کامیابی حاصل کریں ۔امریکہ ایٹمی حملہ کرے ۔جیٹ طیاروں سے بمباری میں تباہی مچانا ممکن ہے زیر زمین میزائل کے سارے ٹھکانے ختم کرنا ممکن نہیں کہ اب ایرانی میزائل سو فیصد درستگی کے ساتھ ریڈار بیٹریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔آبنائے ہرمز بند ہوئے آج چھٹا دن ہے صدر ٹرمپ کے تمام تر بلند بانگ دعووں کے باوجود آبنائے ہرمز کو کھولا نہیں جا سکا ۔دنیا بحران کا شکار ہو چکی ہے ۔امیر ترین خلیجی ریاستوں سے سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں اور مسلسل بھاگ رہے ہیں۔ہر گزرتے دن ٹرمپ اور نیتن یاہو کے کپڑے اترتے جا رہے ہیں کچھ دن اور گزر گئے دونوں دہشت گرد دنیا کے سامنے ننگے کھڑے ہونگے ۔پاکستان کی باری تو جب آئے گی تب آئے گی ابھی ایران پر حملہ کے نتایج تو بھگت لیں ۔ایٹمی حملہ کی آپشن استمال کریں گے اسکی قیمت تیسری عالمی جنگ کا خدشہ ہے ۔زمینی افواج اتریں گے تو پتہ نہیں روس اور چین نے اسکی ایران کو کیسی تیاری کرا رکھی ہے ۔سیاسی اور فوجی قیادت کے ختم ہونے کے باوجود جو مزاحمت ہو رہی ہے اس کا دوسرا مطلب یہ ہے ہوم ورک مکمل تھا ۔ایران پر حملہ کے نتایج آئیں گے اور ضرور آئیں گے جو مغربی دنیا کیلئے ناقابل برداشت ہونگے ۔

غلام شبیر جھنگ کچہری میں بطور عدالتی ریکارڈ کیپر تعینات تھا۔ 2018ء میں ضلعی عدلیہ میں چند آسامیوں پر بھرتیوں کا اشتہار آیا۔ شبیر نے سلیم (فرضی نام) کو کہا کہ تم مجھے اتنے لاکھ روپے دیدو تو میں تمہارے رشتہ داروں کو ان آسامیوں پر بھرتی کروا دوں گا۔ سلیم نے 4 جون 2018ء کو اڑھائی لاکھ روپے دو چیکس کی صورت میں شبیر کو دیے جو اس نے البرکہ بنک کے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروا کر پیسے نکلوا لیے۔ 16 جولائی کو سلیم نے مزید ایک لاکھ 30 ہزار روپے کیش دو وکلاء علی شہزاد بھٹی اور رانا دلبر حسین کی موجودگی میں غلام شبیر کو دیے۔ بعد ازاں شبیر، سلیم کے رشتہ داروں کو بھرتی نہ کروا سکا اور سلیم کے مطالبہ پر پیسے دینے سے بھی انکار کردیا۔سلیم نے ضلعی عدلیہ کی ڈسٹرکٹ اتھارٹی کے پاس غلام شبیر کیخلاف شکایت درج کروا دی۔ ڈسٹرکٹ اتھارٹی نے انکوائری بٹھائی اور سینئر سول جج کو انکوائری آفیسر مقرر کردیا۔ انکوائری آفیسر نے اپنے طور پر انکوائری کے علاوہ فریقین کو سنا اور بنک کا ریکارڈ بھی دیکھا۔ سلیم نے چیکس کی تفصیل دی اور گواہوں کو پیش کیا۔ شبیر نے اعتراف کر لیا کہ اس نے سلیم سے پیسے تو لیے ہیں لیکن بطور ‘قرض’۔۔۔ نہ کہ رشوت، البتہ اپنے معاملے میں نرمی برتے جانے کی استدعا کی۔ انکوائری آفیسر نے کرپشن ثابت ہونے پر غلام شبیر کو نوکری سے برطرفی کی سفارش کی، جو ڈسٹرکٹ اتھارٹی نے قبول کرتے ہوئے اسے 17 اکتوبر 2018ء کو نوکری سے نکال دیا۔غلام شبیر نے اپنی برطرفی کو پنجاب سروس ٹربیونل میں چیلنج کیا۔ ٹربیونل اس نتیجے پر پہنچا کہ ٹھیک ہے، کرپشن ثابت ہوتی ہے لیکن ملازمت سے برخاستگی اس جرم کے مقابلے میں بہت بڑی اور سخت سزا ہے جو اصولِ توازن کیخلاف ہے۔ ٹربیونل نے 9 جولائی، 2019ء کو سزا میں کمی کرتے ہوئے نوکری کے دو سال کم کر دیے اور ملازمت بحال کردی۔ ڈسٹرکٹ اتھارٹی نے اس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل کردی۔

جس کی سماعت دو رکنی بنچ نے کی اور جسٹس منصور علی شاہ نے گزشہ سال مئی میں فیصلہ تحریر کیا۔سپریم کورٹ نے لکھا کہ ٹربیونل بھی اس نتیجے پر پہنچا کہ شبیر کی کرپشن ثابت ہوتی ہے لیکن اسکے باجود شبیر نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا۔ ٹربیونل کے فیصلے کو قبول کرکے گویا اس نے اقبال جرم کرلیا ہے۔ ملزم کا ایک طرف رشوت کو ‘قرض’ کہنا اور ساتھ ہی نرمی کی درخواست کرنا، اسکے اپنے موقف میں تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ٹربیونل کا یہ کہنا کہ برطرفی کی سزا جرم کے مقابلے میں بڑی سخت سزا ہے۔۔۔ درست نہیں ہے۔ عدالتی ریکارڈ کیپر (اہلمد) کا عہدہ ایک عوامی امانت ہے۔ جب عدالتی اہلکار ہی رشوت ستانی میں ملوث ہوں تو وہ نظام انصاف پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ ٹربیونل نے کسی ٹھوس وجہ کے بغیر برطرفی کی سزا کو ‘سخت’ قرار دیتے ہوئے فقط سروس میں دو سال کی کٹوتی کی ہے۔ موجودہ کیس میں ملازمت سے برطرفی کی سزا عوامی اعتماد کی حفاظت اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم اور غلام شبیر کی نوکری سے برطرفی برقرار رکھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رشوت کو ریکارڈ کیلئے چیک کی صورت وصول کرنا، پھر اپنے ہی اکاؤنٹ وہ بھی البرکہ جیسے بابرکت اسلامی بنک میں کیش کرنا۔۔۔ پکڑے جانے پر اسے قرض حسنہ کہہ کر واپسی کا ارادہ رکھنا۔۔۔۔ بلاشبہ اس دھرتی کا سسٹم غلام شبیر جیسے دیانتدار سرکاری ملازمین کی وجہ سے ہی چل رہا ہے۔#کورٹ_کہانی از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ

