*خٹک فارمولا برائے KPK*پرویز خٹک کو وزارت داخلہ میں ایڈجسٹ کرنے کے بعد ذمہ داری دے دی گئی۔ذرائع کے مطابق پرویز خٹک کو صوبہ KPK میں ٹاسک دے گیا ہے کہ 6 مہینے کے اندر اندر یہ وائرس ختم کرنا ہے جس کے بنانے والوں میں ج۔۔۔نر/ل پاشا کے کہنے پر پیپلز پارٹی چھوڑ کر pti میں شامل ہو کر تم بھی شامل تھے۔کیونکہ KPK میں pti کا پہلا صدر بھی پرویز خٹک ہی تھا۔اس ٹاسک کے مطابق پرویز خٹک نے 6 مہینے کے اندر اندر KPK میں تبدیلی لے کر آنی ہے۔پرویز خٹک نے کمان سنبھالتے ہی کام شروع کر دیا اور پہلے دن ہی خٹک ڈانس کرتے ہوئے pti کے 20 ایم پی ایز کو توڑ کر افطار پارٹی دے کر کھڑاک کر دیا ہے۔کیونکہ پرویز خٹک جانتا ہے کہ کس طرح اس چیز کو توڑنا ہے جو اس نے خود بنائی تھی۔پرویز خٹک کی کمان میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس آ گئے ہیں۔یعنی کہ اب KPK کی ساری وفاقی انتظامیہ پرویز خٹک کی کمان میں ہے۔
*مہرنگ بلوچ نے کوئٹہ کی پوش ہاؤسنگ سوسائٹی کی سٹریٹ 7 میں دو کروڑ کا گھر خرید لیا*مہرنگ بلوچ نے اسلام آباد احتجاج کیا، گوادر احتجاج کیا، پورے بلوچستان میں احتجاج کرتی پھرتی ہے اس کو فنڈنگ کہاں سے ہوتی ہے؟اس کی کالز لیک ہوتی ہیں جن میں اس کے ساتھ پیسوں کے لین دین کا ذکر چل رہا ہے اور بندے پورے نا لانے کا شکوہ کیا جا رہا ہے۔پورے بلوچستان میں BLA والے دھماکے کرتے پھرتے ہیں، دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں اور دہشت گردی کر رہے ہیں۔قتل و غارت گری مچی ہوئی ہے امن عامہ تباہ و برباد کر ڈالا ہے انہوں نے۔ معصوم عوام کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے ایک خاص صوبے کے افراد کا کہ کر بسوں سے اتار کر ان کی رہائش گاہوں کے اندر بھی اور باہر نکال کر بھی بے گناہ شہید کیا جا رہا ہے لیکن اس میرنگ نے کبھی مذمت نہی کی، کبھی ان کے خلاف کوئی بیان نہی دیا کبھی ان کے خلاف دھرنا نہی دیا۔جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے یہ ہمسایہ ملک کی پکی ایجنٹ ہے اور وہاں سے ملے ہوئے حکم پر جیسے وہ کہیں ویسے ہی چلتی ہے اور وہی کرتی ہے جو وہ کہیں۔ اس کو اور BLA کو فنڈنگ وہیں سے ہوتی ہے۔اسی فنڈنگ سے اس نے کوئٹہ میں 2 کروڑ کا مکان خریدا ہے ورنہ اس کی کون سی زمینیں ہیں یا بڑے کاروبار ہیں جہاں سے اس کو پیسے آتے ہوں۔ادھر پہلا ہی نام نہاد، جھوٹا، کذاب اور بقلم خود صادق اور امین نہی مان یہ دوسری صادقہ آ گئی۔پہلے والے کا بھی کوئی کاروبار نہیں زمینوں کی آمدن نہی لیکن پیسے کی ریل پیل ہے اس کے اور اس کی بہنوں کے پاس بھی۔ان کے حمایتیوں کے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور کیا کر رہے ہیں اور کس گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
سینیٹر ثانیہ نشتر نے سینیٹ کی نشست استعفیٰ دے دیا انھوں نے اپنا استعفیٰ چیئرمین سینیٹ کو دیا تھا ۔ آئین کی شق 64(1) کے تحت انکی نشست کو فوری طور پر 10 مارچ ، 2025 سے خالی قرار دے دیا گیا ۔اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے
*آسٹریلیا میں بھارتی کمیونٹی رہنما بلیش دھانکھر کے جرائم: بھارت کا عالمی سطح پر بڑھتا ہوا ریپ کلچر*بھارت کا “ریپ کلچر” ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جو نہ صرف بھارت میں بلکہ عالمی سطح پر پھیل چکا ہےبھارتی ریپ کلچر ایک ایسی معاشرتی بیماری ہے جو بھارتیوں کی گرتے ہوئی اخلاقی اقدار اور سماجی زوال کی عکاسی کرتی ہےبین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جی پی کے سیٹلائٹ گروپ کی بنیاد رکھنے اور ہندو کونسل آف آسٹریلیا کے ترجمان بلیش دھانکھر نے پانچ کوریائی خواتین کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عصمت دری کا نشانہ بنایاسابق آئی ٹی کنسلٹنٹ 43 سالہ بلیش دھانکھر، ہریانہ سے ہیں، جن کے والد اجیت دھانکھر ہندوستانی فضائیہ کے ریٹائرڈ افسر ہیں اور دہلی حکومت میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے طور پر بھی کام کیا بلیش دھانکھر کو ڈاؤننگ سینٹر ڈسٹرکٹ کورٹ آسٹریلیاء میں40 سال کی سزا سنائی گئی،
