افغانستان کی در اندازی کی کوشش پاکستان کی جوابی کارروائی

*تائدہ سیکٹر، اپر کرم اورغوزگڑھی میں افغان طالبان کی خارجی دہشت گردوں کو پار کرانے کے لئے بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کا بھرپور جواب*پاک فوج کا تائدہ سیکٹر، اپر کرم اورغوز گڑھی میں افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ کا بھرپور اور مؤثر جواب، *سکیورٹی ذرائع* غوز گڑھی سرحد پر پاک فوج کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان رجیم کے متعدد اہلکار ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں ، *سیکیورٹی ذرائع*اپرکرم سیکٹرمیں پاک فوج نے آرٹلری فائرکے ذریعے افغان طالبان کی ٹاپسر پوسٹ اور شپولا بیس کیمپ کو نشانہ بنایا ، *سکیورٹی ذرائع* پاک فوج کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں شپولا بیس کیمپ مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاع ہے، *سکیورٹی ذرائع* پاک فوج کی جوابی کارروائی میں طالبان اہلکار وں نے اپنی سرحدی پوسٹ بھی خالی کردی ، علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ تاحال جاری ہے، *سکیورٹی ذرائع* *پاک فوج سرحدوں کے دفاع اور ملکی سلامتی کے لیے ہر وقت چوکس اور پُرعزم ہیں*

پاک چین دفاعی تعاون میں اہم پیشرفت،پہلی مشترکہ فوجی مشق ’’قراقرم 2026سنکیانگ میں جاری*چین کےصوبے سنکیانگ کے شہرکورلامیں پاک چین مشترکہ فوجی مشق’’قراقرم2026‘‘ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئیمشترکہ مشق میں ڈرون آپریشنز،دورانِ حرکت اہداف کی تلاش اور فائرنگ کی خصوصی تربیت شامل ہے

*پاک چین دفاعی تعاون میں اہم پیشرفت،پہلی مشترکہ فوجی مشق ’’قراقرم 2026سنکیانگ میں جاری*چین کےصوبے سنکیانگ کے شہرکورلامیں پاک چین مشترکہ فوجی مشق’’قراقرم2026‘‘ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئیمشترکہ مشق میں ڈرون آپریشنز،دورانِ حرکت اہداف کی تلاش اور فائرنگ کی خصوصی تربیت شامل ہے پاک چین فوجی مشق میں طویل فاصلے سے نشانہ بازی، مشترکہ کمانڈ اورعملی جنگی مشقوں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے دونوں ممالک کی افواج کاانسداد دہشتگردی کے تجربات کا تبادلہ،پاک فوج کے جوانوں نے چینی ہتھیاروں کامشاہدہ بھی کیا*مشترکہ فوجی مشق کامقصد انسداد دہشتگردی میں دوطرفہ تعاون بڑھانااوردونوں افواج کےدرمیان عملی ہم آہنگی مضبوط بنانا ہے*

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد، کیڈٹس وطن عزیز کے دفاع کیلئے پُرعزم *اعزازی شمشیر حاصل کرنے والے اکیڈمی سینئر انڈر آفیسرمحمد جنید جبار کا کہنا تھا کہ؛*وطن کی خدمت کے جذبے کے تحت پی ایم اے میں شمولیت اختیار کی اور ملک کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے انتھک محنت جاری رکھوں گا *پ

***پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد، کیڈٹس وطن عزیز کے دفاع کیلئے پُرعزم* *اعزازی شمشیر حاصل کرنے والے اکیڈمی سینئر انڈر آفیسرمحمد جنید جبار کا کہنا تھا کہ؛*وطن کی خدمت کے جذبے کے تحت پی ایم اے میں شمولیت اختیار کی اور ملک کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے انتھک محنت جاری رکھوں گا *پریذیڈنٹ گولڈ میڈل حاصل کرنے والے بٹالین سینئر انڈر آفیسر سید حسن عباس کا کہنا تھا کہ؛*پی ایم اے نے نہ صرف میری شخصیت کو نکھارا بلکہ مجھے زندگی کا ایک سچا اورحقیقی مقصد بھی دیا بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے *فرینڈلی کنٹری کیڈٹ کمپنی سینئرانڈرآفیسر ریاض محمود خان* پی ایم اے کو باوقار ادارہ قرار دیتے ہوئے اظہار تشکر کیا *کمپنی اسپورٹس سارجنٹ محمد عبداللہ نے کہا کہ:* یہ کامیابی سخت تربیت، اٹوٹ جذبۂ تعاون اور ٹیم ورک کا ثبوت ہے جو ہماری پیشہ ورانہ مہارت کی عکاسی کرتی ہے*چیف آف آرمی اسٹاف ایوارڈ حاصل کرنے والےکورس انڈرآفیسرعلی احمد مصطفی نے کہا کہ؛*پی ایم اے کی سخت تربیت اور انسٹرکٹرز کی رہنمائی نے مجھے باوقار انداز میں وطن کی خدمت کیلئےتیار کیا*جھنگ سے تعلق رکھنے والے کورس انڈر آفیسر محمد حمزہ فیاض* نے پی ایم اے کے سفر کو نظم و ضبط، قیادت اور ٹیم ورک کا بہترین تجربہ قرار دیا*

