راولپنڈی پشاور روڈ پر سگنل فری کوریڈور منصوبے پر تعمیراتی کام تیزراولپنڈی: راولپنڈی پشاور روڈ کو سگنل فری کوریڈور میں تبدیل کرنے کے بڑے ترقیاتی منصوبے پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے، جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستے بھی فعال کر دیے گئے ہیں۔حکام کے مطابق منصوبے پر باقاعدہ تعمیراتی کام 8 ستمبر 2026 سے شروع ہوا۔ ٹریفک کی بلا تعطل روانی اور شہریوں کو کم سے کم مشکلات پیش آنے کو یقینی بنانے کے لیے 250 سے زائد ٹریفک پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔منصوبے کے تحت آرمی گریویارڈ چوک پر تیسرے انڈر پاس کی تعمیر کے ابتدائی منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے اب چوک کی ری ماڈلنگ، سڑک کی بہتری اور ٹریفک کے بہاؤ کو مؤثر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔متبادل ٹریفک راستےصدر سے پشاور کی جانب جانے والی ٹریفک اب عابد مجید روڈ سے عابد مجید ٹرن، ایم ایچ گیٹ نمبر 5، شیر خان چوک اور قاسم مارکیٹ کے راستے سفر کر سکتی ہے۔پشاور سے صدر آنے والی ٹریفک کے لیے اللہ آباد ٹرن کے سامنے سروس روڈ، حالی روڈ اور رفیع مال کا متبادل راستہ مقرر کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے بعد چکری سے موٹروے چوک تک سفر کا دورانیہ تقریباً 20 منٹ رہ جائے گا۔ منصوبے سے روزانہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار گاڑیوں اور 20 لاکھ شہریوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) ندیم ناصر نے متعلقہ حکام کو تعمیراتی کام کی رفتار تیز کرنے، منصوبے کے معیار کو برقرار رکھنے اور مقررہ مدت میں تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے منصوبے کی پیش رفت کی ذاتی طور پر نگرانی کے لیے سائٹ کا دورہ کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔حکام نے منصوبہ دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ارکان کے استعفے، پارلیمانی نشستوں کی طے شدہ گردش کا معاملہاسلام آباد — پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد کے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان سے یکے بعد دیگرے استعفوں نے کمیشن میں پارلیمانی نمائندگی میں ہونے والی تبدیلی اور اس کے پسِ پردہ وجوہات کے حوالے سے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بدھ کے روز جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفیٰ دیا، جبکہ ان کے ایک روز بعد مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ شیخ آفتاب احمد ضلع اٹک سے قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے آئینی عمل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔شیخ آفتاب احمد کے قریبی ذرائع کے مطابق دونوں استعفوں کی بنیادی وجہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کے وقت طے پانے والا پارلیمانی نمائندگی کا گردشی نظام ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیشن کی نئی تشکیل کے وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی نمائندوں کے لیے ڈھائی، ڈھائی سال کی مدت طے کی گئی تھی، جس کے بعد دونوں جماعتوں اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے درمیان نمائندگی میں تبدیلی ہونی تھی۔موجودہ انتظام کے تحت شیخ آفتاب احمد قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے نمائندے جبکہ فاروق ایچ نائیک سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے نمائندے کی حیثیت سے جوڈیشل کمیشن کا حصہ تھے۔ذرائع کے مطابق آئندہ مرحلے میں سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی کے بجائے مسلم لیگ (ن) کا نمائندہ اور قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے موجودہ رکن کی جگہ پیپلز پارٹی کا نمائندہ جوڈیشل کمیشن میں شامل ہوگا۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بطور نئے رکن شمولیت متوقع ہے، تاہم اس حوالے سے متعلقہ آئینی اور پارلیمانی عمل کی تکمیل ضروری ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت کو فی الحال جوڈیشل کمیشن کے اندر کسی اختلاف یا تنازع کے بجائے پارلیمانی نمائندگی کے طے شدہ گردشی نظام کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔تاہم، دونوں ارکان کے استعفوں کو کمیشن کے اندر کسی اختلاف کی علامت قرار دینا قبل از وقت ہوگا، جب تک کہ متعلقہ ارکان یا ان کی جماعتوں کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی مؤقف سامنے نہ آئے۔جوڈیشل کمیشن میں یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب 26ویں آئینی ترمیم کے بعد کمیشن کی تشکیل، اختیارات اور اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلیاں کی جا چکی ہیں۔.