رپورٹدھانکھر، نے جنوبی کوریائی خواتین کو لالچ دینے کے لئے نوکری کے جعلی اشتہارات کا استعمال کیا اور نشہ آور ادویات کا استعمال کر کے خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایادھانکھر ایک ایکسل اسپریڈشیٹ پرجعلی نوکری کے اشتہارات کے تمام درخواست دہندگان کی شکل، ذہانت اور خوبصورتی کی بنیاد پر درجہ بندی کرتا, رپورٹ دھانکھر اپنی مستقبل کی جنسی تسکین کے لیے اپنے جرائم کو فلماتا اور ریکارڈ کر کے کمپیوٹر میں رکھتا، رپورٹتمام خواتین، جن کی عمریں 21 اور 27 کے درمیان تھیں، زیادتی کے وقت یا تو بے ہوش تھیں یا نمایاں طور پر کمزور تھیں، رپورٹبھارتی کمیونیٹی کے رہنماء کے طور پر سرگرم دھانکھر کا شکاری اور ناقص کردار حیران کن قرار، رپورٹ2023 میں آسٹریلیا کی ایک عدالت نے اسے 39 جرائم کا مجرم پایا، جن میں جنسی زیادتی کے 13 واقعات شامل ہیںمودی سرکار اور بی جی پی کا جنسی زیادتی کرنے والوں کی پشت پناہی اور انہیں کمیونٹی لیڈر کے طور پر بلند کرنا خواتین کے حقوق کے تحفظ کے دعووں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے
*23 مارچ کی تیاریاں عروج پر*23 مارچ وہ تاریخی دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے علیحدہ وطن کے قیام کا عزم کیاایک ایسا ملک جہاں وہ آزادی، مساوات اور خودمختاری کے ساتھ زندگی گزار سکیںیوم پاکستان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قربانی، اتحاد اور جدوجہد سے ایک خواب کو حقیقت بنایا جا سکتا ہے23 مارچ کا دن صرف ماضی کی یاد نہیں، بلکہ ہمیں روشن مستقبل کی راہ دکھانے والا چراغ بھی ہے!یومِ پاکستان قریب، قوم افواجِ پاکستان کی شاندار پریڈ کے لیے پُرجوش23 مارچ کی تیاریاں عروج پر، سب کی نظریں شاندار پریڈ پر مرکوزاسلام آباد میں 23 مارچ پریڈ کی تیاریاں مکمل، ملک بھر میں جوش و خروش قومی یکجہتی کا دن، 23 مارچ پریڈ میں شاندار عسکری مظاہرہ متوقعافواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت کے جوہر دکھانے کی گھڑی قریب
*نادرا کو قائم ہوئے 25 سال مکمل،اسکے قیام میں افواج پاکستان کا کردار* سن 1997 میں، پاکستان برسوں سے قومی مردم شماری کے انعقاد میں مشکلات کا شکار تھابار بار تاخیر کے سبب ہر انتظامی یونٹ کے پاس اپنے الگ تخمینے تھے، جس کی وجہ سے قومی سطح پر درست آبادی کے اعداد و شمار حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج تھااس پیچیدہ صورتحال میں، اس وقت کے وزیر اعظم نے پاکستان کی مسلح افواج کو قومی مردم شماری کے انعقاد کے لیے طلب کیاہیڈکوارٹرز آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، بنیادی ہدف مردم شماری کا انعقاد تھا اس موقع کو ایک بڑی تبدیلی کے آغاز کے طور پر دیکھا گیاایسی شناختی نظام کی بنیاد رکھنے کا موقع جو ہر شہری کو نہ صرف شمار کرے بلکہ اسے ایک منظم ڈیجیٹل شناختی نظام میں شامل کرےاسی سوچ کے تحت، ایک مرکزی، محفوظ اور جدید ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کا خاکہ تیار کیا گیاحکومتِ پاکستان نے اس منصوبے کو منظور کیا، اور مارچ 1998 میں نیشنل ڈیٹا بیس آرگنائزیشن کا قیام عمل میں لایا گیامردم شماری جیسے بڑے منصوبے کے لیے 60 ملین ڈیٹا فارم پرنٹ کیے گئے، جو ملک کے ہر گھر تک پہنچائے گئےاس نادر موقع کو بروئے کار لاتے ہوئے، فیصلہ کیا گیا