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی لیڈی کیڈٹ کورس جونیئر انڈر آفیسر مریم طارق نے کہا کہ؛* امید کرتی ہوں کہ میرا پی ایم اے کا سفر دوسری جوان خواتین کیلئے بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا*فرینڈلی کنٹری لیڈی کیڈٹ سارجنٹ جنت* نے پی ایم اے کے سفر کو سیکھنے، نظم و ضبط اور *پاک بنگلہ دوستی* کا بہترین تجربہ قرار دیا*فرینڈلی کنٹری سینئر انڈر آفیسر علی سلام سالم* نے پی ایم اے کے سفر کو نظم و ضبط اور *پاک عراق عسکری بھائی* چارے کا عملی مظہر بتایا*بریکنگ**پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد، کیڈٹس وطن عزیز کے دفاع کیلئے پُرعزم* *اعزازی شمشیر حاصل کرنے والے اکیڈمی سینئر انڈر آفیسرمحمد جنید جبار کا کہنا تھا کہ؛*وطن کی خدمت کے جذبے کے تحت پی ایم اے میں شمولیت اختیار کی اور ملک کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے انتھک محنت جاری رکھوں گا *پریذیڈنٹ گولڈ میڈل حاصل کرنے والے بٹالین سینئر انڈر آفیسر سید حسن عباس کا کہنا تھا کہ؛*پی ایم اے نے نہ صرف میری شخصیت کو نکھارا بلکہ مجھے زندگی کا ایک سچا اورحقیقی مقصد بھی دیا بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے *فرینڈلی کنٹری کیڈٹ کمپنی سینئرانڈرآفیسر ریاض محمود خان* پی ایم اے کو باوقار ادارہ قرار دیتے ہوئے اظہار تشکر کیا *کمپنی اسپورٹس سارجنٹ محمد عبداللہ نے کہا کہ:* یہ کامیابی سخت تربیت، اٹوٹ جذبۂ تعاون اور ٹیم ورک کا ثبوت ہے جو ہماری پیشہ ورانہ مہارت کی عکاسی کرتی ہے*چیف آف آرمی اسٹاف ایوارڈ حاصل کرنے والےکورس انڈرآفیسرعلی احمد مصطفی نے کہا کہ؛*پی ایم اے کی سخت تربیت اور انسٹرکٹرز کی رہنمائی نے مجھے باوقار انداز میں وطن کی خدمت کیلئےتیار کیا

*جھنگ سے تعلق رکھنے والے کورس انڈر آفیسر محمد حمزہ فیاض* نے پی ایم اے کے سفر کو نظم و ضبط، قیادت اور ٹیم ورک کا بہترین تجربہ قرار دیا*

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی لیڈی کیڈٹ کورس جونیئر انڈر آفیسر مریم طارق نے کہا کہ؛* امید کرتی ہوں کہ میرا پی ایم اے کا سفر دوسری جوان خواتین کیلئے بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا*فرینڈلی کنٹری لیڈی کیڈٹ سارجنٹ جنت* نے پی ایم اے کے سفر کو سیکھنے، نظم و ضبط اور *پاک بنگلہ دوستی* کا بہترین تجربہ قرار دیا*فرینڈلی کنٹری سینئر انڈر آفیسر علی سلام سالم* نے پی ایم اے کے سفر کو نظم و ضبط اور *پاک عراق عسکری بھائی* چارے کا عملی مظہر بتایا

ائین میں چاروں صوبوں کی خودمختاری کی بات کی مولانا فضل الرھمان۔سیاسی مذہبی جماعت کا سربراہ گورنری مانگتا تھا۔۔ ۔۔چاروں طرف کھیلنے والہ سیاسی جماعت کا لیڈر پھلی دفعہ بلیک میل کرنے میں ناکام۔۔۔ عمران خان کی صوبائی حکومت ختم کروانے میں بھی اس کا ھاتھ۔۔ ۔۔اسد قیصر عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھوپنے والہ۔ملک بھر میں دھشت گردی بلوچستان میں الرٹ جاری۔پارلیمنٹ کو دھشت گردوں سے بچا لیا گیا۔۔برطانوی کرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی ٹرائنگورز سیریز۔۔بقول پاکستانی مولوی یہ ملک اللّٰہ کی رازوں میں سے ایک راز ہے ۔۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ہم نے آئین میں چاروں صوبوں کی خودمختاری کی بات کی ہے، کس بات کی خودمختاری؟ یہ کوئی کنفیڈریش نہیں ہے کہ کوئی یونٹ جب چاہے آزادی حاصل کرے اور الگ ہو جائے، یہ فیڈریشن ہے کہ جس فیڈریشن کے تحت تمام یونٹیں اور تمام صوبے اپنے وسائل پر اختیار رکھتے ہیں، اپنی قانون سازی پر اختیار رکھتے ہیں، لیکن ہر چند کے آئین صوبوں کو اختیار دیتا ہے، صوبوں کے عوام کو اختیار دیتا ہے اور ہر صوبے کے وسائل پر وہاں کے عوام وہاں کے بچوں کے حق کو تسلیم کرتا ہے لیکن جب بھی دیکھا، جب بھی دیکھا صوبوں کے اختیار پر شب خون مارا گیا، مجھے یاد ہے جب انیس سو تریہتر میں بلوچستان حکومت توڑی گئی اور وہاں گورنر راج نافذ کیا گیا وہ بھی پاکستان پیپلز پارٹی جو کہتی ہے کہ جمہوریت میری شناخت ہے، جس جماعت کی شناخت جمہوریت ہے اسی نے سن ستر کے الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا، اسی نے بنگال کی اکثریت کو تسلیم نہیں کیا، اسی نے بٹے ہوئے پاکستان کے اندر بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر دیا اور صوبہ سرحد میں راتوں رات گورنر کو تبدیل کر دیا اور اس کے نتیجے میں مولانا مفتی محمود تھا جس کے ضمیر نے گوارا نہ کیا کہ ایک لمحے کے لیے بھی مزید حکومت جاری رکھے اور اپنی وزارت کے منصف سے استعفیٰ کا اعلان کر دیا، اور ماشاءاللہ جب بھی کسی صوبے میں گورنر راج لگا ہے پنجاب میں لگا، بلوچستان میں لگا، خیبر پختونخواہ میں لگا، جب بھی لگا یہ جمہوریت کی علم بردار پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے نامدار سربراہ آصف زرداری ہی کی قسمت میں آیا۔یہ ہماری تاریخ ہے ہمارے درمیان بعض دفعہ اتفاق بھی ہوتا ہے

لیکن بہرحال یہ تاریخ ہے اس کو تنقید نہ سمجھا جائے، اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا جائے کہ آج ایک بار پھر صوبہ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج نافذ کیا گیا، لیکن ذرا اس گورنر راج کا جائزہ تو لے لیں ایک صوبہ ہے آدھے میں گورنر راج اور آدھے میں ایمرجنسی، اب آپ مجھے ایک بات بتائیں دو ہزار سترہ میں جب فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جا رہا تھا تو ہم نے ایک اختلاف رائے کیا تھا، اس بات پر نہیں کہ ضم نہیں کیا جانا چاہیے ہم نے انضمام کی مخالفت نہیں کی تھی، ہم نے یہ کہا تھا کہ یہ قبائلی عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، انضمام بھی ایک صورت ہو سکتی ہے، مستقل صوبہ بھی ایک صورت ہو سکتا ہے اور جس صورتحال میں چلا آ رہا ہے اس کو برقرار رکھنا بھی ایک صورت ہے، ان تینوں صورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے فاٹا کے عوام سے پوچھا جائے، لیکن فاٹا کے عوام سے نہیں پوچھا گیا، میاں نواز شریف صاحب کے ذہن میں انضمام یہ فاٹا کے عوام کے فائدہ میں تھا، وہ صوبہ بن گیا اس صوبہ کے پہاڑ اور اس پہاڑوں کے نیچے معدنی ذخائر زخائر وہ صوبہ خیبر پختونخوا کی ملکیت بن گئے، انضمام کے بعد ان تمام ذخائر اور وسائل پر صوبہ کے عوام کا حق ثابت ہو گیا، آج کیا وجہ ہے کہ پورے صوبہ میں گورنر راج نہیں لگایا جا رہا اور صرف قبائلی علاقہ سابق فاٹا اور چار ضلعے صرف یہ بتانے کے لیے یہ دھوکہ دینے کے لیے قوم کو کہ یہاں تو بدامنی ہے، تو فاٹا میں بھی بدامنی ہے، تو ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی بدامنی ہے، تو ٹانک میں بھی بدامنی ہے، لکی مروت میں بھی بدامنی ہے، بنوں میں بھی بدامنی ہے، یہ صرف آپ کو دکھانے کے لیے کہ ہم نے یہ سارا کام بدامنی کی وجہ سے کیا ہے، اگر بدامنی ہی وجہ ہے تو آج کل تو آپ کو کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں زبردست مار پڑ رہی ہے اس کو کیوں باہر رکھا ہے؟تو آپ کی چوری ہم جانتے ہیں، بدامنی کی بات کرتے ہو، دہشت گردی کی بات کرتے ہو، اگر بات بدامنی کی ہے تو بلوچستان کے حالات خیبر پختونخوا سے زیادہ خراب ہیں، اگر گورنر راج اس لیے لگایا جا رہا ہے کہ بدامنی ہے، اگر ایمرجنسی اس لیے لگائی جا رہی ہے کہ بدامنی ہے تو پھر اس کا زیادہ حقدار اگر کوئی بن سکتا تھا تو وہ تو صوبہ بلوچستان بن سکتا تھا، بلوچستان میں اس لیے نہیں لگا رہے کہ وہاں کا وزیر اعلیٰ آپ کا مدح سرا اور آپ کا حدی خوان ہے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں اپوزیشن کی حکومت ہے، بات پی ٹی آئی کی نہیں ہے، بات ایک کا اصول کی ہے کہ جہاں اپوزیشن کی حکومت ہو آپ وہاں پر ان کی حکومت کو اڑانے اور وہ فاٹا جس کے ذخائر و وسائل صوبے کا حصہ بن چکے تھے آپ نے ایمرجنسی لگا کر ان کے تمام وسائل کو وفاق کے تابع بنا دیا ہے، کل جس ہاتھ سے آپ نے ان کو کچھ دیا تھا آج دوسرے ہاتھ سے آپ نے واپس چھین لیا ہے۔ یہ ملک تمہاری ملکیت ہے؟ تمہارے باپ دادا کی ملکیت ہے؟ یہ عوام تمہارے نوکر ہیں؟ عوام تمہیں جانور نظر آتے ہیں؟ جیسا چارہ چاہو ان کے سامنے ڈال دو، یاد رکھو! آپ کے اس غیر جمہوری اور جابرانہ اقدام اس کا مقابلہ کوئی پارٹی نہیں کرے گی۔امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا ملتان میں خطاب