معیشت کی جنگ ۔اظہر سیدپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ روکنا ممکن ہی نہیں ۔کمزور معیشت کی وجہ سے ہمارے پاس اٹھائیس دن کے محفوظ زخائر ہیں ،بھارت کے پاس ڈھائی ماہ کے باقی ممالک کے پاس بھی انکی معیشت کے حوالہ سے محفوظ زخائر ہیں۔اس بات پر بحث ممکن ہے حکومت دوسرے شعبوں کی مراعات کم کر کے عوام کو تحفظ دے لیکن اس بات پر بحث ممکن نہیں حکومت پر خیلج کے بحران کا اضافی بوجھ آن پڑا ہے ۔تنقید کرنے والے بکواس کرتے ہیں پہلے سے خریدے گئے تیل پر حکومت کمائی کر رہی ہے ۔سادہ بات اتنی ہے اٹھائیس دن کے زخائر محفوظ رکھنے کیلئے ہیں ،ریاست کا پہیہ چلانے کیلئے ہر روز نئی عالمی قیمتوں کا اطلاق ہو گا ۔پہیہ ریاست کی زندگی چلانے کیلئے بنیادی چیز ہے ۔ایک لیٹر میں پچاس پچپن روپیہ اضافہ کا دوسرا مطلب غریب لوگوں کی پہلے سے سسکتی زندگی کی اذیت میں اضافہ ہے ۔حکومت بنیادی فیصلے کر کے عوام کو ریلیف دے سکتی ہے ۔کم از کم ڈیزل جو تجارتی اشیاء کی نقل و حمل کا مرکزی نکتہ ہے اسکی قیمتوں میں عوام کو تحفظ ملنا چاہئے تاکہ منڈی تک اشیاء کی نقل و حمل پہلے کی قیمت پر جاری رہے ۔پٹرولیم مصنوعات کی راشن بندی کر دیں ۔انتظامی فیصلوں سے تیرہ سو سی سی کی گاڑیوں کیلئے پٹرولیم مہنگا کر دیں ۔مخصوص علاقوں میں موٹر سائیکل اور کار کی جگہ سائیکل لازمی قرار دے دیں ۔غیر ضروری حکومتی اخراجات پر پابندی لگا دیں ۔ریاست کے پاس عوام کو تحفظ دینے کے سو راستے ہوتے ہیں ۔وی آئی پی اگر گاڑیوں کی جلو میں سفر کریں گے تو یقیناً اسکی قیمت عوام نے ادا کرنا ہے ۔پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونگی اور ہوتی جائیں گی ۔ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے آج بند ہو جائیں اثرات چھ ماہ تک دنیا کو بھگتنا ہیں ۔یہ جنگ جاری ہے اور اس کے انڈے بچے مستقبل کی دنیا تبدیل کر دیں گے ۔دنیا گیارہ ستمبر کے ردعمل میں ہے اور گیارہ ستمبر کی آڑ میں جنہوں نے اپنی جنگی صنعت چلائی پچھلے تین دن سے وہ جنگی صنعت والوں کے ساتھ اجلاس کر رہے ہیں اور میڈیا کو بتاتے ہیں “پیداوار” میں جنگی بنیادوں پر اضافہ کیا جا رہا ہے ۔میڈیا میں جو ہائپ بنائی جاتی ہے فلاں کے پاس دفاعی میزائل کم ہوتے جا رہے ہیں وہ اصل میں جنگی پیدوار میں اضافہ کے جواز ہیں ۔جب مختلف ممالک میں میزائل گرتے ہیں تو اصل میں مستقبل کے دفاعی سودے پکے کئے جاتے ہیں ۔ایران پر حملہ حقیقت میں چین سے خوفزدہ مغرب کی دفاعی جنگ ہے جس میں مغرب ہار جائے گا کہ چینی معیشت محفوظ ہے اور دفاعی سائنس و ٹیکنالوجی میں مغرب سے پیچھے نہیں ۔