کہ مردم شماری کے دوران نہ صرف آبادی کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے بلکہ ہر شہری کی جامع معلومات بھی حاصل کی جائیںمردم شماری ٹیم نے پورے ملک کے طول و عرض کے دورے کیے پہلے مرحلے میں فارم دیے گئے اور دوسرے مرحلے میں انہیں واپس لیا گیا تاکہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنایا جا سکےیہی نیشنل ڈیٹا فارم آج بھی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کے درخواست فارم کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے قومی سطح پر ڈیجیٹل شناختی نظام کی بنیاد رکھیاس جدت کے ساتھ پاکستان دنیا کے ان اولین ممالک میں شامل ہو گیا جنہوں نے اس پیمانے پر ایسا اقدام کیامحدود وسائل کے باوجود، اس منصوبے کو غیرمعمولی مہارت کے ساتھ مکمل کیا گیا
پاکستان کی مسلح افواج، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس، اسکول اساتذہ، اور سرکاری ملازمین کو ملک کے ہر علاقے بشمول فاٹا، آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان تک بھیجا گیا ڈیٹا جمع ہونے کے بعد، اگلا چیلنج اس کی ڈیجیٹائزیشن تھا کیونکہ اس وقت ایسے ہائی اسپیڈ اسکینرز دستیاب نہیں تھے جو اتنے بڑے ڈیٹا کو فوری طور پر پروسیس کر سکتےاردو زبان کمپیوٹر پر مکمل طور پر معاونت یافتہ نہیں تھی، اس لیے نیشنل لینگویج اتھارٹی کے تعاون سے اردو کی ڈیجیٹل پروسیسنگ کے لیے معیاری نظام وضع کیا گیا20,000 نوجوان پاکستانیوں کو خصوصی تربیت دے کر اردو ڈیٹا انٹری کے لیے تعینات کیا گیاان کی انتھک محنت کی بدولت پاکستان کا پہلا قومی شہری ڈیٹا بیس وجود میں آیااس منصوبے کی طویل مدتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، آبادی کی مکمل دستاویز بندی کے لیے کوششیں جاری رکھی گئیں نیشنل ڈیٹا بیس آرگنائزیشن کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف رجسٹریشن کے ساتھ ضم کر کے 10 مارچ 2000 کو نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کا قیام عمل میں آیامیجر جنرل زاہد احسان کو اس کا پہلا چیئرمین مقرر کیا گیاابتدائی دنوں میں، بجٹ مختص نہ ہونے کی وجہ سے نادرا کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھامالیاتی خود مختاری حاصل کرنے کے لیے غیر روایتی طریقے اپنانے کی ضرورت پیش آئیانتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ڈیجیٹل ووٹر لسٹ درکار تھینادرا نے اپنی ڈیٹا کلیکشن کی صلاحیت کو بروئے کار لا کر پاکستان کی پہلی کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرست تیار کییہ حکمت عملی نہ صرف قومی انتخابات کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل حل فراہم کرنے میں کامیاب رہی بلکہ نادرا کی مالی خود مختاری کو بھی یقینی بنایا
الیکشن کمیشن نے نادرا کو 500 ملین روپے ادا کیے، جسے نادرا نے مزید 3.5 بلین روپے کے تجارتی قرضے کے حصول کے لیے استعمال کیایہ قرض جلد ہی واپس کر دیا گیا، اور نادرا خود کفیل ہو گیا، جو آج بھی اس کا طرۂ امتیاز ہےنادرا کے قیام کے بعد، پاکستان نے 2001 میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ متعارف کرایا، جو کہ ایک محفوظ، جدید اور ٹیکنالوجی سے آراستہ شناختی دستاویز بن گیانادرا کی کامیابی میں پاک فوج کے ان افسران کا لازوال کردار ہے جنھوں نے اپنی محنت اور صلاحیت کی بنا پر اس کی داغ بیل ڈالیاگرچہ نادرا کے سفر میں کئی چیلنجز آئے، مگر نتیجہ ایک غیر معمولی کامیابی کی صورت میں نکلاآج، پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ایک جدید اور مکمل ڈیجیٹل شناختی نظام موجود ہے