بقول پاکستانی مولوی یہ ملک اللّٰہ کی رازوں میں سے ایک راز ہے ۔۔۔۔ لیکن حقیقت میں نظام کفر سے بھی بدتر۔۔۔۔ایان علی اور زردارییان علی اور اس ملک کا قانونایان علی دبئی جانے کے لیے اسلام آباد ائرپورٹ پر پہنچی جس کا نام اس وقت بےنظیر ائرپورٹ رکھا گیا تھا ،وہ وی آئی پی لاؤنج تک آئی اور اپنا سامان کاونٹر پر رکھا تو کسٹم حکام نے اس کا بیگ چیک کرنا چاہا ، ایان علی نے لاپروائی سے بیگ کھولا اور اعجاز چوہدری نامی کسٹم انسپکٹر نے بیگ میں پڑے دو کپڑے ہٹائے تو نیچے ڈالروں کی گڈیاں پڑی ہوئی تھیں ، انسپکٹر نے ایان علی سے استفسار کیا تو اس نے لاپروائی سے کہا کہ یہ میرے ہیں ، اس نے کہا میڈم مجھے یہ رقم زیادہ لگ رہی ہے، کم و بیش پانچ ہزار ڈالرز سے زیادہ کیش لے جانا غیر قانونی ہے ، پھر اس نے گڈیاں گنی تو وہ 5 لاکھ ڈالرز تھے ، کسٹم انسپکٹر نے اپنے سنئئر کو مطلع کیا اور ایان علی کو صوفے پر بٹھا دیا ، ایان علی کو کوئی پریشانی نہیں تھی ، اس کے لئے یہ روز کا معمول تھا لیکن اعجاز چوہدری کے لئے یہ غیر معمولی بات تھی ، وہ جانتا تھا کہ ایان علی ہفتے میں دو مرتبہ دبئی جاتی ہے اور اس کے سامان کی کوئی خاص چیکنگ نہیں ہوتی اور کسٹم کا عملہ ہی اسے ہینگر تک لے کے جاتا ہے ، سنئیر حکام آ گئے اور انہوں نے اعجاز چوہدری کو ایک طرف لے جا کر کچھ سمجھانے کی کوشش کی ، اعجاز چوہدری اکڑ گیا اور اپنی قانونی پوزیشن بتانے لگا ، نیز اس نے اس دوران سی اے اے اور نارکوٹیکس کے افسران کو بھی مطلع کیا ، دوسری ایان علی بےزاری سے صوفے پر بیٹھ کر مالکوں سے مسلسل فون پر بات کرتی رہی ،اسی دوران کسٹم ہی کے کسی فرد نے میڈیا کو خبر دی اور چند گھنٹوں میں پورے میڈیا میں خبر پھیل گئی کہ مشہور ماڈل ایان علی پانچ لاکھ ڈالر سمگل کرتے ہوئے پکڑی گئی اور پکڑنے والا کسٹم انسپکٹر اعجاز چوہدری ہے ،بات چونکہ اب پھیل گئی تھی لہذا کسٹم حکام کو بھی مجبور ہو کر سٹینڈ لینا پڑا ، انہوں نے ایان علی کہ سفری دستاویزات اور ڈیٹا کی انکوائری کی تو صرف ایک سال میں ایان علی 43 مرتبہ دبئی کا سفر کر چکی تھی ، ایان علی نے دوران تفتیش اقرار کیا کہ وہ اپنے ذاتی اخراجات اور شاپنگ کے لیے ڈالر ہی لے کر جاتی تھی ، اس بار 43 ویں مرتبہ پکڑی گئی تھی، دوران تفتیش جو کچھ ہوا اس سے ہر شخص باخبر ہے ،لیکن اس سب کے بیچ جو سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ کسٹم انسپکٹر اعجاز چوہدری تھا ،اس کے افسران اسے ملامت کرتے ،اس کے کولیگز اسے نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ، دوران جرح ایان علی کے وکیل اسے گالیاں اور جھڑکیاں دیتے ، عدالت کے احاطے میں اسے دھمکیاں دیتے ، اسے نا معلوم نمبروں سے کالیں آتی ، اسے قتل کرنے کی دھمکیاں دی جاتی لیکن وہ اپنی جگہ کھڑا رہا ، اسے ہر قسم کا لالچ دیا گیا لیکن وہ کیس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا ، اس کی ترقی روک دی گئی اور بجائے اس کے کہ اسے انعام دیا جاتا ، اسے پابند کیا کہ جب تک کیس کا فیصلہ نہی ہوتا وہ کسٹم کاونٹر پر خدمات نہیں دے گا ۔اس نے تمام ثبوت اکھٹے کئے اور عدالت کو دے دئیے، جب فرد جرم لگنے کی تاریخ قریب آگئی اور اسے بطور عینی گواہ پیش ہونا تھا

،اسے اپنے گھر کے سامنے دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے قتل کر دیا ،پولیس آئی اور اسکی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئی ،چند دن میڈیا پر ہاہا کار رہی پھر تھانہ وارث خان پولیس نے اس کی قتل کو ڈکیتی کی واردات قرار دے کر فائل بند کردیا ،کسٹم حکام بھی بلکل خاموش ہوگئے ،اسکی بیوی سر پیٹ پیٹ کر تھانوں عدالتوں میں دھاڑیں مارتی رہی لیکن اسے ہر طرف سے دھتکار دیا گیا ،اسکے ساتھ اسکا کم سن بیٹا عدالتوں کے احاطے میں بدترین گرمی میں رلتا رہتا لیکن کسٹم حکام اور اعجاز چوہدری کے ساتھی اس سے نظریں چرا کر ایک طرف ہوجاتے ،اعجاز چوہدری مر گیا تھا ۔عدالت نے ایان علی کو منی لانڈرنگ کیس میں اور اعجاز چوہدری کے قتل کے ایف آئی آر میں نامزد ملزم کی حیثیت سے بری کردیا اور اسے پاسپورٹ واپس دے دیا ،آج ایان علی دبئی کے سب سے مہنگے ترین علاقے میں رہائش پذیر ہے ،اسکے پاس ڈاج کی سپورٹس کار ہے ،پچھلے دنوں اس نے مینی رولز رائس خریدی ہے ،وہ فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام کرتی ہے اور پام جمیرا کے بیچ پہ نہاتی ہے ،رہا اعجاز چوہدری تو وہ قبر کے اندھیروں میں اتر گیا ،اسکی بیوی اور کم سن بیٹا تین مرلے کے مکان کی بوسیدہ دیواروں پر اسکا عکس ڈھونڈتے ہیں ،اسکے شیو کا سامان اور تولیہ اور وردی اسکی بیوی نے سنبھال کر رکھے ہیں لیکن اس نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے بیٹے کو کسٹم میں بھرتی نہیں کرائے گی ،اسکے سنگی ساتھی اسکی خالی کرسی کو آج بھی دکھ سے دیکھتے ہیں ،اعجاز چوہدری کی روح اسلام آباد کے پرانے ائرپورٹ کی فضاوں میں دیکھی جا سکتی ہے ،آج اسلام آباد کا نیا ائر پورٹ بن گیا ہے ،وہاں اعجاز چوہدری کے موت کے سائے نہیں ہیں لیکن وہاں کے کسٹم انسپکٹر اب اعجاز چوہدری والی غلطی نہیں دہرائیں گے ریاست کی موت اور مافیاز کی جیت

گورنر راج اور ایمرجنسی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جائیز قرار۔اپوزیشن کی شدید مذمت ھنگامہ ارای موجودہ حکومت قاتل حکومت اچکزئی۔۔گورنر خیبرپختونخوا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صوبے سے متعلق پالیسی اب قندھار، جلال آباد یا کابل کے بجائے اسلام آباد سے طے ہوگی۔ ان کے اس بیان کو صوبائی معاملات اور حکومتی پالیسی کے تناظر میں پیش کیا جا رہا۔۔ ۔۔حوثیوں کے حملے مدینہ منورہ میں بھی مشکلات۔روس اور چین افغانستان اور پاکستان میں معاملات درست کرنے کیلئے کوشاں ۔ ۔۔۔بی ایل اے اور پاکستان پر حملہ آور طالبعلموں کا صفایا کیا جائے پاکستان کی پیشگی شرط ۔۔ملک بھر میں دھشت گردی کا خطرہ الرٹ جاری۔۔ پارلیمنٹ سے دھشت گرد گرفتار سیکیورٹی ھای الرٹ۔وزارت خارجہ میں اکھاڑ بچھاڑ اھم افسران تبدیل 2 برطرف۔ پی ٹی آئی کا پارلیمنٹ سے استعفوں کا اعلان؟ PTI قیادت کا باہر نکلتے ہی بڑا فیصلہ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