‼️ *اہم بریکنگ*‼️*پاکستان کا “مکہ معاہدے” کے تحت سعودی عرب کے دفاع کا عزم*اسلام آباد: پاکستان کی عسکری افواج اس وقت حال ہی میں قائم ہونے والے “مکہ الائنس” کے فریم ورک کے تحت سعودی عرب میں تعینات ہیں، جس کی تصدیق پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کی۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر دو ماہ قبل طے پانے والا یہ کثیر الجہتی سیکیورٹی معاہدہ خطے کی اجتماعی دفاعی صورتحال میں ایک اہم تبدیلی کی نشان دہی کرتا ہے۔ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے تصدیق کی کہ پاکستانی افواج متعدد آپریشنل صلاحیتوں اور شعبوں میں عملی طور پر وہاں موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیتے ہوئے کہ دفاعی اہلکار دہائیوں سے مملکت میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اس بات پر زور دیا کہ یہ شمولیت تینوں ممالک کے درمیان دیرینہ سفارتی، سیاسی اور عسکری تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
تاہم، موجودہ نفری کی تعداد، مخصوص صلاحیتوں، ممکنہ اضافی تعیناتیوں، یا پڑوسی ملک یمن میں حوثی فورسز سے متعلق آپریشنل کردار سے متعلق مخصوص تفصیلات کو سختی سے راز میں رکھا گیا ہے۔ عسکری ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اپوزیشن لیڈرمحمود خان اچکزئی نے اپوزیشن کو مذاکرت کی ہدایات جاری کردیں،ذرائعمحموداچکزئی نے اخونزادہ حسین یوسفزئی کے ذریعہ اپوزیشن رہنماوں کو پیغام بھجوادیا،ذرائعمحمود اچکزئی نے کہا کہ اگرحکومت رابطہ کرے تو مثبت جواب دیا جائے،ذرائعمحموداچکزئی نے کہا حکومت کے رابطے پرپہلی شرط بانی سے ملاقات ہونی چاہیے،ذرائعمحمود اچکزئی نے کہا کہ بہنوں کی رہائی سے حکومت مثبت پیشرفت کا آغازکرسکتی ہے،ذرائعمحمود اچکزئی نے کہا اگربانی سے ملاقات نہیں ہوتی تو وزیراعظم سے ملاقات بے معنی ہوگی،ذرائع محموداچکزئی نے کہا بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وزیراعظم سے ملاقات سے انکارکا سوچا جاسکتا ہے،ذرائع
د. لبنى فرح سعودی فضائی حدود میں کشیدگی: جازان اور نجران ایئرپورٹس پر حملوں کی تصدیق، ابھا سے متعلق حوثی دعویٰ غیر مصدقہحوثیوں کا سعودی فضائی حدود میں پروازوں سے گریز کا انتباہ؛ سعودی حکام نے جازان اور نجران میں حملوں اور تین افراد کے معمولی زخمی ہونے کی تصدیق کر دیریاض، 6 اکتوبر 2026: سعودی عرب میں فضائی اور سکیورٹی صورتحال میں کشیدگی اس وقت مزید نمایاں ہوگئی جب سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (GACA) نے تصدیق کی کہ پیر کی شام جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق واقعات میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے جبکہ بعض املاک کو بھی نقصان پہنچا۔دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے منگل کو دعویٰ کیا کہ ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان کے مطابق حملہ براہِ راست تھا اور اس کے نتیجے میں ایئرپورٹ پر فضائی ٹریفک متاثر ہوئی۔تاہم سعودی حکام کی جانب سے اب تک ابھا ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے یا وہاں فضائی ٹریفک میں خلل کے اس مخصوص دعوے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ابھا سے متعلق حوثیوں کے دعوے کے نتائج کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔سعودی ایئرپورٹس پر حملےسعودی سول ایوی ایشن حکام کے مطابق جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے۔ حکام نے املاک کو پہنچنے والے نقصان کی بھی اطلاع دی ہے۔دونوں ہوائی اڈے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں واقع ہیں اور یمن کی سرحد کے نسبتاً قریب ہونے کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ابھا ایئرپورٹ سے متعلق حوثی دعویٰحوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں کہا کہ ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملہ اپنے ہدف تک پہنچا اور ایئرپورٹ کی فضائی سرگرمی متاثر ہوئی۔تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں ہے۔ اس لیے ابھا ایئرپورٹ کو پہنچنے والے نقصان، حملے کے اثرات اور فضائی آپریشن پر اس کے مبینہ اثرات سے متعلق تفصیلات کو فی الحال حوثی دعوے کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی ایئر لائنز کے لیے حوثیوں کا انتباہحوثی ترجمان نے بین الاقوامی ایئر لائنز کو سعودی فضائی حدود میں پروازیں جاری رکھنے کے خلاف بھی خبردار کیا۔ بیان میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اوپر موجود فضائی حدود کو اس انتباہ سے مستثنیٰ قرار دینے کا دعویٰ کیا گیا۔