امریکا نے اشارہ دیا ہے وہ ایران میں سپیشل دستے اتارنے کا سوچ رہا ہے جن کا کام ایران کے پاس موجود 450 کلو گرام 60 فیصد افزودہ یورنیم کو قبضے میں لے کر اس کو محفوظ مقام تک پہنچانا ہو گا۔ اس پر ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آ جا تینوں اکھیاں اُڈیکدیاں دل واجاں ماردا۔ سعودیہ نے بھائی صاحب کو پھر پیغام بھیجا ہے کہ او باز نئیں آ رے۔ بھائی صاحب نے کہا ہے بہت برا ہو رہا۔ آپ کے سامنے ٹویٹ تو ان سے کرا دی تھی۔ کال بیک کرتا ہوں آپ فون بند کریں۔ پھر سے ایران رابطہ کیا گیا ہے کہ خدارا ہماری مجبوری سمجھیں۔ انہوں نے پھر کہا ہے کہ وہ تو ٹھیک ہے آپ ہمارے بھائی ہیں لیکن پاسداران انقلاب کے اہلکار سینٹرل کمانڈ کے نہ ہونے کے سبب آزاد امیدوار کے طور پر جگہ جگہ ٹولیوں میں بٹ چکے ہیں اور ان کے ہاتھ میں چھوٹے بڑے میزائلز ہیں۔ تسی دسو میں کی کراں ؟۔ صورتحال عرب لیگ کے اجلاس میں ڈسکس ہونے پہنچ گئی ہے۔ بہرحال، بھائی صاحب پریشان ہیں، ولی عہد زیادہ پریشان ہیں اور ایرانی سب سے زیادہ پریشان ہیں اور ٹرمپ بھی واش روم میں جا کر روتا ہے۔ مڈل ایسٹ میں آٹھ تھاڈ سسٹمز انسٹال تھے جن میں سے چار کو ایران کامیابی سے نشانہ بنا کر اڑا چکا ہے۔ جنگ سب کے دائرے سے باہر ہو گئی ہے۔ چینی بھائیوں کے ہاتھ سے وینزویلا جا چکا ہے۔ وہ وینزویلین آئل کے سب سے بڑے گاہک تھے۔ اس کے بعد وہ ایرانی تیل کے گاہک تھے۔ چینی بھائی بھی سخت پریشان ہیں۔ وہ ایران میں امریکا نواز رجیم دیکھنا چاہتے ہیں نہ ایران میں امریکی شہہ پر کوئی خانہ جنگی افورڈ کر سکتے ہیں۔البتہ ان کو ایک بات کی راحت ہے کہ تائیوان کے دفاع واسطے نصب کیے گئے اینٹی میزائل سسٹم امریکا منتقل کر رہا ہے۔تاحال تائیوان کا دفاع کمزور ہو رہا ہے البتہ چین اس موقع سے فائدہ اٹھا کر تائیوان کا محاذ نہیں کھولنا چاہے گا۔ اس کا ملٹری ڈاکٹرائن ایکسپنشن اور جنگ لگانے کے خلاف ہے۔چائنہ کا مفاد صرف و صرف عالمی تجارت میں ہے جو اسے معاشی سپرپاور بنا رہا ہے۔ جنگیں اس کے مفاد کے خلاف ہیں۔ اور ایران میں کوئی بھی تبدیلی یا جنگی صورتحال بھی اس کے مفادات کے خلاف ہے۔جاپانی اور ساؤتھ کورین بھائی بھی پریشان ہو چکے ہیں۔ وجہ تائیوان کے دفاعی نظام کو مڈل ایسٹ کی جانب منتقل کرنا ہے۔ یہ دفاعی نظام جاپان اور کوریا کا بھی راکھا تھا۔ گویا ان کے لیے تو ایسا ہے جسے ابا نے سر سے ہاتھ اُٹھا لیا ہو۔ وہ دونوں امریکا کو واٹس ایپ کر رہے ہیں کہ مرو ساڈا کی قصور اے ؟ اس سارے جنجال پورے میں اگر کوئی خوش ہے تو وہ پوٹن ہے۔ پوٹن بھیا کے لیے خوشخبری ہے۔ یوکرین سے توجہ ہٹ رہی ہے اور یوکرین کا ساز و سامان بھی منتقل کیا جا رہا ہے۔ امریکا نے اس سے ایرانی شاہد ڈرونز کے توڑ واسطے مدد مانگی ہے۔ زلینسکی نے بھی موقع پر چوکا لگاتے کہا ہے ہاں ہاں کیوں نہیں مدد لے لو مگر سالو، ہماری باری تو ہاتھ اُٹھا دیتے ہو۔ دراصل یوکرین کو روسی ایم نائن ڈرونز سے نپٹنے کا تجربہ ہے۔ ایم نائن دراصل ایرانی شاہد ڈرونز کا ہی دوسرا نام ہے۔ وہی ٹیکنالوجی ، وہی ساخت۔ بس نام تبدیل ہیں۔ جنگ کا پھیلاؤ پوٹن کے حق میں ہے۔ کئی ممالک تیل کی خریداری کے لیے اس کی جانب دیکھنے پر مجبور ہوں گے۔ اور آپ پاکستانیو، آپ کے لیے آنے والے دن بہت زیادہ مالی پریشانیاں لانے والے ہیں۔ تُسی اودوں تائیں ریلز ویخو، میزائل اڈدے انجوائے کرو، زندہ باد مردہ باد دے نعرے لاؤ۔ والسلام

ایران میں آلو 12 روپیہ کلو دستیاب ہے اور سبزی فروش نے کارڈ پر لکھ رکھا ہے “ان جنگی حالات میں جس کے پاس پیسہ نہیں ہے وہ مفت لے جاسکتے ہیں” دوسری طرف پاکستان میں ایک ماہ کیلئے جنگ سے پہلے سستی قیمت پر خریدا گیا تیل کا سٹاک موجود ہے پھر بھی ایک دم تیل کی قیمت میں 55 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جب کہ 100 روپے سے زیادہ پٹرولیم لیوی کی مد میں بٹورا جا رہا ہے مطلب اضافی ٹیکس یا پاکستان میں رہنے کا بھتہ وصول کر رہے ہیں پیٹرول کی قیمت کے ساتھ۔ کچھ قومیں جنگ کے بغیر بھی انکے ریاست اور حکومت کی پالیسیز کی وجہ سے تباہ ہوتے ہیں۔

اسحاق ڈار کی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد 200 ارب روپے کی دھیاڑی۔۔دوبئی اور بحرین صفحہ ھستی سے ختم۔۔خفیہ ادارے کی رپورٹ کھوہ کھاتے میں طاقتور کون۔۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی محمد بن سلمان سے ملاقات۔۔3 اھم شخصیات میں فیصلہ دوبئی بحرین ختم۔۔۔سھیل رانا لاءیو۔۔سعودی عرب وقت کے رات گیارہ بجے سبسکرائب Baadban YouTube

شھباز شریف نے 24 کروڑ عوام پر رمضان المبارک کی رات پٹرول بم گرا دیا۔فارم 47 کی حکومت اس سے قبل ایک لیٹر پٹرول پر 160 روپے ٹیکس لے رھی ھے۔۔ وزیر اعطم ھاوس کی وزیر اعظم اور سکواڈ کی گاڑیاں جو وزیر اعظم کے زیر استعمال ھے ماہانہ ایک ارب روپے سے زائد پٹرول استعمال کرتی۔۔۔۔پٹرول پمپ مالکان کو کھربوں روپے سے نواز دیا گیا۔امریکا کی فوج بھی جنگ کے خلاف ۔ ٹرمپ پر عدم اعتماد۔۔پاکستان کراچی ایئرپورٹ لاری اڈہ بن چکا۔۔روس میدان جنگ میں کود پڑا ایران کو مدد فراہم۔۔ایران پر حملے جاری جبکہ دوسری جانب ایران بھی اپنے اہداف حاصل کرنے لگا۔شمالی کوریا: نئے بحری جنگی جہاز کا معائنہ اور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

