‼️*بریکنگ**ٹرین حادثہ/ اپڈیٹ**ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس کو حادثہ،پاک فوج امدادی کارروائیوں میں مصروف*کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کی بوگیاں ملتان کے قریب پٹری سے اتر گئیںرحمان بابا ایکسپریس کو حادثہ صبح پانچ بج کر15منٹ پر شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے قریب پیش آیاحادثے کے فوری بعد پاک فوج کا امدادی دستے ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے کے لیے موقع پر پہنچ گیاپاک فوج کے دستے کی طرف سے متاثرہ ریلوے ٹریک پر امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں*ٹرین حادثے کے تمام زخمیوں کو علاج معالجے کے لیے فوری طور پر نشتر ہسپتال ملتان منتقل کر دیا گیا ہے*
*13 سال کا گند 3 ماہ میں صاف کریں گے، اب پالیسی جلال آباد نہیں اسلام آباد سے آئے گی، گورنر کے پی**صوبے میں ہنگامہ آرائی کی کوئی اجازت نہیں،
کسی نے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو کوئی رعایت نہیں ملے گی، فیصل کنڈی
*نظر آرہاہے کہ ٹی 20ٹیم تقریباً بن گئی ہےجسطرح ایشن گیمز فائنل میں بھارت کیساتھ فائٹ بیک کیا اور اب دوسرے ٹی 20میچ میں سری لنکا کے خلاف آج جس اعتماد کیساتھ کھیلے اندازہ ہورہا ہے کہ ٹیم اچھی بن رہی ہے اگر نوجوان فاسٹ بولر علی رضا اور سفیاں مقیم کو پورا موقع دیں تو یہ مضبوط ٹی 20ٹیم ہوگی فخر زمان کا واپس آنا اگر چہ آج بڑی اننگز نہیں کھیل سکا لیکن ایک اچھا آغاز ضرور فراہم کیا
واضح فرق نظر آرہا ہے کہ نئے لڑکے جارحانہ کرکٹ پر یقین رکھتے ہے البتہ شاداب خان اور صائم ایوب اب بھی اس ٹیم پر بلاوجہ بوجھ بنےہوئے ہیں
*بریکنگ* وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا سے متعلق وفاقی حکمنامہ جاریوفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں حکومتی امور سے متعلق وفاقی حکمنامہ نمبر 1/2026 جاری کر دیا وفاقی حکمنامہ 11 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ آئینی اعلان کی روشنی میں جاری کیا گیاخیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت کا اہم اقداموفاقی حکمنامے کے تحت گورنر خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کے امور انجام دیں گےگورنر خیبر پختونخوا اپنے فرائض کی انجام دہی میں مشاورتی کونسل کی معاونت حاصل کریں گےخیبر پختونخوا کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دے دی گئیطارق محمود پاشا، ڈاکٹر عامر عبداللہ اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر مشاورتی کونسل کے ارکان مقررثمر بلور، ڈاکٹر سرفراز علی، عامر جاوید اور ڈاکٹر ایم ارشاد بھی مشاورتی کونسل میں شاملکفایت اللہ، طیب قریشی، عثمان سیف اللہ خان اور آصف رفیق مشاورتی کونسل کے دیگر ارکان مقررثنا اللہ ایڈووکیٹ خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل مقررصوبائی حکومت کے امور آئینی دفعات اور خیبر پختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 کے مطابق، وفاقی حکمنامے سے ہم آہنگ انداز میں انجام دیے جائیں گےوفاقی حکومت کا جاری کردہ حکمنامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا
خیبر پختونخوا کی تقسیم کا کوئی منصوبہ نہیں، امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے،محسن نقویاسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں نئے انتظامی یونٹ کے قیام اور صوبے کی تقسیم سے متعلق تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کسی قسم کا کوئی نیا انتظامی یونٹ نہیں بنایا جا رہا اور نہ ہی صوبے کو تقسیم کیا جا رہا ہے،حکومت کی اولین ترجیح صوبے میں امن و امان کی بحالی اور معمولاتِ زندگی کو معمول پر لانا ہے۔ انہوں نے احتجاج کرنے والے جتھوں کو فوری منتشر ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر حفاظتی تحویل میں لینے سمیت گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جائیں گی
۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت جنوبی پنجاب ماڈل کی طرز پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو گورنر اور چیف سیکرٹری کے ماتحت ایک مخصوص سیکرٹریٹ فراہم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق صوبے کے 12 اضلاع اس وقت حالتِ جنگ میں ہیں، جہاں خصوصی توجہ، اضافی فنڈنگ، بہتر انتظامی امور اور امن و امان کی فوری بحالی ناگزیر ہے۔ محسن نقوی نے واضح کیا کہ اس وقت حکومت کی اولین ترجیح خیبر پختونخوا میں لا اینڈ آرڈر کو بحال کرنا ہے اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے جو بھی قدم اٹھانا پڑا اٹھائیں گے۔ وزیر داخلہ نے احتجاج کرنے والے جتھوں کو دوٹوک وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ فوری طور پر منتشر ہو جائیں کیونکہ اب انہیں کوئی صوبائی تحفظ حاصل نہیں رہا۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مکمل قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور وہ خود اپنے نتائج کے ذمہ دار ہوں گے، اس لیے وہ منتشر ہو جائیں تاکہ صوبے میں معمولاتِ زندگی بحال ہو سکیں۔
انتہائی غلیظ انسان ھے کل ہم سب میٹنگ میں موجود تھے بلاول اور اسحاق ڈار نے ایمرجنسی کے بھرپور مخالفت کی تھی فضل الرحمان کی حمایت نے شہباز شریف نے میٹنگ ختم کردے اور صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی صدر مملکت آصف علی زرداری کو سفارش کردی شہباز شریف ۔مخسن نقوی فضل الرحمان ان تینوں کا مشترکہ فیصلہ تھا آج کس منہ سے فضل الرحمان گورنر راج کو مسترد کرتا ھے کس طرح مگر مچھ کے آنسو بہا رہا ہے قمر زمان کائرہ
*بریکنگ* وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا سے متعلق وفاقی حکمنامہ جاریوفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں حکومتی امور سے متعلق وفاقی حکمنامہ نمبر 1/2026 جاری کر دیا وفاقی حکمنامہ 11 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ آئینی اعلان کی روشنی میں جاری کیا گیاخیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت کا اہم اقداموفاقی حکمنامے کے تحت گورنر خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کے امور انجام دیں گےگورنر خیبر پختونخوا اپنے فرائض کی انجام دہی میں مشاورتی کونسل کی معاونت حاصل کریں گے
خیبر پختونخوا کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دے دی گئیطارق محمود پاشا، ڈاکٹر عامر عبداللہ اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر مشاورتی کونسل کے ارکان مقررثمر بلور، ڈاکٹر سرفراز علی، عامر جاوید اور ڈاکٹر ایم ارشاد بھی مشاورتی کونسل میں شاملکفایت اللہ، طیب قریشی، عثمان سیف اللہ خان اور آصف رفیق مشاورتی کونسل کے دیگر ارکان مقررثنا اللہ ایڈووکیٹ خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل مقررصوبائی حکومت کے امور آئینی دفعات اور خیبر پختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 کے مطابق، وفاقی حکمنامے سے ہم آہنگ انداز میں انجام دیے جائیں گےوفاقی حکومت کا جاری کردہ حکمنامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا
*بریکنگ نیوز*گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی خصوصی ایڈوائزری کونسل کے اراکین کے نام سامنے آ گئےگورنر کی خصوصی ایڈوائزری کونسل میں ملک کی اہم انتظامی، معاشی، قانونی، سیاسی اور طبی شخصیات شاملکونسل میں دو سابق چیئرمین ایف بی آر، سابق سینیٹر، سابق ایڈووکیٹ جنرل، سابق آئی جی اور پاک فوج کی سابق سرجن جنرل شاملایڈوائزری کونسل میں مالیات، توانائی، معدنیات، قانون، صنعت، داخلہ، اطلاعات، تعلیم، صحت اور ترقیاتی شعبوں کے ماہرین کو نمائندگی*ڈاکٹر سید عامر عبداللہ (ایجوکیشن)*سابق نگران صوبائی وزیر ڈاکٹر سید عامر عبداللہ ایڈوائزری کونسل میں تعلیم کے امور دیکھیں گےڈاکٹر سید عامر عبداللہ سابق نگران وزیر صنعت و تجارت اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے کنسلٹنٹ رہ چکے ہیں*طارق محمود پاشا (فنانس، ریونیو، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن)*سابق چیئرمین ایف بی آر طارق محمود پاشا ایڈوائزری کونسل میں مالیات، ریونیو، ایکسائز اور ٹیکسیشن کے امور دیکھیں گےطارق محمود پاشا وزیراعظم کے سابق معاونِ خصوصی برائے ریونیو اور سابق سیکریٹری اقتصادی امور بھی رہ چکے ہیں*عثمان سیف اللہ خان (انرجی اینڈ پاور، پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ)*سابق سینیٹر عثمان سیف اللہ خان ایڈوائزری کونسل میں توانائی، بجلی، منصوبہ بندی اور ترقی کے امور دیکھیں گےعثمان سیف اللہ خان پاکستان اسٹیٹ آئل کے سابق بورڈ ممبر اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں*عامر جاوید (لاء اینڈ پارلیمانی افیئرز)*سابق ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا عامر جاوید ایڈوائزری کونسل میں قانون اور پارلیمانی امور دیکھیں گےعامر جاوید آئینی معاملات، حکومتی قانونی مشاورت اور اعلیٰ عدالتوں میں سرکاری مقدمات کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں*سمر ہارون بلور (انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ)*سمر ہارون بلور ایڈوائزری کونسل میں اطلاعات و نشریات کے امور دیکھیں گیوہ عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کی سابق صوبائی سیکریٹری اطلاعات اور پارٹی کی سابق ترجمان رہ چکی ہیںخیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں*ڈاکٹر محمد ارشاد (انڈسٹریز اینڈ کامرس)*سابق چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد ارشاد ایڈوائزری کونسل میں صنعت و تجارت کے امور دیکھیں گےڈاکٹر محمد ارشاد 2017 میں چیئرمین ایف بی آر رہ چکے ہیں، ٹیکس انتظامیہ اور ادارہ جاتی اصلاحات کا تجربہ رکھتے ہیں*مولانا محمد طیب قریشی (اوقاف اینڈ ریلیجس افیئرز)*خطیبِ اعلیٰ خیبر پختونخوا مولانا محمد طیب قریشی ایڈوائزری کونسل میں اوقاف اور مذہبی امور دیکھیں گےمولانا محمد طیب قریشی جامعہ اشرفیہ پشاور کے پرنسپل اور تمغۂ امتیاز یافتہ مذہبی اسکالر ہیں*لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر خان (ہیلتھ)*پاک فوج کی سابق سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر خان ایڈوائزری کونسل میں صحت کے امور دیکھیں گینگار جوہر خان پاک فوج کی پہلی خاتون تھری اسٹار جنرل، ہلالِ امتیاز ملٹری اور تمغۂ امتیاز ملٹری حاصل کر چکی ہیںنگار جوہر خان ہسپتالوں کے انتظام، طبی سہولیات اور صحت کے ہنگامی امور کا وسیع تجربہ رکھتی ہیںکووڈ-19 کی وبا کے دوران ہسپتالوں میں طبی سہولیات، حفاظتی انتظامات اور ویکسینیشن سے متعلق اقدامات میں اہم کردار ادا کیا*کفایت اللہ خان (ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز)*سابق آئی جی جیل خانہ جات کفایت اللہ خان ایڈوائزری کونسل میں داخلہ اور قبائلی امور دیکھیں گےکفایت اللہ خان سابق چیئرمین فاٹا ٹربیونل اور خیبر پختونخوا کے مختلف ڈویژنز میں کمشنر رہ چکے ہیںکفایت اللہ خان صوبائی انتظامیہ، قبائلی امور اور داخلی نظم و نسق کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں*ڈاکٹر سرفراز علی شاہ (مائنز اینڈ منرلز)*معاشیات میں پی ایچ ڈی کے حامل ڈاکٹر سرفراز علی شاہ ایڈوائزری کونسل میں معدنیات اور کان کنی کے امور دیکھیں گےڈاکٹر سرفراز علی شاہ نگران وزیراعلیٰ اعظم خان کے دور میں منصوبہ بندی و ترقی اور مواصلات و تعمیرات کے مشیر رہ چکے ہیںڈاکٹر سرفراز علی شاہ برطانیہ کے افورڈ بزنس کلب سے بطور کنسلٹنٹ وابستہ ہیں*آصف رفیق آفریدی (کمیونیکیشن اینڈ ورکس، لوکل گورنمنٹ، ہاؤسنگ اینڈ ٹرانسپورٹ)*سابق نگران صوبائی وزیر آصف رفیق آفریدی ایڈوائزری کونسل میں مواصلات و تعمیرات، بلدیات، ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹ کے امور دیکھیں گےآصف رفیق آفریدی خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ میں زراعت، لائیو اسٹاک، خوراک اور ماحولیات کے شعبوں کے وزیر رہ چکے ہیں*ایڈوائزری کونسل کا کردار*گورنر خیبر پختونخوا کی سربراہی میں خصوصی ایڈوائزری کونسل صوبے کے اہم انتظامی، معاشی اور ترقیاتی معاملات پر مشاورت فراہم کرے گی، مجوزہ کردارکونسل میں سابق اعلیٰ سرکاری افسران، تجربہ کار سیاسی شخصیات اور مختلف شعبوں کے ماہرین شاملایڈوائزری کونسل کا متوقع کردار مختلف شعبوں میں اصلاحات اور عوامی خدمات کی بہتری سے متعلق تجاویز پیش کرنا ہوگا