تاہم یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ حوثیوں کی جانب سے جاری کردہ انتباہ ہے اور اسے سعودی حکومت، بین الاقوامی سول ایوی ایشن اداروں یا کسی عالمی فضائی حفاظتی اتھارٹی کی عمومی فضائی پابندی تصور نہیں کیا جا سکتا۔وسیع تر سکیورٹی صورتحالتازہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کے متعدد دعوے کیے ہیں۔ ان دعوؤں میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، رابغ میں آرامکو کی تنصیب اور سعودی عرب کے جنوبی حصے میں فوجی تنصیبات کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی بات بھی شامل ہے۔دوسری جانب سعودی حکام کی جانب سے جازان اور نجران کے حملوں کی تصدیق اس صورتحال کے ایک اہم تصدیق شدہ پہلو کے طور پر سامنے آئی ہے۔مسافروں اور ایئر لائنز کے لیے اہم ہدایتمسافروں کو چاہیے کہ وہ اپنی پرواز سے متعلق تازہ ترین معلومات براہِ راست متعلقہ ایئر لائن، ایئرپورٹ یا مجاز سول ایوی ایشن حکام سے حاصل کریں۔ موجودہ صورتحال میں پروازوں کے اوقات، راستوں یا آپریشنز میں تبدیلی ممکن ہے۔اہم نکات- تصدیق شدہ: جازان اور نجران ایئرپورٹس پر حملے۔- تصدیق شدہ: تین افراد معمولی زخمی ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچا۔- حوثیوں کا دعویٰ: ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ۔- ابھی غیر مصدقہ: ابھا ایئرپورٹ پر حملے کے نتیجے میں فضائی ٹریفک میں خلل اور نقصان کی تفصیلات۔- حوثیوں کا انتباہ: بین الاقوامی ایئر لائنز سعودی فضائی حدود میں پروازوں سے گریز کریں۔- اہم وضاحت: حوثیوں کا یہ انتباہ بذاتِ خود سعودی عرب یا کسی بین الاقوامی ہوا بازی ادارے کی باضابطہ فضائی پابندی نہیں ہے۔خلاصہسعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں حالیہ حملوں نے شہری ہوابازی کے تحفظ سے متعلق خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔ جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی سعودی حکام کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ ابھا ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے سے متعلق حوثیوں کا دعویٰ تاحال آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوا۔ صورتحال کے پیش نظر مسافروں اور ایئر لائنز کے لیے سرکاری اور ایئرلائن ذرائع سے تازہ ترین سفری معلومات حاصل کرنا اہم ہے۔
د. لبنى فرح باب المندب محاذ: یمنی حکومتی فورسز کی پیش قدمی، حوثیوں کے سعودی اہداف پر حملوں کے دعوےصنعا/ریاض — 5 اکتوبر 2026: سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے مغربی یمن میں باب المندب آبنائے کے اطراف حوثی ملیشیا کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کے دوران اہم پیش قدمی کرتے ہوئے متعدد پوزیشنوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔مقامی حکومتی ذرائع کے مطابق کارروائی کا مرکزی محور ذُباب، باب اور حدید کے علاقے تھے، جو باب المندب کے قریب اہم تزویراتی حیثیت رکھتے ہیں۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی دستے حوثی جنگجوؤں کو ساحلی علاقوں سے پیچھے دھکیلتے ہوئے موخا کے مضافات تک پہنچ گئے۔یمنی وزارتِ دفاع نے بعد ازاں موخا شہر پر حکومتی فورسز کے دوبارہ کنٹرول کا اعلان کیا۔ تاہم اس دعوے کی مکمل آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور جنگی صورتِ حال سے متعلق مختلف فریقوں کے بیانات میں نمایاں فرق موجود ہے۔سعودی فضائی معاونتفوجی پیش قدمی کو سعودی قیادت والے اتحاد کی فضائی معاونت حاصل رہی۔ سعودی ذرائع کے مطابق فضائی کارروائیوں کا مقصد حوثی جنگجوؤں کی دفاعی پوزیشنوں، نقل و حرکت کے راستوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا اور حکومتی زمینی دستوں کے لیے فضائی تحفظ فراہم کرنا تھا۔سعودی اتحاد کی جانب سے حوثی اہداف کی بڑی تعداد کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ان دعووں کی تفصیلی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔حوثیوں کا جوابی ردعملدوسری جانب حوثی فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ تنظیم نے سعودی عرب کے اندر متعدد اہم اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔حوثیوں کے مطابق ان اہداف میں ریاض کا شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ، رابغ میں سعودی آرامکو کی تنصیب، ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور خمیس مشیط کے قریب فوجی تنصیبات شامل ہیں۔تاہم ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصان، جانی نقصانات یا تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ سعودی حکومت اور آرامکو کی جانب سے فوری طور پر ان دعووں پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔باب المندب کی تزویراتی اہمیتباب المندب دنیا کے اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے اور بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔ اس خطے میں کسی بھی فریق کی مستقل فوجی برتری عالمی بحری تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی شپنگ کے لیے اہم مضمرات رکھ سکتی ہے۔تاہم موخا یا باب المندب کے قریب کسی مخصوص ساحلی علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا پورے باب المندب پر مکمل فوجی کنٹرول کے مترادف نہیں۔ آبنائے کے دونوں اطراف، ساحلی پوزیشنوں، جزائر اور بحری راستوں کی مجموعی صورتِ حال اس حوالے سے اہم ہے۔تعز کا محاذاسی دوران یمن کے دوسرے محاذوں پر صورتحال یکساں نہیں رہی۔ اطلاعات کے مطابق حوثی فورسز نے تعز کے اطراف بعض علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ تربہ کے علاقے پر حوثیوں کے کنٹرول کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے حکومتی فورسز کی نقل و حرکت اور رسد کے راستوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔اس طرح موجودہ فوجی صورتِ حال کو حوثیوں کی مکمل پسپائی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ مغربی ساحل پر حکومتی فورسز کو پیش قدمی حاصل ہوئی ہے، جبکہ تعز سمیت بعض دیگر محاذوں پر حوثی فورسز بھی فعال کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ہرمز اور باب المندب: دو الگ تزویراتی راستےموجودہ کشیدگی کو خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ تاہم دونوں بحری گزرگاہیں جغرافیائی طور پر مختلف ہیں۔آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتی ہے، جبکہ باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے جوڑتا ہے۔ دونوں راستوں میں رکاوٹ عالمی توانائی اور بحری تجارت پر اثر انداز ہوسکتی ہے، تاہم ان کے عملی اور جغرافیائی کردار ایک جیسے نہیں۔پاکستان اور ترکی کا دفاعی پہلوعلاقائی سلامتی کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ تاہم دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستانی یا ترک افواج یمن کے اندر براہِ راست جنگی کارروائی میں شامل ہوگئی ہیں۔رپورٹ شدہ اقدامات کا تعلق بنیادی طور پر سعودی عرب کے دفاع اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے سے ہے۔
انسانی صورتحالیمن میں تازہ فوجی کشیدگی نے پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔ اقوام متحدہ سے وابستہ اداروں کے مطابق حالیہ لڑائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے حوالے سے مختلف ذرائع کے اعداد و شمار میں فرق پایا جاتا ہے۔فوجی صورتحال کا ابتدائی جائزہموجودہ اطلاعات سے یہ تصویر سامنے آتی ہے کہ:باب المندب کے مغربی ساحلی محاذ پر یمنی حکومتی فورسز نے اہم پیش قدمی کی ہے۔ذُباب اور ملحقہ علاقوں میں حکومتی کنٹرول کی اطلاعات نسبتاً مضبوط ہیں۔موخا پر مکمل کنٹرول حکومت کا دعویٰ ہے، جس کی آزادانہ تصدیق محدود ہے۔سعودی فضائی معاونت نے حکومتی زمینی کارروائی میں اہم کردار ادا کیا۔حوثیوں کے سعودی اہداف پر حملوں کے دعوے سامنے آئے، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔تعز کے محاذ پر حوثی فورسز کی سرگرمی بدستور جاری ہے۔باب المندب کی موجودہ صورتِ حال کو پورے بحری راستے پر کسی ایک فریق کا مکمل کنٹرول قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ابتدائی نتیجہ:موجودہ پیش رفت کو یمن کی جنگ میں ایک اہم آپریشنل اور تزویراتی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، تاہم زمینی کنٹرول کی حتمی حد، موخا کی مکمل حیثیت اور سعودی تنصیبات پر مبینہ حوثی حملوں کے نتائج کے بارے میں مزید آزادانہ اور قابلِ اعتماد شواہد درکار ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللّٰہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور یہ آفر اب بھی موجود ہے۔رانا ثنااللّٰہ نے کہاکہ تحریک انصاف لانگ مارچ ختم کرے تو بات ہوسکتی ہے، پی ٹی آئی کو غیر مشروط طور پر وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے کیونکہ ملک کو اس وقت دہش*تگردی کا سامنا ہے۔انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کو کب کہا کہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرائیں گے، ڈرافٹ میں سیاسی کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوگیا تھا، موجودہ مذاکراتی کمیٹی کو ہی سیاسی کمیٹی کا درجہ دے دیا جاتا۔رانا ثنااللّٰہ نے کہا کہ عمران خان کو شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے چیک کرایا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت بیرونی دہش*تگردی کا سامنا ہے، بیرونی جارحیت مسلط ہو تو پہلا فرض پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ تحریک انصاف کو بغیر کسی اگر مگر کے وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔رانا ثنااللّٰہ کا کہنا تھا کہ ایسا لانگ مارچ مہینہ بھی جاری رکھیں تو یہ خود ہی تھک جائیں گے۔ تحریک انصاف دوبارہ استعفے دے کر دیکھ لے، ان کے استعفوں سے سسٹم متاثر نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تین دن سے لانگ مارچ نکلا ہوا ہے لیکن لوگ نہیں نکل رہے،تحریک انصاف مار دھاڑ کی سیاست کررہی
🚧 اسلام آباد کو ماڈل اسلام آباد بنانے کی جانب اہم پیش رفت💧 کھنہ پل سروس روڈ پر نئی پانی کی پائپ لائن بچھانے کا کام جاریاسلام آباد کے علاقے کھنہ پل میں مین سروس روڈ پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ گارڈن ٹاؤن، ضیاء مسجد اور غوری ٹاؤن کے سامنے نئی اور بڑی پانی کی پائپ لائن بچھانے کے لیے ہیوی مشینری کے ذریعے کھدائی کی جا رہی ہے۔موقع پر DOOSAN مشینری کے ذریعے سروس روڈ کی کھدائی کا کام جاری ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ علاقے میں پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے اور پانی کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔نئی پانی کی لائن کے ساتھ سروس روڈ کی بہتری سے نہ صرف علاقے کی بنیادی سہولیات میں اضافہ متوقع ہے بلکہ ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور سڑک کو زیادہ منظم اور صاف ستھرا بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔🚧 ترقیاتی کام کے باعث فی الحال سروس روڈ پر مٹی اور ملبہ موجود ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو عارضی مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اہلِ علاقہ اس منصوبے کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں اور امید ظاہر کر رہے ہیں کہ کام کی تکمیل کے بعد علاقے میں نمایاں بہتری آئے گی۔
پیٹرول 88 پیسے مہنگا، پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 393 روپے 64 پیسے ہو گئیڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 88 کی کمی، ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 397 روپے 76 پیسے ہو گئیاوگرا نے 6 اکتوبر کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کر دیا