سپیڈ کی تباہیاں،معافی دے دیں۔۔۔محاسبہناصر جمالروز یہی رونا ہے کس کے ساتھ گزاریں دن اور راتسارے! ہمارے دشمن ٹھہرے، سورج ہو کہ ستارہ ہو(رام ریاض)ہمارے وکٹ کیپر، محمود ٹوانہ نے کیچ ڈراب کردیا۔ جلالی کوچ، بابائے کرکٹ جھنگ فیاض خان مرحوم کی پنجابی میں بھاری آواز گونجی۔۔۔ محمود یہ کیا کردیا۔۔۔ بذلہ سنج، شرارتی وکٹ کیپر نے باآوازِ بلند جواب دیا۔۔۔ جناب، کیچ کو چھوڑیں پھرتیاں دیکھیں۔آج، آپ یہ جملہ شہباز سپیڈ سے لیکر محسن نقوی سپیڈ، حکومت سے لکیر ایس۔ آئی۔ ایف سی سپیڈ، پر جابجا سنیں گے۔بے نظیر نے کہا تھا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ پھر آصف زرداری سے لیکر بلاول زرداری نے پارٹی سمیت اس ریاست، ملک، آئین اور عوام سے خوب انتقام لیا۔یہاں تو آمریت بھی انتقام لیتی ہے۔ شریفوں سے لکیر ’’باجی مریم‘‘ عمران خان سے لیکر بابو ازم اور حُفاظ سے لیکر محسن نقوی اور واڈا تک دیکھ لیں، کوئی کمی نظر نہیں آئے گی۔ میاں شہباز شریف اور محسن نقوی اور ان کی سپیڈ دیکھ کر ’’رند لکھنوی‘‘ کا یہ شعر بے اختیار پڑھنے کو دل چاہتا ہے کہآ، عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاںتو ہائے گُل پُکار میں چلائوں ہائے دلوزیراعظم شہباز شریف کی اتنی سپیڈ ہے۔ وہ آصف زرداری کا گریبان پکڑ کر انھیں لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنے والے تھے۔ان کا پیٹ پھاڑ کر مال برآمد کرنے والے تھے۔آج کل وہ، آصف اور بلاول زرداری کی بہن آصفہ کے لئے چھتری پکڑے دکھائی دیتے ہیں۔دو، دو درجن وزیر بنانے کے بعد، انھیں سادہ ناشتہ کروا کر قوم کو پیغام دیتے ہیں کہ میری کفایت شعاری دیکھو۔

ہمارے دوست پہلے پنجاب سے مرکز میں شہباز شریف امپورٹ کرکے لائے، پھر محسن نقوی کو امپورٹ کیا۔دونوں ایک ہی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ مینجمنٹ اور میڈیا مینجمنٹ سٹائل، ایک ہی ہے۔ماشاء اللہ، دونوں ہی مرکز میں بُرے طریقے سے پٹنے والی سپیڈ فلم ثابت ہوئے ہیں۔ایک ہی طرح کا سکرپٹ اور 12 مصالحے تھے۔اس کے باوجود آجکل، باجی مریم بھی، اسی یونیورسٹی سے پی۔ ایچ۔ ڈی کررہی ہیں۔ اللہ خیر ہی کرے۔ابھی میں نے سابقہ نگران’’خدائی تحفے‘‘ کی فیوض و برکات پر روشنی نہیں ڈالی۔محسن نقوی نے نگران وزیراعلیٰ کے طور پر جو کیا، اُس کا آڈٹ تو وقت آنے پر ہوگا۔ بہرحال، وہ عمران خان کے وسیم اکرم پلس سے پھر بھی کروڑ درجے بہتر تھے۔ جن کا فیس، فردوس عاشق اعوان تھیں۔۔۔ایسے میںفرح گوگی کا ذکر کیا کرنا۔۔۔؟محسن نقوی، صوبے ہی میں رہتے تو بھرم رہ جاتا۔ مگر اسلام آباد کی کشش نے بڑے بڑوں کو رسوا کیا ہے۔مارگلہ ایونیو سے لکیر ایف۔ ایٹ اور سرینا کے سگنل فری منصوبے، قذافی اسٹیڈیم سے لیکر کراچی اور راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کے پروجیکٹ، آرکیٹیکٹ، معیار، اور اربوں روپے کے بربادی کے منصوبے ہیں۔ایف۔ ایٹ طیب اردوان منصوبے پر پڑنے والا بدترین گڑھا کام کا معیار بتا رہا ہے۔حالانکہ ابھی افتتاح کا ربن اور پھول بھی ابھی تک نہیں مرجھایا تھا۔ یہاں قوم کے اربوں روپے، انتہائی بدترین ڈیزائن میں جھونک دیئے گئے۔

ایسے ہی سرینا انڈرپاس ہے۔مضحکہ خیز یوٹرنز ان دونوں منصوبوں کی بدصورتی اور بدترین پلاننگ کا مُنہ بولتے ثبوت ہیں۔یہ نقائص دور کرنے میں قوم کے اربوں روپے مزید خرچ ہوں گے۔قذافی اسٹیڈیم کے گرائونڈ میں کھڑا اور چھتوں سے بہتا پانی ’’معیار‘‘ اور تھرڈ کلاس کام پر گلے پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہا ہے۔ کراچی اسٹیڈیم میں وہی بدصورتی کا راج ہے۔ بھدی چھت، غیر معیاری وویو، اسٹیڈیم کے اطراف اور اندر مین بلڈنگ کے ساتھ پڑی مٹی آپ کا مُنہ چڑچڑاتی ہے۔ وہاں گھاس لگانا کونسا مسئلہ تھا۔وگرنہ مصنوعی گھاس اور رف ٹائلز تو لگائے ہی جا سکتے تھے۔راولپنڈی سٹیڈیم میں بھی آپ کو ایسے ہی آدھا تیتر آدھا بٹیر نظر آئے گا۔ایسا محسوس ہوتا ہے۔