“اسے کہتے ہیں ہیڈ کوچ اور بہترین لیڈر!کوچنگ سے بڑھ کر ڈیرن سیمی نے سادگی سے سب کے دل جیت لیے!رات جب بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان میچ جاری تھا، تو 10 اوورز کے بعد جب پانی کا وقفہ ہوا، تو ویسٹ انڈیز کے ہیڈ کوچ ڈیرن سیمی خود تولیہ، فروٹ اور پانی اٹھا کر بھاگتے ہوئے گراؤنڈ کے اندر آ گئے۔ڈیرن سیمی کی اس عاجزی کو دیکھ کر بھارتی کمنٹیٹر روی شاستری بھی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے اور کمنٹری کے دوران کہا: “یہی چیز مجھے ڈیرن سیمی کی سب سے زیادہ پسند ہے کہ وہ خود کو صرف ایک بند کمرے کا کوچ نہیں، بلکہ ٹیم کا ایک عام کھلاڑی سمجھتے ہیں۔ اگر وہ چاہتے تو کسی بھی اضافی کھلاڑی کے ہاتھ یہ پانی، فروٹ اور تولیہ بھجوا سکتے تھے اور خود بغیر کوئی سامان اٹھائے آرام سے گراؤنڈ میں آ سکتے تھے، لیکن انہوں نے خود یہ کام کرنے کو ترجیح

🚨 تین پاکستانی کرکٹرز بہتر مستقبل کی تلاش میں امریکہ جانے کے لیے تیار ! 🇵🇰✈️🇺🇸سوات سے تعلق رکھنے والے احسان اللہ، حیدرآباد کے محمد حسنین اور لاڑکانہ کے شاہنواز دھانی کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مبینہ ناروا سلوک سے تنگ آ کر امریکہ منتقل ہونے اور وہاں اپنا کرکٹ کیریئر جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔آپ لوگوں کے خیال سے ان کھلاڑیوں کا فیصلہ ٹھیک ہے یا غلط ؟واضح رہے اس سے پہلے بھی کئی کرکٹر پاکستان چھوڑ کر امریکہ منتقل ہو چکے ہیں #PakistanCricket #ShahnawazDahani #MohammadHasnain #USA Cricket #CricketNews

*پاکستان میں ہاکی کا کھویا ہوا مقام بحال کرنے کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کی سرپرستی اور نجی شعبے کا تعاون ناگزیر ہے، احسن اقبال*اسلام آباد، 15 اکتوبر 2026ء: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہاکی کا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی، باصلاحیت کھلاڑیوں کی سرپرستی اور کھیلوں کے فروغ میں نجی شعبے کی مؤثر شمولیت ضروری ہے۔وہ پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے ساتھ نوجوانوں کی شمولیت اور روابط کے فروغ کے لیے پاکستان ہاکی فیڈریشن اور وائٹل گروپ کے درمیان شراکت داری کی دستاویز پر دستخط کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہاکی پاکستان کی قومی شناخت اور کھیلوں کے شاندار ماضی کی علامت ہے۔ پاکستان میں ہاکی کا عالمی مقام دوبارہ حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہاکی کے سنہری دور کی بحالی کے لیے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کو آگے لانا اور انہیں عالمی معیار کی تربیت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پاکستانی کھلاڑی ایک بار پھر عالمی میدانوں میں ملک کا پرچم بلند کر سکیں۔احسن اقبال نے کہا کہ کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی میں نجی شعبے کی سرپرستی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ جب کھلاڑی معاشی مسائل اور مالی پریشانیوں سے آزاد ہوں گے تو وہ اپنی تمام تر توجہ اور توانائیاں کھیل پر مرکوز کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک کھلاڑی کی توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ اگلا گول کیسے کرنا ہے، نہ کہ اس فکر میں کہ اپنے اخراجات کیسے پورے کرنے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جدید دور میں کھیلوں میں کامیابی کے لیے صرف قدرتی صلاحیت کافی نہیں بلکہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اعداد و شمار کے مؤثر استعمال کو بھی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔ عالمی سطح پر نمایاں کارکردگی کے لیے کھلاڑیوں کی جسمانی فٹنس، ذہنی مضبوطی، نظم و ضبط اور مسلسل مشق کو فروغ دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی کامیابی کے پیچھے مسلسل محنت، باقاعدہ مشق، نظم و ضبط اور اپنی کارکردگی پر غیر معمولی توجہ کارفرما ہوتی ہے۔

پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی جدید تربیتی طریقوں اور پیشہ ورانہ معیار کو اپناتے ہوئے عالمی مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا ہوگا۔احسن اقبال نے نارووال میں نیشنل اسپورٹس سٹی کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد پاکستان میں کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی کھیلوں کی سہولیات ایک ہی مقام پر فراہم کرنا تھا۔ نیشنل اسپورٹس سٹی نارووال میں 14 کھیلوں کے لیے عالمی معیار کی سہولیات موجود ہیں، جو کھلاڑیوں کو جدید ماحول میں تربیت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔وفاقی وزیر نے پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کو نیشنل اسپورٹس سٹی نارووال کو اپنا مستقل تربیتی مرکز بنانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کو جدید تربیتی سہولیات اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں اور بین الاقوامی مقابلوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن اور وائٹل گروپ کے درمیان شراکت داری کو ملک میں ہاکی کے فروغ، نوجوانوں کو کھیلوں کی جانب راغب کرنے اور نئے ٹیلنٹ کو آگے لانے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومتی اداروں، کھیلوں کی تنظیموں اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے پاکستان ہاکی کی عظمت رفتہ بحال کرنے اور عالمی سطح پر اپنا مقام دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔

خورشید شاہ کمیٹی کیس ایک اور فیصلہ اگیا ۔!!اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیپٹل کے سرکاری کالجوں کے اساتذہ اور کمپیوٹر ٹیچرز کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں نے ایک دہائی پرانے پختہ ملازمتوں کے معاملے کو دوبارہ گرم کر دیا ہے۔ سانیہ شبیر اور دیگر اساتذہ، جو فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (FDE) کے تحت 2004 اور 2005 سے مختلف پروجیکٹس میں بحیثیت کانٹریکٹ ملازم بھرتی ہوئے تھے، سال 2011 میں سید خورشید احمد شاہ کی سربراہی میں قائم کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات پر مستقل کیے گئے تھے۔ لیکن حال ہی میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC)، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور FDE کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشنز کے ذریعے تمام پختہ ملازمین کا ڈیٹا طلب کر کے ان کے دوبارہ ٹیسٹ اور انٹرویو لینے کا فیصلہ کیا گیا، جسے اساتذہ نے عدالت عالیہ میں چیلنج کر دیا۔درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ وہ ایک شفاف مقابلے کے عمل سے گزر کر بھرتی ہوئے تھے اور 14 سال سے زائد عرصے سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، لہٰذا ان کی ملازمتوں کو دوبارہ نوکری کا آغاز قرار دینا یا ان سے دوبارہ امتحان لینا ان کے آئینی حقوق، پینشن اور سینیارٹی کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے محسن رضا گوندل بنام سردار محمود کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلہ محض ان مخصوص فریقین تک محدود تھا۔ دوسری جانب سرکاری وکلا اور ادارے کا موقف تھا کہ گریڈ 16 اور اس سے اوپر کی اسامیوں کے لیے FPSC کو بائی پاس کر کے کابینہ کمیٹی کے ذریعے کی گئی پختگی قانونی طور پر کالعدم (Void ab initio) ہے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ تمام یکساں متاثرہ ملازمین پر لاگو ہوتا ہے۔جسٹس شاہ رخ ارجمند نے اس ہائی پروفائل کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے اساتذہ کی تمام درخواستوں کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت سپریم کورٹ کا قانون اور اصول تمام عدالتوں اور اداروں پر لاگو ہوتا ہے، اور قانونی دائرہ اختیار کے بغیر کیا گیا کوئی بھی عمل محض وقت گزرنے یا طویل عرصہ ملازمت کرنے سے قانونی اور پختہ نہیں بن جاتا۔ تاہم، عدالت نے ملازمین کی دہائیوں پر محیط طویل ترین خدمات اور ریٹائرمنٹ کی عمر کے قریب ہونے کے انسانی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ملازمین کی جانچ کے عمل میں ہمدردی، قانون کے تمام تحفظات، اور ان کی ریٹائرمنٹ مراعات کا خاص خیال رکھیں تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

نشر مکرر تحریر جسے پانچ ملین لوگوں نے پڑھا اس تحریر کے اختتام پر کچھ نامور فوجی جرنیلوں کے نام ہیں جن سب کا تعلق پنجاب کے ایک ہی چھوٹے سے شہر سے ہے اور یہ فہرست بھی اس شہر کے صرف ان جرنیلوں کی ہے جن کے نام میں جانتا ہوں جبکہ …مجھے یقین ہے کہ درجنوں نام ان میں مجھ سے رہ بھی گیے ہوں گے اور ہاں اس فہرست میں اس شہر کے سرونگ جرنلز کے نام ابھی شامل نہیں کیے جنکی تعداد بھی یقینا درجنوں میں ہو گی اور اگر کوئی اس شہر کے برگیڈئیرز کرنلز کی لسٹ بنائے تو شاید کبھی مکمل ہی نا ہو اس مذکورہ شہر کا نام میں نہیں بلکہ میرے احباب بتائیں گے … 😄اب آتے ہیں دوسری طرف کہ پورے ڈیرہ غازی خان میں میری معلومات کے مطابق اج تک صرف دو میجر جنرلز ( دس پنجاب کے جنرل امیر حمزہ قیصرانی اور اے ایم سی کے جنرل اسلم صاحب ) ملتان سے شاید ایک یا دو جنرلز (جنرل شمس) اور بہاولپور کا بھی کوئی قابل زکر نام ذہن میں نہیں آ رہا دیگر اس بابت احباب رہنمائی فرما دیں گے …المیہ یہ ہے کہ ایک طرف ہمیں شکایت ہے کہ پاکستان ایک فوجی ریاست ہے دوسری طرف ہمارے علاقوں میں اسی فوج میں نمائندگی کا تناسب میں نے اپکو بتا دیا اور اس پر سونے پہ سہاگہ کہ …”اسی فوجی ریاست میں ہمیں برابری کے حقوق بھی چاہیے” 🤔نوٹ : مجھے اس مذکورہ علاقے سے اپنی نسبت پر یوں ناز ہے کہ یہ میرے بچوں کا نانکا یعنی میرا سسرال ہے دیگر یہاں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے “گرائیں بندی” جس کا مطلب منفی نہیں بلکہ میرے نذدیک مثبت ہے کہ …ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ٹانگیں نا کھینچی جائیں شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں بچوں کی پیدائیش پر مہاورا مشہور ہے کہ “بچہ جرنل ہوسی یا کرنل ہوسی” اور یہاں کے بچے دور دراز اکیڈمیاں نہیں جاتے کہ یہاں کا ہر گھرانہ ایک اکیڈمی اور سب کےلیے یکساں مفید و مددگار ہے … 👏مذکورہ اس شہر سے تعلق رکھنے والے چند جنرلز کے نام یہ ہیں ، جنرل یحی خان (جائے پیدائیش) ائیر مارشل نور خان ، جنرل فیض حمید ، جنرل ساحر شمشاد مرزا ، لیفٹینٹ جنرل مشتاق بیگ شہید ، ائیر وائس مارشل خداداد خان ، لیفٹینٹ جنرل شاہد بیگ مرزا ، میجر جنرل محمد اکبر خان ، لیفٹیننٹ جنرل امتیاز ملک ، جنرل محمد افتخار خان ، لیفٹینٹ جنرل عبدل علی ملک ، لیفٹینٹ جنرل غلام محمد منھاس میجر جنرل عبد الرزاق میجر جنرل ملک محمد فاروق جنرل محمد صفدر میجر جنرل اسد ملک میجر جنرل ڈاکٹر شاہدہ ملک لیفٹیننٹ جنرل چوہدری افضل مظفر لیفٹیننٹ جنرل عبید الرحمن لیفٹیننٹ جنرل سجاد حسین میجر جنرل سرفراز خان میجر جنرل ملک اختر حسین میجر جنرل عبد العلی ملک لیفٹینٹ جنرل سید نذر حسین شاہ میجر جنرل سید مجتبٰی حسین شاہ میجر جنرل ڈاکٹر ریاض احمد میجر جنرل غلام محبوب میجر جنرل محمد صدیق ملک ۔جنرل رحم دل بھٹی