شوہر کی جانب سے ذہنی و جسمانی تش۔دد : ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ملیحہ سحر کی درخواست پر تھانہ ویمن پولیس نے خاتون اے ڈی سی کی مدعیت میں ان کے شوہر کے خلاف گھریلو تش۔دد کا مقدمہ درج کرلیا۔ ملزم کو گرفتار بھی کر لیا گیا
۔ ملیحہ سحر نے درخواست میں نفسیاتی اور جسمانی تش۔دد کی شکایت کی تھی ، پولیس کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کےشوہر جوادعلی کو گرفتارکرکےعدالت میں پیش کردیا گیا ۔۔عدالت نے ملزم جواد علی کو 14 روز کے لئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ۔۔۔ ایک خاتون سرکاری افسر کی شکایت پر قانون کا فوری حرکت میں آنا خوش آئند ہے لیکن کاش ہمارا قانون اور ادارے یہ کارکردگی امیر غریب اور طاقتور و کمزور کا فرق ملحوظ خاطر رکھے بغیر دکھائیں تو ایسے افسوسناک واقعات جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں ۔۔۔
تینوں ممالک کے وزرائے دفاع کی شرکت فیلڈمارشل اور جنرل نعمان بھی شریک۔اسلام آباد کے داخلی خارجی راستے مکمل طور پر سیل اسلام آباد ۔۔اسلام آباد روالپندی فوج ک ے حوالے زندگی سسکیاں لینے لگی۔۔کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رھے اسلام آباد ڈی چوک پھنچے گئے۔۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ھنگامی اجلاس سعودی عرب سے یک جھتئی۔۔ ۔۔تینوں ممالک کے وزرائے دفاع کی شرکت فیلڈمارشل اور جنرل نعمان بھی شریک۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
38 کلومیٹر طویل راولپنڈی رنگ روڈ مکمل ہوگئی، تاہم ٹریفک کے لیے افتتاح میں تاخیر کا سامنا ہے۔راولپنڈی رنگ روڈ بانٹھ کو تھلیاں سے ملاتی ہے اور اسے راولپنڈی ریجن کے اہم ٹرانسپورٹ منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سڑک کی تعمیر مکمل ہونے کے باوجود ٹول پلازوں اور دیگر متعلقہ سہولیات کا کام مکمل نہ ہونے کے باعث اسے ٹریفک کے لیے کھولنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔حکام کے مطابق ٹول پلازوں کی بنیادیں مکمل کرلی گئی ہیں، تاہم ان کے ڈھانچے اور کمپیوٹرائزڈ ٹول ٹکٹنگ سسٹم کی تنصیب کا کام ابھی باقی ہے۔ اس کے علاوہ ریٹیننگ والز، ریمپس اور گرین بیلٹس سمیت دیگر معمولی نوعیت کے کام بھی مکمل کیے جا رہے ہیں
۔حکام کی جانب سے مرکزی رنگ روڈ کے افتتاح کے بعد تھلیاں انٹرچینج کے لیے الگ سے 5 ارب روپے کا منصوبہ شروع کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، تاہم اس کا نظرثانی شدہ پی سی ون تاحال حتمی نہیں کیا گیا۔رنگ روڈ پر باقی ماندہ کام اور ٹول سہولیات مکمل ہونے کے بعد ہی اسے باقاعدہ طور پر ٹریفک کے لیے کھولا جائے گا، جس کے باعث شہریوں کو مزید انتظار کرنا
سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ڈرافٹ میں تبدیلیوں کے بعد بعض معاملات میں حکومت کے ارادے مختلف دکھائی دیے۔ ہماری تجویز تھی کہ آئندہ کا لائحہ عمل وفاق اور صوبائی حکومت کی باہمی رضامندی سے طے کیا جائے، تاہم حکومت نے ’’متفقہ‘‘ کا لفظ قبول کرنے سے انکار کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 72 گھنٹوں کے اندر 5 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی بات کی گئی، جس پر ہم نے واضح کیا کہ پانچ اضلاع میں ایمرجنسی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی رائے میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مقاصد اور لائحہ عمل آئینی و قانونی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف پالیسی بناتے وقت مقامی لوگوں کی رائے کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا گیا تو اس کی قانونی حیثیت کمزور ہوگی، جبکہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔#DiscoverPakistan
سلیکشن کمیٹی سے ایک ہی مطالبہ – حسن نواز کو ونڈے ٹیم سے مزید دور نہ رکھو!🙏کل ایشین گیمز فائنل میں لڑکے نے جو کیا وہ ثبوت ہے:بھارت نے 211 ٹھوک دیے، پوری پاکستانی ٹاپ آرڈر 76/3 پر بیٹھ گئی، اس نے اکیلے 51 گیندوں پر 96* –
7 چھکے بمراہ اور اکشر جیسے بولرز پر۔ آخری گیند تک لڑا، ہارا ضرور لیکن ہاتھ نہیں چھوڑا۔یہ وہی لڑکا ہے جس نے 21 مارچ کو ایڈن پارک میں 45 گیندوں پر 105* بنا کر پاکستان کا تیز ترین T20I سو بنایا تھا۔ 4 ون ڈے میں 56 کی ایوریج سے 113 رنز بھی ہیں۔ہمیں ونڈے میں 350 چیز کرنے کے لیے شائی ہوپ جیسا بندہ چاہیے، اور حسن نواز میں وہ جگر ہے۔صاحبزادہ اور فخر اوپن کریں، بابر 3، رضوان 4، اور 5 پر حسن نواز فکس۔ مزید ٹرائی نہیں، اب ڈائریکٹ ونڈے ٹیم میں ڈالو۔🙏🇵🇰💖
*سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کا موبائل گیا تو پولیس نے 7 لاکھ کالز کھنگال ڈالیں ، 7 رکنی گینگ گرفتار*لاہور میں وفاقی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ بیرسٹر نبیل احمد اعوان کا موبائل چوری ہونے کے بعد پنجاب پولیس کی غیرمعمولی تفتیش سامنے آگئی۔رپورٹ کے مطابق 12 ستمبر کو کریم بلاک ، اقبال ٹاؤن میں ملزمان نے گاڑی کے سائیڈ مرر کا بہانہ بنا کر وفاقی سیکریٹری کو متوجہ کیا اور ان کا موبائل لے کر فرار ہوگئے۔واقعے کے بعد خصوصی پولیس ٹیم تشکیل دی گئی ، جس نے سیف سٹیز ، نجی کیمروں ، ہیومن انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تقریباً 7 لاکھ کالز کی جیو فینسنگ کی ، جبکہ تقریباً تین سال کے متعلقہ CDR ریکارڈ کا بھی تجزیہ کیا گیا۔تحقیقات بالآخر 7 رکنی مبینہ گینگ تک پہنچیں۔ پولیس نے 4 ملزمان پاکپتن ، 2 حافظ آباد اور ایک اہم ملزم لاہور سے گرفتار کرلیا۔تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ یہی گروہ مبینہ طور پر لاہور سمیت مری ، راولپنڈی اور فیصل آباد میں 100 سے زائد شہریوں کو نشانہ بنا چکا تھا۔❓ اہم سوال: ایک وفاقی سیکریٹری کا موبائل چوری ہوا تو 7 لاکھ کالز کی جیو فینسنگ ، تین سال کے ریکارڈ کا تجزیہ اور مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرکے پورا گینگ پکڑ لیا گیا — کیا عام شہری کا موبائل چوری ہونے پر بھی پولیس اسی جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کے ساتھ حرکت میں آتی ہے ؟