بس فنڈز اڑانے کی جلدی تھی۔ قذافی اسٹیڈیم میں پانی کا بہائو اور نکاس، عالمی سطح پر منہ چڑچڑتا رہا تھا۔ پانی وائپرز سے خشک کرنے کا منظر، کسی جگہ ہنسائی سے کم نہیں تھا۔اسلام آباد میں طیب اردوان انڈر اور اوور پاس کی منصوبہ بندی اتنی ناقص ہے کہ شہر کے سب سے بڑے ہسپتال کا آدھے شہر سے براہ راست رابطہ ہی کاٹ دیا گیا ہے۔ یہ غلطی بلیو ایریا خیبر پلازہ انڈر اور اوور برج پر کامران لاشاری نے بھی کی تھی۔ اس نے فضل الحق اور ناظم الدین روڈ آدھے شہر سے کاٹ دیئے تھے۔ پورےے شہر والے پمز ہسپتال سے براہ راست رابطہ سے محروم ہوچکے تھے۔ اب یہی اغلاط، محسن اسپیڈ نے کیا ہے۔اربوں روپے خرچ کرنے کے بعدبھی ”بھیڑ“ پانی میں ہے۔ ایٹمی قوت والے ملک کے ذمہ داران، سیدھی سڑک، ڈھنگ سے بنانے کا ھنر بھل چکے ہیں۔یہ سگنل فری پُل، اور کرکٹ اسٹیڈیم تک تعمیر نہیں کرسکتے۔پتہ نہیں کہاں سے کنسلٹنٹ اور انجینئرنگ فرمز ڈھونڈ کر لاتے ہیںسرینا کا انڈر پاس تعمیر ہی غلط جگہ پر کیا گیا ہے۔ اسے چھٹے ایونیو پر تعمیر ہونا چاہیے تھا۔ اسلام آباد کلب سے آنیوالی سڑک کو مارگلہ روڈ پر نادرا اور میریٹ کے سامنے سے ہوتے ہوئے گزرنا تھا۔جہاں پہلے سے جگہ موجود ہے۔ایسا ہی بلنڈر، مارگلہ ایونیو پر مارا گیا ہے۔ ایف ۔ڈبلیو ۔او۔ نے یہ بدترین معیار کی سڑک تعمیر کی ہے۔ جہاں جگہ جگہ سیدھی سڑک پر جمپ ہیں۔ وہ افتتاح والے روز ہی بیٹھ گئی۔تیز رفتار سڑک کے درمیان میں پہاڑ جیسے اونچے سٹیل کے سپیڈ بریکر لگائے گئے ہیں۔لوگوں کی گاڑیوں کے یہ ٹائر تباہ و برباد کر رہے ہیں۔شاید یہ لگائے بھی اسی مقصد کے لیے گئے ہیں کسی ٹائر کمپنی والوں نے سپانسر کر دیا ہوگا۔ ای الیوناور ایف الیون کے درمیان الیونتھ ایونیو مکمل تعمیر کرنے کی بجائے، ایک بیہودہ راونڈ ٹرن پر سڑک ختم کردی گئی۔جہاں الٹے ہاتھ پر پھر ایک کلومیٹر کا یوٹرن ہے۔یہ پلاننگ اور ارکیٹیکٹ ڈیزائن ہے۔؟ٹین تھ ایونیو چوک پر جو بربادی کی گئی وہ کسی سے چھپی نہیں۔ ایف ایٹ طیب اردوان ایونیو سے ایف ٹین گول چکر ختم کرکے، جو لُچ فرائی کیا گیا ہے۔ اس پر پورا شہر ہنس رہا ہے۔ یہی معاملہ کراچی کمپنی سے پمز کے درمیان سڑک بندکرکے، جو بدترین، یوٹرن بنائے گئے ہیں۔ وہاںپر دل جلتا ہے کیسے قوم کے اربوں روپے اڑا دیے گئے۔ سیاستدانوں، بابوئوں اور ٹھیکیداروں نے مل کر، شہر اسلام آباد کو بدصورت ترین انفراسٹریکچر والا شہر بنانے کا ”عزم صمیم“ کیا ہوا ہے۔جب احمد نواز سکھیرا کے مقابلے میں آپ کی چوائس محسن نقوی ہوگی۔ کیپٹن (ر) انور کی جگہ پر آپ کے فیورٹ لاھوری رندھاوا ہونگے تو یہی کچھ ہوگا۔قائرین یقین مانیے کوئی تقابل ہی نہیں تھا۔آپ جس منصوبے کو اٹھاتے ہیں۔ وہیں پر غیر معیاری کام جابجا نظر آتا ہے۔ جس نے بھی ایف۔ ڈبلیو ۔ او کو شاہراہ ایران؍ مارگلہ ایونیو کا ”کمپلیشن اور کلیئرنس سرٹیفکیٹ“ دیا ہے۔ وہ قومی مجرم ہے۔ ایف۔ ایٹ اور سرینا چوک انڈر اور اوورہیڈ برج کے آرکیٹیکٹچر اور منظور کرنے والوں کی گردن ناپی جانی چاہئے۔جبکہ قذافی، نیشنل اور پنڈی اسٹیڈیم کے کام کا انٹرنیشنل آڈٹ نہیں فرانزک آڈٹ ہونا چاہئے۔اُس کے بعد کرکٹ ٹیم کے چیمپئن ٹرافی میں انتخاب اور چیمپئن ٹرافی کے بعد، نیوزی لینڈ دورے والی ٹیم کے انتخاب کرنے والوں کو تو کرکٹ بورڈ میں ہونے والوں پر تاحیات پابندی ہونی چاہئے۔سلیمان علی آغا اور شاداب خان کی کپتانی، نائب کپتانی کسی مذاق سے کم نہیں ہے۔ شاداب کی فہم اشرف اور خوشحدل کی طرح کونسی کارکردگی ہے۔ عاقب جاوید، نرگسیت کا مارا شخص ہے، دوسرے مہاتمائوں کے ساتھ مل کر، قوم کے جنون کرکٹ سے، کیوں انتقام لے رہا ہے۔وہ مسلسل قوم کے جذبات سے کھیل رہا ہے۔کسی کو اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔انہیں کھلی چھٹی دے دی گئی ہے ۔کیونکہ سیاں میرے کوتوال جو ہیں۔آج، جب پوری قوم منقسم ہے۔ یہ کھیل، کرکٹ، انھیں متحد کرتا تھا۔ اسے بھی برباد کررہے ہیں