جنرل محمد افسر میجر جنرل نذیر احمد جنرل شجاعت علی شاہ میجر جنرل عبد اللطیف میجر جنرل ڈاکٹر ظفر اقبال لیفٹیننٹ جنرل حق نواز میجر جنرل شیر بہادر میجر جنرل تجمل حسین ملک لیفٹیننٹ جنرل نیک محمد میجر جنرل نذر حسین لیفٹیننٹ جنرل راجہ محمد اشرف لیفٹیننٹ جنرل عبد المجید لیفٹینٹ جنرل عبد القیوم جنرل راجہ محمد اکرم میجر جنرل محمد افتخار میجر جنرل محمد انور خان میجر جنرل محمد نواز خان میجر جنرل آصف یاسین لیفٹیننٹ جنرل راجہ حامد نواز میجر جنرل اعجاز حسین لیفٹیننٹ جنرل فیض جیلانی جنرل ہری سنگھ نلوہ ائیر وائس مارشل سید الطاف حسین نیوی کے وائس ایڈمرل شفقت جاوید اور وائس ایڈمرل عبدالعلیم لیفٹینٹ جنرل اشفاق ندیم لیفٹینٹ جنرل مسرت کھنڈوعہ لیفٹیننٹ جنرل اسد ملک لیفٹننٹ جنرل مجید ملک، لیفٹننٹ جنرل پیرداد لیفٹینٹ جنرل اقبال لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد اصغر اعوان میجر جنرل یعقوب خان میجر جنرل حافظ مسرور بھٹہ میجر جنرل شاہد منیر افشار ، لیفٹینٹ جنرل محبوب

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب..گورنرہائوس کے پاھر سیکیورٹی ھای الرٹ..21 اکتوبر کو بڑی قانون سازی..پاکستان میں ھاکی لیگ کا انعقاد..محی الدین وانی کا زبردست اقدام..گورنر راج چیلنج کر دیا گیا..کے پی میں گورنر راج مسترد کرتے ہیں! کس چیز کی دہش*تگ*ردی؟ تمہیں عمران خان کا ڈرہے ! اندر کی باتیں اندر رہنے دیں ورنہ ۔۔۔ بیرسٹر گوہر کی وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول کے.اھم ترین ادارے کے 500 کو برطرف کرنے کی کوشش.. ..3 اھم ممالک کے درمیان مذاکرات اھم شخصیت رھا..سزا منتقلی کی درخواست مسترد.. تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پیمراکی تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلزکےلیےنئی ہدایات جاری نیوز،کرنٹ افیئرزچینلزکوناخوشگوارواقعات کی براہِ راست کوریج سےگریزکاحکم دھماکے،فائرنگ،دہشت گردحملوں جیسےواقعات کی براہِ راست نشریات پرپابندی برقرار سیٹلائٹ ٹی وی چینلزکو20فروری 2023کےحکم امتناع پرعملدرآمدکی ہدایت چینلزصرف متعلقہ محکمےیاقانون نافذکرنےوالےادارےسےتصدیق شدہ معلومات نشرکریں،

پیمرا تمام چینلز کو نشریات میں ٹائم ڈیلےمیکانزم مؤثرطور پر استعمال کرنے کی ہدایت پیمراکی تمام چینلز پر آزاد ادارتی بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت خلاف ورزی پرپیمرا آرڈیننس کی دفعات 29اے، 30 اور 33 کے تحت کارروائی ہوگی،پیمرا

مئی 2024 میں ملائیشیا کے فٹبالر فیصل حلیم پر تیزاب سے حملہ کیا گیا۔ اس خوفناک حملے میں وہ چوتھے درجے تک جھلس گئے، ان کے چار آپریشن ہوئے اور انہیں تین ہفتے اسپتال میں گزارنے پڑے۔فیصل حلیم نے گزشتہ سال ملائیشیا کی قومی ٹیم میں واپسی کی۔ 17 ماہ بعد اپنے ملک کی جانب سے اپنا پہلا میچ کھیلتے ہوئے انہوں نے 25 گز کے فاصلے سے ایک شاندار فری کک گول کرکے سب کو حیران کر دیا۔ 🇲🇾⚽یہ حوصلے، ہمت اور عزم کی ایک ناقابلِ یقین مثال ہے! ❤️👏#naeemullah73official#malaysia #footballfans

کراچی کے فیز 8 کا قبرستان، خوبصورتی اور میری بات کی وضاحت!السلام علیکم!گزشتہ روز میں نے کراچی کے فیز 8 میں واقع قبرستان کی ایک تصویر شیئر کی تھی اور لکھا تھا کہ مجھے یہ قبرستان بہت خوبصورت لگا