تعز میں شدید جھڑپیں: یمنی فوج کا حوثیوں کے ’اعلیٰ قدر‘ اہداف پر حملوں کا دعویٰتحریر: ڈاکٹر لبنیٰ فرحسرکاری افواج کا بڑے پیمانے پر حوثی حملے پسپا کرنے اور جوابی کارروائی شروع کرنے کا دعویٰتعز، یمن — یمن میں جمعہ کی علی الصبح فوجی سرگرمیوں میں نمایاں شدت دیکھی گئی۔ سرکاری افواج نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تعز کے گرد متعدد محاذوں پر حوثی ملیشیا کے بڑے پیمانے پر حملے پسپا کر دیے، جبکہ یمنی فوج نے دارالحکومت صنعاء اور شمال مغربی صوبے صعدہ میں حوثیوں کے خلاف ایسے اہداف پر حملوں کا اعلان کیا جنہیں فوج نے ’اعلیٰ قدر کے اہداف‘ قرار دیا۔حالیہ پیش رفت تعز کے اطراف زمینی کارروائیوں اور شمالی یمن میں حوثی ٹھکانوں کے خلاف مبینہ حملوں کے امتزاج کے باعث فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔یمنی فوج کے ترجمان ماجد النازیلی کے مطابق فوج نے صنعاء میں ’اعلیٰ قدر کے اہداف‘ کو نشانہ بنایا، جبکہ صعدہ گورنری میں 11 اعلیٰ قدر کے اہداف کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔النازیلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘، جو پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، پر کہا کہ یہ کارروائیاں ان کے بقول ’صفوں اور محاذوں کے اتحاد‘ کا اظہار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکاری افواج تعز گورنری کو نہیں چھوڑیں گی۔تاہم ان بیانات کی تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی،
جبکہ نشانہ بنائے گئے اہداف کی اصل نوعیت، جانی نقصان اور مادی تباہی سے متعلق آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔—تعز: متعدد محاذوں پر حملےتعز کے اطراف زمینی لڑائی حالیہ کشیدگی کا مرکزی حصہ رہی، جہاں سرکاری افواج کے مطابق حوثیوں نے متعدد جنگی محوروں سے بیک وقت حملے کیے۔العربی ٹی وی کے نمائندے عمر المقرمی کے مطابق سرکاری افواج نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے حوثیوں کے حملے درج ذیل علاقوں میں ناکام بنا دیے:- مقبنہ ضلع- حیفان ضلع- تعز شہر کے مضافات- اور متعدد دیہی علاقے جہاں شدید لڑائی ہوئی۔رپورٹ شدہ کارروائی کسی ایک محدود محاذ تک محدود دکھائی نہیں دیتی بلکہ کئی سمتوں میں بیک وقت لڑائی کی صورت اختیار کرتی نظر آتی ہے۔سرکاری افواج اس سے قبل تعز کے گرد 56 محاذوں اور جنگی محاوروں کے وجود کا دعویٰ کر چکی ہیں، جو شہر کے داخلی راستوں، اطراف اور دیہی علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔فوجی اعتبار سے اتنے وسیع محاذ کا مطلب ایک منتشر جنگی میدان ہے، جہاں دونوں فریقوں کو افرادی قوت، فائر سپورٹ، ریزرو فورسز اور رسد کے وسائل کو متعدد سمتوں میں تقسیم کرنا پڑتا ہے۔—زمینی کارروائیوں کے ساتھ فضائی حملےسرکاری افواج نے ہمیر، حیفان ضلع اور بنی عمر میں حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی بھی اطلاع دی۔سرکاری مؤقف کے مطابق ان حملوں میں حوثیوں کی ایسی جنگی تشکیلوں اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بنایا گیا جو تعز پر حملے کی تیاری کے لیے جمع کیا گیا تھا۔اگر ان دعووں کی آزادانہ تصدیق ہو جائے تو ایسے حملوں کا فوری فوجی اثر حوثیوں کی حملہ آور قوت کی جانب سے مسلسل دباؤ برقرار رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔تاہم دستیاب اطلاعات میں ہلاک یا زخمی ہونے والے اہلکاروں، تباہ کیے گئے فوجی سازوسامان یا فضائی حملوں کے مجموعی عملیاتی اثرات کے بارے میں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔—سرکاری افواج کی جوابی کارروائیحوثی حملوں کو روکنے کے دعوے کے بعد سرکاری افواج کے بارے میں بتایا گیا کہ انہوں نے دفاعی پوزیشن سے نکل کر فجر سے قبل جوابی کارروائی شروع کی۔عمر المقرمی کے مطابق سرکاری فورسز نے مدیریت الشمایتین کے علاقے بنی عمر میں متعدد دیہات دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیے، جن پر حوثیوں نے کارروائی کے ابتدائی مرحلے میں قبضہ کیا تھا۔اگر یہ پیش رفت برقرار رہتی ہے