۔تاکہ کوئی ایک ایسی کڑی رہ نہ جائے جو اس قوم کو متحد کر دے۔نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ میں نے اپنی افریقی قوم کو امریکن ساکر کے ذریعے متحد کیا تھا۔اگر حافظ صاحب اور اس۔ آئی۔ ایف۔ سی والوں کے پاس وقت ہے تو نیلسن منڈیلا پر بنی فلم ہی دیکھ لیں۔یہاں ملک میں شادیانے بجائے جارہے ہیں۔ جیسے ریکوڈک سے روزانہ ٹنوں سونے کی پیداوار شروع ہوگئی ہے۔ تھرمیں ہیروں کی کانیں نکل آئی ہیں۔ کیکڑا سے کھربوں ملین کیوبک فٹ گیس روزانہ کی پیداوار شروع ہے۔جبکہ حالات یہ ہیں۔ وزیر خزانہ غیر قانونی اَن کسٹم پیڈ گاڑی پر جھنڈا نہ لگانے پر اس خاتون افسر کو معطل کررہے ہیں۔جو قانون کے ساتھ کھڑی ھوئی۔ہر منصوبہ ناکامی پر منتمج ہے۔ غیر معیاری کاموں میں، ہم سب کوناقابلِ یقین ”سپیڈ“ سے پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔ زراعت اور کسان برباد ہو چکے ہیں۔ قوم مایوسیوں میں گھرتی اور گرتی جارہی ہے۔ہر ادارہ منہ کے بل پڑا ہے۔ بدانتظامی کی مٹھی سے زوال کی ریت جس تیزی سے گررہی ہے۔ اور کوئی اسے ماننے کو تیار نہیں۔ یہ تباہی، رکنے والی نہیں ہے۔ سب ننگے ہوچکے ہیں۔ جیل میں بیٹھا شخص تو پہلے ہی خود کو بدترین منتظم ثابت کرچکا ہے۔ کوئی ایک دانہ ہی دکھادیں۔ساٹھ صفحات کا سپلیمنٹ ،گرین سڑک کے رنگ کی طرح ھوا میں اڑ چکا ہے۔ضد، انا، چھوڑیں، قوم، ریاست، معاشرے اور ملک کی فکر کریں۔ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں۔۔۔ ملک، ریاست اور معاشرے مستقل ہوتے ہیں۔ سب اپنا قبلہ درست کریں۔ یہی واحد راستہ ہے۔آج ہی مستنصر حسین تارڑ کا ایک اقتباس پڑھا۔۔۔انقلاب وہاں آتا ہے۔ جہاں ایک شخص ظالم ہو۔ جس ملک میں ہر شخص اپنے حصے کا ظالم ہو، وہاں انقلاب نہیں، عذاب آتے ہیں۔۔۔نسل در نسل ہم حسینی ہیںصبر کا دشت ! دیکھا بھالا ہےمجھ کو وحشت پڑھائی جاتی تھیمیں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استاد مارڈالابھوک ! دونوں کو مار ڈالے گیدرمیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخری نوالا ہے (خالد ندیم شانی)

لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ مزید 3 سال چیئرمین نیب رہیں گےپانچ مارچ 2026 کو اچانک حکومت کو پتہ چلا ایکسٹنشن دینی ہے مگر قانون نہیںبس پھر ہنگامی بنیادوں پر پیاری پارلیمنٹ و صدرزرداری نے چند گھنٹوں میں سب کچھ کر دکھا دیاابھی بھی شکوہ ہے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹیرین کام نہیں کرتے

عالمی سطح پر برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل ہو گئ ہے (کچھ رپورٹس اسے 10 ڈالر یومیہ اضافہ بتا رہی ہیں)امریکی کروڈ آئل wti بھی 80 ڈالر پر پہنچ گیایہ اضافہ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے، خلیجی علاقے میں کشیدگی (خاص طور پر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تنازع)، اور ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے ہوا ہے۔یہ اکیلے پاکستان میں ہی نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔ان دانشوروں کی سادگی پر قربان جانے کو جی چاہتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کے کنوؤں سے لے کر روس کی پائپ لائنوں تک، عالمی معیشت کا ہر پیچ ان کے محلے کے احتجاج سے بندھا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عالمی منڈی کے تغیرات کو بھی “سیاسی سازش” کے عینک سے دیکھتے ہیں، گویا ٹرمپ روزانہ ان کا ٹویٹر ہینڈل فیس بک اور واٹس ایپ دیکھ کر تیل کی قیمتیں مقرر کرتا ہو۔ ان کا پروپیگنڈہ عقل کی موت اور جہالت کا جشن ہے۔خیبر پختونخوا میں تو کمال کا نظامِ اخفا ہے؛ یہاں ہر مہنگی چیز پر “صوبائی خودمختاری” اور “مجبوری” کا ایسا پردہ ڈالا جاتا ہے کہ غریب کو اپنی بھوک بھی ایک مقدس فریضہ لگنے لگتی ہےآٹا، چینی اور بجلی جب پہنچ سے باہر ہوں، تو بیانیہ بدل کر اسے “دوسروں کی نااہلی” کا غلاف پہنا دیا جاتا ہے۔: جو زبانیں وفاق کی مہنگائی پر قینچی کی طرح چلتی ہیں، اپنے صوبے کی منڈیوں میں لوٹ مار دیکھ کر وہ اچانک “روزے” سے ہو جاتی ہیں۔: جہاں ضمیر پر مصلحت کا پردہ ہو، وہاں مہنگی روٹی بھی “نظریاتی” لگنے لگتی ہے۔اس پر بھی کبھی لکھیں یہاں فارم 45 والوں کی حکومت نہیں یہاں عوام روز شور کرتی ہے صحت تعلیم ٹرانسپورٹ زندگی کے کسی شعبہ ہاۓ جات پر زبان گونگی کی پیڈ خاموش اور موبائل بند کیوں ہو جاتا ہے۔۔۔خدارا ہوش کے ناخن لیں ہر چیز کو پروپیگنڈہ بنا کر پیش مت کریں اور نا ہی ملک میں افرا تفری کا ماحول پیدا کریں۔