*پاکستانی معیشت کی بحالی کے مثبت اشاریے*پاکستان کی معیشت مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے جس کا ثبوت مختلف اقتصادی اشاریے فراہم کرتے ہیںپاکستان کی برآمدات اتار چڑھاؤ کے بعد سال 2025 میں 30.351 ارب ڈالر تک پہنچ گئیںسال 2025 میں برآمدات کا ہدف 32.34 ارب ڈالر رکھا گیا ہے جو مضبوط معیشت کی نشاندہی کرتا ہے ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا جو سال 2024 میں 9.252 ٹریلین روپے تک جا پہنچا جبکہ سال 2025 میں 12.97 ٹریلین روپے کا ہدف رکھا گیا ہے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر معیشت کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیںسال 2024 میں ترسیلات زر 28.782 ارب ڈالر تک جا پہنچی جبکہ سال 2025 میں ان کا حجم 35.0 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہےپاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئیکے ایس ای (KSE-100) انڈیکس میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا، جو سال 2021 میں 47,896 پوائنٹس سے بڑھ کر سال 2024 میں 75,878 تک پہنچ گیاسال 2025 میں انڈیکس پوائنٹس کی 127,000 تک پہنچنے کی امید ہے سال 2024 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری 2.346 ارب ڈالر رہیسال 2025 میں غیر ملکی سرمایہ کاری 2.8 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہےسال 2023 میں مہنگائی کی شرح 29.2 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو سال 2025 کے ابتدائی 8 ماہ میں کم ہو کر 5.9 فیصد تک آ چکی ہےفروری 2025 میں مہنگائی کی شرح محض 1.5 فیصد رہی، جو معاشی استحکام کی نشاندہی کرتی ہے سال 2022 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17.5 ارب ڈالر تھا جو سال 2025 کے ابتدائی 7 ماہ میں 0.7 ارب ڈالر سرپلس میں تبدیل ہو چکا ہےکرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سرپلس میں تبدیل ہونا زرمبادلہ کے ذخائر اور معیشت کی بہتری کی واضح علامت ہےروشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقم سال 2023 میں 7.035 ارب ڈالر تھی، جو سال 2025 میں بڑھ کر 9.564 ارب ڈالر ہو چکی ہے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی جو مضبوط اور مستحکم معیشت کی نشاندہی کرتا ہے پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر سال 2023 میں 9.16 ارب ڈالر تک گر گئے تھے مگر سال 2025 میں یہ 16.05 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیںیہ تمام معاشی اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت بہتری کی راہ پر گامزن ہے اور جلد ہی مزید استحکام اور ترقی کی طرف بڑھے گی
آج میو ہسپتال سے جس پروفیسر کو ایم ایس کی سیٹ سے ہٹانے کا کہا گیا ہے وہ تقریباً ایک ماہ قبل اس کی استدعا حکومت وقت سے کر چکا تھا کہ وہ اس عہدہ پر مزید کام نہیں کرسکتا؟؟
زرائع کے مطابق میو ہسپتال اس وقت تقریبا 2 ارب سے زائد کا مقروض ہے۔ ایسے میں ایم ایس اپنی جیب سے تو مریضوں کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔اصل مسائل کو حل کرنے کی بجائے ایم ایس صاحبان کی سرعام تذلیل کرنا اور اُن کو اس ذلت آمیز طریقے سے ہٹانا انتہائی قابل افسوس عمل ڈاکٹر ایسوسی ایشن
عبدالستار ایدھی مرحوم سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا، آپ نے ہزاروں لاوارث میتیں دفنائیں، کبھی کسی میت کی بگڑی حالت دیکھ کر رونا آیا؟ انھوں نےآنکھیں بند کرکے گہری سوچ میں غوطہ زن ہوتے ہوئے کہا ، ایسی تو نہیں البتہ ایک مرتبہ میرے رضاکار ایک صاف ستھری میت لے کر آئےجو تازہ انتقال کئے بوڑھے مگر کسی پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے گھرانے کی لگ رہی تھی. اس کےسفید چاندی جیسے بالوں میں تیل لگا ہوا تھا.