تو یہ محض دفاعی کارروائی کے بجائے محدود جوابی حملے اور کھوئی ہوئی زمینی پوزیشنوں کی واپسی کی کوشش کی نشاندہی کرے گی۔اس مرحلے میں سرکاری افواج کا فوری مقصد بظاہر ابتدائی حملے کے دوران کھوئے گئے علاقوں کو واپس لینا اور تعز کے جنوب مغربی راستوں پر دفاعی گہرائی بحال کرنا ہے۔—اب کی طرف سے آنے والی مبینہ کمک کو گائیڈڈ میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰمیدانی فوجی ذرائع کے مطابق سرکاری افواج نے گائیڈڈ میزائلوں کے ذریعے حوثی جنگجوؤں کی تشکیلوں اور کمک کو نشانہ بنایا، جو مبینہ طور پر صوبہ اب سے تعز کی جانب منتقل ہو رہی تھی۔اگر یہ معلومات درست ثابت ہوتی ہیں تو اس کارروائی کا مقصد حوثی کمک کو اگلے محاذ تک پہنچنے سے پہلے روکنا یا اس کی نقل و حرکت میں خلل ڈالنا ہو سکتا ہے۔فوجی اعتبار سے کسی فعال محاذ تک کمک پہنچنے سے روکنا بعض اوقات پہلے سے موجود جنگی دستوں کو نشانہ بنانے جتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ایک طویل حملہ آور کارروائی کے لیے مسلسل افرادی قوت، گولہ بارود، ہتھیار، ایندھن اور دیگر لاجسٹک وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان ذرائع کی فراہمی متاثر ہو تو حملہ آور فورس کے لیے جنگی رفتار برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔—تعز کے مشرقی اور مغربی راستوں پر شدید لڑائیالمقرمی نے رپورٹ شدہ حوثی حملوں کو تعز کے مضافات میں ہونے والی شدید ترین کارروائیوں میں شمار کیا۔خصوصی طور پر شہر کے مشرقی داخلی راستے اور مغربی محاذ پر شدید لڑائی کی اطلاعات سامنے آئیں۔رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے ابتدائی حملے کے دوران حاصل کیے گئے بعض مقامات کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے مزید کمک تعینات کی۔سرکاری افواج نے بھی اپنی پوزیشنوں پر اضافی فورسز بھیجیں اور فوجی ذرائع کے مطابق حوثی پیش قدمی کو روکنے کے ساتھ بعض محوروں پر انہیں پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا۔رپورٹ شدہ سرکاری پیش رفت کا ایک اہم مرکز الشمایتین کے جنوب مغربی محور میں واقع تھا، جہاں جبل جرداد اور جبل راسین کے پہاڑی علاقوں کے قریب لڑائی کی اطلاعات ملیں۔—جبل جرداد اور جبل راسین کی عسکری اہمیتجبل جرداد اور جبل راسین کے اطراف لڑائی تعز کے جنگی میدان میں بلند مقامات کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔پہاڑی علاقے عام طور پر درج ذیل فوجی فوائد فراہم کر سکتے ہیں:-
نگرانی اور مشاہدے کے بہتر مواقع؛- نقل و حرکت کے راستوں پر نظر اور کنٹرول؛- بالواسطہ فائر کے ذرائع کے لیے بہتر پوزیشنیں؛- دفاعی گہرائی؛- اور رسدی راستوں کے تحفظ یا ان میں خلل ڈالنے کی صلاحیت۔اسی وجہ سے کسی بلند مقام پر کنٹرول کا اثر اس مخصوص پہاڑی مقام سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔تاہم کسی پہاڑی، گاؤں یا تزویراتی مقام پر عارضی قبضہ لازماً اسٹریٹیجک بریک تھرو نہیں ہوتا۔ اس کی حقیقی فوجی اہمیت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ قابض فورس اس مقام کو مزید کمک، رسد اور دفاعی صلاحیت کے ذریعے کتنی دیر برقرار رکھ سکتی ہے۔—عدن: شدید سکیورٹی کے دوران دھماکوں کی آوازیںکشیدگی صرف تعز تک محدود نہیں رہی۔جمعہ کی علی الصبح عدن میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جبکہ شہر میں وسیع سکیورٹی تعیناتی بھی جاری تھی۔اطلاعات کے مطابق وزارت داخلہ نے شہر کے متعدد علاقوں میں اضافی سکیورٹی نفری بھیجی۔تاہم دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عدن میں ہونے والے دھماکوں کا تعز کی لڑائی سے براہ راست تعلق تھا۔اسی طرح دستیاب رپورٹنگ میں دھماکوں کی اصل نوعیت، ذمہ دار فریق یا ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تفصیلات موجود نہیں ہیں۔لہٰذا عدن کی صورتحال کو فی الحال ایک الگ سکیورٹی پیش رفت کے طور پر دیکھنا زیادہ محتاط ہوگا، جب تک مزید شواہد دونوں واقعات کے درمیان براہ راست تعلق قائم نہ کریں۔—عسکری عملیاتی تجزیہ1۔ متعدد محوروں پر بیک وقت لڑائیتعز کے گرد لڑائی کئی جغرافیائی طور پر الگ مگر باہم مربوط علاقوں تک پھیلی ہوئی ہے۔یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مقابلہ صرف انفرادی فوجی پوزیشنوں کے لیے نہیں بلکہ نقل و حرکت کے راستوں، دفاعی گہرائی اور کمک کی منتقلی کی صلاحیت کے لیے بھی ہے۔متعدد محوروں سے حملہ دفاع کرنے والے فریق کو اپنی ریزرو فورسز کئی سمتوں میں تقسیم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، حملہ آور دستوں کے زیادہ پھیل جانے کی صورت میں ان پر جوابی حملے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔2۔ جوابی حملہ ایک اہم ٹیکٹیکل تبدیلیدفاعی کارروائی سے جوابی حملے کی جانب سرکاری افواج کی مبینہ منتقلی اس مرحلے کی اہم ترین عسکری پیش رفتوں میں سے ایک ہے۔بنی عمر میں بعض دیہات کی دوبارہ بازیابی، اگر برقرار رہتی ہے، تو ابتدائی حوثی پیش قدمی سے کھوئی ہوئی کچھ زمینی پوزیشنیں واپس حاصل کرنے کے مترادف ہوگی۔اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا سرکاری افواج ان مقامات کو مضبوط اور محفوظ بنا سکتی ہیں یا نہیں۔3۔ کمک کے راستے جنگ کا اہم عنصراب سے تعز کی طرف حوثی کمک کی مبینہ نقل و حرکت اس جنگی مرحلے میں رسدی اور نقل و حمل کے راستوں کی اہمیت بڑھا دیتی ہے۔اگر حوثی کمک مناسب تعداد اور سازوسامان کے ساتھ محاذ تک پہنچتی ہے تو وہ حملے کا دباؤ برقرار رکھنے اور جنگی نقصانات کی تلافی میں مدد دے سکتی ہے۔اس کے برعکس اگر ان کمکوں کی نقل و حرکت بار بار متاثر ہوتی رہی تو حملہ آور قوت کے لیے اپنی جنگی رفتار برقرار رکھنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔4۔ فائر پاور اور نقل و حرکت آئندہ مرحلے کو متاثر کریں گےفضائی حملوں اور گائیڈڈ میزائلوں کے مبینہ استعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمینی کارروائیوں کے ساتھ درست نشانہ بنانے والی فائر پاور بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ایسی کارروائیوں کی مؤثریت کا انحصار درست انٹیلی جنس، نگرانی، ہدف کی شناخت اور زمینی فورسز کی جانب سے حاصل شدہ فائدے کو فوری طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔صرف کسی الگ تھلگ فوجی مقام کو نقصان پہنچانا اس وقت تک محدود عملیاتی اثر رکھ سکتا ہے جب تک زمینی فورسز اس مقام کو اپنے قبضے میں لے کر یا اسے غیر مؤثر بنا کر میدان میں حاصل شدہ فائدے کو برقرار نہ رکھیں۔5۔ تعز کے داخلی راستوں پر کنٹرول مرکزی اہمیت رکھتا ہےشہر کے مشرقی اور مغربی راستے، جنوبی اور جنوب مغربی محاذوں کے ساتھ مل کر تعز کے گرد ایک باہم مربوط دفاعی ماحول تشکیل دیتے ہیں۔حوثیوں کے لیے مختلف محوروں پر مسلسل دباؤ سرکاری دفاع کو پھیلانے اور اس میں کمزور مقامات تلاش کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔دوسری جانب سرکاری افواج کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ باہم معاون دفاعی پوزیشنیں برقرار رکھیں اور کسی ایک محور پر فیصلہ کن پیش رفت کو روکیں۔—وسیع تر اسٹریٹیجک تناظرتعز میں تازہ لڑائی کو کسی ایک الگ تھلگ جھڑپ کے بجائے یمن میں جاری وسیع تر عسکری مقابلے کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔تعز یمن کے وسطی اور مغربی جنگی جغرافیے میں اہم مقام رکھتا ہے اور طویل عرصے سے مختلف مسلح قوتوں کے درمیان تقسیم اور کشمکش کا مرکز رہا ہے۔موجودہ رپورٹ شدہ کارروائیوں میں تین نمایاں عناصر نظر آتے ہیں:اول: تعز کے گرد سرکاری پوزیشنوں پر براہ راست زمینی حملے۔دوم: فعال محاذوں کی جانب اضافی فورسز اور فوجی وسائل منتقل کرنے کی کوششیں۔سوم: صنعاء، صعدہ اور تعز کے مختلف علاقوں میں حوثی اہداف کے خلاف سرکاری افواج کے مبینہ فضائی اور میزائل حملے۔یہ امتزاج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کارروائیوں کا مقصد صرف فوری محاذ پر دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ مخالف قوت کی وسیع تر فوجی معاونت، کمک اور نقل و حرکت کو بھی متاثر کرنا ہو سکتا ہے۔—آئندہ کیا دیکھنا اہم ہوگا؟موجودہ جنگی صورتحال کی اگلی سمت جانچنے کے لیے چند عوامل خاص اہمیت رکھتے ہیں۔زمینی کنٹرولبنی عمر میں دوبارہ حاصل کیے گئے دیہات اور دیگر پوزیشنیں کتنی دیر تک سرکاری افواج کے قبضے میں رہتی ہیں، یہ ایک بنیادی اشارہ ہوگا۔اگر حوثی ان مقامات کو واپس لینے کے لیے دوبارہ منظم حملہ کرتے ہیں تو لڑائی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہوگا۔کمک کی نقل و حرکتتعز کی جانب حوثی کمک کی مزید نقل و حرکت یہ ظاہر کر سکتی ہے کہ آیا گروپ حملہ آور دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے یا موجودہ پوزیشنوں کو مضبوط کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔سرکاری ریزرو فورسزاگر مقبنہ، حیفان، مغربی محاذ اور شہر کے داخلی راستوں پر بیک وقت لڑائی جاری رہتی ہے تو سرکاری افواج کے لیے اضافی ریزرو فورسز برقرار رکھنا انتہائی اہم ہوگا۔بلند مقامات پر کنٹرولجبل جرداد اور جبل راسین کے اطراف کے مقامات خاص اہمیت اختیار کر سکتے ہیں، بالخصوص اگر دونوں فریق نگرانی، فائر کنٹرول اور نقل و حرکت کے راستوں پر برتری حاصل کرنے کی کوشش کریں۔فضائی اور درست نشانہ بنانے والے حملےصنعاء، صعدہ یا تعز کے علاقوں میں مزید حملوں کی اطلاعات اس بات کا اشارہ دے سکتی ہیں کہ موجودہ کشیدگی ایک وسیع اور مسلسل فوجی مہم کی شکل اختیار کر رہی ہے یا نہیں۔—حتمی خلاصہتعز کے گرد تازہ لڑائی زمینی فوجی کارروائیوں میں نمایاں شدت کی عکاسی کرتی ہے۔ سرکاری افواج کے مطابق انہوں نے متعدد محاذوں پر حوثیوں کے بڑے حملے روک دیے اور اس کے بعد بعض علاقوں میں جوابی کارروائی شروع کی۔بنی عمر میں متعدد دیہات کی مبینہ دوبارہ بازیابی، حوثی جنگی تشکیلوں کے خلاف فضائی کارروائیوں اور اب سے تعز کی طرف آنے والی مبینہ کمک کو نشانہ بنانے کی اطلاعات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ سرکاری افواج صرف تعز کے دفاع تک محدود نہیں رہنا چاہتیں بلکہ حملہ آور قوت کی جنگی رفتار اور رسدی صلاحیت کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔دوسری جانب یمنی فوج کا صنعاء میں ’اعلیٰ قدر کے اہداف‘ اور صعدہ میں 11 اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ فوجی ردعمل تعز کے فوری جنگی میدان سے باہر بھی پھیل رہا ہے۔اس مرحلے کا بنیادی عسکری سوال یہ ہے کہ:کیا سرکاری افواج حالیہ حاصل کردہ علاقوں کو مستحکم کرکے محاذ کی لائنوں میں دیرپا تبدیلی پیدا کر سکتی ہیں، یا حوثی دوبارہ منظم ہو کر نئی کمک کے ساتھ تعز کے داخلی راستوں پر حملے بحال کر سکتے ہیں؟دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر موجودہ صورتحال کو ایک شدید، متحرک اور ابھی تک غیر حتمی ٹیکٹیکل مرحلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔فی الحال کسی ایک فریق کی فیصلہ کن اسٹریٹیجک کامیابی کا نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ جانی نقصان، فوجی سازوسامان کی تباہی اور حقیقی زمینی کنٹرول سے متعلق اعداد و شمار بھی مزید آزادانہ تصدیق کے متقاضی ہیں۔مجموعی عسکری تصویر: تعز کے اطراف متعدد محاذ فعال ہیں، حوثی حملہ آور دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ سرکاری افواج دفاع کے بعد جوابی کارروائی اور بعض کھوئی ہوئی پوزیشنوں کی بازیابی کی کوشش کر رہی ہیں۔ آئندہ مرحلے میں زمینی کنٹرول، کمک کے راستے، بلند مقامات اور فائر پاور اس معرکے کی عملیاتی سمت متعین کرنے والے اہم عوامل ہوں گے۔