عالمی سطح پر برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل ہو گئ ہے (کچھ رپورٹس اسے 10 ڈالر یومیہ اضافہ بتا رہی ہیں)امریکی کروڈ آئل wti بھی 80 ڈالر پر پہنچ گیایہ اضافہ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے، خلیجی علاقے میں کشیدگی (خاص طور پر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تنازع)، اور ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے ہوا ہے۔یہ اکیلے پاکستان میں ہی نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔ان دانشوروں کی سادگی پر قربان جانے کو جی چاہتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کے کنوؤں سے لے کر روس کی پائپ لائنوں تک، عالمی معیشت کا ہر پیچ ان کے محلے کے احتجاج سے بندھا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عالمی منڈی کے تغیرات کو بھی “سیاسی سازش” کے عینک سے دیکھتے ہیں، گویا ٹرمپ روزانہ ان کا ٹویٹر ہینڈل فیس بک اور واٹس ایپ دیکھ کر تیل کی قیمتیں مقرر کرتا ہو۔ ان کا پروپیگنڈہ عقل کی موت اور جہالت کا جشن ہے۔خیبر پختونخوا میں تو کمال کا نظامِ اخفا ہے؛ یہاں ہر مہنگی چیز پر “صوبائی خودمختاری” اور “مجبوری” کا ایسا پردہ ڈالا جاتا ہے کہ غریب کو اپنی بھوک بھی ایک مقدس فریضہ لگنے لگتی ہےآٹا، چینی اور بجلی جب پہنچ سے باہر ہوں، تو بیانیہ بدل کر اسے “دوسروں کی نااہلی” کا غلاف پہنا دیا جاتا ہے۔: جو زبانیں وفاق کی مہنگائی پر قینچی کی طرح چلتی ہیں، اپنے صوبے کی منڈیوں میں لوٹ مار دیکھ کر وہ اچانک “روزے” سے ہو جاتی ہیں۔: جہاں ضمیر پر مصلحت کا پردہ ہو، وہاں مہنگی روٹی بھی “نظریاتی” لگنے لگتی ہے۔اس پر بھی کبھی لکھیں یہاں فارم 45 والوں کی حکومت نہیں یہاں عوام روز شور کرتی ہے صحت تعلیم ٹرانسپورٹ زندگی کے کسی شعبہ ہاۓ جات پر زبان گونگی کی پیڈ خاموش اور موبائل بند کیوں ہو جاتا ہے۔۔۔خدارا ہوش کے ناخن لیں ہر چیز کو پروپیگنڈہ بنا کر پیش مت کریں اور نا ہی ملک میں افرا تفری کا ماحول پیدا کریں۔

ایران کیوں بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر ہر دن حملے کررہاہے ؟امریکہ یہاں سے جوابی کارروائی کیوں نہیں کررہا؟ اور یہ اڈہ اسرائیل کی لائف لائن کیسے ہے؟آئیے سمجھتے ہیں ۔بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا محض ایک فوجی چھاؤنی نہیں، بلکہ یہ مشرق وسطی کا وار روم ہے جہاں سے پورے خطے کی تقدیر کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔یہ اڈہ پاکستان سمیت تقریباً 21 ممالک کی سمندری حدود اور فضائی نگرانی کرتا ہے۔ایران کے ڈاکٹر فواد ایزدی کے مطابق یہ اڈہ مشرق وسطی میں امریکی استعمار کا مرکز ہے یہاں سے ہونے والے فیصلے عرب ملکوں کے خودمختاری کو کچلتے ہیں ۔امریکہ میں فلسطینی نژاد عبد الباری کے مطابق یہ اڈہ اسرائیل کا فرنٹ لائن ڈیفنس ہے ۔ اسکی موجودگی کا مقصد اسرائیل کا تحفظ ہے ۔پانچواں بیڑا اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان فوجی تعاون کا پل ہے، جس کی وجہ سے ابراہیمی معاہدوں جیسے سیاسی فیصلے ممکن ہوئے۔اس اڈے کے بغیر امریکہ مشرق وسطیٰ میں محض ایک تماشائی رہ جائے گا اور پھر یہاں کے فیصلے چین اور روس کریں گے ۔جنگ کے پہلے دن ڈرونز سے انٹرسیپٹ میزائل کا ذخیرہ کم کروایا، دوسرے دن ڈیٹا سنٹر کو نقصان پہنچایا اور سب سے اہم کامیابی ریڈار سسٹم پر کامیاب حملہ کرکے امریکہ کو اندھا کردیا ، تیسرے دن تیل کے ڈیپو کو اڑایا گیا ، اور 1امریکی ڈسٹرائر جہاز کو نشانہ بنایا پھر چوتھے دن ائیر فیلڈ اور بندرگاہ، فوجیوں کے رہائشی عمارت پر کامیاب حملہ کیا گیا ۔جب ایران کے قریب اتنا بڑا بحری اڈہ موجود ہے تو پھر امریکہ جوابی کارروائی یہاں سے کیوں نہیں کررہا؟ایران کے پاس دنیا کا سب سے بڑا نیول مائن کا ذخیرہ ہے ۔اگر امریکہ ایران کے ساحلوں یا بحری اثاثوں پر بڑا حملہ کرتا ہے، تو ایران آبنائے ہرمز میں ہزاروں سمارٹ بارودی سرنگیں بچھا دے گا۔جس سے عربوں ڈالر کے امریکی جہاز ڈوبے گے ۔اگر امریکہ جنگ جیت بھی جائے تو اسے مائنر کو کلیئر کرنے میں کم سے کم سے کم 6 مہینے لگے گے یعنی آبنائے ہرمز جنگ میں بھی بند ہوگا اور اسکے بعد بھی مکمل بند ہوگا جو عالمی معیشت یعنی امریکہ کی موت ہے ۔ایک بھی ڈرون اگر یہاں موجود اربوں ڈالر کے طیارہ بردار جہاز کو ہٹ کر دے، تو یہ امریکہ کے لیے بہت بڑی سیاسی اور فوجی شکست ہوگی۔ابرہام لنکن دور تھا اسکی تباہی دنیا سے چھپا سکتا ہے