اور سلیقے سے کنگھی کی ہوئی تھی. دھوبی کے دھلے ہوئے سفید اجلے کلف لگے سوٹ میں اس کی شخصیت بڑی باوقار لگ رہی تھی. مگر تھی وہ اب صرف ایک میت ، ایدھی صاحب پھر کچھ سوچتے ہوئے گویا ہوئے.ہمارے پاس روزانہ کئی میتیں لائی جاتی ہیں. مگر ایسی میت جو اپنے نقش چھوڑ جائے. کم ہی آتی ہیں اس میت کو میں غور سے دیکھ رہا تھا. کہ میرے رضاکار نے بتایا. اس نے کراچی کی ایک پوش بستی کا نام لے کر کہا کہ یہ باڈی اس کے بنگلے کے باہر پڑی تھی.
ہم جونہی بنگلے کے سامنے پہنچے تو ایک ٹیکسی میں سوار فیملی جو ہمارا ہی انتظار کر رہی تھی اس میں سے ایک نوجوان برآمد ہوا اور جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک لفافہ ہمیں تھماتے ہوئے بولا۔ یہ تدفین کے اخراجات ہیں۔ پھر وہ خود ہی بڑبڑایا۔ یہ میرے والد ہیں۔ انکا خیال رکھنا اچھی طرح غسل دے کر تدفین کر دینا۔ اتنے میں ٹیکسی سے آواز آئی۔ تمھاری تقریر میں فلائٹ نکل جائے گی۔ یہ سنتے ہی نوجواں پلٹا اور مزید کوئی بات کئے ٹیکسی میں سوار ہو گیا اور ٹیکسی فراٹے بھرتی ہوئی آنکھوں سے اوجھل ہوگئی۔ایدھی صاحب بولے اس میت کے متعلق جان کر مجھے بہت دکھ ہوا اور میں ایک بار پھر اس بدقسمت شخص کی جانب دیکھنے لگا تو مجھے ایسے لگا جیسے وہ بازو وا کئے مجھے درخواست کر رہا ہو کہ ایدھی صاحب ساری لاوارث میتوں کے وارث آپ ہوتے ہیں مجھ بدقسمت کے وارث بھی آپ بن جائیں میں نےفوراً فیصلہ کیا کہ اس میت کو غسل بھی میں دونگا اور تدفین بھی خود کرونگا پھر جونہی غسل دینے لگا تو اس اجلے جسم کو دیکھ کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ جو شخص اپنی زندگی میں اس قدر معتبر اور حساس ہوگا۔ اس نے اپنی اولاد کی پرورش میں کیا ناز و نعم نہ اٹھائے ہونگے۔ مگر بیٹے کے پاس تدفین کا وقت بھی نہ تھا۔ اسے باپ کو قبر میں اتارنے سے زیادہ فلائٹ نکل جانے کی فکر تھی۔ اور یوں اس میت کو غسل دیتے ہوئے میرے آنسو چھلک پڑے۔ پھر وہ اپنے کندھے پر رکھے کپڑے سے آنسو پونچھتے ہوئے بولے، اس دن میں انسانیت کی ڈوبتی نیٌا پر رو پڑا. کاش کہ ہم اپنی اولادوں کی عیش و عشرت کی بجائے بہتر تعلیم و تربیت پر زیادہ فوکس کریں۔۔۔
سپریم کورٹ کے احکامات اور وفاقی حکومت کی پالیسی کے باوجود صوبہ میں ساڑھے پانچ سال سے تعینات کرپٹ افسر کے خلاف وفاقی حکومت خاموش، سسٹم افسر اور سیاسی آشیرباد۔ کلک میں تعیناتی کے دوران ریکارڈ کرپشن کی۔ کے ایم سی اور کلک میں غدر مچاتے رہے لیکن سیاسی سرپرستی اور سسٹم کی وجہ سے کوئی ایکشن نہیں ہوا۔ جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ ن اور سیاسی و سماجی حلقوں کا فوری وفاق سے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرنے کا مطالبہ۔ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی فرینڈلی اپوزیشن کر رہے ہیں۔ کراچی (ڈسٹرکٹ رپورٹر) PASگروپ کے افسران کے لئے سپریم کورٹ کے احکامات اور وفاقی حکومت کی پالیسی کے باوجود کہ تین سال بعد PASافسر دوسرے صوبہ میں سروس کرے گا۔ کے ایم سی میں تعینات میونسپل کمشنر افضل زیدی وفاقی حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ساڑھے پانچ سال سے کراچی میں مختلف پوزیشن پر تعینات ہیں۔ جبکہ کلک اور کے ایم سی میں انہوں نے غدر مچایا اور اسوقت کے ایم سی میں تعینات ہیں۔ سسٹم افسراور سیاسی آشیر باد کی وجہ سے کرپشن کیسوں کے باوجود انکے خلاف کاروائی نہ ہونا بھی سوالیہ نشان ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات اور وفاقی حکومت کی پالیسی کے باوجود صوبہ میں ساڑھے پانچ سال سے تعینات کرپٹ افسر افضل زیدی کے خلاف وفاقی حکومت خاموش ہے۔ سسٹم افسر اور سیاسی آشیرباد میں کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کے توجہ دلانے ٹھیکیداروں کی ایسوسی ایشن کے عدالت جانے پارکس سمیت مختلف ٹینڈرز اور اختیارات کے غلط استعمال کے باوجود کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ کلک میں تعیناتی کے دوران ریکارڈ کرپشن کی۔ لانڈھی ٹاؤن (سابقہ ڈی ایم سی ملیر) کا دفتر پارک کی جگہ پر کلک سے تعمیر کروایا۔ کے ایم سی میں اپنا دفتر ذاتی مفاد اور کے ایم سی بلڈنگ Heritageمیں ہونے کے باوجود پالیسی کے خلاف لاکھوں روپے خرچ کئے۔ بے تاج بادشاہ اور عدم معلومات کے باوجود مقامی افسران کو نشانہ بنانے اور لابنگ کرنے میں مشہور ہیں۔ ماہانہ بھتہ نہ دینے والے محکموں کے افسران کے لئے انکی سوچ انتہائی خراب ہے انہیں کرپٹ ترین افسر مشہور کرنے میں شہرت رکھتے ہیں۔ کے ایم سی اور کلک میں غدر مچاتے رہے لیکن سیاسی سرپرستی اور سسٹم کی وجہ سے کوئی ایکشن نہیں ہوا۔ جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ ن اور سیاسی و سماجی حلقوں کا فوری وفاق سے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرنے کا مطالبہ۔
پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی فرینڈلی اپوزیشن کر رہے ہیں۔ کے ایم سی کونسل کے رکن اور یو سی چیئرمین جماعت اسلامی نے کہا کہ قبضہ میئر کی سرکاری اور بعض حلقوں کی جانب سے سرپرستی بند ہوجائے تو ہم عدم اعتماد کی تحریک لے آئیں۔ مسلم لیگ ن کے یو سی چیئرمین نے کہا کہ وفاق میں الائنس ہونے کی وجہ سے ہم مجبور ہیں۔ میئر کی حمایت واپس نہیں لے سکتے۔ میونسپل کمشنر میئر کا فرنٹ مین ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم ڈیٹا جمع کر رہے ہیں۔ افضل زیدی کے کرپشن کا مکمل ریکارڈ ہے۔ جماعت اسلامی بھی بہت سے غلط کاموں کا حصہ ہئے اس لئے وہ کے ایم سی میں سب کچھ جاننے کے باوجود خاموش ہیں۔ پی ٹی آئی کے اراکین مالی فائدے لے رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے انہیں ترپ کا پتہ بنا رکھا ہے۔ جعلسازیوں کی مکمل رپورٹ ہے زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں سرپرستی سیاسی جماعت کی ہے۔ آباد اور چیف آف آرمی اسٹاف کی میٹنگ کے باوجود نیب کراچی کے ڈائریکٹر کا بے بسی کا اظہار بھی سسٹم مافیا کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ سسٹم افسران کے ساتھ ساتھ تمام مافیاز کی سرپرستی بھی سندھ حکومت کر رہی ہے۔ عوام کراچی کے اصل نمائندوں کی کمی کو محسوس کر رہے ہیں۔ میئر کی بے بسی انکی اپنی جماعت اور گروپنگ ہے۔ ہم سپریم کورٹ اور وفاقی حکومت سے سسٹم کے خلاف اور ساڑھے پانچ سال سے غیر قانونی تعینات میونسپل کمشنر کی فوری وفاق رپورٹ کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کے ایم سی کے اصل میئر افضل زیدی ہیں جنکے اشاروں پر میئر چلتے ہیں۔ایم کیو ایم جلد سندھ اسمبلی میں یہ معاملہ لا سکتی ہے ایم کیو ایم کی آفیسرز ایسوسی ایشن کے اراکین نے نمائندے سے بات چیت میں کہا کہ ہمارے تمام افسران ہٹا دیئے گئے ہیں۔ جو چند مقامی افسران ہیں وہ مفاد پرست اور کرپشن اور سسٹم کے تحت برقرار ہیں۔ہم پارٹی کو سارے معاملات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Baadban TV Report ڈپٹی وزیراعظم۔۔۔ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ اجلاسڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس، مختلف سروس گروپ کے 37 افسران کو گریڈ 22 میں ترقیوں کی منظوری اسلام آباد۔5مارچ :ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈکا 29 واں اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ، پولیس سروس آف پاکستان اور فارن سروس آف پاکستان کے گریڈ 21 کے افسران کی گریڈ 22 میں ترقی کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینئر بیوروکریٹس کی کارکردگی اور اہلیت کا بغور جائزہ لینے کے بعد متعدد افسران کی ترقی کی منظوری دی گئی۔پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے ترقی پانے والے افسران میں وسیم اجمل چوہدری، امبرین رضا، علی طاہر، عثمان اختر باجوہ، محمد حمیر کریم، سید عطاء الرحمن، مصدق احمد خان، راشد محمود، مومن آغا، ندیم محبوب، محی الدین احمد وانی، دائود محمد بریچ، شکیل احمد منگیجو، سعدیہ سروت جاوید، اسد الرحمن گیلانی، علی سرفراز حسین، زاہد اختر زمان، نبیل احمد اعوان اور احمد رضا سرور،پولیس سروس آف پاکستان میں ترقی پانے والے افسران میں بی اے ناصر، غلام نبی میمن، محمد فاروق مظہر، عمران یعقوب منہاس، عبد الخالق شیخ، محمد زبیر ہاشمی، محمد شہزاد سلطان اور محمد طاہر،فارن سروس آف پاکستان سے ترقی پانے والے افسران میں احمد نسیم وڑائچ، رحیم حیات قریشی، عاصم افتخار احمد، رضوان سعید شیخ، سید احسن رضا شاہ، فیصل نیاز ترمذی، نبیل منیر، ثقلین سیدہ اور شفقت علی خان شامل ہیں۔اجلاس کے دوران ترقی کے منتظر افسران کی سروس ریکارڈ، تجربے اور ملک کے لیے ان کی خدمات کو مدنظر رکھا گیا۔ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے ترقی پانے والے افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ ملک و قوم کی خدمت میں مزید محنت اور لگن کا مظاہرہ کریں گے۔یہ ترقیاں سول بیوروکریسی میں اعلیٰ عہدوں پر تجربہ کار اور قابل افسران کی تعیناتی کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہیں، جو پالیسی سازی اور گورننس کے نظام میں مزید بہتری لانے میں معاون