قومی اسمبلی سیکریٹریٹڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیاپریس ریلیز*ذہنی صحت انسانی فلاح و بہبود، سماجی ہم آہنگی اور معاشرتی استحکام کی بنیاد ہے، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق**ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے آگاہی، ہمدردی اور بروقت علاج ناگزیر ہے، اسپیکر سردار ایاز صادق*اسلام آباد، 9 اکتوبر 2026ء: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ذہنی صحت انسانی فلاح و بہبود اور ایک صحت مند و مستحکم معاشرے کی تشکیل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ذہنی صحت سے متعلق عوامی آگاہی کا فروغ اور نفسیاتی مسائل سے وابستہ منفی سماجی رویوں کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا، جو ہر سال 10 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل کسی مخصوص عمر یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ ہر عمر اور طبقے کے افراد کو متاثر کر سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں ذہنی دباؤ اور دیگر نفسیاتی مسائل سے متعلق آگاہی، بروقت تشخیص اور مؤثر علاج کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ذہنی صحت کے مسائل کو کمزوری سمجھنے کے بجائے صحت کے ایک اہم مسئلے کے طور پر تسلیم کیا جائے۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنے والے افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کے بجائے ہمدردی، احترام اور معاونت کا رویہ اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے ایسے سازگار ماحول کی فراہمی پر زور دیا جہاں متاثرہ افراد بلا جھجھک اپنے مسائل بیان کر سکیں اور بروقت طبی و نفسیاتی معاونت حاصل کرنے میں خود کو محفوظ محسوس کریں
۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی فکری، جذباتی اور سماجی نشوونما صحت مند معاشرے کی تشکیل سے براہِ راست وابستہ ہے۔ انہوں نے خاندانوں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی حلقوں پر زور دیا کہ وہ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کے لیے مثبت رویوں کو فروغ دیں اور ان کی معاونت میں فعال کردار ادا کریں۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے حکومت، پارلیمان، متعلقہ اداروں، ماہرینِ صحت اور سول سوسائٹی کے درمیان مربوط تعاون ضروری ہے۔ عوامی آگاہی کے فروغ، معیاری طبی و نفسیاتی سہولیات تک رسائی اور مؤثر معاونتی نظام کی فراہمی کے لیے مشترکہ کوششیں وقت کا اہم تقاضا ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمان عوامی فلاح و بہبود، سماجی شمولیت اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا آئینی و پارلیمانی کردار ادا کرتی رہے گی۔
اے پی پی اردو نیوز سروساہم ترین—وزیراعظم۔۔۔فیول سبسڈی سکیموزیراعظم فیول سبسڈی سکیم سے کم از کم ایک دفعہ مستفید ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، وفاق کے ساتھ صوبوں کا تعاون قابل تحسین ہے، یہ بہترین ٹیم ورک کا نتیجہ ہے وزیراعظم شہباز شریف، شزا فاطمہ کو تمغہ دینے کا اعلاناسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ’’وزیراعظم فیول سبسڈی سکیم‘‘ میں وفاق کے ساتھ صوبوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ اس سکیم سے کم از کم ایک دفعہ مستفید ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، یہ پختہ عزم، غیر متزلزل لگن، وابستگی اور انتھک کوششوں پر مبنی بہترین ٹیم ور کا نتیجہ ہے جس پر وزراء اور متعلقہ ادارے تحسین کے مستحق ہیں۔