یہ نہیں چھپا سکتا یہ پوری دنیا دیکھی گی ۔اور سب سے بڑا خوف ہے ایرانی ہائپر سونک میزائل جو دو سے تین منٹ میں یہاں پہنچتے ہیں انہیں روکنا امریکہ کیلئے ناممکن ہوگا جب ایک ساتھ حملہ ہوگا ۔ایک تو عربوں ڈالر کا نقصان ، دوسرا فوجی اڈہ ختم تیسرا اگر یہاں سے حملہ ہوا یعنی بحرین کی سرزمین استعمال کی گئ تو بحرین کیلئے کتنے خرم شہر 4 کلسٹرز بموں والے میزائل کافی ہونگے جو صرف ایک میزائل 7 مربع کلومیٹر رقبے کیلئے کافی ہے ؟اس سوال کا جواب آپ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔ایران نے یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ کا ناقابلِ تسخیر پانچواں بیڑا خود محفوظ نہیں تو اب امریکہ عرب ملکوں کو تحفظ نہیں دے سکتا۔یہاں کا ریڈار سسٹم ، جاسوسی کے ڈرونز ایران کے ہر ایک قدم پر نظر رکھتے ہیں ، ایران سے جو بھی میزائل اور ڈرونز اسرائیل کی طرف جاتا ہے یہ اڈہ انہیں فوراً اطلاع کرتاہے ، انٹلیجنس فراہم کرتاہے اسی لیے ایران نے اسکے ریڈار سسٹم پر کامیاب حملہ کیا ہے ۔ایران بحرین کو یہ باور کرا رہا ہے کہ یہ بحری اڈہ آپکی حفاظت کیلئے نہیں اسرائیل کے تحفظ کیلئے ہے جب پانچواں بیڑا اپنے دفاع میں مصروف ہوا، تو اسرائیل کو ملنے والی انٹیلیجنس اور میزائل ڈیفنس سپورٹ کمزور پڑ گئی، جس کا فائدہ اٹھا کر ایران نے اسرائیل کے اندر نیواتیم اڈہ ، موساد کے مرکز کو کامیابی سے ہٹ کیا۔ایران کے حملوں سے ریڈار ، فیول ڈیپو ، دو ڈسٹرائر ایک کے ڈک کو اور دوسرے کو بحیرہ احمر میں ریڈار اور کمیونیکشن سنٹر کو ہٹ کیا گیا ہے تمام نقصان تقریبا 450 ملین ڈالر ہے۔جہازوں کے ایندھن ، تنخواہیں اور گشت سے امریکہ کو 150ملین ڈالر کا خرچ ہوا ہے ۔اور ایرانی سستے ڈرونز کو انٹرسیپٹ میزائلوں سے روکنے کیلئے 600 ملین ڈالر سے زائد کا خرچ آیا یے یعنی تقریبا 1.2 ارب ڈالر کا نقصان صرف 5 دنوں میں ۔ایران کا مقصد امریکہ کو جنگ میں ہرا کر مکمل تباہ کرنا نہیں بلکہ اسے دیوالیہ کرنا ہے۔ وہ سستے ہتھیاروں سے امریکہ کے مہنگے ترین دفاعی نظام کو معاشی طور پر نچوڑ رہا ہے۔

صہیونی اخبار اسرائیل ہائوم کے بعد اب وائٹ ہاؤس اور صدر ٹرمپ نے پاکستان کی دھمکی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہیہ بات درست ہے کہپاکستان نے امریکہ اور اسرائیل کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایران سمیت کسی بھی مسلم عرب ملک کے عوام پر حملہ کیا گیا تو وہ امریکی اڈوں اور اسرائیل پر حملہ کر دے گا جب کہاسرائیل کو یہ دھمکی بھی دی ہے کہ ایران پر ایٹمی حملے کی صورت میں پاکستان اگلے پانچ منٹ کے اندر اسرائیل پر ایٹمی حملوں کی بارش کر دے گا اور اس جنگ کا باقاعدہ حصہ بھی بن جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہپینٹاگون کو یہ دھمکی پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے ذریعے دی گئی ہے۔اس پریس کانفرنس کے بعد ایرانی عوام نے پاکستان سے اپنی بھرپور محبت کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس کا حملے کے فوراً بعد ایران حکومت نے شکریہ ادا کیا ہے اور پھر چین اور روس کی حمایت کے بعد ان کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔یاد رکھیے کہاس وقت پاکستان کے جو دشمن اور غدار اپنی اقتدار کی ہوس پوری نہ کرنے پر پاک فوج سے نفرت کے باعث نوبل انعام کے لئے صدر ٹرمپ کی نامزدگی پر نفرت کا ڈھونگ رچا رہے ہیں،وہ دراصل وہی امریکی غلام ہیں جنہوں نے صدارتی الیکشن میں نہ صرف صدر ٹرمپ کا بھرپور ساتھ دیا تھا بلکہ ان کے جیتنے پر گھنگھرو توڑ دھمال ڈالتے ہوئے انہیں مبارکباد بھی پیش کی تھی۔امریکی غلامی کا اس حد تک مظاہرہ کرنے کے باوجود بھی جب ان کی آتما کو شانتی نہیں ملی تھی تو پھر اس کے بعد ان امریکی غلاموں نے صدر ٹرمپ کو اپنے والدِ محترم کا درجہ دے دیا تھا…!!!اسی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو انڈیا نے امریکہ کو بحری اڈے دے دیے ہیں یہ پاکستان اور ایران کے لیے غمبھیر مسئلہ ہے دیکھتے ہیں اگے ہوتا ہے کیاڈی جی ائی ایس پی ار کا بیان تو اپ سب نے سنا ہی ہوگا انہوں نے دنیا کو ان کر دیا ہے الجزیرہ چینل کے انٹرویو کے ذریعے ۔ کیا ایسی کوئی بھی حماقت کی گئی تو اس کا انجام ہولناک ہوگا جس کا دنیا نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگااور ماشاءاللہ سے ہمارے فیڈ مارشل صاحب ہمارے مرشد صاحب نے پہلے ہی امریکہ میں کھڑے ہو کے کفار کو للکار کے بولا تھا کیا اگر ہمیں لگا کہ ہم ڈوبنے لگے ہیں تو آدھی دنیا کو لے کے ڈوبیں گےبس اب ہم سب پہ فرض ہے کہ اپنے پیارے پاکستان کے لیے اپنی عوام کے لیے اپنے سکیورٹی اداروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو جائیں یہ جنگ صرف اور صرف اسلام اور کفر کےدرمیان ہوگی اور انشاءاللہ فتح مسلمانوں کی ہوگی۔