کراچی کے فیز 8 کا قبرستان، خوبصورتی اور میری بات کی وضاحت!السلام علیکم!گزشتہ روز میں نے کراچی کے فیز 8 میں واقع قبرستان کی ایک تصویر شیئر کی تھی اور لکھا تھا کہ مجھے یہ قبرستان بہت خوبصورت لگا۔ اس پر زیادہ تر دوستوں نے مثبت تبصرے کیے، تاہم بعض احباب نے خوبصورتی کے لفظ کو اپنے اپنے انداز میں لیا۔عرض صرف اتنی ہے کہ خوبصورتی محض ظاہری نہیں ہوتی، اس کے روحانی، باطنی اور کئی دوسرے پہلو بھی ہوتے ہیں۔ خیر، یہاں ہمارا موضوع خوبصورتی کی تعریف نہیں بلکہ قبرستان ہے۔قبرستان دراصل عبرت کا مقام ہے، جہاں انسان کو اپنی حقیقت اور اپنے انجام کی یاد آتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں بھی قبروں کو سادہ رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ہمارے بہت سے بزرگوں اور علمائے کرام کی قبریں آج بھی انتہائی سادہ ہیں۔ اصل اہمیت قبر کی ظاہری آرائش کی نہیں بلکہ اس سبق کی ہے جو ہمیں قبرستان سے حاصل ہوتا ہے۔دنیا کے مختلف ممالک میں قبرستانوں کے انتظامات اور تدفین کے قوانین بھی مختلف ہیں۔ بعض ممالک میں تدفین کے لیے جگہ مخصوص مدت یا لیز کی بنیاد پر فراہم کی جاتی ہے۔ بہرحال، یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر پھر کبھی بات ہو سکتی ہے۔میں پہلی مرتبہ کراچی گیا تھا اور اپنی تاریخی تحقیق کے سلسلے میں اس قبرستان میں تقریباً آٹھ گھنٹے گزارنے کا موقع ملا۔ چونکہ مجھے محدود وقت میں اپنا تحقیقی کام مکمل کرنا تھا، اس لیے میں نے وہاں کافی وقت گزارا۔ اس دوران قبرستان کی صفائی، ترتیب، پُرسکون ماحول اور مجموعی انتظامات نے مجھے متاثر کیا۔لیکن ایک اور بات جس نے مجھے اس قبرستان میں سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ وہاں آنے والے خاندان تھے۔میں نے دیکھا کہ کوئی والدین اپنے بچوں کی قبروں پر آئے ہوئے ہیں تو کوئی اولاد اپنے والدین کی آخری آرام گاہ پر موجود ہے۔ کئی لوگ آدھا آدھا گھنٹہ اپنے پیاروں کی قبروں کے پاس بیٹھ کر سورۂ فاتحہ اور دیگر قرآنی آیات پڑھ رہے تھے اور ان کے لیے دعائے مغفرت کر رہے تھے۔یہ مناظر دیکھ کر مجھے دلی خوشی ہوئی کہ دنیا سے رخصت ہو جانے والے لوگ آج بھی اپنے پیاروں کی دعاؤں اور یادوں میں زندہ ہیں۔یہاں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ اس قبرستان میں میرا کوئی عزیز یا قریبی رشتہ دار دفن نہیں۔ میری پوری فیملی پنجاب میں ہے۔ اس لیے اس قبرستان کی تعریف کرنے میں میرا کوئی ذاتی مفاد یا خاندانی وابستگی نہیں تھی، بلکہ یہ صرف میرے مشاہدات اور احساسات تھے۔اپنے دنیا سے رخصت ہو جانے والے پیاروں کے لیے دعائے مغفرت کرنا، ان کے لیے صدقہ کرنا اور انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا یقیناً محبت اور وفا کا ایک خوبصورت اظہار ہے۔اپنی تاریخی تحقیق کے دوران مجھے مختلف قبرستانوں میں جانے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ ایک بات جو میں نے اکثر محسوس کی، وہ یہ ہے کہ بہت سی قبریں ایسی بھی ہیں جہاں طویل عرصے تک کوئی فاتحہ پڑھنے نہیں آتا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔اس کے برعکس کراچی کے اس قبرستان میں اپنے مرحومین کے لیے آنے والے لوگوں کو دیکھ کر مجھے ایک اچھا احساس ہوا۔ شاید یہی وہ خوبصورتی تھی جسے میں نے محسوس کیا اور اپنی پوسٹ میں بیان کر دیا۔میری نظر میں قبرستان کی اصل خوبصورتی سنگِ مرمر، مہنگے کتبوں یا پختہ قبروں میں نہیں، بلکہ وہاں موجود سادگی، سکون، عبرت اور ان دعاؤں میں ہے جو زندہ لوگ اپنے دنیا سے رخصت ہو جانے والے پیاروں کے لیے کرتے ہیں۔میری پوسٹ کا مقصد نہ قبروں کی آرائش کی حمایت کرنا تھا اور نہ ہی کسی قبرستان کی ظاہری شان و شوکت کو اہمیت دینا، بلکہ صرف اپنے ایک مشاہدے اور احساس کا اظہار کرنا تھا۔تمام دوستوں کی محبت، مثبت تبصروں اور اختلافِ رائے کا تہہ دل سے شکریہ۔ ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق ہے، لیکن میری بات کا مقصد صرف اتنا سا تھا۔۔

سعودی عرب میں خوف کے ساے شھروں پر حوثی حملے ائیرپورٹ بند زندگی سسکیاں لینے لگی

سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کی تازہ ترین صورتحالسعودی عرب کے ہوائی اڈوں کی صورتحال کے حوالے سے تازہ ترین اطلاع کے مطابق ریاض کا ہوائی اڈہ تاحال بند ہے، جبکہ دمام کا ہوائی اڈہ بھی بند ہے۔ گزشتہ دو گھنٹوں کے دوران دمام میں کوئی پرواز نہیں ہوئی، جبکہ گزشتہ چار گھنٹوں میں صرف تین پروازیں اتری ہیں۔ دوسری جانب جدہ کے ہوائی اڈے پر بھی پروازوں میں بڑے پیمانے پر تعطل دیکھا جا رہا ہے، جہاں 156 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جو کل پروازوں کا 20 فیصد ہیں، جبکہ 374 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئی ہیں، جو 49 فیصد بنتی

راولپنڈی مفلوج: آئی جے پی پرنسپل روڈ اور ڈبل روڈ پر بدترین ٹریفک جام، شہری گھنٹوں محصور۔ پاکستان خیرات اور قرضوں پر انحصار کرنے والے ممالک کا سربراہ بن گیا؟سعودی عرب کے ریاض جدہ سمیت 7 ائیرپورٹ پر دھماکے۔۔کے پی کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی کے نفاذ کا خوف۔کوئٹہ میں شھید ھونے والے دنوں افسران کے والد ایک دوسرے سے تعزیت کرتے ہوئے۔۔تحریک انصاف کے ٹی ٹی پی سے رابطے ھیں وزیر داخلہ تفصیلات کے لیے سھیل رانا لاءیو