عوام کی سہولت کے لئے یہ سکیم جاری رہے گی، اس سکیم کے لئے 75 ارب روپے کے فنڈز مختص کر رکھے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو وزیراعظم فیول سبسڈی سکیم میں ڈیجیٹل طریقہ کار سے شفاف انداز میں ایک کروڑ سے زائد مستحقین کو براہ راست سبسڈی فراہم کرنے پر وزراء و افسران کے اعزاز میں دیئے گئے عصرانے اور پذیرائی کے حوالے سے تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے وفاق نے صوبوں کی مدد سے مکمل یکجہتی کے ساتھ پٹرول سبسڈی فراہم کی، اس کو سراہتا ہوں، یہ ہمارا ایک بہت ہی اہم اقدام تھا اور ہے، اس میں خطرات بھی بہت تھے، بے شمار باتیں ہوئیں، لیکن ہم سب نے اللہ کا نام لے کر مل کر اس کے لیے جو کوششیں کیں، وہ الحمدللہ آج رنگ لا رہی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو خط لکھ کر ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کیا کہ وزرائے اعلیٰ اور ان کی ٹیموں نے بڑی محنت کی اور بھرپور تعاون کیا، اس کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔شہباز شریف نے کہا کہ اس حوالے سے آج اگر موازنہ کریں تو جب فروری کے مہینے میں یہ جنگ شروع ہوئی تھی، اس وقت بھی ہم نے اسی طرح کا اقدام کیا تھا، اس میں صوبوں نے انتظامی طور پر بھی اور مالی طور پر بھی اپنا پورا حصہ ڈالا تھا، اس کی جو بلند ترین سطح تھی، اس موقع پر 13 لاکھ ٹوکنز جاری ہوئے تھے۔انہو ں نے کہا کہ وہ بھی ہمارے سامنے ایک تصویر تھی کہ اگر یہاں لاکھوں موٹر سائیکلیں اور 800 سی سی کی گاڑیاں ملا کر ان کی تعداد لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے، اگر اس وقت 13 لاکھ لوگوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا تھا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ سکیم ایک مرتبہ پھر تاخیر کا شکار ہو جائے، لیکن اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل و کرم سے آپ کی محنت رنگ لائی، اس میں برکت پڑی اور اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وفاق اور صوبوں کی مشترکہ کوششوں سے آج اس سہولت سے مستفید ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے،
یعنی اس وقت یہ تعداد 13 لاکھ تھی اور اب ایک کروڑ سے بھی زائد ہو گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ موٹر سائیکلوں، چنگ چی، رکشوں اور 800 سی سی گاڑی رکھنے والے ایک کروڑ سے زائد افراد نے پٹرول پمپوں پر ماہانہ دو ہزار روپے کا فائدہ حاصل کیا ہے اور کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ براہ راست بھی اور بالواسطہ بھی فائدہ ہے، براہ راست تو ایک کروڑ افراد ہیں، لیکن ان کے ساتھ ان کے بچے بھی ہیں جو سکول جاتے ہیں اور انہیں موٹر سائیکل پر چھوڑنے جاتے ہیں، پھر اگر ایک اوسط گھرانے میں پانچ افراد شمار کریں تو یہ پانچ کروڑ لوگ ہیں جنہوں نے براہ راست اور بالواسطہ فائدہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ایک کروڑ آٹھ لاکھ اسی ہزار سے زائد شہریوں نے رجسٹریشن کروائی ہے، آج تک ایک کروڑ ایک لاکھ اٹھانوے ہزار افراد کو وائوچرز جاری کئے جا چکے ہیں، مجموعی طور پر دو کروڑ ستر لاکھ ٹوکن جاری کیے گئے جن میں سے ایک کروڑ چورانوے لاکھ ٹوکنز پر شہریوں نے رعایتی قیمت پر پٹرول حاصل کیا اور اب یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔مذکورہ اعداد و شمار میں بانوے لاکھ ستتر ہزار شہریوں نے دوبارہ بھی ٹوکن وصول اور استعمال کیے۔ تقریباً 96 فیصد موٹر سائیکل سواروں نے اس اسکیم سے فائدہ حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم ڈویژن، اوگرا، سٹیٹ بینک، نادرا، پی ٹی اے، ٹیلی کام آپریٹرز سمیت مثالی خدمات ادا کرنے والے ان تمام اداروں کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو مزید ہمت دے کہ آپ پاکستان کی اسی طرح بھرپور خدمت کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سکیم ان شاء اللہ چلتی رہے گی، ہم نے 75 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے میں آپ سب کا فرداً فرداً شکریہ ادا کرتا ہوں، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی سربراہی میں بہترین کام کیا گیا، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز اور ان کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور وزراء اعلیٰ کا بھی شکرگزار ہوں، میں نے انہیں خطوط لکھ دیئے ہیں، یقین کریں کہ آپ کی کوششوں اور تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا اور یہی وہ چیز ہے جسے عزم، غیر متزلزل لگن، وابستگی اور انتھک کوششوں پر مبنی بہترین ٹیم ورک کہا جاتا ہے، ۔انہوں نے کہا کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ نیک نیتی سے کام کر رہے تھے، محنت سے کام کر رہے تھے، صوبے بھی اور وفاق بھی اور اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی ان کوششوں کو قبول کیا۔اس موقع پر وزیراعظم نے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ کو بہترین خدمات پر 23 مارچ کو تمغہ دینے کا اعلان کیا جبکہ دیگر محکموں کے حکام کو شیلڈز دی جائیں گی۔
ایبٹ آباد: پی ایم اے میں صدارتی پریڈ کے سکیورٹی انتظامات، دفعہ 144 نافذ، مختلف سرگرمیوں پر پابندی عائد۔پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 13، 15 اور 17 اکتوبر 2026 کو ہونے والی صدارتی پریڈ کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کیپٹن (ر) سرمد سلیم اکرم نے دفعہ 144 کے تحت مختلف سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔جاری کردہ حکم نامے کے مطابق صدارتی پریڈ کے دوران اعلیٰ فوجی و سول افسران اور اہم شخصیات کی آمد کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔حکم نامے کے تحت 13 سے 17 اکتوبر تک احتجاج اور اجتماعات پر پابندی ہوگی، جبکہ پی ایم اے کاکول کے اطراف فائرنگ، کان کنی اور بلاسٹنگ بھی ممنوع قرار دی گئی ہے۔ کاکول کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں 13 سے 17 اکتوبر تک صبح 7 بجے سے دوپہر 12 بجے تک لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی ہوگی۔اسی طرح 12 اکتوبر کو ڈرون اور کواڈ کاپٹر اڑانے، جبکہ 15 اور 17 اکتوبر کو الیاسی گیٹ کے قریب دکانیں کھولنے، پیٹرول اور سی این جی اسٹیشنوں پر گاڑیوں کی پارکنگ، افغان باشندوں کی پی ایم اے روڈ کے قریب نقل و حرکت اور موٹر سائیکل کی سواری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس میں مقررہ مدت تک پابندیاں برقرار رہیں گی۔
ایبٹ آباد: پی ایم اے میں صدارتی پریڈ کے سکیورٹی انتظامات، دفعہ 144 نافذ، مختلف سرگرمیوں پر پابندی عائد۔پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 13، 15 اور 17 اکتوبر 2026 کو ہونے والی صدارتی پریڈ کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کیپٹن (ر) سرمد سلیم اکرم نے دفعہ 144 کے تحت مختلف سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔جاری کردہ حکم نامے کے مطابق صدارتی پریڈ کے دوران اعلیٰ فوجی و سول افسران اور اہم شخصیات کی آمد کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔حکم نامے کے تحت 13 سے 17 اکتوبر تک احتجاج اور اجتماعات پر پابندی ہوگی، جبکہ پی ایم اے کاکول کے اطراف فائرنگ، کان کنی اور بلاسٹنگ بھی ممنوع قرار دی گئی ہے۔ کاکول کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں 13 سے 17 اکتوبر تک صبح 7 بجے سے دوپہر 12 بجے تک لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی ہوگی۔اسی طرح 12 اکتوبر کو ڈرون اور کواڈ کاپٹر اڑانے، جبکہ 15 اور 17 اکتوبر کو الیاسی گیٹ کے قریب دکانیں کھولنے، پیٹرول اور سی این جی اسٹیشنوں پر گاڑیوں کی پارکنگ، افغان باشندوں کی پی ایم اے روڈ کے قریب نقل و حرکت اور موٹر سائیکل کی سواری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس میں مقررہ مدت تک پابندیاں برقرار رہیں گی۔